آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے جس کا جواب اسی ہتھیار سے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کریں اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر کے دشمن کو جارحانہ انداز میں جواب دیں۔ بھارت امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین سمندر پار پاکستانیوں کی صورت میں ایک ایسی طاقت ہے جس کو استعمال کر کے ہم بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس فسطائی حکومت کو دنیا کے سامنے ننگا کر سکتے ہیں۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز، پارلیمان کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے فوڈز سکیورٹی سید فخر امام، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے معاون خصوصی معید یوسف، سینیٹر ولید اقبال اور آزادکشمیر کی سابق وزیرفرزانہ یعقوب نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور یہ محض ہمارا خدشہ نہیں بلکہ یہ دھمکی آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگت، نریندر مودی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت نے ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک پر روایتی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے ہم محض دھمکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا، وہاں نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے بھارتی شہریوں کو بسانے کی راہ ہموار کی اور اب جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر وہاں نئی آبادیاں تعمیر کرے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریاست عملاً فوجی گریژن میں تبدیل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو عد م استحکام کا شکار کر کے تباہ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے اور وہ جوہری جنگ سے بچ کر روایتی جنگ کی صورت میں کوئی بھی شر انگیزی کر سکتا ہے۔ بھارت نے جو جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا جواب جارحانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دشمن کے خونی جبر میں پھنسے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر سوچنی ہے کیونکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں جنہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جنگ ہماری بقا، پہچان اور دین و تہذیب کی جنگ ہے جسے بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی اہم پارلیمان کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں لکھ رہے ہیں اور ریاست پاکستان اور کچھ دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی طور پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لا کر اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر سید فخر امام کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے رائے عامہ اور پارلیمانی قوتوں کو متحرک کر کے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارا دا کیا جس کے لئے ہم اُن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔
Category: کشمیر
-

بھارت نےپاکستان پرہائبرڈ وارمسلط کردی ہےجس کا جواب اسی ہتھیارسےدینے کےلئےضروری ہے: سردار مسعود خان
اسلام آباد:بھارت نےپاکستان پرہائبرڈ وارمسلط کردی ہےجس کا جواب اسی ہتھیارسےدینے کےلئےضروری ہے:اطلاعات کے مطابق آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے جس کا جواب اسی ہتھیار سے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کریں اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر کے دشمن کو جارحانہ انداز میں جواب دیں۔ بھارت امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین سمندر پار پاکستانیوں کی صورت میں ایک ایسی طاقت ہے جس کو استعمال کر کے ہم بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس فسطائی حکومت کو دنیا کے سامنے ننگا کر سکتے ہیں۔
کانفرنس سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز، پارلیمان کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے فوڈز سکیورٹی سید فخر امام، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے معاون خصوصی معید یوسف، سینیٹر ولید اقبال اور آزادکشمیر کی سابق وزیرفرزانہ یعقوب نے بھی خطاب کیا۔
صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور یہ محض ہمارا خدشہ نہیں بلکہ یہ دھمکی آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگت، نریندر مودی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت نے ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک پر روایتی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے ہم محض دھمکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا، وہاں نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے بھارتی شہریوں کو بسانے کی راہ ہموار کی اور اب جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر وہاں نئی آبادیاں تعمیر کرے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریاست عملاً فوجی گریژن میں تبدیل ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو عد م استحکام کا شکار کر کے تباہ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے اور وہ جوہری جنگ سے بچ کر روایتی جنگ کی صورت میں کوئی بھی شر انگیزی کر سکتا ہے۔ بھارت نے جو جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا جواب جارحانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دشمن کے خونی جبر میں پھنسے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر سوچنی ہے کیونکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں جنہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جنگ ہماری بقا، پہچان اور دین و تہذیب کی جنگ ہے جسے بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی اہم پارلیمان کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں لکھ رہے ہیں اور ریاست پاکستان اور کچھ دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی طور پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لا کر اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
صدر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر سید فخر امام کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے رائے عامہ اور پارلیمانی قوتوں کو متحرک کر کے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارا دا کیا جس کے لئے ہم اُن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
-

مقبوضہ کشمیر میں آپریشن کے دوران تصادم،2 حریت پسند شہید ،ایک بھارتی فوجی زخمی
مقبوضہ کشمیر میں آپریشن کے دوران تصادم،2 حریت پسند شہید ،ایک بھارتی فوجی زخمی
مقبوضہ کشمیر میں سرینگر کے رنبیر گڑھ علاقے میں ہفتے کی صبح سکیورٹی فورسز اور حریت پسندوں کے مابین تصادم میں2 حریت پسند کے شہید ہونے کی خبر ہے جبکہ ایک بھارتی فوجی زخمی ہوا ہے۔
مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرینگر کے بیرونی علاقے رنبیر گڑھ میں صبح سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم کے بعد آئی جی پی کشمیر نے بتایا کہ ‘انکاونٹر کے دوران2 عسکریت پسند شہید ہوئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ میں ایک فوجی بھی زخمی ہوا ۔
ضلع سرینگر میں 2000سے اب تک 245مختلف واقعات میں 526افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ727واقعات میں832افراد شہید کئے گئے جن میں399شہری شامل ہیں۔ضلع میں اسی عرصے میں 387سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔ 21خود کش حملوں میں 55 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 185زخمی ہوئے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں85واقعات میں171کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ,مئی میں16، جون میں 51، اور جولائی میں 24کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 34سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے93واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 18واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں81مختلف واقعات میں 163افراد کو گرفتار کیا گیا۔
سرکاری اعداد وشمارکے مطابق2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں 160 عسکریت پسند وں کوشہید اور 102 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
-

مقبوضہ کشمیر، 11ماہ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں،لاک ڈاؤن سے معیشت کو 40 ہزار کروڑ کا نقصان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 11ماہ میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی گئیں
مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کی نئی میڈیا پالیسی ‘آزاد میڈیا’ اور ‘اظہار رائے کی آزادی’ پر حملہ قرار دیا گیا، لاک ڈائون کا ایک سال، مقامی معیشت کو 40ہزار کروڑ کا نقصان ہوا،انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ جاری کر دی
اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ میں ، جموں و کشمیر میں لاک ڈان کے دوران انسانی حقوق پر پائے جانے والے اثرات سے متعلق ایک رپورٹ نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے گذشتہ سال 5 اگست سے ہونے والے تمام اقدامات کو واپس لینے کے لئے کہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے 11 مہینوں کے دوران طاقت کے استعمال کو عوامی ، شہری اور انسانی سلامتی کے مقابلے میں ترجیح دی گئی ہے ، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہوئی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضمانت اور حق اور فوری مقدمے کی سماعت کے حق سے عوام کو محروم کیا گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی اظہار آزادی رائے کو ختم کرنے کے لئے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچاو کے ایکٹ (UAPA) جیسے سخت قوانین کا استعمال کیا گیا۔
”دی فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر”نامی تنظیم نے پی ایس اے کو فوری طور پر منسوخ کرنے اور بقیہ سیاسی رہنماوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جن میں ، پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی شامل ہیں۔جموں و کشمیر کے حقوق انسانی کے فورم کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد ، چین تنازعہ کشمیر کا تیسرا فریق بن گیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ ایک سال سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے مقامی معیشت کو تقریبا 40 ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے ۔یہ انکشافات ”دی فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر”نامی تنظیم نے اپنی رپورٹ بعنوان ‘جموں و کشمیر: انسانی حقوق پر لاک ڈائونز کے اثرات (اگست 2019 تا جولائی 2020 )میں کیا ہے ۔21 ممتاز ہندوستانی شہریوں پر مشتمل اس فورم کی سربراہی سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر اور سابق خاتون مذاکرات کار برائے جموں و کشمیر پروفیسر رادھا کمار کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے کشمیری عوام ہندوستان اور اس میں رہنے والے عوام سے مکمل طور پر بیگانہ ہوگئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کیخلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے کالے قانون ”یو اے پی اے ” کے تحت مقدمے درج کئے جاتے ہیں۔ اس میں مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کی نئی میڈیا پالیسی کو ‘آزاد میڈیا’ اور ‘اظہار رائے کی آزادی’ پر حملہ قرار دیا گیا ہے ۔جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ، جن کے تحت غیر مقامی شہری بھی یہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں، نے اس یونین ٹریٹری میں بے روزگاری بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے
وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم
نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان
کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران
کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں
وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا
مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت
یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا
کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب
وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان
کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ
مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ
برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال
‘کشمیر’ کئی طریقوں سے ہندوستان کی جمہوریت کیلئے لٹمس ٹیسٹ تھا لیکن ہم اس میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 70 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری مسلسل لاک ڈائون کے تعلیمی شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سست رفتار 2G موبائل انٹرنیٹ خدمات کے باعث آن لائن کلاسزکا انعقاد ناممکن ہوگیا ہے
-

سرینگر میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ
سرینگر میں سرچ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سرینگر کے علاقے رنبیرگڑھ پنزی نارہ لاوے پورہ میں سرکاری فورسز اور مجاہدین کے مابین تصادم شروع ہواہے ، جہاں مبینہ طور پر 2 سے 3 مجاہدین کے موجود ہوئے ہونے کی اطلاع ہے۔ فائرنگ جاری ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع بڈگام کے علاقے چاڈورہ سے تین کشمیری نوجوانوں کوگرفتار کرلیا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پلوامہ کے رہائشی جاوید احمد بٹ ، ڈانگر پورہ کے رہائشی اعجاز وانی اور خان صاحب کے رہائشی عاقب گنائی کو بھارتی فوج ، پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے مشترکہ طور پرشروع کی گئی تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران ضلع کے علاقے چاڈورہ سے گرفتار کیاگیا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ گرفتار کئے گئے نوجوان مجاہدین کیلئے کام کرتے تھے اور وہ انہیں لاجسٹک سپورٹ اور پناہ دینے میںملوث تھے ۔ تاہم نوجوانوں کے رشتہ داروں اورمقامی لوگوں نے پولیس کے اس دعوے کومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ گرفتار کئے گئے تینوں نوجوان بے قصور ہیں ۔
مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے لیرو میں محاصرہ شروع کیا گیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سیکیورٹی ایجنسیوں کو علاقے میں متعدد عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ملی ہے جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق علاقے کے سبھی داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا گیا ہے اور گھر گھر تلاشی شروع کر دی گئی ہے۔لیرو گاوں کولگام ٹاون سے تین کلو میڑ دور ہے۔علاقے میں مزید سیکیورٹی فورسز کو طلب کیا گیا ہے۔سی آر پی ایف، ایس او جی اور کئی سیکیورٹی ایجنسیاں علاقے کی طرف روانہ ہوگئی ہیں۔آخری اطلاع ملنے تک تلاشی کارروائی جاری تھی۔
-

یاد رکھیں ان پاکستانیوں کوجوبھارتی جیلوں میں ذہنی توازن کھوبیٹھے ،مگریہاں کلبھوشن کورعائتیں دی جاری ہیں
یاد رکھیں ان پاکستانیوں کوجوبھارتی جیلوں میں ذہنی توازن کھوبیٹھے ،مگریہاں کلبھوشن کورعائتیں دی جاری ہیں،باغی ٹی وی کےمطابق جب سے بھارتی جاسوس اورپاکستان میں دھشت گردی کے ذریعے قتل عام کرنے و الے بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیوکوریلیف دینے کی باتیں ہورہی ہیں وہاں بھارت میں قید پاکستانیوں پرہونے والے بھارتی مظالم کی داستانیں بھی ہرکان تک سنائی دے رہی ہیں
باغی ٹی وی کے مطابق حکومت کی طرف سے بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیوریلیف دینے کی خبریں منظرعام پرآئی ہیں تب سے ان پاکستانیوں کی طرف سے سخت ردعمل بھی سننے میں مل رہا ہےجن کے پیارے بھارتی جیلوں میں سخت مصائب اورمظالم برداشت کررہےہیں
جب بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کوسہولتیں دی جا رہیں تب بھارتی جیلوں میں پچیس سال سےقید بےگناہ متعدد پاکستانی ذہنی توازن کھو چکے ہیں،15 سال کی عمر میں غلطی سےسرحد پارکرنے والےایسے ہی بچے کےبھائی کی فریادجوچھبیس سال سےبھارتی جیل میں قیدہےحکومت پاکستان کی فوری توجہ درکار @SMQureshiPTI pic.twitter.com/FwGp6TAqD2
— Arshad Waheed Ch (@arshad_Geo) July 24, 2020
ایسے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرارشد وحید چوہدری کی طرف سے ایک بہت اہم نقطہ شیئرکیا گیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کوسہولتیں دی جا رہیں تب بھارتی جیلوں میں پچیس سال سےقید بےگناہ متعدد پاکستانی ذہنی توازن کھو چکے ہیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ 15 سال کی عمر میں غلطی سےسرحد پارکرنے والےایسے ہی بچے کےبھائی کی فریادجوچھبیس سال سےبھارتی جیل میں قیدہےحکومت پاکستان
-

شہریار آفریدی کا آسیہ انداربی کی حمایت میں سینیٹ کی قرارداد کا خیرمقدم
چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے کشمیری مزاحمتی رہنما اور دختران ملت ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی

سے اظہار یکجہتی کے لئے سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید کی پیش کردہ قرارداد کی تعریف کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے باشعور لوگ آج منظور کی جانے والی قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاشسٹ بھارتی حکومت کی طرف سے جھوٹے مقدمات درج کرنے کے بعد محترمہ آسیہ انداربی، ان کی معاون ناہیدہ نسرین اور میڈیا سکریٹری فہمیدہ صوفی پچھلے تین سالوں سے ہندوستان کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بند ہیں. انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ، اقوام متحدہ کے خواتین کے حقوق اور دیگر انسانی حقوق کے فورموں پر زور دیا کہ وہ بھارت کی نئی دہلی کے شہر تہاڑ جیل میں سزا کے سیل میں منتقل ہونے والے تینوں افراد کو اس معاملے میں توجہ دلائیں جہاں بدنام زمانہ قاتلوں، عادی مجرموں اور عصمت دری کرنے والوں کو رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے آزادی پسند کارکن جو دراصل ”ضمیر کے قیدی” ہیں لیکن ان کے ساتھ بدنام زمانہ مجرموں اور ٹھگوں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے۔ آفریدی نے کہا کہ ہندوستانی فاشسٹ حکومت کے ذریعہ اس طرح کے انتہائی سخت اقدامات سے بہادر کشمیری آزادی سے محبت کرنے والے لوگوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی بلکہ آزادی کے شعلے کشمیری عوام کے دلوں میں مضبوط تر ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے لئے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ -

سینیٹ آف پاکستان نے دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی پربھارتی مظالم کےخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی
اسلام آباد:سینیٹ آف پاکستان نے دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی پربھارتی مظالم کےخلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی،اطلاعات کے مطابق سینیٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو تہاڑ جیل کی سزا وارڈ میں منتقل کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مذمتی قرارداد منظور کرلی۔ جمعہ کو سینیٹر مشاہدحسین سید نے قرارداد پیش کی، جسے ہاوس نے مشترکہ طور پر منظور کرلیا۔
قرارداد کشمیر یوتھ الائنس کی سفارش پر پیش کی گئی۔ قرارداد میں سینیٹ ارکان نے کشمیر کی آزادی کی تحریک میں کردار ادا کرنے پر آسیہ اندرابی کو خراج تحسین پیش کیا۔سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیدی رہنما کو تہاڑ جیل میں قید تنہائی وارڈ میں منتقل کرنے کی مذمت کی ہے اور آسیہ اندرابی کی رہائی کامطالبہ کیا۔
سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیدی رہنما کو تہاڑ جیل میں قید تنہائی وارڈ میں منتقل کرنے کی مذمت کی ہے اور آسیہ اندرابی کی رہائی کامطالبہ کیا۔آج مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر ہڑتال کی جارہی ہے ، اس موقع پر احتجاج اور مظاہرے کیے گئے۔
اپنے بیان میں کشمیر یوتھ الائنس کے صدر اور سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے ڈاکٹر مجاہد گیلانی نے سینیٹ ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ آسیہ اندرابی کیلئے آواز اٹھائیں۔
-

سینیٹرمشاہدحسین سیّد کا دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی کوخراج عقیدت ، مودی سرکارکی مذمت
اسلام آباد:سینیٹرمشاہدحسین سیّد کا دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی کوخراج عقیدت ، مودی سرکارکی مذمت، اطلاعات کے مطابق سینیٹرمشاہد حسین سید نے سینیٹ میں گفتگوکرتے ہوئے کشمیری خاتون رہنما دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی کی جدوجہد کوسلام پیش کیا ہے
باغی ٹی وی کے مطابق سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے آسیہ اندرابی کی کشمیریوں کے لیے جدوجہد پرآوازبلند کرنے پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یقینا آپ ایک بہادرخاتون ہیں اورکشمیریوں کی آزادی کے لیے اپنی زندگی قربان کردی ہے
#StandWithAasiyaAndrabi Brave Kashmiri freedom fighter & political prisoner, Mohtarma Aasiya Andrabi Sahiba, is now illegally jailed in Delhi’s notorious Tihar Jail’s isolation punishment ward by the Modi regime, on which Senate passed resolution of solidarity which I initiated pic.twitter.com/LW5yfCg8BP
— Mushahid Hussain Sayed (@Mushahid) July 24, 2020
مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ آپ کواس عظیم مقصد کےلیے بڑے لمبے عرصے سے جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکارنے مظالم کے پہاڑ توڑدیئے ہیں اورتہاڑجیل میں ڈال کی ایک عظیم خاتون کی جدوجہد کوختم کرنے کی کوشش کی ہے ،
مشاہد حسین سید نے کہا کہ آج سینیٹ نے آپا آسیہ اندرابی کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے جوعملی ثبوت دیا ہے وہ اس عمل کو سراہتے ہیں اورکشمیریوں کی جدوجہدآزادی کی حمایت کرتے ہیں
-

دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی سے اظہار یکجہتی کیلئے ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
اسلام آباد :دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی سے اظہار یکجہتی کیلئے ٹوئیٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ،اطلاعات کے مطابق دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی سے اظہار یکجہتی کیلئے ٹوئیٹر پر دوسرے روز بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، ہیش ٹیگ آسیہ اندرابی کے ساتھ یکجہتی ٹاپ ٹرینڈ بنا جس میں ہزاروں افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عظیم خاتون کو خراج تحسین پیش کیا،
کشمیر یوتھ الائنس کے چیئرمین سعد ارسلان صادق اور سیدہ آسیہ اندرابی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کی اپیل پر دوسرے روز بھی سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوانوں نے باہمت خاتون کے ساتھ مکمل یکجہتی کرتے ہوئے بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ اس سے قبل کشمیر یوتھ الائنس کی سفارش پر سینیٹ میں آسیہ اندرابی سے اظہار یکجہتی کیلئے خصوصی قرارداد پیش کی گئی اور عظیم رہنما کو سینیٹ کی جانب سے سلام پیش کیا گیا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کی خاتون علیحدگی پسند رہنما اور دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھی خواتین کو تہاڑ جیل کے بدنام زمانہ سزا وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ جس کے بارے میں ان کے بیٹے محمد بن قاسم نے ٹویٹ کرکے آگاہ کیا۔
