Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • صدر  ٹرمپ نے  فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    فرانس کے محلِ ورسائی میں عشائیے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو میز پر مفاہمتی یادداشت کے دستاویز پیش کیے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کی جا نب پیش رفت ہے،معاہدے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے، ایران کے جوہری پروگرا م پر مذاکرات اور 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    تقریب کے دوران صدر میکرون نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن کے قیام کی جانب اہم قدم قرار دیاامریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی فریم ورک ہے اور آئندہ 60 دنوں میں تفصیلی مذاکرات کے ذریعے ایک حتمی اور ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کی توثیق یافتہ معاہدے کی کوشش کی جائے گی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہد ے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گےمعاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

  • ٹرمپ اور نیتن یاہو  کے درمیان  فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی،امریکی میڈیا

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی فون کالز پہلے کے مقابلے میں زیادہ تلخ اور کشیدہ ہو گئی ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ گفتگو کے دوران نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائیاں کم کریں اور بمباری کا سلسلہ روکنے پر غور کریں،امریکی صدر نے اپنے قریبی مشیروں کے سامنے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ہر مسئلے کا حل فوجی کارروائی اور بمباری میں تلاش کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی قیادت کی جانب سے مسلسل نئی فوجی کارروائیوں کے مطالبات سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اور فون کال کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنگ کے باعث امریکی معیشت کو نقصان پہنچا تو ان کا موازنہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور سے کیا جا سکتا ہے، جنہیں 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے دوران شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی ہوئی ناراضی کی جھلک ملتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم علاقائی معاملات پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ایران، لبنان اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اختلاف واضح ہیں۔

  • ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

    صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان اور قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔

  • ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک مضبوط اور بااعتماد پوزیشن سے کر رہا ہے اور حالیہ عسکری کامیابیوں نے تہران کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا ہےموجودہ مذاکرات اور ماضی کے ادوار میں ہونے والی بات چیت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ آج ایران میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی پشت پناہی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں کسی بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دیتی جب تک اسے قانونی اور سیاسی معاہدوں کی شکل میں محفوظ نہ کیا جائے۔

    انہوں نے زور دیا کہ ایران کی حالیہ کامیابیوں کو ایسے سیاسی اور قانونی نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو ملک کے طویل المدتی مفادات کا تحفظ کر سکیں اگر جنگ میں حاصل ہونے والی فتوحات کو باضابطہ دستاویزات اور معاہدوں میں شامل نہ کیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کامیابیوں کے فوائد ضائع ہو سکتے ہیں ایران کی قیادت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ موجودہ کامیابیاں ملک کے سیاسی، سفارتی اور قومی مفادات کے لیے دیرپا ثمرات پیدا کریں۔

  • امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے صدور نے جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور ایران نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں،امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں، معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے تاہم ایک ثالث ملک کے سفارتکار اور ایک دوسرے ذریعے نے گزشتہ روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

    سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، تاہم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارسی اور انگریزی زبان میں موجود دستاویزات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں اور دوسرے فریق نے بھی اس یادداشت پر دستخط کیے ہیں معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا ایران کے منجمد فنڈز تک رسائی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا پابند ہوگا، آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کسی بھی حملے کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا 60 روزہ مدت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہےدونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ابتدائی اقدامات کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا،یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی عزم اور مذاکراتی عمل پر اعتماد نے ایک ایسے تنازع کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا،انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مسلسل کاوشوں نے معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دوراندیشی اور امن کے لیے عزم کو بھی خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے صبر، ثابت قدمی اور تعمیری مذاکراتی انداز نے اس معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا گیا، ان ممالک کی سفارتی معاونت اور تعمیری تعاون مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا۔

    شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششیں، غیر معمولی لگن اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات اس پیش رفت میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پورے خطے میں امن، باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گی انہوں نے دعا کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مستقل استحکام اور علاقائی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔

    ایرانی صدر نےدستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی دستخط موجود ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دو ملکوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ الیکٹرانک دستخط کے ذریعے ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تقریب جعمہ کو سوئزرلینڈ میں طے ہے جس میں امریکی، ایرانی وفود سمیت ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان سمیت سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے قائدین بھی شریک ہوں گے، معاہدے پر ایرانی اور امریکی دونوں صدور کی دستخط کے بعد سوئزرلینڈ میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کے حوالے سے فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

  • 
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا اعلان کر دیا

    
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا اعلان کر دیا

    ‎فرانس: اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بات فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران بتائی۔
    ‎جی 7 اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے رہنما آپس میں گفتگو کر رہے تھے، اسی دوران جارجیا میلونی نے کہا کہ اجلاس کی مصروفیات کے دوران خود کو متحرک رکھنے کے لیے انہیں کافی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے ہلکے پھلکے انداز میں سگریٹ کا ذکر کیا، جس کے جواب میں میلونی نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ سے سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑ دی ہے۔
    ‎اطالوی وزیراعظم اس سے قبل مختلف انٹرویوز میں بھی اپنی سگریٹ نوشی کے بارے میں بات کر چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ تقریباً 13 برس تک سگریٹ نوشی سے دور رہیں، تاہم بعد میں دوبارہ اس عادت میں مبتلا ہو گئیں۔ اب انہوں نے ایک بار پھر اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎جارجیا میلونی کے اس اعلان کے بعد ترک میڈیا نے اکتوبر 2025 میں مصر میں ہونے والے ایک اجلاس کی ویڈیو دوبارہ نشر کی، جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان انہیں سگریٹ نوشی چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
    ‎صدر رجب طیب اردوان طویل عرصے سے سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں اور وہ متعدد مواقع پر عوام، نوجوانوں اور اہم شخصیات کو تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے جارجیا میلونی کا حالیہ اعلان ترکیہ میں بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
    ‎صحت کے ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے سے دل، پھیپھڑوں اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جبکہ اس سے کئی خطرناک بیماریوں کا خطرہ بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔

  • 
ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر دونوں صدور کے دستخط کی تجویز زیر غور

    
ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر دونوں صدور کے دستخط کی تجویز زیر غور

    ‎تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط کی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی نوعیت اور تقریب کے طریقہ کار پر دونوں فریق مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم اس کی باضابطہ منظوری ابھی باقی ہے۔
    ‎ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایک مقررہ مدت کے اندر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو مکمل طور پر معمول پر لایا جائے گا تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں اور تیل کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے دیگر متعلقہ ممالک سے بھی مشاورت کی جائے گی، تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور معاہدے پر عملدرآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور باہمی مفاہمت سے متعلق یادداشت پر دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے، جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ تاہم اس تقریب کے مقام، شرکا اور حتمی طریقہ کار سے متعلق دونوں ممالک کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎سفارتی حلقوں کے مطابق اگر یہ مفاہمتی یادداشت طے پا جاتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
امریکا میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، امریکی ناظم الامور

    
امریکا میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، امریکی ناظم الامور

    ‎اسلام آباد: پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ امریکا مختلف شعبوں میں ہنر مند پاکستانی افرادی قوت کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، ہاسپٹیلٹی، ہیلتھ کیئر اور دیگر شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے بہترین امکانات موجود ہیں۔
    ‎یہ بات انہوں نے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان افرادی قوت، روزگار، باہمی تعاون اور دیگر دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎امریکی ناظم الامور نے کہا کہ امریکا پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور مختلف شعبوں میں ہنر مند افرادی قوت کے حوالے سے تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی پیشہ ور افراد اپنی صلاحیتوں اور مہارت کے باعث عالمی سطح پر اچھی شہرت رکھتے ہیں، جس کے باعث امریکی مارکیٹ میں بھی ان کے لیے مواقع موجود ہیں۔
    ‎نیٹلی بیکر نے عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎اس موقع پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان دنیا کے مختلف ممالک کو ہنر مند افرادی قوت فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں پاکستانی ماہرین اور کارکنان اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور عالمی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان افرادی قوت اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بھی مزید فروغ ملے گا۔

  • 
امریکا، ایران معاہدہ طے پانے میں تیزی، الیکٹرانک دستخط آج بھی متوقع

    
امریکا، ایران معاہدہ طے پانے میں تیزی، الیکٹرانک دستخط آج بھی متوقع

    ‎واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعہ کے بجائے پہلے بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ فریقین آج ہی الیکٹرانک دستخط کے ذریعے معاہدے کی منظوری دینے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
    ‎امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور ثالث ممالک کے درمیان اہم مشاورت جاری ہے تاکہ معاہدے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک دستخط کا مقصد آبنائے ہرمز کو جمعہ سے پہلے یا جلد از جلد بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ہے، جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق اگر الیکٹرانک منظوری دی جاتی ہے تو معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی شرکت متوقع ہے۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ورچوئل دستخط کے بعد امریکا تاریخی امن معاہدے کا متن بھی جاری کر سکتا ہے۔ تاہم ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاہدے کا متن باضابطہ دستخط ہونے سے پہلے عوام کے سامنے نہ لایا جائے۔
    ‎دوسری جانب وائٹ ہاؤس پر معاہدے کی تفصیلات جلد جاری کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن امریکی انتظامیہ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ معاہدے کا متن جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے۔
    ‎ایگزیوس کے مطابق جب وائٹ ہاؤس سے الیکٹرانک دستخط کے امکان کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو امریکی حکام نے فی الحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
    ‎دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات سامنے آگئے: بلومبرگ

    امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات سامنے آگئے: بلومبرگ

    ‎واشنگٹن: امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے 14 اہم نکات سامنے آ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز متوقع ہیں، جبکہ تقریب پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
    ‎بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے پر ابتدائی اتفاق کر لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق پابندیوں، جوہری پروگرام اور دیگر حساس معاملات پر مذاکرات جاری رکھیں گے تاکہ مستقل معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ تمام متعلقہ فریق ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر بھی متفق ہوئے ہیں۔
    ‎بلومبرگ کے مطابق حتمی معاہدے میں افزودہ یورینیم اور جوہری مواد سے متعلق واضح شقیں شامل کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، تیل کی برآمدات کی مکمل اجازت دی جائے گی اور تجارت و توانائی سے متعلق تمام اہم راستے دوبارہ بحال کیے جائیں گے۔
    ‎دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ‎واضح رہے کہ ان تمام تفصیلات کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ معاہدے سے متعلق مذاکرات اور مشاورت کا عمل بدستور جاری ہے۔