میں آج کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کروں گا، وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹ۔ گزشتہ سال 5 اگست کے بعد سے کشمیری وحشیانہ فاشسٹ فوجی محاصرے میں ہیں،پانچ اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ تمام کشمیریوں کا سفیر بنے رہیں گے،
انہوں نے کہا کہ بھارت نے غیرقانونی قبضے سے کشمیریوں کی آوازیں دبانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کئی سال بعد میری حکومت نے مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ میں موثراندازمیں اٹھایا،ہم نے مودی سرکار کی ہندوتوا فاشسٹ بالادستی کو بے نقاب کیا، ہم نے پاکستان کے نئے سیاسی نقشے میں کشمیریوں کی امنگوں کا خیال رکھا ہےجب کہ ہم نئے سیاسی نقشے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق اپنے عزم پرقائم ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب میں یوم استحصال پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے،ان کشمیریوں کی آواز بنے رہیں گے جن کی آواز بھارت نے بند کرنے کی کوشش کی۔
Category: کشمیر

تمام کشمیریوں کا سفیر بنا رہوں گا۔ عمران خان کا ٹویٹ

شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟ ارشاد بھٹی
شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟اطلاعات کے مطابق معروف تجزیہ نگار، سینئرصحافی ارشاد بھٹی نے افواج پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے حق میں پیش کئے جانے والے ترانے پرتنیقید کرنے والوں کوبہت خوبصورت جواب دیا ہے
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہم تنقید بھی کرتے ہیں تو وہ بھی ملک دشمن قوتوں کی زبان بولتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جولوگ کہتے ہیں کہ پاک فوج نے جوترانہ پیش کیا ہے کیا اس ترانے سے کشمیرآزاد ہوگا تو وہ سن لیں
شکر ہے ہم علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے،ہم اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں،بھلا خواب دیکھنے سے بھی ملک حاصل ہوتے ہیں۔۔
— Irshad Bhatti (@IrshadBhatti336) August 4, 2020
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ پھرتو یہ حقیقت یہ ہے کہ :
شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟وہ مزید کہتے ہیں کہ ہمارا تو حال ہے کہ ہم اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں،بھلا خواب دیکھنے سے بھی ملک حاصل ہوتے ہیں۔۔

کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانی قوم آج یوم استحصال منائیگی
اسلام آباد:کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانی قوم آج یوم استحصال منائیگی،اطلاعات کے مطابق پاکستانی قوم غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آج یوم استحصال منائے گی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ سال پانچ اگست کو نریندر مودی کی حکومت نے بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ کشمیری عوام کیخلاف بھارت کے یکطرفہ، غیر قانونی اقدامات اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کیلئے متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں کشمیریوں کے نصب العین کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں میں ایک میل لمبی یکجہتی واک کا اہتمام کیا جائے گا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اسلام آباد میں واک کی قیادت کریں گے۔ واک کے شرکا بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائیں گے۔
ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی جائے گی۔ایک منٹ کیلئے ٹریفک روک جائے گی اور سائرن بجائے جائیں گے۔ ایک منٹ کی خاموشی ختم ہونے کے فوراً بعد ٹیلی ویژن چینلوں اور ریڈیو پر پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے چلائے جائیں گے۔
اسلام آباد سے حکومتی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز سینیٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں کشمیری عوام کو ان کی منصفانہ جدوجہد کے حصول کیلئے دی گئی قربانیوں پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔

ہیومن رائٹس واچ کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش ،بھارت ظلم کا سلسلے بند کردے
اسلام آباد : انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں ہٹانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔
تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پراظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں استحصال جاری ہے ، ایک سال بعدبھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیاں برقر ار ہیں۔
،ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیریوں کو آزادی، تعلیم اور صحت سہولتوں سےمحروم رکھا، انتظامیہ نے5اگست کواحتجاج روکنےکیلئےپابندیاں سخت کیں، وبا میں بھی کشمیریوں کوصحت کی بہترسہولت اور انٹرنیٹ تک رسائی نہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے کہا کہ ایک سال میں مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیروں کو جیلوں میں ڈالاگیا، کشمیری نوجوانوں کوبغیر کسی جرم کےگرفتار کیاگیا، کشمیری رہنما بھی قید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ایچ آرڈبلیو کے مطابق وادی میں مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنےکی کوشش کی گئی ، وادی میں آبادی کا تناسب بدلنےپرتنقیدکرنیوالوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ لاک ڈاؤن میں کشمیری معیشت کواربوں ڈالرکانقصان ہوا، جس کا اب تک ازالہ نہیں کیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں ہٹانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔۔ زبردستی جیلوں میں قید کشمیر یوں کو رہا کیا جائے، کشمیریوں کی آزادی اظہار کا تحفظ یقینی بنایا جائے، وادی میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کو فوری بحال کیا جائے

یوم استحصال کشمیر / چوہدری پرویز الہی کا جرات مندانہ اقدام /پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج طلب کرلیا
یوم استحصال کشمیر / چوہدری پرویز الہی کا جرات مندانہ اقدام /چوہدری پرویز الہی نے آج شام 7 بجے پنجاب اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کر لیا۔ چوہدری پرویز الہی نے کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لئے 7 اگست کی بجائے 5 اگست کو یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اجلاس طلب کرلیا۔جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اراکین شرکت کریں گے۔ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر ائینی اقدام کے خلاف کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے بلایا گیا ہے۔اجلاس میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جائے گی۔ اجلاس میں کشمیریوں کی آزادی کے لئے آواز بلند کی جائے گی

آج ہر کشمیری ”لے کر رہیں گے آزادی“ ۔۔۔ ”پاکستان سے رشتہ کیا؟ لاالہ اللہ“ کا ولولہ انگیز اعلان کررہا ہے۔ شہباز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے 5 اگست 2019 کے بھارت کے غاصبانہ غیرقانونی اقدامات کو ایک سال مکمل ہونے پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ عالمی برادری قاتل مودی پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی کشمیریوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔کشمیریوں نے پھر ثابت کیا کہ وہ اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی بڑی غلط فہمی میں ہے کہ چالبازیوں، فوجی جبرو استبداد سے کشمیریوں کو جھکا لے گا۔کشمیریوں نے عظیم قربانیوں اور شہادتوں سے اپنے نصب العین کی حفاظت کی ہے۔ برہان مظفروانی شہید سے لے کر ننھے سالار کے نانا تک کو ناحق گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔ آج ہر کشمیری ”لے کر رہیں گے آزادی“ ۔۔۔ ”پاکستان سے رشتہ کیا؟ لاالہ اللہ“ کا ولولہ انگیز اعلان کررہا ہے. اپنے شہداءکوپاکستانی پرچم میں دفن کرکے کشمیری ہر روز دنیا کو بتارہے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری دو قومی نظرئیے، پاکستان کی شہہ رگ اور تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ظلم کی سیاہ رات مٹ کر رہے گی ۔ اللہ رب زوالجلال کا وعدہ ہے کہ ’حق غالب اور باطل مٹ کر رہے گا۔“ شہبازشریف نے کہا کہ ہم سید علی گیلانی، یاسین ملک، آسیہ اندرابی، میر واعظ سمیت صعوبتیں برداشت کرنے والے کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ بے مثال بہادری پر اہل کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کشمیری قائدین کی بے مثال جدوجہد پرخصوصی اعزازات کا اعلان کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ چوہدری غلام عباس مرحوم سمیت آزادی کشمیر کے قائدین، رہنماوں، کارکنان اور شہداءکی کاوشوں، قربانیوں اور سرفروشیوں کااعلی ترین سطح پر اعتراف کیاجائے اورہر سال 5 اگست کو یہ اعزازات دئیے جائیں اس دن کو ”سید علی گیلانی ڈے“ کے طورپر منایاجائے۔ عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان آج کے ہٹلر اور اس کی نسل کشی پر آنکھیں بند نہ کریں۔ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا حق ہے کہ اپنے دفاع میں کسی بھی حد تک جائے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر اور فلسطین کے عوام کوجمہوری وقانونی حق نہ ملنا، امریکہ و مغرب کی جمہوریت کے ساتھ وابستگی کے محض لفاظی ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کا نعرہ ہے کہ کشمیری پاکستانی ہیں، پاکستان کشمیر یوں کا ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو بریفنگ
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو بریفنگ. وزیر خارجہ نے ملک کے معروف صحافیوں /اینکرز کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی قابض افواج کے مظالم اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا. مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تمام کشمیری 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے بھارت سرکار کے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی ہندتوا پالیسیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کیا۔ بھارت سرکار کی نفرت آمیز پالیسیوں نے، پورے خطے کے امن و امان کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ آج کابینہ اجلاس میں پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کی منظوری ایک بہت بڑا قدم ہے۔ یہ نیا سیاسی نقشہ پوری پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سیاسی نقشے کا اجراء قومی ضرورت کے پیشِ نظر کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے اقلیتوں کے حقوق کو جس طرح غصب کیا ہے آج پوری دنیا اسے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارت کے نفرت انگیز رویے کے خلاف ہندوستان کے اندر سے آوازیں آٹھ رہی ہیں۔ بھارت نے اگر 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات خیر سگالی کے تحت کیے ہوتے تو اسے کرفیو کی ضرورت پیش نہ آتی۔آج پوری دنیا کے سامنے بھارت سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
اجلاس میں ،وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود, وفاقی وزیر برائے صنعت حماد اظہر ،پارلیمانی سیکرٹری قانون بیرسٹر ملیکہ بخاری، سینیٹر مشاہد حسین سید، بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر انوار الحق کاکڑ، سینیٹر سرفراز احمد بگٹی، دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل( ر) امجد شعیب، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی، میجرجنرل( ر) اعجاز اعوان، بریگیڈیئر( ر) حارث نواز، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد، سابق سفیر عبدالباسط، معید پیرزادہ، ڈاکٹر ماریہ سلطان، صابر شاکر، کاشف عباسی، خاور گھمن، کامران شاہد، ندیم ملک، خالد عظیم، افتخار حسین شیرازی، رحمان اظہر، ارشاد عارف، نصراللہ ملک، ڈاکٹر فضہ اکبر، امیر عباس، عنیق نثار، عمران خان، تیمور شامل اور متین حیدر سمیت سینیر تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔
گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ، مشاہد اللہ خان
لاہور:گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ،اطلاعات کےمطابق ن لیگ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے کشمیراورکشمیریوں کی حمایت میں سب سے زیادہ تنقید کا سلسلہ جاری ہے ،
https://twitter.com/Mushahid_Ullahh/status/1290647563885051906
باغی ٹی وی کے مطابق پہلے احسن اقبال نے حکومت کے اس اقدام کو ناپسند کیا اب ن لیگ کے سینیٹرمشاہد اللہ خان نے کھل کرتنقید کی ہے اورحکومت کے کشمیریوں کےلیے اٹھائے گئے اقدامات پرخوب تنقید کرتے ہوئے اسے ناپسند کیا ہے
سینیٹرمشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ،

کشمیر پر بھارتی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے مال روڈ سمیت لاہور بھر میں تشہیر
لاہور:کشمیر پر بھارتی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پرگورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے مال روڈ سمیت لاہور بھر میں تشہیر،اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے لاہورشہرمیں جگہ جگہ بڑے بڑے پینا فلیکس لگا کراپنی محبت کا اظہارکیا ہے
باغی ٹی وی کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے لاہور میں جگہ جگہ بڑے بڑے چوکوں اورچوراہوں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارمحبت کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی مظالم کی مذمت بھی کی ہے
Bill boards , hangers by @GOPunjabPK at chairing cross Lahore in front of Punjab assembly #OneYearSiege pic.twitter.com/URKSm2yuuJ
— Taha طٰہٰ (@taahaa_) August 4, 2020
باغی ٹی وی کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری محکموں کو بھی ہدایت کی گئی ہےکہ وہ اپنے دفاترمیں اوراہم مقامات پرکشمیریوں پربھارتی مظالم کے خلاف اورکشمیریوں سے اپنی محبت اوروابستگی کا اظہارکریں
باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیرکی ذاتی حیثیت کوختم کرتے بھارت کے زیرقبضہ کرنے کے خلاف پاکستان کی حکومت کی طرف سے نہ صرف ملک بھرمیں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے بلکہ دنیا بھرمیں کشمیریوں سے محبت کا بھرپوراظہارکرنے کے لیے سفارتخانوں کوبھی متحرک کیا گیا ہے

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس. وزیر خارجہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی.
وزیرخارجہ نے کہا کہ تمام کشمیری گذشتہ سال، 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔پاکستان نے بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر بین الاقوامی فورم پر بے نقاب کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت سرکار کی ہندتوا پالیسی نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے خطے کے امن و امان کیلئے خطرات کا باعث ہے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں۔ آر ایس ایس کی سوچ پر گامزن بی جے پی کی سرکار نے، اپنی ہندتوا سوچ کے سبب، نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت جبر و استبداد اور قید و بند کی اذیتوں کے باوجود نہتے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا۔ آج پوری دنیا کے سامنے بھارت سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج دنیا بھارت کی منافرت پسند پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کی پوری قوم، تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی اور عسکری قیادت کشمیر کے معاملے پر یکساں موقف کی حامل ہیں۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت تک اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا جبتک انہیں ان کا جائز حق، حق خودارادیت، مل نہیں جاتا۔اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیرمین سینٹ صادق سنجرانی ،وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور، چیرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی ،علی محمد خان وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائ رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سینیٹر مشاہد حسین سید، فرخ حبیب، سینیٹر راجہ ظفر الحق، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، سینیٹر شیریں رحمان، سینیٹر مشتاق احمد، مولانا عبدالاکبر چترالی، ایمل ولی خان، سینیٹر ستارہ ایاز، سینیٹر انوار الحق کاکر، سینیٹر مرتضیٰ جاوید عباسی، خواجہ آصف و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔









