Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا ،وزیراعظم

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس ہوا.

    اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، وفاقی وزراء، وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی، خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی کے نمائندے اور وفاقی و صوبائی اعلی حکام نے شرکت کی. وزیرِ اعظم نےاجلاس کے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، انہیں مبارکباد دی اور وفاق کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی. خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، وفاقی حکومت اس کے عوام کی فلاح و ترقی کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے.

    اجلاس میں وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی عدم شرکت کی وجہ سے انکی نمائندگی مزمل اسلم نے کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے مشکلات میں گھرے افغانستان کی پاکستان نے ہر مشکل وقت میں مدد کی.پاکستان نے دھشتگردی کی جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا.افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دھشتگرد حملے اور افغانیوں کا ان حملوں میں ملوث ہونا تشویشناک ہے. نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور اعلی حکومتی عہدیدار متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے اور افغان نگران حکومت کو پاکستان میں دھشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے مزاکرات کئے.پاکستان نے افغانستان سے پاکستان میں خوارج کی در اندازی کو روکنے کی سفارتی و سیاسی اقدامات کے ذریعے بھرپور کوشش کی.پاکستان کے بہادر عوام، جنہوں نے دھشتگردی کی جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں، ہم سے سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گی.

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام صوبائی حکومتیں، وفاقی و صوبائی ادارے قریبی تعاون کے ساتھ پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کی جلد از جلد وطن واپسی یقینی بنائیں گے.افغانستان کا پاکستان پر حالیہ حملہ اور خوارج کی پاکستان میں در اندازی کی کوششوں کا ساتھ دینا تشویشناک امر ہے.پاکستان کی بہادر افواج نے اس حملے کا بھرپور انداز سے جواب دیا. فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا جس پر مجھ سمیت پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے.فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کی قیادت میں افواج پاکستان بھارتی جارحیت کے دوران یہ ثابت کر چکیں کہ ہماری بہادر افواج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے ارض وطن کا دفاع کرنا جانتی ہیں.

    اجلاس کو افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.بتایا گیا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی شروع کی گئی. 16 اکتوبر 2025 تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغانیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے. افغان مہاجرین کو کسی بھی قسم کی اضافی مہلت نہیں دی جائے گی اور انکی وطن واپسی جلد یقینی بنائی جائے گی. پاکستان میں صرف انہی افعانی باشندوں کو رہنے کی اجازت ہوگی جن کے پاس پاکستان کا ویزہ موجود ہوگا. اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان کی جانب ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے تاکہ افغانیوں کی وطن واپسی سہل اور تیزی سے ممکن ہو سکے. اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر موجود افغان باشندوں کو پناہ دینا اور انہیں گیسٹ ہاؤسز میں قیام کی اجازت دینا قانوناً جرم ہے، ایسے افغانی باشندوں کی نشاندہی کی جارہی ہے. پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے عمل میں عوام کو شراکت دار بنایا جائے گا اور کسی کو بھی افغانیوں کو حکومت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں پناہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی. وزیرِ اعظم نے غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ باعزت طریقے سے پیش آنے کی ہدایت کی.

    آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِ اعظم، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان کے وزراء اعلی اور حکومت خیبر پختونخوا کے نمائندے نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کے اس حوالے سے مرکزی کردار کی تعریف کی.اجلاس کے اختتام پر فورم نے فیصلہ کیا کہ اجلاس میں پیش کردہ تمام سفارشات پر سختی سے عمل کیا جائے. وزیرِ اعظم نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے صوبوں کو مکمل تعاون کی درخواست کی.

  • سکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں کارروائی، 6 خوارج جہنم واصل

    سکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان کے علاقہ دتہ خیل میں کارروائی، 6 خوارج جہنم واصل

    شمالی وزیرستان کے علاقے ٹنگ کلی( دتہ خیل) میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہے

    سکیورٹی فورسز کو مضافاتی علاقوں میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اطلاعات کے پیش نظر 8 سے 10 روز تک علاقے کی بھرپور نگرانی کی،16 اکتوبر کو سکیورٹی فورسز نے ان دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا،فائرنگ کے تبادلے میں 6 چھ دہشتگرد جہنم واصل جبکہ 3 زخمی ہو گئے،ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کا کمانڈر محبوب عرف محمد بھی شامل ہے، سکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی علاقے میں امن دشمن عناصر کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہے، عوام اور سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں، گزشتہ چار روز میں افغان طالبان کے بھیجے گئے 94 خوارج جہنم واصل کئے جا چکے ہیں،نیشنل ایکشن پلان کے تحت عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اور مسلسل کارروائیاں جاری ہیں،

  • پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی

    پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی

    پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دیدی۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پوری دنیا غزہ جنگ بندی کے معاملے پر پاکستان کے کردار کی معترف ہے لیکن یہاں ایک جماعت نے غزہ کے لیے احتجاج کا اعلان کیا،مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کا اعلان اس وقت کیا گیا جب غزہ امن معاہدہ ہو چکا تھا، احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی گئی اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا، پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک اور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، کیا پولیس کی گاڑیاں جلانے سے غزہ کا مسئلہ حل ہو گیا، ریاست نے فیصلہ کیا پاکستان ایسے احتجاج اور توڑ پھوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا،کسی کو بھی بنیادی حقوق صلب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاجر برادری ،ٹرانسپورٹرز اور عوام کا شکریہ کہ ہڑتال کی کال کو رد کیا، پنجاب کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دیدی ہے، ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔

  • ملک ریاض کے مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنےکا عدالتی حکم

    ملک ریاض کے مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنےکا عدالتی حکم

    منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے معاملے میں کراچی احتساب عدالت نے ملک ریاض کے مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنے کی تحریری اجازت دے دی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنے کی درخواست نیب نے 27 مارچ کو دائر کی تھی،نیب کورٹ کراچی نے منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے کیس میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کا مال آف اسلام آباد ضبط کرنے کا تحریری حکم دے دیا،رپورٹ کے مطابق مال آف اسلام آباد سیکٹر ایف سیون-1 بلیو ایریا کے پلاٹ 65 این پر واقع ہے، مال آف اسلام آباد کو ضبط کرنے کی درخواست نیب نے 27 مارچ کو دائر کی تھی،نیب کے مطابق ملزموں کے خلاف منی لانڈرنگ کی سیکشن 8 کے تحت ریفرنس زیر سماعت ہے، دوران تفتیش منی لانڈرنگ کے شواہد ملے ہیں، مال آف اسلام آباد کا پلاٹ 2014ء ایاز خان اور وقار رفعت نے خریدا تھا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ 385 ملین کا مال آف اسلام آباد ملک ریاض کی فرنٹ کمپنیوں کا ہے، عدالت ملک ریاض اور ان کے بیٹوں سمیت 9 ملزموں کی گرفتاری کا حکم کئی بار جاری کرچکی ہے۔

  • میر علی میں‌خوارج کا خود کش حملہ ناکام،4 خارجی جہنم واصل

    میر علی میں‌خوارج کا خود کش حملہ ناکام،4 خارجی جہنم واصل

    شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خوارج کا خودکش حملہ ناکام بنادیاگیا،فورسز کی کارروائی میں4خوارجی جہنم واصل ہو گئے۔

    سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ شمالی وزیر ستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی ،ایک خارجی نے بارودی گاڑی سکیورٹی فورسز کے کیمپ کی دیوار سے ٹکرائی جو دھماکے سے پھٹ گئی۔جبکہ 3مزید خوارجیوں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی،سکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی میں تینوں خارجی کیمپ کے باہر ہی جہنم واصل ہو گئے۔شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے علاقے حدی میں سیکورٹی فورسز کی پوسٹ پر خودکش حملے کے دوران قریبی آبادیوں میں گھروں، دکانوں اور دیگر عوامی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خودکش حملہ آور کی شناخت قاری جند اللہ کے نام سے ہوئی،

  • نیول چیف کا دورہ امریکہ،بحریہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں

    نیول چیف کا دورہ امریکہ،بحریہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں

    چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے امریکہ کا اہم دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے امریکی بحریہ اور سول قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

    سربراہ پاک بحریہ نے امریکی ڈپٹی چیف آف دی نیول سٹاف آپریشنز اور کوسٹ گارڈ کے وائس کمانڈنٹ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ بھی کیا اور یونیورسٹی کے صدر وائس ایڈمرل پیٹر اے گارون سے ملاقات کی،ملاقاتوں میں پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، پیشہ ورانہ تربیت اور میری ٹائم تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،ایڈمرل نوید اشرف نے امریکی محکمہ خارجہ کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے سیاسی و عسکری امور کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری سٹینلے ایل براؤن سے ملاقات کی،دورے کے دوران نیول چیف نے امریکی اسکالرز اور تھنک ٹینک کے ماہرین سے بھی خطاب کیا، جس میں انہوں نے علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز اور مشترکہ میری ٹائم کوششوں میں پاک بحریہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔

    نیول چیف کا یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین میری ٹائم سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔

  • خیبرپختونخوا ،بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں

    خیبرپختونخوا ،بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں

    خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 13 تا 15 اکتوبر کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر مبنی کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چونتیس (34) دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ آپریشنز شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور بنوں میں کیے گئے جہاں دہشت گرد نیٹ ورکس کے مضبوط ٹھکانے قائم تھے۔

    شمالی وزیرستان کے سپین وام علاقے میں فورسز نے ایک دہشت گرد ٹھکانے پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 18 دہشت گرد مارے گئے۔ بعدازاں جنوبی وزیرستان میں کی گئی کارروائی میں 8 مزید دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ بنوں میں ہونے والی جھڑپ میں 8 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا۔ کارروائیوں کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشنز بھی جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

    شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں قبائلی عمائدین اور پاک فوج کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں علاقائی استحکام، ترقیاتی منصوبے اور پائیدار امن کے موضوعات زیرِ غور آئے۔ دونوں فریقوں نے قومی وحدت اور دیرپا امن کے لیے باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

    سراروغہ کے علاقے میں فورسز نے ایک اور کارروائی کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے بعد سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

    خیبر ضلع کی تیرہ وادی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے سات سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر دیا۔اسی علاقے میں ایک الگ واقعے میں ملک دین خیل عمر خیل ویلیج کونسل کے چیئرمین فضل الرحمن آفریدی کے گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے وہ اور ایک کمسن بچی شدید زخمی ہو گئے۔ دونوں کو پشاور اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مہمند ضلع میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 45 سے 50 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی ویڈیو حاصل کر کے بروقت کارروائی کی۔ بعد ازاں علاقے میں کلیئرنس آپریشن کیا گیا اور سرحدی حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔

    نوشہرہ کے علاقے نیزاپور میں پولیو سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل مقصود خان کی شہادت کے کیس میں سی ٹی ڈی نے انتحاب عالم گروپ کو ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق انتحاب عالم، حماد بادشاہ، شفی اور ایک نامعلوم شخص کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    میران شاہ میں انسدادِ دہشت گردی محکمے کے ایک افسر کو ان کے گھر پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ نامعلوم حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    قلات (بنچہ) میں مسلح افراد نے این-25 قومی شاہراہ کو ایک گھنٹے تک بلاک رکھا، پولیس سے اسلحہ چھین لیا اور فائرنگ بھی کی۔مستونگ (کردگاپ) میں ایف سی اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ میں دو ایف سی گاڑیاں متاثر ہوئیں۔سوراب (مل شاہورائی) میں حملہ آوروں نے ایک گھنٹہ تک شاہراہ پر قبضہ کر کے پولیس سے اسلحہ چھین لیا۔دھادر (سیوری) میں یونائیٹڈ بلوچ آرمی (UBA) نے ایک مبینہ ریاستی مخبر پندی مری کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔نصیرآباد میں بلوچ ریپبلکن گارڈز (BRG) نے سیکیورٹی چیک پوسٹ، بجلی کے ٹاورز اور گیس پائپ لائن پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تمام دعووں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ فورسز نے ان علاقوں میں آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔

    اعظم ورسک بازار میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک مقامی بزرگ اور ٹھیکیدار سولک وزیر شامل ہیں۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں قائم تمام باقی ماندہ افغان مہاجرین کے کیمپس بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔مزید 28 کیمپس بند کیے گئے جن میں پشاور کے 8، نوشہرہ کے 3، ہنگو کے 5، کوہاٹ کے 4، مردان اور صوابی کے 2، بونیر کا 1 اور دیر کے 3 کیمپس شامل ہیں۔وفاقی حکومت نے تمام کیمپ اراضی اور اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یاد رہے کہ 13 اکتوبر کو پہلے ہی 10 کیمپس بند کیے جا چکے تھے۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن کی بحالی کی جانب اہم قدم ہیں۔

  • وزیراعظم کا افغانستان پر سخت مؤقف،خیبرپختونخوا میں افغان مہاجر کیمپس ختم کرنے کا فٰیصلہ

    وزیراعظم کا افغانستان پر سخت مؤقف،خیبرپختونخوا میں افغان مہاجر کیمپس ختم کرنے کا فٰیصلہ

    حکومت نے خیبرپختونخوا میں موجود افغان مہاجرین کے تمام کیمپس ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔

    وزارتِ سیفران کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں قائم آخری 28 افغان مہاجر کیمپس بند کر دیے گئے ہیں۔ پشاور میں 8، نوشہرہ میں 3، ہنگو میں 5، کوہاٹ میں 4، مردان اور صوابی میں 2،2، بونیر میں ایک اور دیر میں 3 مہاجر کیمپس بند کیے گئے۔ اعلامیے میں افغان کمیشنریٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام کیمپس کی زمینیں صوبائی حکومت کے حوالے کر دی جائیں۔وزارتِ سیفران کے مطابق یہ اقدام افغان مہاجرین کی مرحلہ وار واپسی سے متعلق حکومتی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں پر صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی، لیکن افغانستان نے امن کے بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا۔وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دہشت گرد حملے بھارت کی شہ پر کیے گئے، تاہم افواجِ پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کی گئی اور پاکستان جائز شرائط پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ قطر نے جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا، اور پاکستان چاہتا ہے کہ امن کا یہ عمل دیرپا بنیادوں پر آگے بڑھے۔انہوں نے غزہ جنگ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک، صدر ٹرمپ، قطر، مصر، سعودیہ، یو اے ای، ملائشیا، ترکیہ اور پاکستان نے امن معاہدے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد غزہ میں بچوں اور شہریوں نے سڑکوں پر سجدہ شکر ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ فلسطین کی آزاد ریاست قائم ہونی چاہیے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔

    غزہ میں کارروائیاں جاری رہیں تو جنگ بندی ختم کر دیں گے،ٹرمپ کی حماس کو دھمکی

    پاکستان علاقائی امن کے فروغ کیلئے پرعزم ہے،جنرل ساحر شمشاد مرزا

  • فیصلے اب میدان میں ہوں گے،کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں،مولانا فضل الرحمان

    فیصلے اب میدان میں ہوں گے،کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کارکنوں کو اسلام آباد جانے کی تیاری کی ہدایت کردی۔کہتے ہیں پارلیمنٹ پاکستانی عوام کی خواہشات کی نمائندگی کا حق کھو بیٹھی ہے ،اس لئے عوام اپنے مستقبل کا تعین خود سڑکوں پر کریں گے ۔
    ڈیرہ اسماعیل خان کے بیساکھی گرائونڈ میں منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا پارلیمنٹ عوام کے حق حاکمیت کا دفاع کرنے میں بری ناکام رہی ، اس لئے فیصلے اب میدان میں ہوں گے اور ہم عوام کے شانہ بشانہ آئین و قانون کی حکمرانی اور قوم کے حق حاکمیت کی جنگ لڑیں گے تاکہ پارلیمنٹ کی کھوئی ہوئی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی ممکن بنا یہ جا سکے سی پیک روٹ آپ کے لیے ہے، اسلام آباد جانےکی تیاری کریں، ہم نے جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، ہماری سیاست گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاست نہیں ہوگی،پارلیمنٹ کی اہمیت اب ختم ہو چکی ہے، ہم عوام کی جمہوریت کےقائل ہیں، 2024کا الیکشن دھاندلی زدہ تھا، چوری کامینڈیٹ قبول نہیں، 2018 میں بھی مینڈیٹ چوری ہوا، اُس الیکشن کو کبھی نہیں مانا۔

    جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان تاریخی طور پر سیاسی تبدیلیوں کا مرکز رہا ہے ،اس لئے مجھے یقین ہے کہ1970 کی طرح اب ایک بار پھر یہاں سے صحت مند تبدیلی کی نئی لہر اٹھے گی ۔ اسلام آباد زیادہ دیر تک نااہل حکمرانوں کے قبضے میں نہیں رہے گا ، عوام بلآخر اپنا اختیار واپس لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے ۔اسرائیل کو کوئی تسلیم نہیں کر سکتا، تاریخ گواہ ہے صیہونی ایسی ملعون قوم ہے جس نے ہر زمانے میں عہد و پیمان توڑے اور انسانیت کے خلاف جرم کرتے رہے اور آج بھی انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتی ۔ دنیا کو تہذیب اور امن کا بھاشن دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو جنگی مشین اور ہتھیار فراہم کئے جس کے ذریعے ہزاروں معصوم فلسطینی مار دیئے گئے ،غزہ کے نہتے شہریوں کی نسل کشی کے لیے امریکہ اور یوروپ نے عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کو روند ڈالا ، خدشہ ہے کہ اسرائیل اور مغربی طاقتیں ضمیر پہ کوئی بوجھ لئے بغیر پچھلے معاہدوں کی طرح اس تازہ معاہدہ کو بھی توڑ ڈالیں گے۔

    افغانستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف جانا چاہئے، اب یہاں پراکسی جنگیں ختم ہونی چاہئیں تاکہ خطے میں امن اور ترقی کی راہیں کھل سکیں اختتامی کلمات میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے نصب العین پہ سمجھوتہ نہیں کرے گی بلاشبہ پاکستان کا مستقبل اسلام اور عوام کی مرضی سے وابستہ ہے ۔

  • ٹی ایل پی سے مذاکرات ہوئے، علما کل فلسطین جنگ بندی پر شکرانہ منائیں گے: وفاقی وزرا

    ٹی ایل پی سے مذاکرات ہوئے، علما کل فلسطین جنگ بندی پر شکرانہ منائیں گے: وفاقی وزرا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ آخری وقت تک مذاکرات جاری رہے، کل علمائے کرام فلسطین میں جنگ بندی پر شکرانے کے خطبات دیں گے۔

    اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ غزہ میں امن معاہدے کے بعد فلسطینی عوام نے خوشیاں منائیں، دنیا بھر میں احتجاج ہوا مگر کہیں پرتشدد کارروائی نہیں ہوئی، لیکن ٹی ایل پی اسلحے سے لیس ہو کر سڑکوں پر نکلی۔انہوں نے کہا کہ جب فلسطینی خود امن پر مطمئن ہیں تو ٹی ایل پی کو نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا کیا حق تھا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ احتجاج سے پہلے اور آخری لمحے تک ٹی ایل پی قیادت سے مذاکرات جاری رہے، ان کے رہنما ڈھائی بجے تک سرکاری ٹیم کے ساتھ بیٹھے رہے، مگر ہر بار نئی شرائط پیش کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے دہشتگردوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، یہ احتجاج فلسطین کے لیے نہیں بلکہ دہشتگردوں کی رہائی کے لیے تھا۔محسن نقوی نے کہا کہ تشدد صرف ان عناصر کے خلاف ہوا جو مسلح تھے اور جنہوں نے سیدھی فائرنگ کی۔انہوں نے بتایا کہ کل علمائے کرام حکومت کے ساتھ مل کر فلسطین میں جنگ بندی پر شکرانے کا اظہار کریں گے۔

    وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ مسئلہ فلسطین حل ہوچکا ہے، وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا کردار نمایاں رہا، اب فلسطینی عوام خوشیاں منا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جتھہ ہنگامہ آرائی کرے گا تو عوام اور املاک کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی مسجد، مدرسے یا عالم دین کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی، صرف تحریک کے تشدد میں ملوث عہدیداران کے خلاف ایکشن ہوگا۔

    ٹھٹھہ: ریٹائرڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی تیسری سالگرہ، حکومت سے مطالبات منظور ہونے کی خوشخبری

    پاکستان کے خلاف دہشتگردی اور افغان طالبان کے ذریعے جنگ کا بھارتی منصوبہ بےنقاب

    دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج نے فتنۃ الخوارج کے 50 دہشتگرد ہلاک کردیے