Baaghi TV

Category: کشمیر

  • پلوامہ :آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید

    پلوامہ :آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں ایک نوجوان کشمیری عسکریت پسند کو شہید کر دیا گیا۔

    کشمیر زون پولیس کا کہنا ہے کہ دیر رات پامپور کے میج علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ،اطلاعات کے مطابق حکام نے اونتی پورہ، ترال اور پامپور علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں اور مذکورہ علاقے کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بد ھ کی شام اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز نے ریڈوانی کولگام سے تعلق رکھنے والے حزب المجاہدین کے ایک کارکن کو بھی گرفتار کر لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 16جون کو بھی شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہیدہوئے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ1008واقعات میں917عسکریت پسند, 440شہری اور58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں315سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

  • چینی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی

    چینی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی

    نئی دہلی :چینی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی،اطلاعات کے مطابق بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان لدّاخ کے سرحدی علاقے میں واقع وادی گلوان میں دوبدو جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں ایک کرنل سمیت 34 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایک سنیئر بھارتی فوجی جنرل نے ڈیلی ٹیلی گراف سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آخری اطلاعات کے آنے تک چینی فوجیوں‌کے ہاتھوں مرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ان میں کئی جونیئرفوجی افسران بھی شامل ہیں ،

    بھارتی فوج نے اپنے بیان میں لداخ کے پہاڑی علاقے میں واقع وادی گلوان میں سوموار کو جھڑپ میں طرفین کے جانی نقصان کی اطلاع دی ہے لیکن بیجنگ نے کسی جانی نقصان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اور بھارت کو ان جھڑپوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

    اس علاقے میں تعینات بھارتی فوج کے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس واقعے میں کوئی گولی نہیں چلی اورصرف دو بدو ہاتھا پائی اور لڑائی ہوئی ہے۔

    ادھر بیجنگ نے آج ایک بیان میں جھڑپ کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس نے بھارتی فوجیوں پر چینی علاقے میں دراندازی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے پہلے چینی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ ’’ بھارتی فوجیوں نے دو مرتبہ سرحدی لکیر عبور کی تھی اور چینی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں طرفین کی سرحدی فورسز کے درمیان جسمانی ٹاکرا ہوا ہے۔‘‘

    ترجمان نے کہا:’’ ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ بھارت بہتر رویے اور طرزعمل کا مظاہرہ کرے اور سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کو ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرے۔‘‘

    واضح رہے کہ چین اور بھارت کی افواج کے درمیان حالیہ ہفتوں کے دوران میں سرحدی علاقے میں متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ان کا آغاز 9 مئی کو ریاست سِکم کے انتہائی بلندی پر واقع سرحدی علاقے میں دوبدو لڑائی سے ہوا تھا۔چینی اور بھارتی فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجےمیں فریقین کے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

    چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلومیٹر (2200 میل) طویل سرحد ہے لیکن دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسب طریقے سے حد بندی نہیں ہوئی ہے اور دونوں ملکوں ہی غیر شناختہ سرحدی علاقوں پر اپنا حق جتلاتے رہتے ہیں۔

    بعض بھارتی مبصرین کے مطابق بھارت سرحدی علاقے میں سڑکیں اور فضائی پٹی تعمیر کررہا ہے۔ وہ چین کے بیلٹ اور روڈ اقدام کے ردعمل میں یہ تعمیرات کررہا ہے اور اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان 1962 سے سرحدی علاقے میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب ان کے درمیان شمال مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش پر تنازع پر باقاعدہ جنگ لڑی گئی تھی۔

    چین نے گذشتہ ہفتے بھارت کے ساتھ پیدا ہونے والی سرحدی کشیدگی کے حل کے لیے ’’ مثبت اتفاق رائے‘‘ طے پانے کی اطلاع دی تھی۔چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان حوا چونائنگ نے بیجنگ میں گذشتہ بدھ کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ’’ سفارتی اور فوجی چینلوں کے ذریعے ’مؤثر ابلاغ‘ سے سرحد پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے حل کے لیے’مثبت اتفاق رائے‘ ہوگیا ہے۔‘‘

    انھوں نے کہا کہ اب طرفین اس اتفاق رائے کی بنیاد پر سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کررہے ہیں۔‘‘مگر انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔

  • لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی

    لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی

    لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین بھارت تنازعے پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی ٰمحبوبہ مفتی نے ٹویٹ کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ہے،قوم یہ جاننے کی مستحق ہے کہ انتقامی کارروائی کی بات کیوں نہیں کی جارہی ہے،

    گھر میں نظر بند محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ان کی بیٹی التجا مفتی چلا رہی ہیں

    واضح رہے کہ 1975 کے بعد پہلی بار چین کی جانب سے فائرنگ میں بھارتی فوج کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،گزشتہ شب ایل اے سی پر بھارت اور چینی فوجیوں کے درمیان گلوان وادی کے مقام پر حالات کیشدہ ہوگئے ، بھارتی فوج کے کرنل (ایک انفنٹری بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر) اور فوج کے 2 جوان چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے۔

    واضح رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا

    سی پیک کے خلاف امریکی سازش کے توڑ کیلئے چین کے پانچ ہزار فوجی بھارت میں گھس گئے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

    مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

    مودی ٹرمپ ٹیلی فونک رابطہ ، بھارت کی چین اور امریکہ کی سیاہ فاموں کے ہاتھوں درگت پر دونوں کا ایک دوسرے سے اظہار یکجہتی

    پاکستان کو بات بات پر تڑیاں لگانے والا بھارت ، لداخ پر چینی قبضے کے خلاف تاحال منتوں اور ترلوں کی پالیسی پر عمل پیرا

    لداخ میں چائنہ سے شرمناک شکست کے بعد "انڈیا” کا نام بدلنے کی انڈین سپریم کورٹ میں درخواست

    بریکنگ،لداخ کشیدگی میں اضافہ،چینی جنگی طیارے بھارتی حدود میں گھس گئے،بھارتی فضائیہ بھی الرٹ

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کرنیوالی آر ایس ایس لداخ پر چین کے ساتھ بہادری کے جوہر کیوں نہیں دکھاتی؟

    لداخ سرحدی کشیدگی، مذاکرات سے قبل چین نے ایسا کام کیا کہ مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے

    لداخ کشیدگی ، پیر سے چائنہ نے انڈیا سے اپنے شہری نکالنا شروع کر دئیے

    بھارتی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کیا ، اس لیے مارے گئے، چین کا بیان

    1975 کے بعد آج چین کے ہاتھوں بھارتی فوجی کی ہلاکت ہوئی ، انڈین آرمی دو بجے پریس کانفرنس کرے گی

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کی فوج کے مابین  کشیدگی جاری ہے،دونوں ممالک نے سرحد کے قریب بھاری تعداد میں اسلحہ،جنگی گاڑیاں پہنچا دی ہیں ، فوجی اڈوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے.

    لداخ میں تین فوجیوں کی ہلاکت پر بھارتی وزیر دفاع کے فوج کے سربراہان کے ساتھ ہنگامی میٹنگ

  • مقبوضہ کشمیر، شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران 3 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران 3 کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں بھارتی فوج نے آپریشن کے دوران تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہید کر دیئے

    مقبوضہ کشمیر میں شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہیدہوئے ہیں جن میں ایک پی ڈی پی کے سابق قانون ساز کا بھتیجا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے ترکہ وانگام میں منگل کی علی الصبح ہونے والے ایک مسلح تصادم میں حزب المجاہدین سے وابستہ تین مقامی عسکریت پسند زبیر احمد وانی ساکنہ ترکہ وانگام، کامران ظہور منہاس ساکنہ شاہ آباد کراوو اور منیب الاسلام ساکنہ سوگن شوپیاں شہید کیے گئے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یہ ضلع شوپیاں میں رواں ماہ چوتھا آپریشن تھا ۔قبل ازیں 7، 8 اور 10 جون کو بالترتیب شوپیاں کے ریبن، پنجورہ اور سگھو ہندہامہ نامی علاقوں میں 17 مقامی نوجوان کیے گئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق زبیر احمد وانی 27 جون 2017 ، منیب الاسلام 10 جون 2019 اور کامران ظہور منہاس 2 مارچ 2019 سے سرگرم تھے۔ذرائع کے مطابق زبیر احمد وانی پی ڈی پی کے سابق قانون ساز ظفر اقبال منہاس کا بھتیجا تھا۔

    سرینگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس کو ملنے والی خفیہ اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے ترکہ وانگام شوپیاں میں منگل کی علی الصبح کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔ ضلع شوپیاں میں موبائل انٹرنیٹ سروسزپھر سے منقطع کردی گئی ہیں۔ نیز ضلع تمام حساس جگہوں پر سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ضلع شوپیاں میں مزید تین عسکریت پسندوں کی شہادت کے ساتھ وادی کشمیر میں رواں برس اب تک شہید کیے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد بڑھ کر 103 ہوگئی ہے۔ ان میں سے قریب 73 عسکریت پسند نوجوان کورونا وائرس لاک ڈان کے دوران شہید کیے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں سال رواں کے ماہ اپریل کی 7 تاریخ تک مختلف علاقوں میں مسلح تصادم آرائیوں کے دوران 41 عسکریت پسند شہید ہوئے تھے جبکہ ماہ رواں کی 16 تاریخ تک یہ تعداد 103 ہوگئی ہے۔

  • بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    نئی دہلی: بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو رپورٹنگ کے جرم میں نشانہ بنایا گیا,اطلاعات کےمطابق رائٹس اینڈ رسکس انیلیسیز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں25 مارچ سے 31 مئی تک لاک ڈاون کے دوران 55 صحافیوں کو رپورٹنگ اوراپنی رائے کا اظہار کرنے پر کے لئے نشانہ بنایا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں، 10 کو گرفتار کیا گیا اور 9پر حملہ کیا گیا۔

    آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کم از کم 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایف آئی آر ان تارکین وطن کی حالت زار ، انتظامیہ کی بدانتظامی ، اور سیاسی رہنماں پر تنقید کی وجہ سے ان کی رپورٹ پر درج کی گئیں۔

    اس رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم 10 صحافی گرفتار ہوئے اور چار دیگر کو سپریم کورٹ نے گرفتار ہونے سے بچایا۔ جبکہ سات صحافیوں کو سمن جاری کرنے یا شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ۔ نو افراد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو پولیس تحویل میں تھے۔

    ذرائع کے مطابق اترپردیش میں 11 صحافیوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا ، اس کے بعد جموں و کشمیر (6)، ہماچل پردیش (5)، اور تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا میں سے ایک ایک صحافی پر حملہ کیا گیا۔

  • بیٹے جس مشن پر نکلے ہوپورا کرنا ، ہتھیار مت ڈالنا، کشمیری ماں کا دوران جھڑپ بیٹے کو فون

    بیٹے جس مشن پر نکلے ہوپورا کرنا ، ہتھیار مت ڈالنا، کشمیری ماں کا دوران جھڑپ بیٹے کو فون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے 18 سالہ نوجوان کی والدہ نے دوران جھڑپ بیٹے کو پیغام دیا کہ بیٹا ہتھیار مت ڈالنا جس کام کے لئے نکلے ہو وہ پورا کرنا

    18سالہ ثقلین کی والدہ سے آخری فون کال کی ریکارڈنگ سامنے آئی ہے ،شہادت سے پہلے ثقلین نے فون کر کے والدہ کو بتایاکہ وہ اپنے 3دوستوں کے ساتھ پنجورہ میں بھارتی فوج کے محاصرے میں ہے ، جس پر ماں نے کہا بیٹا ہتھیار نہ ڈالنا، جس کام کے لیے نکلے ہو وہ پورا کرنا، میں تم سے راضی ہوں، میرا خدا بھی راضی ہے ، اللہ تمہیں مقصد میں کامیاب کرے ۔

    سات اور آٹھ جون کی درمیانی رات آزادی کیلئے جان قربان کرنیوالے 18سالہ ثقلین کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ وہ بی اے کا طالب علم تھا ۔شہید ثقلین کو بھارتی فوج نے بارہ مولا کے گمنام قبرستان میں سپردخاک کردیا جہاں لگ بھگ ساڑھے تین سو شہدا ء کی قبریں ہیں۔

    واضح رہے کہ 8 جون کو بھارتی فوج نے مختلف سرچ آپریشنز میں 13 کشمیری شہید کر دئے تھے،ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔ ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ 14 سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

  • کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار از قلم :ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار از قلم :ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار
    ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    وادی کشمیر میں حالت روز بروز بد سے بد تر ہوتی جارہی ہیں ۔ ایک طرف یہاں کے حالات جس کی وجہ سے زندگی دشوار بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف منشیات میں مبتلا ہمارے نوجوان۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔جوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔۔ یہی نوجوان کل کو کسی بھی قوم کے ڈاکٹر۔ انجینئر اور سیاست دان بنتے ہیں ۔قوم کا مستقبل انہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ نوجوان طبقے سے ہی قوم کی اُمیدیں وآبستہ ہوتی ہیں اگر یہ نوجوان ہی بگڑ جائیں، راستہ بھول جائیں، اندھیرے میں بھٹک جائیں تو قوم کی اُمیدیں بھی اندھیروں میں بھٹکتی ہیں ۔
    قوم کے روشن مستقبل کے لئے جوان ہمت، شاہین صفت نوجوان درکار ہوتے ہیں جو قوم کا مستقبل سنوار سکیں ۔قوم کو ترقی کی سمت لے جاسکیں ۔
    مگر وادی کشمیر میں آج اُسی قوم کے جوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے جن پر ہماری اُمیدیں وآبستہ تھیں کہ کل کو یہ جوان ہماری قوم کے قائد بنیں گے۔ مگر یہ نوجوان منشیات کی لت میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کب اور کس جگہ نشے کی حالت میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔کشمیری نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر اس کا تدراک بروقت نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں اس کا اثر پورے سماج کو دیکھنا پڑے گا۔ اور بعد میں ہمیں پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہیں پو گا۔
    نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچُکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون۔چرس۔ہیروئین۔کوکین۔بھنگ۔براؤن شوگر۔گوند۔رنگ پتلا کرنے والے محلول اور کئ دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چُکے ہیں۔
    اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔
    علاوہ ازیں وادی کشمیر میں صورتحال بہت گمبھیر ہے کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ بہت سی ایجنسیاں پہلے پہل جوانوں میں مفت منشیات سپلائی کرتی ہیں اور بعد میں عادی ہونے کے بعد ان سے ہی پھر فروخت کیا جاتا ہے اور یہ عمل بھی کافی تشویشناک ہے۔
    یہ سرمایہ بہت سے طریقوں سے یہاں لوٹا جارہا ہے اگر اس مسئلے کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو آنے والا وقت ہمارے لئے بہت خطرناک ثابت ہو گا۔ نہ کہ ہم بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوں گی ۔
    یہ وبا اگر چہ پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دُنیا میں منشیات کی مانگ سب سے زیادہ یورپ میں ہے۔ جہاں تقریباً ٧٥ فیصد لوگ ذہنی دباؤ اور دیگر امراض کے شکار لوگ وقتی سکون حاصل کرنے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔کیونکہ ان لوگوں میں بے سکونی زیادہ دولت کی حرص اور باقی چیزیں کی بدولت پائی جاتی ہے۔اور اگر پوری دُنیا کی بات کی جائے تو دُنیا میں تقریباً ستایئس کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔
    اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال ٢٦ جون کو دُنیا بھر میں منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی تجارت کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اور اب وہ دن بھی آنے والا ہے اس دن کی مناسبت سے بڑے پیمانے پر سیمنارس منعقد ہونے چاہییں اور اس بات پر زور دینا چاہئیے کہ کیا وجہ ہے کہ پوری دُنیا میں منشیات میں کیوں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے ۔کون سے محرکات کارفرما ہیں جن کی وجہ سے اس کاروبار کو فروغ مل رہا ہے اور منشیات کی روک تھام کرنے کے لئے کون سے لائحہ عمل اختیار کرنے ہیں۔اور ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے منشیات کی روک تھام ہو سکے اور پوری دُنیا کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ہماری وادی کشمیر کا بھی نوجوان اس لت سے محفوظ ہو سکےاور قوم کو ان نوجوانوں سے جو اُمیدیں وآبستہ ہیں وہ اُن پر پورا اُتر سکیں۔۔۔
    محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
    ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

  • تمام کشمیری دہشتگرد ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا بڑا بیان

    تمام کشمیری دہشتگرد ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا بڑا بیان

    مظفرآباد:تمام کشمیری دہشتگرد ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا بڑا بیان،اطلاعات کے مطابو صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت اگرکشمیریوں کو اپنا حق خود ارادیت مانگنے پردہشت گرد کہتا ہے تو سوبارکہے ہم اپنا حق لینے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے ،

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق 7 نیوز سے بات کرتے ہوئے سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ بھارت ایسے الزامات سے کبھی بھی کشمیریوں‌کو جدوجہد سے نہیں‌روک سکتا ، انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے‘ گزشتہ ماہ بھارت نے 40 سے زاید نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا ہے۔

    صدر سردار مسعود خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ سب ماورائے عدالت قتل ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور اب ان کے انٹیلی جنس حکام ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں اور پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے جنگی کھیل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    صدر مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بالکل خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے‘ ڈومیسائل کے نئے قانون کے اطلاق کے بعد کشمیری اپنے وطن میں بے وطن ہو جائیں گئے اور ان سے استصواب رائے کا حق چھین لیا جائے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے : سابق پولیس سربراہ

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے : سابق پولیس سربراہ

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے : سابق پولیس سربراہ کے بیان سے کشمیرمیں ظلم وتشدد کے نئے سلسلے کے شروع ہونےامکان ،مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے سابق سربراہ شیش پال وید نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے ہندوئوں کو مسلح کرنے اورانہیں تربیت دینے اور دیہی دفاعی کمیٹیاں بنانے کی وکالت کی ہے۔ ایسی کمیٹیاں جموں اور پونچھ اور راجوری اضلاع کے سرحدی علاقوں میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے بدنام ہیں

    ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام ہندوئوں کو مسلح کرنے سے ان کے احساس تحفظ میں اضافہ ہوگا۔

    سابق ڈی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہندواقلیت کو اسلحہ کی تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔شیش پال وید نے اعتراف کیا کہ 1995 ء میں وہ ادھم پور کے ایس ایس پی کی حیثیت سے باگنکوٹ گاؤں میں پہلی دیہی دفاعی کمیٹی تشکیل دینے میں کس طرح معاون بنے جو اس وقت ادھم پور ضلع کا حصہ تھا۔

    یہ گاؤں اب ضلع ریاسی کا حصہ ہے جس سے2007 میں اودھم پور سے الگ کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ بعد میں حکام نے جموں خطے میں وی ڈی سیز قائم کیں جہاں ہندو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔انہوں نے وادی کشمیر میں بھی وی ڈی سی کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فارمولہ بہت کامیاب ثابت ہوا ہے

  • جموں و کشمیر: خفیہ ٹارچرسیل،500 لڑکیوں کی لاشیں ،200 زندہ برآمد،دنیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    جموں و کشمیر: خفیہ ٹارچرسیل،500 لڑکیوں کی لاشیں ،200 زندہ برآمد،دنیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    سری نگر: جموں و کشمیر: خفیہ ٹارچرسیل،500 لڑکیوں کی لاشیں ،200 زندہ برآمد،دنیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورتازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں خفیہ ٹارچرسیل بنا رکھے ہیں جہاں کشمیری لڑکیوں کولایا جاتا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے ظلم اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ایمنسٹی انٹنرنیشنل نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہےکہ پچھلے چند دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ان خفیہ سیلوں‌ سے بڑی دردناک رپورٹس آرہی ہیںَ

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہےکہ ان ٹارچرسیلوں سے 500 کشمیری لڑکوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 200 ایسی زندہ لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جو کہ بھارتی فوج کے مظالم سے زندہ لاشیں بن چکی ہیں‌

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم جاری ہیں اور اندازوں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ بھارتی فوج کی جارحیت کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے بھارتی فورسز اپنی کارروائیوں کے دوران کشمیریوں کو شہید کرنے کے بعد بسا اوقات ان کی نعشیں ورثاء کے سپرد کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور انہیں تجہیز و تکفین کے بغیر دفنا دیا جاتا ہے۔

    ہندوستانی انسانی حقوق کے محافظوں نے اطلاع دی ہے کہ جموں کشمیر کے شمال میں اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں جہاں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کو دفن کیا گیا ہے۔

    دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق ، انٹر نیشنل ہیومن راٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف (آئی پی ٹی کے) نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں بانڈی پورہ ، بارہ مولہ اور کپواڑہ گاؤں میں 55 دیہات میں کی جانے والی کھدائی کے دوران 2 ہزار 700 قبریں دریافت ہوئی ہیں اور ان قبروں میں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کی نعشوں تک رسائی حاصل کرنے سے آگاہ کیا ہے۔

    اس این جی او نے ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن نے تنظیم سے اس واقعے می کی چھان بین کرنے میں مددگار ہونے ، اجتماعی قبروں کی تلاش پر مشتمل رپورٹ ، جموں و کشمیر کے خاتمہ شدہ ریاستی انتظامیہ کے سابق وزیر اعظم عمر عبداللہ اور ہندوستانی حکومت کے متعلقہ اداروں سے آگاہ کیا گیا ہے۔

    آئی پی ٹی کے کی بانی آنگنا چیترجی نے کہا ہے کہ شناخت شدہ 2 ہزار 700 قبروں میں سے 2 ہزار 373 گمنام ، 154 قبروں میں 2 لاشیں ، 23 قبروں میں 3 سے 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔

    ہندوستانی حکومت نے 5 اگست ، 2019 کو آئینی ترمیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی نصف صدی سے جاری خود مختیاری کو آرٹیکل 370 کے ذریعے ختم کردیا ، جس سے خطے کی خصوصی حیثیت کا خاتم ہونے کے ساتھ ساتھ جمو ں و کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرلیا۔

    رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر میں اب تک 8000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، باندی پورہ اور کپواڑہ سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن نے ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 7000 سے زائد بے شناخت اور اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ فروری میں انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ یافتہ کارکن پرویز امروز کی سربراہی میں تنظیم والدین لاپتہ افراد کے وکلا کو اجتماعی قبروں کے مقامات پر جانے کی ممانعت کر دی گئی۔

    جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد‘ اور ’تنظیم برائے والدین لاپتہ افراد‘ کی مشترکہ رپورٹ میں سن 2018 میں رونما ہونے والے حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنابالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ زندگی کا روزمرہ بن چکا ہے۔ اس دوران آزادی کا مطالبہ کرنے والے کارکن اور انہیں کچلنے کے لیے موجود سات لاکھ ریاستی اہلکار گویا ’پتھرائے‘ گئے ہیں۔ قوم پرستی اور مذہب پرستی کے نام پر مفاد پرستی کے چلن نے جنوبی ایشیا کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ بنا ڈالا ہے۔

    رپورٹ میں سن 2018 کو اس دہائی کا مہلک ترین برس قرار دیا گیا ہے۔ اس برس 586 افراد قتل ہوئے جن میں 160 سویلین،267 مسلح باغی اور بھارت کی مسلح افواج اور پولیس کے159 اہلکار شامل تھے۔ اس برس قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے نتیجہ میں مسلح باغیوں کی ہلاکتیں (267) درحقیقت 2016 اور سن 2017 کے مقابلہ میں زیادہ تھیں کہ جب بالترتیب 145 اور108 مسلح باغی قتل ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیاسی کارکن بھے تھے، سماجی کارکن بھی، پولیس اور فوجی اہلکار بھی۔ فریقین کے اہل خانہ پر ٹارگٹ حملوں کے واقعات بھی ہوئے۔ انہی مقتولین میں دو ایسے افراد بھی شامل تھے جن کا دماغی توازن درست نہ تھا۔