Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار از قلم :ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار از قلم :ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    کشمیر کا نوجوان منشیات کا شکار
    ساحل توصیف، محمد پورہ، کولگام، کشمیر

    وادی کشمیر میں حالت روز بروز بد سے بد تر ہوتی جارہی ہیں ۔ ایک طرف یہاں کے حالات جس کی وجہ سے زندگی دشوار بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف منشیات میں مبتلا ہمارے نوجوان۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔جوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔۔ یہی نوجوان کل کو کسی بھی قوم کے ڈاکٹر۔ انجینئر اور سیاست دان بنتے ہیں ۔قوم کا مستقبل انہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ نوجوان طبقے سے ہی قوم کی اُمیدیں وآبستہ ہوتی ہیں اگر یہ نوجوان ہی بگڑ جائیں، راستہ بھول جائیں، اندھیرے میں بھٹک جائیں تو قوم کی اُمیدیں بھی اندھیروں میں بھٹکتی ہیں ۔
    قوم کے روشن مستقبل کے لئے جوان ہمت، شاہین صفت نوجوان درکار ہوتے ہیں جو قوم کا مستقبل سنوار سکیں ۔قوم کو ترقی کی سمت لے جاسکیں ۔
    مگر وادی کشمیر میں آج اُسی قوم کے جوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے جن پر ہماری اُمیدیں وآبستہ تھیں کہ کل کو یہ جوان ہماری قوم کے قائد بنیں گے۔ مگر یہ نوجوان منشیات کی لت میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کب اور کس جگہ نشے کی حالت میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے ۔کشمیری نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر اس کا تدراک بروقت نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں اس کا اثر پورے سماج کو دیکھنا پڑے گا۔ اور بعد میں ہمیں پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہیں پو گا۔
    نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچُکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون۔چرس۔ہیروئین۔کوکین۔بھنگ۔براؤن شوگر۔گوند۔رنگ پتلا کرنے والے محلول اور کئ دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چُکے ہیں۔
    اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔
    علاوہ ازیں وادی کشمیر میں صورتحال بہت گمبھیر ہے کیونکہ بتایا جاتا ہے کہ بہت سی ایجنسیاں پہلے پہل جوانوں میں مفت منشیات سپلائی کرتی ہیں اور بعد میں عادی ہونے کے بعد ان سے ہی پھر فروخت کیا جاتا ہے اور یہ عمل بھی کافی تشویشناک ہے۔
    یہ سرمایہ بہت سے طریقوں سے یہاں لوٹا جارہا ہے اگر اس مسئلے کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو آنے والا وقت ہمارے لئے بہت خطرناک ثابت ہو گا۔ نہ کہ ہم بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس سے متاثر ہوں گی ۔
    یہ وبا اگر چہ پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دُنیا میں منشیات کی مانگ سب سے زیادہ یورپ میں ہے۔ جہاں تقریباً ٧٥ فیصد لوگ ذہنی دباؤ اور دیگر امراض کے شکار لوگ وقتی سکون حاصل کرنے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔کیونکہ ان لوگوں میں بے سکونی زیادہ دولت کی حرص اور باقی چیزیں کی بدولت پائی جاتی ہے۔اور اگر پوری دُنیا کی بات کی جائے تو دُنیا میں تقریباً ستایئس کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔
    اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال ٢٦ جون کو دُنیا بھر میں منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی تجارت کے خلاف عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اور اب وہ دن بھی آنے والا ہے اس دن کی مناسبت سے بڑے پیمانے پر سیمنارس منعقد ہونے چاہییں اور اس بات پر زور دینا چاہئیے کہ کیا وجہ ہے کہ پوری دُنیا میں منشیات میں کیوں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے ۔کون سے محرکات کارفرما ہیں جن کی وجہ سے اس کاروبار کو فروغ مل رہا ہے اور منشیات کی روک تھام کرنے کے لئے کون سے لائحہ عمل اختیار کرنے ہیں۔اور ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے منشیات کی روک تھام ہو سکے اور پوری دُنیا کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ہماری وادی کشمیر کا بھی نوجوان اس لت سے محفوظ ہو سکےاور قوم کو ان نوجوانوں سے جو اُمیدیں وآبستہ ہیں وہ اُن پر پورا اُتر سکیں۔۔۔
    محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
    ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

  • تمام کشمیری دہشتگرد ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا بڑا بیان

    تمام کشمیری دہشتگرد ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا بڑا بیان

    مظفرآباد:تمام کشمیری دہشتگرد ہیں، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کا بڑا بیان،اطلاعات کے مطابو صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت اگرکشمیریوں کو اپنا حق خود ارادیت مانگنے پردہشت گرد کہتا ہے تو سوبارکہے ہم اپنا حق لینے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے ،

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق 7 نیوز سے بات کرتے ہوئے سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ بھارت ایسے الزامات سے کبھی بھی کشمیریوں‌کو جدوجہد سے نہیں‌روک سکتا ، انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے‘ گزشتہ ماہ بھارت نے 40 سے زاید نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا ہے۔

    صدر سردار مسعود خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ سب ماورائے عدالت قتل ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور اب ان کے انٹیلی جنس حکام ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں اور پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے جنگی کھیل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    صدر مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بالکل خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے‘ ڈومیسائل کے نئے قانون کے اطلاق کے بعد کشمیری اپنے وطن میں بے وطن ہو جائیں گئے اور ان سے استصواب رائے کا حق چھین لیا جائے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے : سابق پولیس سربراہ

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے : سابق پولیس سربراہ

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے : سابق پولیس سربراہ کے بیان سے کشمیرمیں ظلم وتشدد کے نئے سلسلے کے شروع ہونےامکان ،مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے سابق سربراہ شیش پال وید نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے ہندوئوں کو مسلح کرنے اورانہیں تربیت دینے اور دیہی دفاعی کمیٹیاں بنانے کی وکالت کی ہے۔ ایسی کمیٹیاں جموں اور پونچھ اور راجوری اضلاع کے سرحدی علاقوں میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے بدنام ہیں

    ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام ہندوئوں کو مسلح کرنے سے ان کے احساس تحفظ میں اضافہ ہوگا۔

    سابق ڈی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہندواقلیت کو اسلحہ کی تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔شیش پال وید نے اعتراف کیا کہ 1995 ء میں وہ ادھم پور کے ایس ایس پی کی حیثیت سے باگنکوٹ گاؤں میں پہلی دیہی دفاعی کمیٹی تشکیل دینے میں کس طرح معاون بنے جو اس وقت ادھم پور ضلع کا حصہ تھا۔

    یہ گاؤں اب ضلع ریاسی کا حصہ ہے جس سے2007 میں اودھم پور سے الگ کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ بعد میں حکام نے جموں خطے میں وی ڈی سیز قائم کیں جہاں ہندو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔انہوں نے وادی کشمیر میں بھی وی ڈی سی کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فارمولہ بہت کامیاب ثابت ہوا ہے

  • جموں و کشمیر: خفیہ ٹارچرسیل،500 لڑکیوں کی لاشیں ،200 زندہ برآمد،دنیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    جموں و کشمیر: خفیہ ٹارچرسیل،500 لڑکیوں کی لاشیں ،200 زندہ برآمد،دنیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

    سری نگر: جموں و کشمیر: خفیہ ٹارچرسیل،500 لڑکیوں کی لاشیں ،200 زندہ برآمد،دنیا کی خاموشی قابل مذمت ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورتازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں خفیہ ٹارچرسیل بنا رکھے ہیں جہاں کشمیری لڑکیوں کولایا جاتا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے ظلم اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ایمنسٹی انٹنرنیشنل نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہےکہ پچھلے چند دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ان خفیہ سیلوں‌ سے بڑی دردناک رپورٹس آرہی ہیںَ

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہےکہ ان ٹارچرسیلوں سے 500 کشمیری لڑکوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 200 ایسی زندہ لڑکیاں بھی برآمد ہوئی ہیں جو کہ بھارتی فوج کے مظالم سے زندہ لاشیں بن چکی ہیں‌

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم جاری ہیں اور اندازوں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ بھارتی فوج کی جارحیت کا ایک خوفناک پہلو یہ ہے بھارتی فورسز اپنی کارروائیوں کے دوران کشمیریوں کو شہید کرنے کے بعد بسا اوقات ان کی نعشیں ورثاء کے سپرد کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور انہیں تجہیز و تکفین کے بغیر دفنا دیا جاتا ہے۔

    ہندوستانی انسانی حقوق کے محافظوں نے اطلاع دی ہے کہ جموں کشمیر کے شمال میں اجتماعی قبریں برآمد ہوئی ہیں جہاں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کو دفن کیا گیا ہے۔

    دی ہندو اخبار کی رپورٹ کے مطابق ، انٹر نیشنل ہیومن راٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالتِ انصاف (آئی پی ٹی کے) نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں کشمیر کے شمال میں بانڈی پورہ ، بارہ مولہ اور کپواڑہ گاؤں میں 55 دیہات میں کی جانے والی کھدائی کے دوران 2 ہزار 700 قبریں دریافت ہوئی ہیں اور ان قبروں میں کم از کم 2 ہزار 900 افراد کی نعشوں تک رسائی حاصل کرنے سے آگاہ کیا ہے۔

    اس این جی او نے ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن نے تنظیم سے اس واقعے می کی چھان بین کرنے میں مددگار ہونے ، اجتماعی قبروں کی تلاش پر مشتمل رپورٹ ، جموں و کشمیر کے خاتمہ شدہ ریاستی انتظامیہ کے سابق وزیر اعظم عمر عبداللہ اور ہندوستانی حکومت کے متعلقہ اداروں سے آگاہ کیا گیا ہے۔

    آئی پی ٹی کے کی بانی آنگنا چیترجی نے کہا ہے کہ شناخت شدہ 2 ہزار 700 قبروں میں سے 2 ہزار 373 گمنام ، 154 قبروں میں 2 لاشیں ، 23 قبروں میں 3 سے 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں ۔

    ہندوستانی حکومت نے 5 اگست ، 2019 کو آئینی ترمیم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی نصف صدی سے جاری خود مختیاری کو آرٹیکل 370 کے ذریعے ختم کردیا ، جس سے خطے کی خصوصی حیثیت کا خاتم ہونے کے ساتھ ساتھ جمو ں و کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرلیا۔

    رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر میں اب تک 8000 افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، باندی پورہ اور کپواڑہ سے دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔ کشمیر کے انسانی حقوق کمیشن نے ڈی این اے ٹیسٹوں، کاربن ڈیٹنگ اور دیگر جدید طریقوں کی مدد سے مدفون افراد کی شناخت طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 7000 سے زائد بے شناخت اور اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ فروری میں انسانی حقوق کے عالمی ایوارڈ یافتہ کارکن پرویز امروز کی سربراہی میں تنظیم والدین لاپتہ افراد کے وکلا کو اجتماعی قبروں کے مقامات پر جانے کی ممانعت کر دی گئی۔

    جموں و کشمیر سول سوسائٹی اتحاد‘ اور ’تنظیم برائے والدین لاپتہ افراد‘ کی مشترکہ رپورٹ میں سن 2018 میں رونما ہونے والے حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے، جن کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قتل، تشدد، جبری اغوا، تذلیل، ہراس، جنسی بدسلوکی، زنابالجبر، غیر قانونی گرفتاریاں، مظاہرے، ماتم، ناکے، چھاپے، پولیس مقابلے اور جلاؤ گھیراؤ زندگی کا روزمرہ بن چکا ہے۔ اس دوران آزادی کا مطالبہ کرنے والے کارکن اور انہیں کچلنے کے لیے موجود سات لاکھ ریاستی اہلکار گویا ’پتھرائے‘ گئے ہیں۔ قوم پرستی اور مذہب پرستی کے نام پر مفاد پرستی کے چلن نے جنوبی ایشیا کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ بنا ڈالا ہے۔

    رپورٹ میں سن 2018 کو اس دہائی کا مہلک ترین برس قرار دیا گیا ہے۔ اس برس 586 افراد قتل ہوئے جن میں 160 سویلین،267 مسلح باغی اور بھارت کی مسلح افواج اور پولیس کے159 اہلکار شامل تھے۔ اس برس قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے نتیجہ میں مسلح باغیوں کی ہلاکتیں (267) درحقیقت 2016 اور سن 2017 کے مقابلہ میں زیادہ تھیں کہ جب بالترتیب 145 اور108 مسلح باغی قتل ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سیاسی کارکن بھے تھے، سماجی کارکن بھی، پولیس اور فوجی اہلکار بھی۔ فریقین کے اہل خانہ پر ٹارگٹ حملوں کے واقعات بھی ہوئے۔ انہی مقتولین میں دو ایسے افراد بھی شامل تھے جن کا دماغی توازن درست نہ تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے، سابق پولیس سربراہ

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے، سابق پولیس سربراہ

    مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو تربیت دے کر مسلح کیاجائے، سابق پولیس سربراہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے سابق سربراہ شیش پال وید نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے ہندوئوں کو مسلح کرنے اورانہیں تربیت دینے اور دیہی دفاعی کمیٹیاں بنانے کی وکالت کی ہے۔ ایسی کمیٹیاں جموں اور پونچھ اور راجوری اضلاع کے سرحدی علاقوں میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے بدنام ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ وادی کشمیر کے تمام ہندوئوں کو مسلح کرنے سے ان کے احساس تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ سابق ڈی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہندواقلیت کو اسلحہ کی تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
    شیش پال وید نے اعتراف کیا کہ 1995 ء میں وہ ادھم پور کے ایس ایس پی کی حیثیت سے باگنکوٹ گاؤں میں پہلی دیہی دفاعی کمیٹی تشکیل دینے میں کس طرح معاون بنے جو اس وقت ادھم پور ضلع کا حصہ تھا۔ یہ گاؤں اب ضلع ریاسی کا حصہ ہے جس سے2007 میں اودھم پور سے الگ کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ بعد میں حکام نے جموں خطے میں وی ڈی سیز قائم کیں جہاں ہندو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔انہوں نے وادی کشمیر میں بھی وی ڈی سی کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فارمولہ بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دو الگ الگ آپریشنز میں مزید 4نوجوان شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دو الگ الگ آپریشنز میں مزید 4نوجوان شہید

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ، دو الگ الگ آپریشنز میں مزید 4نوجوان شہید ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آپریشنز کے جاری سلسلے میں سکیورٹی فورسز نے دو مختلف واقعات میں مزید 4نوجوانوں کو شہید کر دیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کولگام کے نپورہ علاقہ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ میں دو عسکریت پسند شہید ہو گئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کاروائی کی جا رہی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ضلع کولگام کے دیوسر گنورہ علاقہ کو سکیورٹی فورسز ,جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم ، فوج کے 19 راشٹریہ رائفلز اور سنٹرل ریزرو پولیس نے جمعہ کی رات اس وقت محاصرہ میں لے لیا جب انہیں وہاں پر عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقہ میں تلاشی شروع کی جس کے بعد دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

    دوسری جانب ، اننت ناگ کے للہن علاقے میں ہفتے کو مشترکہ آپریشن بھی شروع کیا گیا جس میں 2 نوجوان شہید ہو گئے ۔رواں ہفتے جنوبی کشمیر میں یہ چوتھا مقابلہ ہے۔ اس سے قبل ضلع شوپیان میں تین الگ الگ مقابلوں میں حزب الجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر سمیت 14 عسکریت پسند شہید ہوگئے تھے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس اسلحہ کی دیکھی جا رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سیکیورٹی فوسز کی نگرانی کڑی ہوئی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

    مقبوضہ کشمیر، قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری، 4 مزید کشمیری شہید،رواں ماہ 27 کشمیری شہید کر دیئے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے دو مختلف واقعات میں 4نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع کولگام کے نپورہ علاقہ میں ایک آپریشن کے دوران بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ میں دو عسکریت پسند شہید ہو گئے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کاروائی کی جا رہی ہے۔

    ضلع کولگام کے دیوسر گنورہ علاقہ کو سکیورٹی فورسز ,جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم ، فوج کے 19 راشٹریہ رائفلز اور سنٹرل ریزرو پولیس نے جمعہ کی رات اس وقت محاصرہ میں لے لیا جب انہیں وہاں پر عسکریت پسندوں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقہ میں تلاشی شروع کی جس کے بعد دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

    دوسری جانب ، اننت ناگ کے للہن علاقے میں ہفتے کو مشترکہ آپریشن بھی شروع کیا گیا جس میں 2 نوجوان شہید ہو گئے ۔ رواں ہفتے جنوبی کشمیر میں یہ چوتھا مقابلہ ہے۔ اس سے قبل ضلع شوپیان میں تین الگ الگ مقابلوں میں حزب الجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر سمیت 14 عسکریت پسند شہید ہوگئے تھے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران یکم جون سے 27نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔جبکہ ایک درجن سے زائد مکانات تباہ کر دئے گئے۔ ضلع کولگام میں 2000سے اب تک45مختلف واقعات میں 76افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ129واقعات میں 152عسکریت پسنداور 73 شہری شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں 38سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں123کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ 14 سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 37 واقعات میں 91 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پھترا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

  • سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سال 2020-21 کا بجٹ آج پیش کر دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ظاہر ہے اسکے اثرات پاکستان پر بھی ہیں۔ پہلے سے کمزور و ناتواں معاشی حالت کی ابتری میں یقیناً مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں ریاست کے فنڈز میں کمی ہوئی وہیں عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا، بھوک نے ڈیرے ڈالے، سفید پوش طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ ہے جسکے لیے بھوک سے مرنا ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے، ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات نے بے لوث خرچ کر کے ہم وطنوں کی مدد میں انتہا کر دی، وہیں ریاست پاکستان کے احساس پروگرام نے بھی ملک بھر میں حقداروں کو اربوں روپے کی امداد دی۔ ان حالات میں موجودہ بجٹ پیش کیا گیا ہے. جس میں پہلی بار کسی قسم کے نئے ٹیکس کا اضافہ نہیں ہوا ، اوپر بیان کئے گئے حالات کے باوجود ٹیکس کا اضافہ نا ہونا یقیناً قابل تحسین عمل اور عام آدمی کیلئے راحت کا باعث ہوگا۔ اسی طرح اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا جسے میں تو خوش آئند ہی کہوں گا کیونکہ یہ وہ طبقہ جسے بہرحال ہر ماہ ایک لگی بندھی رقم گزر بسر کیلئے مل جاتی ہے گزشتہ تین ماہ لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروباری یعنی دکاندار طبقہ تھا، ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ نا کرنا بھی یقیناً ریاست و عوام کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

    حسب سابق اس بار پھر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دفاعی بجٹ کا تعلیم و صحت سے موازنہ اور تنقید جاری ہے اس پر یہی گزارش کروں گا کہ یہ بارہ اعشاریہ نو تقریباً تیرہ کھرب کا دفاعی بجٹ جو اکہتر کھرب کے کل بجٹ کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے ، دشمن ریاست کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں سات گنا کم ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کے رواں سال بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے سات کھرب زیادہ یعنی اٹھہتر کھرب ہے ۔ یہ اعداد و شمار پبلک ہیں کوئی بھی انہیں چیک کر سکتا ہے، بھارت کی پاکستان دشمنی ساری دنیا کے سامنے ہے وہ شروع دن سے پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے اور حالیہ دنوں بھارتی حکومت تو اکھنڈ بھارت کے نظریے پر کارفرما ہے، چین سے مار کھانے کے باوجود دو دن قبل انہوں نے کراچی کی طرف شرارت کی کوشش کی، بالاکوٹ ائر سٹرائک بھی پرانی بات نہیں، بلوچستان میں جاری شورش بھی آپ جانتے ہیں، جبکہ کشمیر و ایل او سی پر لاک ڈاؤن و جارحیت اور مسلسل شہادتیں جنکی تعداد رواں سال ہی سینکڑوں میں جا چکی ہے ، ایسے سات گنا بڑے ، گھٹیا اور چالاک دشمن کے مقابلے یہ بجٹ محض گزارہ ہی ہے۔

    جہاں تک بات تعلیم و صحت کی ہے تو عرض یہ ہے کہ یقیناً سیکورٹی سٹیٹس میں یہ چیزیں کمپرومائز ہوتی ہیں لیکن یہ دونوں شعبہ جات صوبوں میں بھی بجٹ کا ایک مناسب حصہ رکھتے ہیں جو جاری بحث میں اگنور کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کا بجٹ محض وفاق کے حصے میں آتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کرپشن سے پاک ، مخلص و صالح قیادت عطا کرے جو دشمنوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں بھی کرپشن کا خاتمہ کر ایک فلاحی ریاست کے قیام کا سبب بنے ۔ آمین

  • گلگت بلتستان سے 2 بھارتی جاسوس گرفتار،اہم انکشافات

    گلگت بلتستان سے 2 بھارتی جاسوس گرفتار،اہم انکشافات

    گلگت:گلگت بلتستان سے 2 بھارتی جاسوس گرفتار،اہم انکشافات،اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان سے سکیورٹی فورسز نے دو بھارتی جاسوسوں کو گرفتار کرلیا۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پکڑے گئے بھارتی جاسوسوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

    سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) مرزا حسن کا کہنا تھا کہ دونوں بھارتی جاسوسوں کو بھارت نے زبردستی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کراس کرایا تھا۔

    ایس ایس پی نے بتایا کہ بھارتی جاسوسوں کی شناخت مشتاق وانی اور فیروز احمد لون کے ناموں سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ جاسوسوں نے بھارتی عزائم سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔

  • وزارت امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر پر آفس میں حملہ ہوگیا ، ایڈمنسٹریٹرزخمی

    وزارت امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر پر آفس میں حملہ ہوگیا ، ایڈمنسٹریٹرزخمی

    ذرائع کے مطابق امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر مسرور عباسی اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ دو افراد نے وہاں گھس کر ان پر تشدد کیا اور انھیں شدید زخمی کر دیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے تشدد سے مسرور عباسی زخمی ہو گئے ہیں، جنھیں میڈیکل کے لیے اسپتال لے جایا گیا، تشدد کرنے والے دونوں حملہ آور بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

    ایس ایچ او سول لائنز کا کہنا تھا کہ مسرور عباسی پر حملہ زمین کے تنازع پر کیا گیا، فریقین کے درمیان زمین کا تنازع چلا آ رہا ہے، مسرور عباسی کا میڈیکل ہونے کے بعد حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    دریں اثنا، وزارت امور کشمیر کے ایڈمنسٹریٹر مسرور عباسی پر تشدد کے واقعے کی سی سی ٹی وی  میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور دفتر میں داخل ہو رہے ہیں، بعد ازاں پولیس دروازہ توڑ کر زخمی مسرور احمد کو باہر نکال رہی ہے۔