Baaghi TV

Category: کشمیر

  • عہد ساز شخصیت آزادی کشمیر کے روح‌ رواں سردار ابراہیم کی آج  71 ویں برسی

    عہد ساز شخصیت آزادی کشمیر کے روح‌ رواں سردار ابراہیم کی آج 71 ویں برسی

    عہد ساز شخصیت آزادی کشمیر کے روح‌ رواں سردار ابراہیم کی آج 71 ویں برسی

    باغی ٹی وی :آج یعنی31 جولائی کو غازیٔ ملت سردارمحمدابراہیم خان صاحب کی سترھویں برسی ہے۔سردار صاحب آزاد کشمیر کے بانی اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے قافلہ سالار تھے۔آپ آزادکشمیر کے پہلے بانی صدرتھے اورمجموعی طوپرچار دفعہ صدارت کے عہدے پر براجمان ہوئے۔ آپ 31 جولائی 2003ء کواٹھاسی سال کی عمرمیں اہلِ کشمیر کو داغِ مفارقت دے کر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ آپ نے ایک نقطۂ نظر، ایک دستورِ حیات، ایک اصولِ زندگی اور ایک نصب العین کی خاطر اپنی زندگی کھپادی ۔آپ کا مقصد ِ حیات اور دستورِ زیست کیا تھا؟ مسلمانانِ کشمیر کو ہندو بنیے کی غلامی سے آزادی دلا کرانکی امنگوں کیمطابق کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا۔الحاقِ پاکستان آپ کا یقین ِ محکم تھا جس میں کسی طرح کا کوئی احتمال کبھی نہیں رہا.
    آپ31جولائی 2003ءہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگئے تھے۔ آپ کی ہر سال کشمیری قوم برسی مناتی ہے اور آپ کی خدمات کے حوالے سے خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر میں آپ کی خدمات تاریخی ہیں اور تاریخ کشمیر کا سنہری حصہ ہے، آپ کی خدمات اور حالات زندگی کا جب جائزہ لیتے ہیں تو آپ کی شخصیت میں منفرد خصوصیات نظر آتی ہیں۔ غیر معمولی صلاحیتوں سے اللہ نے نواز رکھا تھا۔ آپ 22اپریل1915ءگاﺅں ہورنہ میرہ تھے ناکوٹ راولا کوٹ میں پیدا ہوئے والد سردار محمد عالم خان علاقے کے نامور شخص تھے۔ آپ کی پانچ بہنیں اور تین بھائی تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مڈل تک راولا کوٹ میٹرک وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول پونچھ اور گریجوایشن اسلامیہ کالج لاہور سے کی۔ حصول تعلیم کے دوران ہر کلاس اور ہر تعلیمی ادارے میں قابلیت کی بنیاد پر آپ کو وطیفہ ملتا رہا۔1937ءمیں اسلامیہ کالج لاہور گریجوایشن سطح پر قابلیت کی بنیاد پر کام ماہانہ 25روپے وظیفہ دیتا تھا اسی طرح پونچھ کے ہائی سکول میں بھی وظیفہ ملتا تھا۔ لاہور مرحوم محمد حبیب خان جنرل رحیم خان کے بھائی کلاس فیلو تھے۔1938ءواعلیٰ تعلیم کیلئے آپ برطانیہ روانہ ہوگئے۔ ایل ایل بی کا امتحان لندن یونیورسٹی اور باریٹ لاءکی ڈگری اعلیٰ نمبروں کے ساتھ لنکن اِن سے حاصل کی۔1942ءواپس وطن آئے قابلیت کی بنیاد پر ڈوگرہ حکومت نے آپ کو پہلے پراسیکوٹر میر پور میں پھر ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا۔ اسی دوران آپ کی شادی راولا کوٹ کی ایک مشہور مذہبی شخصیت حاجی محمد قاسم خان کی بیٹی سے ہوئی۔ چودھری غلام عباس اور دیگر ہمدرد رفقاءکے مشورے پر آپ نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیدیا۔ تحریک آزادی کشمیر میں سرگرم ہوئے اور 1946ءمیں میدان سیاست میں آ گئے۔ بابائے پونچھ نے اپنی جگہ کشمیر اسمبلی کی نشست پونچھ باغ وسدھنوتی سے بھاری اکثریت سے فروری 1947ءمیں ممبر اسمبلی منتخب کرا لیا۔ اس وقت آپ کی عمر31سال تھی.

    آپ کو کلام اقبال سے بڑی دلچسپی تھی۔ عاشق رسول تھے، وفات سے 15سال پہلے اپنی قبر بنوائی تھی اور روزانہ اپنی قبر جا کر دیکھتے تھے۔ آپ نے مسلم کانفرنس، نظام اسلام پارٹی، آزاد مسلم کانفرنس، پاکستان پیپلزپارٹی اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی سے وابستہ رہ کر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ آپ نے زندگی میں تین مشہور کتب تحریر فرمائیں ان میں متاع زندگی، کشمیر کی جنگ آزادی، اور کشمیر ساگا شامل ہیں، آپ وطن عزیز میں پارلیمانی جمہوری نظام کی کامیابی میں سرگرم عمل رہے، فوجی آمریت کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔ میں1977ءمیں ڈگری کالج باغ بی اے کا طالب علم تھا، اس دور سے وفات تک غازی ملت کے ساتھ تعلق اور رابطہ رہا، مرحوم سردار صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کے یادگار لمحات ناقابل فراموش ہیں۔
    آپ صرف گفتار کے غازی نہ تھے بلکہ لذتِ کردار سے آشنا تھے۔ چنانچہ آپ نے برصغیر کے مستقبل کے نقشے کو سامنے رکھتے ہوئے جون 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف بھرپور تحریک کاآغاز کیا ۔ اس وقت کشمیری قیادت کی اکثریت پابندِ سلاسل تھی۔ آزادی کا نام لینے والوں کے ہونٹ سی دیے جاتے، بولنے والوں کی زبانیں کھینچ لی جاتیں اور لکھنے والوں کے ہاتھ قلم کر دیے جاتے ۔ سیاسی قیدیوں سے بدترین سلوک روا رکھاجاتا۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میںجب مسلمانوں کو اجتماع کے لیے کوئی جگہ میسر نہ تھی تو سری نگر میںسردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پرمسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور ہوئی جو تاریخ کا ایک سنہراباب ہے۔

  • کشتیوں پر چلنے والا خوبصورت سبزی بازار

    کشتیوں پر چلنے والا خوبصورت سبزی بازار

    آپ نے ترقی یافتہ ملکوں میں موجود بڑے بڑے شاپنگ مالز کے متعلق تو پڑھا ہو گا جہاں ضروریات زندگی کے علاوہ ہر قسم کا سامان تعیش بھی موجود ہوتا ہے۔ ان شاپنگ مالز میں دکانیں،ہوٹل، ریسٹورنٹ، بینک، سینما گھر، پلے لینڈز، کلب، بار، سوئمنگ پول غرض تفریح کا ہر سامان موجود ہوتا ہے۔

     

     

    یہ توترقی یافتہ ممالک کی صورت حال ہےمگرآج آپ کوترقی پزیردنیا کے ایسے خطے کی سیرکرواتے ہیں جوبھارت کے زیرقبضہ ہے اوربھارت نے اس وادی کے حسن کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے لیکن اس کے باوجود جو اس کا حسن بچا ہےوہ دنیا کے حسن سے کہیں زیادہ حیسن اورابھی تک بہتر ہے ، یہ ہے وادی کشمیرجہاں زندگی کا یہ بھی ایک گوشہ ہے کہ جہاں کشتیوں‌پربازارہیں اوردنیا بھرسے سیاح یہاں آکرخریدوفروخت کرتے ہیں

    یہ سری نگر کا مشہور سبزی بازار جو ڈل جھیل میں کشتیوں پر چلتا رہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کشمیر کے اس علاقے سے آنے جانے اور دیگر علاقوں سے سامان خرید کر لانے یا بیچنے کے لیے کشتیاں ہی استعمال ہوتی ہیں۔ انہی کشتیوں پر باراتیں بھی جاتی ہیں اور بچے بھی سکول جانے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ جب سفر ہی سمندر میں کرنا ہو تو پھر کشتیوں کی اہمیت سے انکار کیسا۔

  • کشمیری سکول بوائے کی بھارتی فوجی ٹارچر سیل میں گزری مصائب کی طویل رات کی آپ بیتی

    کشمیری سکول بوائے کی بھارتی فوجی ٹارچر سیل میں گزری مصائب کی طویل رات کی آپ بیتی

    سری نگر:کشمیری سکول بوائے کی بھارتی فوجی ٹارچر سیل میں گزری مصائب کی طویل رات کی آپ بیتی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کے مظالم اس قدرتباہ کن اورزندگیوں پراثرات مرتب کرنے والے ہیں‌ کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی مظالم کی گھڑیاں بار بار یاد آتی ہیں

    https://twitter.com/thymaK/status/1288529809447026689

    ذرائع کے مطابق ایسی ہی ایک کہانی ایک کشمیری طالب علم کی ہے جو1993 میں ہونے والے بھارتی فوج کے ایک ظالمانہ آپریشن کویاد کرکے کانپ اٹھتا ہے ،

    اس کشمیری طالب علم کا کہنا ہے کہ سال 1993 میں جب میں ابھی بھی لڑکا تھا ، بی ایس ایف نے ہمارے علاقے مہاراج گنج ، سری نگر سے گھیر لیا۔

    یہ کشمیری طالب اپنے اوپرہونےوالے اس ظلم کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہےکہ ہمیشہ کی طرح لاؤڈ اسپیکر پر میر واعظ منزیل راجوری کدال کے قریب سوکالی پورہ میں جمع ہونے کا اعلان کیا گیا۔ میں بولی تھا ، اسکول کی وردی پہنی ہوئی تھی اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ کیا خوفناک تجربہ ہے

  • بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مین اسٹریم قیادت کو تباہ کرنے میں مصروف

    بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مین اسٹریم قیادت کو تباہ کرنے میں مصروف

    بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مین اسٹریم قیادت کو تباہ کرنے میں مصروف

    پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے کہا ہے کہ ‘پاکستان بزرگ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کو اعلی سویلین ایوارڈ دینے کا ارادہ رکھتا ہے اوربھارتی حکومت جموں و کشمیر میں مین اسٹریم قیادت کو بدنام اور تباہ کرنے میں مصروف ہے’۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ ‘جموں و کشمیر میں مین اسٹریم قیادت ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے 70 سال تک بھارت کے لئے جدوجہد کی ہے’۔یہ وہ مین اسٹریم قیادت ہے جس نے 70 سال تک بھارت کے لئے جدوجہد کی ہے۔ مین اسٹریم میں پائی جانے والی اختلاف رائے کی آواز کو ختم کرنے کی اجتماعی کوششیں قابل ملامت ہیں’۔

    پاکستانی سینیٹ یا پارلیمان کے ایوان بالا میں معمر حریت رہنما سید علی گیلانی کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ ‘نشان پاکستان’ سے نوازنے کے لئے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور ہوئی ہے۔

    قرار داد میں کہا گیا ہے کہ سید علی گیلانی کو طویل خدمات اور قربانیوں پر نشان پاکستان سے نوازا جائے اور ان کی جدوجہد کو قومی و صوبائی تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاوس کے قریب بننے والی یونیورسٹی کو سید علی گیلانی کے نام سے منسوب کیا جائے۔

  • "پہلے مودی دہشت گرد تھا اب کیوں نہیں” ریلیز کر دیا گیا،

    "پہلے مودی دہشت گرد تھا اب کیوں نہیں” ریلیز کر دیا گیا،

    لاہور:”پہلے مودی دہشت گرد تھا اب کیوں نہیں” ریلیز کر دیا گیا، ،اطلاعات کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی معروف گلوکار راجہ ریپسٹار کا نیا گیت "پہلے مودی دہشت گرد تھا اب کیوں نہیں” ریلیز کر دیا گیا،

    گلوکار نے ہمارے نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے یہ گیت سوتی ہوئی دنیا کو جگانے کے لئے بنایا جو لاکھوں کشمیری اور بھارت میں موجود مسلمانوں کے قتل پر خاموش ہے اور صرف تماشائی بنی ہوئی ہے، گلوکار کا کہنا تھا کہ بھارت کا وزیراعظم نریند مودی وہی شخص ہے جسے 2002ء میں دنیا نے دہشت گرد تسلیم کیا اور امریکہ نے اس کے داخلے پر پابندی بھی عائد کر دی تھی،

    راجہ ریپسٹار نے مزید کہا کہ آج وہی شخص جو گجرات کا وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے لاکھوں لوگوں کا قاتل اور دہشت گرد تھا اب جب وزیراعظم ہے تو دنیا اس کا ساتھ بھی دے رہی ہے اور دعوت بھی دی جا رہی ہے، وہی اقوامِ متحدہ اسے خطاب کی اجازت دے رہا ہے، وہی امریکہ اسے دعوت پر بلا کر ساری دنیا کے سامنے گلے لگا رہا ہے، میرے سوال صرف یہ ہے کہ جو پہلے دہشت گرد تھا آج کیوں نہیں،

     

    https://youtu.be/M0AA7VtnDSc

    گلوکار نے مزید بتایا کہ نریندر مودی بھارتی دہشت گرد تنظیم "آر ایس ایس” کا کارکن ہے جو گاندھی کے قاتل ہیں اور اس مشن پر ہیں کہ بھارت میں صرف ہندو ہی رہنے کا حق رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت میں موجود اقلیتوں پر سرعام ظلم کر رہا ہے، اور دکھ کی بات ہے کہ تاجروں کے علاوہ کچھ عرب ممالک بھی اس دہشت گرد تنظیم کی فنڈنگ کر رہے ہیں،

    گلوکار نے کہا کہ میں نے اپنے گیت میں سب کچھ کھل کر بیان کیا ہے، میں بولنے کی طاقت رکھتا ہوں اس لئے حق بات کہتا رہوں گا اور مظلوموں کی آواز بلند کرتا رہوں گا، گلوکار نے اپنی گفتگو کے اختتام پر پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا اور نمائندہ کو دعا دی کہ اللہ ہم سب سے کام لے اور ہمیشہ حق آواز بلند کرنے والا جذبہ عطاء کرے آمین.

  • بھارتی فوج کی طرف سے شاردہ آثار قدیمہ سائٹ کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، صدر آزاد کشمیر

    بھارتی فوج کی طرف سے شاردہ آثار قدیمہ سائٹ کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، صدر آزاد کشمیر

    آزا د جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی قابض فوج کی طرف سے وادی نیلم میں شہری آبادی اور شاردہ کی آثار قدیمہ سائٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا کہ اُس کی بزدلانہ اقدامات اور جنگ بندی معائدے کی مسلسل خلاف ورزی سے خطہ میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو گا جس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔ بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو وادی نیلم میں ایک گرلز سکول پر مارٹر گولے داغے جس سے سکول کی عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جبکہ ایل او سی کے پار سے بھارتی قابض فوج کی گولہ باری سے ایک رہائش گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ سترہ رہائشی مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی قابض نے شاردہ پٹھ میں ہندو مذہب کی قدیم یونیورسٹی کی سائٹ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جو نہایت قابل مذمت عمل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قبل پیر کے روز سماہنی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کی طرف سے بچھائی گئی ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک نوجوان شہید ہوا تھا۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی قابض کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کو بھارت کی ایک سوچھی سمجھی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ان اشتعال انگیز کاررائیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کے غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آزادی اور حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں جو حق و انصاف پر مبنی ہے اور بھارت کا جبر استبداد اور ظلم اُنہیں اس عظیم جدوجہد سے کبھی نہیں روک سکتا ہے۔ اُنہوں نے بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کی طرف سے بھارتی فوج کو ریاستی حکومت کے این او سی کے بغیر چھاونیاں اور فوجی مراکز تعمیر کرنے کے قانون میں تبدیلی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیلی طرز کی مسلم کش پالیسی قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی اس چال کے خلاف بھرپور احتجاج کریں اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری میں تین کشمیریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ قبل ازیں اقبال انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہارون اسلم کو ایک آن لائن انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کے بعد شملہ معائدہ ایک خالی خول بن کر رہ گیا ہے کیونکہ بھارت یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اُس نے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں جو اقدامات اُٹھائے وہ اُس کا اندرونی معاملہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر اسرائیلی اور گزشتہ صدی کے نازی جرمنی کے ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے اور اب مودی حکومت نے جموں و کشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ حق دیدیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جس علاقے کو چا ہے اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر کشمیریوں کی زمین پر قبضہ کر سکتی ہے۔

  • 29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا

    29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا

    آزاد کشمیر میں عیدالاضحیٰ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔اس سلسلے میں محکمہ داخلہ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد کشمیر بھر میں لاک ڈاؤن کا اطلاق 29 جولائی رات 12 بجے سے 2 اگست کی رات 12 بجے تک ہوگا۔ لاک ڈاؤن کے دوران سیاحوں کی آمد و رفت ختم اور سیاحتی مقامات، پبلک پارکس مکمل بند رہیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کو زمینیں‌اونے پونے فروخت کرنے کا انکشاف

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کو زمینیں‌اونے پونے فروخت کرنے کا انکشاف

    سری نگر : مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کوزمینیں‌اونے پونے فروخت کرنے کا انکشاف : بھارتی سیکیورٹی فورسز کیلئے مقبوضہ کشیر میں زمین کا حصول آسان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کو زمین کے حصول کے لیے درکار 1971 کے سرکلر کے مطابق نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی شرط ختم کردی۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نئے حکم نامے کے تحت بھارتی فوج، بارڈر سیکیورٹی فورسز، پیراملٹری فورسز اور اسی طرح کے دیگر اداروں کے عہدیدار محکمہ داخلہ کی این او سی کے بغیر زمین حاصل کرسکیں گے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی علاقہ قرار دیے جانے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمین کے حوالے سے 2013 کے قانون میں توسیع ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرنے کا قانون منظور کرتے ہوئے کشمیر کو تین اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔

    بھارتی حکومت کے نئے حکم نامے کے مطابق وفاقی قوانین کی توسیع کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کو ریاست کے محکمہ داخلہ سے درکار این او سی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے رواں برس مئی میں ہی ڈومیسائل کا متنازع قانون منظور کیا تھا۔

    بھارتیہ جنتا پارتی (بی جے پی) حکومت نے غیر مقامی افراد کو کشمیر کے مستقل شہریت حاصل کرنے کا قانون بنایا تھا اور غیر کشمیری بھی باآسانی زمینیں خرید سکیں گے۔

    سری نگر کے انسانی حقوق کے رہنما خرم پرویز نے متنازع ڈومیسائل قانون کے حوالے سے کہا تھا کہ اس قانون کے تحت بھارت کی دیگر ریاستوں کے افراد اور ہزاروں مہاجرین زمیں خریدنے کے اہل ہوجائیں گے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمان آبادی کی اکثریت ہے جو پورے کشمیر کا 68 اعشاریہ 31 فیصد ہے، ہندوؤں کی تعداد 28.43 فیصد جبکہ دیگر کی تعداد 12.5 فیصد ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 18 مئی سے اب تک 25 ہزار سے زائد افراد کو مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا ہے جو بھارت فوج میں خدمات انجام دینے والے دیگر ریاستوں کے شہری ہیں۔

    اسی حوالے سے کشمیری صحافی ہارون کا کہنا تھا کہ ہماری ثقافتی، سماجی پہچان اور زبان شدید خطرے میں ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 24 جولائی کو ریاست کے 35 مختلف مقامات میں ایک ہزار 205 ایکڑ ریاستی زمین پر صنعتیں لگانے کی منظوری دی ہے۔

    بھارت کے متنازع ڈومیسائل قانون کے تحت وہ شخص جو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی جانب سے بنائے گئے وفاقی اکائی میں 15 سال سے رہ رہا ہے یا 7 سال سے پڑھ رہا ہے یا مقبوضہ کشمیر میں بنے تعلیمی ادارے میں 10ویں/12ویں جماعت کے امتحانات دیے ہیں، وہ بھی ڈومیسائل سرٹفکیٹ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

    اس کے علاوہ وہ افراد جو کمشنر کے پاس مہاجر کے طور پر رجسٹرڈ ہیں یا جو وفاقی حکومت کے عہدیدار کی اولاد ہیں، تمام حاضر سروسز افسر، مرکزی بینک کے حکام، قانونی اداروں کے حکام، مرکزی یونیورسٹیز کے حکام جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں 10سال اپنی خدمات دی ہوں وہ ڈومیسائل سرٹفکیٹ کے اہل ہوں گے۔

    یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370 ) کو ختم کردیا اور جموں کشمیر کی تنظیمِ نو سے متعلق نیا قانون منظور کرلیا تھا۔

    بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہزاروں افراد کو قید کرکے، ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرکے خطے کو لاک ڈاؤن کردیا تھا اور ساتھ ہی مواصلاتی روابط بھی معطل کردیے تھے۔

    بھارتی حکومت نے ایک کروڑ 25 لاکھ افراد پر مشتمل ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو الگ اور لداخ کو الگ اکائی بنایا تھا۔

    بھارت کے 5 اگست کے اقدام میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی نئی وفاقی اکائی کی ایک منتخب قانون ساز اسمبلی ہوگی، جس کی مدت 5 برس ہوگی، اس کی سربراہی بھارت کی جانب سے مقرر کیے گئے لیفٹیننٹ گورنر کریں گے لیکن زیادہ اختیارات نئی دہلی کے پاس موجود ہوں گے۔

    دوسری جانب لداخ وفاقی حکومت کے براہ راست زیر انتظام ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی اور اسے ایک لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلایا جائے گا۔

    لداخ کا علاقہ ثقافتی، مذہبی اور قومیت کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر سے مختلف ہے جہاں کی اکثریت ایک طویل عرصے سے اپنی سرزمین کو ایک علیحدہ وفاقی اکائی کے طور پر تسلیم کروانا چاہتی ہے۔

    علاوہ ازیں کارگل سمیت لداخ کے 2 اضلاع کو پہلے ہی ‘ہل کونسل’ کے ذریعے چلایا جارہا تھا، جس کے تحت ان علاقوں کو ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر سے زیادہ خود مختاری حاصل تھی۔

  • کشمیری نوجوانوں کی بھارتی استبداد کے خلاف قربانی، ایثار اور مزاحمت دنیا کیلئے مثال ہے. شہریار خان آفریدی

    کشمیری نوجوانوں کی بھارتی استبداد کے خلاف قربانی، ایثار اور مزاحمت دنیا کیلئے مثال ہے. شہریار خان آفریدی

    چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے منگل کو کشمیری نوجوانوں کی بھارتی مظالم کے خلاف قربانیوں ، مزاحمت اور ایثار کی تعریف کی اور کہا کہ کشمیری نوجوانوں کی جرات مندانہ جدوجہد دنیا کے لئے ایک نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کشمیر کی آزادی زیادہ دور نہیں ہے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت نے تنازعہ کشمیر کو مزید بین الاقوامی بنادیا ہے۔ اب دنیا مداخلت کے لئے تیار ہے اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے کشمیر کو حل کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرنے کی پیش کش اس امر کی عکاس ہیں کہ آزادی کی منزل اب زیادہ دور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وہ خوش نصیب نسل ہوسکتے ہیں جو کشمیر کی آزادی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں.
    ان خیالات کا اظہار شہریار آفریدی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں یہاں کشمیر کے نوجوان سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
    چیئرمین کشمیر کمیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان پر مسلط ہائبرڈ جنگ کے بارے میں نوجوانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن پاکستانی نوجوانوں کو نسلی ، لسانی ، فرقہ وارانہ اور مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    “ہمیں ہائبرڈ جنگ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد ہمیں تقسیم کرنا ہے۔ ہمیں دشمن کے شیطانی پروپیگنڈوں سے آگاہ رہنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد ، نظم و ضبط اور حب الوطنی دشمن کے منصوبوں کو مایوس کرنے کے لئے ہمارے بہترین ہتھیار ہیں۔
    شہریار آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں کو کشمیر کے مقصد کے لئے ثابت قدم رہنا چاہئے اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام بھارت کی غاصب فوج اور غاصب حکومت کے خلاف کتنی بہادری سے قربانیاں دے رہے ہیں۔
    “محترمہ آسیہ اندرابی اور ان کے شوہر ، محمد قاسم فکتو کو اب کئی دہائیوں سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ قاسم فکتو گذشتہ 28 سالوں سے جیل میں ہیں لیکن انہوں نے آزادی کشمیر سے وابستگی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہماری معاصر تاریخ میں یہ بے مثال ہے۔ ایک تعجب کی بات ہے کہ بھارتی مظالم کے باوجود کشمیر کے آزادی پسند تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں.
    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لوگ آزادی کی خواہش کے لئے جیلوں میں بند ہیں اور قربانیوں کی نئی مثال قائم کررہے ہیں.
    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوان بغیر کسی اسلحہ کے محض قوت ایمانی کے زور پر قابض فوج سے لڑ رہے ہیں جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں۔ اس کے برعکس ، کشمیری نوجوان پتھروں اور اپنی آزادی کے عزم کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ بھارتی نوجوان سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ خون کی ہولی کو چھپانے میں مدد کی جا سکے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جاگیں اور کشمیر کے معاملے کو پیش کرنے کے لئے آواز اٹھائیں کیونکہ قابض افواج کشمیریوں کو سزا کے بغیر قتل کررہی ہیں۔
    "ہمیں بیدار ہونے اور تیزی سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کراتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے جہاں جائز مکینوں کو جیل اور غیر کشمیریوں کو قید کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کو آبادیاتی تبدیلی لانے کے لئے لایا جارہا ہے۔ ہمیں اپنے پڑوس میں ایک اور فلسطین بنانا بند کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل نوجوان سفیروں نے کشمیر پر بات کی اور وعدہ کیا کہ وہ پورے دل سے کشمیر کے مقصد کے لئے کام کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان اور آزادکشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔

  • سرینگر: سی آر پی ایف اہلکار نے خودکشی کر لی

    سرینگر: سی آر پی ایف اہلکار نے خودکشی کر لی

    سرینگر: سی آر پی ایف اہلکار نے خودکشی کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پیر کے روز نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکار نے گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔

    سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ کے مطابق ‘ہیڈ کانسٹیبل پنٹو ماڈل نیصبح سرینگر کے رام باغ علاقے میں واقع نیم فوجی دستے کے گروپ سینٹر میں خودکشی کی۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پنکج سنگھ نے کہا کہ ‘منڈل نے اپنی سروس بندوق سے خود کو گولی ماری جس کے بعد ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

    وہ منڈل مغربی بنگال کے رہنے والے تھے۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ابھی یہ وجہ واضح نہیں ہوئی ہے کہ انہوں نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ تاہم پولیس کو اطلاع کر دی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا

    قابل ذکر ہے کہ یہ رواں مہینے میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کی جانب سے کی گئی دوسری خودکشی ہے۔ اس سے قبل رواں مہینے کی 17 تاریخ کو ڈل گیٹ میں تعینات ایک سی آر پی ایف اہلکار نے خود کو گولی مار کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی۔

    ایک بچہ پیدا نہ کرنے کی وجہ سے میرے ساتھ بدسلوکی کی گئی، پائلٹ کی بیوی نے ویڈیو پیغام پوسٹ کرکے خودکشی کر لی