دبئی: عالمی نیوی ٹریفک ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم زیادہ تر تجارتی جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے پر سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ادارے کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز سے صرف 8 بحری جہاز گزر رہے ہیں، جو معمول کے مقابلے میں یومیہ بنیاد پر تقریباً 33 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری سیکیورٹی خدشات کے باوجود بحری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل نہیں ہوئیں، تاہم جہاز رانی کی رفتار اور تعداد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی نیوی ٹریفک ادارے نے مزید بتایا کہ بیشتر بحری جہاز ایران کی جانب سے متعین کردہ راستے کو اختیار کر رہے ہیں، جس کا مقصد محفوظ نیوی گیشن کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ ہے۔
دوسری جانب آبنائے باب المندب میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق وہاں جہازوں کی آمدورفت میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس وقت 26 بحری جہاز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق باب المندب میں کسی بھی تجارتی جہاز پر حملے یا سیکیورٹی واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ادھر سعودی عرب نے آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں جہاز رانی کی آزادی اور سمندری سلامتی کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد میں اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو اس نئے بحری اتحاد کا کمانڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری اتحاد کے قیام کے ایک ہفتے بعد عمل میں آئی ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ریئر ایڈمرل الشہری مشترکہ بحری دفاعی کارروائیوں کی نگرانی کریں گے، رکن ممالک اور دیگر بحری اتحادوں کے ساتھ رابطے کو مؤثر بنائیں گے اور اتحاد کے چارٹر کے مطابق سمندری سلامتی، جہاز رانی کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
Category: بین الاقوامی
-

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں 33 فیصد کمی، بیشتر جہاز ایرانی مقررہ راستے پر گامزن
-

شادی کی رات دلہن کو گاڑی تلے کچلنے والی خاتون کی پولیس اسٹیشن کی ویڈیو منظر عام پر
امریکا: امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں اپنی شادی کی رات نوبیاہتا دلہن کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون کی گرفتاری کے بعد پولیس اسٹیشن کے اندر کی ویڈیو منظر عام پر آگئی، جس میں وہ بار بار اپنے والد سے بات کرنے کی اجازت مانگتی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ ویڈیو 2023 میں پیش آنے والے ہولناک حادثے کے بعد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ویڈیو میں سزا یافتہ خاتون جیمی کوموروسکی پولیس افسر سے کہتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے والد کو فون کرنا چاہتی ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے۔
یہ افسوسناک حادثہ 28 اپریل 2023 کو جنوبی کیرولائنا کے علاقے فولی بیچ میں پیش آیا، جہاں جیمی کوموروسکی نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک گالف کارٹ کو ٹکر مار دی۔ اس گالف کارٹ میں اپنی شادی کی تقریب سے رخصت ہونے والا نوبیاہتا جوڑا اور ان کے اہل خانہ سوار تھے۔
حادثے کے نتیجے میں 34 سالہ دلہن سمانتھا ملر موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئی، جبکہ اس کے شوہر ایرک ہچنسن اور دو دیگر افراد شدید زخمی ہوگئے۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق جیمی کوموروسکی کے خون میں الکحل کی مقدار قانونی حد سے کہیں زیادہ تھی۔ مزید یہ کہ وہ 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار کی حد والے علاقے میں تقریباً 65 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہی تھی، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
عدالتی کارروائی کے بعد جیمی کوموروسکی کو خطرناک ڈرائیونگ، نشے کی حالت میں گاڑی چلانے اور ایک شخص کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے طویل قید کی سزا سنائی گئی۔ حال ہی میں جاری ہونے والی پولیس اسٹیشن کی ویڈیو نے ایک بار پھر اس مقدمے کو عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ -

پرائیویٹ حج بکنگ کا نظام تبدیل، تمام عمل اب ’پاک حج ایپ‘ کے ذریعے ہوگا
حکومتِ پاکستان نے پرائیویٹ حج انتظامات میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پرائیویٹ حج اسکیم کو پہلی بار وزارتِ مذہبی امور کی براہِ راست نگرانی میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت اب پرائیویٹ حج کی بکنگ، معاہدوں کی تکمیل اور تمام مالی ادائیگیاں وزارتِ مذہبی امور کی سرکاری پاک حج ایپ کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔ اس نئے نظام کا مقصد حج انتظامات میں شفافیت، نگرانی اور سہولت کو بہتر بنانا ہے۔
حکام کے مطابق پہلے پرائیویٹ حج آپریٹرز خود بکنگ، معاہدوں اور ادائیگیوں کا نظام چلاتے تھے، تاہم اب یہ تمام مراحل سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تحت مکمل کیے جائیں گے تاکہ حاجیوں کے حقوق کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے ذریعے پرائیویٹ حج آپریٹرز کی سرگرمیوں پر مؤثر نگرانی ممکن ہوگی، جبکہ حج درخواست گزاروں کو بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر تمام ضروری خدمات اور معلومات دستیاب ہوں گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے مالی معاملات میں شفافیت بڑھے گی، شکایات میں کمی آئے گی اور حج آپریشن کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
نئے ضوابط پر عمل درآمد کے بعد پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت خدمات فراہم کرنے والے آپریٹرز کو بھی وزارتِ مذہبی امور کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ توقع ہے کہ اس نظام سے حج کے انتظامی امور کو مزید منظم اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے گا۔ -

ایران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ ناکام، موساد کے دو سینئر عہدیدار برطرف
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق مبینہ منصوبہ اپنے اہداف حاصل نہ کر سکا، جس کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ نے دو سینئر عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے افسران میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں عہدیدار ایران سے متعلق ایک اہم حکمت عملی کی تیاری اور اس پر عملدرآمد میں کردار ادا کر رہے تھے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مبینہ منصوبے کا مقصد ایران میں حکومت مخالف سرگرمیوں کو تقویت دینا، دہشت گرد گروہوں کے ذریعے ملک گیر احتجاج کو ہوا دینا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت پر دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم منصوبہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا۔
رپورٹس کے مطابق اس ناکامی کے بعد موساد کی قیادت نے دونوں سینئر افسران کو ذمہ داریوں سے ہٹا دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ادارے کے اندر جاری وسیع تنظیمی اصلاحات اور انٹیلی جنس ڈھانچے میں تبدیلیوں کا حصہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ موساد کی قیادت مختلف شعبوں کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے تاکہ مستقبل میں حساس انٹیلی جنس آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ -

وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں قصر الصفا پہنچ گئے، جہاں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
استقبال کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات کا آغاز ہوا، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، دفاعی شراکت داری اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، سیکیورٹی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور سعودی عرب مختلف شعبوں میں اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ -

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدہ
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جاتے ہوئے ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقد ہونے والے مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تینوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کے فروغ اور خطے کی سلامتی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کو "مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ” کا نام دیا گیا ہے۔ معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں مربوط ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ معاہدے کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور مشترکہ دفاعی تعاون کے تحت ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ترجمان کے مطابق اس معاہدے سے دفاع، انٹیلی جنس، عسکری تربیت، مشترکہ مشقوں، دفاعی ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط مزید مستحکم ہوں گے۔ اس کے علاوہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ایک روز قبل اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے تھے، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان بھی اجلاس میں شرکت کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے۔ اجلاس کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی دوطرفہ دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود تھا، تاہم نئے سہ فریقی معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ -

شمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ، جاپان اور جنوبی کوریا میں تشویش
جنوبی کوریا اور جاپان نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک بار پھر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرتے ہوئے اسے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی سمندر کی جانب داغ دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج نے میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے بعد نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے اور دفاعی تیاریوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب جاپانی حکومت نے بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے داغا گیا ہتھیار بظاہر ایک بیلسٹک میزائل تھا۔ جاپان نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال شمالی کوریا متعدد بار مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے، جن میں مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، راکٹ سسٹمز اور دیگر ٹیکٹیکل ہتھیار شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جون کے آخر میں بھی شمالی کوریا نے ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم اور ٹیکٹیکل میزائلوں کے تجربات کیے تھے، جس کے بعد خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا کہ وہ امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک سیاسی اور عسکری پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جلد شروع ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل سامنے آیا ہے، جسے پیانگ یانگ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے کم یو جونگ کے حالیہ بیان سے بھی جوڑا ہے، جس میں انہوں نے جاپان کی فوجی سرگرمیوں اور ٹام ہاک میزائل پروگرام پر سخت تنقید کی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں اسی نوعیت کی عسکری سرگرمیاں جاری رہیں تو مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں اور سفارتی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ -

ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی نئی کوشش، نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت حاصل کرنے کے قانون کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر امریکی شہریوں کے ہاں امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے شہریت کے قواعد مزید سخت بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیدائشی شہریت سے متعلق موجودہ نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے تاکہ امیگریشن قوانین کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بھی تنقید کی، جس میں عدالت نے ان کے سابقہ ایگزیکٹو آرڈر کو نافذ کرنے سے روک دیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس معاملے پر اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ جنوری 2025 میں بھی صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا میں پیدائش پر خودکار شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس فیصلے کو متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔
30 جون 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کا سابقہ ایگزیکٹو آرڈر نافذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے آئینی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد سابقہ حکم غیر مؤثر ہو گیا تھا۔
اب نئے ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا کے بعد ایک بار پھر امریکا میں پیدائشی شہریت کے قانون پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے حکم کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم امریکا میں پیدا ہونے والے بیشتر بچوں کو شہریت کا حق فراہم کرتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امیگریشن اور شہریت کا معاملہ امریکا کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جہاں اس پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے نئے اقدام پر بھی قانونی اور سیاسی سطح پر طویل بحث جاری رہے گی اور حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہوگا۔
اس پیش رفت نے امریکا میں امیگریشن پالیسی، آئینی حقوق اور پیدائشی شہریت کے مستقبل سے متعلق نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ -

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں بدستور جاری
افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں بدستور جاری ہیں،
طالبان رجیم کو بڑا دھچکا، مزاحمت نے اندراب میں طالبان چوکی پر قبضہ کر لیا۔افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق بغلان کے پُلِ حصار اندراب میں طالبان رجیم کی چوکی پر کامیاب کارروائی کی گئی۔ جنگجوؤں نے طالبان فوجیوں کی چوکی قبضے میں لے لی، دو ارکان کو ہلاک کیا گیا۔ کامیاب کارروائی کے بعد مزاحمتی فورسز نے چوکی پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ طالبان رجیم کی چوکی سے متعدد مختلف اقسام کے ہتھیار قبضے میں لے لیے گئے۔ مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ طالبان رجیم کے خلاف بڑھتے عوامی ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ -

عراقی گروہ اور حوثیوں کی سعودی عرب پر ممکنہ حملوں کی تیاری
ریاض: عراقی مسلح ملیشیاؤں اور یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ممکنہ مشترکہ حملوں کی تیاریوں کا انکشاف ہوا ہے۔
سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی، امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ممکنہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔سعودی عہدیدار کے مطابق ممکنہ اہداف میں شہری اور معاشی تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں، جن میں توانائی کے مراکز، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے نمایاں ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ سعودی عرب کے شمالی اور جنوبی محاذوں سے بیک وقت یا مربوط حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔عہدیدار کا کہنا ہے کہ ریاض نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنے اہم اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سعودی حکام کی جانب سے خطے میں موجود مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں اور بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی زیرِ قیادت عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعے کی صبح بتایا کہ نجران میں ہونے والے حملے میں 7 سعودی، ایک یمنی، 2 مصری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوا۔ زخمیوں میں ایک 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جسے دوسرے درجے کے جھلسنے کی چوٹیں آئیں۔ترکی المالکی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو اندھا دھند نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کے درمیان ممکنہ تعاون خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔ریاض اور حوثیوں کے درمیان گزشتہ ایک دہائی سے جاری تنازع اب مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر کشیدگی سے مزید جڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور بحری راستوں میں خلل کے باعث خطے کی تجارتی سرگرمیوں اور سعودی تیل کی برآمدات کو بھی خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔