مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے متبادل ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔حکومتی اعلامیے کے مطابق متعلقہ اداروں کے پاس ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ تنظیم امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے، ریاست میں انتشار پیدا کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تنظیم پر نفرت انگیزی کو فروغ دینے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے الزامات بھی ہیں۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم اور اس کے تمام متبادل ناموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہوگی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم سڑکیں بند کرنے اور معمولاتِ زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
