Baaghi TV

Category: کشمیر

  • چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب

    چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب

    آج سے ڈیڑھ سال قبل ملک کی ایک بڑی دعوتی، فلاحی ، دفاعی جماعت کی قیادت و اثاثے بھارتی و بین الاقوامی دباؤ پر بند کر دئیے گئے ، ملکی ناقص معاشی صورتحال کی وجہ سے تحویل میں لیے گئے جماعت کے اداروں کا بوجھ اٹھانا حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے ، لاکھوں غرباء مساکین بے آسرا ہو گئے محض اس بات پر کہ شاید عالمی قوتیں اور بھارت خوش ہو جائے ، شاید ہمارے وجود کو تسلیم کر لیا جائے، شاید ہم اچھے ہمسائے بن جائیں ، شاید معاشی پابندیاں کم ہو جائیں،شاید ایف اے ٹی ایف کوئی رعایت کر دے مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی۔۔۔۔۔

    5 اگست سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور سینکڑوں جوانوں کی شہادت ، ایل او سی پر مسلسل فائرنگ اور آزاد کشمیر کے شہریوں کی شہادتیں، بلوچستان میں آرمی پر حملے اور فوجی جوانوں کی شہادتیں، چند دن قبل کراچی کی طرف بھارتی فضائیہ کی اڑانیں، بھارتی قیادت کی مسلسل پاکستان پر حملے کی دھمکیاں۔۔۔۔۔۔

    اور دشمن کی چہار اطراف جارحیت کے مقابل ماشاءاللہ دفاعی حکمت عملی میں پہلے جماعت کے سربراہ اور اب باقیماندہ قیادت کو سزائیں و جرمانے۔

    اللہ ہمارے فیصلہ سازوں پر رحم کرے اور درست فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین

  • پلوامہ :بھارتی فوج کے مظالم جاری ،آپریشن کے دوران ایک اورکشمیری نوجوان  شہید

    پلوامہ :بھارتی فوج کے مظالم جاری ،آپریشن کے دوران ایک اورکشمیری نوجوان شہید

    سرینگر:پلوامہ :بھارتی فوج کے مظالم جاری ،آپریشن کے دوران مزید ایک کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں ایک نوجوان کشمیری عسکریت پسند کو شہید کر دیا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر زون پولیس کا کہنا ہے کہ دیر رات پامپور کے میج علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی

    اطلاعات کے مطابق حکام نے اونتی پورہ، ترال اور پامپور علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں اور مذکورہ علاقے کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے ۔بد ھ کی شام اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز نے ریڈوانی کولگام سے تعلق رکھنے والے حزب المجاہدین کے ایک کارکن کو بھی گرفتار کر لیا۔

    مقبوضہ کشمیر میں 16جون کو بھی شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہیدہوئے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ1008واقعات میں917عسکریت پسند, 440شہری اور58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں315سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں125کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 129افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 38 واقعات میں 94 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پتھراوا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس اسلحہ کی دیکھی جا رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی نگرانی کڑی ہوئی ہے۔

  • کشمیری جوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کیخلاف آواز اٹھانے پر بھارتی فوج کا خاتون کے گھر پر دھاوا

    کشمیری جوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کیخلاف آواز اٹھانے پر بھارتی فوج کا خاتون کے گھر پر دھاوا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کرنے اور کشمیری نوجوانوں کے عسکریت سے ہٹانے کے لئے منشیات کا ہربہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے سائلو پور کی خاتون نگہت بشیر نے جب بھارتی فوج کی جانب سے نوجوانوں کو منشیات دینے پر آواز بلند کی تو بھارتی فوج نے انکے گھر پر چھاپہ مارا اور انکے خاندان کے افراد پر تشدد کیا، انکے گھر میں توڑ پھوڑ کی،

    نگہت بشیر کا کہنا تھا کہ کشمیر میں آواز اٹھانا جرم بن گیا، میرے کزنز کو مارا گیا ان پر تشدد کیا گیا، میرے والد دل کے مریض ہیں، انکو ابھی ابھی ہارٹ اٹیک ہوا ہے ان پر بھی تشدد کیا،میرے ساتھ بدتمیزی کی گئی، میں نے کہا کہ کونسی غلطی سی کی ہے؟

    بھارت کشمیری نوجوانوں کو منشیات کے ذریعہ تباہ کررہا ہے اور کشمیر کی تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ان کی زندگیاں داؤ پر لگائی جار ہی ہے، بھارت نے تحریک آزادی کو دبانے کے لئے کشمیری نوجوانوں میں منشیات بانٹنا شروع کر دی تا ہم کشمیری نوجوان بھارت کے جھانسے میں نہیں آ رہے

    بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لئے نیا ہتھکنڈا تیار کر لیا،فوجی کیمپوں کے ذریعے منشیات کو فروغ دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،ناپختہ ذہن نوجوانوں کو ورغلا کر منشیات کا عادی بنایا جا رہا ہے ، بھارت نے اپنی فوج کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ایک خطرناک کھیل کا آغاز کیا ہے ، کشمیری نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لئے وادی میں سرکاری سرپرستی میں بے دریغ منشیات پھیلائی جا رہی ہے ،یہ منشیات فوجی کیمپوں کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے ۔

    حریت رہنما بھی اس معاملے پر آواز بلند کر چکے ہیں، دوسری جانب بھارتی فوج اور پولیس ڈھٹائی کے ساتھ منشیات کا الزام پاکستان پر عائد کر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان عسکریت پسندون کی مدد منشیات کے ذریعے کر رہا ہے

  • مقبوضہ کشمیر میں ایک اور بھارتی فوجی کی خودکشی

    مقبوضہ کشمیر میں ایک اور بھارتی فوجی کی خودکشی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک اور بھارتی فوجی جوان نے خود کشی کر لی

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے اونتی پورہ میں سی آ رپی آیف اہلکار نے دوران ڈیوٹی خود کشی کی، خودکشی کرنے والے اہلکار کی شناخت موتی رام کے نام سے ہوئی جس کی رات کو ڈیوٹی تھی اور دوران ڈیوٹی پٹرولنگ کرتے ہوئے اس نے خود کو سرکاری بندوق سے گولی مار کر خود کشی کر لی

    فائرنگ کی آواز سن کر دیگر بھارتی اہلکار موقع پر پہنچے لیکن موتی رام ہلاک ہو چکا تھا، موتی رام کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دی گئی، موتی رام کا شوپیاں میں چند روز قبل تبادلہ کیا گیا تھا اور اس نے اب شوپیاں جانا تھا

    ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 2007سے خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکی تعداد بڑھ کر 455ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج، پولیس، کے اہلکار دور دراز علاقوں میں تعیناتیوں، سہولیات نہ ملنے اور کشمیری عسکریت پسندوں‌کے حملے سے خوفزدہ ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں

  • پلوامہ :آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید

    پلوامہ :آپریشن کے دوران ایک کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں ایک نوجوان کشمیری عسکریت پسند کو شہید کر دیا گیا۔

    کشمیر زون پولیس کا کہنا ہے کہ دیر رات پامپور کے میج علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی ،اطلاعات کے مطابق حکام نے اونتی پورہ، ترال اور پامپور علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں اور مذکورہ علاقے کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بد ھ کی شام اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز نے ریڈوانی کولگام سے تعلق رکھنے والے حزب المجاہدین کے ایک کارکن کو بھی گرفتار کر لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 16جون کو بھی شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہیدہوئے ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ1008واقعات میں917عسکریت پسند, 440شہری اور58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں315سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

  • چینی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی

    چینی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی

    نئی دہلی :چینی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہو گئی،اطلاعات کے مطابق بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان لدّاخ کے سرحدی علاقے میں واقع وادی گلوان میں دوبدو جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں ایک کرنل سمیت 34 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایک سنیئر بھارتی فوجی جنرل نے ڈیلی ٹیلی گراف سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آخری اطلاعات کے آنے تک چینی فوجیوں‌کے ہاتھوں مرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ان میں کئی جونیئرفوجی افسران بھی شامل ہیں ،

    بھارتی فوج نے اپنے بیان میں لداخ کے پہاڑی علاقے میں واقع وادی گلوان میں سوموار کو جھڑپ میں طرفین کے جانی نقصان کی اطلاع دی ہے لیکن بیجنگ نے کسی جانی نقصان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے اور بھارت کو ان جھڑپوں کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

    اس علاقے میں تعینات بھارتی فوج کے ایک افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس واقعے میں کوئی گولی نہیں چلی اورصرف دو بدو ہاتھا پائی اور لڑائی ہوئی ہے۔

    ادھر بیجنگ نے آج ایک بیان میں جھڑپ کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں ہلاکتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس نے بھارتی فوجیوں پر چینی علاقے میں دراندازی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے پہلے چینی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا کہ ’’ بھارتی فوجیوں نے دو مرتبہ سرحدی لکیر عبور کی تھی اور چینی اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں طرفین کی سرحدی فورسز کے درمیان جسمانی ٹاکرا ہوا ہے۔‘‘

    ترجمان نے کہا:’’ ہم یہ درخواست کرتے ہیں کہ بھارت بہتر رویے اور طرزعمل کا مظاہرہ کرے اور سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کو ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرے۔‘‘

    واضح رہے کہ چین اور بھارت کی افواج کے درمیان حالیہ ہفتوں کے دوران میں سرحدی علاقے میں متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ان کا آغاز 9 مئی کو ریاست سِکم کے انتہائی بلندی پر واقع سرحدی علاقے میں دوبدو لڑائی سے ہوا تھا۔چینی اور بھارتی فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجےمیں فریقین کے متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

    چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلومیٹر (2200 میل) طویل سرحد ہے لیکن دشوار گذار پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی مناسب طریقے سے حد بندی نہیں ہوئی ہے اور دونوں ملکوں ہی غیر شناختہ سرحدی علاقوں پر اپنا حق جتلاتے رہتے ہیں۔

    بعض بھارتی مبصرین کے مطابق بھارت سرحدی علاقے میں سڑکیں اور فضائی پٹی تعمیر کررہا ہے۔ وہ چین کے بیلٹ اور روڈ اقدام کے ردعمل میں یہ تعمیرات کررہا ہے اور اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان 1962 سے سرحدی علاقے میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب ان کے درمیان شمال مشرق میں واقع ریاست اروناچل پردیش پر تنازع پر باقاعدہ جنگ لڑی گئی تھی۔

    چین نے گذشتہ ہفتے بھارت کے ساتھ پیدا ہونے والی سرحدی کشیدگی کے حل کے لیے ’’ مثبت اتفاق رائے‘‘ طے پانے کی اطلاع دی تھی۔چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان حوا چونائنگ نے بیجنگ میں گذشتہ بدھ کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ’’ سفارتی اور فوجی چینلوں کے ذریعے ’مؤثر ابلاغ‘ سے سرحد پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے حل کے لیے’مثبت اتفاق رائے‘ ہوگیا ہے۔‘‘

    انھوں نے کہا کہ اب طرفین اس اتفاق رائے کی بنیاد پر سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات کررہے ہیں۔‘‘مگر انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔

  • لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی

    لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی

    لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ،محبوبہ مفتی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین بھارت تنازعے پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی ٰمحبوبہ مفتی نے ٹویٹ کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ لگتا ہے چین نے "گھر میں گھس کر ماریں گے” کی جارحانہ عسکری اپروچ کو ہائی جیک کرلیا ہے،قوم یہ جاننے کی مستحق ہے کہ انتقامی کارروائی کی بات کیوں نہیں کی جارہی ہے،

    گھر میں نظر بند محبوبہ مفتی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ان کی بیٹی التجا مفتی چلا رہی ہیں

    واضح رہے کہ 1975 کے بعد پہلی بار چین کی جانب سے فائرنگ میں بھارتی فوج کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،گزشتہ شب ایل اے سی پر بھارت اور چینی فوجیوں کے درمیان گلوان وادی کے مقام پر حالات کیشدہ ہوگئے ، بھارتی فوج کے کرنل (ایک انفنٹری بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر) اور فوج کے 2 جوان چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے۔

    واضح رہے کہ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تصادم جو 5 مئی کو لداخ میں وادی گلوان اور اس کے بعد شمال مشرقی سکم کے علاقے نکولہ میں شروع ہوا تھا اس کے تین دن بعد بھارت اور چین میں شدید تلخی آئی تھی چین نے لداخ میں بھارتی علاقے میں گھس کر بھارتی فوج کر گرفتار کر لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا

    سی پیک کے خلاف امریکی سازش کے توڑ کیلئے چین کے پانچ ہزار فوجی بھارت میں گھس گئے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

    مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

    مودی ٹرمپ ٹیلی فونک رابطہ ، بھارت کی چین اور امریکہ کی سیاہ فاموں کے ہاتھوں درگت پر دونوں کا ایک دوسرے سے اظہار یکجہتی

    پاکستان کو بات بات پر تڑیاں لگانے والا بھارت ، لداخ پر چینی قبضے کے خلاف تاحال منتوں اور ترلوں کی پالیسی پر عمل پیرا

    لداخ میں چائنہ سے شرمناک شکست کے بعد "انڈیا” کا نام بدلنے کی انڈین سپریم کورٹ میں درخواست

    بریکنگ،لداخ کشیدگی میں اضافہ،چینی جنگی طیارے بھارتی حدود میں گھس گئے،بھارتی فضائیہ بھی الرٹ

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کرنیوالی آر ایس ایس لداخ پر چین کے ساتھ بہادری کے جوہر کیوں نہیں دکھاتی؟

    لداخ سرحدی کشیدگی، مذاکرات سے قبل چین نے ایسا کام کیا کہ مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے

    لداخ کشیدگی ، پیر سے چائنہ نے انڈیا سے اپنے شہری نکالنا شروع کر دئیے

    بھارتی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کیا ، اس لیے مارے گئے، چین کا بیان

    1975 کے بعد آج چین کے ہاتھوں بھارتی فوجی کی ہلاکت ہوئی ، انڈین آرمی دو بجے پریس کانفرنس کرے گی

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کی فوج کے مابین  کشیدگی جاری ہے،دونوں ممالک نے سرحد کے قریب بھاری تعداد میں اسلحہ،جنگی گاڑیاں پہنچا دی ہیں ، فوجی اڈوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے.

    لداخ میں تین فوجیوں کی ہلاکت پر بھارتی وزیر دفاع کے فوج کے سربراہان کے ساتھ ہنگامی میٹنگ

  • مقبوضہ کشمیر، شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران 3 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر، شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران 3 کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں بھارتی فوج نے آپریشن کے دوران تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہید کر دیئے

    مقبوضہ کشمیر میں شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہیدہوئے ہیں جن میں ایک پی ڈی پی کے سابق قانون ساز کا بھتیجا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے ترکہ وانگام میں منگل کی علی الصبح ہونے والے ایک مسلح تصادم میں حزب المجاہدین سے وابستہ تین مقامی عسکریت پسند زبیر احمد وانی ساکنہ ترکہ وانگام، کامران ظہور منہاس ساکنہ شاہ آباد کراوو اور منیب الاسلام ساکنہ سوگن شوپیاں شہید کیے گئے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق یہ ضلع شوپیاں میں رواں ماہ چوتھا آپریشن تھا ۔قبل ازیں 7، 8 اور 10 جون کو بالترتیب شوپیاں کے ریبن، پنجورہ اور سگھو ہندہامہ نامی علاقوں میں 17 مقامی نوجوان کیے گئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق زبیر احمد وانی 27 جون 2017 ، منیب الاسلام 10 جون 2019 اور کامران ظہور منہاس 2 مارچ 2019 سے سرگرم تھے۔ذرائع کے مطابق زبیر احمد وانی پی ڈی پی کے سابق قانون ساز ظفر اقبال منہاس کا بھتیجا تھا۔

    سرینگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس کو ملنے والی خفیہ اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے ترکہ وانگام شوپیاں میں منگل کی علی الصبح کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔ ضلع شوپیاں میں موبائل انٹرنیٹ سروسزپھر سے منقطع کردی گئی ہیں۔ نیز ضلع تمام حساس جگہوں پر سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ضلع شوپیاں میں مزید تین عسکریت پسندوں کی شہادت کے ساتھ وادی کشمیر میں رواں برس اب تک شہید کیے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد بڑھ کر 103 ہوگئی ہے۔ ان میں سے قریب 73 عسکریت پسند نوجوان کورونا وائرس لاک ڈان کے دوران شہید کیے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں سال رواں کے ماہ اپریل کی 7 تاریخ تک مختلف علاقوں میں مسلح تصادم آرائیوں کے دوران 41 عسکریت پسند شہید ہوئے تھے جبکہ ماہ رواں کی 16 تاریخ تک یہ تعداد 103 ہوگئی ہے۔

  • بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو تشدد کانشانہ بنایا گیا

    نئی دہلی: بھارت: اظہارآزادی رائے جرم:لاک ڈاون کے دوران55 صحافیوں کو رپورٹنگ کے جرم میں نشانہ بنایا گیا,اطلاعات کےمطابق رائٹس اینڈ رسکس انیلیسیز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں25 مارچ سے 31 مئی تک لاک ڈاون کے دوران 55 صحافیوں کو رپورٹنگ اوراپنی رائے کا اظہار کرنے پر کے لئے نشانہ بنایا گیا۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں، 10 کو گرفتار کیا گیا اور 9پر حملہ کیا گیا۔

    آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کم از کم 22 صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایف آئی آر ان تارکین وطن کی حالت زار ، انتظامیہ کی بدانتظامی ، اور سیاسی رہنماں پر تنقید کی وجہ سے ان کی رپورٹ پر درج کی گئیں۔

    اس رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم 10 صحافی گرفتار ہوئے اور چار دیگر کو سپریم کورٹ نے گرفتار ہونے سے بچایا۔ جبکہ سات صحافیوں کو سمن جاری کرنے یا شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ۔ نو افراد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو پولیس تحویل میں تھے۔

    ذرائع کے مطابق اترپردیش میں 11 صحافیوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا ، اس کے بعد جموں و کشمیر (6)، ہماچل پردیش (5)، اور تمل ناڈو ، مغربی بنگال ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا میں سے ایک ایک صحافی پر حملہ کیا گیا۔

  • بیٹے جس مشن پر نکلے ہوپورا کرنا ، ہتھیار مت ڈالنا، کشمیری ماں کا دوران جھڑپ بیٹے کو فون

    بیٹے جس مشن پر نکلے ہوپورا کرنا ، ہتھیار مت ڈالنا، کشمیری ماں کا دوران جھڑپ بیٹے کو فون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے 18 سالہ نوجوان کی والدہ نے دوران جھڑپ بیٹے کو پیغام دیا کہ بیٹا ہتھیار مت ڈالنا جس کام کے لئے نکلے ہو وہ پورا کرنا

    18سالہ ثقلین کی والدہ سے آخری فون کال کی ریکارڈنگ سامنے آئی ہے ،شہادت سے پہلے ثقلین نے فون کر کے والدہ کو بتایاکہ وہ اپنے 3دوستوں کے ساتھ پنجورہ میں بھارتی فوج کے محاصرے میں ہے ، جس پر ماں نے کہا بیٹا ہتھیار نہ ڈالنا، جس کام کے لیے نکلے ہو وہ پورا کرنا، میں تم سے راضی ہوں، میرا خدا بھی راضی ہے ، اللہ تمہیں مقصد میں کامیاب کرے ۔

    سات اور آٹھ جون کی درمیانی رات آزادی کیلئے جان قربان کرنیوالے 18سالہ ثقلین کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ وہ بی اے کا طالب علم تھا ۔شہید ثقلین کو بھارتی فوج نے بارہ مولا کے گمنام قبرستان میں سپردخاک کردیا جہاں لگ بھگ ساڑھے تین سو شہدا ء کی قبریں ہیں۔

    واضح رہے کہ 8 جون کو بھارتی فوج نے مختلف سرچ آپریشنز میں 13 کشمیری شہید کر دئے تھے،ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔ ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ 14 سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے