Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے، سابق پولیس سربراہ

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے، سابق پولیس سربراہ

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے، سابق پولیس سربراہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے سابق سربراہ شیش پال وید نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے ہندوئوں کو مسلح کرنے اورانہیں تربیت دینے اور دیہی دفاعی کمیٹیاں بنانے کی وکالت کی ہے۔ ایسی کمیٹیاں جموں اور پونچھ اور راجوری اضلاع کے سرحدی علاقوں میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے بدنام ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام ہندوئوں کو مسلح کرنے سے ان کے احساس تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ سابق ڈی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہندواقلیت کو اسلحہ کی تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
    شیش پال وید نے اعتراف کیا کہ 1995 ء میں وہ ادھم پور کے ایس ایس پی کی حیثیت سے باگنکوٹ گاؤں میں پہلی دیہی دفاعی کمیٹی تشکیل دینے میں کس طرح معاون بنے جو اس وقت ادھم پور ضلع کا حصہ تھا۔ یہ گاؤں اب ضلع ریاسی کا حصہ ہے جس سے2007 میں اودھم پور سے الگ کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ بعد میں حکام نے جموں خطے میں وی ڈی سیز قائم کیں جہاں ہندو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔انہوں نے وادی کشمیر میں بھی وی ڈی سی کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فارمولہ بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دو الگ الگ آپریشنز میں مزید 4نوجوان شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دو الگ الگ آپریشنز میں مزید 4نوجوان شہید

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دو الگ الگ آپریشنز میں مزید 4نوجوان شہید ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آپریشنز کے جاری سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے دو مختلف واقعات میں مزید 4نوجوانوں کو شہید کر دیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کولگام کے نپورہ علاقہ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ میں دو عسکریت پسند شہید ہو گئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کاروائی کی جا رہی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ضلع کولگام کے دیوسر گنورہ علاقہ کو سکیورٹی فورسز ,جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم ، فوج کے 19 راشٹریہ رائفلز اور سنٹرل ریزرو پولیس نے جمعہ کی رات اس وقت محاصرہ میں لے لیا جب انہیں وہاں پر عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقہ میں تلاشی شروع کی جس کے بعد دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

    دوسری جانب ، اننت ناگ کے للہن علاقے میں ہفتے کو مشترکہ آپریشن بھی شروع کیا گیا جس میں 2 نوجوان شہید ہو گئے ۔رواں ہفتے جنوبی کشمیر میں یہ چوتھا مقابلہ ہے۔ اس سے قبل ضلع شوپیان میں تین الگ الگ مقابلوں میں حزب الجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر سمیت 14 عسکریت پسند شہید ہوگئے تھے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس اسلحہ کی دیکھی جا رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سیکیورٹی فوسز کی نگرانی کڑی ہوئی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے دو مختلف واقعات میں 4نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کولگام کے نپورہ علاقہ میں ایک آپریشن کے دوران بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ میں دو عسکریت پسند شہید ہو گئے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کاروائی کی جا رہی ہے۔

    ضلع کولگام کے دیوسر گنورہ علاقہ کو سکیورٹی فورسز ,جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم ، فوج کے 19 راشٹریہ رائفلز اور سنٹرل ریزرو پولیس نے جمعہ کی رات اس وقت محاصرہ میں لے لیا جب انہیں وہاں پر عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقہ میں تلاشی شروع کی جس کے بعد دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

    دوسری جانب ، اننت ناگ کے للہن علاقے میں ہفتے کو مشترکہ آپریشن بھی شروع کیا گیا جس میں 2 نوجوان شہید ہو گئے ۔ رواں ہفتے جنوبی کشمیر میں یہ چوتھا مقابلہ ہے۔ اس سے قبل ضلع شوپیان میں تین الگ الگ مقابلوں میں حزب الجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر سمیت 14 عسکریت پسند شہید ہوگئے تھے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔ ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ 14 سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

  • سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سال 2020-21 کا بجٹ آج پیش کر دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ظاہر ہے اسکے اثرات پاکستان پر بھی ہیں۔ پہلے سے کمزور و ناتواں معاشی حالت کی ابتری میں یقیناً مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں ریاست کے فنڈز میں کمی ہوئی وہیں عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا، بھوک نے ڈیرے ڈالے، سفید پوش طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ ہے جسکے لیے بھوک سے مرنا ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے، ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات نے بے لوث خرچ کر کے ہم وطنوں کی مدد میں انتہا کر دی، وہیں ریاست پاکستان کے احساس پروگرام نے بھی ملک بھر میں حقداروں کو اربوں روپے کی امداد دی۔ ان حالات میں موجودہ بجٹ پیش کیا گیا ہے. جس میں پہلی بار کسی قسم کے نئے ٹیکس کا اضافہ نہیں ہوا ، اوپر بیان کئے گئے حالات کے باوجود ٹیکس کا اضافہ نا ہونا یقیناً قابل تحسین عمل اور عام آدمی کیلئے راحت کا باعث ہوگا۔ اسی طرح اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا جسے میں تو خوش آئند ہی کہوں گا کیونکہ یہ وہ طبقہ جسے بہرحال ہر ماہ ایک لگی بندھی رقم گزر بسر کیلئے مل جاتی ہے گزشتہ تین ماہ لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروباری یعنی دکاندار طبقہ تھا، ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ نا کرنا بھی یقیناً ریاست و عوام کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

    حسب سابق اس بار پھر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دفاعی بجٹ کا تعلیم و صحت سے موازنہ اور تنقید جاری ہے اس پر یہی گزارش کروں گا کہ یہ بارہ اعشاریہ نو تقریباً تیرہ کھرب کا دفاعی بجٹ جو اکہتر کھرب کے کل بجٹ کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے ، دشمن ریاست کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں سات گنا کم ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کے رواں سال بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے سات کھرب زیادہ یعنی اٹھہتر کھرب ہے ۔ یہ اعداد و شمار پبلک ہیں کوئی بھی انہیں چیک کر سکتا ہے، بھارت کی پاکستان دشمنی ساری دنیا کے سامنے ہے وہ شروع دن سے پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے اور حالیہ دنوں بھارتی حکومت تو اکھنڈ بھارت کے نظریے پر کارفرما ہے، چین سے مار کھانے کے باوجود دو دن قبل انہوں نے کراچی کی طرف شرارت کی کوشش کی، بالاکوٹ ائر سٹرائک بھی پرانی بات نہیں، بلوچستان میں جاری شورش بھی آپ جانتے ہیں، جبکہ کشمیر و ایل او سی پر لاک ڈاؤن و جارحیت اور مسلسل شہادتیں جنکی تعداد رواں سال ہی سینکڑوں میں جا چکی ہے ، ایسے سات گنا بڑے ، گھٹیا اور چالاک دشمن کے مقابلے یہ بجٹ محض گزارہ ہی ہے۔

    جہاں تک بات تعلیم و صحت کی ہے تو عرض یہ ہے کہ یقیناً سیکورٹی سٹیٹس میں یہ چیزیں کمپرومائز ہوتی ہیں لیکن یہ دونوں شعبہ جات صوبوں میں بھی بجٹ کا ایک مناسب حصہ رکھتے ہیں جو جاری بحث میں اگنور کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کا بجٹ محض وفاق کے حصے میں آتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کرپشن سے پاک ، مخلص و صالح قیادت عطا کرے جو دشمنوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں بھی کرپشن کا خاتمہ کر ایک فلاحی ریاست کے قیام کا سبب بنے ۔ آمین

  • گلگت بلتستان سے 2 بھارتی جاسوس گرفتار،اہم انکشافات

    گلگت بلتستان سے 2 بھارتی جاسوس گرفتار،اہم انکشافات

    گلگت:گلگت بلتستان سے 2 بھارتی جاسوس گرفتار،اہم انکشافات،اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان سے سکیورٹی فورسز نے دو بھارتی جاسوسوں کو گرفتار کرلیا۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پکڑے گئے بھارتی جاسوسوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

    سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) مرزا حسن کا کہنا تھا کہ دونوں بھارتی جاسوسوں کو بھارت نے زبردستی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کراس کرایا تھا۔

    ایس ایس پی نے بتایا کہ بھارتی جاسوسوں کی شناخت مشتاق وانی اور فیروز احمد لون کے ناموں سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ جاسوسوں نے بھارتی عزائم سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

  • وزارت امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر پر آفس میں حملہ ہوگیا ، ایڈمنسٹریٹرزخمی

    وزارت امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر پر آفس میں حملہ ہوگیا ، ایڈمنسٹریٹرزخمی

    ذرائع کے مطابق امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر مسرور عباسی اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ دو افراد نے وہاں گھس کر ان پر تشدد کیا اور انھیں شدید زخمی کر دیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے تشدد سے مسرور عباسی زخمی ہو گئے ہیں، جنھیں میڈیکل کے لیے اسپتال لے جایا گیا، تشدد کرنے والے دونوں حملہ آور بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

    ایس ایچ او سول لائنز کا کہنا تھا کہ مسرور عباسی پر حملہ زمین کے تنازع پر کیا گیا، فریقین کے درمیان زمین کا تنازع چلا آ رہا ہے، مسرور عباسی کا میڈیکل ہونے کے بعد حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    دریں اثنا، وزارت امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر مسرور عباسی پر تشدد کے واقعے کی سی سی ٹی وی  میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور دفتر میں داخل ہو رہے ہیں، بعد ازاں پولیس دروازہ توڑ کر زخمی مسرور احمد کو باہر نکال رہی ہے۔

  • گرفتارکشمیری خاتون فوٹو گرافر مسرت زہرا نے فوٹو جرنلزم ایوارڈ جیت لیا

    گرفتارکشمیری خاتون فوٹو گرافر مسرت زہرا نے فوٹو جرنلزم ایوارڈ جیت لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن نے کشمیری فوٹو گرافر مسرت زہرا کو فوٹو جرنلزم ایوارڈ میں اس سال فاتح قرار دیا ہے

    انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے تصاویر کا مقابلہ کروایا گیا تھا،انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تنازعات کی نشاندہی کرنے پر مسرت زہرا کو ایوارڈ دیا گیا

    مسرت زہرا ، جو سرینگر شہر میں پیدا ہوئی تھیں ، اپنی تصاویر کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کے اندر روز مرہ کی زندگی کے بارے میں ایک جذباتی تصاویر فراہم کرتی ہیں ، جسے انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کی جیوری نے سراہا. اورفاتح قرار دیا

    یہ ایوارڈ جرمن فوٹو جرنلسٹ انجا نڈرنگھاؤس کی یاد میں دیا جاتا ہے، جو 2014 میں افغانستان میں ہلاک ہوا تھا۔ ایوارڈ جیتنے والے کو 2 کروڑ انعام انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کے ذریعے دیا جاتا ہے، انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن 1990 سے آزادی صحافت کی جنگ لڑ رہا ہے اور خواتین صحافیوں کے جذبات کی قدر اور انکی بھر پور حمایت کرتا ہے

    انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلیسہ لیس منوز کا کہنا ہے کہ حکومتی دھمکیوں اور پوری دنیا میں پریس کی آزادی کی گرتی ہوئی حالت کی وجہ سے دنیا بھر میں ان گنت کمیونٹیز کو شدید خطرات ، نقصان اور سنسرشپ کا سامنا ہے۔ ان اوقات کے دوران ، انجا کی میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سرخیوں کے نیچے رہنے والی کمیونٹیز ہیں جو شہری اور معاشرتی ظلم و بربریت کا اصل نشانہ ہیں۔

    مسرت زہرہ کا ایوارڈ کا اعلان ہونے پر کہنا تھا کہ ایوارڈ نے ‘میرے جیسے صحافیوں کے کام’ کو تسلیم کیا.

    مسرت زہرہ کی تصاویر کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں ، جہاں بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم کرتی ہے، نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے اور اس دوران انٹرنیٹ بھی بند کر دیا جاتا ہے

    کشمیر میں کام کرنے والی چند خواتین فوٹو جرنلسٹوں میں سے مسرت زہرا کو اکثر ہراساں کیا جاتا ہے اور اسے بار بار بھارتی حکومت کے لئے خطرہ بھی کہا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ، اس وقت ان کی ان فوٹوگرافوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں جن کی انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے اور اسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    مسرت زہرہ کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ یہ اعزاز مجھے اپنی صلاحیتوں کو مکمل کرنے اور اپنے کام کو زیادہ اعتماد کے ساتھ انجام دینے کی ترغیب دے گا۔ مجھے یہ بھی توقع ہے کہ وہ دوسری خواتین فوٹوگرافروں کو بھی متاثر کرے گی جو مشکل ماحول میں کام کررہی ہیں۔

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    رواں سال 18 اپریل کو مسرت پر یو اے پی اے کے سیکشن 13 اور انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 505 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ مسرت نے گزشتہ برس دسمبر میں کی گئی ایک اسٹوری کی تصویر فیس بک پر شائع کی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایک عورت کا شوہر 2000 میں مبینہ طور پر بھارتی فوج کی جانب سے ہلاک کیا گیا تھا۔ زہرا نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ دو دہائی بعد بھی یہ عورت اپنے شوہر کو یاد کر کے ذہنی دبا وکا شکار ہوجاتی ہے

    مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم جاری مزید 7 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم جاری مزید 7 کشمیری شہید

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم جاری مزید 7 کشمیری شہید،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی حالیہ ریاستی دہشت گردی کے دوران علی الاصبح سیکڑوں فوجیوں کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں 7 حریت پسند شہید ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق ایک پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ کچھ افراد سری نگر کے جنوب میں واقع سوگو گاؤں کے نزدیک ایک سیب کے باغ میں چھپے ہوئے تھے جنہیں صبح ہونے سے قبل فوجی دستوں نے گھیر لیا۔اس ضمن میں فوجی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے کہا کہ ’جائے وقوع سے 5 ہتھیار اور ان کی لاشیں نکال لی گئیں‘۔

    ادھرسری نگر سے ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں بھارتی فوج نے پر تشدد گھیراؤ اور آپریشن شروع کیا ہے جس سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ رات ضلع کے پٹھان پورا علاقے کا گھیراؤ کر کے چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔اس علاقے سے بھی دوکشمیری نوجوانوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں‌

    آخری اطلاعات آنے تک علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل تھے۔

    خیال رہے 2 روز قبل بھی مقبوضہ کشمیر میں مبینہ جھڑپوں میں گزشتہ 24 گھنٹے میں کم از کم 9 کشمیری جاں بحق ہوگئے تھے۔اس حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقبوضہ وادی میں موجود قابض بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان لڑائی میں اپریل سے اب تک 50 سے زائد حریت پسند جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران 23 بھارتی فوجی بھی مارے گئے۔

  • بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکی سفیرنے خطرے کی گھنٹی بجادی

    بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکی سفیرنے خطرے کی گھنٹی بجادی

    واشنگٹن : بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکی سفیرنے خطرے کی گھنٹی بجادی،اطلاعات کے مطابق امریکا کے خصوصی سفیر براؤن بیک نے بھارت میں مذہبی آزادی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق ویڈیولنک کے ذریعے پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس سے خصوصی امریکی سفیر سیموئیل براؤن بیک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی طور پر بھارت تمام مذاہب کی سرزمین ہے لیکن بھارت کے موجودہ حالات پر فکر مند ہیں۔براوٗن بیک نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کو کرونا پر قربانی کا بکرا بنائے جانے پر تشویش ہے اور مذہبی اقلیتوں کو کرونا کا ذمہ دار ٹھہرانا کسی طور پر درست نہیں۔

    امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت میں کرونا پر اقلیتوں کے ساتھ سلوک کو دیکھ رہے ہیں اگر بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، بھارت میں اعلیٰ سطح پر بین المذاہب گفتگو کا آغاز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہر شہری کی صحت دیگر سہولیات تک رسائی کو ممکن بنایا جائے اور کرونا کے معاملے پر اقلیتوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

    امریکی خصوصی سفیر سیموئیل براوٗن بیک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان، سوڈان میں مذہبی آزادی کی صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں  میڈیا پر بھی لاک ڈاون ،نئی پالیسی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر بھی لاک ڈاون ،نئی پالیسی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر بھی لاک ڈاون ،نئی پالیسی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیاہے۔ جس مقبوضہ جموں کشمیر کے صحافیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    نئی میڈیا پالیسی کے تحت حکومت اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا میں شائع یا نشر ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور سرکاری حکام یہ فیصلہ کریں گے کہ فرضی خبر کون سی ہے یا سماج مخالف اورملک مخالف رپورٹنگ کونسی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے 2020 میڈیا پالیسی کو مرتب کیا اور اس طریقہ کار کے تحت میڈیا کو درپیش معاملات مقررہ مدت کے دوران صاف و شفاف طریقے سے حل کرنے میں مدد ملنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد جعلی خبروں اور غلط اطلاعات کی کوششوں پر روک لگانا ہے۔ تاہم اس میڈیا پالیسی کو حکومت نے ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقامی صحافیوں نے نئی میڈیا پولیسی کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔مقبوضہ جموں کشمیر کے معروف صحافی سہیل کاظمی نے نئی میڈیا پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کو سنسرشپ کے دائرے میں آنا چاہیے۔ لیکن میڈیا ایک واحد شعبہ ہے جس نے جموں و کشمیر میں پل کی مانند کام کیا ہے۔ جب حکومت کی تمام ایجنسیز ناکام اور خاموش تھیں تب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے افراد نے قربانیاں دیں تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہو۔’ انہوں نے کہا ‘اب اسی کے بدلے ہمیں ایک کمزور میڈیا پالیسی ملی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک صحافی کو کسی حکومتی ادارے یا پولیس ویریفیکیشن سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بالی ووڈ میں فلم کو سنسر بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کو بھی بلایا جاتا ہے اور جس سین کو ایڈٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس پر مل کر مشورہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ میڈیا پالیسی کو مرتب کرنے سے قبل جموں کشمیر کے صحافیوں کی نمائندگی کو یقینی بنائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔’

    ایڈوکیٹ ساہل کوہلی جو کہ ایک ہفتہ وار رسالہ کے مدیر ہیں، کا کہنا ہے کہ ‘کافی وقت سے میڈیا پالیسی کا انتظار تھا کیونکہ اب سوشل میڈیا سے متعدد میڈیا ادارے سامنے آرہے ہیں اس پر نظر رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم جس طرح سے حکومت نے اس میڈیا پالیسی میں صحافیوں کو حکومتی سطح پر انعامات دینے کی بات کی ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔’ انہوں نے کہا ‘اس طرح ایک صحافی کے کام کرنے پر سوالیہ نشان لگے گا اور ایکریڈیشن حاصل کرنے کے لئے پولیسں ویریفیکیشن حاصل کرنے میں میڈیا کی یکسانیت پر اثر پڑے گا۔

    حکومت نے جموں و کشمیر میں میڈیا کے تعلق سے ایک نئی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کسی بھی صحافی کے ایکریڈیشن کے لیے اس کا سکیورٹی چیک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اخبار کے رجسٹریشن اور حکومتی اشتہارات تک رسائی کے لیے مالکان، ایڈیٹرز اور دیگر ملازمین کے بیک گروانڈ کو چیک کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے.