Baaghi TV

Category: کشمیر

  • 29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا

    29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا

    آزاد کشمیر میں عیدالاضحیٰ پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 29 جولائی سے 2 اگست تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔اس سلسلے میں محکمہ داخلہ حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق آزاد کشمیر بھر میں لاک ڈاؤن کا اطلاق 29 جولائی رات 12 بجے سے 2 اگست کی رات 12 بجے تک ہوگا۔ لاک ڈاؤن کے دوران سیاحوں کی آمد و رفت ختم اور سیاحتی مقامات، پبلک پارکس مکمل بند رہیں گے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کو زمینیں‌اونے پونے فروخت کرنے کا انکشاف

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کو زمینیں‌اونے پونے فروخت کرنے کا انکشاف

    سری نگر : مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کوزمینیں‌اونے پونے فروخت کرنے کا انکشاف : بھارتی سیکیورٹی فورسز کیلئے مقبوضہ کشیر میں زمین کا حصول آسان،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کو زمین کے حصول کے لیے درکار 1971 کے سرکلر کے مطابق نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی شرط ختم کردی۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نئے حکم نامے کے تحت بھارتی فوج، بارڈر سیکیورٹی فورسز، پیراملٹری فورسز اور اسی طرح کے دیگر اداروں کے عہدیدار محکمہ داخلہ کی این او سی کے بغیر زمین حاصل کرسکیں گے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی علاقہ قرار دیے جانے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمین کے حوالے سے 2013 کے قانون میں توسیع ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرنے کا قانون منظور کرتے ہوئے کشمیر کو تین اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔

    بھارتی حکومت کے نئے حکم نامے کے مطابق وفاقی قوانین کی توسیع کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کو ریاست کے محکمہ داخلہ سے درکار این او سی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے رواں برس مئی میں ہی ڈومیسائل کا متنازع قانون منظور کیا تھا۔

    بھارتیہ جنتا پارتی (بی جے پی) حکومت نے غیر مقامی افراد کو کشمیر کے مستقل شہریت حاصل کرنے کا قانون بنایا تھا اور غیر کشمیری بھی باآسانی زمینیں خرید سکیں گے۔

    سری نگر کے انسانی حقوق کے رہنما خرم پرویز نے متنازع ڈومیسائل قانون کے حوالے سے کہا تھا کہ اس قانون کے تحت بھارت کی دیگر ریاستوں کے افراد اور ہزاروں مہاجرین زمیں خریدنے کے اہل ہوجائیں گے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمان آبادی کی اکثریت ہے جو پورے کشمیر کا 68 اعشاریہ 31 فیصد ہے، ہندوؤں کی تعداد 28.43 فیصد جبکہ دیگر کی تعداد 12.5 فیصد ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 18 مئی سے اب تک 25 ہزار سے زائد افراد کو مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل دیا گیا ہے جو بھارت فوج میں خدمات انجام دینے والے دیگر ریاستوں کے شہری ہیں۔

    اسی حوالے سے کشمیری صحافی ہارون کا کہنا تھا کہ ہماری ثقافتی، سماجی پہچان اور زبان شدید خطرے میں ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 24 جولائی کو ریاست کے 35 مختلف مقامات میں ایک ہزار 205 ایکڑ ریاستی زمین پر صنعتیں لگانے کی منظوری دی ہے۔

    بھارت کے متنازع ڈومیسائل قانون کے تحت وہ شخص جو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی جانب سے بنائے گئے وفاقی اکائی میں 15 سال سے رہ رہا ہے یا 7 سال سے پڑھ رہا ہے یا مقبوضہ کشمیر میں بنے تعلیمی ادارے میں 10ویں/12ویں جماعت کے امتحانات دیے ہیں، وہ بھی ڈومیسائل سرٹفکیٹ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

    اس کے علاوہ وہ افراد جو کمشنر کے پاس مہاجر کے طور پر رجسٹرڈ ہیں یا جو وفاقی حکومت کے عہدیدار کی اولاد ہیں، تمام حاضر سروسز افسر، مرکزی بینک کے حکام، قانونی اداروں کے حکام، مرکزی یونیورسٹیز کے حکام جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں 10سال اپنی خدمات دی ہوں وہ ڈومیسائل سرٹفکیٹ کے اہل ہوں گے۔

    یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370 ) کو ختم کردیا اور جموں کشمیر کی تنظیمِ نو سے متعلق نیا قانون منظور کرلیا تھا۔

    بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہزاروں افراد کو قید کرکے، ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرکے خطے کو لاک ڈاؤن کردیا تھا اور ساتھ ہی مواصلاتی روابط بھی معطل کردیے تھے۔

    بھارتی حکومت نے ایک کروڑ 25 لاکھ افراد پر مشتمل ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو الگ اور لداخ کو الگ اکائی بنایا تھا۔

    بھارت کے 5 اگست کے اقدام میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی نئی وفاقی اکائی کی ایک منتخب قانون ساز اسمبلی ہوگی، جس کی مدت 5 برس ہوگی، اس کی سربراہی بھارت کی جانب سے مقرر کیے گئے لیفٹیننٹ گورنر کریں گے لیکن زیادہ اختیارات نئی دہلی کے پاس موجود ہوں گے۔

    دوسری جانب لداخ وفاقی حکومت کے براہ راست زیر انتظام ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی اور اسے ایک لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلایا جائے گا۔

    لداخ کا علاقہ ثقافتی، مذہبی اور قومیت کے لحاظ سے مقبوضہ کشمیر سے مختلف ہے جہاں کی اکثریت ایک طویل عرصے سے اپنی سرزمین کو ایک علیحدہ وفاقی اکائی کے طور پر تسلیم کروانا چاہتی ہے۔

    علاوہ ازیں کارگل سمیت لداخ کے 2 اضلاع کو پہلے ہی ‘ہل کونسل’ کے ذریعے چلایا جارہا تھا، جس کے تحت ان علاقوں کو ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر سے زیادہ خود مختاری حاصل تھی۔

  • کشمیری نوجوانوں کی بھارتی استبداد کے خلاف قربانی، ایثار اور مزاحمت دنیا کیلئے مثال ہے. شہریار خان آفریدی

    کشمیری نوجوانوں کی بھارتی استبداد کے خلاف قربانی، ایثار اور مزاحمت دنیا کیلئے مثال ہے. شہریار خان آفریدی

    چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے منگل کو کشمیری نوجوانوں کی بھارتی مظالم کے خلاف قربانیوں ، مزاحمت اور ایثار کی تعریف کی اور کہا کہ کشمیری نوجوانوں کی جرات مندانہ جدوجہد دنیا کے لئے ایک نمونہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کشمیر کی آزادی زیادہ دور نہیں ہے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں بھارتی حکومت نے تنازعہ کشمیر کو مزید بین الاقوامی بنادیا ہے۔ اب دنیا مداخلت کے لئے تیار ہے اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے کشمیر کو حل کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرنے کی پیش کش اس امر کی عکاس ہیں کہ آزادی کی منزل اب زیادہ دور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان وہ خوش نصیب نسل ہوسکتے ہیں جو کشمیر کی آزادی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں.
    ان خیالات کا اظہار شہریار آفریدی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں یہاں کشمیر کے نوجوان سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
    چیئرمین کشمیر کمیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان پر مسلط ہائبرڈ جنگ کے بارے میں نوجوانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن پاکستانی نوجوانوں کو نسلی ، لسانی ، فرقہ وارانہ اور مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    “ہمیں ہائبرڈ جنگ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد ہمیں تقسیم کرنا ہے۔ ہمیں دشمن کے شیطانی پروپیگنڈوں سے آگاہ رہنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد ، نظم و ضبط اور حب الوطنی دشمن کے منصوبوں کو مایوس کرنے کے لئے ہمارے بہترین ہتھیار ہیں۔
    شہریار آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں کو کشمیر کے مقصد کے لئے ثابت قدم رہنا چاہئے اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کشمیری عوام بھارت کی غاصب فوج اور غاصب حکومت کے خلاف کتنی بہادری سے قربانیاں دے رہے ہیں۔
    “محترمہ آسیہ اندرابی اور ان کے شوہر ، محمد قاسم فکتو کو اب کئی دہائیوں سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ قاسم فکتو گذشتہ 28 سالوں سے جیل میں ہیں لیکن انہوں نے آزادی کشمیر سے وابستگی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہماری معاصر تاریخ میں یہ بے مثال ہے۔ ایک تعجب کی بات ہے کہ بھارتی مظالم کے باوجود کشمیر کے آزادی پسند تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں.
    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں لوگ آزادی کی خواہش کے لئے جیلوں میں بند ہیں اور قربانیوں کی نئی مثال قائم کررہے ہیں.
    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں نوجوان بغیر کسی اسلحہ کے محض قوت ایمانی کے زور پر قابض فوج سے لڑ رہے ہیں جو جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں۔ اس کے برعکس ، کشمیری نوجوان پتھروں اور اپنی آزادی کے عزم کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ بھارتی نوجوان سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ خون کی ہولی کو چھپانے میں مدد کی جا سکے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جاگیں اور کشمیر کے معاملے کو پیش کرنے کے لئے آواز اٹھائیں کیونکہ قابض افواج کشمیریوں کو سزا کے بغیر قتل کررہی ہیں۔
    "ہمیں بیدار ہونے اور تیزی سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کراتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے جہاں جائز مکینوں کو جیل اور غیر کشمیریوں کو قید کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کو آبادیاتی تبدیلی لانے کے لئے لایا جارہا ہے۔ ہمیں اپنے پڑوس میں ایک اور فلسطین بنانا بند کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل نوجوان سفیروں نے کشمیر پر بات کی اور وعدہ کیا کہ وہ پورے دل سے کشمیر کے مقصد کے لئے کام کریں گے۔ اس موقع پر پاکستان اور آزادکشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے۔

  • سرینگر: سی آر پی ایف اہلکار نے خودکشی کر لی

    سرینگر: سی آر پی ایف اہلکار نے خودکشی کر لی

    سرینگر: سی آر پی ایف اہلکار نے خودکشی کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پیر کے روز نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکار نے گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔

    سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ کے مطابق ‘ہیڈ کانسٹیبل پنٹو ماڈل نیصبح سرینگر کے رام باغ علاقے میں واقع نیم فوجی دستے کے گروپ سینٹر میں خودکشی کی۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پنکج سنگھ نے کہا کہ ‘منڈل نے اپنی سروس بندوق سے خود کو گولی ماری جس کے بعد ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

    وہ منڈل مغربی بنگال کے رہنے والے تھے۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ابھی یہ وجہ واضح نہیں ہوئی ہے کہ انہوں نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ تاہم پولیس کو اطلاع کر دی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا

    قابل ذکر ہے کہ یہ رواں مہینے میں نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کی جانب سے کی گئی دوسری خودکشی ہے۔ اس سے قبل رواں مہینے کی 17 تاریخ کو ڈل گیٹ میں تعینات ایک سی آر پی ایف اہلکار نے خود کو گولی مار کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی۔

    ایک بچہ پیدا نہ کرنے کی وجہ سے میرے ساتھ بدسلوکی کی گئی، پائلٹ کی بیوی نے ویڈیو پیغام پوسٹ کرکے خودکشی کر لی

  • برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان

    برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں.سردار مسعود خان

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی لیکن اُن کی آواز اب مدھم پڑھ چکی ہے۔ لگتا ہے کہ ہندوستانی لابی نے انہیں اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے آئندہ متوقع صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کھل کر موجودہ ہندوستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرے اور کشمیریوں کوبنیادی انسانی حقوق دینے کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل کونسلرز کنونشن برطانیہ کے شرکاء سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے کیا۔ اس کنونشن میں برطانیہ بھر سے چالیس سے زائد کونسلرز نے شرکت کی۔ نیشنل کونسلرز کنونشن سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی کونسلرز گراس روٹ لیول پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست، اکتیس اکتوبر اور یکم نومبر 2019اور اپریل 2020کے اقدامات کے ذریعے اور آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ اور نئے ڈومیسائل قانون نافذ کرکے مودی حکومت نے جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں منقسم کیا اور انہیں ہندوستان کے اندر ضم کر دیا۔ یہ ہندوستانی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فورتھ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ صدر نے کہا کہ صرف یہی نہیں بلکہ پانچ اگست2019 سے پورے کشمیر میں دوہرا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور نو لاکھ ہندوستانی قابض افواج نے پورے کشمیر کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ عملاً پورا کشمیر ایک جیل میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ چودہ ہزار کے قریب نوجوانوں کو جن کی عمریں دس، بارہ اور چودہ سال ہیں انہیں گرفتار کر کے کشمیراورہندوستان کی جیلوں میں مقید کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری کشمیری حریت قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ آسیہ اندرابی اُن کے خاوند، شبیر شاہ اور یاسین ملک کو بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اسی طرح سید علی گیلانی،مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر درجنوں کشمیری رہنماؤں کو پابند سلاسل اور نظر بند کررکھا ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں میڈیا بلیک آؤٹ ہے، خواتین کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے اور یہ اقدامات ہٹلر کے نازی ازم،1990کی دہائی میں بلقان ریاستوں میں میلازوچ کے ظلم وستم سے متشابہ ہیں اور فلسطین کے اندر اسرائیلی ریاست اور حکومت کی طرف سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ملتے جلتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اپریل2020میں ہندوستانی حکومت نے جس نئے کالے ڈومیسائل قانون کا نفاذ کیا ہے اس کے تحت وہ کشمیریوں سے اُن کا روزگار، جائیدادیں اور شناخت چھین رہا ہے اور کشمیر کو ایک ہندو راشٹریا میں تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کو آباد کرنے میں بھی وقت لگا تھا اور اُسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مودی سرکار کشمیر میں اسی طرز پر اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیر یوں کی زبان بندی کر رکھی ہے، اُن کے پرامن احتجاج کے حق کو غداری کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آرایس ایس اور مودی سرکار کی فاشسٹ پالیسی کی بدولت نہ صرف ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اُن کے شر سے ہندوستان کے پڑوسی ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں۔ حالیہ چین بھارت کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان کی جارحیت کا چین نے منہ توڑ جواب دیا ہے اور ہندوستان کی خوب پٹائی ہوئی ہے، اس پر امریکہ نے سرسری حمایت کی ہے۔ صدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو چین کی مدد سے سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانا چاہیے اور ہندوستان کا ہندوتوا کا چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔سردار مسعود خان نے برطانوی کونسلرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرنا چاہیے، اس سلسلے میں خلیجی ممالک میں کویت کی کابینہ نے ہندوستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کا استحصال کرنا بند کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یورپ ہندوستان کا حلیف ہے اور اس کی حکومتیں خاموش ہیں لیکن ہمیں یورپ سمیت تمام طاقتور اقوام سے رابطہ رکھنا چاہیے، ان ممالک کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور لوگ ہندوستان اور کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آوازیں اٹھا رہے ہیں۔ ہماری وزارت خارجہ اور ہم سب کے لئے یہ چیلنج ہے کہ ہم ان ملکوں کے حکمرانوں کی زبانوں پر لگے تالوں کو کھولیں۔
    قبل ازیں پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے پوچھے گے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے قائدین کھل کر اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ہندوتوا فلاسفی کوآگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان اور کشمیر سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کریں گے اور اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو پایا تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی جنونی قیادت ہندوستان کو ”پویتر“کرنا چاہتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ اس نظریے کی اگرچہ ہندوستان کی کچھ سیاسی جماعتیں، اُن کی سول سوسائٹی مخالف ہے اور وہ مودی سرکار کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں کو نہ صرف حرف تنقید بنا رہے ہیں بلکہ اسے خود بھارت کے وجود کے لئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس سول سوسائٹی سے ضرور اپنا رابطہ استوار رکھنا چاہیے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب تک پچیس ہزار سے زائد غیر کشمیریوں کو ریاست کا ڈومیسائل جاری کر دیا ہے۔ہندوستان ان آبادکاریوں سے ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جموں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن اُس وقت تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور نصف ملین کے قریب مسلمانوں کونقل مکانی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا، جس سے جموں میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب اسی طرح وہ مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے در پے ہیں اورمقبوضہ وادی کو ہندو راشٹریا میں بدلنا چاہتے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جس طرح ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودی ہونا ایک جرم تھا اسی طرح آج ہندوستان اور کشمیر میں مسلمان ہونا بھی کسی جرم سے کم تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے جس کی تباہ کاریاں خوفناک ہوں گی۔ لہذا دنیا کو آگے بڑھ کر اس ممکنہ تباہی کو روکنا ہو گا۔ صدر سردار مسعود خان نے کامیاب نیشنل کونسلر ز کنونشن منعقد کروانے پر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ کا شکریہ ادا کیااور اُن کی کشمیر کاز کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عظمیٰ رسول، کونسلر حنیف راجہ، کونسلر لیاقت اور دیگر چالیس کے قریب کونسلرز جنہوں میں اس کنونشن میں شرکت کی اُن سب کا شکریہ ادا کیا۔صدر نے الطاف احمد بٹ سینئر کشمیر حریت رہنما کی کشمیر کاز کے لئے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے کشمیر کاز کودنیا میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے مختلف کونسلرز کی طرف سے اٹھائے کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ کونسلرز کی اکثریت نے اپنے خطابات میں صدر ریاست کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ کشمیریوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر رہے ہیں۔

  • پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا،اطلاعات کےمطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج نے پانڈو سیکٹر میں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا ہے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے لکھا کہ بھار کا جاسوس کواڈ کاپٹر پاکستانی حدود میں 200 میٹر تک گھس آیا تھا۔ رواں سال گرایا جانے والا یہ 10واں بھارتی جاسوس ڈرون ہے۔

     

    خیال رہے کہ اس سے قبل 28 جون کو پاک فوج نے بھارت کا نواں بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔ کواڈ کاپٹر ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر میں آٹھ سو پچاس میٹر پاکستانی حدود میں آ گیا تھا۔

    پانچ جون کو بھی پاک فوج نے ایل او سی کے خنجر سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ یہ جاسوس کواڈ کاپٹر 500 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے رکھ چکری سیکٹر میں انڈین ڈرون کو تباہ کیا تھا۔ یہ بھارتی کواڈ کاپٹر جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 650 میٹر تک گھس آیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا۔

    بعد ازاں ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔

    علاوہ ازیں فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے کچھ روز بعد بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آیا تھا جسے ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھا۔

    چھ مارچ 2018ء کو ایل او سی کے مقام چری کوٹ سیکٹر میں پاک فوج نے بھارت کا جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا تھا۔

    اکتوبر 2017ء میں بھی پاک فوج نے ایل او سی کے قریب رکھ چکری سیکٹر میں جاسوسی کرنے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔

    نومبر 2016ء میں بھارتی ڈرون کنٹرول لائن پر پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، جسے پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنا کر گرادیا تھا۔

    اسی طرح 15 جولائی 2015ء کو پاک فوج نے بھارت کے جاسوس ڈرون طیارے کو لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے علاقے میں گرایا تھا، طیارہ فضا سے پاکستانی علاقوں کی فوٹو گرافی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

  • مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے کیونکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات دلخراش ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل بھی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں بھارت کے اقدامات انسانی اقدار، تہذیب، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ورلڈ آرڈر کو پاؤں کے نیچے روندنے کے مترادف ہیں جنہیں اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے اور اس کی یہ خاموشی بھارت کو انسانیت کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کا حوصلہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جسٹس فار آل کے زیر اہتمام ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ ایک کھلا جیل اور پوری آبادی قیدی بنی ہوئی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سمیت وہ مغربی اقوام جو انسانی قانون اور انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں پُر اسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویبی نار سے امریکہ میں مقیم ممتاز سکالر ڈاکٹر عبدالمالک مجاہد، مقبوضہ کشمیر سے ڈاکٹر مرزا صاحب بیگ، برطانیہ سے مزمل ایوب ٹھوکر، شائستہ صفی، مقبوضہ کشمیر سے شاہانہ بٹ، امریکہ سے سردار ذوالفقار خان، ڈاکٹر اطہر ضیا، پاکستان سے سید فیض نقشبندی، احمد بن قاسم، امریکہ سے امام عبدالجبار، حنا زبیری، محمد عاطف عباسی اور بابر ڈار نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد انسانیت، انسانی وقار اور آفاقی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے اور کشمیریوں کو اگر اس جدوجہد میں ناکامی ہوئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوی گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں قتل وغارت گری کا جو سلسلہ شروع کیا وہ 73سال گزر جانے کے بعد آج بھی جاری ہے اور ان سات دہائیوں میں بھارت نے آزادی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق مانگنے والے پانچ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو چُن چُن کر قتل کر رہی ہے تاکہ آزادی، حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے ریاست پر دوبارہ قبضہ کیا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان دو حصوں کو دہلی کے ماتحت کر کے یہ پیغام دیا کہ ریاست کے نظم ونسق اور اس کے مستقبل کو طے کرنے میں وہاں کے عوام کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سال اپریل میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران رات کی تاریکی میں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروا کر کشمیریوں کے روزگار، ملازمتوں، کاروبار کے حقوق چھین لئے اور اُن کی زمین پر بھارتی شہریوں کو بسانے کا ایک گھناؤنا منصوبہ شروع کیا تاکہ کشمیریوں کو اُن کی اپنی سرزمین میں بے زمین کر دیا جائے اور اُن کو اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ بھارت کے مقبوضہ ریاست کے اندر یہ تمام اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں جن سے سلامتی کونسل کے ارکان کا نظریں چرانا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کے مترادف ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ویبی نار کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کے بعد بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے لئے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے استفادہ کریں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دس ملین کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک کی پارلیمان کے ارکان، اعلیٰ حکومت عہدیداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے کشمیریوں کی آواز اُن تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بظاہر کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق نظر آتی ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم کے دروازے پر دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا اور اس بات کا اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیر کے حوالے سے جاری انفرادی کوششوں کو کسی اجتماعی فورم کے تابع کیا جائے تاکہ ان کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

  • 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر

    5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر

    وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے کہا ہے کہ 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام اکیلے نہیں ہیں ہم ان کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ5 اگست کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس مظفرآباد میں ہو گا۔ مظفرآباد میں سینٹ کا خصوصی اجلاس تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں سنگ میل ثابت ہو گا ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینا بھارتی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ بھارت نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو خصوصی حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر ایک انسانی جیل بن چکا ہے ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں پائدار امن قائم ہو گا ،راجہ فاروق حیدرنے مطالبہ کیا کہ یورپی ممالک مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لیں۔

  • مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف

    مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف

    معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عروج پر ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم بڑھانے کے لئے کورونا وائرس کو بہانہ بنا رہا ہے۔ عالمی حقوق اور امدادی گروپوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے اعدادو شمار ظاہر کررہے ہیں کہ کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔

  • بھارتی فوج ڈریکونین قوانین استعمال کرکے سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آواز دبارہی ہے۔ شہریارآفریدی

    بھارتی فوج ڈریکونین قوانین استعمال کرکے سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آواز دبارہی ہے۔ شہریارآفریدی

    پارلیمنٹری کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی سوشل میڈیا پر آواز دبانے کیلئے یواے پی اے جیسے ڈریکونین قوانین کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے آزادی اظہار کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
    کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیراہتمام یہاں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کی سائبر سپیس ختم کرنے کی بھارتی سازش اقوام متحدہ کے کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے جو آزادی اظہار اور اظہار رائے کی ضمانت اور حفاظت کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بھارت سوشل میڈیا ایپلی کیشنز اور دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے غیر قانونی یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا استعمال کررہا ہے جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، ہندوستان اپنے شیطانی منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اب کشمیر کے سفیر بن کر عالمی سطح پر بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کررہے ہیں۔
    آفریدی نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی سفارتی فورموں پر اٹھائے گا۔
    انہوں نے کہا ، "ہم ہندوستان کو کبھی بھی کشمیریوں کو ان کے اظہار رائے اور اظہار رائے کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دنیا کو کشمیریوں کے آزادی کے حق کی خلاف ورزی پر توجہ دینی ہوگی۔”
    آفریدی نے یواے پی اے کے کالے قانون کے تحت کشمیری صحافیوں اور سینئر حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی بھی مذمت کی جس میں مسرت عالم بھٹ ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، الطاف شاہ ، ایاز اکبر ، معراج الدین کلوال اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یواے پی اے کا قانون کشمیری آبادی کو خوفزدہ کرتا ہے کیونکہ اس سے ہندوستان کی قابض ریاست کو بے لگام طاقت ملتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے منافی اقدامات کرے۔
    انہوں نے کہا ، "یہ نہ صرف ہندوستان کے اپنے آئین کو مجرم بناتا ہے بلکہ منصفانہ اور آزاد عدلیہ کے تصور کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔”
    انہوں نے کہا کہ سخت قانون ہندوستانی حکومت کشمیری حق پرست اور آزادی پسند افراد کو انفرادی طور پر "دہشت گرد” قرار دینے اور انھیں سزا سنانے پر کم سے کم سات سال تک جیل بھیجنے کی طاقت دیتا ہے۔
    آفریدی نے کہا کہ کشمیریوں کی آوازوں کو دبانے کے لئے بھارت کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے سخت قوانین کو غیر ممالک میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کو اٹھانا ہوگا اور نریندر مودی کے ہندوستان کی فاشسٹ حکومت کے ذریعہ نسل پرست نسل کے ایجنڈے کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی اقلیتوں کو کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانا ہوگی کیونکہ کشمیریوں اور ہندوستانی اقلیتوں کو اسی طرح سنگھی فاشسٹ اور نسل پرست قاتلوں نے نشانہ بنایا تھا۔
    انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی اقلیتوں کی بھارتی سڑکوں پر قتل عام کا بھی جائزہ لیں کیونکہ ہندوستان میں عدالتوں اور پولیس پر آر ایس ایس کے نظریاتی افراد نے قبضہ کرلیا ہے۔
    سیمینار سے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان ، پاکستان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔