Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کے مظالم کےخلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کردیا

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کے مظالم کےخلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کردیا

    سری نگر:کل جماعتی حریت کانفرنس کا مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو ہڑتال کا اعلان،اطلاعات کے مطابق ًًًًمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کے مظآلم کےخلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کردیا ہے

    تفصیلات کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کر دیا۔حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ وادی کی علاقائی سالمیت،ڈیموگرافی بدلنے کی کوشش نوجوانوں کی گرفتاری،قتل،انسانی حقوق کی پامالی قابل مذمت ہے۔

    حریت کانفرنس نے کہا کہ بھارت غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل،2 لاکھ مکانات کی تعمیر چاہتا ہے،بھارت اسرائیل طرز پر کشمیریوں کی زمین چھین کر مسلح ہندو بساناچاہتا ہے۔

    کل جماعتی حریت کانفرس کے مطابق کشمیر پر ایک بھی بھارتی فوجی کی موجودگی تک جدوجہد جاری رہےگی۔اس سے قبل گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا، نوجوانوں کو نام نہاد آپریشن کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

    واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اور الگ حیثیت کا خاتمہ کرکے اسے بھارت کا غیر قانونی طور پر حصہ بنا لیا تھا، مقبوضہ وادی پر قابض بھارت کے کرفیو کو 11 ماہ سے زائد ہوچکے ہیں۔

  • کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی سول آبادی پر شدید گولہ باری۔ فائرنگ سے بزرگ خاتون زخمی۔ پاکستان کی جوابی کارروائی

    کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی سول آبادی پر شدید گولہ باری۔ فائرنگ سے بزرگ خاتون زخمی۔ پاکستان کی جوابی کارروائی

    بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ باغی ٹی وی کو کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ‏لائن آف کنٹرول پر کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج نے آج ایک بار پھر سول آبادی پر شدید گولہ باری کی۔ بھارتی فائرنگ کے نتیجہ میں عام شہری 72 سالہ بزرگ خاتون مقصودہ بیگم شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں طبی امداد کے لیے فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پاکستانی فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کی توپیں خاموش ہوگئیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وزیر خارجہ قریشی

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وزیر خارجہ قریشی

    اسلام آباد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، اعلی عسکری حکام اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقعہ پر کہا کہ بھارت کی ہندتوا سوچ اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت، افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اپنی داخلی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان, مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کشی اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی و علاقائی فورم پر اٹھا رہا ہے اور بھارت سرکار کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لا رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
    اجلاس میں بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے اور انہیں مزید اجاگر کرنے کیلئے کیلئے مختلف تجاویز کو زیرغور لایا گیا۔ اجلاس میں افغان امن عمل سمیت علاقائی سلامتی کے مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔

  • بیرون ملک سفر:کشمیری خاتون اور ان کی والدہ کی پولیس سٹیشن طلبی

    بیرون ملک سفر:کشمیری خاتون اور ان کی والدہ کی پولیس سٹیشن طلبی

    بیرون ملک سفر:کشمیری خاتون اور ان کی والدہ کی پولیس سٹیشن طلبی

    مقبوضہ کشمیر میں ایک کشمیری خاتون اور ان کے کنبہ کے دو افراد سے ترکی کے سفر کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لئے پولیس سٹیشن حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شازیہ بخشی ، جو سابق ریاست جموں و کشمیر کے دوسرے وزیر اعظم کی عظیم بھتیجی ہیں ، نے ٹویٹ کیاکہ وبائی حالت میں ، میری بھتیجی (9) اور ماں (72) کو کہا گیا ہے کہ وہ کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن حاضر ہوں۔ کیونکہ ان سے 2017 میںترکی کے سفر کے حوالے سے پوچھ گچھ کرنا مطلوب ہے۔

    ایک اور ٹویٹ میں ، انہوں نے کہا کہ کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک پولیس اہلکار کے مطابق ، جو منگل کے روز انکے گھر گیا تھا ، یہ ان تمام مسافروں کی "معمول کی جانچ پڑتال” تھی جو ترکی کے دورے پر گئے تھے کیونکہ ہندوستان اور ترکی کے مابین تعلقات اب خراب ہیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سی آئی ڈی اسپیشل برانچ شوکت سورور نے بتایا کہ ان کی برانچ کا کوئی عہدیدار ترکی کے سفر کی تحقیقات کے سلسلے میں کسی کے گھر نہیں گیا۔ پچھلے برس جموں و کشمیر کی سیاسی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے پر ترکی نے تنقید کی تھی۔

  • ڈاکٹر معید یوسف اورشہریار آفریدی کی ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ڈاکٹر معید یوسف اورشہریار آفریدی کی ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اقوام متحدہ اور بین

    الاقوامی اداروں میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ مودی حکومت کا کشمیری شناخت مٹانے کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی بھارت کے جارحانہ اقدامات کامیاب ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مظالم اور جارحانہ اقدامات کشمیریوں کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے۔ معید یوسف نے مزید کہا کہ 5 اگست کو کشمیریوں کا بھارتی محاصرے کو ایک سال مکمل ہوگا۔ بھارتی فوج کے مظالم کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد رنگ لائے گی۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا ہے

    بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا ہے

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے دنیا بھر خاص طور پر برطانیہ میں زیر تعلیم طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے عوامی رائے عامہ تیار کرنے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے ناجائز اور غاصبانہ قبضہ کے بارے میں عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے کیلئے اپنی کوششیں تیز تر کریں۔ یہ بات انہوں نے برطانیہ میں قائم پاکستان لیڈر شپ ایسوسی ایشن آف سٹوڈنٹس اینڈ ایلومنائی (پلاسا) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفد جس کی قیادت طالب علم رہنما عدیل احمد کر رہے تھے نے جموں وکشمیر ہاؤس میں صدر آزادکشمیر سے ملاقات کی اور اُن سے اپنی تنظیم کی سرگرمیوں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اپنی گفتگو میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے غیر قانونی قبضہ کو دوام بخشنے اور کشمیریوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہا ہے، انہیں جعلی مقابلوں میں شہید کیا جا رہا ہے، پیلٹ گنوں کے استعمال سے انہیں بصارت سے محروم کر رہا ہے اور بڑی تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں جیلوں اور ملٹر عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض فوج یہ سب کچھ اس لئے کر رہی ہے تاکہ آزادی اور حق خودارادیت کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کیا جا سکے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کے تمام تر مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیرکے نوجوان بھارت کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہیں اور اُن کا یہ عزم ہے کہ وہ اپنا جمہوری اور جائز حق، حق خودارادیت لے کر رہیں گے اور اس جدوجہد میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی میں نوجوان ہی ہراول دستہ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ برطانیہ کی کوین میری یونیورسٹی، کنک کالج اور سٹی یونیورسٹی لندن سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں پلاسا کی سرگرمیوں کی تعریف کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ آئندہ آنے والے تین چار عشروں کے حالات اور قومی ضروریات کو سامنے رکھ کر اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور اپنے آپ کو جدید علوم، سائنس و ٹیکنالوجی، کاروباری مہارتوں اور حکومت اور گورننس سے متعلق علوم سے آراستہ کر کے پاکستان کو دنیا کا ایک مضبوط اور مستحکم ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے بغیر مقبوضہ کشمیر کی آزادی ممکن ہے اور نہ ہی بھارت کے مسلمان محفوظ ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفد کے قائد عدیل احمد نے صدر سردار مسعود خان کا برطانوی جامعات اور کالجز تک پہنچنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی خواہش ہے کہ صدر برطانیہ بھر میں پھیلی ہوئی جامعات کے طلبہ تک پہنچ کر انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور قومی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور اس مقصد کے لئے پہلے سے کام کرنے والی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کریں۔ طلبہ کے وفد نے آزادکشمیر کے سرکاری شعبہ میں قائم جامعات کے وائس چانسلر ز حضرات سے ملنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

  • مقبوضہ کشمیر، ہندو یاتری ڈل جھیل پر اپنی تربیت بتاتے ہوئے

    مقبوضہ کشمیر، ہندو یاتری ڈل جھیل پر اپنی تربیت بتاتے ہوئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ڈل جھیل کے قریب ہندو یاتریوں کی ایک تصویر سامنے آئی ہے

    صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں ہندو یاتری ڈل جھیل کے پاس کنارے کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے ہیں، صارف نعیم اختر نے ساتھ پیغام میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ڈل جھیل کی خوبصورتی کو یہ لوگ تباہ کر رہے ہین، یہ کون ہیں اندازہ کرنے کی ضرورت نہیَ یہ اپنے کپڑوں سے پہچانے جائیں گے

    واضح رہے کہ وادی کشمیر کی ایک جھیل ڈل جھیل ہے اور سری نگر کا شہر اسی کے کنارے آباد ہے۔ دنیا کی چند ممتاز سیرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ چونکہ دریائے جہلم اس کے بیچ سے ہو کر نکلتا ہے اس لیے اس کا پانی شریں ہے۔سرینگر شہر کے بیچ 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل میں دلہن کی طرح سجائی گئی ہاؤس بوٹس اور شکارے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

    ڈل جھیل کو دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان سمجھا جاتا ہے اور یہ عالمی شہرت یافتہ جھیل موسمِ گرما میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کی چہل پہل سے کِھل اٹھتی تھی لیکن ہندو یاتریوں نے ڈل جھیل کے پاس آکر جو کام شروع کیا اس نے سب کو شرما دیا

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی مقدس امرناتھ یاترا کے انعقاد کی اجازت عدالت نے دی تھی جس کے بعد ہندو یاتری مقبوضہ کشمیر پہنچے ہیں۔ وبائی مرض کرونا کی وجہ سے ياترا پر جانے والوں کے لئے سخت قوائد و ضوابط طے کئے گئے ہیں اور حفاظتی انتظامات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

    بھارت کے مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بھی دو روز قبل اپنے دو روزہ دورہ لداخ اور جموں و کشمیر کے دوسرے دن جنوبی کشمیر میں سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع شری امرناتھ جی گھپا میں درشن کے لئے حاضر ہوئے جہاں انہوں نے کورونا وبا سے نجات کے لئے دعا مانگی تھی

    اس موقع پر ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل ایم ایم ناروانے بھی تھے۔دفاعی ذرائع کے مطابق موصوف مرکزی وزیر نے اس دوران یاترا کے لئے عملی شکل دیے جانے والے انتظامات کے علاوہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا

  • اقوام متحدہ ڈارفر ، مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو بھی استصواب رائے کا حق دے. شہریارآفریدی

    اقوام متحدہ ڈارفر ، مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو بھی استصواب رائے کا حق دے. شہریارآفریدی

    پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے صدر شہریار خان آفریدی نے اتوار کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں غیر قانونی فوجی چھاؤنیوں کے اہل بنانے کے لئے نئے قانون بنانے کے لئے بھارتی قابض حکومت کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس غیر قانونی عمل کو روکنے کے لئے کارروائی کریں۔ یوم یکجہتی یوم منانے کے لئے نیشنل پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ نئے قوانین مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کے ہندوستانی منصوبے کا ایک حصہ ہیں جس میں مسلم اکثریتی کشمیر کو مصنوعی طور پر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    آفریدی نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کے لئے تیار کیا گیا ایک مذموم منصوبہ ہے۔ دنیا کو اب اس ناپاک منصوبے کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مذموم منصوبے کے تحت ہزاروں ہندوستانی مزدوروں کو فوجی چھاؤنیاں بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر لایا گیا ہے۔ کشمیرمیں بھارتی فوجی کیمپوں کے گرد وسیع پیمانے پر تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ہندوستانی فوج کے دستوں کے لئے ہزاروں رہائشی فلیٹ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعمیراتی عمل اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور اس کے کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازعہ قرار دئیے گئے علاقے میں ہندوستانیوں کو آباد کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا کو بھارت کو خطے میں اس کے مضمرات کے بارے میں نوٹ کرنا چاہئے اور اسے متنبہ کرنا چاہئے۔ آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ علاقے میں رائے شماری کے انعقاد کے لئے کشمیر سے متعلق اپنی اپنی قراردادوں پر عمل کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکام رہا تو اقوام متحدہ کا حشر لیگ آف نیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔آفریدی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہزاروں ہندوستانیوں کو شہریت کے حقوق دیئے گئے ہیں اور انہی مقبوضہ کشمیر میں منتقل کیا جارہا ہے۔آفریدی نے مزید کہا کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران سینکڑوں غیر مقامی شہریوں کو کشمیر لے جایا جارہا ہے اور وہ ہندوستانی قابض فوج کے کیمپوں کے قریب دور دراز علاقوں میں آباد کئے جارہےہیں۔ اس سے کشمیریوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جابرانہ قبضے کے باوجود ، کشمیری عوام نے پاکستان اور کشمیری عوام نے ساتھ الحاق کی خواہش ترک نہیں کی ، انہوں نے پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور اب بھی بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اور "پاکستان زندہ باد” کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق اور ہندوستان سے آزادی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیریوں کو سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتی رہیگی۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنے نامکمل ایجنڈے پر عمل پیرا ہو اور کشمیریوں کے حق خودارادیت (آر ایس ڈی) کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے۔ بھارتی جارحیت کشمیریوں کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ ہندوستانی قابض فوجی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے نہیں دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں کشمیری آج یوم پاکستان الحاق کا دن منا رہے ہیں ، بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں لاتعداد مظالم ڈھائے ہوئے ہیں ، اور نہتے کشمیری عوام محض پتھروں سے ہندوستان والی فوج کا مقابلہ شہادتوں دیکر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کے لئے مرد ، خواتین اور بچے شہادت دے رہےہیں ، زخمی ہو رہے ہیں ، جیلوں میں ہیں ، تاکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری ان کی آوازوں پر توجہ دے سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈارفور (جنوبی سوڈان) اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے وعدے کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے لئے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جانا چاہئے۔ لیکن اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کر رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور دیگر نے بھی فورم سے خطاب کیا۔

  • شہبازشریف کا یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین

    شہبازشریف کا یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کی منزل ایک ہے، اسی لئے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے پہلے الحاق پاکستان کا فیصلہ کیا۔ 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں الحاق قراردادپاکستان متفقہ منظور کی گئی ۔کشمیریوں کی اصولی، قانونی اور جمہوری جدوجہد میں ہر پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اسی طرح کشمیریوں کا ہے جس طرح فلسطین فلسطینیوں کا اور انگلستان انگریزوں کا ہے۔ بھارت کے جبرواستبداد اور ظلم کے ہتھکنڈے کشمیریوں کو ان کے بنیادی نصب العین سے دستبردار نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، نسل در نسل کشمیریوں نے الحاق پاکستان کا پہرہ دیا ہے، کشمیری اپنے لہوکے نذرانے دے کر قرارداد الحاق پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں۔ کشمیری قوم کے حوصلے، عزم واستقلال اور جرات وبہادری تاریخ کا بے مثل باب بن چکی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی آزادی تک ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بہ شانہ رہے گا۔

  • کشمیری یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے پیغام

    کشمیری یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے پیغام

    مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اس موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے، اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آزادی کی خاطر کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیربرصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ عالمی برادری کو کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ سے کشمیر میں بھارت کی فاشسٹ حکومت کی جانب سے جبری لاک ڈاؤن جاری ہے۔72 سالوں سے کشمیری عوام اپنی جدو جہد آزادی کی جنگ لڑ رہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل کا اجراء غیر قانونی عمل ہے،اسد قیصرنے اس حوالے سے کہا کہ عالمی برادری بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوری حکومت نے اپنے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے خطہ کو جنگ کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت اور اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پر عزم ہے۔کشمیر میں بھارت کی طرف سے طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جدید معاشرے کی اخلاقی اقدار اور عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے منافی ہے۔

    ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کے لیے کی جانے والی کوششیں راہیگاں نہیں جائیں گی۔کشمیری عوام بہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی حکومت کشمیری کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے عالمی دنیا کے سامنے کشمیری عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیاہے۔عالمی برادری کوکشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرنے کے عمل کو رکوانا ہو گا۔