Baaghi TV

Category: کشمیر

  • گرفتارکشمیری خاتون فوٹو گرافر مسرت زہرا نے فوٹو جرنلزم ایوارڈ جیت لیا

    گرفتارکشمیری خاتون فوٹو گرافر مسرت زہرا نے فوٹو جرنلزم ایوارڈ جیت لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن نے کشمیری فوٹو گرافر مسرت زہرا کو فوٹو جرنلزم ایوارڈ میں اس سال فاتح قرار دیا ہے

    انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے تصاویر کا مقابلہ کروایا گیا تھا،انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تنازعات کی نشاندہی کرنے پر مسرت زہرا کو ایوارڈ دیا گیا

    مسرت زہرا ، جو سرینگر شہر میں پیدا ہوئی تھیں ، اپنی تصاویر کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کے اندر روز مرہ کی زندگی کے بارے میں ایک جذباتی تصاویر فراہم کرتی ہیں ، جسے انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کی جیوری نے سراہا. اورفاتح قرار دیا

    یہ ایوارڈ جرمن فوٹو جرنلسٹ انجا نڈرنگھاؤس کی یاد میں دیا جاتا ہے، جو 2014 میں افغانستان میں ہلاک ہوا تھا۔ ایوارڈ جیتنے والے کو 2 کروڑ انعام انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کے ذریعے دیا جاتا ہے، انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن 1990 سے آزادی صحافت کی جنگ لڑ رہا ہے اور خواتین صحافیوں کے جذبات کی قدر اور انکی بھر پور حمایت کرتا ہے

    انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلیسہ لیس منوز کا کہنا ہے کہ حکومتی دھمکیوں اور پوری دنیا میں پریس کی آزادی کی گرتی ہوئی حالت کی وجہ سے دنیا بھر میں ان گنت کمیونٹیز کو شدید خطرات ، نقصان اور سنسرشپ کا سامنا ہے۔ ان اوقات کے دوران ، انجا کی میراث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وہ سرخیوں کے نیچے رہنے والی کمیونٹیز ہیں جو شہری اور معاشرتی ظلم و بربریت کا اصل نشانہ ہیں۔

    مسرت زہرہ کا ایوارڈ کا اعلان ہونے پر کہنا تھا کہ ایوارڈ نے ‘میرے جیسے صحافیوں کے کام’ کو تسلیم کیا.

    مسرت زہرہ کی تصاویر کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں ، جہاں بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم کرتی ہے، نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے اور اس دوران انٹرنیٹ بھی بند کر دیا جاتا ہے

    کشمیر میں کام کرنے والی چند خواتین فوٹو جرنلسٹوں میں سے مسرت زہرا کو اکثر ہراساں کیا جاتا ہے اور اسے بار بار بھارتی حکومت کے لئے خطرہ بھی کہا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل وومین میڈیا فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ، اس وقت ان کی ان فوٹوگرافوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں جن کی انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے اور اسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    مسرت زہرہ کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ یہ اعزاز مجھے اپنی صلاحیتوں کو مکمل کرنے اور اپنے کام کو زیادہ اعتماد کے ساتھ انجام دینے کی ترغیب دے گا۔ مجھے یہ بھی توقع ہے کہ وہ دوسری خواتین فوٹوگرافروں کو بھی متاثر کرے گی جو مشکل ماحول میں کام کررہی ہیں۔

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    رواں سال 18 اپریل کو مسرت پر یو اے پی اے کے سیکشن 13 اور انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 505 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ مسرت نے گزشتہ برس دسمبر میں کی گئی ایک اسٹوری کی تصویر فیس بک پر شائع کی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایک عورت کا شوہر 2000 میں مبینہ طور پر بھارتی فوج کی جانب سے ہلاک کیا گیا تھا۔ زہرا نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ دو دہائی بعد بھی یہ عورت اپنے شوہر کو یاد کر کے ذہنی دبا وکا شکار ہوجاتی ہے

    مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم جاری مزید 7 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم جاری مزید 7 کشمیری شہید

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے مظالم جاری مزید 7 کشمیری شہید،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی حالیہ ریاستی دہشت گردی کے دوران علی الاصبح سیکڑوں فوجیوں کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں 7 حریت پسند شہید ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق ایک پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ کچھ افراد سری نگر کے جنوب میں واقع سوگو گاؤں کے نزدیک ایک سیب کے باغ میں چھپے ہوئے تھے جنہیں صبح ہونے سے قبل فوجی دستوں نے گھیر لیا۔اس ضمن میں فوجی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے کہا کہ ’جائے وقوع سے 5 ہتھیار اور ان کی لاشیں نکال لی گئیں‘۔

    ادھرسری نگر سے ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں بھارتی فوج نے پر تشدد گھیراؤ اور آپریشن شروع کیا ہے جس سے مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ رات ضلع کے پٹھان پورا علاقے کا گھیراؤ کر کے چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔اس علاقے سے بھی دوکشمیری نوجوانوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں‌

    آخری اطلاعات آنے تک علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل تھے۔

    خیال رہے 2 روز قبل بھی مقبوضہ کشمیر میں مبینہ جھڑپوں میں گزشتہ 24 گھنٹے میں کم از کم 9 کشمیری جاں بحق ہوگئے تھے۔اس حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مقبوضہ وادی میں موجود قابض بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان لڑائی میں اپریل سے اب تک 50 سے زائد حریت پسند جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران 23 بھارتی فوجی بھی مارے گئے۔

  • بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکی سفیرنے خطرے کی گھنٹی بجادی

    بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکی سفیرنے خطرے کی گھنٹی بجادی

    واشنگٹن : بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، امریکی سفیرنے خطرے کی گھنٹی بجادی،اطلاعات کے مطابق امریکا کے خصوصی سفیر براؤن بیک نے بھارت میں مذہبی آزادی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق ویڈیولنک کے ذریعے پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس سے خصوصی امریکی سفیر سیموئیل براؤن بیک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی طور پر بھارت تمام مذاہب کی سرزمین ہے لیکن بھارت کے موجودہ حالات پر فکر مند ہیں۔براوٗن بیک نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کو کرونا پر قربانی کا بکرا بنائے جانے پر تشویش ہے اور مذہبی اقلیتوں کو کرونا کا ذمہ دار ٹھہرانا کسی طور پر درست نہیں۔

    امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت میں کرونا پر اقلیتوں کے ساتھ سلوک کو دیکھ رہے ہیں اگر بھارت میں حالات تبدیل نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہوسکتا ہے، بھارت میں اعلیٰ سطح پر بین المذاہب گفتگو کا آغاز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہر شہری کی صحت دیگر سہولیات تک رسائی کو ممکن بنایا جائے اور کرونا کے معاملے پر اقلیتوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

    امریکی خصوصی سفیر سیموئیل براوٗن بیک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان، سوڈان میں مذہبی آزادی کی صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں  میڈیا پر بھی لاک ڈاون ،نئی پالیسی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر بھی لاک ڈاون ،نئی پالیسی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر بھی لاک ڈاون ،نئی پالیسی کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیاہے۔ جس مقبوضہ جموں کشمیر کے صحافیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    نئی میڈیا پالیسی کے تحت حکومت اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا میں شائع یا نشر ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور سرکاری حکام یہ فیصلہ کریں گے کہ فرضی خبر کون سی ہے یا سماج مخالف اورملک مخالف رپورٹنگ کونسی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے 2020 میڈیا پالیسی کو مرتب کیا اور اس طریقہ کار کے تحت میڈیا کو درپیش معاملات مقررہ مدت کے دوران صاف و شفاف طریقے سے حل کرنے میں مدد ملنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد جعلی خبروں اور غلط اطلاعات کی کوششوں پر روک لگانا ہے۔ تاہم اس میڈیا پالیسی کو حکومت نے ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا ۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقامی صحافیوں نے نئی میڈیا پولیسی کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔مقبوضہ جموں کشمیر کے معروف صحافی سہیل کاظمی نے نئی میڈیا پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کو سنسرشپ کے دائرے میں آنا چاہیے۔ لیکن میڈیا ایک واحد شعبہ ہے جس نے جموں و کشمیر میں پل کی مانند کام کیا ہے۔ جب حکومت کی تمام ایجنسیز ناکام اور خاموش تھیں تب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے افراد نے قربانیاں دیں تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہو۔’ انہوں نے کہا ‘اب اسی کے بدلے ہمیں ایک کمزور میڈیا پالیسی ملی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک صحافی کو کسی حکومتی ادارے یا پولیس ویریفیکیشن سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بالی ووڈ میں فلم کو سنسر بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کو بھی بلایا جاتا ہے اور جس سین کو ایڈٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس پر مل کر مشورہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ میڈیا پالیسی کو مرتب کرنے سے قبل جموں کشمیر کے صحافیوں کی نمائندگی کو یقینی بنائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔’

    ایڈوکیٹ ساہل کوہلی جو کہ ایک ہفتہ وار رسالہ کے مدیر ہیں، کا کہنا ہے کہ ‘کافی وقت سے میڈیا پالیسی کا انتظار تھا کیونکہ اب سوشل میڈیا سے متعدد میڈیا ادارے سامنے آرہے ہیں اس پر نظر رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم جس طرح سے حکومت نے اس میڈیا پالیسی میں صحافیوں کو حکومتی سطح پر انعامات دینے کی بات کی ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔’ انہوں نے کہا ‘اس طرح ایک صحافی کے کام کرنے پر سوالیہ نشان لگے گا اور ایکریڈیشن حاصل کرنے کے لئے پولیسں ویریفیکیشن حاصل کرنے میں میڈیا کی یکسانیت پر اثر پڑے گا۔

    حکومت نے جموں و کشمیر میں میڈیا کے تعلق سے ایک نئی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کسی بھی صحافی کے ایکریڈیشن کے لیے اس کا سکیورٹی چیک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اخبار کے رجسٹریشن اور حکومتی اشتہارات تک رسائی کے لیے مالکان، ایڈیٹرز اور دیگر ملازمین کے بیک گروانڈ کو چیک کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے.

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا میڈیا پر بھی لاک ڈاون،حکومت نے اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا چینلزکی گردن دبوچ لی گئی

    مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا میڈیا پر بھی لاک ڈاون،حکومت نے اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا چینلزکی گردن دبوچ لی گئی

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا میڈیا پر بھی لاک ڈاون،حکومت نے اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا چینلزکی گردن دبوچ لی گئی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام نے نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیاہے۔ جس مقبوضہ جموں کشمیر کے صحافیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نئی میڈیا پالیسی کے تحت حکومت اخبار، ٹی وی چینلز یا دیگر میڈیا میں شائع یا نشر ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور سرکاری حکام یہ فیصلہ کریں گے کہ فرضی خبر کون سی ہے یا سماج مخالف اورملک مخالف رپورٹنگ کونسی ہے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے 2020 میڈیا پالیسی کو مرتب کیا اور اس طریقہ کار کے تحت میڈیا کو درپیش معاملات مقررہ مدت کے دوران صاف و شفاف طریقے سے حل کرنے میں مدد ملنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

    القمرآن لائن کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد جعلی خبروں اور غلط اطلاعات کی کوششوں پر روک لگانا ہے۔ تاہم اس میڈیا پالیسی کو حکومت نے ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا ۔
    مقامی صحافیوں نے نئی میڈیا پولیسی کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔

    مقبوضہ جموں کشمیر کے معروف صحافی سہیل کاظمی نے نئی میڈیا پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کو سنسرشپ کے دائرے میں آنا چاہیے۔ لیکن میڈیا ایک واحد شعبہ ہے جس نے جموں و کشمیر میں پل کی مانند کام کیا ہے۔ جب حکومت کی تمام ایجنسیز ناکام اور خاموش تھیں تب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے افراد نے قربانیاں دیں تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہو۔’ انہوں نے کہا ‘اب اسی کے بدلے ہمیں ایک کمزور میڈیا پالیسی ملی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک صحافی کو کسی حکومتی ادارے یا پولیس ویریفیکیشن سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بالی ووڈ میں فلم کو سنسر بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کو بھی بلایا جاتا ہے اور جس سین کو ایڈٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس پر مل کر مشورہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ میڈیا پالیسی کو مرتب کرنے سے قبل جموں کشمیر کے صحافیوں کی نمائندگی کو یقینی بنائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔’

    ایڈوکیٹ ساہل کوہلی جو کہ ایک ہفتہ وار رسالہ کے مدیر ہیں، کا کہنا ہے کہ ‘کافی وقت سے میڈیا پالیسی کا انتظار تھا کیونکہ اب سوشل میڈیا سے متعدد میڈیا ادارے سامنے آرہے ہیں اس پر نظر رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم جس طرح سے حکومت نے اس میڈیا پالیسی میں صحافیوں کو حکومتی سطح پر انعامات دینے کی بات کی ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔’ انہوں نے کہا ‘اس طرح ایک صحافی کے کام کرنے پر سوالیہ نشان لگے گا اور ایکریڈیشن حاصل کرنے کے لئے پولیسں ویریفیکیشن حاصل کرنے میں میڈیا کی یکسانیت پر اثر پڑے گا۔’

    حکومت نے جموں و کشمیر میں میڈیا کے تعلق سے ایک نئی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں کسی بھی صحافی کے ایکریڈیشن کے لیے اس کا سکیورٹی چیک لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اخبار کے رجسٹریشن اور حکومتی اشتہارات تک رسائی کے لیے مالکان، ایڈیٹرز اور دیگر ملازمین کے بیک گروانڈ کو چیک کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • ’کشمیر ہوں میں، شہ رگ پاکستان کی‘ترکی میں مظلوم کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے نغمہ ریلیز

    ’کشمیر ہوں میں، شہ رگ پاکستان کی‘ترکی میں مظلوم کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے نغمہ ریلیز

    انقرہ :’کشمیر ہوں میں، شہ رگ پاکستان کی‘ترکی میں مظلوم کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے نغمہ ریلیز،اطلاعات کے مطابق ترکی میں پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نشانہ بننے والے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے نغمہ ریلیز کردیا گیا۔

    ‘ میرا نام کشمیر ہے’ کے نام سے یہ نغمہ انگریزی زبان میں دنیا بھر میں ریلیز کیا گیا ہے جس کی ویڈیو میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کو آزادی مانگتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر یہ نغمہ تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔

    ’کشمیر ہوں میں، شہ رگ پاکستان کی‘: یومِ یکجہتی کشمیر پر پاک فوج کا خصوصی نغمہ

    یہ نغمہ ترکی کے نغمہ نگار اور موسیقار ترگے ایورین نے لکھا ہے اور اس کی موسیقی بھی انہوں نے ترتیب دی ہے جب کہ اس نغمے کو حال ہی میں اسلام قبول کرنے والی معروف امریکی گلوکارہ ڈیلا مائلز نے گایا ہے۔

     

    https://twitter.com/ABabuscu/status/1270662397649395717

    ترک نغمہ نگار اور موسیقار ترگے ایورین کا کہنا ہے کہ یہ نغمہ آزادی سے محروم دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لیے ہے ۔نغمے کی ویڈیو میں بھارتی فوج کے مظالم اور کشمیری عوام کی جدوجہد اور پاکستان سے محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس نغمے کو تیزی سے شیئر کیا جارہا ہے اور مظلوم کشمیری عوام کے لیے آواز اٹھانے پر ترک موسیقار کی تعریف کی جارہی ہے اور سب کا شکریہ ادا کیا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ ترکی ہمیشہ کشمیریوں کی حمایت میں اپنا دلیرانہ موقف اپناتا رہا ہے اورترک صدرطیب اردوان کہتے ہیں کہ وہ کشمیریوں‌کی تحریک آزادی کی حمایت کرتے ہیں‌

  • مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج میں کرونا پھیل گیا، 28 اہلکار مثبت، ایک کی ہوئی ہلاکت

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج میں کرونا پھیل گیا، 28 اہلکار مثبت، ایک کی ہوئی ہلاکت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بدھ کو کورونا وائرس کے 161 نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں 28 بھارتی فوج کے اہلکار اور 17 ہیلتھ ورکرز شامل ہیں۔

    جموں و کشمیر میں کووڈ-19 کے 161 نئے مثبت کیسز پائے گئے ہیں اور اس طرح سے کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 4507 ہوگئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع بارہمولہ میں 28، سرینگر میں 10، اننت ناگ میں 7، شوپیاں میں 37، کپواڑہ میں 18، بانڈی پورہ میں 4، بڈگام میں 2، جموں میں 4، رامبن میں 2، ادھمپور میں 19، کٹھوعہ میں 2 پونچھ میں 12، سانبہ میں 6 اور بالترتیب ڈوڈہ اور پلوامہ میں ایک ایک مثبت کیس پایا گیا ہے۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سکمز صورہ، سی ڈی ہسپتال، سمکمز بمنہ اور ادھمپور کے فوجی ہسپتال سے ان مثبت کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔نوڈل افسر ڈاکٹر جی ایچ یتو نے بتایا کہ سکمز میں 1785 سیمپلز کی جانچ کی گئی جن میں سے 54 پازیٹیو پائے گئے۔ سرینگر کے سی ڈی ہسپتال میں بھارتی فوج کے 28 جوانوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت پایا گیا ہے اور یہ سارے جوان اسی بٹالین سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں سے دو روز قبل ایک اہلکار کی کووڈ-19 سے ہلاکت ہوئی تھی

    ساؤتھ ایشن وائر کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں اب تک 4507 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 2785 ایکٹو ہیں، 1571 صحت یاب ہوئے ہیں اور 51 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 46 کا تعلق کشمیر سے ہے جبکہ جموں صوبے میں 5 کی موت ہوئی ہے۔

  • راجہ ریپسٹار کا  کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    راجہ ریپسٹار کا کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار کا کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز

    باغی ٹی وی :پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار نے کشمیر پر نیا ترانہ "FREEDOM” ریلیز کر دیا پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار تحریک آزادی جموں و کشمیر پر اپنے ترانوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مقبول ہیں

    اور مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ بھارتی قابض فوج کے سامنے سینہ تان کر انکے گائے ہوئے ترانوں کے ذریعے دشمن کو للکارتا ہے، راجہ ریپسٹار نے اپنا نیا ترانہ تحریک آزادی جموں و کشمیر "فریڈم” ریلیز کر دیا-

    راجہ ریپسٹار نے اپنے "FREEDOM” کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ترانے کا عنوان "فریڈم” کشمیری نوجوانوں کی فرمائش پر رکھا گیا ہے، جس میں کشمیری نوجوانوں کے جذ بات اور ان پر قابض بھارتی فوج کے مظالم دنیا کو دکھائے گئے ہیں

    راجہ ریپسٹار کا کہنا تھا کہ ترانہ ریلیز کر دیا گیا ہے، تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس ترانے کو بھرپور شیئر کریں تاکے ہمارے مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز بہری دنیا کو سنائی دے،
    https://youtu.be/X-If5b42IHA

    راجہ ریپسٹارکا تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سےپوسٹر ریلیز

    "راجہ ریپسٹار” کا پہلا رمضان کلام "رحمت کا مہینہ” ریلیز

    یومِ تکبیر پر "راجہ ریپسٹار” کا ترانہ "یومِ تکبیر” ریلیز کر دیا گیا

  • پلوامہ میں ایک لیکچرر سمیت 17 کشمیری گرفتار

    پلوامہ میں ایک لیکچرر سمیت 17 کشمیری گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تین جون کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کنگن گاوں میں 3 عسکریت پسندوں اور آئی ای ڈی ماہر اکرام عرف فوجی بھائی اور دو مقامی عسکریت پسندوں کی شہادت کے بعد پولیس نے متعدد چھاپوں میں 17 نوجوانوں کو پتھرا وکے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ گرفتار شدہ افراد میں ایک لیکچرار بھی شامل ہے جو ان کے مطابق اس کے بھائی کے بدلے گرفتار کیا گیا ہے۔یہ تمام نوجوان مورن گاوں کے رہائشی ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقامی افراد نے گرفتار نوجوانوں کی شناخت اعجاز درزی، عبدالرشید درزی، معراج دھوبی، نذیر دھوبی، مختار احمد شیخ، بشیر احمد شیخ، شوکت احمد شیخ، علی محمد شیخ، رضوان شیخ، محمد شفیع شیخ، عبد لطیف شیخ، محمد اسماعیل شیخ، محمد یوسف یتو، مہراج گنائی، خضر گنائی، شبیر وانی، عبد الرشید وانی، ہلال ملیار، محمد عبد اللہ ملیار، عادل گنائی، بشیر گنائی، محسن شیخ، محمد اشرف شیخ، عرفان یتو، عرفان راتھر، اعجاز شیخ، عبد سلام اور توصیف شیخ کے طور پر کی گئی ہے۔ جبکہ لیکچرر کا نام ماجد یوسف یتو ہے۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    پولیس نے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان افراد کو پتھرا کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری،مزید 4 کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری،مزید 4 کشمیری شہید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں آپریشن میں 4نوجوان شہید کر دیئے

    جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بدھ کوعلی الصبح آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ میں 4کشمیری عسکریت پسند شہید ہوگئے۔جبکہ آپریشن ابھی جاری ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی فوج کو شوپیاں ضلع کے سگو ہندماہہ علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد آرمی کی 44 راشٹریہ رائفلز، سی آر پی ایف اور پولیس نے علاقہ کو اپنے محاصرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کردی۔

    بھارتی فوج کی مشترکہ ٹیم جب ایک مخصوص مقام کے قریب پہنچی تو فائرنگ کے تبادلے میں 4 نوجوان شہید ہو گئے۔ مشترکہ آپریشن جموں و کشمیر پولیس کی انٹلیجنس کی بنیاد پر صبح 01:45 بجے شروع کیا گیا تھا۔ صبح 05:30 بجے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔

    آخری اطلاع ملنے تک علاقے میں گولیوں کا شدید تبادلہ جاری تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شوپیان میں یہ اس ہفتے ہونے والا تیسرا تصادم ہے۔ گزشتہ دو آپریشنز میں9 عسکریت پسندوں کو شہید کیا گیا ہے۔اس طرح ابھی تک ایک ہفتے میں اسی ضلع میں 13عسکریت پسند شہید ہو چکے ہیں۔

    احتیاطی اقدام کے طور پر ضلع میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔ انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر زون وجے کمار نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ آپریشن میں 4عسکریت پسند شہید ہوئے ہیں۔ تاہم ، انھوں نے یہ بھی کہا ان کی شناخت کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔