Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیری خواتین کے وقار پر حملہ۔۔۔۔۔ باغی رپورٹ

    کشمیری خواتین کے وقار پر حملہ۔۔۔۔۔ باغی رپورٹ

    نسیمہ ایک شہیدکشمیری نوجوان توصیف شیخ کی والدہ ہیں، انکا تعلق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام علاقہ رام پورہ سے ہے، نسمیہ کے بیٹے توصیف شیخ کو 2018 میں PHD اسکالر پروفیسر رفیق احمد بٹ کے ہمراہ بھارتی فوج نے ایک انکاؤنٹر میں شہید کیا تھا،

    بھارتی فوج نے گزشتہ ہفتے کالے قوانین کا سہارا لے کر توصیف شیخ کی بہن رفیقہ کو گرفتار کرنےکے لئے انکے گھر چھاپہ مارا خوش قسمتی سے رفیقہ گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی پر بھارتی فوج نے توصیف کی والدہ نسیمہ کوگرفتار کرلیا،

    پولیس نے توصیف شیخ کی والدہ اور بہن پر بھارت مخالف سرگرمیوں کا الزام لگایا اور انکے گھر سے چند پوسٹر ضبط کئے ہیں، اہل علاقہ نے پولیس کے الزامات کو یکسر مسترد کیا اور نسیمہ کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا،

    کشمیریوں کے لئے انڈیا نے کوئی راستہ نہیں چھوڑا اسی لئے کشمیری نوجوان اب ضِد پر اڈ گئے ہیں، روزانہ تین سے چار نوجوان انکاؤنٹرز میں شہید کئے جارہے ہیں،

    جتنی تعداد میں نوجوان شہید کئے جارہے ہیں اسے کہیں زیادہ تعداد میں کشمیری نوجوان عسکریت میں شامل ہورہے ہیں،اسکی واحد وجہ انڈیا کی زیادتیاں ہیں اور کچھ نہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ اقوام عالم سمیت کشمیریوں کی اپنی قیادت خواب غفلت میں پڑی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام میں ظالم بھارتی فوج نے پہلے  کشمیری نوجوان کو شہید کیا پھر والدہ کو اٹھا کر لے گئے

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام میں ظالم بھارتی فوج نے پہلے کشمیری نوجوان کو شہید کیا پھر والدہ کو اٹھا کر لے گئے

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام میں ظالم بھارتی فوج نے پہلے کشمیری نوجوان کو شہید کیا پھر والدہ کو اٹھا کر لے گئے

    سرینگر(باغی ٹی وی )جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں رام پورہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند توصیف شیخ جو 2018 میں صدام پڈر، ڈاکٹر رفیق اور اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ شوپیاں میں ایک انکاونٹر میں شہید ہوئے تھے، تب سے ان کے گھر پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھاپہ ماری کا سلسلہ جاری ہے۔ 
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق توصیف شیخ کے گھر پر گزشتہ دنوں سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھاپہ مارا گیا تھا ۔وہ ان کی بہن رفیقہ کو گرفتار کرنے کی غرض سے آئے تھے لیکن رفیقہ سکیورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہو گئی۔ اوران کی والدہ نسیمہ کو گرفتار کیا گیا۔
     کولگام کے ایس ایس پی گوریندر پال سنگھ نے اس بات کی تصدیق کی کہ عسکریت پسند توصیف شیخ کی والدہ کے خلاف 2018 میں ایک کیس درج کیا گیا تھا اور انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ‘اس کے علاوہ ان کے بیٹے کی موت کے بعد ان کا اور رفیقہ کا نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کی صف میں شامل کرنے، اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو چھپانے میں براہ راست کردار رہا ہے۔’
    اتوار کو سکیورٹی فورسز نے ترال کے نزدیکی دیہات میں سرچ آپریشن کے دوران تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا اور گھر گھر تلاشی کی گئی۔
    جنوبی کشمیر کے سب ڈسٹرکٹ ترال میں فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی ترال نے مشترکہ طور پر دو نزدیکی دیہات کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی کارووائی شروع کی ہے۔
    کولگام کے آوہٹو علاقے میں ایک موٹر سائیکل حادثے کا شکار ہوگیا جس کے نتیجے میں 13 ماہ کا بچہ ہلاک ہوگیا۔
    جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں سڑک حادثات میں مزید اضافہ ہوا ہے، ایسے میں مقامی لوگوں میں کافی خوف وہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔
    محمد اشرف ایتو نامی ایک موٹر سائیکل سوار اس وقت حادثے کا شکار ہوگیا جب وہ ایک ندی کو پار کررہا تھا اور ان کے ساتھ ان کا بیٹا حماد دونوں موٹر سائیکل سے گرگئے جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔دونوں کو زخمی حالات میں کولگام کے اسپتال میں لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے ان کے 13 ماہ کے بیٹے کو مردہ قرار دے دیا۔

  • کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ، فیصل اقبال کے نام تعظیمانہ پیغام   تحریر:عاقب شاہین میر

    کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ، فیصل اقبال کے نام تعظیمانہ پیغام تحریر:عاقب شاہین میر

    کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ، فیصل اقبال کے نام
    عاقب شاہین میر

    وادی کی مشہور و معروف شخصیت ، سابق ناظمِ اعلی اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر کے فیصل اقبال کے نام عاقب شاہین کا تعظیمانہ پیغام۔۔۔۔۔۔

    یکم اپریل 1977 میں پیدا ہونے والی اس مایہ ناز ہستی کی تعلیمی قابلیت قابلِ فخر ہے ، انہوں نے بی ایڈ ، پی جی انگلش ، ایم فل ٹوریزم کے ساتھ ساتھ ہوٹل مینجمنٹ میں ڈپلومہ بھی کیا ۔۔۔ سید مودودی رحمہ اللہ کے مکاتبِ فکر سے گہری وابستگی رکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوسری جماعتوں کے مکاتبِ فکر سے بھی استفادہ کیا ۔۔۔۔ 2003 میں اُمیدوارِ اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر رہے پھر 2004 سے 2005 تک رُکنِ اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر منتخب ہو گئے ۔۔۔ 2007 میں ناظمِ تحصیل ترال کی حیثیت سے اپنا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر ناظمِ ضلع کے طور پر کام کیا اور آخر میں ناظمِ اعلی اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر بن گئے ۔۔۔۔ اللہ رب العزت اِن کی حفاظت فرمائے ، اِن کی مسلسل کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے اور انہیں دین کا زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔ آمین یا رب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلم اُٹھایا ، سوچا تھا لکھوں گا آپ کا اقبال فیصل
    میں احاطہ نہ کرسکا، آپ کی صفات تھیں لازوال فیصل

    آپ کی گفتگو نے ، اثر کر دیا ہے ہر دِل پر
    گُفتار دیکھا جو لاجواب، آپ کا کردار بھی ہے باکمال فیصل

    آپ کے ساتھ نے کیا خُوب فریضہ نبھایا رہبری کا
    مجھے سمجھ آ گئی سب دُنیا کی چال ڈھال فیصل

    دِل میں درد تھا ،آپ نے سبق سکھایا انسانیت کا
    صدق ووفا، خلوص کا پیکر آپ کا رہا ہر خدوخال فیصل

    لازم ہے ہم پر آپ کی تکریم، اے میرے اُستادِ عظیم
    آپ کا انداز ہے بے ریا ، آپ کی ہر ادا بے مثال فیصل

    آپ راضی رب سے ، رب راضی ہوا آپ سے
    نہیں کوئی اور مگر دیتے ہیں گواہی آپ کے اعمال فیصل

  • بھارتی فوج نے سکول جاتا سات سالہ کشمیری بچہ گولی مار کر شہید کر دیا

    بھارتی فوج نے سکول جاتا سات سالہ کشمیری بچہ گولی مار کر شہید کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے سکول جاتا سات سالہ کشمیری بچہ گولی مار کر شہید کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے،بھارتی فوج نے سکول جانے والے سات سالہ بچے کو شہید کر دیا

    جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں نامعلوم بندوق برداروں نے سی آر پی ایف کی پٹرولنگ پارٹی پر حملہ کیا ۔جس میں بھارتی فوج نے جوابی کاروائی میں فائرنگ کی جس میں ساتھ برس کا لڑکا جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت ضلع کولگام کے یاری پورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے نہان احمد کے طور پر ہوئی ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس دوران شامو نامی سی آر پی ایف جوان کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمی جوان کو مقامی ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے حملہ آواروں کی تلاش کے لیے علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی کارروائی جاری ہے۔

    دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر کے مالون علاقے میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے تلاشی مہم جاری ہے، فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام کے دیوسر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تلاشی مہم شروع کی گئی ہے۔ بھارتی فوج کی 9 آر آر بٹلین، سی آر پی ایف کے جوان اور پولیس کے اسپیشل گروپ سرچ آپریشن میں شامل ہیں۔ سیکورٹی فورسز کو علاقہ میں عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی خبر ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں پہلے غیر ریاستی بھارتی افسر کو مستقل شہریت دے دی گئی

    مقبوضہ کشمیر میں پہلے غیر ریاستی بھارتی افسر کو مستقل شہریت دے دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے جموں و کشمیر کیڈر کے ایک سینئر آئی اے ایس افسر نوین کمار چودھری انتظامی خدمات کے افسران سے جموں وکشمیر کے پہلے مستقل رہائشی بن گئے

    نوین کمار چودھری کو ڈومیسائل سرٹیفکٹ جموں خطے کے گاندھی نگر کے تحصیلدار نے جاری کیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نوین چودھری ریاست بہار کے رہنے والے ہیں اور وہ گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے جموں و کشمیر میں تعینات ہیں اور اس وقت محکمہ زراعت اور باغبانی کے پرنسپل سکریٹری کے عہدے پر تعینات ہیں۔

    گزشتہ برس پانچ اگست دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بی جے پی نے جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی نظام ختم کرکے ملک کے کسی بھی شہری کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی بننے کی راہ ہموار کی تھی۔اس سے قبل دفعہ 34 اے کے تحت فقظ جموں و کشمیر کے باشندوں کو یہ حق حاصل تھا۔

    نئے قوانین کے مطابق ملک کے کسی بھی شہری جس نے جموں و کشمیر میں 15 برس سے سرکاری یا کسی نجی ادارے میں کام کیا ہو، یا اس کے کسی بچے کو یہاں کے اسکول کی سند ہو وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل حاصل کر سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہناہے کہ نئے ڈومیسائل سے جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب بدلنے سے یہاں کا مسلم اکثریتی نظام ختم کرنے کی سازش ہے۔لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو نے پیر کے روز جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفکٹکی ای ایپلیکیشن کو لانچ کیا ۔جموں و کشمیر ای گورننس ایجنسی کے ذریعے ڈومیسائل سرٹیفکٹ حاصل کرنے کے لیے آن لائن خدمات فراہم کی گئی ہیں۔

  • ترال میں طویل آپریشن کے دوران جھڑپ میں 3 کشمیری نوجوان شہید ، 2 بھارتی اہلکار زخمی

    ترال میں طویل آپریشن کے دوران جھڑپ میں 3 کشمیری نوجوان شہید ، 2 بھارتی اہلکار زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جمعرات کی شام سے جنوبی ضلعے پلوامہ کے علاقے ترال کے چیوا اولر گاوںمیں آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جاری طویل جھڑپ میں جمعے کی صبح 3 کشمیری نوجوان شہید جبکہ فوجی جوان اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔ علاقے میں رات بھر سے گولیوں اور دھماکوں کی گونج سے علاقے میں خوف وسراسیمگی کا ماحول رہا۔جمعرات کی شام عسکریت پسندوں کے چھپنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر ترال ہیڈکوارٹر سے 5کلو میٹر دور چیوہ اولر مندورہ ترال کا 42آر آر ، 180بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا جس کے دوران یہاں مسلح جھڑپ شروع ہوئی۔

    پولیس نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ انہیں گائوں میں کم سے کم 3عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس پرانکے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی گئی۔ شام قریب 6بجے گائوں کا محاصرہ کیا گیا جس کیساتھ یہاں چند فائر ہوئے جس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔7بجے کے بعد مسلح جھڑپ شروع ہوئی جو رات قریب 11بجے تک جاری رہی۔ پولیس نے بتایا کہ بستی میں لوگوں کو ایک ہی جگہ جمع کیا گیا ہے۔ جھڑپ کے دوران پولیس اور فوج کے ایک ایک اہلکار زخمی ہوئے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پتھر لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔تصادم شروع ہوتے ہی حکام نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے شمالی کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبہ کے ہرد شیوہ گاوں میں جمعرات کو علی الصبح آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم میں 2کشمیری نوجوان 21سالہ ولید بشیر و لد بشیر احمد میر ساکن بہرام پورہ رفیع آباد اور34سالہ بلال احمد پرے ساکن یمبر زل واری سوپورشہید ہو گئے۔ ۔5مارچ 2020کو 5نوجوان سوپور اور پٹن علاقوں سے لاپتہ ہوگئے تھے جن میں یہ دونوں نوجوان بھی شامل تھے۔ان میں سے پہلا نوجوان25سالہ مدثر احمد بٹ ساکن شتلو رفیع آباد 7روز بعد ہی شہید ہوا تھا۔گروپ میں شامل26سالہ فیاض احمد وار ساکن وارہ پورہ سوپور اور وسن پٹن کا 26سالہ عنایت اللہ میر بھی شہید ہوچکے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 1011 واقعات میں 924عسکریت پسندِ 440 شہری اور 58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 316 سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    مغربی اور مشرقی سرحد پر فوج مستعد ،قوم کا دفاع ہر صورت کریں گے، ترجمان پاک فوج

    بھارتی جارحیت خطے کے امن وسلامتی کوتباہ کرسکتی ہے، وزیراعظم کا دنیا کو انتباہ

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    سرینگر ،بھارتی فوج اور مجاہدین کے مابین جھڑپ ,ایک فوجی ہلاک، 5زخمی

    چئرمین تحریک حریت کا فرزند ارجمند کشمیر کی مٹی پر جان نچھاور کر گیا، باغی سپیشل رپورٹ

    عید کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طالبان کے پوسٹر، کیا طالبان غزوہِ ہند شروع کر رہے؟

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں142کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ، مئی میں 16اور جون میں 46کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 30سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

  • بھارتی فورسز کی لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی، فائرنگ سے خاتون زخمی،پاک فوج کا بھرپورجواب

    بھارتی فورسز کی لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی، فائرنگ سے خاتون زخمی،پاک فوج کا بھرپورجواب

    راولپنڈی: بھارئ فورسز نے ایل او سی پر ایک دفعہ پھر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ دشمن کی فائرنگ سے ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل او سی کے کریلا سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فورسز کی فائرنگ سے خاتون شدید زخمیہو گئی۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی فورسز کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔

     

     

    خیال رہے کہ بیس جون کو بھی بھارتی افواج کی فائرنگ سے ایک بچی شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے تھے۔ بھارتی فوج نے ایل او سی کے حاجی پور اور بیڈوری سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔

    بیڈوری سیکٹر کے مینسر گاؤں میں بھارتی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ سے 13 سالہ معصوم بچی اقرا شبیر شہید جبکہ اس کی ماں اور ایک 12 سالہ لڑکا شدید زخمی ہو گئے تھے۔

    لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ تھماتے ہوئے زور دیا گیا کہ بھارت 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔ بھارتی قابض افواج لائن آف کںٹرول اور ورکنگ باوئنڈری پر سول آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ رواں برس بھارت نے 1440 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ بھارتی اشتعال انگیزی سے رواں برس 13 افراد شہید جبکہ 104 شدید زخمی ہوئے۔

  • کرونا لاک ڈاؤن کےبعد دنیا کواندازہ ہوگیاکہ لاک ڈاؤن میں رہنا کتنا مشکل ہے:کشمیریوں کےلاک ڈاون کااندازہ ہوگیا ہوگا:کشمیریوتھ الائنس

    کرونا لاک ڈاؤن کےبعد دنیا کواندازہ ہوگیاکہ لاک ڈاؤن میں رہنا کتنا مشکل ہے:کشمیریوں کےلاک ڈاون کااندازہ ہوگیا ہوگا:کشمیریوتھ الائنس

    اسلام آباد:کرونا لاک ڈاؤن کے بعد دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں رہنا کتنا مشکل ہے۔کشمیریوں کے لاک ڈاون کا اندازہ ہوگیا ہوگا : کشمیر یوتھ الائنس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں پربڑھتے ہوئے مظالم اورکوڈ19- بحران کے خطرات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آنلائن ویبنارکی سیریز کا آغاز کیا ہے،

    اس سلسلے میں پہلا ویبنار گزشتہ روز منعقد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی وممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق ابراہیم،صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر مجاہد گیلانی،سعد ارسلان صادق،مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون کشمیری رہنما شائستہ صفی،کاشف ظہیر،طہ منیب،رضی طاہر،نوید احمد،کشمیر ایکٹوسٹ ثاقب ریاض، سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

    آنلائن ویبنار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق ابراہیم،شائستہ صفی،ڈاکٹر مجاہد گیلانی ودیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حاملہ عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، ہندوستان کرونا کی آڑ میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے،بھارتی فوج نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر والدین کے سامنے شہید کررہی ہے،

    مقررین کا کہنا تھا کہ ہندوستان سمجھتا ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں پر تشدد وبربریت سے آزادی کی آواز کو دبا لے گا لیکن ہندوستان یاد رکھے کشمیر کا ہر بچہ سید علی گیلانی اور ہر بیٹی آسیہ اندرابی ہے،کشمیر ی نوجوان ماسٹر اور پی ایچ ڈی تعلیم حاصل کرنے کے بعدآزادی کیلئے جان قربان کررہے ہیں تو کشمیری لڑکیاں پتھر لے کر بھارتی افواج کے مدمقابل ہیں،کشمیر کے نوجوان آزادی کی صبح تک جدوجہد جاری رکھیں گے

  • بھارتی فوج کا ظلم جاری ، 5 بےگناہ کشمیری نوجوان مجاہدین سے تعلق کے الزام میں گرفتار

    بھارتی فوج کا ظلم جاری ، 5 بےگناہ کشمیری نوجوان مجاہدین سے تعلق کے الزام میں گرفتار

    بھارتی فوج کا ظلم جاری ، بےگناہ کشمیری نوجوان مجاہدین سے تعلق کے الزام میں گرفتار

    سرینگر (باغی ٹی وی ) مقبوضہ کشمیر میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں پولیس نے لشکر طیبہ سے وابستہ عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ کو تباہ اور پانچ نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ خفیہ اطلاع ملنے پر پولیس اور فوج کے 2 آر آر نے ناربل علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران پانچ نوجوانوں کوگرفتار کیا ہے۔

    پولیس نے الزام لگایا ہے کہ گرفتار شدہ نوجوان کرہامہ بڈگام سے تعلق رکھنے والے عمران رشید، چیک کاوسا کے افشان احمد گنائی،کاوسا خلیسہ کے اویس احمد، کرہامہ کے محسن قادر، ماگام کے عابد راتھر لشکر طیبہ کے معاونین ہیں

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خفیہ کمین گاہ سے اسلحہ کا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا۔ جن میں اے کے 47 کے 28 لائیو رونڈز، ایک اے کے 47 میگزین اور لشیکر طیبہ کے20 پوسٹرز ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے اور مزید کاروائی جاری ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں 2 کشمیری  شہید

    مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں 2 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ میں 2 کشمیری مجاہد شہید

    سرینگر(باغی ٹی وی )مقبوضہ جموں و کشمیر کے شمالی کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے سوپور قصبہ کے ہرد شیوہ گاوں میں جمعرات کو علی الصبح آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین تصادم میں 2کشمیری نوجوان شہید ہو گئے ۔
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر زون پولیس نے بتایا کہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی ٹیم نے علی الصبح علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ۔ جس کے بعد 4بجکر 30منٹ پر دو طرفہ گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حکام نے انٹرنیٹ سروسز معطل کر دیں۔
    مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کے مطابق رواں برس عسکریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لائی ہے اور ہر روز دو درجن کے قریب آپریشنز کئے جا رہے ہیں جن میں ایک یا دو ہی کامیاب ہو پاتے ہیں، جبکہ بعض دفعہ کوئی بھی آپریشن کامیاب نہیں ہوتا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دلباغ سنگھ نے سرینگر میں ایک تقریب کے دوران نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ تصادم شروع ہونے سے قبل سیکورٹی فورسز چھپے عسکریت پسندوں کو خود سپردگی کا موقع دیتے ہیں لیکن عسکریت پسند انکی پیشکش کو قبول نہیں کرتے ہیں۔دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند خود سپردگی اسلئے نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان پر تنظیموں کی جانب سے دباو ہوتا ہے اور ایسا دیکھا گیا ہے کہ نئے عسکریت پسند کے ہمراہ پرانا عسکریت پسند بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے نئے عسکریت پسند کو خود سپردگی کا موقع نہیں دیا جاتا ہے۔
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع بارہمولہ میں 2000سے اب تک337مختلف واقعات میں 756 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 1506واقعات میں 1580عسکریت پسند، 608 شہری اور 57نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 468سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔
    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں139کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ، مئی میں 16اور جون میں 43کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 30سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 129افراد کو گرفتار کیا گیا۔
    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پتھراو کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈاون کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔