Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیل قید سے رہائی کے لیے مسلسل اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم پاکستانی سفارتخانہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اردنی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی جلد از جلد ممکن بنائی جا سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ اردن کی حکومت کی جانب سے غیر معمولی تعاون حاصل ہوا ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ عمل کامیابی سے مکمل کر لیا جائے گا۔وزارتِ خارجہ نے اردن کی "برادر حکومت” کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جس طرح اردنی حکام نے پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس حوالے سے وزارتِ خارجہ دن رات سرگرمِ عمل ہے۔ وزارت نے عوام کو یقین دلایا کہ مشتاق احمد خان کی رہائی تمام مراحل کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔

  • خطے میں استحکام کے لیے پاک بھارت امن اہم ہے،ملائیشین وزیراعظم

    خطے میں استحکام کے لیے پاک بھارت امن اہم ہے،ملائیشین وزیراعظم

    ملائیشین وزیراعظم محمد انور ابراہیم کا کہنا ہے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے پاکستان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم ملائیشیا محمد انور ابراہیم کا کہنا تھا ہمارے خطے میں استحکام کے لیے پاک بھارت امن اہم ہے، دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے پاکستان سے ہر ممکن تعاون کریں گے،وقت کے ساتھ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات مستحکم ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے والہانہ استقبال پر ملائیشین حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان بہترین تعلقات پائے جائے ہیں،وزیراعظم شہباز شریف نے ملائشیا کے وزیراعظم کی کتاب اسکرپٹ کی تعریف کی اور کہا کہ یہ کتاب اسلام آباد اور کوالالمپور کے درمیان پل کاکردار ادا کرے گی،شہباز شریف نے کہا کہ دورے سے تعلقات کو تقویت ملے گی، پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت حلال گوشت کی برآمد کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں، حلال گوشت کی تجارت کو وقت کے ساتھ مزید بڑھائیں گے،انہوں نے ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تجربے سے استفادے کیلیے مشترکہ منصوبوں کے خواہاں ہیں، ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم نمایاں خصوصیات کے حامل شخصیت ہیں، دوطرفہ تعلقات سے متعلق انور ابراہیم کا دورہ پاکستان یادگار تھا۔

    قبل ازیں ملائیشیا کے وزیراعظم آفس آمد پر وزیراعظم انور ابراہیم نے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف کا استقبال کیا،وزیراعظم شہباز شریف کو ملائیشیا کی مسلح افواج کے دستےکی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور استقبالیہ تقریب میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے

  • گلوبل صمود فلوٹیلا پر تشدد اور بدسلوکی،پینے کو ٹوائلٹ کا پانی ملا

    گلوبل صمود فلوٹیلا پر تشدد اور بدسلوکی،پینے کو ٹوائلٹ کا پانی ملا

    غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں پر اسرائیلی فورسز کی جانب سے حراست کے دوران بدسلوکی اور تشدد کے لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ملیشیا سے تعلق رکھنے والی معروف گلوکارہ و اداکارہ بہنیں حلیزہ ہلمی اور حضوانی ہلمی نے ترک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کے جہاز پر حملہ کیا اور گرفتاری کے بعد انتہائی غیر انسانی سلوک روا رکھا۔حضوانی ہلمی نے بتایا کہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہمیں ٹوائلٹ کے پانی سے پیاس بجھانی پڑی؟ کئی افراد بیمار ہوگئے لیکن اسرائیلی اہلکاروں نے کہا اگر وہ مرے نہیں تو یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔

    ان کی بہن حلیزہ ہلمی نے کہا کہ مجھے تین دن تک کھانا نہیں دیا گیا۔ یکم اکتوبر کے بعد آج پہلی بار کچھ کھایا ہے۔ ان دنوں میں صرف ٹوائلٹ کے پانی سے زندہ رہی۔یہ بہنیں اس فلوٹیلا کا حصہ تھیں جو محصور عوام کے لیے امداد غزہ لے جا رہا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے کھلے سمندر میں کارروائی کرکے جہاز کو روکا اور عملے کو حراست میں لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق 137 امدادی کارکن گرفتار کیے گئے۔ان میں 23 ملیشیائی اور 36 ترک شہری شامل تھے۔ان ہولناک انکشافات کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر اسرائیل کے رویے اور غزہ جانے والے امدادی مشنوں پر پابندیوں کی جانب مبذول ہوگئی ہے۔

    اسرائیل بمباری سے ٹرمپ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے،حماس

    صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے،ٹرمپ کی حماس کو پھر دھمکی

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، شہادتوں کی تعداد 19 ہوگئی

    غزہ میں جنگ ختم نہیں ہوئی، مزید اقدامات درکار ہیں،امریکی وزیرِ خارجہ

  • روس کا بھارت کو جھٹکا، پاکستان کو جدید جیٹ انجن کی فراہمی کا اعلان

    روس کا بھارت کو جھٹکا، پاکستان کو جدید جیٹ انجن کی فراہمی کا اعلان

    روس نے بھارت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پاکستان کو جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری لڑاکا طیاروں کے لیے جدید آر ڈی-93 ایم اے (RD-93MA) انجن فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    بھارت، جو طویل عرصے سے ماسکو کا اتحادی رہا ہے، نے روس سے مطالبہ کیا تھا کہ اسلام آباد کو انجن کی ترسیل نہ کی جائے، تاہم کریملن نے یہ اپیل نظرانداز کر دی۔یہ انجن روس کی یونائیٹڈ انجن کارپوریشن تیار کر رہی ہے، جو پاکستان کے سب سے جدید جے ایف-17 بلاک تھری طیاروں کو طاقت فراہم کرے گا۔ یہ طیارے چین کے تعاون سے تیار کیے جا رہے ہیں۔پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جے ایف-17 بلاک تھری انجنوں کی فراہمی کے بعد کارکردگی کے اعتبار سے بھارت کے رافیل اور ایس یو-30 ایم کے آئی لڑاکا طیاروں کا مقابلہ کر سکیں گے۔

    روس کا یہ فیصلہ نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ماسکو جنوبی ایشیا میں دہائیوں پرانی بھارت سے اسٹریٹجک شراکت داری کے باوجود اسلام آباد اور نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    نیتن یاہو غزہ امن منصوبے پر کیسے مجبور ہوئے، امریکی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا

    چیف آف نیول اسٹاف ہاکی ٹورنامنٹ: فائنل میں پاکستان نیوی کی کامیابی

    اسپنر ابرار احمد کی شادی، ولیمہ 6 اکتوبر کو ہوگا

    کم عمر سوئیڈش ماحولیاتی کارکن سےاسرائیلی حراست میں غیر انسانی سلوک

  • بھارت شاید پاکستان کے دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کو بھول گیا ،ترجمان پاک فوج

    بھارت شاید پاکستان کے دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کو بھول گیا ،ترجمان پاک فوج

    ترجمان پاک فوج نے بھارتی اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بیان پر ردعمل دے دیا۔

    پاک فوج نے بھارتی سکیورٹی قیادت کی متعصبانہ اور اشتعال انگیز بیانات پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سکیورٹی قیادت کے بیانات جارحیت کےجھوٹے بہانے تراشنے کی کوشش ہے ،بھارتی قیادت کے بیانات جنوبی ایشیا میں امن کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں،ابھارت نے دہائیوں سے خود کو مظلوم دکھا کر پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ ترتیب دیا،بھارت کی جانب سے جھوٹے دعوؤں کی حقیقت اب دنیا کے سامنے ہے ،بھارتی جارحیت نے 2جوہری قوتوں کو کشیدگی لاکھڑا کیا، بھارتی غیر ذمہ دارانہ بیانات جارحیت کے لیے من گھڑت بہانوں کی نئی کوشش ہے۔ یہ صورت حال جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، بھارت کئی دہائیوں سے وکٹم کارڈ کا استعمال کرکے فائدہ اٹھا چکا ہے، بھارت نے خطے میں تشدد کو ہوا دے کر دہشت گردی کی سرپرستی کی۔بھارت کا یہ بیانیہ کافی حد تک بے نقاب ہوچکا ہے، دنیا بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا حقیقی چہرہ تسلیم کرچکی ہے، اب دنیا بھارت کو علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کر چکی ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو بڑے پیمانے پر جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا، بھارت شاید اپنے تباہ شدہ لڑاکا طیاروں اور پاکستان کے دور تک مار کرنے کے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کو بھول گیا ہے، بھارت اجتماعی بھول کا شکار ہو کر اب ایک نئے تصادم کی خواہش میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔بھارتی دفاعی وزیر اور فوج و فضائیہ کے سربراہان کے انتہائی اشتعال انگیز بیانات سامنے آئے ہیں، بھارتی بیانات کے پیش نظر واضح انتباہ دیتے ہیں مستقبل کا تنازع انتہائی تباہ کن نتیجے کا باعث بن سکتا ہے، اگر جنگ کا نیا دور شروع ہوتا ہے تو پاکستان پیچھے نہیں رہے گا، ہم پوری قوت اور پختہ عزم کے ساتھ کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا پابندی کے بغیر جواب دیں گے۔کسی نئے نارمل کے قیام کی کوشش کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے پاکستان نے جواب کا نیا نارمل قائم کر رکھا ہے، یہ نیا نارمل تیز، فیصلہ کن اور تباہ کن ہوگا، جارحیت کے جواب میں پاکستان کی عوام اور افواج ہر کونے و کنارے تک لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس بار ہم جغرافیائی عدمِ حساسیت کے تصور کو چکنا چور کر دیں گے، اس بار ہم بھارتی سرزمین کے دور دراز ترین حصوں تک کو نشانہ بنائیں گے، جہاں تک پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی بات ہے بھارت کو معلوم ہو کہ مٹانا دو طرفہ ہوگا، بھارت شاید پاکستان کے دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کو بھول گیا ہے۔

  • خضدار، فتنہ الہندوستان کے 14 سے زائد دہشت گرد ہلاک ، 20 سے زائد زخمی

    خضدار، فتنہ الہندوستان کے 14 سے زائد دہشت گرد ہلاک ، 20 سے زائد زخمی

    فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد مسلسل ناکامیوں کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں.

    سیکیورٹی فورسز نے خضدار کے علاقے زہری میں پرامن لوگوں کو ہراساں کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ،سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کیا ، خضدار میں آپریشن کےدوران فتنہ الہندوستان کے 14 سے زائد دہشت گرد ہلاک ، 20 سے زائد زخمی ہو گئے،اطلاعات کے مطابق فتنہ ہندوستان مسلسل ناکامیوں کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہو رہا ہے

    خضدار کے علاقے زہری کے عوام نے سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن کو بھرپور سراہا،خضدار کے عوام نےدہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے پر خوشی کا اظہار کیا،پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے،سیکیورٹی فورسز عوام کے تحفظ کے لیے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،سیکیورٹی فورسز عوام کے تعاون سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گی

  • امن معاہدہ،حماس کا جواب، پاکستان کا خیر مقدم

    امن معاہدہ،حماس کا جواب، پاکستان کا خیر مقدم

    پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے جواب کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ موقع غزہ میں یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اہم ہے، غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد کی بلاتعطل ترسیل یقینی بنانا ضروری ہے، اسرائیل کو فوری طور پر حملے بند کرنے چاہئیں، پاکستان نے صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہا، امید ہے یہ کوششیں دیرپا جنگ بندی اور مستقل امن کی راہ ہموار کریں گی، پاکستان تعمیری اور بامعنی کردار ادا کرتا رہے گا، پاکستان فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتا ہے، پاکستان ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، فلسطینی ریاست کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہونی چاہیے، القدس الشریف فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔

  • پاکستان فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا،وزیراعظم

    پاکستان فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ الحمداللہ، ہم اس قیامت خیز نسل کشی کے آغاز کے بعد سے اب تک کے سب سے قریب ترین مرحلے پر ہیں جہاں جنگ بندی ممکن نظر آ رہی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت شکرگزاری کا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ملاقات میں فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان نے جنگ بندی اور قیامِ امن کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے، جسے بند نہیں ہونے دینا چاہیے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان شاءاللہ پاکستان اپنے تمام شراکت داروں اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • غزہ پر بمباری روکی جائے،ٹرمپ،قطر،مصر کا حماس کے ردعمل کا خیر مقدم

    غزہ پر بمباری روکی جائے،ٹرمپ،قطر،مصر کا حماس کے ردعمل کا خیر مقدم

    حماس دائمی امن کیلئے تیار ہے، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کی جانب سے جاری بیان کی بنیاد پر بیان جاری کردیا۔

    مختصر ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک کا شکریہ جنہوں نے اس کام کو ممکن بنانے میں مدد کی، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پر بمباری فوری طور پر روکی جائے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ اور جلد رہائی ممکن بنائی جائے،اس صورتحال میں یرغمالیوں کی رہائی بہت زیادہ خطرناک ہوگی،تفصیلات طے کی جارہی ہیں، یہ صرف غزہ کی حد تک نہیں ہے، یہ مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری امن کی کوششوں سے متعلق ہے۔

    دوسری جانب قطر کی جانب سے حماس کے بیان کا خیر مقدم کیا گیا ہے، مصر نے بھی حماس کے ردعمل کے بعد مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ جنگ کے خاتمے تک پہنچنے کے منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے ثالث مصر اور امریکا کے ساتھ رابطہ کاری شروع کر دی ہے۔دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے غزہ پلان پر حماس کے ردعمل کے بعد مثبت پیش رفت کی امید ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عرب ممالک، امر یکا اور یورپی ممالک کے ساتھ جنگ ​​زدہ علاقے میں مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ حماس نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیس نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کرلیا ہے،حماس نے یرغمال اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کردی،حماس کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار مستقبل کے فلسطینی حکمرانوں کے حوالے کرے گی۔

  • مودی اور نیتن یاہو خوش کھو بیٹھے، کراچی پر حملے کی دھمکی،یورپ بھر میں مظاہرے

    مودی اور نیتن یاہو خوش کھو بیٹھے، کراچی پر حملے کی دھمکی،یورپ بھر میں مظاہرے

    معروف اینکر پرسن و تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے تازہ ترین و لاگ میں خطے اور دنیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم انکشافات اور دعوے کیے ہیں۔

    ان کے مطابق ایک جانب بھارت پاکستان کے خلاف جنگی بیانات اور فوجی تیاریاں بڑھا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے گولڈن فلوٹلا کے امدادی کارکنوں کی گرفتاری نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ ساتھ ہی پاک-افغان سرحد پر جھڑپوں اور قطر میں جاری مذاکرات پر بھی غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔مبشر لقمان نے کہا کہ اسرائیل نے انسانی امداد لے جانے والے گولڈن فلوٹلا کے کارکنان کو گرفتار کر کے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نہ تو کسی عالمی قانون کا پابند ہے اور نہ ہی انسانی و اخلاقی اقدار کی پرواہ کرتا ہے۔ ان کارکنان کو حراستی مراکز اور جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اب تک ان تک کسی انسانی حقوق کے ادارے یا وکیل کو رسائی نہیں دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ گرفتار کارکن غزہ میں محصور شہریوں کے لیے خوراک اور دیگر امدادی سامان لے جا رہے تھے، لیکن اسرائیلی فورسز نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے وہ جنگی قیدی ہوں۔ اس واقعے کے بعد یورپ بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اٹلی میں مظاہرین نے ٹرین سروس بند کر دی، جرمنی میں پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسپین، فرانس، ڈنمارک اور ناروے میں بھی بڑی تعداد میں احتجاج کیا گیا۔ ترکی میں نوجوان اسرائیلی دفاتر کے باہر جمع ہوئے اور اسرائیلی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ اس قافلے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین شہری بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق پاکستانی کشتیوں کو اسرائیلی بحری جہازوں اور ڈرونز نے تقریباً ایک گھنٹے تک تعاقب میں رکھا تاہم وہ سائپرس کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ امدادی کارکن اب بھی خطرے میں ہیں اور کسی بھی وقت انہیں دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اپنے و لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ دوحہ میں جاری مذاکرات میں امریکی صدر ٹرمپ کے امن فارمولا پر کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ حماس کی سیاسی قیادت جزوی طور پر اس منصوبے پر رضامند دکھائی دیتی ہے لیکن غزہ میں موجود عسکری قیادت اس پر سخت موقف رکھتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی سے انکار نے پورے امن عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور آنے والے 72 گھنٹے غزہ میں سیز فائر کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔مبشر لقمان نے بھارت کی حالیہ سرگرمیوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مذہبی تہواروں کے دوران پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور فوجی قیادت کھلے عام اسلحے کی نمائش کر رہی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے حالیہ بیان میں کہا کہ "کراچی کے لیے ایک راستہ سرکریک سے ہو کر گزرتا ہے”۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارتی قیادت کے یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی دہلی جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اس کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔اپنے و لاگ میں انہوں نے بتایا کہ کنڑ اور نورستان کے علاقوں میں پاک فوج اور سرحد پار موجود مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پاک فوج نے جوابی کارروائیاں کیں اور کئی شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

    ساتھ ہی مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے بگرام ایئربیس کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے اور وہاں سے امریکی فوجی سامان دوسرے مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان وزیر خارجہ جلد بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں جس کے نتائج خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

    مبشر لقمان نے اپنے و لاگ کے آخر میں کہا کہ خطہ ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف عالمی احتجاج، غزہ میں امن مذاکرات کی غیر یقینی کیفیت، بھارت کی جارحانہ پالیسی اور پاک-افغان سرحد پر بڑھتی جھڑپیں — یہ سب مل کر خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دن خاص طور پر پاکستان، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔

    حماس کا ٹرمپ کی دھمکی پر باضابطہ جواب آگیا، بڑا اعلان کر دیا

    بحیرہ عرب میں ڈیپ ڈپریشن، سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان

    عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع