Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان دشمنوں کی ایک اورشرارت:گوادرمیں  دستی بم حملے کے نتیجے میں قائداعظم کا مجسمہ منہدم

    پاکستان دشمنوں کی ایک اورشرارت:گوادرمیں دستی بم حملے کے نتیجے میں قائداعظم کا مجسمہ منہدم

    گوادر:پاکستان دشمنوں کی ایک اورشرارت:گوادرمیں دستی بم حملے کے نتیجے میں قائداعظم کا مجسمہ منہدم ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں شر پسندوں نے دستی بم حملے سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا مجسمہ تباہ کردیا۔’

    گوادر میں قائم لیویز کنٹرول روم کے مطابق بانی پاکستان کا مجسمہ گوادر کی میرین ڈرائیو پر نصب تھا جس پر اتوار کی صبح نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم سے حملہ کیا۔بم حملے کے نتیجے میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ منہدم ہوگیا۔لیویز حکام کا کہنا تھا کہ دستی بم حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا جبکہ تاحال کسی بھی کالعدم تنظیم کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔گوادر سے ذرائع کے مطابق قائداعظم کا مجسمہ رواں برس اس مقام پر نصب کیا گیا تھا۔

     

     

    دوسری جانب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سرفراز بگٹی نے قائد اعظم کے مجسمے کی تباہی کونظریہ پاکستان پر حملہ قرار دیا۔ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ‘میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ مجرموں کو اسی طرح سزا دیں جس طرح ہم نے زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی پر حملہ کرنے والوں کو دی تھی’۔

    یاد رہے کہ سال 2013 میں بلوچستان کے علاقے زیارت میں قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری ایام میں استعمال ہونے والے ریسٹ ہاؤس زیارت ریزیڈنسی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے پندرہ جون، 2013 میں بم حملوں سے راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا۔عمارت کو لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ اسے بجھانے میں کئی گھنٹے لگے تھے، اس حملے میں یہ تاریخی عمارت نوے فیصد تباہ ہوگئی تھی۔

  • ایران کے شہرشیران سے گوادرکےخلاف سازشیں،دھماکے    ،دہشت گردیاں جاری:گرفتارملزمان کے خطرناک انکشافات

    ایران کے شہرشیران سے گوادرکےخلاف سازشیں،دھماکے ،دہشت گردیاں جاری:گرفتارملزمان کے خطرناک انکشافات

    گوادر:ایران کے شہرشیران سے گوادرکے خلاف سازشیں،دھماکے،دہشت گردیاں جاری:گرفتارملزمان کے خطرناک انکشافات،اطلاعات کے مطابق انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دیگر قانون نافذ کرنے والے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر بلوچستان کے ضلع کیچ میں انٹیلی جنس بیس آپریشن کرتے ہوئے 3 ایسے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جو گزشتہ ماہ گوادر میں ہونے والے خود کش حملے میں ملوث ہیں۔

    ان ملزمان کو ایران کے شہرشیران سے ایک ایرانی دہشت گرد سرغنہ رسول بنگش گوادراورگردونواح کے علاقوں میں دہشت گردی کےلیے استعمال کررہا تھا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چہ بہار کے علاقے شیران میں ایران کے حساس علاقے سے رسول بنگش بڑے عرصے سے بلوچستان میں دہشت گردی کارروائیاں کروا رہا ہے اوریہ ایرانی خفیہ ایجنسیوں کے علم میں لائے بغیرممکن نہیں ہوسکتا

    ادھر کوئٹہ سے سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے تربت کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور شعیب نامی شخص کو گرفتار کیا، بعد ازاں شعیب کی فراہم کردہ معلومات پر سیکیورٹی اداروں نے ایک اور مقام پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، یہاں سے سیکیورٹی اداروں نے متعدد ہتھیار اور دھماکا خیز مواد کے ساتھ دستی بم بھی برآمد کیے۔

    کوئٹہ سے سی ٹی ڈی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان تنیوں ملزمان کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزمان نے گوادر میں ہونے والے خود کش حملے میں معاونت کی تھی اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ یہ ملزمان سیکیورٹی اداروں سمیت شہریوں پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ اس دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہیں جنہوں نے گوادر میں خود کش حملہ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ اس واقعے میں خود کش بمبار نے گوادر میں چینی پاشندوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں دھماکے کے مقام پر موجود 4 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔واقعے میں ہلاک ہونے والے بچے سڑک کے کنارے کھیل رہے تھے جبکہ گاڑی کا ڈرائیور واقعے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک عارف نے تفتیسی اہلکارووں کو بتایا کہ اس کے بھائی احمد نے خود کش بمبار کو ایران کے علاقے رامین سے گوادر منتقل کیا تھا۔ملزم نے مزید بتایا کہ اس نے خود کش بمبار کو 10 اور 11 اگست کی درمیانی شب وصول کیا اور بعد ازاں اسے کسٹم ویئر ہاؤس کے قریب رہائش فراہم کی۔

    عارف نے انکشاف کیا کہ ایران میں شیران چاہ بہار کے علاقے کا رہائشی رسول بنگش اس حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، اس نے مزید انکشاف کیا کہ رسول بنگش نے 2019 میں گوادر کے پی سی ہوٹل پر ہونے والے حملے میں ملوث افراد کو منتقل کرنے کے لیے اپنے مرحوم والد کو استعمال کیا تھا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک کے دیگر ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے آپریشن سے متعلق منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

  • سکیورٹی فورسزکی کارروائیاں:مستونگ اور ڈوسالی میں2 دہشتگرد ہلاک،بھاری اسلحہ برآمد

    سکیورٹی فورسزکی کارروائیاں:مستونگ اور ڈوسالی میں2 دہشتگرد ہلاک،بھاری اسلحہ برآمد

    مستونگ: سکیورٹی فورسزکی کارروائیاں:مستونگ اور ڈوسالی میں2 دہشتگرد ہلاک،بھاری اسلحہ برآمد ،اطلاعات کے مطابق مستونگ کے علاقے کانک میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کا مقامی سربراہ ممتازعرف موٹا پہلوان مارا گیا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق دوسری جانب شمالی وزیرستان کے ضلع ڈوسالی میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے کانک میں آپریشن کے دوران 3 گھنٹے تک فائرنگ مقابلہ جاری رہا، دہشت گرد کے قبضے سے اسلحے کی بھاری مقدار برآمد ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق اس دہشتگرد کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے بتایا گیا ہے جو خاصا متحرک اور تنظیم کا مقامی امیر تھا۔ اس کے خلاف قتل کے درجنوں مقدمات درج ہیں، حکومت نے ممتاز کے سر کی قیمت 50 لاکھ مقررکر رکھی تھی۔

    دوسری جانب شمالی وزیرستان کے ضلع ڈوسالی میں بھی سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا جس کے دوران ایک دہشت گرد مارا گیا، قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

  • ارجنٹائن کےبعدعراق کاپاکستان سے 17JFتھنڈرطیارے       خریدنےکا فیصلہ:امریکہ کوپیٹ میں مروڑاٹھنےلگے

    ارجنٹائن کےبعدعراق کاپاکستان سے 17JFتھنڈرطیارے خریدنےکا فیصلہ:امریکہ کوپیٹ میں مروڑاٹھنےلگے

    لاہور :ارجنٹائن کے بعد عراق کا پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا فیصلہ:امریکہ کوپیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے ،اطلاعات کے مطابق ارجنٹائن کے بعد اب عراق نے بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے اپنی دفاعی صنعت کے حوالے سے چند ہی روز میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق نے بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کا فیصلہ کر لیا ہے، عراق پہلا عرب اسلامی ملک ہے جو پاکستان سے جنگی طیارے خریدے گا۔

    اس حوالے سے یہ بھی حقیقت سامنے آئی ہےکہ مسلم برادرملک عراق نے کافی عرصہ قبل پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 جنگی طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا، اب اس حوالے سے سنجیدہ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔

    عراق کی وزارت دفاع کے وفد نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، اس دورے کے دوران ہی جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری سے متعلق دفاعی معاہدے کے معاملات طے پائے۔ذرائع کے مطابق عراق بھی پاکستان سے 60 کروڑ ڈالرز سے زائد رقم ادا کر کے 12 جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدے گا۔ یوں دفاعی صنعت کی بدولت پاکستان کو کھربوں روپے کا فائدہ حاصل ہوا ہے،

    ذرائع کے مطابق ارجنٹائن اور عراق کو جنگی طیاروں کی فروخت سے پاکستان کو سوا 2 کھرب روپے کا زرمبادلہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اس سے قبل ارجنٹائن نے بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کیلئے فنڈز مختص کر دیے تھے۔

    ارجنٹائن کی جانب سے پاکستان سے کل 12 بلاک 3 جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدے جائیں گے، اس مقصد کیلئے ارجنٹینا کی حکومت نے 66 کروڑ ڈالرز سے زائد کے فنڈز مختص کر دیے ہیں۔ ارجنٹائن کی پارلیمنٹ سے طیاروں کی خریداری کے فیصلے کی منظوری ملنے کے بعد طیاروں حاصل کرنے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو دفاعی ماہرین کی جانب سے پاکستان کی دفاعی صنعت کیلئے بہت بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    ادھرباغی ٹی وی کواپنے ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ اس ڈیل کو ختم کروانے کےلیے سردھڑ کی بازی لگا رہا ہے اوریہ بھی کہا جارہاہےکہ امریکہ نے ارجنٹائن کو بڑی پیش کش کی ہے ، لیکن فی الحال ارجنٹائن ابھی تک تو ڈٹا ہوا ہے

    ارجنٹائن نے کئی ممالک کی جانب سے اپنے جنگی طیارے فراہم کرنے کی پیش کش کو مسترد کیا۔ امریکا، روس اور بھارت سمیت دیگر کچھ ممالک نے بھی اپنے جنگی طیارے فراہم کرنے کی پیش کش کی، تاہم ارجنٹائن نے پاکستان اور چین کی جانب سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا

    یاد رہےکہ اس سے قبل پاکستان نے رواں سال مئی میں با ضابطہ طور پر 03 جے ایف-17 تھنڈر طیارے نائیجیرین ایئر فورس کے حوالے بھی کیے تھے۔

  • میڈیا کی دو نمبریاں، تہلکہ خیز انکشافات، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    میڈیا کی دو نمبریاں، تہلکہ خیز انکشافات، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    میڈیا کی دو نمبریاں، تہلکہ خیز انکشافات، سنئے مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ میڈیا والے میڈیا پر بات نہیں کرتے ۔ اگر کرتے بھی ہیں تو صحافی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بات کرتے ہیں ۔ پر کبھی میڈیا ہاوسز کی کرپشن اور دونمبریوں پر بات نہیں کی ۔ پر میں آپکو بتاوں میں کبھی اس معاملے پر بھی نہیں رکا۔ چاہے کوئی بھی ہو جو بھی ہو ۔ میں ہر اس شخص کو ایکسپوز کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا جو لوگوں کا حق مارتا ہے ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان ۔۔۔۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج کی میری یہ اسٹوری بھی ایک میڈیا ہاوس کے بارے میں ہے ۔ جو حکومت کی ڈیفالٹر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کا پیسہ بھی دبا کر بیٹھا ہوا ہے ۔ اور یہ کوئی لاکھوں کی بات نہیں ۔ کرڑوں روپے کی واردات ہے ۔ بلکہ ارب سے اوپر ہی کی ہوگی ۔ ۔ آپ نے سنا تو ہوگا اے پلس اور پبلک نیوز کے بارے میں ۔ یہ تمام میڈیا ہاوسز sports star international company کے نیچے آتے ہیں ۔ اس کے کمپنی میں کون کون ہیں اور تازہ ترین وردات چوہدری عبدالجبار عرف ٹھیکدار نے کیا ڈالی ہے ۔ یہ سب تو میں آپکو بتاوں گا ہی ۔ پر پہلے یہ بتا دوں کہ پوری مارکیٹ جانتی ہے کہ چوہدری عبدالجبار ٹھیکدار کے چینلز میں تنخواہ نہیں ملتی ۔ کیمرہ مین ہوں ، پروڈیوسر ہوں ، این ایل ای ہوں ، رپورٹر ہوں، ڈرائیور ہوں ۔ یہ ہر کسی کے پیسے دبا کر بیٹھا ہے ۔ اور کوئی ایک آدھے مہینے کی نہیں ۔ کسی کی سال ہے تو کسی کی چھ ماہ کی ۔ تو کسی کی نو ماہ کی ۔ پھر جواسکا انٹرٹینمنٹ چینل ہے ۔ اب اس کو کوئی ڈرامہ دینے کو راضی نہیں کیونکہ یہ بہت سے ڈرامے پروڈیوسرز کے پیسے دبا کر بیٹھا ہے ۔ ان ڈرامہ پروڈیوسرز کی ایک ایسوسی ایشن ہے جس کا نام ہے۔ united producers association ان کے بھی 50کروڑ سے اوپر کے پیسے دینے ہیں ۔ اور یہ تمام پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے توسط سے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیراعظم پاکستان ، پاکستان ایڈوٹائزر سوسائٹی تک کو بھی خط لکھ چکے ہیں ۔ اس پر پیمرا کے چیئرمین نے چوہدری عبدالجبار کو کہا کہ بھئی آپ ان کے پیسے دیں ۔ پر وہ چور ہی کیا جولوگوں کے دبائے پیسے دے دے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پھر آگے آجائیں جب آپ ان کی اس کمپنی کا ریکارڈ دیکھیں گے تو یہ ایک ارب سے زیادہ کا lossدیکھا رہے ہیں ۔ پھر صرف 60کروڑ روپیہ تو جبار ٹھیکدار نے
    STN کا دینا ہے ۔ آسان الفاظ میں 2018سے مسلسل یہ کمپنی نقصان کا سامنا کر رہی ہے ۔ یہاں تک کہ ایک روپیہ اس کمپنی نے نہیں کمایا ۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں ۔ کمپنی کے کھاتوں کی بات کر رہا ہوں ۔ تو یہ چوہدری عبدالجبار ٹھیکدار کا چھوٹا سا تعارف ہے ۔ یہ ان کی شہرت ہے ۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ انکا اصل کردار اور کالے کرتوت ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔۔ اصل کہانی یہ ہے کہ اس شخص کو دوبارہ سے ATVدے دیا گیا ہے ۔ پہلے بھی کئی سال تک ATVچوہدری عبدالجبار کو دیا ہوا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اور کتنے ایسے ڈیفالٹرز ہیں جن کو یہ سہولت دی گئی ہو جو چوہدری عبدالجبار ٹھیکدار کو دی گئی ہے ۔ پوری مارکیٹ جانتی ہے یہ ایک فراڈ شخص ہے جس نے لوگوں کی تنخواہوں سے لے اپنے چینل پر چلائے ہوئے ڈراموں تک کے پیسے نہیں دیے ۔ اور تو اور حکومت کے پیسے دبا کر بیٹھا ہوا ہے ۔ یعنی اپنے ورکروں کا بھی ڈیفالٹر ، حکومت کا بھی ڈیفالٹر اور دیگر کمپنیوں کا بھی ڈیفالٹر۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایسی اندھیر نگری اور چوپٹ راج چل رہا ہو تو پھر یہ پوچھنا تو بنتا ہے کہ اس فراڈ شخص کو دوبارہ ATVدے دینا کون سا اصول ہے کون سامعیار ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کا ٹینڈر کیا گیا ۔ ٹینڈر ہوا تو وہ کون سا معیار ہے یا اصول ہیں جس پر چوہدری عبدالجبار ٹھیکدار کو نوازا گیا ۔ مجھے نہیں معلوم پر مارکیٹ میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ اتنا عرصہ جو چوہدری عبدالجبار نے یوسف بیگ مرزا کو نواز ہے اپنے چینل میں رکھا ہے ان کے کہنے پر پبلک نیوز کھولا تھا ۔ یہ دوبارہ سے اے ٹی وی مل جانا اس کا ہی نتیجہ ہے ۔۔ اس سب کہانی میں وزارت اطلاعات کا سب سے زیادہ کردار دیکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ تمام معاملہ اس کے نیچے ہی آتا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات کو اس بارے بتانا چاہیے جیسے وہ روز میڈیا اتھارٹی بل بارے بتاتے ہیں کہ اس کی کرامات کیا ہیں ۔ کیا پتہ چوہدری عبدالجبارٹھیکدار کی ایسی کرامات ہوں جن سے ابھی تک ہم بہرہ مند نہیں ہوسکے ۔ پتہ نہیں نیب اور ایف آئی اے کو ایسے فراڈیے کیوں نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ جنہوں نے لوگوں اور حکومت کے لاکھوں نے کروڑوں دینے ہیں ۔ آپ دیکھیں کہ وزارت اطلاعات نے 2018میں لکھ کر دیا ۔ کہ یہ ڈیفالٹر ہیں ۔ پھر پیمرا کو انھوں نے
    refer کیا اور کہا کہ پبلک نیوز کا لائسنس کینسل کریں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ پروڈیوسرز نے نیب میں بھی ان کے خلاف درخواست دی ہوئی ہے ۔ پراس کا کیا ہوا کچھ نہیں معلوم ۔ پرائم منسٹر پورٹل پر بھی شکایت کی ہوئی ہے ۔ اس پر آرہا ہے کہ refer کر دیا ہے STN والوں کو ۔ اس سب وارداتوں کے بعد بھی اس صاف چلی شفاف چلی حکومت کو ATVچلانے کے لیے جبار ٹھیکدار ہی ملے تو پھر مان لینا چاہیے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں اس حکومت میں دن دیہاڑے صحافی اغواء تو ہوجاتے ہیں۔ ابھی کل بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہوا ہے ۔ جب وارث رضا جو ایکسپریس نیوز سے وابستہ ہیں غائب ہوئے ۔ ان کو کہا گیا کہ آپ ایماندار انسان ہیں۔ خیال کیا کریں۔ آپ پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف کیوں ہیں۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ میں ریاست کے خلاف نہیں ہوں۔ جس کے جواب میں ان کو کہا گیا کہ احتیاط کریں، آئندہ ایسا نہ کیجیے گا۔ تو صحافیوں کو تو اس حکومت میں اٹھا اٹھا کر سمجھایا جا رہا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے ۔ مگر یہ جو فراڈے ، چور اور ڈیفالٹرز ہیں ان کو دوبارہ دوبارہ سرکاری چینلوں کا انتظام دیا جا رہا ہے کہ مال بناؤ ۔ جتنا بنا سکتے ہو۔ میرے پاس ابھی اس حوالے سے ثبوت نہیں ہیں ۔ میں اور میری ٹیم اس پر لگی ہوئی ہے کہ سچ تک پہنچے ۔ پر یہ واضح ہے کہ اتنی بڑی ڈیل حکومت کسی فراڈیے کے ساتھ کرے تو کوئی نہ کوئی لالچ یا مفاد لازمی ہوتا ہے ۔ ورنہ ٹھیکہ پر ہی دینا تھا تو پھر کسی ۔۔ بوٹے ۔۔۔ کو بھی مل سکتا تھا یہ لازمی نہیں تھا کہ ATVایک ڈیفالٹر جبار ٹھیکدار کو ہی دیا جاتا ۔ اس ڈیفالڑ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چوہدری عبدالجبار ہیں ۔ ڈائریکٹرز میں abdul jabbar جن کے 30 فیصد شیئرز ہیں ۔ مسرت جبار جن کے 25فیصد شیئرز ہیں ۔ عبدالستار ان کے 10فیصد شیئرز ہیں ۔ ذوالفقار علی ان کے 15 فیصد شیئرز ہیں ۔ مسرت حنیف ان کے بھی 15شیئرز ہیں ۔ ۔ آخر میں اپنے دیکھنے والوں سے درخواست کروں گا کہ ان چینلوں کا بائیکاٹ کریں جو لوگوں سے فراڈ کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنے ہی ورکرز کو تنخواہیں نہیں دیتے ۔

  • حکومتی منافقت پکڑی گئی…! سعد رضوی کسی صورت رہا نہیں ہوں گے. اہم حقائق سے پردہ اٹھ گیا…!

    حکومتی منافقت پکڑی گئی…! سعد رضوی کسی صورت رہا نہیں ہوں گے. اہم حقائق سے پردہ اٹھ گیا…!

    سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حافظ سعد رضوی کی نظربندی ایک معمہ بن چکی ہے، ابھی تک یہ نہیں پتہ چل رہا کہ سعد رضوی کو کب تک نظربند رکھا جائے گا، اور ان پر الزامات کیا ہیں.!

    سعد رضوی کے وکیل برہان معظم ملک نے مبشر لقمان کو انٹرویوو دیتے ہوئے کہا کہ 16 اپریل 2021 کو سعد رضوی کو کالعدم کردیا گیا تھا، دہشت گردی کی شق لگاتے ہوئے سعد رضوی کو فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا تھا، کسی کو اس کا نوٹیفیکیشن نہیں دیا گیا تھا، سعد رضوی کے پہلے رہائی کے آرڈر کے بعد دوسرا آرڈر آجاتا ہے، پھر تیسرا آرڈر آجاتا ہے، پھر ہائی کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا، اس ریفرنس میں بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ سعد رضوی کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا ہے، ہائی کورٹ نے اس ریفرینس کو خارج کردیا تھا، ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا کہ جب تیسرا آرڈر پورا ہوجائے تو سعد رضوی کو رہا کردیا جائے، اس وقت وہ نوٹیفیکشن منظرعام پر لایا گیا جو 16 اپریل 2021 کو بنایا گیا تھا، پنجاب حکومت نے اس نوٹیفیکیشن کے تحت سعد رضوی کو دوبارہ نوے روز کیلئے نظربند کردیا تھا.

    برہان معظم نے مزید کہا کہ 21 جنوری 2021 کو سعد رضوی کو کالعدم کردیا گیا تھا، فروری میں سعد رضوی کے ساتھ معاہدہ کرلیا گیا تھا، دو ماہ کیلئے وقت بڑھوایا گیا تھا، اس کالعدم والے نوٹیفیکیشن کو ختم کردیا گیا تھا، یہ دہشت گردی کے قانون تھے جو دہشت گردوں پر لگائے جاتے ہیں، اس قانون کو ساسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا تھا، کیونکہ کالعدم کے نوٹیفیکیشن کو 21 جنوی 2021 کو نافذ کردیا تھا، پھر فروری میں واپس لے لیا گیا تھا، اس کے بعد 16 اپریل 2021 کو پھر اس نوٹیفیکیشن کو نافذ لعمل کردیا گیا تھا، وہ ابھی تک چل رہا ہے.

    برہان معظم کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کو 15 اپریل 2021 کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، کسی سیاسی پارٹی کو کالعدم کرنے کیلئے حکومت پہلے الیکش کمیشن کو ایک ریفرینس بھیجتی ہے، وہی ریفرنس فائلنگ کے پندرہ دن بعد سپریم کورٹ کو شنوائی کیلئے بھیجا جاتا ہے، پنجاب حکومت نے اس شنوائی سے بچنے کیلئے تحریک لبک کو سیاسی پارٹی کے طور پر کالعدم نہیں کیا ہے، تحریک لبیک اس وقت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعت ہے،

    برہان کا مزید کہنا ہے کہ میرے خیال میں یہ ایک ڈبل پالیسی ہے، ایک طرف کالعدم کیا ہوا ہے، دوسری طرف الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے، حکومت پنجاب نے چیف الیکشن کمیشن کو ایک درخواست بھیجی تھی، چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کے پاس پندرہ دن کا وقت تھا جو آپ نے ضائع کردیا ہے، اسلیے الیکشن کمیشن آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ حکومت کا سعد رضوی کو رہا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہم نے ہائی کورٹ میں اس خفیہ ریفرنس کو چیلنج کیا ہوا ہے.

  • عمران خان کی ضد، پاکستان کا احمد شاہ رنگیلا بن کر ہی رہوں گا

    عمران خان کی ضد، پاکستان کا احمد شاہ رنگیلا بن کر ہی رہوں گا

    عمران خان کی ضد، پاکستان کا احمد شاہ رنگیلا بن کر ہی رہوں گا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے بات کی جائے تو وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم تو تردید کرتے ہیں کہ جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کاکوئی مسودہ تیار نہیں کیا۔۔ پر سماء ٹی وی دعوی کر رہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہو چکاہے ۔ جس کی منظوری منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مسودے کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس بھیجا جائے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا نفاذہو جائے گا۔ لگتا بھی یوں ہی ہے کہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا مل بیٹھنا موجودہ حالات میں تو دور دور تک نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ بیٹھ بھی جائیں تو نہیں لگتا کہ کسی ایک نام پر ان دونوں کو کم ازکم اتفاق ہوگا ۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان بضد ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں قانون جو بھی ہو ۔ وہ شہباز شریف کو گھاس نہیں ڈالیں گے ۔ یوں یہ معاملہ بھی کھٹائی میں دیکھائی دیتا ہے ۔ اور صرف ایکسٹینشن ہی آپشن باقی بچتی ہے ۔ پر ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض حکومتی شخصیات میں مدت میں توسیع کے دورانیے سے متعلق اختلاف تھا جسے دور کرنے کیلئے مسودے میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ جب تک نئے چیئرمین کی تقرری نہیں ہوگی تب تک موجودہ چیئرمین ہی عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پر ایسا تھوڑی ہے کہ اپوزیشن حکومتی پلاننگ سے بالکل ہی بے خبر ہو ۔ انھوں نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہونے کی صورت میں عدالت جائیں گے ۔ یوں آنے والے دنوں میں چیئرمین نیب کی تقرری والا معاملہ میڈیا اور عوام کا اچھا خاصا entertain کرنے والا ہے ۔ پھر سائیں بزدار سرکار کی بات جائے تو اب عمران خاں بھی مان چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ پنجاب میں سخت ہوگا۔ ویسے میں تو اس کو وسیم اکرام پلس کی سخت بری کارکردگی سے تعبیر کرتا ہوں ۔ کیونکہ جتنی تبدیلیاں ان تین سالوں میں پنجاب میں ہوئی ہیں اتنی تبدیلیاں شاید گزشتہ ستر سالوں میں پنجاب میں نہیں ہوئی ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ ایک دفعہ پھر پنجاب حکومت نے سیکرٹریز سمیت اعلی عہدے کے چودہ افسران کے تقرر تبادلے کردئیے ہیں۔ میں تو یہ ہی دعا کروں گا کہ اللہ کرے یہ نئی ٹیم مطلوبہ نتائج دے دے ورنہ ابھی اس حکومت کے دوسال باقی ہیں پتہ نہیں پنجاب کا یہ کیا حال کریں گے ۔ اگر آپکو یاد ہو تو یہی پنجاب تھا جس نے تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب کی حکمرانی دلائی تھی اور اب یہی پنجاب ہے جس میں تحریک انصاف کو انتخابی دنگلوں میں چاروں شانے چت گرنا پڑا ہے۔ دراصل یہ عثمان بزدار کی حکومت کی کارکردگی پر طمانچہ ہے جو عوام نے رسید کر دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ الیکڑانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی اجازت دینے کے معاملات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر غبار کی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اگلے انتخابات کو ہر صورت میں“ فتح“ کرنا سب سے بڑا مشن ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان صرف مالی مشکلات کا شکار ہی نہیں۔ داخلی اور خارجی محاذوں پر بھی مسائل ہی مسائل ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود حکومت کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ اگلے عام انتخابات کو کیسے اڑانا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں چیف جسٹس کی سرابرہی میں سپریم کورٹ کا فل بنچ کب کا بلدیاتی ادارے بحال کرچکا ہے۔ ادھر حکومت اسے ماننے سے صاف انکاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حالانکہ یہ ہی حکومت عوام کو نچلی سطح تک حقوق مہیا کرنے کی سب سے بڑی داعی تھی ۔ پھر عمران خان نے عوام کو یہ خبر تو دیدی ہے اگلے دو سال بھی مشکل ہیں تاہم ساتھ یہ نہیں کہا آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے ابھی اچھے دن نہیں آئے اور نہ ہی اگلے دو برسوں میں آنے والے ہیں عوام کا تو اب ایک ایک دن مشکل سے گزر رہا ہے۔ اس پر اگر کپتان نے یہ خبر بھی سنا دی ہے اگلے دو برس بھی مشکل ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے عوام پر کیا گزری ہو گی۔ لیکن وزیر اعظم کے وزیر و ترجمان ان کی اس بات کو بھی گوٹہ کناری اور سرخی پاوڈر لگا کے بیان کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ملک کا وزیر اعظم کتنا سچا ہے جو حقیقت ہے بیان کر دیتا ہے۔ویسے ایسا سچا اور کھرا وزیراعظم پہلے کبھی عوام نے دیکھا ہی نہیں جو مشکل حالات کی خبر بھی ایسے دیتا ہے جیسے خوشخبری سنا رہا ہو۔ پانچ سال کے لئے حکومت منتخب ہوئی ہے، اس کے پانچوں برس اگر مشکلات میں گزر جاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں وہ عوام کو اپنی آئینی مدت کے دوران کوئی ریلیف نہیں دے سکتی تو ایسی حکومت کو کامیاب کہا جائے گا یا ناکام۔ فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ ویسے کپتان نے تو ہار نہیں مانی ان کی حکومت تو چل رہی ہے اور اب چوتھے برس میں داخل ہو گئی ہے تاہم عوام اب ہار گئے ہیں، ان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ انہیں زندگی کی دوڑ برقرار رکھنے کے لئے جان کے لالے پڑ گئے ہیں وہ ایک امید کے سہارے زندہ تھے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ دو سال کی مدت کے دوران ریلیف نہیں دیتی تو کم از کم مہنگائی کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گی، مگر کپتان نے اگلے دو برسوں میں بھی مشکلات کی گھنٹی بجا کر انہیں مایوس کر دیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت کوئی چیز نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی ہے ہر چیز اوپر ہی اوپر جائے جا رہی ہے ۔ ڈالر ہو ، پیڑول ہو ، بجلی ہو ، گیس ہو ، آٹا ہو ، چینی ہو ، حکومتی دعوے ہوں یا پھر عوام ہوں ۔ کیونکہ ان حالات میں زندہ رہنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔ کیونکہ جس حساب سے موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات مان رہی ہے۔ بہتری دیوانے کا خواب ہے ۔ ڈالر آج پھر بلندیوں پر پہنچ چکا ہے ۔ آپ دیکھیں پچھلے تین ماہ میں ڈالر کواپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کے لیے حکومت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز مارکیٹ میں ڈال چکی ہے۔ تحریک انصاف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی ناقد رہی ہے لیکن موجودہ حکومت اب خود بھی اسی طریقہ کار سے نظام چلاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف وزیر اور مشیر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھرمار ہے جس سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سرکار کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس کا سارا زور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے سچے اعدادوشمار پیش کرنے پر ہے۔ وزرا جب عوام اور میڈیا کو قائل نہیں کر پاتے تو انہیں کنفیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ آج کل کئی وزرا یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمت برطانیہ اور یورپ کی نسبت بلکہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ برطانیہ میں ایک لیٹر پٹرول ایک پاؤنڈ تیس پینس کا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً تین سو روپے بنتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف 123 روپے 80 پیسے فی لیٹر میں پٹرول دستیاب ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ وہ عوام کو یہ بھی بتائیں کہ برطانیہ میں ایک گھنٹہ کام کرنے کی کم سے کم اجرت تقریباً سات پاؤنڈ ہے۔ اگر دن میں آٹھ گھنٹے کام کیا جائے تو 56 پاؤنڈز کمائے جا سکتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 12936 روپے بنتے ہیں۔ اس سے تقریباً 43 لیٹر پٹرول خریدا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن کی کم از کم اجرت تقریباً چھ سو روپے ہے جس سے ساڑھے چار لیٹر پٹرول ہی خریدا جا سکتا ہے۔اس طرح یہ مانگے تانگے کے وفاقی وزیر سوشل میڈیا پر تشہیری مہم تو چلا سکتے ہیں ۔ لیکن انفارمیشن کے اس دور میں عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پر کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ عمران خان ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ آئندہ انتخابات اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔ اب کوئی اندازہ لگانے لگے کہ وہ کس کارکردگی کی بات کر رہے ہیں تو سرپکڑ کر بیٹھ جائے۔ کیا مشکلات برقرار رکھنے کی کارکردگی، کیا مہنگائی کو آسمان تک پہنچانے کی کارکردگی، یا پھر گڈ گورننس میں عروج حاصل کرنے کی کارکردگی، کون سی کارکردگی ؟؟؟ کہاں کی کارکردگی ؟؟؟ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں آ گئے، مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے، ان کی حکومت میں پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے موجود ہیں، جو اس ملک کے عوام کو روپ بدل بدل کر بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ ۔ اسی لیے ان چہروں نے جلد ہی عمران خان کے نئے پاکستان کی ہیئت بدل کر پرانے سے بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمنی پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اقتدار میں چاہے مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی یا پھر ان دونوں کو ہرا کر تحریک انصاف حکومت بنا لے عوام کے ہاتھوں میں کچھ نہیں آتا۔ ان کے لئے محرومیوں کے سوا اس سارے نظام میں کچھ بھی نہیں، بلکہ حالات پہلے سے بدتر ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے ہر غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد بانٹنے کے درد میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی کہہ رہی ہے ایک موقع اور دیں، پھر دیکھیں ہماری عوام دوستی اور پیپلزپارٹی بھی عوام کو نئے خواب دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام دریا کے کنارے کھڑے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔

  • امریکی ریاست میں‌ حملہ، معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار. مودی منشیات فروشوں کا سرغنہ نکلا. امریکہ کا منہ کالا، سکھوں نے خالصتان کے پرچم لہرا دیئے

    امریکی ریاست میں‌ حملہ، معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار. مودی منشیات فروشوں کا سرغنہ نکلا. امریکہ کا منہ کالا، سکھوں نے خالصتان کے پرچم لہرا دیئے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی ریاست ٹیناسی میں خوفناک واقعہ پیش آیا ہے، ایک شخص نے شاپنگ مال میں‌ گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی ہے، جائے وقوعہ پر دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، بارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں، چار کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کی حالت تشویشناک ہے، ٹیناسی پرامن جگہ ہے، لیکن امریکہ میں کچھ سالوں سے بہت سیریس ایشو شروع ہوگئے ہیں، وہاں کے مسلمانوں پر بہت ظلم شروع ہوگئے ہیں، جو کالے ہیں ان پربھی ظلم شروع ہوگئے ہیں، ریڈنیکس وہاں پر مضبوط ہوگئے ہیں، کیرولائنا اور ٹیناسی میں کافی زیادہ ہیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ دوسری طرف ویت نام میں امریکہ نے اٹھارہ سال گزارے ہیں، افغانستان میں امریکہ نے بیس سال گزارے ہیں، ویت نام سے واپسی پر امریکہ میں بہت سے مسائل ہوگئے تھے، افواج کی کثیر تعداد سائیکو ہوگئی تھی، اتنی قتل و غارت دیکھی تھی، جس کی وجہ سے طلاقیں دیں تھیں، بچوں کو مارنا شروع کردیا تھا، افغانستان سے واپسی کے بعد بھی امریکہ میں وہی صورتحال ہورہی ہے، مجھے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی فوجی ہے جو ذہنی بیمار ہے، خدانخواستہ اگر یہ مسلمان ہوتا تو ابھی اس پر بمباری کا منصوبہ بھی بن گیا ہوتا، امریکہ میں ایک شراب کی بوتل خریدنے کیلئے اپنا شناختی کارڈ دیکھانا پڑتا ہے، مگر ایک پستول اور بندوق نو سال کا بچہ بھی خرید سکتا ہے، اس پر ویڈیوز بھی بن چکی ہیں، کوئی بھی امریکہ کی حکومت اسلحہ کی خرید و فروخت پر کنٹرول نہیں کرتی ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا ہے کہ اب یہ کاروبار ان کے گلے پڑ رہا ہے، ہر جگہ یہ واقعات ہورہے ہیں، وہاں کے سیاست دانوں نے ان واقعات کی تائید کی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلم کھلا ان لوگوں کی سائیڈ لی تھی، جنہوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا تھا، جو توڑ پھوڑ کرنے والوں کی حمایت کرے گا تو معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار تو ہوگا، امریکہ دو چیزوں کی وجہ سے بہت مشہور تھا.

  • پرامن افغانستان پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو گا، جنرل ندیم رضا

    پرامن افغانستان پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو گا، جنرل ندیم رضا

    پرامن افغانستان پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو گا، جنرل ندیم رضا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے روس کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ندیم رضا نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت امن مشن مشق 2021 دیکھیں،امن مشن مشق 2021شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت منعقد ہوئیں جنرل ندیم رضا نے ایس سی او ممالک کے چیفس آف جنرل اسٹاف کے اجلاس میں بھی شرکت کی،اجلاس میں عالمی ،علاقائی اورسیاسی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا ،اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف ا سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام اور ترقی کےلیے کام کرتے رہیں گے،پاکستان امن کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے گا،عالمی امن کے لیے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں پر روشنی ڈالی گئی،پاکستان کی تینوں مسلح افواج نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں کلیدی قربانیاں دیں،افغانستان میں دیرپا امن و استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے،پرامن افغانستان پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو گا،پاکستان روس اور چین کے ساتھ دوطرفہ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے کو اہمیت دیتا ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ندیم رضا کی روسی فیڈریشن کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلیری گراسیمو سے ملاقات ہوئی جنرل ندیم رضا پیپلز لبریشن آرمی کے چیف آف جوائنٹ ا سٹاف جنرل لی ژاوچینگ سے بھی ملے

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں ،صورتحال پرقابو پا لیں گے،ڈی جی آئی ایس پی آر

  • وزیر خارجہ کی  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات

    وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (پی جی اے) کے 76 ویں اجلاس کے صدر جناب عبداللہ شاہد سے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیویارک میں ملاقات کی۔

    وزیر خارجہ نے مسٹر شاہد کو پی جی اے منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پی جی اے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں اہم امور پر اتفاق رائے پر مبنی پیش رفت کی طرف جنرل اسمبلی کی رہنمائی میں مدد کرے گا۔

    وزیر خارجہ اور پی جی اے نے آب و ہوا کی تبدیلی اور ماحولیاتی انحطاط کے اثرات کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال کیا اور افغانستان کی صورتحال اور کوویڈ 19 وبائی امراض سے پیدا ہونے والے چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    شاہ محمود کی بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پی جی اے نے اپنے عہدے کی ایک سالہ مدت کے دوران اپنے مینڈیٹ کو کامیابی سے نبھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کی تصدیق کی۔ وزیر خارجہ نے انہیں اس سلسلے میں پاکستان کی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس کے موقع پر، بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محترمہ سوفی ولیمز کے ساتھ ملاقات کی-

    دوران ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گذشتہ ماہ ہونیوالی ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، بیلجیئم کو یورپی یونین میں پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار سمجھتا ہے-

    کورونا سے مزید 42 ہلاکتیں

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات کے ایجنڈے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے وزیر خارجہ نے پاکستان اور بیلجیئم کے درمیان دو طرفہ تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا –

    وزیر خارجہ نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے پاکستان کی حمایت پر بیلجیئم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیادونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی-

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل ہےافغانستان میں انسانی و اقتصادی بحران کے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے، عالمی برادری کو چاہیے کہ افغان عوام کی معاونت کیلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے-

    انہوں نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں، افغان عوام کی انسانی و معاشی معاونت، عالمی برادری کی طرف سے مثبت پیغام رسانی کا ذریعہ ثابت ہو گی-