سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور مسلسل نسلی تشدد کی آگ میں جل رہی ہے جبکہ نریندر مودی ”ترقی یافتہ بھارت“ اور شمال مشرقی ریاستوں میں تاریخی امن کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔
خبررساں ادارے کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منی پور میں 58,000 سے زائد افراد آج بھی خستہ حال امدادی کیمپوں میں بے گھر اور بے یقینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، ہزاروں مکانات تباہ ہو چکے ہیں ، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی بدستور محض سرکاری وعدوں تک محدود ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ انصاف ایک مذاق بن چکا ہے ، کیونکہ 2023ء کے نسلی قتل و غارت سے متعلق 3,000 سے زائد مقدمات درج ہونے کے باوجود صرف معمولی تعداد میں چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے کہاکہ بھارت کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے جوابدہی کو غیر ضروری بوجھ سمجھ کر نظرانداز کیا ، یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو خصوصی عدالتوں کے قیام اور تحقیقات تیز کرنے کی ہدایات جاری کرنا پڑیں۔ ناگا اور کوکی برادریوں کے درمیان تازہ خونریزی نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی مجرمانہ غفلت ، سیاسی بے حسی اور انتظامی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔مئی 2026ء کے حملے میں تین کوکی زو چرچ رہنماؤں کی ہلاکت اور بعدازاں چھ ناگا شہریوں کے اغواء ، قتل اور ان کی لاشوں کو مسخ کیے جانے کے بعد ناگا گروہوں نے سخت اقتصادی ناکہ بندی نافذ کر دی۔ ناکہ بندی کے باعث کوکی علاقوں میں خوراک ، ایندھن اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل تقریباً ختم ہو گئی۔ چاول ، ایل پی جی اور روزمرّہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا، مگر حکومت عملی اقدامات کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہی۔ جولائی کے آخری دنوں میں کوکی زو گروہوں نے جوابی اقدام کرتے ہوئے قومی شاہراہ پر جوابی ناکہ بندی نافذ کر دی۔ 2 اگست کو اوکھرول کی کوکی سول سوسائٹی تنظیم نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی رسد کی امتیازی بندش فوری ختم کی جائے ، بصورتِ دیگر 5 اگست سے مکمل ہڑتال کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کا ردِعمل محض ایس او پیز کا جائزہ لینے اور پولیس کمانڈوز کی دوبارہ تعیناتی پر غور کرنے تک محدود رہا۔ یہی کھوکھلی کاغذی کارروائی ، رسمی اجلاس اور بے نتیجہ سرکاری بیانات 2023ء سے جاری اس بحران کی مستقل پہچان بن چکے ہیں۔ بھارتی فورسز اور دیگر ایجنسیاں کئی عسکریت پسندوں ، ایک اسلحہ فروش سمیت چند گرفتاریوں اور جولائی میں کئی عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کو بڑی کامیابی بنا کر پیش کرتی ہیں لیکن یہ نمائشی اقدامات تین برس کی ناکامیوں کو چھپا نہیں سکتے۔ آسام رائفلز پر وقفے وقفے سے ہونے والے حملے ، سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کا زخمی ہونا اور ایک مقامی رضاکار کی ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جولائی کے آخری دنوں میں خود بھارتی فوج کے سربراہ نے منی پور کا دورہ کیا ، سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، اہلکاروں سے ملاقات کی اور مزید چوکسی کی تلقین کی۔ یہ دورہ بھی ایک اور اعلیٰ سطحی نمائشی سرگرمی ، ایک اور رسمی جائزہ اور کھوکھلی ہدایات کا مجموعہ ثابت ہوا، جبکہ زمینی صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آ سکی۔انڈیا پوسٹ کو سیکیورٹی خدشات کے باعث متعدد ڈاک کے راستے معطل کرنا پڑے ، جو ریاستی نظم و نسق کی سنگین ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
اُدھر چوراچندپور میں اچانک آنے والے سیلاب نے پہلے سے بے گھر اور مشکلات میں گھرے عوام کے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔ نیا وزیر اعلیٰ دورے کرتا ، اجلاس منعقد کرتا ، انسدادِ منشیات مہمات شروع کرتا اور امن کے دعوے دہراتا رہا ہے ، جبکہ کابینہ کی توسیع بدستور تعطل کا شکار اور مختلف برادریوں کو ملانے والی سڑکیں بند ہیں۔ یہ صورتحال محض انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت کی دانستہ سیاسی ترجیحات کا نتیجہ ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ پر سیاسی مفادات اور اقتدار کے حصول کو فوقیت دیتی ہے۔ صدر راج نافذ ہوا اور ختم بھی ہو گیا، مگر منی پور کے عوام کی حالت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت دوبارہ قائم ہو گئی ، لیکن نسلی تقسیم ، عدم تحفظ اور انسانی مصائب بدستور برقرار رہیں۔ مختلف برادریاں آج بھی ایک دوسرے سے کٹی ہوئی ہیں ، شاہراہوں کو اقتصادی جنگ اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور بے گھر شہری ریاستی بے حسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مودی کا بھارت دنیا کو جمہوریت ، امن اور اچھی حکمرانی کا درس دیتا پھرتا ہے ، لیکن اپنی ہی ایک ریاست کو نسلی محاصروں ، امدادی کیمپوں ، معاشی ناکہ بندیوں اور مسلسل خونریزی میں سڑنے کے لیے چھوڑ چکا ہے۔ منی پور محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے حکومتی نظام کے خلاف اخلاقی فردِجرم ہے جو شمال مشرقی عوام کی خونریزی ، نقل مکانی اور دیگر مشکلات پر مسلسل آنکھیں بند کیے ہوئے ہے
