Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • حضور ﷺ کی عزت و ناموس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ، ہم حضور ﷺ کی گستاخی کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟   اسلام آباد ہائی کورٹ

    حضور ﷺ کی عزت و ناموس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ، ہم حضور ﷺ کی گستاخی کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی –

    باغی ٹی وی : دوران سماعت عدالت نے پوچھا کہ ایف آئی اے کو گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف کتنی درخواستیں موصول ہوئیں؟ ایف آئی اے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف کاروائی میں کیوں تاخیر کررہی ہے۔

    جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ پٹیشنرز کی جانب سے کل 17 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 2 درخواستوں پر ایف آئی اے نے کا ر روائی کی اور باقی درخواستوں پر انکوائری ختم کردی کیونکہ ان درخواستوں میں دیئے گئے سوشل میڈیا لنکس بلاک ہو گئے تھے، لنکس بلاک ہوجائیں تو ہم مجرمان کی شناخت نہیں کر سکتے۔

    جس پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کے ایک افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ لنکس بلاک ہونے کے باوجود بھی مجرمان کی شناخت ہوسکتی ہے۔ ایف آئی اے کی نیت ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے،اصل مسئلہ نیت کا ہے۔

    سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر،عدالت نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے لنکس بلاک ہونے پر درخواستوں پر انکوائری ختم کرنے کا بیان درست نہیں، عدالت نے گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے کو تمام درخواستوں کا اوریجنل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، ایف آئی اے درخواستیں گم کر چکی ہے، اس لئے لنکس بلاک ہونے پر انکوائری ختم کرنے کا بیان دے کر عدالت کو گمراہ کر رہی ہے۔

    جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ درخواستوں کا اوریجنل ریکارڈ کہاں ہے، جو ریکارڈ آپ نے پیش کیا ہے، وہ اوریجنل نہیں ہے، آپ کو پٹیشنرز کو نہیں عدالت کو مطمئن کرنا ہے،تمام درخواستوں کا اوریجنل ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔

    گستاخانہ مواد کی تشہیر کو کب تک نہیں روکا جا سکتا ؟ ڈی جی پی ٹی اے کا عدالت میں اظہار بے بسی

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر اس کیس کے پٹیشنرز کو ہراساں کیا جارہا ہے، پٹیشنر شیراز احمد فاروقی کے گھر پولیس نے چھاپے مارے،حافظ احتشام احمد کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ہم آرڈر میں لکھوا دیتے ہیں کہ پٹیشنرز کو کوئی ہراساں نہ کرے۔

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، جہاں پر مغربی ممالک کا اپنے ملک کا یا اپنے مذہب کا سوال ہو، وہاں مغرب ممالک بھی سخت کاروائی کرتے ہیں، وہ اپنے ملک کے مفاد یا اپنے مذہب کے خلاف کچھ نہیں برداشت کرتے تو ہم حضور ﷺ کی گستاخی کیسے برداشت کر سکتے ہیں، ہمارے ملک میں سوشل میڈیا پر خرافات کا سمندر ہے،سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کے خاتمے کے لئے قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔

    سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد،تیرہ ویب سائٹس بلاک ہوئیں تو باقی کا کیا بنا؟ عدالت

  • کابل میں دھماکے سے 15 افراد کی موت، متعدد زخمی

    کابل میں دھماکے سے 15 افراد کی موت، متعدد زخمی

    کابل میں دھماکے سے 15 افراد کی موت، متعدد زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ ہوا ہے

    دھماکے کے نتیجے میں 15افرادجاں بحق،34زخمی ہو گئے،دھماکہ کابل میں سیکیورٹی فورسز کے اسپتا ل کے قریب ہوا، دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، طالبان نے دھماکے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکے سے اموات ہوئی ہیں، دھماکے ہسپتال ے قریب ہوئے

    خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق داؤد خان ملٹری ہسپتال کے قریب دھماکے ہوئے، سول اسپتال میں آنے والے مریضوں کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اب تک سات زخمی آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبھی مرد تھے، ان میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ دھماکوں میں زخمی ہونے والے قریبی فوجی ہسپتال کے مریض زائرین، طبی عملہ یا مریض تھے۔اس کے علاوہ، انسانی ہمدردی کی این جی او نے ٹویٹ کیا کہ نو زخمیوں کو کابل میں اس کے اسپتال میں لایا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں

    داؤد خان ملٹری ہسپتال کو پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ 2011 میں، خودکش بمباروں نے خود کو اڑا لیا، جس میں چھ افراد ہلاک اور 26 دیگر زخمی ہوئے۔2017 میں، طبی عملے کے بھیس میں بندوق برداروں نے ہسپتال پر دھاوا بول دیا، چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے محاصرے کے دوران کم از کم 30 افراد مارے گئے جو اس وقت ختم ہوا جب افغان سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو ہلاک کیا۔ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    واقعی طالبان کشمیر پہنچ گئے؟ بھارتی فوج کی دوڑیں لگ گئیں

    افغان طالبان کا خوف یا کچھ اور، مودی سرکار کی نئی چال سامنے آ گئی

    طالبان کا خوف،مودی نے سعودی عرب سے مدد مانگ لی؟ سعودی شخصیت کا دورہ بھارت متوقع

    طالبان عبوری حکومت نے نیا آئینی ڈھانچہ جاری کر دیا

  • پاکستان کا بھارت کی بلائی گئی سلامتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کا بھارت کی بلائی گئی سلامتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی جانب سے بلائی گئی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا انہوں نے کہا کہ بھارت کا کردار امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا ہے ، ایسے میں وہ قیام امن کے لیے کام کیسے کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت امن تباہ کرنے والا ہے، یہ امن قائم کرنے کے لئے کچھ نہیں کرسکتا بھارت اگر آگے چلنے کو تیار ہے تو پاکستان خیر مقدم کرے گا لیکن اگے بڑھنے کے لیے پہلے حالات سازگار کرنا ہوں گے کشمیر میں کیے اقدا مات ختم ہونے تک بات نہیں ہوسکتی دنیا کے تمام ممالک نے بھارت کے رویئے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ، وزیر اعظم عمران خان بار بار یہ بات کرتے ہیں کہ پاکستان جغرافیائی معاشی ضابطوں میں اپنے آپ کو منتقل کررہا ہے-

    دفتر خارجہ میں معید یوسف نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ازبکستان کے مشیر قومی سلامتی 3 روزہ دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں ، آج صبح پاکستان اور ازبکستان نے قومی سلامتی کے حوالے سے مشترکہ پروٹوکولز پر دستخط کیے ہیں دونوں ممالک سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف شعبوں میں تعاون کریں گے ازبک وفد وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور جی ایچ کیو میں بھی ملاقاتیں کرے گا ازبک مشیر قومی سلامتی کل طور خم سرحد کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر رزاق داود بھی ہمراہ ہوں گے۔

    مشیر قومی سلامتی نے بتایا کہ ازبکستان اور پاکستان کے مابین دستخط ہونے والے پروٹوکولز میں منشیات و دہشت گردی کے انسداد، اینٹی منشیات فورس و دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی. ازبکستان کے ساتھ پہلے ہی اچھے دفاعی تعلقات موجود ہیں ، نیشنل سیکیورٹی ڈویژن اس پروٹوکول کی مرکزی اساس ہوگا ۔

    معید یوسف نے کہا کہ چین کے ساتھ سی پیک کے منصوبے پر کام جاری ہے ، وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے اس طرح کے رابطے نہیں رہے جس طرح ہونے چاہیے تھے اس حوالے سے وزیر اعظم اور ازبک صدر نے گزشتہ روز فون پر بات بھی کی ہے ، افغانستان پر پاکستان اور ازبکستان کا موقف ایک ہے کہ اس وقت افغانستان پر ایک تعمیری بات چیت کی جائے تاکہ وہاں کوئی انسانی المیہ جنم نہ لے دہائیوں سےافغانستان جنگ کی حالت میں ہے۔ افغانستان میں لوگوں کی انسانی بنیادو ں پر امداد کی جائے افغانستان میں انسانی بحران پیداہوسکتا ہے-

    انہوں نے کہا پاکستان پر الزام دیا جاتا ہے کہ ہم افغانستان کی حمایت میں بول رہے ہیں۔ افغانستان کی 40سال کی صورتحال کا اثر پاکستان پر براہ راست مرتب ہوا۔ ہم دہشتگردی کے سب سے بڑِے متاثر ہیں ، ہماری سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو ہمارے پاس افغانستان سے قطع نظر کا کوئی آپشن نہیں ہے۔

    معید یوسف نے بتایا کہ ازبکستان بحیرہ عرب تک راہداری کا خواہاں ہے۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ٹرین منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان اور ازبکستان ملکر کام کررہے ہیں۔

    پاکستان کی جغرافیائی اہمیت زیادہ ہے۔ ہمارے ازبکستان اورسینٹرل ایشیا سے وہ تعلقات نہیں رہے جو ہونے چاہیے تھے۔ سینٹرل ایشیا کےممالک میں ازبکستان اہم کردارادا کرتا ہے۔

  • ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے ملک میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے کیسز کا نوٹس لے لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عدالت نے نوٹس کسی کی شکایت پر نہیں بلکہ دل کے مریضوں کیلئے سٹنٹس پر لیے گئے ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران لیا اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اسپتالوں میں بریسٹ کینسر کے علاج اور ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری اسپتال میں میموگرافی اور بریسٹ کینسر کے علاج کی سہولت نہیں۔سرکاری اسپتالوں میں علاج کیلئے خواتین کے پردے کا انتظام اور ماہرین پر مشتمل عملے میں خواتین بھی شامل ہوں بھی یقینی بنایا جائے-

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ خواتین میں بریسٹ کینسر کے ابتدائی اسٹیج پر تشخیص کیلئے کوئی انتطامات نہیں صرف صاحب حیثیت خواتین ہی مہنگا علاج کروا پاتی ہیں اکثریت نجی اسپتالوں سے مہنگا علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتیں خواتین معاشرے کا 50 فیصد حصہ ہیں چھاتی کا کینسر خواتین کو بہت تیزی سے متاثر کر رہا ہے ملک کی 50 فیصد آبادی کو چھاتی کے کینسر سے بچانا ہوگا۔

    عدالت نے تمام وفاقی اور صوبائی سیکرٹریز صحت کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہےعدالت نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر تمام سیکرٹریز اپنے علاقوں میں چھاتی کے کینسر کے علاج سے متعلق جواب دیں سپریم کورٹ نے چھاتی کے کینسر سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔

  • "ووہان” شہر میں دریاکنارے پاک چین دوستی چوک کا شاندار افتتاح

    "ووہان” شہر میں دریاکنارے پاک چین دوستی چوک کا شاندار افتتاح

    ووہان:”ووہان” شہر میں دریاکنارے پاک چین دوستی چوک کا شاندار افتتاح،اطلاعات کے مطابق چین کے شہر ووہان میں چین پاکستان فرینڈ شپ اسکوائر کا افتتاح کردیا گیا۔

    چین پاکستان فرینڈ شپ اسکوائر کے افتتاح پر ووہان میں دریائے ینگتی ژی کے کنارے پرایک شاندار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

     

     

    تقریب میں ہوبی کے نائب گورنر ژاوٴ ہیشان، ووہان کے وائس میئر جیانگ وی اور دیگر مقامی سینئر رہنماؤں اور حکام نے بھی شرکت کی۔ وائس میئر جیانگ وی نے چین پاکستان فرینڈ شپ اسکوائر کی تعمیر کے بارے میں بریفنگ دی۔

     

    اس موقع پر سفیر معین الحق نے کہا کہ اسکوائر دونوں ممالک اور لوگوں کے درمیان قریبی تعلق، گہرے اعتماد اور احترام کی عکاسی ہے ، اس سے پاکستان اور چین کے صوبہ ہوبی کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبی وسائل کے انتظام، سائنس اور ٹیکنالوجی اور عوام کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں عملی تعاون کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

  • سعودی حکومت نے بڑی پابندی عائد کر دی

    سعودی حکومت نے بڑی پابندی عائد کر دی

    سعودی حکومت نے 12سال سے کم عمر بچوں کے مسجدالحرام میں داخلے پر پابندی عائد کردی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت حج وعمرہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ 12سال سے کم عمر بچوں کے مسجدالحرام میں داخلے پر پابندی کردی ہے ، 12سال سے کم عمر بچےعمرہ اور نماز کے اجازت ناموں کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔

    سعودی وزارت حج وعمرہ کا کہنا تھا کہ توکلنا ایپ کے ذریعے ان کے نام سے عمرے اور نماز کا اجازت نامہ جاری نہیں ہوگا ، 12سال یا زائد عمر کے افراد کو اجازت نامہ ویکسین شرائط کیساتھ جاری ہوگا مؤثر اجازت نامے کے بغیر کسی کو عمرے یا نماز کیلئے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    واضح رہے چند روز قبل سعودی حکومت نے ایک عمرے سے دوسرے عمرے کے درمیان 15 دن کی شرط ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ اجازت نامے کی معیاد ختم ہوتے ہی نئے عمرے کا اجازت نامہ لیا جا سکے گا اب ایک عمرے سے دوسرے عمرے کے درمیان انتظار نہیں کرنا پڑے گا، نئے عمرے کا اجازت نامہ پہلا اجازت نامہ ختم ہوتے ہی توکلنا یا اعتمرنا ایپ کے ذریعے حاصل کیا جاسکے گا۔

    دوسری جانب سعودی عرب میں توکلنا ایپ نے صارفین کے لیے اہم وضاحت جاری کی ہے آن لائن پلیٹ فارم توکلنا کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’ابشر‘ میں نجی کوائف یا موبائل نمبر میں ترمیم کے بعد توکلنا ایپ میں اندراج نئے صارف کے طور پر ہوگا۔

    انتظامیہ سے سوال کیا گیا تھا کہ ’ابشر‘ میں نجی کوائف میں ترمیم کے بعد توکلنا میں ریکارڈ اپ ڈیٹ ہوگا؟ جس پر وضاحت پیش کی گئی۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ نئے صارف کے اندراج کے بعد ترمیم شدہ کوائف کا ریکارڈ نظر آئے گا ایپ کے کوائف والے خانے میں امیدوار کے نجی کوائف کی خوانگی ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے ہوتی ہے۔

    ایپ انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ موبائل نمبر بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ابشر اکاؤنٹ ہولڈر کے نجی کوائف میں بھی ترمیم ہوسکتی ہے۔

    خیال رہے کہ بیرون مملکت مقیم افراد توکلنا ایپ میں نئے امیدوار کے طور پر اندراج نہیں کراسکتے بلکہ بیرون مملکت ایپ کا استعمال اس صورت میں ہوگا جبکہ امیدوار سعودی عرب سے اس سے قبل ایپ میں اندراج کراچکا ہو۔

  • امریکی صدر عالمی موسمیاتی کانفرنس کے دوران سو گئے  ویڈیو وائرل

    امریکی صدر عالمی موسمیاتی کانفرنس کے دوران سو گئے ویڈیو وائرل

    اسکاٹ لینڈ میں جاری عالمی موسمیاتی کانفرنس کوپ 26 میں صدر جو بائیڈن دوران تقریب سو گئے-

    باغی ٹی وی : اسکاٹ لینڈ میں جاری بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کے افتتاحی خطاب کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے آنکھیں بند کرلیں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں امریکی صدر اپنے خطاب سے پہلے آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہوئے تھے امریکی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن نے 22 سیکنڈ تک اپنے آنکھیں بند رکھیں تبھی ان کے ایک معاون نے انہیں جگایا کانفرنس میں اسے پہلے بھی صدر جوبائیڈن نے 7 سیکنڈ تک آنکھیں موند کر رکھیں پھر آنکھیں کھولیں اور سر ہلایا۔

    جس وقت بائیڈن اونگھ رہے تھے اس وقت ایک سوشل ایکٹوسٹ گلوبل وارمنگ سے متنبہ کرتے ہوئے عالمی برادری کو جگانے کی کوشش کر رہے تھےان کا کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ نے ہماری کھانا اگانے اور یہاں تک کہ زندہ رہنے کی صلاحیت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔


    اسی لمحے بائیڈن کے معاون نے انہیں جگادیا اور صدرنے تالیاں بجاکر اپنی توجہ دوبارہ کانفرنس کی طرف کردی صدر بائیڈن آنکھوں کو بھی رگڑتے رہے۔

    ایک امریکی صحافی نے امریکی صدر کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی جو وائرل ہو گئی ہے۔اور ایک بار پھر سوشل میڈیا پر صدر جوبائیڈن کی عمر، صحت اور فٹنس زیر بحث ہے۔

    یاد رہے کہ جوبائیڈن اب تک کے سب سے معمر امریکی صدر ہیں اور اس ماہ 79 برس کے ہو گئے ہیں۔

  • افغان چلغوزوں کی کھیپ چین پہنچ گئی،دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا دوبارہ آغاز ہو گیا

    افغان چلغوزوں کی کھیپ چین پہنچ گئی،دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا دوبارہ آغاز ہو گیا

    افغانستان اور چین کے درمیان تجارت کا آغاز ہو گیا،افغان چلغوزوں کی کھیپ چین پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چین نے جنگ سے تباہ حال اپنے پڑوسی ملک افغانستان کے گہرے ہوتے معاشی اور انسانی بحران سے نمٹنے میں طالبان حکمرانوں کی مدد کے لیے براہِ راست فضائی تجارتی رابطہ دوبارہ فعال کر دیا ہے۔

    چین اور افغانستان کے درمیان فضائی راستے سے تجارت بحال ہوئی ہے اور افغانستان سے بڑی تعداد میں چلغوزے چین برآمد کیے گئے ہیں افغان دارالحکومت کابل سے کام ائیر کا جہاز 45 ٹن چلغوزے لیکر شنگھائی پہنچا ہے۔


    طالبان حکومت کے ایک ترجمان بلال کریمی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چلغوزے کی برآمد کابل اور بیجنگ کے درمیان حالیہ وسیع تر ‘اچھی بات چیت’ کا نتیجہ ہے آنے والے دنوں میں دو طرفہ تجارت کے دیگر شعبوں میں پیش رفت کی توقع ہے ہمیں امید ہے کہ تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں گی اور چین کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گاچلغوزے کی آج ہونے والی برآمد خاص طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئی اور اچھی شروعات کی نشاندہی کرتی ہے۔


    کارگو فلائٹ کی روانگی کے بعد کابل میں چین کے سفیر وانگ یو نے ایک ٹوئٹ میں کہا، کہ آج اس سال پائن نٹس کی پہلی پرواز چلغوزے لے کر چین کے لیے روانہ ہوئی۔ چونکہ عالمی ہوائی نقل و حمل ابھی بھی محدود ہے، چین اور افغان نے متعدد مشکلات پر قابو پالیا اور پروازوں کا انتظام کیا، جس سے افغان کسانوں کا مسئلہ حل ہوگا، اور دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے

    انہوں نے لکھا کہ چین تمام افغان عوام کے لیے دوستانہ پالیسی پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے، اس کے علاوہ افغان کو مزید انسانی امداد فراہم کی جائے گی، چینی ایف ایم وانگ یی نے حال ہی میں ملاقات کے دوران اے ڈی پی برادر اور اے ایف ایم متقی کے لیے پروازوں کی تصدیق کی۔ آنے والے مہینوں میں دسیوں ہزار ٹن پائن نٹس چین کو برآمد کیے جائیں گے۔


    وانگ یو نے مزید کہا کہ کروڑوں امریکی ڈالر کی اس آمدنی سے بہت سے افغان کسانوں کو فائدہ پہنچے گا یہ چھوٹے چھوٹے چلغوزے افغان عوام کے لیے خوشی اور چینی باشندوں کے لیے اچھا ذائقہ لائیں گے، چلغوزوں کی فضائی تجارت دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا اہم رابطہ ہے۔”

    چین افغانستان سے چلغوزوں کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور اس نے نومبر 2018 میں فضائی ذریعے سے تجارت کا آغاز کیا تھا گزشتہ دنوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان اور چینی وزرائے خارجہ نے ملاقات کی تھی جس میں افغان وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب کو چلغوزوں کا تحفہ پیش کیا تھا۔اس ملاقات کے بعد اب چین اور افغانستان کے درمیان تجارت بھی شروع ہوگئی ہے۔

  • لاہور:پاکستان آرمی کے زیر اہتمام تیسرے جسمانی چستی و حربی مہارتوں کے مقابلے شروع

    لاہور:پاکستان آرمی کے زیر اہتمام تیسرے جسمانی چستی و حربی مہارتوں کے مقابلے شروع

    تیسرا بین الاقوامی PACES (جسمانی چستی اور جنگی استعداد کا نظام) مقابلہ آج لاہور میں شروع ہوا فورٹریس سٹیڈیم لاہور میں شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: PACES شرکاء کی جسمانی طاقت اور برداشت کا حقیقی امتحان ہے بین الاقوامی اور قومی فوج کی ٹیموں کے لیے سخت ترین مقابلوں میں سے ایک ہونے کے ناطے اس ایونٹ کو فوجیوں کے جسمانی معیار اور برداشت کا حقیقی عکاس سمجھا جاتا ہے۔

    مقابلے میں عراق، اردن، فلسطین، سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان کے 101 بین الاقوامی کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جب کہ مصر، انڈونیشیا، جاپان اور میانمار کے مبصرین بھی ایونٹ کا حصہ ہیں۔ تقریب میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    PACES مقابلے جیسے ایک میگا ایونٹ کا انعقاد جس میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شرکت ہوگی، پاکستان کے کھیلوں کے لیے دوست، امن پسند اور مہمان نواز قوم ہونے کے موقف کی نشاندہی / تقویت ہوتی ہے۔

    پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ قابل احترام اور قابل اعتماد تعلقات رکھتا ہےلیفٹیننٹ جنرل سید محمد عدنان، انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔

  • مودی کے لئے ڈوب مرنے کا مقام

    مودی کے لئے ڈوب مرنے کا مقام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت کی مصیبتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سب سےبڑی وجہ مودی ہے ۔ بی جے پی کے کرتوں ہیں ۔ ان کے اقلیتوں کے خلاف اقدامات ہیں ۔ سکھوں اور خالصتان پر میں نے بہت سے وی لاگز کیے ہیں مگر آج وہ دن آ گیا ہے کہ اب سکھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مزید بھارت کے ساتھ نہیں رہا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کیلئے لندن میں ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی۔ مزے کی بات ہے کہ یہ ووٹنگ سرکاری عمارت کوئن ایلزبتھ دوئم میں ہوئی ۔ سرکاری عمارت کوئین ایلزبیتھ 2پر خالصتان کے جھنڈے بھی لگائے گئے ۔ اب لندن کے بعد برطانیہ کے دیگرشہروں میں بھی ووٹنگ ہوگی ۔

    سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ بھارتی دباؤ کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ سکھ رہنما پرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی نگرانی غیر جانبدار کمیشن کر رہا ہے جبکہ سکھ رہنما پتوت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ریفرنڈم سے روکنے کیلئے مجھ پر جعلی مقدمات بنوائے۔ پھر سردار اوتار سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پنجاب پر قبضہ کر رکھا ہے اب سکھ اب اپنا آزاد وطن خالصتان بنا کر دم لیں گے۔۔ 50 ہزار سے زائد سکھوں نے اس ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے ۔ یاد رکھیں یہ صرف لندن میں ہوئے ہیں ۔ برطانیہ کے باقی شہروں میں ابھی یہ ہونے ہیں ۔ تو ایک شہر کے حوالے سے اچھی خاصی تعداد ہے ۔ جس کے بعد اجیت ڈول اور مودی دونوں کے لیے یقیناً ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ آپ دیکھیں سکھوں کی آزادی کے سلسلے میں کینیڈا کی حکومت نرم رویہ رکھتی ہے۔ کینیڈا میں حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں جہاں justin treudu کو کامیابی نصیب ہوئی وہاں اس دفعہ سکھوں کی کافی تعداد کینیڈا کی قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی ہے۔ justin treudu کو اپنی حکومت بنانے کے لیے سکھوں سے مدد بھی لینا پڑی۔۔ ویسے justin treudu تو پہلے ہی سکھوں کے حق میں ہیں جس سے بھارتی حکومت ان سے سخت ناراض ہے مگر وہ بھارت کی پرواہ نہیں کرتے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت کے بعد برطانیہ ، کینڈا اور امریکہ میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے اور یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جب آپریشن بلیو سٹار ہوا تھا تو یہ سکھ بھارت کو خیر آباد کہہ کر ان ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے ۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنی خالصتان تحریک کو مضبوط بھی کرتے آئے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام بھی کرتے رہے ہیں ۔ چند روز پہلے خالصتان تحریک نے اپنا نقشہ بھی جاری کیا تھا ۔ اس کی بھی بھارت کو کافی مرچیں لگی تھیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں ۔۔ را ۔۔۔ کی سب سے بڑی موجودگی کینیڈا میں ہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بھارت کی سکھوں والی سٹیٹس نہ صرف پورے بھارت کے لئے غلہ پیدا کرتی ہیں بلکہ بھارتی فوج کیلئے سپاہیوں کی بھرتی کا سب سے بڑا مرکز بھی یہی اسٹیٹس ہیں۔۔ ان سٹیٹس کے ستر فیصد سے زائد نوجوان فوج کو جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس وقت سکھ انڈین آرمی کا پندرہ فیصد ہیں جبکہ مودی کا گجرات انڈین آرمی کو صرف دو فیصد جوان ہی دے پاتا ہے۔ یوں بھارت کی معیشت اور دفاع دونوں میں سکھ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ۔۔۔ را ۔۔۔ کو خالصتان کے حوالے سے بہت زیادہ سرگرم رہنا پڑتا ہے۔ پھر سینتیس برس پہلے آج کے دن بھارت بھر میں سکھوں کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی ہوئی تھی ۔ 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ اس قتل کے فوراً بعد دہلی میں سکھ قوم کے خلاف جنونی ہندوؤں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا۔ اس وقت کے مرکزی وزراء جگدیش ، ایچ کے ایل بھگت اور سجن کمار سمیت بہت سے حکومتی رہنماؤں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ‘‘ اور جنرل ’’جگجیت سنگھ اروڑا‘‘ کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کیلئے غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو فراموش نہیں کیا اور امریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’Sikhs For Justice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHRC میں داخل کرائی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو سکھ کسانوں کے خلاف جو مودی نے محاذ گرم کیا ہوا ہے وہ بھی اس بات کی کڑی ہے کہ مودی چاہتا ہے کہ کسی طرح سکھوں کو کمزور کیا جائے ۔ تاکہ یہ خالصتان کا نام نہ لیں سکیں ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے یہ تو ہو کر رہنا ہے ۔ کیونکہ جو ظلم اندرا گاندھی اور اسکے بعد آنے والوں نے سکھوں پر روا رکھا ہے ۔ اس کا کفراہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا ۔۔ پھر جو پاکستان نے کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو پچھاڑا ہے اس کے بعد بھارت میں اس ہار کا بدلہ کشمیریوں اور باقی مسلمانوں سے تو لیا جا رہا ہے۔ ۔ پر بھارت کے لیے اصل درد سر سکھ بھی بنے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کی اس فتح پر اس دفعہ بھارتی سکھوں نے بھی شاندار جشن منایا ہے۔ سکھ اب کھلے عام پاکستان کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ دراصل بھارتی حکومت کی سکھ کش پالیسیوں سے بیزار ہیں۔ سکھ کسان اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ایک سال سے مسلسل دلی کے اردگرد مظاہرے کر رہے ہیں مگر مودی حکومت ان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ مظاہرہ کرنے والے کئی سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔۔ بی جے پی کے ایک رہنما کے بیٹے نے جان بوجھ کر کئی مظاہرین کو اپنی گاڑی سے کچل دیا تھا اس واقعے کو اب ایک ماہ ہو رہا ہے مگر اب تک قاتل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ سکھ دراصل آزادی کے بعد سے ہی بھارت کے خلاف چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی کا ہونا ہے۔ آزادی سے قبل گاندھی اور نہرو نے واضح طور پر ان کے لیے خالصتان کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ملک قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بعد میں وہ اس سے مکرگئے اور اب خالصتان کا نام لینا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم سکھ اپنے آزاد وطن کے لیے ماضی میں بھی کوشش کرتے رہے ہیں اور آج بھی وہ اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آزاد خالصتان کا نعرہ بلند کرنے پر ہی بھنڈرا والا اور اس کے ساتھیوں کو امرت سر کے گولڈن ٹیمپل میں ٹینکوں سے حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اور گولڈن ٹیمپل کے تقدس کو نقصان پہنچایا تھا۔ سکھ اس قتل عام کو نہیں بھولے ہیں۔ اب سکھوں نے بھارتی پنجاب ، ہماچل پردیش اور ہریانہ پر مشتمل اپنے آزاد وطن خالصتان کو قائم کرنے کے لیے پھر سے جدوجہد شروع کردی ہے۔ خالصتان کی تحریک اڑتیس سال سے جاری ہے۔ اور اب اس نے وہ رفتار پکڑ لی ہے جس کے بعد کامیابی ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ اگر خالصتان واقعی وجود میں آگیا تو کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اس لیے پاکستان کو بطور ریاست سکھوں کی اخلاقی ، قانونی اور ہر طرح کی مدد کرنی چاہیئے ۔ اور اس سلسلے میں کسی بھی پریشر کا سامنا نہیں کرنا چاہیئے یہ وہ وقت جب پاکستان کو کشمیر کی طرح خالصتان پر بھی واضح موقف لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ سکھ ہمارے بھائی ہیں ۔ ہماری زبان بولتے ہیں ۔ ان کا کلچر اور ہمارا کلچر سب سے زیادہ قریب ہے ۔ یہاں تک ہمارے دریا اور ندیاں بھی ایک ہیں ۔