جرمنی کی فٹنس انفلوئنسر ایڈا ایلیسا نے الزام عائد کیا ہے کہ لفتھانزا کے گیٹ ایجنٹ نے نامناسب لباس قرار دیتے ہوئے اسے پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا، جبکہ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ مسافروں کے لیے مناسب لباس پہننا ضروری ہے۔
جرمنی سے تعلق رکھنے والی فٹنس انفلوئنسر اور سوشل میڈیا شخصیت ایڈا ایلیسا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے دوران وہ لفتھانزا کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے ایئرپورٹ پہنچی تو گیٹ پر موجود عملے نے اس کے لباس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا۔ایڈا ایلیسا کے مطابق وہ اس وقت سیاہ رنگ کی بائیکر شارٹس اور وی کٹ اسپورٹس برا پر مشتمل ایتھلیژر لباس پہنے ہوئے تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گیٹ ایجنٹ نے انہیں دیکھ کر کہا کہ وہ اس لباس میں جہاز پر سوار نہیں ہو سکتیں اور مبینہ طور پر انہیں ’’برہنہ‘‘ قرار دیا۔فٹنس انفلوئنسر نے سوشل میڈیا پر اپنے 6 لاکھ 41 ہزار سے زائد فالوورز کے ساتھ واقعے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے عملے کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول انہیں بتایا گیا کہ وہ عام لباس نہیں پہن رہیں اور انہیں فوری طور پر کوئی اضافی لباس پہننا ہوگا۔
ایڈا ایلیسا کا کہنا ہے کہ عملے کی ہدایت پر انہوں نے ایک بڑی زِپ والی ہوڈی پہن لی، تاہم گیٹ ایجنٹ نے مبینہ طور پر انہیں اسے مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا۔انفلوئنسر کے مطابق عملے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کی وجہ سے پرواز میں تاخیر ہو رہی ہے اور وہ دیگر مسافروں کی روانگی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ایڈا کا کہنا ہے کہ انہیں خاص طور پر عملے کے لہجے اور اندازِ گفتگو پر اعتراض تھا۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شدید گرمی اور تقریباً 90 ڈگری فارن ہائیٹ کے قریب درجہ حرارت میں ان کا ہلکا لباس موسم کے لحاظ سے موزوں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں سنا تھا کہ کسی ایئرلائن نے جہاز میں سوار ہونے کے لیے اس نوعیت کا ڈریس کوڈ نافذ کیا ہو۔
دوسری جانب لفتھانزا نے مسافروں کے لباس سے متعلق اپنے قواعد کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کو ایسا لباس پہننا چاہیے جو ’’عوامی سفر کی نوعیت کے لیے مناسب‘‘ ہو اور مختلف پس منظر رکھنے والے دیگر مسافروں کی فلاح و بہبود میں خلل نہ ڈالے،ایئرلائن کے مطابق پرواز میں سوار ہونے والے مسافروں سے مناسب لباس کی توقع کی جاتی ہے اور نامناسب لباس کی صورت میں عملہ مداخلت کر سکتا ہے۔تاہم ایڈا ایلیسا کی شکایت پر لفتھانزا نے مبینہ طور پر اس بات پر بھی وضاحت دی کہ گیٹ ایجنٹ کی جانب سے ’’برہنہ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال ان کے مقررہ معیارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایئرلائن کا کہنا تھا کہ اس کے عملے کی جانب سے ایسے الفاظ استعمال کیے جانے کی توقع نہیں کی جاتی اور واقعے سے متعلق کسی بھی شکایت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔لفتھانزا نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے واقعات کا اندرونی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعے کے دوران کیا ہوا تھا۔
ہوائی سفر میں مسافروں کے لباس سے متعلق قواعد کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف ایئرلائنز عام طور پر مسافروں سے ایسا لباس پہننے کی توقع کرتی ہیں جو عوامی سفر کے لیے مناسب ہو۔ ماضی میں بھی مختصر ٹاپس، انتہائی مختصر لباس، بغیر جوتوں کے سفر یا دیگر نامناسب لباس پر مسافروں کو پرواز میں سوار ہونے سے روکے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق لباس سے متعلق بعض پابندیاں صرف ظاہری یا اخلاقی پہلوؤں تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ہنگامی حالات میں مسافروں کی حفاظت بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
فلائٹ اٹینڈنٹ باربرا باسیلیری کے مطابق انتہائی مختصر لباس ہنگامی انخلا کے دوران مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ایویکیوایشن سلائیڈ سے نکلتے وقت جسم کا زیادہ حصہ کھلا ہونے کی صورت میں جلنے یا جلد پر خراشیں آنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
واقعے کے بعد ایڈا ایلیسا نے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہوئے اپنا تجربہ شیئر کیا اور ایئرلائن سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ ان کی ویڈیو اور دعوے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بھی زیر بحث آ گیا۔ایڈا ایلیسا جرمنی کی فٹنس اور تفریحی دنیا سے وابستہ شخصیت ہیں اور مختلف ریئلٹی ٹی وی پروگرامز میں بھی نظر آ چکی ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔واقعے میں بنیادی تنازع یہ ہے کہ آیا ان کا لباس ایئرلائن کے مقررہ قواعد کے مطابق نامناسب تھا یا نہیں، جبکہ دوسری جانب ایئرلائن کی جانب سے مبینہ طور پر ’’برہنہ‘‘ جیسے الفاظ کے استعمال سے متعلق شکایت کی بھی اندرونی طور پر جانچ کی جا رہی ہے۔
