Baaghi TV

Category: کشمیر

  • وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو بریفنگ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو بریفنگ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو بریفنگ. وزیر خارجہ نے ملک کے معروف صحافیوں /اینکرز کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی قابض افواج کے مظالم اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا. مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تمام کشمیری 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے بھارت سرکار کے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی ہندتوا پالیسیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کیا۔ بھارت سرکار کی نفرت آمیز پالیسیوں نے، پورے خطے کے امن و امان کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ آج کابینہ اجلاس میں پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کی منظوری ایک بہت بڑا قدم ہے۔ یہ نیا سیاسی نقشہ پوری پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سیاسی نقشے کا اجراء قومی ضرورت کے پیشِ نظر کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے اقلیتوں کے حقوق کو جس طرح غصب کیا ہے آج پوری دنیا اسے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارت کے نفرت انگیز رویے کے خلاف ہندوستان کے اندر سے آوازیں آٹھ رہی ہیں۔ بھارت نے اگر 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات خیر سگالی کے تحت کیے ہوتے تو اسے کرفیو کی ضرورت پیش نہ آتی۔آج پوری دنیا کے سامنے بھارت سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
    اجلاس میں ،وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود, وفاقی وزیر برائے صنعت حماد اظہر ،پارلیمانی سیکرٹری قانون بیرسٹر ملیکہ بخاری، سینیٹر مشاہد حسین سید، بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر انوار الحق کاکڑ، سینیٹر سرفراز احمد بگٹی، دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل( ر) امجد شعیب، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی، میجرجنرل( ر) اعجاز اعوان، بریگیڈیئر( ر) حارث نواز، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد، سابق سفیر عبدالباسط، معید پیرزادہ، ڈاکٹر ماریہ سلطان، صابر شاکر، کاشف عباسی، خاور گھمن، کامران شاہد، ندیم ملک، خالد عظیم، افتخار حسین شیرازی، رحمان اظہر، ارشاد عارف، نصراللہ ملک، ڈاکٹر فضہ اکبر، امیر عباس، عنیق نثار، عمران خان، تیمور شامل اور متین حیدر سمیت سینیر تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔

  • گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا،  یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ، مشاہد اللہ خان

    گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ، مشاہد اللہ خان

    لاہور:گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ،اطلاعات کےمطابق ن لیگ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے کشمیراورکشمیریوں کی حمایت میں سب سے زیادہ تنقید کا سلسلہ جاری ہے ،

     

    https://twitter.com/Mushahid_Ullahh/status/1290647563885051906

    باغی ٹی وی کے مطابق پہلے احسن اقبال نے حکومت کے اس اقدام کو ناپسند کیا اب ن لیگ کے سینیٹرمشاہد اللہ خان نے کھل کرتنقید کی ہے اورحکومت کے کشمیریوں کےلیے اٹھائے گئے اقدامات پرخوب تنقید کرتے ہوئے اسے ناپسند کیا ہے

    سینیٹرمشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ گولی چلی نہ میزائل بس 200MB ڈیٹا لگا اور کشمیر پاکستان میں شامل ہو گیا، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے ویژن ،

  • کشمیر پر بھارتی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر  گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے مال روڈ سمیت لاہور بھر میں تشہیر

    کشمیر پر بھارتی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے مال روڈ سمیت لاہور بھر میں تشہیر

    لاہور:کشمیر پر بھارتی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پرگورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے مال روڈ سمیت لاہور بھر میں تشہیر،اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے لاہورشہرمیں جگہ جگہ بڑے بڑے پینا فلیکس لگا کراپنی محبت کا اظہارکیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے لاہور میں جگہ جگہ بڑے بڑے چوکوں اورچوراہوں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارمحبت کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی مظالم کی مذمت بھی کی ہے

     

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری محکموں کو بھی ہدایت کی گئی ہےکہ وہ اپنے دفاترمیں اوراہم مقامات پرکشمیریوں پربھارتی مظالم کے خلاف اورکشمیریوں سے اپنی محبت اوروابستگی کا اظہارکریں

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیرکی ذاتی حیثیت کوختم کرتے بھارت کے زیرقبضہ کرنے کے خلاف پاکستان کی حکومت کی طرف سے نہ صرف ملک بھرمیں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے بلکہ دنیا بھرمیں کشمیریوں سے محبت کا بھرپوراظہارکرنے کے لیے سفارتخانوں کوبھی متحرک کیا گیا ہے

  • وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں آل پارٹیز کانفرنس. وزیر خارجہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی.
    وزیرخارجہ نے کہا کہ تمام کشمیری گذشتہ سال، 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔پاکستان نے بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر بین الاقوامی فورم پر بے نقاب کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت سرکار کی ہندتوا پالیسی نہ صرف کشمیریوں بلکہ پورے خطے کے امن و امان کیلئے خطرات کا باعث ہے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے وزیر خارجہ نے کہا کہ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متحد ہیں۔ آر ایس ایس کی سوچ پر گامزن بی جے پی کی سرکار نے، اپنی ہندتوا سوچ کے سبب، نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت جبر و استبداد اور قید و بند کی اذیتوں کے باوجود نہتے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا۔ آج پوری دنیا کے سامنے بھارت سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج دنیا بھارت کی منافرت پسند پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کی پوری قوم، تمام سیاسی جماعتیں، سیاسی اور عسکری قیادت کشمیر کے معاملے پر یکساں موقف کی حامل ہیں۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت تک اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا جبتک انہیں ان کا جائز حق، حق خودارادیت، مل نہیں جاتا۔اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیرمین سینٹ صادق سنجرانی ،وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور، چیرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی ،علی محمد خان وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائ رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، سینیٹر مشاہد حسین سید، فرخ حبیب، سینیٹر راجہ ظفر الحق، راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، سینیٹر شیریں رحمان، سینیٹر مشتاق احمد، مولانا عبدالاکبر چترالی، ایمل ولی خان، سینیٹر ستارہ ایاز، سینیٹر انوار الحق کاکر، سینیٹر مرتضیٰ جاوید عباسی، خواجہ آصف و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

  • مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضےکو ایک برس مکمل ہونے کے حوالے سے پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کر دیا

    مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضےکو ایک برس مکمل ہونے کے حوالے سے پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کر دیا

    5 اگست کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر قبضے، کریک ڈاؤن، قتل عام اور محاصرے کو ایک برس مکمل ہونے کے حوالے سے پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر مواصلات مراد سعید نے یادگاری ڈاک ٹکٹ کی رونمائی کی۔ شبلی فراز نے کہا کہ ڈاک ٹکٹ کے اجرا کا مقصد دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنا ہے۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں یادگاری ٹکٹ کی رونمائی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں شبلی فراز نے کہا کہ کہ یادگاری ڈاک ٹکٹ دنیا بھر میں گھومے گا، اہم دفاتر، سفارت خانوں میں جائے گا اور کشمیر کے مظالم کی عکاسی کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں 5 اگست کو یوم سیاہ ویوم استحصال کے طور پر منایا جائے گا، اس روز بھارتی مظالم کی خلاف کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کہ کہ اپنے گھروں پر قومی اور کشمیری پرچم بلند کریں تاکہ کشمیریوں کو احساس ہو کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیر کاز کو اس کے انجام تک پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔اس موقع پر وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ بھارت کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مقبوضہ کشمیر پر ظالمانہ محاصرے کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے، اسی لیے آج ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا۔ٹکٹ کے خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ ڈاک ٹکٹ میں زنجیر کا مطلب پورے کشمیر کو محاصرے سے دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ اس کے
    علاوہ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے بشیر احمد کی ان کے نواسے کےسامنے شہادت کی عکاسی کی گئی ہے جبکہ بھارت کے باوردی دہشتگردوں کو بھی اس ٹکٹ میں دکھایا گیا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ یہ ٹکٹ جہاں پہنچے گا، بھارتی مظالم کو بے نقاب کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے خود کو کشمیریوں کا سفیر ثابت کر دیا ہے

  • وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں 5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، وفاقی سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین درانی اور اعلی عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے اپنے دورہ ء لائن آف کنٹرول چری کوٹ سیکٹر اور مظفر آباد کے حوالے سے شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سمیت کشمیر کی سیاسی قیادت سے ہونیوالی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ لاین آف کنٹرول پر بھارتی فوج نہتے اور معصوم شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ پوری کشمیری قوم بھارت کے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکی ہے اور5 اگست کو متحد ہو کر ،مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم استحصال منائے گی مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے جب تک ان کا حق خود ارادیت انہیں حاصل نہیں ہو جاتا۔ اجلاس میں یوم استحصال سے متعلق، احتجاجی لائحہ ء عمل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت بھی کی گئی۔

  • بھارت کی طرف سےایل او سی پرپاکستانی بارڈر کے ساتھ آرمی میں موجود خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کی تعیناتی

    بھارت کی طرف سےایل او سی پرپاکستانی بارڈر کے ساتھ آرمی میں موجود خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کی تعیناتی

    بھارت نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی بارڈر کے ساتھ آرمی میں موجود خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کو تعینات کر دیا ہے۔ بھارتی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتی فوج کی خواتین کو ایل او سی پر ڈیوٹی دینے کے لئے احکامات جاری کئے گیے ہیں۔ان خواتین جوانوں کودس ہزار فٹ کی بلندی پر ٹنگدھر سیکٹر میں سادھنا ٹاپ پر ڈیوٹی دی گئی ہے اور ان کا تعلق آسام رائفلز سے ہے۔ خواتین فوجیوں کے اس گروپ کی قیادت کیپٹن گرسمرن کور کر رہی ہے۔ 

  • اگلے دو دن کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا

    اگلے دو دن کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا

    باغی ٹی وی : مودی سرکار نے اگلے دو دن کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 363 روز سے جاری بھارتی فوج کی جارحیت نے عید کی خوشیاں بھی پھیکی کردیں۔ وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کردیاگیا۔ جگہ جگہ ناکہ بندیاں، مساجد میں نمازِ عید ادا کرنے کی بھی اجاز ت نہ دی گئی۔اب جبکہ بھارتی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر ایک سال مکمل ہونے والا ہے اس موقع پر کرفیو لگا دیا گیا ہے کہ تاکہ کشمیریوں کی آواز اور احتجاج کو روکا جا سکے .

    قابض بھارتی فوج نے 5 اگست 2019 سے وادی میں لاک ڈاون کررکھا ہے اور کشمیرکی زمین کشمیریوں پر ہی تنگ کردی ہے، کل عیدالاضحیٰ کے موقع پر مساجد کو تالے لگا دیے گئے اور مساجد میں نمازعید بھی ادا کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ وادی کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ سڑکوں پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری کے علاوہ خاردارتاریں بھی لگا کر راستے بند کیے گئے۔

    دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس نے گزشتہ ماہ وادی میں ہونیوالے مظالم کے حوالے سے بھی نئے اعدادوشمار جاری کردیے، جن کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشنز کی آڑ میں چوبیس کشمیریوں کو شہید کیا۔ مختلف کارروائیوں میں 59 کشمیری زخمی بھی ہوئے، جنہیں فائرنگ اور پیلٹ گنز کے ذریعے زخمی کیا گیا۔ کشمیریوں کے گیارہ گھروں کو بھی جلا دیا گیا نیز 98 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ۔ بھارتی فوج نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار بھی کی

  • شہریار خان آفریدی کا مظفرآباد آزاد کشمیر میں مرکزی عید گاہ میں عوام سے خطاب

    شہریار خان آفریدی کا مظفرآباد آزاد کشمیر میں مرکزی عید گاہ میں عوام سے خطاب

    وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر عید کے موقع پر کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرنے یہاں پہنچا ہوں. چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کا مظفرآباد آزاد کشمیر میں مرکزی عید گاہ میں عوام سے خطاب۔ میرے ہمراہ کشمیر کمیٹی کے اراکین بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے پہنچے ہیں.انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے حقیقی سفیر کی حیثیت سے دنیا بھر میں اہم فورمز پر کشمیر کی آزادی کا مقدمہ لڑرہے ہیں جس کے لئےہم ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں. شہریار خان آفریدی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے. کشمیر کی آزادی تک کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے۔ فاشسٹ مودی حکومت جان لےکشمیریوں کی جدوجہد میں انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں. شہریار خان آفریدی نے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک کشمیر کا مقدمہ ہر فورم اور ہر میدان میں لڑینگے۔ دشمن جان لے. کشمیر کاز کیلئے پاکستان کے عوام، سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج سمیت تمام سٹیک ہولڈرز متحد، یکسو اور یک جان ہیں. بعد میں
    شہریار آفریدی نے وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر اور صدر سردار مسعود خان کے ہمراہ آزادی کشمیر کیلئے نکالی گئی ریلی کی قیادت بھی کی.

  • بدلتے رخ ہواؤں کے ،تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    بدلتے رخ ہواؤں کے ،تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے تحریر:محمد نعیم شہزاد

    بدلتے رخ ہواؤں کے
    (تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے)

    محمد نعیم شہزاد

    اقتدار اور حاکمیت ہر کسی کی مرغوب اور من پسند شے ہے۔ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور اس کی روش ہمیشہ ایک طرح پر نہیں رہتی۔ ایک وقت تھا کہ جب طاقتور قومیں کمزور قوموں پر تلوار کے زور پر قابض ہو جایا کرتی تھیں اور اپنی ریاست اور سلطنت کو طویل و عریض کرتی چلی جاتی تھیں۔ طاقت کے اس زور اور نشے نے دھرتی کو خون سے رنگین کر دیا اور انسانی استخوان ٹھوکروں کی نظر ہوئے۔ انسان انسانیت کو بھول بیٹھا اور ہوس اقتدار اس کو اپنے سحر میں لے کر جنونی بنا چکی تھی۔ تہذیبوں کی تبدیلی اور گردشِ زمانہ نے اس روش کو تھوڑا تبدیل کیا اور مہذب دنیا اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں سمٹ گئی مگر اب طاقت کے ساتھ مکر و فریب اور دجالیت عام ہوئی۔ دوسروں کو حقوق دینے کے نام پر ان کی حق تلفی کی گئی اور باسہولت زندگی کے نام پر زندگی سے محروم کر دیا جانے لگا۔ امن عامہ کی خاطر بد امنی کو اختیار کیا گیا اور اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کیے گئے۔ اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر واویلا کرنے کو جارحیت اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا۔ امن و امان کے عالمی ادارے قیام میں آ گئے مگر امن ناپید رہا۔ حتی کہ مظلوم کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ مظلوم کی امداد کا مطالبہ کرنے والی ریاست کو پابندیوں اور عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں زمانہ ایک بار پھر کسی نئے لائحہ عمل کا متقاضی تھا۔

    اس موقع پر سابقہ روش پر قائم رہنا کیونکر کارگر ہوتا جبکہ مشاہدہ ہے کہ گزشتہ پون صدی سے اس طرز عمل نے مظلوم کو ظلم سے نجات نہ دلائی۔ مگر ہر نئی چیز ذہن فوراً قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھی بڑے بڑے مفکر اور قومیت کے حامی تحریک پاکستان کے مخالف بن گئے اور بعض تو آج بھی پاکستان کے قیام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ اس موقع پر عالمگیر اصول "آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے” اطمینان قلب کا باعث بنتا ہے۔ اور روح کو تسکین ملتی ہے اور اپنے عمل پر حقیقی خوشی نصیب ہوتی ہے۔

    بھارت کی طرف سے نئی قانونی ترامیم کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک برس مکمل ہونے کو ہے۔ اس لاک ڈاؤن اور ترمیم کے جہاں اور بہت سے اثرات سامنے آئے وہیں حکومت پاکستان نے پر امن احتجاج کی روش اپنائی جس پر بہت سے لوگ معترض ہوئے۔ ان لوگوں سے فقط اتنا عرض ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے مگر ایک ذمہ دار ریاست بھی ہے۔ اس قدر جارحیت پسندانہ اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ خیال کیے جاتے ہیں َاور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوں گے۔ ہر فیصلہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر کرنا چاہیے اور اپنے اداروں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے قدم مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نا کہ بلا وجہ اختلاف کر کے جگ ہنسائی اور رسوائی کا باعث بننا چاہیے۔ ان سب گزارشات کا محرک آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نیا نغمہ "جا چھوڑ دے میری وادی” اور اس پر آنے والے اعتراضات ہیں۔ پاک فوج ایک با اعتماد، ذمہ دار اور باوقار پروفیشنل ادارہ ہے۔ یقیناً ادارے کی پالیسیاں اور عمل ہماری کج فہم سوچ سے کئی گنا اچھا اور متوازن ہے۔ آج کے دور میں میڈیا ایک بڑے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دشمن کو زچ کرنے اور اپنی برتری ظاہر کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ہمسایہ ملک کی "بالا کوٹ سٹرائک” کی بات ہو یا "گھس کر مارنے” کا دعویٰ ہر طرف میڈیا کارفرما نظر آتا ہے۔ تو ایسے ایک وقت پر جب بھارت کا مکروہ چہرہ ساری دنیا پر عیاں ہو چکا اور اقوام متحدہ سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ہمارے ادارے کی طرف سے بھارتی جارحیت پر ایک نغمہ جاری کرنا کس طرح قابل اعتراض ہے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی سرگرمیوں پر اعتراض اگر ہماری پالیسیوں کے درست ہونے کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے۔ لہٰذا پروپیگنڈہ کا شکار ہونے سے بچیں، حالات کی نزاکت کا ادراک کریں اور اپنے اداروں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور جارحیت پسند دشمن کو یک زبان جواب دیں "جا چھوڑ دے میری وادی”