Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری یر گورنرسٹیٹ بینک طلب

    خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری یر گورنرسٹیٹ بینک طلب

    خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری یر گورنرسٹیٹ بینک طلب
    کمیٹی کاآڈٹ حکام کو30 دن میں انکوائری کرکے ذمہداری فکس کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کردی،
    نیشنل بینک کے آزرئیجان میں برانچ بندنہ کی جائے ،کمیٹی کی سفارش
    کمیٹی کی چیرمین پی اے آر سی کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کی ہدایت،پی اے آرسی میں ہونے والی کرپشن پررپورٹ طلب
    ملک میں گندم اور چینی کے ذخائر موجود ہیں عالمی مارکیٹ میں گندم اور چینی کی قیمت میں اضافہ ہواہے ،حکام
    حکومت ڈی اے پی کھاد پر 11عشاریہ 5ارب روپے سبسڈی دی گئی فی بیگ کسان کوایک ہزار روپے سبسڈی ملے گی
    حکومت کھادوں پر جو سبسڈی دے رہی ہے اس سے ملک کا 60 فیصدعلاقہ کور ہوجائے گا

    اسلام آباد(محمداویس)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خلاف ضابطہ ادویات کی خریداری پر گونرسٹیٹ بینک کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا،آڈٹ حکام کو30 دن میں انکوائری کرکے ذمہ داری فکس کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کردی،کمیٹی نے سفارش کی کہ نیشنل بینک کے آزرئیجان میں برانچ بندنہ کی جائے ،کمیٹی نے چیرمین پی اے آر سی کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پی اے آرسی میں ہونے والی کرپشن پر 15 دن کے اندررپورٹ دیں۔حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ ملک میں گندم اور چینی کے ذخائر موجود ہیں عالمی مارکیٹ میں گندم اور چینی کی قیمت میںاضافہ ہواہے ،حکومت ڈی اے پی کھاد پر 11عشاریہ 5ارب روپے سبسڈی دی گئی فی بیگ کسان کوایک ہزار روپے سبسڈی ملے گی۔حکومت کھادوں پر جو سبسڈی دے رہی ہے اس سے ملک کا60 فیصدعلاقہ کور ہوجائے گا۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کااجلاس چیرمین رانا تنویر حسین کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔کمیٹی میں علی نواز شاہ، اِبراھیم خان، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر طلحہ محمود، سید حسین طارق،ایاز صادق، شیریں رحمان، راجہ ریاض،خواجہ آصف،سردارنصراللہ خان دریشک ودیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں سٹیٹ بینک ،نیشنل بینک اور وزارت فوڈ سیکیورٹی کے آڈٹ پیروں کاجائزہ لیاگیا۔اجلاس شروع ہوا تو چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سٹیٹ بینک کے گورنرز کیوں نہیں آئے ہیں ۔حکام نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہورہے ہیں وہاں گئے ہیں ۔چیرمین نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں کیا پیسے مل جائیں گے کہ نہیں؟حکام نے بتایا کہ امید ہے کہ پیسے مل جائیں گے ۔چیرمین نے کہا کہ قانون میں کوئی ترمیم لانا چاہتے ہیں تو لائیں باقی اپنی اختیارات کے لیے قانون میں تبدیلی کی ہے اور کہاتھا کہ مہنگائی کم ہوجائے گی مگر ہوا کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔

    حکام نے بتایا کہ doutfull assets وہ ہیں جو 1947 میں پاکستان کو ملنے تھے مگر نہیں ملے اس لیے یہ ہر سال ہمارے اکاؤنٹس میں نظر آرہی ہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہ جس طرح ایاز صادق حکام کے بجائے خود وضاحت دے رہے ہیں اس طرح سردار ایاز صادق کو گورنر سٹیٹ بنک ہونا چاہیے ہمیں انہوں نے ایمپریس کردیا ہے ۔آڈٹ حکام نے بتایاکہ خلاف ضابطہ تقریر کرنے سے 9 کروڑ57 لاکھ سےزائد کا نقصان ہوا تقریر کے لیے جو معیار رکھا گیا تھا اس کا لحاظ بھی نہیں کیا گیا اس کیس سے لگ رہا ہے کہ کسی کونوازنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ اس کیس میں رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔کمیٹی نے سٹیٹ بینک حکام کوہدایت کی کہ 20 دن کے اندر تمام ریکارڈآڈٹ حکام کودیں آڈٹ حکام کوہدایت کی کہ تمام ریکارڈ کاجائزہ لے کرکمیٹی کورپورٹ دیں ۔

    نیشنل بینک کے صدرعارف عثمانی نے کمیٹی کوبینک ملازمین ،ملازمین بھرتی کرنے اورترقی دینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ نیشنل بینک میں 15100ملازمین کام کررہے ہیں فی ملازم اوسط 9ملین روپے کماکردے رہاہے۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ میں نے ایک لیٹرآڈٹ والوں کوبھیجاتھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مشین خریدنے میں کرپشن کی گئی ہے اور رولز کوفالو نہیں کیا گیا ہے۔ یہ خط ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کمیٹی کو بھیجا تھا وہ کمیٹی نے آڈٹ کو بھیجا ہے مگر نیشنل بینک والے ریکارڈ نہیں دے رہے جن میں مشینیں خریدی گئیں اور الزام تھا کہ پیپرا رول کو فالو نہیں کیا گیا اب نیشنل بینک والے ڈاکومنٹس نہیں دے رہے ہیں ۔نیشنل بینک والے آڈٹ حکام کے ساتھ تعاون کریں ۔راناتنویر نے کہاکہ چیرمین نیشنل بینک کے اوپر الزام ہیں کہ اس نے دفتر پر 6 کڑور روپے لگائیں ہیں۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمیں ڈاکومنٹس نہیں دئیے جارہے ہیں صدر نیشنل بینک سے بھی ملاقات کی ہے مگر جس رفتار سے ہم کام کررہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے ۔راناتنویر نے کہاکہ ہم نے تین سال میں وہ کام کیا جو 70سال میں نہیں ہوا ۔ان اداروں کا آڈٹ شروع کیا جو پہلے نہیں کر رہے تھے۔صدر نیشنل بینک نے کمیٹی کوبتایاکہ یہ کنٹریکٹ منسوخ ہو گیا ہے اور اس میں پیپرا رول کو فالو کیا تھا ۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ آزربائیجان میں پاکستان کا بینک ہونا چاہیے آزرئیجان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہو گئے ہیں اور یہاں ایک نئی مارکیٹ بن گئی ہے نیشنل بینک کی برانچ بند نہ کی جائے ۔

    آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ سٹیٹ بینک میں ادویات خریدنے کا کنٹریکٹ خلاف ضابطہ ہونے سے 3 کروڑ38 لاکھ 93 ہزار روپے کا نقصان ہوا ۔ادویات اسلام آباد،راولپنڈی اور حیدرآباد ریجن کے لیے خریدی گئیں ادویات کی خریداری میں پیپرارولز کوبھی فالو نہیں کیاگیا۔ کمیٹی نے کہاکہ سٹیٹ بینک کو پیپرا رولز کا فالو کرنا چاہیے اس پر ذمہ داری فکس ہونی چاہیے ۔ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کوبتایا کہ ہمارے ہسپتال نہیں ہیں ڈسپنسریاں ہیں وہاں سے اپنے ملازمین کو دوائی دیتے ہیں ۔کمیٹی نے کہا کہ یہ نقصان ہوا ہے اور یہ صرف تین شہروں میں دوائی خریدی گئی بتایاجائے کہ ان تین شہروں میں کتنے ملازمین ہیں اگرحساب لگایا جائے تو ایک شہر میں 1 کروڑ سے زائد کی ادویات خریدی گئیں جس پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بتایاکہ ان کوملازمین کی تعداد کاعلم نہیں ہے جس پر کمیٹی نے گورنر سٹیٹ بینک کو طلب کرلیا۔ ڈپٹی گورنر کی تیاری نہ کرنے پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ان کو اپنے ملازمین کا پتہ نہیں ہے ۔انی پائی ہوئی ہے۔

    وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ پیپرا رولز کو فالو ہونا چاہیے تھا ۔چیرمین نے کہاکہ پیپرا حکام کو بھی کمیٹی میں طلب کرلیاکہ بتائیں اس پر پیپرارولز فالو کرنے بنتے ہیں کہ نہیں ۔چیرمین کمیٹی نے معاملے کی انکوائری آڈٹ حکام کوہدایت کرتےہوئے کہاکہ انکوائری کریں اور ذمہ داری فکس کریں اس کے بعد اس پر ایکشن لیں اس معاملے پر 30دن کے اندر کمیٹی کو رپورٹ دیں ۔چیرمین کمیٹی راناتنویرحسین نے کہاکہ ڈی اے پی کی قیمت بہت زیادہ ہے اس کو کم کرنے کے لیے سبسڈی دیں ورنہ فصل کی پیداورکم ہوجائے گی ۔ڈی اے پی کی قیمت 72سو ہوگئی ہے ۔سیکرٹری فوڈ سیکورٹی نے کہاکہ اس کی قیمت عالمی مارکیٹ کی وجہ سے بڑرہی ہے11عشاریہ 5ارب روپے کی اسبسڈی دی جائے گی ایک بیگ پر 1ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی ۔پاکستان میں6 ملین میٹرک ٹن گندم پڑی ہوئی ہے۔19ہزار میٹرک ٹن گندم برآمد کریں گے گندم کی کوئی کمی نہیں ہےگندم کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑی ہیں ۔اگر گندم کی اچھی فصل ہوگئی تو اگلے سال گندم درآمد نہیں کرنی پڑے گی ۔ طلحہ محمود نے کہاکہ آٹا کیوںدن بدن مہنگا ہورہاہے ۔حکام نے کہاکہ گندم کی 1950روپے من قیمت مقرر کیا ہے اور آٹا 11سو فی 20 کلو مقرر ہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ شوگر مل ہونی نہیں چاہیے ان کو بند کریں ان کی وجہ سے پانی ضائع ہوتا ہے اور یہ مافیہ بن چکے ہیں کپاس کی زمین ختم ہورہی ہے ۔

    حکام نے بتایاکہ ملک میں چینی کا سٹاک 15سے 16نومبر تک موجود ہے 18ہزار میٹرک ٹن فی دن کی کھپت ہے ۔نصراللہ دریشک نے کہاکہ شوگر انڈسٹری نے ملک کی معیشت تباہ کی ہے کپاس تباہ ہو گئی پہلے جہاں کپاس تھی وہاں اب گنا ہوتا ہے وہاں شوگر ملیں لگ گئیں ہیں سابقہ حکومت نے شوگر ملوں کو کھلی چھوٹ دی تھی ۔حکومت کوچاہیے کہ گنا پیداکرنے کے لیے زون بنا دیں کہ اس کے باہر گنا کاشت نہیں ہوگا ۔رانا تنویر نے کہاکہ دریاراوی میں پانی نہیں ہے اس لیے چینل بنائیںاور اس پر گیٹ لگائیں جہاں پانی سٹور ہوسکے اس کی وجہ سے لاہور کا پانی اوپر آجائے گا۔حکومت دریا کےراوی کے باہر لوگوں سے زمینیں زبردستی لے رہی ہے۔

    حکام نے بتایا کہ کھاد پر سبسڈی پاکستان کا60فیصد علاقے کو کور کررہاہے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ پی اے آر سی کے چیرمین کیوں نہیں آئے ہیں ۔چیرمین پر جو الزام ہیں اس پر 15دن میں جواب دیں زیتون، ہلدی، کرپشن ہوا ہے ۔ این جی او چلارہاہے، سیکرٹری فوڈ سیکورٹی نے کہاکہ ہلدی میں کرپشن پر ایف آئی اے کو کیس بھیج دیا ہے ۔ چیرمین پی اے آر سی ڈاکٹر اعظیم ریٹائرڈ ہوگئے ہیں مگر ان کی ملازمت میں توسیع کے لیے سمری کابینہ کو بھیج دی ہے جس پر کمیٹی نے ان کی سمری واپس کرنے کی ہدایت کردی ۔

  • پینڈورا لیکس کی تیسری قسط  کا ٹریلر جاری : اہم عالمی اورپاکستانی  رہنماوں کے مزید بڑے نام بھی سامنے آ گئے

    پینڈورا لیکس کی تیسری قسط کا ٹریلر جاری : اہم عالمی اورپاکستانی رہنماوں کے مزید بڑے نام بھی سامنے آ گئے

    لاہور:پینڈورا لیکس میں اہم عالمی رہنما اورسیکڑوں بڑے بڑے پاکستانیوں کے نام بھی سامنے آ گئے ,اطلاعات کے مطابق ینڈورا لیکس میں 700 پاکستانی شہریوں سمیت اہم عالمی رہنماؤں کے نام بھی سامنے آگئے ہیں۔

    عالمی رہنماؤں، سیاستدانوں اور ارب پتی افراد کی خفیہ دولت اور مالی لین دین کی تفصیلات ایک بڑے مالی سکینڈل سے متعلق دستاویزات کے سامنے آنے سے بے نقاب ہو گئی ہیں۔

    مالی معاملات سے متعلق ان دستاویزات میں جن افراد کی خفیہ دولت اور مالی معاملات کا انکشاف ہوا ہے ان میں 35 موجودہ اور سابق عالمی رہنماؤں سمیت تقریباً تین سو ایسے عوامی نمائندے شامل ہیں جن کی آف شور کمپنیاں تھی۔ ان دستاویزات کو پینڈورا پیپرز کا نام دیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پینڈورا لیکس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر،روس کے صدر ولادی میر پیوٹن،اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ،یوکرین ، کینیا،چیک ری پبلک ،اور لبنان کے وزرائے اعظم اور آذربائیجان اور ایکواڈور کے صدور کے نام بھی شامل ہیں۔

    اردن کے شاہ عبد اللہ کیلیفورنیا، واشنگٹن اور لندن میں 10کروڑ ڈالر اثاثوں کے مالک ہیں۔واشنگٹن میں اردن کے سفارتخانے نے شاہ عبداللہ کے مشکوک اثاثوں سے متعلق تبصرے سے انکار کردیا۔
    دوسری جانب آف شور کمپنیاں رکھنے والوں سے متعلق پنڈورا پیپرز کی لسٹ میں قطر کے حکمرانوں کا نام بھی سامنے آیا ہے۔

    پنڈورا پیپرز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے وسطی لندن میں 67 لاکھ پونڈ کی جائیداد خریدی مگر 3 لاکھ 12 ہزار پونڈ اسٹیمپ ڈیوٹی ادا نہیں کی۔بلیئر ترجمان کا کہنا ہے کہ جائیداد قانونی طور پر آف شور کمپنی سے خریدی گئی تھی ۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”425179″ /]

     

    تحقیقاتی صحافیوں کے عالمی ادارے (آئی سی آئی جے) کی جانب سے جاری کیے گئے پیپرز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابینہ کے اراکین سمیت وزیر اعظم عمران خان کے اندرونی حلقے کے افراد، کابینہ اراکین کے اہلخانہ، سیاسی اتحادی اور بڑے مالی معاونین، خفیہ طور پر آف شور کمپنیوں اور ٹرسٹوں کے مالک ہیں اور بیرون ملک کروڑوں ڈالر کی دولت چھپائے ہوئے ہیں۔

    پینڈورا پیپرز میں سوسے زائد ملکوں کے ہزاروں افراد کا اس میں ذکرہے لیکن جب پاکستان کا ذکرہوتا ہے توپھراس میں بڑے بڑے نام سامنے آتے ہیں جن پاکستانیوں کے نام شامل ہیں؟یہ فہرست بھی بڑی دلچسپ ہے

    اگرچہ آئی سی آئی جے کی جانب سے ابھی تک مکمل اعداد و شمار منظر عام پر نہیں لائے گئے، دنیا بھر کی اعلیٰ شخصیات کے مالیاتی امور کے حوالے سے ایک بڑی بین الاقوامی تحقیق ‘پینڈورا پیپرز’ میں کابینہ کے اہم اراکین، وزرا، میڈیا، فوجی افسران کے رشتہ دار اور طاقتور تاجر سمیت پاکستان کی اہم ترین اشرافیہ کے نام شامل ہیں۔

    پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانی سیاستدانوں کے نام آئے ہیں ان میں‌وزیر خزانہ شوکت ترین اور ان کے اہلخانہ،وزیر آبی وسائل مونس الٰہی،سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا،وزیر اعظم کے سابق مشیر وفاق مسعود خان کے بیٹے عبداللہ مسعود خان،وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار کے اہلخانہ،تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان،پیپلز پارٹی رہنما شرجیل انعام میمن،مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار کے بیٹے علی ڈار،پی ٹی آئی کے عطیہ کنندہ عارف نقوی،پی ٹی آئی کے عطیہ کنندہ طارق شفیع،مسلم لیگ (ق) کے سربراہ پرویز الٰہی کی اہلیہ،سابق چیئرمین ایف بی آر سلمان صدیقی کے بیٹے یاور سلمان شامل ہیں

    پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانی فوجی گھرانے یا ان کے اہلخانہ کے نام آئے ہیں ان کا سرسری سا تعارف کچھ یوں ہے،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شفاعت اللہ شاہ کی اہلیہ،ریٹائرڈ فوجی افسر اور سابق وزیر راجا نادر پرویز،آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے انسداد انٹیلی جنس میجر جنرل ریٹائرڈ نصرت نعیمپاک فضائیہ کے سابق سربراہ عباس خٹک کے بیٹے عمر اور احد خٹک،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حبیب اللہ خان خٹک کی بیٹی شہناز سجاد احمد (جو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی کلی – خان کی بہن اور سابق وفاقی وزیر گوہر ایوب خان کی بھابھی بھی ہیں)،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد افضل مظفر کا بیٹا محمد حسن مظفر،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول کے داماد احسن لطیف،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ تنویر طاہر کی اہلیہ زہرہ تنویر شامل ہیں‌

    پنڈورا پیپرز مین پاکستان کی کاروباری شخصیات نام بھی سامنے آئے ہیں جن میں‌ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شعیب شیخ،نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی،نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر عدنان آفریدی،پشاور زلمی کے مالک اور معروف صنعتکار جاوید آفریدی شامل ہیں‌

    پینڈورا پیپرز میں پاکستان کے میڈیا ڈان کا بھی ذکر ہے ، ان میڈیا مالکان میں‌ جنگ گروپ کے پبلشر میر شکیل الرحمن،ڈان میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حمید ہارون،ایکسپریس میڈیا گروپ کے پبلشر سلطان احمد لاکھانی،پاکستان ٹوڈے کے پبلشر (مرحوم) عارف نظامی اور گورمے گروپ جن کی زیر ملکیت جی این این ٹی وی بھی ہے

    تیسری فہرست میں کچھ اور بھی نام ہیں مگرفی الحال اہم اور بڑے ناموں کا ذکرضروری ہے

  • چیئرمین نیب صرف عمران خان کی نوکری کرتے ہیں      ن لیگی رہنما

    چیئرمین نیب صرف عمران خان کی نوکری کرتے ہیں ن لیگی رہنما

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آرڈیننس چیئرمین نیب کی مدت ملازمت کی توسیع کے لیے ہے اور حکومتی کرپشن چھپانے کے لیے چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کیا گندم کی قیمت 400 گنا بڑھنے پر نیب سوال نہیں کرسکتا ؟ آرڈینس کے بعد پنڈورا لیکس میں شامل افراد سے نیب سوال نہیں کر سکے گا گندم اور چینی چوری پر نیب سوال نہیں کرتا ثابت ہو گیا چیئرمین نیب صرف عمران خان کی نوکری کرتے ہیں۔

    شاہد خاقان نے کہا کہ قانون بنانے کے لیے آرڈیننس کی ضرورت نہیں ہوتی حکومتی کرپشن میڈیا میں ہے لیکن نیب کو نظر نہیں آتا، جو مہنگی ترین ایل این جی خریدی گئی اس پر سوال نہیں کر سکتا تیل کی قیمت بڑھنے اور عوام کے حق پر ڈاکے ڈالنے پر سوال نہیں کر سکتے حکومت نے آرڈیننس میں کہا کابینہ فیصلے پر پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی۔

    ن لیگی رہنما نے کہا کہ مالم جبہ اور بی آر ٹی کرپشن ہمارے سامنے ہے اور بلین ٹری سونامی کا کیا حال ہے کچھ معلوم نہیں ہے۔وزیر اعظم کہتا ہے چیئرمین نیب کی تعیناتی پر مشاورت نہیں کروں گا اور مجھے قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    عمران خان اگلے الیکشن میں جیتتے نظر نہیں آ رہے،وزیراعلیٰ سندھ

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جب تک یہ نام نہاد حکومت قائم ہے یہی چیئرمین نیب رہے گا لیکن جلد کرپشن میں ملوث وزرا کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا اور چیئرمین نیب کو بھی احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    قبل ازیں نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس کی سماعت کے موقع پر عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے پینڈورا لیکس کی آزاد انہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ تحقیقات کا پیمانہ جو دوسروں کےلیے رکھتے ہیں اپنے لیے بھی وہی رکھیں جن وزرا کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں ان کوکابینہ سے الگ کیاجائے۔

    پنڈورا پیپرز میں 700 لوگوں کا نام ،جو نواز شریف کے ساتھ ہوا وہی ہونا چاہئے، شاہد خاقان عباسی

    پنڈورا لیکس میں پاکستانی میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آ گئے

    پینڈورا پیپرز میں ملوث وزرا کو عمران خان فارغ نہیں کریں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کر دیا

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا تھا آف شور اکاونٹ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اگر قانون سازی کرنی ہے تو عوام کے لئے کریں قانون سازی پارلیمنٹ سےہونی چاہیئے، اپنی مرضی کے قانون آرڈیننس کے ذریعے لائے جاتے ہیں، آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کہیں نظر نہیں آ رہی۔

    دوسری جانب حکومت نے چیئرمین نیب اور پنڈورا پیپرز سے متعلق اپوزیشن کے تحفظات مسترد کردیئے

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ہر چیز کو مسترد کرتی ہے،پنڈورا لیکس معاملے کی تحقیق وزیراعظم کی انسپکشن کمیٹی کر رہی ہے، دیکھاجائے گا کون سے کیسز ایف بی آر ، نیب یا ایف آئی اے کے پاس بھیجے جائیں،وزیر اعظم نے کہا ہے اگر کوئی ثابت نہیں کر سکتے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی،چیئرمین نیب کو توسیع پراپوزیشن نہ مانوں کی پالیسی پر گامزن ہے،اگر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر اتفاق نہیں کرتے تو اگلے لائحہ عمل کا ذکر ایکٹ میں نہیں،ہم نے یہ کہا اگر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر پارلیمانی کمیٹی اس کا فیصلہ کرے گی،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے پنڈورا پیپرزکی تحقیقات کے لئے سیل کے قیام کا فیصلہ مسترد کردیا تھا-

    چیئرمین نیب اور پنڈورا پیپرز سے متعلق اپوزیشن کے تحفظات مسترد

  • طالبان کی کاروائی، کالعدم بی ایل اے کے اڈے پر چھاپہ، گرفتاریاں

    طالبان کی کاروائی، کالعدم بی ایل اے کے اڈے پر چھاپہ، گرفتاریاں

    طالبان کی کاروائی، کالعدم بی ایل اے کے اڈے پر چھاپہ، گرفتاریاں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد طالبان نے واضح کیا تھا کہ افغانستان کی سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی

    طالبان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کالعدم داعش کے خلاف بھی افغانستان میں آپریشن جاری ہے، اسی آپریشن کے دوران طالبان پولیس نے ایک گھر میں چھاپے کے دوران 80 سے زائد بی ایل اے کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، دہشت گردوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، طالبان نے یہ کاروائی ایک گھر میں کی،

    بی ایل اے پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں بھی ملوث ہے، بی ایل اے کو مودی سرکار کی مدد و سرپرستی حاصل ہے، امریکہ نے بھی بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے،تین جولائی 2019 کو امریکہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دیا تھا ، باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ بی ایل اے ایک مسلح علیحدگی پسند گروہ ہے جو پاکستان میں واقع بلوچ اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور عام لوگوں کو نشانہ بناتا ہے یہ تنظیم اگست 2018 میں بلوچستان میں چینی انجینئیرز پر حملے، نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ اور مئی 2019 میں گوادر میں ہوٹل (پرل کانٹیننٹل) پر حملوں کی ذمہ دار ہے ، بی ایل اے کو حکومت پاکستان نے بھی کالعدم قرار دے رکھا ہے،

    بی ایل اے کی جانب سے پاکستان میں مودی سرکار کی سرپرستی میں دہشت گردی کو فروغ دیا گیا، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کے ملزم افغانستان سے آئے تھے، بھارت کی افغانستان میں ساری سرمایہ کاری تباہ ہوگئی ہے، اسے پیٹ میں درد ہے کہ اس نے جو نقشہ بنایا تھا اور جو ان کے 66 کیمپ تھے وہ سب ختم ہوگئے ہیں. باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی زمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگی تاہم یہاں بی ایل اے، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ہیں ہماری فوج ان سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔

    رواں برس ماہ جنوری میں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کا اہم کمانڈر آقا جنرل شمشاد بلوچ نامعلوم افراد کے ہاتھوں جہنم واصل کر دیا گیا تھا. افغانستان میں بی ایل اے کا ٹاپ کمانڈر آقا جنرل شمشاد بلوچ جو پورے افغانستان میں بی ایل اے ٹریننگ کیمپوں کا سربراہ بھی تھا شمشاد بلوچ نے بھارت بھی میں 3 سال گزارے اور وہاں سے تربیت بھی حاصل کی تھی

    @MumtaazAwan

    جاوید لطیف،الطاف حسین اوربی ایل اے کے بیانیہ میں فرق نہیں،وفاقی وزیر

    بڑا مودی بنا پھرتا ہے جو طلبا سے ڈرتا ہے،متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج پر طالب علم پر مقدمہ درج

    متنازعہ شہریت بل، دلہن نے بھی کیا مودی سرکار کے خلاف احتجاج

    متنازعہ شہریت بل، بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمے درج

    چینی قونصلیٹ حملہ کیس،کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں بارے عدالت کا بڑا حکم

    بی ایل اے کیساتھ کھلی جنگ جیت تک جاری رہے گی، بی ایل اے کے خاتمے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، نوابزادہ جمال رئیسانی

    کراچی حملہ ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی اداروں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کیا، وزیر اعظم

    شہر قائد کے بعد پشاور میں سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنایا ناکام

    آج کے حملے کے تانے بانے بھارت کے سلیپرسیل سے ملتے ہیں، وزیر خارجہ

    قوم کے تعاون سے دہشت گردوں کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیں گے،آرمی چیف

    پاکستان کو غیر مستحکم کرنیکی سازشیں کرنیوالے ناکام رہیں گے، گورنر بلوچستان

    سیکورٹی اداروں نے بی ایل اے دہشت گردوں پر قیامت ڈھا دی، کمانڈر سمیت چھے واصل جہنم

  • بلوچستان زلزلہ،پاک فوج کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم راولپنڈی سے کوئٹہ روانہ

    بلوچستان زلزلہ،پاک فوج کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم راولپنڈی سے کوئٹہ روانہ

    بلوچستان زلزلہ،پاک فوج کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم راولپنڈی سے کوئٹہ روانہ
    پاک فوج کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم راولپنڈی سے کوئٹہ روانہ ہو گئی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ریسکیو ٹیم کوئٹہ سے آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہرنائی جائیگی،اربن ریسکیو اینڈ سرچ ٹیم امداد سرگرمیوں میں حصہ لے گی،

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے ہرنائی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے-آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے ضلع ہرنائی کی زلزلے سے متاثرہ آبادی کے لیے ضروری خوراک اور پناہ گاہیں منتقل کی گئی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق ‏آرمی ڈاکٹرز ، پیرا میڈیکل اسٹاف نے طبی سہولتیں فراہم کیں،طبی سہولتوں کیلئے شہری انتظامیہ نے بھی معاونت کی 9 زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا-

    صدر عارف علوی نے بلوچستان میں زلزلے سے قیمتی جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے،صدر مملکت نے زلزلے میں جاں بحق ہونیوالوں کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کو جوار رحمت میں جگہ دے،زلزلے میں زخمی ہونیوالوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں امید ہے صوبائی حکومت اور این ڈی ایم اے متاثرین کی فوری مدد یقینی بنائیں گے،

    ‏وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان میں زلزلے سے جانی ومالی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ،نقصان اور موجودہ صورتحال کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم آفس کو موصول ہو گئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے تمام متعلقہ وفاقی اداروں کو ریلیف فراہمی کی ہدایت کی ہے،‏وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت مشکل گھڑی میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ زلزلے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل بھی طلب کی ہے،ہرنائی کے زلزلہ متاثرین کی فوری امداد کی ہدایت کردی ہے، زلزلہ میں جانی نقصان پر لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے بلوچستان میں زلزلے سے نقصانات پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس ہے، وفاق بلوچستان میں بھرپور امدادی کارروائیاں کرے، شدید زخمیوں کو ملک کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جائے،‏وفاقی حکومت امدادی کارروائیوں میں قائدانہ کردار ادا کرے، پیپلز پارٹی کے چیئرمیین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت زخمیوں کی زندگیاں بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے، ‏وفاقی اور بلوچستان حکومت جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ ادا کرے، بلاول زرداری نے ہدایت کی کہ پیپلزپارٹی بلوچستان کی قیادت زلزلہ متاثرین کی مدد کرے، سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ‏وفاق اور بلوچستان حکومت زلزلہ متاثرین کی ہرممکن مدد کریں،زخمیوں کے بہتر علاج پر توجہ دی جائے،وزیر مملکت فرخ حبیب نے بلوچستان زلزلے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ملبے تلے پھنسے افراد کو کوئٹہ کے اسپتالوں میں منتقل کیا جارہاہے بلوچستان حکومت زلزلے سے بے گھر ہونے والوں کی ہرممکن مدد کرے گی، وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے بلوچستان زلزلے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مشکل کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،زخموں کو سہولیات اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی ومالی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے زلزلے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افرادکی مغفرت اور زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی ۔ انھوں نے کہا کہ متاثرین کی دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے متعلقہ اداروں کو امدادی کاروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر مرزا محمد آفریدی، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے بھی بلوچستان کے مختلف شہروں میں آنےوالے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی ومالی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہارکیا۔او زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی اور کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے بلوچستان میں زلزلے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا ہے، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مشکل کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، زخموں کو بہترین طبی سہولیات اور متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بلوچستان میں زلزلہ سے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، سراج الحق نے زلزلہ میں زخمی ہونے والوں کی صحتیابی کے لیے دعا کی ہے، سراج الحق کا کہنا تھا کہ الخدمت فاونڈیشن اور جماعت اسلامی کے رضاکار زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچیں ، زلزلہ متاثرین کے لیے میڈیکل و امدادی ریلیف کیمپ لگائے جائیں

    دوسری جانب بلوچستان زلزلہ،متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی اسسٹنٹ کے لیے وزیراعلیٰ سیل قائم کر دیا گیا،چیف سیکریٹری آفس، پی ڈی ایم اے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر چیف منسٹر سیل کی نگرانی کر رہے ہیں بلوچستان زلزلےسےمتعلق پی ڈی ایم اےکی ہیلپ لائن111400400-081پررابطہ کریں

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے بلوچستان زلزلہ میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام جاری ہے،سول آرمڈ فورسز متاثرین کی مدد کررہی ہیں

    بلوچستان زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ہرنائی سے 10زخمیوں کوہیلی کاپٹر کےذریعے کوئٹہ پہنچا دیاگیا ہرنائی سےکوئٹہ منتقل کیے جانے والے زخمیوں کی حالت تشویشناک تھی زخمیوں میں بچے ،خواتین اور عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہےہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    ‏پاک فوج کے دستے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے-

  • ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ‏پاک فوج کے دستے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے ہرنائی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے-

    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے ضلع ہرنائی کی زلزلے سے متاثرہ آبادی کے لیے ضروری خوراک اور پناہ گاہیں منتقل کی گئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ‏آرمی ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف نے طبی سہولتیں فراہم کیں،طبی سہولتوں کیلئے شہری انتظامیہ نے بھی معاونت کی 9 زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا-

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ بھی ہرنائی پہنچ گئے ‏آئی جی ایف سی نے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا راولپنڈی سے اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو موقع پر بھجوایا جائے گا-

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہےہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ  کا فرنٹیئر فورس رجمنٹل سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ، یادگار شہدا پرحاضری

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا فرنٹیئر فورس رجمنٹل سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ، یادگار شہدا پرحاضری

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا فرنٹیئر فورس رجمنٹل سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ، یادگار شہدا پرحاضری ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرنٹیئر فورس رجمنٹل سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فرنٹیئر فورس رجمنٹل سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ کیا، آرمی چیف کے رجمنٹل سینٹر پہنچنے پر کرنل کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عامرعباسی نے استقبال کیا، آئی جی آرمز لیفٹیننٹ جنرل ماجد، کمانڈنٹ ایف ایف رجمنٹل سینٹر استقبال کرنیوالوں میں شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا دورہ سالانہ کمانڈنگ آفیسرز کانفرنس کے موقع پر ہوا، دورے کے موقع پر آرمی چیف نے یادگار شہداپرحاضری دی اور کانفرنس کےشرکا سے خطاب کیا۔

    اس سے قبل آج پاک فوج میں اعلیٰ سطح پرتبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے تحت کور کمانڈرز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کردیا گیاہے آئی ایس پی آر سے جاری کردہ خبر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کردیا گیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

  • چراغ تلے اندھیرا،فواد چودھری اور شہباز گل کوکروڑوں روپے جرمانہ اور سزا ہو گی

    چراغ تلے اندھیرا،فواد چودھری اور شہباز گل کوکروڑوں روپے جرمانہ اور سزا ہو گی

    چراغ تلے اندھیرا،فواد چودھری اور شہباز گل کوکروڑوں روپے جرمانہ اور سزا ہو گی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پنڈورا پیپرز کا پنڈورا باکس تو کھل چکا۔ لیکن اس وقت پنڈورا پیپرز کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا ایک بار پھر سے بہت چرچا ہو رہا ہے۔ وہی فیک نیوز جس کی ابھی تک کوئی ایک تعریف تو سامنے نہیں آسکی جسے سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سمیت پوری قوم تسلیم کر سکے لیکن ہمارے سیاستدان خود فیک نیوز پھیلانے میں اب شامل ہو گئے ہیں تاکہ اتنے اہم معاملے کو غیر سنجیدہ کیا جا سکے۔پانامہ میں چار سو سے زائد لوگ تھے لیکن اب کی بار پنڈورا پیپرز میں سات سو سے زائد افراد ہیں۔ پانامہ کیس میں ہم نے دیکھا تھا کہ چار سو میں سے صرف ایک ہی خاندان تھا شریف خاندان جس کے خلاف کوئی خاطرخواہ کاروائی ہوئی تھی باقی شاید کسی کا نام بھی اب لوگوں کو یاد نہیں ہو گا کہ ان لیکس میں اور کون کون تھا۔اس پینڈورا پیپرز میں جس بات پر سب سے زیادہ خوشی منائی جا رہی ہے وہ یہ کہ اس میں عمران خان کا نام شامل نہیں ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو کہ عمران خان کی حکومت میں ہیں اور ان کے بہت قریبی ہیں۔اس لئے ایک طرف تو یہ اس حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس ہے کہ عمران خان اب کس کس کے خلاف کاروائی کروائیں گے۔لیکن دوسری طرف بغیر کسی تحقیق کے ہمارے وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ ٹائیں ٹائیں فش ہے اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن ایک بات جو پانامہ پیپرز میں اور پینڈورا پیپرز میں مختلف ہے وہ یہ کہ پانامہ کے ٹائم پر جن لوگوں کا اس میں نام آیا تھا وہ اس پر اپناResponseدیتے ہوئے بہت ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب کی بار پینڈورا پیپرز میں جن کا بھی نام آیا ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کاResponseبھی سامنے آ رہا ہے جس کی وجہ سے اب کی بار انLeaksکی وہ دہشت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے ہوئی تھی۔اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی یہ پینڈورا پیپرز سامنے آئے ہمارے اپنے وفاقی وزیر اور ایک مشیر نے فیک نیوز پھیلانا شروع کر دیں۔اور یہ وہی وزیر ہیں جو میڈیا کے حوالے سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا ایک بل پیش کرنا چاہ رہے تھے تاکہ فیک نیوز کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔ اور اب وہ خود ٹوئیٹر کے زریعے فیک نیوز پھیلا رہے ہیں جس پر بہت سے صحافی اور سوشل میڈیا فالوورز اب یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ فیک نیوز دینے والے صحافیوں کے خلاف جو جرمانے اور سزائیں ان وزیر صاحب کی طرف سے تجویز کی گئیں تھیں کیا اب فواد چوہدری اور شہباز گل کو وہی سزا نہیں ملنی چاہیے؟ کیا ان کے خلاف ویسی کاروائی اور جرمانے نہیں ہونے چاہیں جو کہ صحافیوں پر یہ لاگو کروانا چاہتے تھے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے سیاسی روابط شہباز گل نے دعوے کیے کہ پینڈورا پیپرز میں جن پاکستانیوں کے نام ہیں ان میں ایک نام مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا بھی ہے۔فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہاں تک بھی کہا کہ۔۔ علی ڈار جو نواز شریف کے داماد ہیں ان کے نام آف شور کمپنی کے بعد اب نئی اطلاعات یہ ہیں کہ مریم نوز کے بیٹے جنید صفدر کے نام پر بھی پانچ آف شور کمپنیاں ہیں ، اس خاندان کو کتنا پیسہ چاہئے؟شہباز گل نے جنید صفدر کے حوالے سے پی ٹی وی پر چلنے والی خبر کا سکرین شاٹ لگا کراپنی ٹوئیٹ میں مریم صفدر کو نشانہ بنایا اور یہ ٹوئیٹ کی کہ۔۔۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کسی چوری وغیرہ کی تحقیق ہو اور مریم باجی پیچھے رہ جائیں ؟ کبھی بھی نہیں۔اور یہ نہیں کہ ان دونوں حضرات نے صرف یہ خبر ٹوئیٹ کی تھی بلکہ شہباز گل نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں بھی پی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنید صفدر کا نام ان دستاویزات میں شامل ہے اور فواد چوہدری نے ڈان ٹی وی کے پروگرام میں یہی بات دوہرائی۔جبکہ دو پاکستانی صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی جو اس تحقیق میں شامل رہے ہیں ان سے جب ایک چینل پر یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اس کے علاوہ پنڈورا لیکس کے نام کے ایک اکاونٹ سے بھی جنید صفدر کے بارے ٹوئیٹ سامنے آئیں کہ۔۔ ہماری تحقیق کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نواسے جنید صفدر کی تین شیل کمپنیاں اور دو آف شور کمپنیاں سی شیلز اور ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔لیکن جب عمر چیمہ نے اس کی تردید کی اور اس اکاونٹ کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ جعلی ہے تو کچھ وقت کے بعد وہ اکاونٹ ڈیلیٹ ہو گیا لیکن فواد چوہدری اور شہباز گل کی ٹویٹس ابھی بھی موجود ہیں بلکہ ان کے اکاونٹس سے ایسی ٹوئیٹس کو بھی ری ٹوئیٹ کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیانیے کے قریب ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ جنید صفدر کے حوالے سے یہ خبر صرف پی ٹی وی نے نہیں چلائی بلکہ پرائیوٹ نیوز چینل اے آر وائے نے بھی نشر کی تھی۔ جس پر مریم نواز نے کافی سخت رد عمل دیا اور اے آر وائے کو ٹیگ کرکے یہ ٹوئیٹ کی کہ اگر اے آر وائی نے فوری اس جعلی خبر پر معافی نہیں مانگی تو میں انہیں کورٹ لے کر جاؤں گی۔جس کے بعد اے آر وائے نے یہ خبر چلانا شروع کی کہ جنید صفدر والی خبر درست نہیں۔جس کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔ اے آر وائی کو بغیر کسی شک و شبہ کے معافی مانگنی ہوگی ۔۔۔ ورنہ وہ یہاں اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا بہت ہو گیا۔اے آر وائے نے تو پھر بھی تردید چلا دی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پی ٹی وی، فواد چوہدری اور شہباز گل کے خلاف بھی کوئی کاروائی کریں گی یا نہیں۔لیکنPandora papers VS fake news کی اس لڑائی سے حکومت کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس لڑائی کے چکر میں اتنی بڑی Investigation report کو Non serious issue بنا دیا گیا۔ یہ رپورٹ آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن جن حکومتی عہدیداران کا اس میں نام آیا ہے وہ سب اپنے عہدوں سے استعفے دیتے عدالت کی طرف سے اس پر تحقیقات کروائی جائیں۔ جو بے قصور ثابت ہو اس کو دوبارہ عہدہ دے دیا جاتا اور جس کا قصور ثابت ہو جائے اس کو سزا دی جاتی کیونکہ عمران خان اسی احتساب کے نعرے کو لیکر حکومت میں آئے تھے۔ یہی ان کی جماعت کا سلوگن ہے کہ صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی۔۔۔خیر استعفے تو نہیں آئے لیکن اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اب ان کی طرف سےPrime minister inspection commissionکے تحت ایک اعلی سطحی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سیل پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔ اور اس کی سربراہی خود وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بھی یہی دعا ہے کہ قوم کے سامنے حقائق آئیں کیونکہ اس کام کی اس وقت ضرورت بھی ہے یہ رپورٹ اب صرف آف شور کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی پانچویں نمبر پر ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ صرف نواز شریف یا مریم نواز نہیں ہیں جن کے فیلٹس کی منی ٹریل ابھی تک سامنے نہیں آ سکی بلکہ اور بہت سے پاکستانی ہیں جو یہاں سے پیسہ برطانیہ لے کر جاتے رہے ہیں اور وہاں جاکر جائیدادیں خریدتے رہے ہیں۔اور ان لوگوں میں صرف سیاستدان نہیں ہیں بلکہ بہت سے اور لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن پر اب تحقیقات ہونی چاہیں۔ ان میں سے جو لوگ ریٹائرڈ ہیں وہ تو ہیں ہی لیکن جو اس وقت حکومتی عہدوں پر ہیں ان سے استعفے لینا بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔اور اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو مان لے گی کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاسی مقصد کے لئے نہیں ہوتے اور عوام کا اپنے انصاف کے نظام پر بھی اعتماد بحال ہو گا پھر کسی کو ہمت بھی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کے پیسے پر ڈاکہ ڈالے۔اور اس کے ساتھ ساتھ فیک نیوز کے معاملےپر بھی غور کرلیں کہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ پھرجو کوئی بھی غلط خبر کو بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے آگے پھیلاتا ہے تو سب کے لئے ایک ہی سزا ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ جب انہیں کی ٹوئیٹس اور بیانات کو میڈیا اٹھا کر خبر بناتا ہے تو قصوروار صرف میڈیا تو نہیں ہو سکتا۔ صحافی ہوں یا سیاستدان سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔

  • امریکہ سے اہم شخصیت کا دورہ پاکستان، آخر ایجنڈہ کیا ہے؟

    امریکہ سے اہم شخصیت کا دورہ پاکستان، آخر ایجنڈہ کیا ہے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیسے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں کونسی اہم شخصیت پاکستان کا دورہ کرنے آ رہی ہیں؟کیا پاکستان اب امریکی دباو برداشت کرے گا یا ہمیں کوئی نئی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرنی ہو گی؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس خطے میں جب بھی کوئی تناو کی صورت حال ہوتی ہے یا شدت پسندی سر اٹھاتی ہے تو اس کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اس لئے اس حوالے سے امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ امریکی حکام پہلے بھی پاکستان پر کئی بار دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن ہمارے وزيراعظم عمران خان اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہوئے ہمیشہ ہی یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان خود شدت پسندی سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔اپنے حالیہ ترک ٹی وی کو دئیے جانے والے انٹرویو میں بھی عمران خان نے بار بار یہی بات دہرائی تھی کہ سرد جنگ میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا افغان جنگ میں ہمیں 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اپنی غلطی سے نظریں ہٹانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرا بنانا تکلیف دہ ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ صدرجوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباﺅ میں ہیں امریکہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد پریشانی کا شکار ہے اور امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں لگے ہیں۔ایک اور اہم بات جو وزیر اعظم عمران خان پچھلے کافی عرصے سے دہرا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ میں جنگ سے مسئلے کے حل کا مخالف ہوں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں ہمارے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق تو اس وقت افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہیں اس کے بعد جو طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں گے تو انہیں معافی مل سکتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ کی ہم سے جو توقعات ہیں وہ اس کے بالکل الٹ ہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کریں۔ یہاں تک کہ پاکستان کوDo moreکے لئے مجبور کرنے امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی سیکرٹریWendy Shermanپاکستان کے دورے پر بھی تشریف لا رہی ہیں وہ سات اور آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گی۔ جو بائیڈن کے صدر بننے اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے کسی امریکی عہدیدار کا یہ اسلام آباد کا پہلا دورہ ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ Wendy Shermanاپنے اس طویل دورے کے لیے امریکا سے نکل چکی ہیں اور اس سلسلے میں ابھی وہ سوئٹزر لینڈ میں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان اور ازبکستان کا دورہ بھی کرنا ہے۔جبکہ پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی صحافیوں سے بات چیت کے دوران وہ ہمیں سنا چکی ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ ایک مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے اور ہم تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلا امتیاز تسلسل کے ساتھ کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ویسے تو انہوں نے پاکستان کے موقف کا بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی سے پاکستان کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ ہمارے دونوں ممالک دہشت گردی کی لعنت سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہم تمام علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات کے خاتمے کے لیے تعاون کی کوششوں کے منتظر ہیں۔مطلب ہماری تعریف کے ساتھ ساتھ ہمیں آنکھیں بھی دکھائی جا رہی ہیں اور کچھ دن پہلے امریکی سینیٹ میں جو بل پیش ہوا تھا وہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان کے خلاف پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں تو اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے ہم پر پریشر ڈالنا چاہتا ہے۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے؟ دراصل امریکہ افغانستان سے نکل تو گیا ہے لیکن جانے سے پہلے اس نے سوچا تھا کہ افغان فوج جس کو ہم ٹریننگ دیتے رہے ہیں اورافغان حکومت جس کو ہم اتنے سالوں تک پالتے رہے ہیں تو یہاں سے جانے کے بعد بھی ہم اس فوج اور حکومت کے زریعے افغانستان میں اپنا تسلط برقرار رکھیں گے یہاں سے ان فوجیوں کے زریعے انھیں ہر طرح کی جاسوسی ہوتی رہے گی۔ لیکن امریکہ کے نکلتے ہی معاملہ الٹ گیا وہ فوج بھی ڈھیر ہو گئی۔ حکومتی عہدیداران بھی فرار ہو گئے اور تمام جاسوسوں کے اڈے بھی بند ہو گئے حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ صرف امریکہ ہی نہیں امریکہ کے چمچے انڈیا کو بھی دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ تو امریکہ کا انڈیا والا بھی راستہ بند ہو گیا۔حالانکہ انڈیا دوبارہ سے اپنی اوچھی حرکتوں پر اتر آیا ہے وہ انڈیا جانے والے افغانوں کو ٹریننگ دے کر اپنے جاسوس کے طور پر دوبارہ افغانستان بھیجنا چاہتا ہے۔ لیکن میں بتا دوں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ ایک وقت تک امریکہ یہ سوچتا رہا کہ شاید یہ کوئی فیک اکاونٹ ہے یا پھر صرف نام استعمال کرکے یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کراس اکاونٹ کو چلایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ کبھی ذبیح اللہ مجاہد کو ٹریس نہیں کر سکے۔ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا وہ بیس سال میں اگر طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکا تو انڈیا کس کھیت کی مولی ہے۔ اس لئے اب انڈیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان کے خلاف اس طرح کی سازشیں کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ان کے پاس اپنا ایک انٹیلیجنس کا نیٹ روک ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کیونکہ انڈیا بھی افغانستان سے باہر ہو گیا تو امریکہ کو پاکستان نظرآگیا۔۔ پاکستان کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ بہتر ہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اس لئے اب امریکہ سوچ رہا ہے کہ کیوں نہ اب اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جائے۔اور سب سے بڑا مفاد جو امریکہ اس وقت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت میں دیگر دھڑوں کو بھی حکومت کا حصہ بنایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر رہا اور اس کا سیدھا سا مقصد یہ ہے کہ طالبان کی حکومت زیادہ طاقتور نہ ہو سکے ظاہری بات ہے جب کئی گروپس مل کر مخلوط حکومت بنائیں گے تو طالبان اپنے نظریات کو اس طرح سے لاگو نہیں کر سکیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی اندرونی لڑائیوں میں الجھے رہیں گے جس کے بعد امریکہ کہہ سکے گا کہ دیکھا ہم نے بیس سال تک جو جنگ کی وہ بالکل ٹھیک تھی کیونکہ طالبان امن پسند لوگ نہیں ہیں۔اور امریکہ کی اس تشویش کے پیچھے بھی اصل میں بھارت ہے۔ کیونکہ اسے ڈر ہے کہ طالبان کے افغانستان میں آنے سے کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو بھی طاقت ملے گی۔ اس لئے وہ امریکہ کے زریعے دباو ڈلوا رہا ہے کہ پاکستان کو تمام انتہا پسند گروہوں کے خاتمے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمیں دوبارہ سے ایک جنگ میں جھونک دیا جائے اور ہمارے خلاف ہر جگہ پراپیگنڈہ کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تمام دباو پاکستان کے چین سے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقات کی سزا بھی ہے کیونکہ پاکستان اور چین کی دوستی نہ تو امریکہ کو برداشت ہے اور نہ ہی انڈیا کو۔مغربی ممالک کو ویسے ہی آجکل یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں افغانستان پھر سے شدت پسندوں کا ٹھکانہ نہ بن جائے۔ حالانکہ طالبان کی قیادت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس لئے ہمیں اپنے تجربات سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے افغان سوویت جنگ میں سوویت یونین کی شکست کا یقین ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی اس وقت بھی پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ افغانستان کے حوالے سے امریکا پاکستان کے کردار پر نہ صرف تنقید کرتا رہا ہے بلکہ امریکی حکام ہم پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور انٹیلیجنس سروس افغان طالبان کی درپردہ مدد کرتی رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے لئے ہی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اس خطے میں جاری کھیل کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیر غور لایا جائے کہ امریکہ کی جانب سے ہر بار پاکستان سے قربانیاں لے کر اسی کو کیوں پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ہم کب تک اس طرح امریکہ کی مدد کرنے کے باوجود مشکلات کے میں پھنستے رہیں گے۔باقی جو باتیں کی جاتی ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام ہو، خواتین کو کام اور لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ سب باتیں صرف اس لئے کی جا رہی ہیں تاکہ انسانی حقوق کے نام پر دوسرے ممالک کو بھی ساتھ ملایا جا سکے اور ان کو طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے روکا جا سکے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس مرتبہ پھر اس خطے کواسی جہنم میں دھکیلنا چاہتا ہے جس میں اس نے 90 کی دہائی میں دھکیلا تھا۔ باقی اب پاکستان پر ہے کہ وہ ڈومور کے اس امریکی دباو کو کتنا برداشت کرتا ہے جو پاکستان مخالف بل کی صورت میں امریکی سینیٹرز کے ذریعے ہم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب وہی دباو Wendy Shermanبھی پاکستان پر ڈالنے آ رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے جو اندرونی معاملات ہیں اور پاکستان معاشی طور پر جتنا کمزور ہو چکا ہے تو ہمیں جو بھی فیصلہ کرنا ہو گا وہ بہت محتاط ہو کر کرنا ہوگا۔

  • جنرل فیض حمید کی جگہ کون بنا ڈی جی آئی ایس آئی؟ اعلان ہو گیا

    جنرل فیض حمید کی جگہ کون بنا ڈی جی آئی ایس آئی؟ اعلان ہو گیا

    جنرل فیض حمید کی جگہ کون بنا ڈی جی آئی ایس آئی؟ اعلان ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج میں معمول کے تقررو تبادلے کئے گئے ہین

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کئے گئے ہیں لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید کور کمانڈر کراچی تعینات کئے گیے ہیں لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تعینات کئے گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل عاصم ملک کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے ہر ترقی ہوئی ہے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک پاک فوج کے ایجوڈنٹ جنرل تعینات کئے گئے ہیں

    قبل ازیں آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تبادلہ کر دیا گیا ہے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کر دیا گیا،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کر دیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا ہے،

    @MumtaazAwan

    لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ڈی جی آئی ایس آئی تعینات۔

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    پاکستان بین الاقوامی سیاحت، کھیل اورکاروباری سرگرمیوں کے لئے محفوظ ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی رائل نیول فورسز کے کمانڈر کی ملاقات