امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت حاصل کرنے کے قانون کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر امریکی شہریوں کے ہاں امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے شہریت کے قواعد مزید سخت بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیدائشی شہریت سے متعلق موجودہ نظام پر نظرثانی ہونی چاہیے تاکہ امیگریشن قوانین کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بھی تنقید کی، جس میں عدالت نے ان کے سابقہ ایگزیکٹو آرڈر کو نافذ کرنے سے روک دیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس معاملے پر اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ جنوری 2025 میں بھی صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا میں پیدائش پر خودکار شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اس فیصلے کو متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔
30 جون 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ٹرمپ کا سابقہ ایگزیکٹو آرڈر نافذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے آئینی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد سابقہ حکم غیر مؤثر ہو گیا تھا۔
اب نئے ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا کے بعد ایک بار پھر امریکا میں پیدائشی شہریت کے قانون پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے حکم کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم امریکا میں پیدا ہونے والے بیشتر بچوں کو شہریت کا حق فراہم کرتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امیگریشن اور شہریت کا معاملہ امریکا کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جہاں اس پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے نئے اقدام پر بھی قانونی اور سیاسی سطح پر طویل بحث جاری رہے گی اور حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہوگا۔
اس پیش رفت نے امریکا میں امیگریشن پالیسی، آئینی حقوق اور پیدائشی شہریت کے مستقبل سے متعلق نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی نئی کوشش، نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
