کولمبیا کی سیاست میں ایک ایسی شخصیت نے سینیٹ میں قدم رکھا ہے جس کا ماضی روایتی سیاست دانوں سے بالکل مختلف ہے۔ 33 سالہ ڈیزی الیجینڈرا اومانا اورٹیز، جو اپنے اسٹیج نام امرانتا ہینک کے حوالے سے زیادہ مشہور ہیں، نے حال ہی میں کولمبیا کی سینیٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔
امرانتا ہینک کی زندگی کا سفر صحافت سے شروع ہوا، اس کے بعد انہوں نے ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کیا اور اب وہ ملک کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کا سیاسی سفر اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب انہوں نے ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ سے وابستہ افراد کے حقوق، قانونی تحفظ اور امتیازی سلوک کے خاتمے کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا۔رپورٹ کے مطابق امرانتا ہینک نے مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ وہ بائیں بازو کے سیاسی اتحاد ہسٹورک پیکٹ کے پلیٹ فارم سے سینیٹ میں پہنچیں۔ان کی کامیابی کے نتیجے میں انہیں کولمبیا کے نورٹے دے سانتاندیر خطے کی نمائندگی کا موقع ملا۔ رپورٹ کے مطابق ہسٹورک پیکٹ نے انتخابات میں 44 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے اور سینیٹ میں 25 نشستیں حاصل کیں۔
امرانتا ہینک کا پیشہ ورانہ سفر سیاست سے کافی مختلف رہا ہے۔ انہوں نے ابتدا میں صحافت کی، تاہم بعد میں ایڈلٹ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہو گئیں۔ یہی ماضی آج بھی ان کی سیاسی زندگی میں سب سے زیادہ زیر بحث رہتا ہے۔امرانتا کا مؤقف ہے کہ کسی شخص کا ماضی اس کی سیاسی صلاحیت یا عوامی خدمت کی اہلیت کا حتمی پیمانہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ اپنے سابقہ پیشے کو اپنی موجودہ سیاسی ذمہ داریوں سے الگ دیکھتی ہیں۔امرانتا ہینک کا کہنا ہے کہ ایڈلٹ انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین اور دیگر افراد بھی ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں بنیادی حقوق، عزت اور قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ان کے مطابق ایسے افراد کو محض ان کے پیشے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس شعبے سے وابستہ افراد کے قانونی اور سماجی مسائل کو سیاسی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
سینیٹ میں پہنچنے کے بعد امرانتا ہینک کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے ماضی کو بنیاد بنا کر کئی سوالات اٹھائے گئے کہ کیا ایڈلٹ انڈسٹری سے وابستہ رہنے والی کوئی خاتون عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑ سکتی ہے؟امرانتا نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی خاتون ماضی میں ایڈلٹ انڈسٹری میں کام کر چکی ہو تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عوامی نمائندہ بننے کے لیے نااہل ہو جاتی ہے؟ان کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی پیشہ ورانہ تاریخ کو اس کی جمہوری اور سیاسی صلاحیتوں کا واحد پیمانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔امرانتا ہینک نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی سرگرمیاں صرف ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے متعلق معاملات تک محدود نہیں رہیں گی۔وہ خواتین کے حقوق، ذہنی صحت اور جنسی استحصال جیسے اہم سماجی مسائل پر بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کا مقصد ایسے طبقات کے مسائل کو سیاسی سطح پر اجاگر کرنا ہے جنہیں عام طور پر معاشرے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
امرانتا ہینک کی سینیٹ میں آمد نے کولمبیا میں سیاست، ماضی کے پیشے، سماجی اقدار اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ان کا سیاسی سفر اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ صحافت سے ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ اور پھر انتخابی سیاست تک پہنچی ہیں۔ اب ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ماضی کی وجہ سے ہونے والی تنقید کے بجائے پارلیمنٹ میں ان کی کارکردگی اور قانون سازی کو جانچا جائے۔کولمبیا کی سیاست میں اس سے قبل بھی ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ سے وابستہ شخصیات کی سیاسی تقرریاں تنازع کا باعث بن چکی ہیں۔ سابق ایڈلٹ اداکار جوآن کارلوس فلورین کی وزارتِ برابری میں نائب وزیر کے طور پر تقرری بھی اسی نوعیت کی بحث کا سبب بنی تھی۔
