Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں پہلے غیر ریاستی بھارتی افسر کو مستقل شہریت دے دی گئی

    مقبوضہ کشمیر میں پہلے غیر ریاستی بھارتی افسر کو مستقل شہریت دے دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کیڈر کے ایک سینئر آئی اے ایس افسر نوین کمار چودھری انتظامی خدمات کے افسران سے جموں وکشمیر کے پہلے مستقل رہائشی بن گئے

    نوین کمار چودھری کو ڈومیسائل سرٹیفکٹ جموں خطے کے گاندھی نگر کے تحصیلدار نے جاری کیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نوین چودھری ریاست بہار کے رہنے والے ہیں اور وہ گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے جموں و کشمیر میں تعینات ہیں اور اس وقت محکمہ زراعت اور باغبانی کے پرنسپل سکریٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔

    گزشتہ برس پانچ اگست دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بی جے پی نے جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی نظام ختم کرکے ملک کے کسی بھی شہری کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی بننے کی راہ ہموار کی تھی۔اس سے قبل دفعہ 34 اے کے تحت فقظ جموں و کشمیر کے باشندوں کو یہ حق حاصل تھا۔

    نئے قوانین کے مطابق ملک کے کسی بھی شہری جس نے جموں و کشمیر میں 15 برس سے سرکاری یا کسی نجی ادارے میں کام کیا ہو، یا اس کے کسی بچے کو یہاں کے اسکول کی سند ہو وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہناہے کہ نئے ڈومیسائل سے جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب بدلنے سے یہاں کا مسلم اکثریتی نظام ختم کرنے کی سازش ہے۔لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو نے پیر کے روز جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفکٹکی ای ایپلیکیشن کو لانچ کیا ۔جموں و کشمیر ای گورننس ایجنسی کے ذریعے ڈومیسائل سرٹیفکٹ حاصل کرنے کے لیے آن لائن خدمات فراہم کی گئی ہیں۔

  • ترال میں طویل آپریشن کے دوران جھڑپ میں 3 کشمیری نوجوان شہید ، 2 بھارتی اہلکار زخمی

    ترال میں طویل آپریشن کے دوران جھڑپ میں 3 کشمیری نوجوان شہید ، 2 بھارتی اہلکار زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جمعرات کی شام سے جنوبی ضلعے پلوامہ کے علاقے ترال کے چیوا اولر گاوںمیں آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جاری طویل جھڑپ میں جمعے کی صبح 3 کشمیری نوجوان شہید جبکہ فوجی جوان اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔ علاقے میں رات بھر سے گولیوں اور دھماکوں کی گونج سے علاقے میں خوف وسراسیمگی کا ماحول رہا۔جمعرات کی شام عسکریت پسندوں کے چھپنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر ترال ہیڈکوارٹر سے 5کلو میٹر دور چیوہ اولر مندورہ ترال کا 42آر آر ، 180بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا جس کے دوران یہاں مسلح جھڑپ شروع ہوئی۔

    پولیس نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ انہیں گائوں میں کم سے کم 3عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس پرانکے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی گئی۔ شام قریب 6بجے گائوں کا محاصرہ کیا گیا جس کیساتھ یہاں چند فائر ہوئے جس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔7بجے کے بعد مسلح جھڑپ شروع ہوئی جو رات قریب 11بجے تک جاری رہی۔ پولیس نے بتایا کہ بستی میں لوگوں کو ایک ہی جگہ جمع کیا گیا ہے۔ جھڑپ کے دوران پولیس اور فوج کے ایک ایک اہلکار زخمی ہوئے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پتھر لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔تصادم شروع ہوتے ہی حکام نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے شمالی کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبہ کے ہرد شیوہ گاوں میں جمعرات کو علی الصبح آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم میں 2کشمیری نوجوان 21سالہ ولید بشیر و لد بشیر احمد میر ساکن بہرام پورہ رفیع آباد اور34سالہ بلال احمد پرے ساکن یمبر زل واری سوپورشہید ہو گئے۔ ۔5مارچ 2020کو 5نوجوان سوپور اور پٹن علاقوں سے لاپتہ ہوگئے تھے جن میں یہ دونوں نوجوان بھی شامل تھے۔ان میں سے پہلا نوجوان25سالہ مدثر احمد بٹ ساکن شتلو رفیع آباد 7روز بعد ہی شہید ہوا تھا۔گروپ میں شامل26سالہ فیاض احمد وار ساکن وارہ پورہ سوپور اور وسن پٹن کا 26سالہ عنایت اللہ میر بھی شہید ہوچکے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 1011 واقعات میں 924عسکریت پسندِ 440 شہری اور 58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 316 سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں142کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ، مئی میں 16اور جون میں 46کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 30سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

  • بھارتی فورسز کی لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی، فائرنگ سے خاتون زخمی،پاک فوج کا بھرپورجواب

    بھارتی فورسز کی لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی، فائرنگ سے خاتون زخمی،پاک فوج کا بھرپورجواب

    راولپنڈی: بھارئ فورسز نے ایل او سی پر ایک دفعہ پھر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ دشمن کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل او سی کے کریلا سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فورسز کی فائرنگ سے خاتون شدید زخمیہو گئی۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی فورسز کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔

     

     

    خیال رہے کہ بیس جون کو بھی بھارتی افواج کی فائرنگ سے ایک بچی شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے تھے۔ بھارتی فوج نے ایل او سی کے حاجی پور اور بیڈوری سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

    بیڈوری سیکٹر کے مینسر گاؤں میں بھارتی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ سے 13 سالہ معصوم بچی اقرا شبیر شہید جبکہ اس کی ماں اور ایک 12 سالہ لڑکا شدید زخمی ہو گئے تھے۔

    لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ تھماتے ہوئے زور دیا گیا کہ بھارت 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔ بھارتی قابض افواج لائن آف کںٹرول اور ورکنگ باوئنڈری پر سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ رواں برس بھارت نے 1440 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ بھارتی اشتعال انگیزی سے رواں برس 13 افراد شہید جبکہ 104 شدید زخمی ہوئے۔

  • کرونا لاک ڈاؤن کےبعد دنیا کواندازہ ہوگیاکہ لاک ڈاؤن میں رہنا کتنا مشکل ہے:کشمیریوں کےلاک ڈاون کااندازہ ہوگیا ہوگا:کشمیریوتھ الائنس

    کرونا لاک ڈاؤن کےبعد دنیا کواندازہ ہوگیاکہ لاک ڈاؤن میں رہنا کتنا مشکل ہے:کشمیریوں کےلاک ڈاون کااندازہ ہوگیا ہوگا:کشمیریوتھ الائنس

    اسلام آباد:کرونا لاک ڈاؤن کے بعد دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں رہنا کتنا مشکل ہے۔کشمیریوں کے لاک ڈاون کا اندازہ ہوگیا ہوگا : کشمیر یوتھ الائنس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں پربڑھتے ہوئے مظالم اورکوڈ19- بحران کے خطرات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آنلائن ویبنارکی سیریز کا آغاز کیا ہے،

    اس سلسلے میں پہلا ویبنار گزشتہ روز منعقد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی وممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق ابراہیم،صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر مجاہد گیلانی،سعد ارسلان صادق،مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون کشمیری رہنما شائستہ صفی،کاشف ظہیر،طہ منیب،رضی طاہر،نوید احمد،کشمیر ایکٹوسٹ ثاقب ریاض، سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

    آنلائن ویبنار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق ابراہیم،شائستہ صفی،ڈاکٹر مجاہد گیلانی ودیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حاملہ عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، ہندوستان کرونا کی آڑ میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے،بھارتی فوج نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر والدین کے سامنے شہید کررہی ہے،

    مقررین کا کہنا تھا کہ ہندوستان سمجھتا ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں پر تشدد وبربریت سے آزادی کی آواز کو دبا لے گا لیکن ہندوستان یاد رکھے کشمیر کا ہر بچہ سید علی گیلانی اور ہر بیٹی آسیہ اندرابی ہے،کشمیر ی نوجوان ماسٹر اور پی ایچ ڈی تعلیم حاصل کرنے کے بعدآزادی کیلئے جان قربان کررہے ہیں تو کشمیری لڑکیاں پتھر لے کر بھارتی افواج کے مدمقابل ہیں،کشمیر کے نوجوان آزادی کی صبح تک جدوجہد جاری رکھیں گے

  • بھارتی فوج کا ظلم جاری ، 5 بےگناہ کشمیری نوجوان مجاہدین سے تعلق کے الزام میں گرفتار

    بھارتی فوج کا ظلم جاری ، 5 بےگناہ کشمیری نوجوان مجاہدین سے تعلق کے الزام میں گرفتار

    بھارتی فوج کا ظلم جاری ، بےگناہ کشمیری نوجوان مجاہدین سے تعلق کے الزام میں گرفتار

    سرینگر (باغی ٹی وی ) مقبوضہ کشمیر میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں پولیس نے لشکر طیبہ سے وابستہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ کو تباہ اور پانچ نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس اور فوج کے 2 آر آر نے ناربل علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران پانچ نوجوانوں کوگرفتار کیا ہے۔

    پولیس نے الزام لگایا ہے کہ گرفتار شدہ نوجوان کرہامہ بڈگام سے تعلق رکھنے والے عمران رشید، چیک کاوسا کے افشان احمد گنائی،کاوسا خلیسہ کے اویس احمد، کرہامہ کے محسن قادر، ماگام کے عابد راتھر لشکر طیبہ کے معاونین ہیں

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خفیہ کمین گاہ سے اسلحہ کا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ جن میں اے کے 47 کے 28 لائیو رونڈز، ایک اے کے 47 میگزین اور لشیکر طیبہ کے20 پوسٹرز ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے اور مزید کاروائی جاری ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں 2 کشمیری  شہید

    مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں 2 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں 2 کشمیری مجاہد شہید

    سرینگر(باغی ٹی وی )مقبوضہ جموں و کشمیر کے شمالی کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبہ کے ہرد شیوہ گاوں میں جمعرات کو علی الصبح آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم میں 2کشمیری نوجوان شہید ہو گئے ۔
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر زون پولیس نے بتایا کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی ٹیم نے علی الصبح علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ۔ جس کے بعد 4بجکر 30منٹ پر دو طرفہ گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حکام نے انٹرنیٹ سروسز معطل کر دیں۔
    مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کے مطابق رواں برس عسکریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے اور ہر روز دو درجن کے قریب آپریشنز کئے جا رہے ہیں جن میں ایک یا دو ہی کامیاب ہو پاتے ہیں، جبکہ بعض دفعہ کوئی بھی آپریشن کامیاب نہیں ہوتا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دلباغ سنگھ نے سرینگر میں ایک تقریب کے دوران نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ تصادم شروع ہونے سے قبل سیکورٹی فورسز چھپے عسکریت پسندوں کو خود سپردگی کا موقع دیتے ہیں لیکن عسکریت پسند انکی پیشکش کو قبول نہیں کرتے ہیں۔دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند خود سپردگی اسلئے نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان پر تنظیموں کی جانب سے دباو ہوتا ہے اور ایسا دیکھا گیا ہے کہ نئے عسکریت پسند کے ہمراہ پرانا عسکریت پسند بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے نئے عسکریت پسند کو خود سپردگی کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع بارہمولہ میں 2000سے اب تک337مختلف واقعات میں 756 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 1506واقعات میں 1580عسکریت پسند، 608 شہری اور 57نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 468سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔
    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں139کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ، مئی میں 16اور جون میں 43کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 30سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 129افراد کو گرفتار کیا گیا۔
    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پتھراو کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈاون کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

  • لداخ چھننے کے بعد ‏بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا ہے ، ‏محمد عبداللہ حمید گل

    لداخ چھننے کے بعد ‏بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا ہے ، ‏محمد عبداللہ حمید گل

    اسلام آباد:لداخ چھننے کے بعد ‏بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا ہے ،بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا!،اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل مرحوم نے پیش گوئی کی تھی کہ نریندر مودی خود ہندوستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرے گا۔ اب اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ متشدد مودی کے خطے میں جارحانہ ا قدامات سے جنرل صاحب کی پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے ۔

    دنیا نیوز میں‌ چھپنے والے کالم میں محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد لداخ کے متنازع علاقے کے ساتھ بھی کھیلنے کی کوشش کی تو بھارتی فوج کو لداخ میں ہونے والی مسلسل جھڑپوں میں چین کے ہاتھوں شدید ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا۔یعنی چین نے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ متنازع علاقے کا سٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا تو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ لداخ مقبوضہ جموں وکشمیر کا مشرقی حصہ اور چین کے سر حدی کنارے پر واقع ہے جہاں سے مشرق میں اکسائی چن اور چین کے صوبے سنکیانگ کی جنوب مشرقی سرحد ملتی ہے۔اس کی سرحدیں پاکستان کے شمالی علاقے اور سیاچن سے بھی منسلک ہیں جو دنیا کا سب سے بلند میدان جنگ بھی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے آرٹیکل 370 اور 35A اور وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد لداخ کو یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا ۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان دو طرح کا بارڈر ہے‘ ایک LAC اور دوسرا CCL ‘ ان کے درمیان لداخ میں Pangong جھیل پر بھی تنازعہ ہے۔ 134کلومیٹر لمبی اس جھیل کا دو تہائی حصہ اس وقت چین کی تحویل میں ہے۔ یہ جھیل اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ لداخ سے تبت کو ملاتی ہے۔پنگونگ جھیل گلوان وادی میں شمال سے مشرق کی جانب ایل کی شکل میں ہے ۔ اس جھیل کے ساتھ مختلف مقامات کو فنگرز کہا جاتا ہے اور علاقے کو 8 فنگرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔بھارت کا دعویٰ ہے کہ ایل اے سی فنگر 8 سے شروع ہوتی ہے ‘جو چین کے تصرف میں ہے ۔چین کا مؤقف ہے کہ سرحد فنگر نمبر2سے شروع ہوتی ہے۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ کارگل جنگ کے موقع پر جب بھارت نے یہاں اپنی تمام فوج پاکستان سے لڑنے کے لیے نکال لی تو چین نے فنگر نمبر 4پر ایک سڑک تعمیر کر لی تھی جس کی وجہ سے چین کو یہاں گاڑیوں سے پٹرولنگ کرنے میں آسانی ہو گئی ہے اور تب سے بھارت اس کے جواب میں گزشتہ کئی سال سے فنگر نمبر2کے قریب سڑک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر چین کو سخت تحفظات ہیں کیونکہ بھارت غیر قانونی طور پر یہاںسڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر سے علاقے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے ۔اسی لیے چین نے اب فنگر نمبر3کے مقام کے قریب اپنی فوج کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور فوجی بنکر بنا دیے ہیں تا کہ بھارت کو تعمیرات سے روکا جا سکے۔ اگر بھارت یہ سڑک نہ بناسکا تو یہ جھیل اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ یہ وہ واحد علاقہ ہے جہاں چین کا CCLاور LACتقریباً ایک ہے۔ چونکہ علاقے میں بارڈر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے اس لئے فوجیں متنازعہ علاقوں کی پٹر ولنگ کرکے اس پر علامتی حق جتاتی ہیں۔اگرچہ ہندوستان نے دنیا کے سامنے اپنی مظلویت کا رونا رو تے ہوئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی کہ چین نے بھارتی علاقہ میں گھس کر اپنا قبضہ جما لیا ہے‘ اس کے باوجودبھارت کی یہاں پوزیشن اب بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔بھارت کی حتی الامکان کوشش ہو گی کہ جنگ سے بچا جائے‘ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر اس نے کوئی فوجی سرگرمی دکھائی تو لداخ تو اس کے ہاتھ سے جائے گا اسے کشمیر کے ساتھ ساتھ سیاچن سے بھی بھاگنا پڑ جائے گا۔ چین نے جن علاقوں میں اپنی پوزیشن بہتر کی ہے وہ بھارت کے لیے خطرناک ہیں اور سی پیک کے لیے بھی اہم ہیں۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت کے لداخ میں توسیعی عزائم کا اصل ہدف سی پیک کا منصوبہ ہے جو گلگت بلتستان سے گزرتا ہے اور بھارت گلگت بلتستان کو ہتھیانے کے لیے بے چین ہے ۔اس کا مرکز چھوٹا سا قصبہ دولت بیگ ہے جو اکسائی چن میں واقع ہے جو 5065میٹر بلند ہے ۔دولت بیگ ہندوستان کی اہم پوسٹ ہے یہ چین کی جانب سے پرانی شاہراہ ریشم کو جوڑتی ہے۔ 1962ء میں انڈیا چین جنگ کے دوران بھارت نے یہاں ملٹری بیس بنائی تھی ۔ یہ قراقرم پاس سے آٹھ میل پر ہے‘ جس سے با آسانی گلگت تک رسائی ہو سکتی ہے ۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ گزشتہ سال انڈین آرمی نے دولت بیگ کا درجہ پوسٹ سے مکمل بریگیڈ لیول تک بڑھا دیا‘ جس کے ساتھ ہی انڈین فوج نے دولت بیگ کو اندرونِ بھارت مختلف ڈیفنس روڈ زنیٹ ورک سے ملا نے کے لیے پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں چین کے سرحدی علاقے میں راتوں رات سڑک تعمیر کی جسے دَربوک شیوَک دولت بیگ روڈ کا نام دیا گیا۔سڑک کی تعمیر کا مقصد دولت بیگ آرمی بریگیڈ کو حملے کی تیاری میں لانا تھا۔یاد رہے کہ اسی عرصے میں انڈیا کے جدید ہٹلر مودی نے پاکستان پر حملہ کرنے کی گیدڑ بھبکی بھی ماری تھی ۔تنازعے کی وجہ قراقرم درّے سے جڑی ہوئی گلوان وادی ہے۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ اس وادی کی مغربی پہاڑی پرانڈین آرمی کی نئی تعمیر کردہ ڈی ایس ڈی روڈ واقع ہے۔یہاں دولت بیگ انڈین آرمی بریگیڈ کے لیے سپلائی کا کوئی دوسرا زمینی راستہ نہیں‘لہٰذا زمینی حقائق کی روشنی میں چین کی جانب سے انتہائی شاندار پتہ کھیلا گیا۔ چین پانچ ہزار فوجیوں کے ساتھ گلوان میں آبیٹھا ہے اور اب بھارت کے پاس یہاں تک پہنچنے کیلئے صرف ہوائی رابطہ بچا ہے۔ چین نے اپنی فوجی پوزیشن لداخ کے علاقے میں ہندوستان کی فوج سے بہت بہتر اور فیصلہ کن بنالی ہے۔ دولت بیگ بریگیڈ خوفناک ٹریپ میں آچکا ہے‘ جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور سی پیک روٹ پر بھارتی قبضے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔در حقیقت بھارت ایک گہری دلدل میں پھنس چکا ہے۔

    موجودہ حالات سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ امریکہ براہ راست بھارت چین تنازعے کے درمیان اعلانیہ طور پر مداخلت نہیں کرے گا‘ اس لئے نیو دہلی کے بند کمرے کے اجلاس میں مودی کو اپنے حکومتی اداروں کی جانب سے خاصی تنقید برداشت کرنا پڑی ۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بھارتی سکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کو بھی خاصی پشیمانی کا سامنا رہا ۔ اس اجلاس میں مودی کو کہا گیا تھا کہ اس کا ڈوول ڈاکٹرائن مکمل طور پر فیل ہوچکا ہے کیونکہ اس سے پہلے ان اداروں کو جو سبز دکھائے گئے تھے‘ ان میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان کو خاکم بدہن ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے گا ‘

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی فکر چھوڑ کر اپنے کشمیر کو بچانے کی فکر کرے گا‘ اسے بلوچستان کو بچانا بھی مشکل ہوجائے گا‘ لیکن ان تمام معاملات کی قلعی چین کے حالیہ اقدامات نے کھول دی ہے ۔موجودہ صورتحال کے بعد بھارت منتوں ‘ ترلوں پر اتر آیا ہے۔ مودی سرکار نے چین کو مختلف ذرائع سے مذاکرات کی دعوت دی کہ ان معاملات کو عسکری بنیادوں کی بجائے بات چیت سے حل کیا جاسکے‘ لیکن چین نے نیو دہلی کو صاف جواب دے دیا اور یہ پیغام بھیجا کہ چین نے اب تک جو کارروائیاں کی ہیں بھارت اسے پہلے باقاعدہ طور پر تسلیم کرے‘ اس کے بعد اگلی بات کی جائے گی ۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ لگتا ہے اس وقت چین پرانے حساب برابر کرنے کے موڈ میں ہے۔مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کو دھمکی دینے والے نریندر مودی کی ہندو سینا کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے‘ اس کی فوج کی دشمن کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد درخواست پر رہائی عمل میں لائی گئی۔جس طرح چینی فوج نے ان بھارتی فوجیوں کی درگت بنائی‘ ساری دنیا نے دیکھی ۔ اگرچہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے مابین سرد جنگ جاری ہے ‘

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت نے تبت کی خود ساختہ جلا وطن حکومت کے سربراہ دلائی لامہ کو پناہ بھی دی ہوئی ہے‘ اس تنازعہ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان 92بلین ڈالرز کی تجارت بھی ہو رہی تھی اور چین نے بھارت میں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ چین کے مطابق اس کا نوے ہزار کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے کنٹرول میں ہے‘ جس کو چین واپس لینا چاہتا ہے۔ بھارت کو گمان تھا کہ جس طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر دنیا خاموش رہی ‘ پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور نیپال کے تین علاقوں پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی طرز پہ قبضہ جمانے کی بھارتی کوششوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی‘اس طرح چین کے معاملے پر بھی امریکہ اس کا سا تھ دے گا‘ لیکن بھارت کومنہ کی کھانا پڑی ہے ۔

    یاد رہے کہ عبداللہ گل کا کالم روزنامہ دنیا میں شائع ہوتا ہے جس میں‌ وہ جنوبی ایشیا اورعالمی مسائل پرتحقیقی مقالہ پیش کرتے ہیں‌

  • اقوام متحدہ کا آرٹیکل 51کشمیریوں کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ صدرآزاد کشمیر

    اقوام متحدہ کا آرٹیکل 51کشمیریوں کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ صدرآزاد کشمیر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جب باہر سے آئے لوگ آپ سے گھر بار اور زمینیں چھینیں تو پھر اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51آپ کو اجازت دیتا ہے کہ آپ اپنا دفاع کریں اور اپنی حفاظت کے لئے کوئی بھی طریقہ یا آپشن استعمال کریں۔

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ طاقتور اقوام کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب طاقت سے ہی دیتی ہیں ابھی حالیہ دنوں چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے ہندوستانی سورماؤں کو ناکوں چنے چبوائے اور انہیں چینی افواج کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی۔ مودی سرکار کی جگ ہنسائی، شرمندگی اور خفت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل یوتھ ایمپاورمنٹ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس سے تحریک نوجوانان پاکستان و کشمیر کے چیئرمین اور پیٹرن انچیف عبداللہ گل، بیرسٹر ملک سلمان اسلم ٹی وی اینکر پرسن اور رانا مظفر صدر نے بھی خطاب کیا۔

    صدر آزاد کشمیر نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن کے سامنے دو مسئلوں کو رکھنا چاہتے ہیں۔ پہلا مسئلہ کوڈ 19-ہے جس سے اب تک پاکستان کے ایک لاکھ پچاسی ہزار لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور تین ہزار چھ سو پچانوے اموات ہو چکی ہیں، آزاد کشمیر میں ۳۲ لوگ اس وبا سے وفات پا چکے ہیں اور تین سو پچاس صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس وبا سے بچنے کے لئے حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے، ہمیں لاک ڈاؤن میں توازن برقرار رکھنا ہو گا۔

    صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آج بھی بہت سے لوگ کشمیر کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ ہمارے قومی ٹی وی چینلز پر کشمیر کو جزوی کوریج دی جا رہی ہے جبکہ ہندوستانی چینلز اپنے قومی کشمیر بیانیے کو بھرپور کوریج دے رہے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور ٹی وی چینلز کشمیر کو کل وقتی کوریج دیں۔

    سردار مسعود خان نے کہا کہ پانچ اگست 2019سے قبل کشمیر پر ہمارا قومی بیانیہ وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو اجاگر کرنے پر مرکوز تھا لیکن پانچ اگست اور 31اکتوبر 2019کے اقدامات کے بعد ہندوستان نے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے ایک کالونی میں بدل دیا ہے۔ کشمیر کے دو ٹکڑے کر کے اسے دہلی سرکار کے ماتحت کر دیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ ہندوستان نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی ہندوستان کی ریاست کے نقشے میں شامل کر دیا ہے، یہ ہندوستانی اقدامات کسی حملے سے کم نہیں۔

    صدر مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان 2اپریل2020کے نئے کالے ڈومیسائل قانون کے تحت کشمیریوں سے اُن کا حق شہریت، زمین اور روزگار بھی چھین رہا ہے۔ہندوستان میں شہریت کا نیا ایکٹ اور NRC، NPRمنصوبوں کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں یا نہیں، اسی طرح اب کشمیریوں کو بھی یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کشمیری ہیں یا نہیں۔

    صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم اور اس کے فاشسٹ پالیسیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو چُن چُن کر جعلی مقابلوں میں اور گھر گھر تلاشی کے دوران شہید کر دیا گیا ہے اور پانچ اگست کے بعد ہندوستانی قابض افواج نے تیرہ ہزار نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے کر انہیں مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان کے عقوبت خانوں میں پابند سلاسل کر دیا ہے۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دس اور بارہ سال کا کشمیری لڑکا زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ آزادی کا نعرہ بلند کر رہا ہے۔ لہذا ہندوستان اب کشمیری بچوں اور نوجوانوں کی نسل کشی میں مصروف کار ہے۔

    حالیہ چین بھارت لداخ چپقلش پر بات کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ وہ آٹھ سال چین میں رہے اور وہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے واقف ہیں اور چین کے طرز حکومت اور فیصلہ سازی کے عمل کو اچھی طرح جانتے ہیں جو فولادی طاقت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے فلمی حوصلے اور گیدڑ بھبکیاں چین کے سامنے خاک میں مل گئیں۔ انہوں نے پاکستان کی نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ مستقبل کے بجائے حال کا سوچیں اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لیں، سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کریں، سفارتی، مالیاتی اور قانونی محاذوں پر لڑیں اور پاکستان کو دنیا کی پہلی دس اقوام میں شامل کریں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت بڑی معیشت ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں، ایف اے ٹی ایف (FATF)، آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بنک کے ذریعے پاکستان کے گرد حصار تنگ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہاں جب بھی کوئی عسکری حرکت ہوتی ہے تو پاکستان پر ان بین الاقوامی اداروں کا دباؤ آ جاتا ہے۔ اس وقت او آئی سی کے 57ممالک ہیں۔ او آئی سی نے حالیہ مشکل حالات میں بھی کشمیر کے حوالے سے اپنے سخت ترین بیانات اور اعلامیے جاری کیے ہیں۔ صدر نے او آئی سی سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان سے نان حلال گوست اور دیگر نان حلال مصنوعات کی درآمد پر فوری پابندیاں لگائیں۔ یہ اقدام دین اسلام اور نبی پاک ﷺ کی عین تعلیمات کے مطابق ہو گا۔ صدر نے جموں وکشمیر کے ایک پولیس چیف دلباغ سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں 230جنگجو ہیں جن میں سے 100کو مار دیا گیا ہے اور 100کے قریب گرفتار کیے جا چکے ہیں اور باقی ماندہ جنگجوؤں کا گھیرا بھی تنگ کیا جا رہا ہے۔

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کی عسکری تاریخ یہ ہے کہ افواج ہند کبھی کسی ہم پلہ فوج سے مقابلہ نہیں کر سکیں ہاں البتہ وہ اپنے نہتے شہریوں پر حملے کرتی ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں نہتے کشمیریوں پر، غیر مسلح شہریوں کو قتل کر کے اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں۔ ہندوستانی نو لاکھ فوج کو صرف چند سینکڑوں کشمیری نوجوانوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے، کیا یہی ہندوستانی افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں اور بہادری ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بنا دیا گیا ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک مجرم کو پولیس مین بنا دیا گیا ہو۔یہ ناکامی پاکستان کی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔ وہ انٹرنیشنل سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ہندوستا ن کو سلامتی کونسل سے ڈی سیٹ کریں بلکہ ہندوستان کے خلاف بی ڈی ایس مہم کاآغاز کریں۔

    صدر سردار مسعود خان نے نیشنل یوتھ ایمپاورمنٹ کے صدر رانا مظفر، ملک سلمان اسلم اور پیٹرن انچیف عبداللہ گل کاشکریہ ادا کیا جنہوں نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

    عبداللہ گل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ ایک انتہائی متحرک نوجوان ہیں جن کی رگوں میں جنرل حمید گل کا خون دوڑ رہا ہے اور جنرل حمید گل (مرحوم) کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عبداللہ گل نے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں منوایا ہے اور اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ گل نے کہا کہ صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان ہمارے قومی ہیرو ہیں ہمیں ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ بہت عرصے کے بعد آزادکشمیر کو ایک ایسادانشمند، ذہین و فطین صدر ملا جو عالمی سطح پر کشمیر کاز کو بڑے جاندار طریقے سے اجاگر کر رہا ہے۔ عبداللہ گل نے ایک ایسی کشمیر کونسل کے قیام پر زور دیا کہ جس کے سربراہ صدر آزادکشمیر ہوں

  • او آئی سی کی کشمیریوں کے جدوجہدکی مسلسل حمایت قابل ستائش: الطاف حسین وانی

    او آئی سی کی کشمیریوں کے جدوجہدکی مسلسل حمایت قابل ستائش: الطاف حسین وانی

    اسلام آباد: ممتاز کشمیری رہنما اور چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) الطاف حسین وانی نے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور منصفانہ حل کے لئے تنظیم اسلامی تنظیم (او آئی سی) کی جاری حمایت اور عزم کی تعریف کی ہے۔

    کے آئی آر کے سربراہ نے منگل کے روز کشمیری صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے بارے میں او آئی سی کے رابطہ گروپ کے حالیہ ہنگامی اجلاس بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کے اس اہم موقع پر مقبوضہ کشمیر میں موجودہ سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور گفتگو کرنے کے لئے ایک اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ بہت ہی اہم اور غیر معمولی پیش رفت ہے جو اسلامی تنظیم کی مقبوضہ علاقے میں ناقابل قبول صورتحال پر اسکے سنگین خدشات اور خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

    انہوں نیحالیہ میٹنگ کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم تنظیم نے ہمیشہ ایک تعمیری کردار ادا کیا ہے اور مسئلہ کشمیر پر عملی طور پر اپنا موقف برقرار رکھا ہے جو پاکستان اور کشمیری عوام کے موقف سے ہم اہنگ ہے۔انہوں نے کہا، ”ہم او آئی سی کے تمام ممبر ممالک کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہر موقعہ پرہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور حق خودارادیت کے حق کے لئے ہماری پر زورحمایت کرتے رہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس تنظیم نے کشمیر اور فلسطین کے معاملے کو موثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔

    تاہم کے آئی آر کے سربراہ کا یہکہنا تھا کہ مقبوضہ علاقے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کے لئے اس فورم سے مزید متحرک اور فعال کردار کی اشد ضرورت ہے تاکہ کشمیری نوجوانوں کی مسلسل خونریزی اور بھارتی فوجیوں کے ذریعہ ہونے والی منظم نسل کشی کو روکا جاسکے۔

    متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد کشمیری بچوں، مردوں اور خواتین کے مظالم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہندوستانی حکومت کشمیریوں کی مذہبی اور سیاسی شناخت کو مٹا نے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے اور اپنے قبضے کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرنا، اور جموں و کشمیر کے لئے ڈومیسائل قواعد کی تجدید اس سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کی آبادیاتی ساخت اور اس کی متنازعہ نوعیت کو تبدیل کرنا ہے۔

    حکومت ہند کی ان کوششوں کو کشمیریوں کے لئے وجودی خطرہ قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو خطے کی صورتحال کی کشش کو بھانپ لینا چاہئے اور اس طویل تنازعہ کو پرامن طریقے سے کشمیری عوام کی خواہشات اور خواہشات کے مطابقحل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    انہوں نے تنازعہ کشمیر سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی حمایت کو بڑھاوا دینے پر پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تین نسلیں کھا چکی ہیں اور اب بھی ایک اور نسل کے وجود کو خطرہ ہیں۔

  • چین آیا، چین آیا، کشمیری بھارتی فوج کو چین سے ڈرانے لگے

    چین آیا، چین آیا، کشمیری بھارتی فوج کو چین سے ڈرانے لگے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم و ستم جاری ہے، دوسری جانب لداخ میں بھارتی فوج کو چینی ہاتھو‌ں کٹ پڑی ہے جس پر کشمیریوں نے بھارتی فوج کا شدید مذاق اڑایا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج آئے روز سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں پر مظالم کرتی رہتی ہے، آج بھی 4 کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اس دوران چادر و چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا جاتا ہے

    گزشتہ چند دنوں سے لداخ میں کشیدگی جاری ہے، چینی فوج نے بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 اہلکار مار دیئے ہیں جس کے بعد اب بھارت امن کے لئے چین کی منتیں کر رہا ہے، مودی سرکار چین سے مار پڑنے کے بعد خاموش ہے تا ہم کشمیر میں مظالم میں اضافہ کر دیا گیا ایسے میں کشمیریوں نے بھارتی فوج کو آئینہ دکھایا ہے

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی فوج جب سرچ آپریشن کے لئے ایک علاقے مین پہنچی تو کشمیری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے کشمیریوں نے بھارتی فوج پر تنقید کرتے ہوئے چین آیا چین آیا کے نعرے لگائے،

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

     

    اس موقع پر کشمیری جوانوں نے جیوے جیوے پاکستان، ہم کیا چاہتے ہیں آزادی،پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ و دیگر بھی نعرے لگائے،بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں کو گرفتار کرنے کی بھی کوشش کی گئی.

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کا سرچ آپریشن، چار کشمیری گرفتار