Baaghi TV

Category: کشمیر

  • لداخ چھننے کے بعد ‏بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا ہے ، ‏محمد عبداللہ حمید گل

    لداخ چھننے کے بعد ‏بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا ہے ، ‏محمد عبداللہ حمید گل

    اسلام آباد:لداخ چھننے کے بعد ‏بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا ہے ،بھارت گہری دلدل میں پھنس گیا!،اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل مرحوم نے پیش گوئی کی تھی کہ نریندر مودی خود ہندوستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرے گا۔ اب اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ متشدد مودی کے خطے میں جارحانہ ا قدامات سے جنرل صاحب کی پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے ۔

    دنیا نیوز میں‌ چھپنے والے کالم میں محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد لداخ کے متنازع علاقے کے ساتھ بھی کھیلنے کی کوشش کی تو بھارتی فوج کو لداخ میں ہونے والی مسلسل جھڑپوں میں چین کے ہاتھوں شدید ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا۔یعنی چین نے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ متنازع علاقے کا سٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا تو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ لداخ مقبوضہ جموں وکشمیر کا مشرقی حصہ اور چین کے سر حدی کنارے پر واقع ہے جہاں سے مشرق میں اکسائی چن اور چین کے صوبے سنکیانگ کی جنوب مشرقی سرحد ملتی ہے۔اس کی سرحدیں پاکستان کے شمالی علاقے اور سیاچن سے بھی منسلک ہیں جو دنیا کا سب سے بلند میدان جنگ بھی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے آرٹیکل 370 اور 35A اور وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد لداخ کو یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا ۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان دو طرح کا بارڈر ہے‘ ایک LAC اور دوسرا CCL ‘ ان کے درمیان لداخ میں Pangong جھیل پر بھی تنازعہ ہے۔ 134کلومیٹر لمبی اس جھیل کا دو تہائی حصہ اس وقت چین کی تحویل میں ہے۔ یہ جھیل اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ لداخ سے تبت کو ملاتی ہے۔پنگونگ جھیل گلوان وادی میں شمال سے مشرق کی جانب ایل کی شکل میں ہے ۔ اس جھیل کے ساتھ مختلف مقامات کو فنگرز کہا جاتا ہے اور علاقے کو 8 فنگرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔بھارت کا دعویٰ ہے کہ ایل اے سی فنگر 8 سے شروع ہوتی ہے ‘جو چین کے تصرف میں ہے ۔چین کا مؤقف ہے کہ سرحد فنگر نمبر2سے شروع ہوتی ہے۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ کارگل جنگ کے موقع پر جب بھارت نے یہاں اپنی تمام فوج پاکستان سے لڑنے کے لیے نکال لی تو چین نے فنگر نمبر 4پر ایک سڑک تعمیر کر لی تھی جس کی وجہ سے چین کو یہاں گاڑیوں سے پٹرولنگ کرنے میں آسانی ہو گئی ہے اور تب سے بھارت اس کے جواب میں گزشتہ کئی سال سے فنگر نمبر2کے قریب سڑک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر چین کو سخت تحفظات ہیں کیونکہ بھارت غیر قانونی طور پر یہاںسڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر سے علاقے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے ۔اسی لیے چین نے اب فنگر نمبر3کے مقام کے قریب اپنی فوج کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور فوجی بنکر بنا دیے ہیں تا کہ بھارت کو تعمیرات سے روکا جا سکے۔ اگر بھارت یہ سڑک نہ بناسکا تو یہ جھیل اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ یہ وہ واحد علاقہ ہے جہاں چین کا CCLاور LACتقریباً ایک ہے۔ چونکہ علاقے میں بارڈر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے اس لئے فوجیں متنازعہ علاقوں کی پٹر ولنگ کرکے اس پر علامتی حق جتاتی ہیں۔اگرچہ ہندوستان نے دنیا کے سامنے اپنی مظلویت کا رونا رو تے ہوئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی کہ چین نے بھارتی علاقہ میں گھس کر اپنا قبضہ جما لیا ہے‘ اس کے باوجودبھارت کی یہاں پوزیشن اب بہت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔بھارت کی حتی الامکان کوشش ہو گی کہ جنگ سے بچا جائے‘ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر اس نے کوئی فوجی سرگرمی دکھائی تو لداخ تو اس کے ہاتھ سے جائے گا اسے کشمیر کے ساتھ ساتھ سیاچن سے بھی بھاگنا پڑ جائے گا۔ چین نے جن علاقوں میں اپنی پوزیشن بہتر کی ہے وہ بھارت کے لیے خطرناک ہیں اور سی پیک کے لیے بھی اہم ہیں۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت کے لداخ میں توسیعی عزائم کا اصل ہدف سی پیک کا منصوبہ ہے جو گلگت بلتستان سے گزرتا ہے اور بھارت گلگت بلتستان کو ہتھیانے کے لیے بے چین ہے ۔اس کا مرکز چھوٹا سا قصبہ دولت بیگ ہے جو اکسائی چن میں واقع ہے جو 5065میٹر بلند ہے ۔دولت بیگ ہندوستان کی اہم پوسٹ ہے یہ چین کی جانب سے پرانی شاہراہ ریشم کو جوڑتی ہے۔ 1962ء میں انڈیا چین جنگ کے دوران بھارت نے یہاں ملٹری بیس بنائی تھی ۔ یہ قراقرم پاس سے آٹھ میل پر ہے‘ جس سے با آسانی گلگت تک رسائی ہو سکتی ہے ۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ گزشتہ سال انڈین آرمی نے دولت بیگ کا درجہ پوسٹ سے مکمل بریگیڈ لیول تک بڑھا دیا‘ جس کے ساتھ ہی انڈین فوج نے دولت بیگ کو اندرونِ بھارت مختلف ڈیفنس روڈ زنیٹ ورک سے ملا نے کے لیے پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں چین کے سرحدی علاقے میں راتوں رات سڑک تعمیر کی جسے دَربوک شیوَک دولت بیگ روڈ کا نام دیا گیا۔سڑک کی تعمیر کا مقصد دولت بیگ آرمی بریگیڈ کو حملے کی تیاری میں لانا تھا۔یاد رہے کہ اسی عرصے میں انڈیا کے جدید ہٹلر مودی نے پاکستان پر حملہ کرنے کی گیدڑ بھبکی بھی ماری تھی ۔تنازعے کی وجہ قراقرم درّے سے جڑی ہوئی گلوان وادی ہے۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ اس وادی کی مغربی پہاڑی پرانڈین آرمی کی نئی تعمیر کردہ ڈی ایس ڈی روڈ واقع ہے۔یہاں دولت بیگ انڈین آرمی بریگیڈ کے لیے سپلائی کا کوئی دوسرا زمینی راستہ نہیں‘لہٰذا زمینی حقائق کی روشنی میں چین کی جانب سے انتہائی شاندار پتہ کھیلا گیا۔ چین پانچ ہزار فوجیوں کے ساتھ گلوان میں آبیٹھا ہے اور اب بھارت کے پاس یہاں تک پہنچنے کیلئے صرف ہوائی رابطہ بچا ہے۔ چین نے اپنی فوجی پوزیشن لداخ کے علاقے میں ہندوستان کی فوج سے بہت بہتر اور فیصلہ کن بنالی ہے۔ دولت بیگ بریگیڈ خوفناک ٹریپ میں آچکا ہے‘ جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور سی پیک روٹ پر بھارتی قبضے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔در حقیقت بھارت ایک گہری دلدل میں پھنس چکا ہے۔

    موجودہ حالات سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ امریکہ براہ راست بھارت چین تنازعے کے درمیان اعلانیہ طور پر مداخلت نہیں کرے گا‘ اس لئے نیو دہلی کے بند کمرے کے اجلاس میں مودی کو اپنے حکومتی اداروں کی جانب سے خاصی تنقید برداشت کرنا پڑی ۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بھارتی سکیورٹی مشیر اجیت ڈوول کو بھی خاصی پشیمانی کا سامنا رہا ۔ اس اجلاس میں مودی کو کہا گیا تھا کہ اس کا ڈوول ڈاکٹرائن مکمل طور پر فیل ہوچکا ہے کیونکہ اس سے پہلے ان اداروں کو جو سبز دکھائے گئے تھے‘ ان میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان کو خاکم بدہن ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے گا ‘

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی فکر چھوڑ کر اپنے کشمیر کو بچانے کی فکر کرے گا‘ اسے بلوچستان کو بچانا بھی مشکل ہوجائے گا‘ لیکن ان تمام معاملات کی قلعی چین کے حالیہ اقدامات نے کھول دی ہے ۔موجودہ صورتحال کے بعد بھارت منتوں ‘ ترلوں پر اتر آیا ہے۔ مودی سرکار نے چین کو مختلف ذرائع سے مذاکرات کی دعوت دی کہ ان معاملات کو عسکری بنیادوں کی بجائے بات چیت سے حل کیا جاسکے‘ لیکن چین نے نیو دہلی کو صاف جواب دے دیا اور یہ پیغام بھیجا کہ چین نے اب تک جو کارروائیاں کی ہیں بھارت اسے پہلے باقاعدہ طور پر تسلیم کرے‘ اس کے بعد اگلی بات کی جائے گی ۔

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ لگتا ہے اس وقت چین پرانے حساب برابر کرنے کے موڈ میں ہے۔مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کو دھمکی دینے والے نریندر مودی کی ہندو سینا کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے‘ اس کی فوج کی دشمن کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد درخواست پر رہائی عمل میں لائی گئی۔جس طرح چینی فوج نے ان بھارتی فوجیوں کی درگت بنائی‘ ساری دنیا نے دیکھی ۔ اگرچہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے مابین سرد جنگ جاری ہے ‘

    محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ بھارت نے تبت کی خود ساختہ جلا وطن حکومت کے سربراہ دلائی لامہ کو پناہ بھی دی ہوئی ہے‘ اس تنازعہ کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان 92بلین ڈالرز کی تجارت بھی ہو رہی تھی اور چین نے بھارت میں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ چین کے مطابق اس کا نوے ہزار کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے کنٹرول میں ہے‘ جس کو چین واپس لینا چاہتا ہے۔ بھارت کو گمان تھا کہ جس طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر دنیا خاموش رہی ‘ پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور نیپال کے تین علاقوں پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی طرز پہ قبضہ جمانے کی بھارتی کوششوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی جائے گی‘اس طرح چین کے معاملے پر بھی امریکہ اس کا سا تھ دے گا‘ لیکن بھارت کومنہ کی کھانا پڑی ہے ۔

    یاد رہے کہ عبداللہ گل کا کالم روزنامہ دنیا میں شائع ہوتا ہے جس میں‌ وہ جنوبی ایشیا اورعالمی مسائل پرتحقیقی مقالہ پیش کرتے ہیں‌

  • اقوام متحدہ کا آرٹیکل 51کشمیریوں کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ صدرآزاد کشمیر

    اقوام متحدہ کا آرٹیکل 51کشمیریوں کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ صدرآزاد کشمیر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ جب باہر سے آئے لوگ آپ سے گھر بار اور زمینیں چھینیں تو پھر اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51آپ کو اجازت دیتا ہے کہ آپ اپنا دفاع کریں اور اپنی حفاظت کے لئے کوئی بھی طریقہ یا آپشن استعمال کریں۔

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ طاقتور اقوام کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب طاقت سے ہی دیتی ہیں ابھی حالیہ دنوں چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے ہندوستانی سورماؤں کو ناکوں چنے چبوائے اور انہیں چینی افواج کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی۔ مودی سرکار کی جگ ہنسائی، شرمندگی اور خفت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل یوتھ ایمپاورمنٹ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس سے تحریک نوجوانان پاکستان و کشمیر کے چیئرمین اور پیٹرن انچیف عبداللہ گل، بیرسٹر ملک سلمان اسلم ٹی وی اینکر پرسن اور رانا مظفر صدر نے بھی خطاب کیا۔

    صدر آزاد کشمیر نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن کے سامنے دو مسئلوں کو رکھنا چاہتے ہیں۔ پہلا مسئلہ کوڈ 19-ہے جس سے اب تک پاکستان کے ایک لاکھ پچاسی ہزار لوگ متاثر ہو چکے ہیں اور تین ہزار چھ سو پچانوے اموات ہو چکی ہیں، آزاد کشمیر میں ۳۲ لوگ اس وبا سے وفات پا چکے ہیں اور تین سو پچاس صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس وبا سے بچنے کے لئے حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے، ہمیں لاک ڈاؤن میں توازن برقرار رکھنا ہو گا۔

    صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آج بھی بہت سے لوگ کشمیر کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ ہمارے قومی ٹی وی چینلز پر کشمیر کو جزوی کوریج دی جا رہی ہے جبکہ ہندوستانی چینلز اپنے قومی کشمیر بیانیے کو بھرپور کوریج دے رہے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور ٹی وی چینلز کشمیر کو کل وقتی کوریج دیں۔

    سردار مسعود خان نے کہا کہ پانچ اگست 2019سے قبل کشمیر پر ہمارا قومی بیانیہ وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو اجاگر کرنے پر مرکوز تھا لیکن پانچ اگست اور 31اکتوبر 2019کے اقدامات کے بعد ہندوستان نے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے ایک کالونی میں بدل دیا ہے۔ کشمیر کے دو ٹکڑے کر کے اسے دہلی سرکار کے ماتحت کر دیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ ہندوستان نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی ہندوستان کی ریاست کے نقشے میں شامل کر دیا ہے، یہ ہندوستانی اقدامات کسی حملے سے کم نہیں۔

    صدر مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان 2اپریل2020کے نئے کالے ڈومیسائل قانون کے تحت کشمیریوں سے اُن کا حق شہریت، زمین اور روزگار بھی چھین رہا ہے۔ہندوستان میں شہریت کا نیا ایکٹ اور NRC، NPRمنصوبوں کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کو یہ ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں یا نہیں، اسی طرح اب کشمیریوں کو بھی یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کشمیری ہیں یا نہیں۔

    صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان کے توسیع پسندانہ عزائم اور اس کے فاشسٹ پالیسیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو چُن چُن کر جعلی مقابلوں میں اور گھر گھر تلاشی کے دوران شہید کر دیا گیا ہے اور پانچ اگست کے بعد ہندوستانی قابض افواج نے تیرہ ہزار نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے کر انہیں مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان کے عقوبت خانوں میں پابند سلاسل کر دیا ہے۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دس اور بارہ سال کا کشمیری لڑکا زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ آزادی کا نعرہ بلند کر رہا ہے۔ لہذا ہندوستان اب کشمیری بچوں اور نوجوانوں کی نسل کشی میں مصروف کار ہے۔

    حالیہ چین بھارت لداخ چپقلش پر بات کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ وہ آٹھ سال چین میں رہے اور وہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے واقف ہیں اور چین کے طرز حکومت اور فیصلہ سازی کے عمل کو اچھی طرح جانتے ہیں جو فولادی طاقت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے فلمی حوصلے اور گیدڑ بھبکیاں چین کے سامنے خاک میں مل گئیں۔ انہوں نے پاکستان کی نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ مستقبل کے بجائے حال کا سوچیں اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لیں، سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کریں، سفارتی، مالیاتی اور قانونی محاذوں پر لڑیں اور پاکستان کو دنیا کی پہلی دس اقوام میں شامل کریں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت بڑی معیشت ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں، ایف اے ٹی ایف (FATF)، آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بنک کے ذریعے پاکستان کے گرد حصار تنگ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہاں جب بھی کوئی عسکری حرکت ہوتی ہے تو پاکستان پر ان بین الاقوامی اداروں کا دباؤ آ جاتا ہے۔ اس وقت او آئی سی کے 57ممالک ہیں۔ او آئی سی نے حالیہ مشکل حالات میں بھی کشمیر کے حوالے سے اپنے سخت ترین بیانات اور اعلامیے جاری کیے ہیں۔ صدر نے او آئی سی سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان سے نان حلال گوست اور دیگر نان حلال مصنوعات کی درآمد پر فوری پابندیاں لگائیں۔ یہ اقدام دین اسلام اور نبی پاک ﷺ کی عین تعلیمات کے مطابق ہو گا۔ صدر نے جموں وکشمیر کے ایک پولیس چیف دلباغ سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں 230جنگجو ہیں جن میں سے 100کو مار دیا گیا ہے اور 100کے قریب گرفتار کیے جا چکے ہیں اور باقی ماندہ جنگجوؤں کا گھیرا بھی تنگ کیا جا رہا ہے۔

    صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کی عسکری تاریخ یہ ہے کہ افواج ہند کبھی کسی ہم پلہ فوج سے مقابلہ نہیں کر سکیں ہاں البتہ وہ اپنے نہتے شہریوں پر حملے کرتی ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں نہتے کشمیریوں پر، غیر مسلح شہریوں کو قتل کر کے اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں۔ ہندوستانی نو لاکھ فوج کو صرف چند سینکڑوں کشمیری نوجوانوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے، کیا یہی ہندوستانی افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں اور بہادری ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بنا دیا گیا ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک مجرم کو پولیس مین بنا دیا گیا ہو۔یہ ناکامی پاکستان کی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔ وہ انٹرنیشنل سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ہندوستا ن کو سلامتی کونسل سے ڈی سیٹ کریں بلکہ ہندوستان کے خلاف بی ڈی ایس مہم کاآغاز کریں۔

    صدر سردار مسعود خان نے نیشنل یوتھ ایمپاورمنٹ کے صدر رانا مظفر، ملک سلمان اسلم اور پیٹرن انچیف عبداللہ گل کاشکریہ ادا کیا جنہوں نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

    عبداللہ گل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ ایک انتہائی متحرک نوجوان ہیں جن کی رگوں میں جنرل حمید گل کا خون دوڑ رہا ہے اور جنرل حمید گل (مرحوم) کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عبداللہ گل نے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں منوایا ہے اور اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ گل نے کہا کہ صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان ہمارے قومی ہیرو ہیں ہمیں ان سے سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔ بہت عرصے کے بعد آزادکشمیر کو ایک ایسادانشمند، ذہین و فطین صدر ملا جو عالمی سطح پر کشمیر کاز کو بڑے جاندار طریقے سے اجاگر کر رہا ہے۔ عبداللہ گل نے ایک ایسی کشمیر کونسل کے قیام پر زور دیا کہ جس کے سربراہ صدر آزادکشمیر ہوں

  • او آئی سی کی کشمیریوں کے جدوجہدکی مسلسل حمایت قابل ستائش: الطاف حسین وانی

    او آئی سی کی کشمیریوں کے جدوجہدکی مسلسل حمایت قابل ستائش: الطاف حسین وانی

    اسلام آباد: ممتاز کشمیری رہنما اور چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) الطاف حسین وانی نے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور منصفانہ حل کے لئے تنظیم اسلامی تنظیم (او آئی سی) کی جاری حمایت اور عزم کی تعریف کی ہے۔

    کے آئی آر کے سربراہ نے منگل کے روز کشمیری صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے بارے میں او آئی سی کے رابطہ گروپ کے حالیہ ہنگامی اجلاس بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کے اس اہم موقع پر مقبوضہ کشمیر میں موجودہ سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور گفتگو کرنے کے لئے ایک اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ بہت ہی اہم اور غیر معمولی پیش رفت ہے جو اسلامی تنظیم کی مقبوضہ علاقے میں ناقابل قبول صورتحال پر اسکے سنگین خدشات اور خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

    انہوں نیحالیہ میٹنگ کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم تنظیم نے ہمیشہ ایک تعمیری کردار ادا کیا ہے اور مسئلہ کشمیر پر عملی طور پر اپنا موقف برقرار رکھا ہے جو پاکستان اور کشمیری عوام کے موقف سے ہم اہنگ ہے۔انہوں نے کہا، ”ہم او آئی سی کے تمام ممبر ممالک کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہر موقعہ پرہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور حق خودارادیت کے حق کے لئے ہماری پر زورحمایت کرتے رہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس تنظیم نے کشمیر اور فلسطین کے معاملے کو موثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔

    تاہم کے آئی آر کے سربراہ کا یہکہنا تھا کہ مقبوضہ علاقے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کے لئے اس فورم سے مزید متحرک اور فعال کردار کی اشد ضرورت ہے تاکہ کشمیری نوجوانوں کی مسلسل خونریزی اور بھارتی فوجیوں کے ذریعہ ہونے والی منظم نسل کشی کو روکا جاسکے۔

    متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں حقوق انسانی کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد کشمیری بچوں، مردوں اور خواتین کے مظالم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہندوستانی حکومت کشمیریوں کی مذہبی اور سیاسی شناخت کو مٹا نے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے اور اپنے قبضے کو مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرنا، اور جموں و کشمیر کے لئے ڈومیسائل قواعد کی تجدید اس سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کی آبادیاتی ساخت اور اس کی متنازعہ نوعیت کو تبدیل کرنا ہے۔

    حکومت ہند کی ان کوششوں کو کشمیریوں کے لئے وجودی خطرہ قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو خطے کی صورتحال کی کشش کو بھانپ لینا چاہئے اور اس طویل تنازعہ کو پرامن طریقے سے کشمیری عوام کی خواہشات اور خواہشات کے مطابقحل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

    انہوں نے تنازعہ کشمیر سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی حمایت کو بڑھاوا دینے پر پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تین نسلیں کھا چکی ہیں اور اب بھی ایک اور نسل کے وجود کو خطرہ ہیں۔

  • چین آیا، چین آیا، کشمیری بھارتی فوج کو چین سے ڈرانے لگے

    چین آیا، چین آیا، کشمیری بھارتی فوج کو چین سے ڈرانے لگے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم و ستم جاری ہے، دوسری جانب لداخ میں بھارتی فوج کو چینی ہاتھو‌ں کٹ پڑی ہے جس پر کشمیریوں نے بھارتی فوج کا شدید مذاق اڑایا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج آئے روز سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں پر مظالم کرتی رہتی ہے، آج بھی 4 کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اس دوران چادر و چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا جاتا ہے

    گزشتہ چند دنوں سے لداخ میں کشیدگی جاری ہے، چینی فوج نے بھارتی فوج کے کرنل سمیت 20 اہلکار مار دیئے ہیں جس کے بعد اب بھارت امن کے لئے چین کی منتیں کر رہا ہے، مودی سرکار چین سے مار پڑنے کے بعد خاموش ہے تا ہم کشمیر میں مظالم میں اضافہ کر دیا گیا ایسے میں کشمیریوں نے بھارتی فوج کو آئینہ دکھایا ہے

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی فوج جب سرچ آپریشن کے لئے ایک علاقے مین پہنچی تو کشمیری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے کشمیریوں نے بھارتی فوج پر تنقید کرتے ہوئے چین آیا چین آیا کے نعرے لگائے،

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

     

    اس موقع پر کشمیری جوانوں نے جیوے جیوے پاکستان، ہم کیا چاہتے ہیں آزادی،پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ و دیگر بھی نعرے لگائے،بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں کو گرفتار کرنے کی بھی کوشش کی گئی.

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کا سرچ آپریشن، چار کشمیری گرفتار

  • بھارتی فوج کے مظالم جاری :کشمیر میں روزانہ دو درجن عسکریت مخالف آپریشنزہوتے ہیں

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :کشمیر میں روزانہ دو درجن عسکریت مخالف آپریشنزہوتے ہیں

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم جاری :کشمیر میں روزانہ دو درجن عسکریت مخالف آپریشنزہوتے ہیں،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے بتایا کہ رواں برس عسکریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے اور ہر روز دو درجن کے قریب آپریشنز کئے جا رہے ہیں جن میں ایک یا دو ہی کامیاب ہو پاتے ہیں، جبکہ بعض دفعہ کوئی بھی آپریشن کامیاب نہیں ہوتا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دلباغ سنگھ نے سرینگر میں ایک تقریب کے دوران نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تصادم شروع ہونے سے قبل سیکورٹی فورسز چھپے عسکریت پسندوں کو خود سپردگی کا موقع دیتے ہیں لیکن عسکریت پسند انکی پیشکش کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

    دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند خود سپردگی اسلئے نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان پر تنظیموں کی جانب سے دباو ہوتا ہے اور ایسا دیکھا گیا ہے کہ نئے عسکریت پسند کے ہمراہ پرانا عسکریت پسند بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے نئے عسکریت پسند کو خود سپردگی کا موقع نہیں دیا جاتا ہے

    ساوتھ ایشین وائر کے مابق مقبوضہ کشمیر میں کووڈ 19 لاک ڈاون کے دوران سیکورٹی فورسز نے عسکری مخالف کارروائیاں تیز کی ہے جس کے نتیجے میں 108 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین سے وابستہ ریاض نائکو سمیت کئی اعلی کمانڈر شامل ہیں۔دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ جیش محمد سیکورٹی فورسز پر آئی ای ڈی حملے کرنے کا موقع ڈھونڈ رہی ہے۔ لیکن ایجنسیاں انکے منصوبے ناکام کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کا سرچ آپریشن، چار کشمیری گرفتار

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کا سرچ آپریشن، چار کشمیری گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضۃ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبہ میں پولیس نے 4نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق چھان پورہ اٹھارہ سوپور میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر ایک تلاشی مہم کے دوران سوپور پولیس اور بھارتی فوج کے52 آر آر کی مشترکہ ٹیم نے چھان پورہ اتھورا کے مختلف مقامات پر تلاشی شروع کی ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے الزام لگایا ہے کہ گرفتار شدہ نوجوان عرفان احمد میر، عرفان احمد جان، قیصر رحمان خان، اور سہیل احمد گنائی لشکرطیبہ کے معاونین ہیں۔

    چاروں کشمیری افراد اتھورا کے رہنے والے ہیں ۔پولیس کے مطابق یہ چاروں افراد پولیس چوکی پوتکھاہ سوپور میں گرینیڈ حملے میں ملوث تھے۔اس سلسلے میں سوپور پولیس نے ان کے خلاف کیس درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہے۔

    دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے ضلع ترال کے دو مختلف علاقوں اور ضلع اننت ناگ کے وانی ہمہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تلاشی کارروائی شروع کی گئی ہے

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد بدھ کو علی الصبح فوج، سی آر پی اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے ستورہ ترال اور لالگام اونتی پورہ علاقوں کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔

    ان علاقوں میں تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں اور گھر گھر تلاشی کارروائی جاری ہے۔جبکہ کسی بھی فرد کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

     

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سے ترال کے مختلف دیہات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے سرچ آپریشن عمل میں لائے گیے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے پمبئی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو محاصرے میں لیا گیا۔

  • پاکستانیو!کرونا کی وجہ سےلاک ڈاون سےمصائب کا اندازہ ہوگیا،کشمیری کئی دہائیوں سےلاک ڈاون میں ہیں،نورین ابراہیم

    پاکستانیو!کرونا کی وجہ سےلاک ڈاون سےمصائب کا اندازہ ہوگیا،کشمیری کئی دہائیوں سےلاک ڈاون میں ہیں،نورین ابراہیم

    پاکستانیو! کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون سے مصائب کا اندازہ ہوگیا،کشمیری کئی دہائیوں سے لاک ڈاون میں ہیں ، کبھی ان کا بھی سوچا ،اطلاعات کے مطابق رکن قومی اسمبلی اورکشمیرکمیٹی کی رکن محترمہ نورین ابراہیم نے قومی اسمبلی میں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کہا ہےکہ لاک ڈاون میں رہنے والولاک ڈاون کا اندازہوگیا

    باغی ٹی وی کے مطابق آج قومی اسمبلی میں رکن قومی اسمبلی محترمہ نورین ابراہیم نے کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے کہا ہےکہ دنیا اوربالخصوص پاکستانیوں کو کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران لاک ڈاون کی وجہ سے جن مسائل کا سامنا ہے یقینا ہرکوئی اس کی سختیوں سے اچھی طرح واقف ہوگیا ہے

    نورین ابراہیم نے کہا کہ کشمیری تو پچھلے دس ماہ سے بندوق کی نوق پرکس طرح مظالم سہہ رہے ہیں اس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی ، دنیا کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ یہ لاک ڈاون تو 1989 سے مسلط کیا گیا ہے، کس نے ان پرمظالم ان کا ساتھ دیا ہویا کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ہو

    نورین ابرایم نے کہا کہ آج ہمیں کشمیریوں کی تکلیف کا احساس ہونا چاہیے اوران پرہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی زندگی میں سکون دیکھ لیں‌

  • پلوامہ: آپریشن کے دوران تصادم میں 2کشمیری مجاہد شہید .ایک سی آر پی ایف اہلکار ہلاک

    پلوامہ: آپریشن کے دوران تصادم میں 2کشمیری مجاہد شہید .ایک سی آر پی ایف اہلکار ہلاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے بنڈزو علاقے میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں 2کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید ہو گئے۔

    کشمیر زون پولیس کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موسول ہونے کے بعد فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی ٹیم نے علی الصبح بنڈزو علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ۔ جس کے بعد دو طرفہ گولیوں کے تبادلے میں 2نوجوان عسکریت پسند شہید ہوگئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حکام نے ضلع پلوامہ میں انتڑنیٹ خدمات معطل کر دیں۔انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے ساوتھ ایشین وائر کو 1سی آر پی ایف کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ۔

    جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے شرپورہ علاقے میں سکیورتی فورسز کی جانب سے تلاشی کارروائی شروع کی گئی ۔علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کے 1 آرآر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی 40ویں بٹالین نے مشترکہ طور پر شرپورہ علاقوں کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔ علاقے میں تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا۔

    اتوار کے روز جموں وکشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے زونی مر نامی علاقہ میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح تصادم میں تین عسکریت پسند شہید ہوئے تھے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جون کے مہینے میں جنوبی کشمیر میں یہ 11 واں مقابلہ ہے جس میں اب تک 30 عسکریت پسند شہید ہوچکے ہیں۔جبکہ 2 درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔ جون میں مجموعی طور پر آج تک 39عسکریت پسند شہید اور2عام شہری شہید ہوئے۔
    پیر کو صبح کے وقت مقبوضہ کشمیرکے ویری ناگ علاقے کے جنگل میں ایک آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔

    ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 1010 واقعات میں 921عسکریت پسندِ 440 شہری اور 58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 316سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں135کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 30سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

     

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر پونچھ میں ڈیوٹی پر موجود بھارتی فوجی کی ہارٹ اٹیک سے موت

    مقبوضہ کشمیر پونچھ میں ڈیوٹی پر موجود بھارتی فوجی کی ہارٹ اٹیک سے موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے پونچھ میں ڈیوٹی پر موجود بھارتی فوجی کی ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی ہے

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے پونچ میں تعینات بھارتی فوجی کو دوران ڈیوٹی ہارٹ اٹیک ہوا،اور ہسپتال منتقل کرنے سے قبل ہی وہ ہلاک ہو گیا، اہلکار کی شناخت نائیک سریندر سنگھ کے طور پر ہوئی،

    خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پونچھ میں دوران ڈیوٹی اہلکار کو دل کا دورہ پڑا اسکو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تا ہم اسکی راستے میں موت ہو گئی، ہسپتال میں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی ہے

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ضروری کاروائی کے بعد اہلکار کی لاش آخری رسومات کے لئے لواحقین کے سپرد کی جائے گی

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

  • عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں افغان طالبان کے پوسٹر لگنے کے بعد بھارتی فوج شدید خوفزدہ ہو چکی ہے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے،

    مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ روز سرینگر میں ہونے والے سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے 3 کشمیریوں کو شہید کیا تو اس دوران کشمیری گھروں سے باہر نکلے اور افغان طالبان کے پوسٹر لہرائے، یہ کشمیر کی جاری تحریک میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کشمیریوں نے افغان طالبان کے پوسٹر لہرائے

    رمضان میں یہ خبر آئی تھی کہ افغان طالبان عید کے بعد مقبوضہ کشمیر کا رخ کریں گے، اگرچہ بعد میں طالبان کی جانب سے اس کی تردید آ گئی تھی تا ہم اب رمضان اور عید گزر چکی ، عید کے بعد کشمیر مین طالبان کے پوسٹر اسی سلسلے کی کڑی تو نہیں ہے ،کیا کشمیری اب طالبان کو مقبوضہ کشمیر آنے کی دعوت تو نہیں دے رہے، اب طالبان کی جانب سے کشمیر جانے کے وعدے کی تکمیل کا وقت تو نہیں آ گیا

    مقبوضہ کشمیر کی تحریک سات دہائیوں سے جاری ہے اور کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں، جان ،مال ،عزتیں لٹوانے کے باوجود کشمیری حق خود ارادیت کے لئے آج بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں، بھارت کی کوئی سازش، حربہ، لالچ کشمیریوں کو حق خودارادیت کے جذبے کو کم نہیں کر سکی، بھارتی فوج جب بھی کشمیریوں پر مظالم کرتی ہے تو کشمیری گھروں سے باہر نکل کر بھارت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہیں ، اس دوران پاکستان کے حق میں بھی نعرے لگائے جاتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد نو لاکھ فوج کی مدد سے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کیا،کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا، یہ سب کچھ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف اور ان سے پوچھے بغیر کیا گیا جو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ تمام بین الاقوامی معاہدوں اور ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو گرفتا ر کر کے نظر بندی کیمپوں میں بند کیا جا رہا ہے جبکہ خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور ان کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے

    اس دوران بھی کشمیری خاموش نہیں بیٹھے، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تاکہ کشمیری اپنی آواز بلند نہ کر سکیں لیکن کشمیری ڈٹے ہوئے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جاری حالیہ تحریک میں وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مقدمہ اٹھایا تھا توکشمیریوں نے وزیراعظم عمران خان کے حق میں نعرے لگائےتھے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل کشمیری بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کے دوران جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید کے نعرے بھی لگا چکے ہیں اور انہیں کشمیریوں کا حقیقی وکیل قرار دیا تھا. کشمیریوں نے لشکر طیبہ، حافظ محمد سعید کے پوسٹر کئی مقامات پر لہرائے،کشمیری حافظ محمد سعید کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، گزشتہ برس شہید ہونے والے برہان مظفر وانی نے بھی حافظ محمد سعید کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا،کشمیریوں نے بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کے دوران ایک دو بار نہیں بلکہ ہزاروں بار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور پاکستان کے جھنڈے بھی لہرائے

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

     

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارت سرکار پاکستان زندہ باد کا نعرے لگانے والے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ تیز کر دیتی ہے، دختران ملت کی چیئر پرسن سیدہ آسیہ اندرابی پاکستان کے یوم آزادی پر ہر برس 14 اگست کو پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں، ان پر بھارت نے پاکستان کا پرچم لہرانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر رکھا ہے اور وہ جیل میں ہیں، نہ صرف آسیہ اندرابی بلکہ بھارت سرکار نے تمام حریت قائدن کو جیلوں مین ڈال رکھا ہے.

    افغان طالبان مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے