آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن اُن کی آواز اب مدھم پڑھ چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ہندوستانی لابی نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے آئندہ متوقع صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کھل کر موجودہ ہندوستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے اور کشمیریوں کوبنیادی انسانی حقوق دینے کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کونسلرز کنونشن برطانیہ کے شرکاء سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کیا۔ اس کنونشن میں برطانیہ بھر سے چالیس سے زائد کونسلرز نے شرکت کی۔ نیشنل کونسلرز کنونشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست، اکتیس اکتوبر اور یکم نومبر 2019اور اپریل 2020کے اقدامات کے ذریعے اور آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ اور نئے ڈومیسائل قانون نافذ کرکے مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں منقسم کیا اور انہیں ہندوستان کے اندر ضم کر دیا۔ یہ ہندوستانی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فورتھ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ صدر نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ پانچ اگست2019 سے پورے کشمیر میں دوہرا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور نو لاکھ ہندوستانی قابض افواج نے پورے کشمیر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ عملاً پورا کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ چودہ ہزار کے قریب نوجوانوں کو جن کی عمریں دس، بارہ اور چودہ سال ہیں انہیں گرفتار کر کے کشمیراورہندوستان کی جیلوں میں مقید کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری کشمیری حریت قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ آسیہ اندرابی اُن کے خاوند، شبیر شاہ اور یاسین ملک کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح سید علی گیلانی،مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر درجنوں کشمیری رہنماؤں کو پابند سلاسل اور نظر بند کررکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے، خواتین کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور یہ اقدامات ہٹلر کے نازی ازم،1990کی دہائی میں بلقان ریاستوں میں میلازوچ کے ظلم وستم سے متشابہ ہیں اور فلسطین کے اندر اسرائیلی ریاست اور حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ملتے جلتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اپریل2020میں ہندوستانی حکومت نے جس نئے کالے ڈومیسائل قانون کا نفاذ کیا ہے اس کے تحت وہ کشمیریوں سے اُن کا روزگار، جائیدادیں اور شناخت چھین رہا ہے اور کشمیر کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کو آباد کرنے میں بھی وقت لگا تھا اور اُسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی سرکار کشمیر میں اسی طرز پر اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیر یوں کی زبان بندی کر رکھی ہے، اُن کے پرامن احتجاج کے حق کو غداری کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آرایس ایس اور مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسی کی بدولت نہ صرف ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اُن کے شر سے ہندوستان کے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں۔ حالیہ چین بھارت کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان کی جارحیت کا چین نے منہ توڑ جواب دیا ہے اور ہندوستان کی خوب پٹائی ہوئی ہے، اس پر امریکہ نے سرسری حمایت کی ہے۔ صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو چین کی مدد سے سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانا چاہیے اور ہندوستان کا ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔سردار مسعود خان نے برطانوی کونسلرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرنا چاہیے، اس سلسلے میں خلیجی ممالک میں کویت کی کابینہ نے ہندوستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کا استحصال کرنا بند کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپ ہندوستان کا حلیف ہے اور اس کی حکومتیں خاموش ہیں لیکن ہمیں یورپ سمیت تمام طاقتور اقوام سے رابطہ رکھنا چاہیے، ان ممالک کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لوگ ہندوستان اور کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ اور ہم سب کے لئے یہ چیلنج ہے کہ ہم ان ملکوں کے حکمرانوں کی زبانوں پر لگے تالوں کو کھولیں۔
قبل ازیں پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے پوچھے گے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے قائدین کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ہندوتوا فلاسفی کوآگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان اور کشمیر سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کریں گے اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی جنونی قیادت ہندوستان کو ”پویتر“کرنا چاہتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس نظریے کی اگرچہ ہندوستان کی کچھ سیاسی جماعتیں، اُن کی سول سوسائٹی مخالف ہے اور وہ مودی سرکار کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں کو نہ صرف حرف تنقید بنا رہے ہیں بلکہ اسے خود بھارت کے وجود کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس سول سوسائٹی سے ضرور اپنا رابطہ استوار رکھنا چاہیے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب تک پچیس ہزار سے زائد غیر کشمیریوں کو ریاست کا ڈومیسائل جاری کر دیا ہے۔ہندوستان ان آبادکاریوں سے ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جموں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن اُس وقت تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور نصف ملین کے قریب مسلمانوں کونقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا، جس سے جموں میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح وہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے در پے ہیں اورمقبوضہ وادی کو ہندو راشٹریا میں بدلنا چاہتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جس طرح ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودی ہونا ایک جرم تھا اسی طرح آج ہندوستان اور کشمیر میں مسلمان ہونا بھی کسی جرم سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے جس کی تباہ کاریاں خوفناک ہوں گی۔ لہذا دنیا کو آگے بڑھ کر اس ممکنہ تباہی کو روکنا ہو گا۔ صدر سردار مسعود خان نے کامیاب نیشنل کونسلر ز کنونشن منعقد کروانے پر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ کا شکریہ ادا کیااور اُن کی کشمیر کاز کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عظمیٰ رسول، کونسلر حنیف راجہ، کونسلر لیاقت اور دیگر چالیس کے قریب کونسلرز جنہوں میں اس کنونشن میں شرکت کی اُن سب کا شکریہ ادا کیا۔صدر نے الطاف احمد بٹ سینئر کشمیر حریت رہنما کی کشمیر کاز کے لئے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے کشمیر کاز کودنیا میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مختلف کونسلرز کی طرف سے اٹھائے کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ کونسلرز کی اکثریت نے اپنے خطابات میں صدر ریاست کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر رہے ہیں۔
Category: کشمیر

برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان

پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر
راولپنڈی: پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا،اطلاعات کےمطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج نے پانڈو سیکٹر میں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے لکھا کہ بھار کا جاسوس کواڈ کاپٹر پاکستانی حدود میں 200 میٹر تک گھس آیا تھا۔ رواں سال گرایا جانے والا یہ 10واں بھارتی جاسوس ڈرون ہے۔
#PakistanArmy troops shot down an Indian spying #quadcopter in Pandu Sector along LOC.
The quadcopter had intruded 200 meters on Pakistan’s side of the #LOC. This is 10th Indian quadcopter shot down by Pakistan Army this year. pic.twitter.com/pJQTau4HVl— DG ISPR (@OfficialDGISPR) July 26, 2020
خیال رہے کہ اس سے قبل 28 جون کو پاک فوج نے بھارت کا نواں بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔ کواڈ کاپٹر ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر میں آٹھ سو پچاس میٹر پاکستانی حدود میں آ گیا تھا۔
پانچ جون کو بھی پاک فوج نے ایل او سی کے خنجر سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ یہ جاسوس کواڈ کاپٹر 500 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے رکھ چکری سیکٹر میں انڈین ڈرون کو تباہ کیا تھا۔ یہ بھارتی کواڈ کاپٹر جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 650 میٹر تک گھس آیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا۔
بعد ازاں ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔
علاوہ ازیں فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے کچھ روز بعد بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آیا تھا جسے ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھا۔
چھ مارچ 2018ء کو ایل او سی کے مقام چری کوٹ سیکٹر میں پاک فوج نے بھارت کا جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا تھا۔
اکتوبر 2017ء میں بھی پاک فوج نے ایل او سی کے قریب رکھ چکری سیکٹر میں جاسوسی کرنے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔
نومبر 2016ء میں بھارتی ڈرون کنٹرول لائن پر پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، جسے پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنا کر گرادیا تھا۔
اسی طرح 15 جولائی 2015ء کو پاک فوج نے بھارت کے جاسوس ڈرون طیارے کو لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے علاقے میں گرایا تھا، طیارہ فضا سے پاکستانی علاقوں کی فوٹو گرافی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے کیونکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات دلخراش ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل بھی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں بھارت کے اقدامات انسانی اقدار، تہذیب، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ورلڈ آرڈر کو پاؤں کے نیچے روندنے کے مترادف ہیں جنہیں اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے اور اس کی یہ خاموشی بھارت کو انسانیت کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کا حوصلہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جسٹس فار آل کے زیر اہتمام ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ ایک کھلا جیل اور پوری آبادی قیدی بنی ہوئی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سمیت وہ مغربی اقوام جو انسانی قانون اور انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں پُر اسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویبی نار سے امریکہ میں مقیم ممتاز سکالر ڈاکٹر عبدالمالک مجاہد، مقبوضہ کشمیر سے ڈاکٹر مرزا صاحب بیگ، برطانیہ سے مزمل ایوب ٹھوکر، شائستہ صفی، مقبوضہ کشمیر سے شاہانہ بٹ، امریکہ سے سردار ذوالفقار خان، ڈاکٹر اطہر ضیا، پاکستان سے سید فیض نقشبندی، احمد بن قاسم، امریکہ سے امام عبدالجبار، حنا زبیری، محمد عاطف عباسی اور بابر ڈار نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد انسانیت، انسانی وقار اور آفاقی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے اور کشمیریوں کو اگر اس جدوجہد میں ناکامی ہوئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوی گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں قتل وغارت گری کا جو سلسلہ شروع کیا وہ 73سال گزر جانے کے بعد آج بھی جاری ہے اور ان سات دہائیوں میں بھارت نے آزادی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق مانگنے والے پانچ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو چُن چُن کر قتل کر رہی ہے تاکہ آزادی، حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے ریاست پر دوبارہ قبضہ کیا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان دو حصوں کو دہلی کے ماتحت کر کے یہ پیغام دیا کہ ریاست کے نظم ونسق اور اس کے مستقبل کو طے کرنے میں وہاں کے عوام کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سال اپریل میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران رات کی تاریکی میں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروا کر کشمیریوں کے روزگار، ملازمتوں، کاروبار کے حقوق چھین لئے اور اُن کی زمین پر بھارتی شہریوں کو بسانے کا ایک گھناؤنا منصوبہ شروع کیا تاکہ کشمیریوں کو اُن کی اپنی سرزمین میں بے زمین کر دیا جائے اور اُن کو اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ بھارت کے مقبوضہ ریاست کے اندر یہ تمام اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں جن سے سلامتی کونسل کے ارکان کا نظریں چرانا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کے مترادف ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ویبی نار کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کے بعد بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے لئے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے استفادہ کریں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دس ملین کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک کی پارلیمان کے ارکان، اعلیٰ حکومت عہدیداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے کشمیریوں کی آواز اُن تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بظاہر کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق نظر آتی ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم کے دروازے پر دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا اور اس بات کا اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیر کے حوالے سے جاری انفرادی کوششوں کو کسی اجتماعی فورم کے تابع کیا جائے تاکہ ان کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر
وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے کہا ہے کہ 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام اکیلے نہیں ہیں ہم ان کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ5 اگست کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس مظفرآباد میں ہو گا۔ مظفرآباد میں سینٹ کا خصوصی اجلاس تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں سنگ میل ثابت ہو گا ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینا بھارتی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ بھارت نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو خصوصی حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر ایک انسانی جیل بن چکا ہے ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں پائدار امن قائم ہو گا ،راجہ فاروق حیدرنے مطالبہ کیا کہ یورپی ممالک مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لیں۔

مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف
معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عروج پر ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم بڑھانے کے لئے کورونا وائرس کو بہانہ بنا رہا ہے۔ عالمی حقوق اور امدادی گروپوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے اعدادو شمار ظاہر کررہے ہیں کہ کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔

بھارتی فوج ڈریکونین قوانین استعمال کرکے سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آواز دبارہی ہے۔ شہریارآفریدی
پارلیمنٹری کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی سوشل میڈیا پر آواز دبانے کیلئے یواے پی اے جیسے ڈریکونین قوانین کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے آزادی اظہار کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیراہتمام یہاں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کی سائبر سپیس ختم کرنے کی بھارتی سازش اقوام متحدہ کے کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے جو آزادی اظہار اور اظہار رائے کی ضمانت اور حفاظت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سوشل میڈیا ایپلی کیشنز اور دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے غیر قانونی یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا استعمال کررہا ہے جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، ہندوستان اپنے شیطانی منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اب کشمیر کے سفیر بن کر عالمی سطح پر بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کررہے ہیں۔
آفریدی نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی سفارتی فورموں پر اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا ، "ہم ہندوستان کو کبھی بھی کشمیریوں کو ان کے اظہار رائے اور اظہار رائے کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دنیا کو کشمیریوں کے آزادی کے حق کی خلاف ورزی پر توجہ دینی ہوگی۔”
آفریدی نے یواے پی اے کے کالے قانون کے تحت کشمیری صحافیوں اور سینئر حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی بھی مذمت کی جس میں مسرت عالم بھٹ ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، الطاف شاہ ، ایاز اکبر ، معراج الدین کلوال اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یواے پی اے کا قانون کشمیری آبادی کو خوفزدہ کرتا ہے کیونکہ اس سے ہندوستان کی قابض ریاست کو بے لگام طاقت ملتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے منافی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا ، "یہ نہ صرف ہندوستان کے اپنے آئین کو مجرم بناتا ہے بلکہ منصفانہ اور آزاد عدلیہ کے تصور کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سخت قانون ہندوستانی حکومت کشمیری حق پرست اور آزادی پسند افراد کو انفرادی طور پر "دہشت گرد” قرار دینے اور انھیں سزا سنانے پر کم سے کم سات سال تک جیل بھیجنے کی طاقت دیتا ہے۔
آفریدی نے کہا کہ کشمیریوں کی آوازوں کو دبانے کے لئے بھارت کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے سخت قوانین کو غیر ممالک میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کو اٹھانا ہوگا اور نریندر مودی کے ہندوستان کی فاشسٹ حکومت کے ذریعہ نسل پرست نسل کے ایجنڈے کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی اقلیتوں کو کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانا ہوگی کیونکہ کشمیریوں اور ہندوستانی اقلیتوں کو اسی طرح سنگھی فاشسٹ اور نسل پرست قاتلوں نے نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی اقلیتوں کی بھارتی سڑکوں پر قتل عام کا بھی جائزہ لیں کیونکہ ہندوستان میں عدالتوں اور پولیس پر آر ایس ایس کے نظریاتی افراد نے قبضہ کرلیا ہے۔
سیمینار سے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان ، پاکستان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے۔ سردار مسعود خان
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے جس کا جواب اسی ہتھیار سے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کریں اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر کے دشمن کو جارحانہ انداز میں جواب دیں۔ بھارت امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین سمندر پار پاکستانیوں کی صورت میں ایک ایسی طاقت ہے جس کو استعمال کر کے ہم بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس فسطائی حکومت کو دنیا کے سامنے ننگا کر سکتے ہیں۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز، پارلیمان کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے فوڈز سکیورٹی سید فخر امام، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے معاون خصوصی معید یوسف، سینیٹر ولید اقبال اور آزادکشمیر کی سابق وزیرفرزانہ یعقوب نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور یہ محض ہمارا خدشہ نہیں بلکہ یہ دھمکی آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگت، نریندر مودی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت نے ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک پر روایتی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے ہم محض دھمکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا، وہاں نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے بھارتی شہریوں کو بسانے کی راہ ہموار کی اور اب جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر وہاں نئی آبادیاں تعمیر کرے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریاست عملاً فوجی گریژن میں تبدیل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو عد م استحکام کا شکار کر کے تباہ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے اور وہ جوہری جنگ سے بچ کر روایتی جنگ کی صورت میں کوئی بھی شر انگیزی کر سکتا ہے۔ بھارت نے جو جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا جواب جارحانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دشمن کے خونی جبر میں پھنسے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر سوچنی ہے کیونکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں جنہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جنگ ہماری بقا، پہچان اور دین و تہذیب کی جنگ ہے جسے بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی اہم پارلیمان کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں لکھ رہے ہیں اور ریاست پاکستان اور کچھ دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی طور پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لا کر اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر سید فخر امام کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے رائے عامہ اور پارلیمانی قوتوں کو متحرک کر کے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارا دا کیا جس کے لئے ہم اُن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔

بھارت نےپاکستان پرہائبرڈ وارمسلط کردی ہےجس کا جواب اسی ہتھیارسےدینے کےلئےضروری ہے: سردار مسعود خان
اسلام آباد:بھارت نےپاکستان پرہائبرڈ وارمسلط کردی ہےجس کا جواب اسی ہتھیارسےدینے کےلئےضروری ہے:اطلاعات کے مطابق آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے جس کا جواب اسی ہتھیار سے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کریں اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر کے دشمن کو جارحانہ انداز میں جواب دیں۔ بھارت امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین سمندر پار پاکستانیوں کی صورت میں ایک ایسی طاقت ہے جس کو استعمال کر کے ہم بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس فسطائی حکومت کو دنیا کے سامنے ننگا کر سکتے ہیں۔
کانفرنس سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز، پارلیمان کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے فوڈز سکیورٹی سید فخر امام، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے معاون خصوصی معید یوسف، سینیٹر ولید اقبال اور آزادکشمیر کی سابق وزیرفرزانہ یعقوب نے بھی خطاب کیا۔
صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور یہ محض ہمارا خدشہ نہیں بلکہ یہ دھمکی آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگت، نریندر مودی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت نے ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک پر روایتی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے ہم محض دھمکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا، وہاں نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے بھارتی شہریوں کو بسانے کی راہ ہموار کی اور اب جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر وہاں نئی آبادیاں تعمیر کرے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریاست عملاً فوجی گریژن میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو عد م استحکام کا شکار کر کے تباہ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے اور وہ جوہری جنگ سے بچ کر روایتی جنگ کی صورت میں کوئی بھی شر انگیزی کر سکتا ہے۔ بھارت نے جو جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا جواب جارحانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دشمن کے خونی جبر میں پھنسے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر سوچنی ہے کیونکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں جنہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جنگ ہماری بقا، پہچان اور دین و تہذیب کی جنگ ہے جسے بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی اہم پارلیمان کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں لکھ رہے ہیں اور ریاست پاکستان اور کچھ دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی طور پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لا کر اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
صدر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر سید فخر امام کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے رائے عامہ اور پارلیمانی قوتوں کو متحرک کر کے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارا دا کیا جس کے لئے ہم اُن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

مقبوضہ کشمیر میں آپریشن کے دوران تصادم،2 حریت پسند شہید ،ایک بھارتی فوجی زخمی
مقبوضہ کشمیر میں آپریشن کے دوران تصادم،2 حریت پسند شہید ،ایک بھارتی فوجی زخمی
مقبوضہ کشمیر میں سرینگر کے رنبیر گڑھ علاقے میں ہفتے کی صبح سکیورٹی فورسز اور حریت پسندوں کے مابین تصادم میں2 حریت پسند کے شہید ہونے کی خبر ہے جبکہ ایک بھارتی فوجی زخمی ہوا ہے۔
مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرینگر کے بیرونی علاقے رنبیر گڑھ میں صبح سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم کے بعد آئی جی پی کشمیر نے بتایا کہ ‘انکاونٹر کے دوران2 عسکریت پسند شہید ہوئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ میں ایک فوجی بھی زخمی ہوا ۔
ضلع سرینگر میں 2000سے اب تک 245مختلف واقعات میں 526افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ727واقعات میں832افراد شہید کئے گئے جن میں399شہری شامل ہیں۔ضلع میں اسی عرصے میں 387سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔ 21خود کش حملوں میں 55 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 185زخمی ہوئے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں85واقعات میں171کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ,مئی میں16، جون میں 51، اور جولائی میں 24کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 34سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے93واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 18واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں81مختلف واقعات میں 163افراد کو گرفتار کیا گیا۔
سرکاری اعداد وشمارکے مطابق2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں 160 عسکریت پسند وں کوشہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر، 11ماہ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں،لاک ڈاؤن سے معیشت کو 40 ہزار کروڑ کا نقصان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 11ماہ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی گئیں
مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کی نئی میڈیا پالیسی ‘آزاد میڈیا’ اور ‘اظہار رائے کی آزادی’ پر حملہ قرار دیا گیا، لاک ڈائون کا ایک سال، مقامی معیشت کو 40ہزار کروڑ کا نقصان ہوا،انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ جاری کر دی
اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ میں ، جموں و کشمیر میں لاک ڈان کے دوران انسانی حقوق پر پائے جانے والے اثرات سے متعلق ایک رپورٹ نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے گذشتہ سال 5 اگست سے ہونے والے تمام اقدامات کو واپس لینے کے لئے کہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے 11 مہینوں کے دوران طاقت کے استعمال کو عوامی ، شہری اور انسانی سلامتی کے مقابلے میں ترجیح دی گئی ہے ، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہوئی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضمانت اور حق اور فوری مقدمے کی سماعت کے حق سے عوام کو محروم کیا گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی اظہار آزادی رائے کو ختم کرنے کے لئے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچاو کے ایکٹ (UAPA) جیسے سخت قوانین کا استعمال کیا گیا۔
”دی فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر”نامی تنظیم نے پی ایس اے کو فوری طور پر منسوخ کرنے اور بقیہ سیاسی رہنماوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جن میں ، پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی شامل ہیں۔جموں و کشمیر کے حقوق انسانی کے فورم کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد ، چین تنازعہ کشمیر کا تیسرا فریق بن گیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ ایک سال سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے مقامی معیشت کو تقریبا 40 ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے ۔یہ انکشافات ”دی فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر”نامی تنظیم نے اپنی رپورٹ بعنوان ‘جموں و کشمیر: انسانی حقوق پر لاک ڈائونز کے اثرات (اگست 2019 تا جولائی 2020 )میں کیا ہے ۔21 ممتاز ہندوستانی شہریوں پر مشتمل اس فورم کی سربراہی سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر اور سابق خاتون مذاکرات کار برائے جموں و کشمیر پروفیسر رادھا کمار کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے کشمیری عوام ہندوستان اور اس میں رہنے والے عوام سے مکمل طور پر بیگانہ ہوگئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کیخلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے کالے قانون ”یو اے پی اے ” کے تحت مقدمے درج کئے جاتے ہیں۔ اس میں مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کی نئی میڈیا پالیسی کو ‘آزاد میڈیا’ اور ‘اظہار رائے کی آزادی’ پر حملہ قرار دیا گیا ہے ۔جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ، جن کے تحت غیر مقامی شہری بھی یہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں، نے اس یونین ٹریٹری میں بے روزگاری بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے
وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم
نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان
کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران
کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں
وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا
مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت
یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا
کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب
وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان
کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ
مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ
برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال
‘کشمیر’ کئی طریقوں سے ہندوستان کی جمہوریت کیلئے لٹمس ٹیسٹ تھا لیکن ہم اس میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 70 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری مسلسل لاک ڈائون کے تعلیمی شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سست رفتار 2G موبائل انٹرنیٹ خدمات کے باعث آن لائن کلاسزکا انعقاد ناممکن ہوگیا ہے









