Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج پربھاری وقت ،اہلکارخودکشیاں کرنے لگے، مزید دو اہلکاروں نے خود کشی کر لی

    مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج پربھاری وقت ،اہلکارخودکشیاں کرنے لگے، مزید دو اہلکاروں نے خود کشی کر لی

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج پربھاری وقت ،اہلکارخودکشیاں کرنے لگے، مزید دو اہلکاروں نے خود کشی کر لی,اطلاعات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے دو اہلکاروں نے خود کشی کر لی۔ ضلع پلوامہ کے علاقے کھریو میں تعینات ساشاسترا سیما بال (ایس ایس بی)کے اشوک کمار نامی 58 سالہ سب انسپکٹر نے اتوار کے روز خودکشی کرلی۔

     

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ،سب انسپکٹر ہندوستان کے ہماچل پردیش کا رہائشی ہے۔ ایک پولیس افسر نے تصدیق کی کہ اشوک کمار نے خودکشی کی ہے۔بھارتی فوج کے ایک اوراہلکار لانس نائک اشیش کمار نے ضلع پونچھ کے علاقے بلنوئی منکوٹ میں اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کی، جس سے مقبوضہ علاقے میں جنوری 2007سے خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکی تعداد بڑھ کر 454ہوگئی ہے۔

     

     

    فوج کے ایک عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو میں 8 گڑھوال یونٹ سے تعلق رکھنے والے لانس نائک کی خودکشی کی تصدیق کی ہے ۔اشیش کمار کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔

     

     

    بارہمولہ ضلع میں اوری کے علاقے پولیس پوسٹ بونیار میں ایک فوجی جوان لاپتہ ہوگیا ہے۔ لاپتہ سپاہی جو اتر پردیش کا رہنے والا ہے آخری بار ٹی سی پی چلہ کے قریب دیکھا گیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظالم قابض افواج کے ظلم جاری ،مزید 9کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظالم قابض افواج کے ظلم جاری ،مزید 9کشمیری شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظالم قابض افواج کا ظلم جاری ،مزید 9کشمیری شہید، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسزکے مظالم جاری ہیں‌اورچند ہی گھنٹؤں میں مزید 9کشمیری شہید کردیئے گئے ہیں‌، کشمیریوں کی شہادت کے خلاف وادی میں جگہ جگہ مظاہرے جاری ہیں‌

    ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ لڑائی میں اپریل سے اب تک کم از کم 50 حریت پسند شہید ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران 23بھارتی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

    بھارتی حکام اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپ کا آغاز اس وقت ہوا جب وادی کے جنوبی حصے میں واقع گاؤں کو پولیس اور فوج نے گھر کو میں مسلح افراد کی موجودگی کے شبہ پر گھیرے میں لے لیا تھا۔

    بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ اس دوران جھڑپ شروع ہوگئی جس میں پانچ افراد مارے گئے۔

    ایک پولیس افسر نے بتایا کہ گھیرے میں لیے گئے گھروں میں مزید دو افراد کے موجود ہونے کا شبہ تھا۔

    دوسری جانب ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا کہ بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں پنجورہ کے علاقے کو بھی گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کے دوران چار کشمیری نوجوانوں کو قتل کردیا جس کے بعد 24 گھنٹے میں قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 9 ہوگئی۔

    ادھر سیکڑوں کشمیریوں نے قابض بھارتی فوج کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا اور بھارتی فوج پر پتھراؤ کرنے کے ساتھ ساتھ ‘بھارت جاؤ، واپس جاؤ’ کے نعرے لگائے۔

    پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسوگیس اور لوہے کے چھروں کا استعمال کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا تھا جس کے بعد سے وہاں مستقل کرفیو نافذ ہے۔

    حالیہ مہینوں میں کرفیو میں کچھ نرمی کی گئی ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

    واضح رہے کہ ان واقعات سے ایک دن قبل ہی سپور کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک نوجوان کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا جبکہ اس قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی۔

    ادھر سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے کشمیر میڈیا سروس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ حریت رہنماؤں نے جاں بحق 9کشمیری نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا کہتے ہوئےوادی میں قتل عام رکوانے کا مطالبہ کیا۔

    جموں اینڈ کشمیر یوتھ سوشل فورم کے چیئرمین عمر عادل ڈار نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم کشمیریوں کی موت پر دنیا کا غیرسنجیدہ رویہ ہی کشمیریوں کے قتل عام کی اصل وجہ ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر شوپیاں میں چار مزید مجاہدین کی شہادت

    مقبوضہ کشمیر شوپیاں میں چار مزید مجاہدین کی شہادت

    مقبوضہ کشمیر شوپیاں میں چار مزید مجاہدین کی شہادت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر شوپیاں میں چار مزید مجاہدین کی شہادت ہوئی ہے . جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں اتوار کو ہونے والے ایک مسلح تصادم میں چار مجاہد شہید ہو گئے ۔جموں وکشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ضلع شوپیاں کے ریبن میں اتوار کی صبح چھڑنے والے مسلح تصادم میں چار مجاہد شہید ہوئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگجووں کی شناخت معلوم کی جارہی ہیں اور علاقہ میں کامبنگ آپریشن بھی جاری ہے۔

    سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شوپیاں کے ریبن نامی علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر جموں وکشمیر پولیس، فوج کی ایک راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں اتوار کی صبح کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔مقبوضہ وادی میں اولاد کو برسوں پال پوسنے والی ماؤں کو بیٹوں کی لاش کا آخری دیدار بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ریاستی دہشت گردی میں ملوث بھارتی فوج نے شہید جوانوں کی لاشوں کو نامعلوم مقامات پر ٹھکانے لگانا شروع کر دیا ہے۔ انسانیت سے عاری ہندوستانی فوج نے اب تک 10 ماہ کے دوران 146 جوانوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔

  • دوسروں کے سہارے آزادی کی امید لگانے والی قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں، سردار مسعود خان صدر آزاد کشمیر

    دوسروں کے سہارے آزادی کی امید لگانے والی قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں، سردار مسعود خان صدر آزاد کشمیر

    مظفرآباد:دوسروں کے سہارے آزادی کی امید لگانے والی قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں،اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان خان نے کشمیریوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا ہےکہ وہ گھبرائیں ناں ،  اپنے زوربازپرہم ظالم ہندوسے آزادی حاصل کرکے رہیں گے ، سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ دوسروں پرامیدیں لگانا چھوڑ دیں

     

     

     

    ذرائع کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں سردارمسعود احمد خان نے کہا کہ یہ وقت ہے جہدوجہد کو تیز کرنے کا ، ہم ظالم قابض بھارت سے بہت جلد آزادی لے کررہیں گے ، کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہےکہ ہم کشمیریوں کو تنہا چھوڑنے والے ہیں

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق سردار مسعود احمد خان نے کہا کہ یہ قوم متفق ہے اورکشمیریوں کے حق آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہے،

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سردار مسعود احمد خان اہم مواقع پر اس بات کا اظہارکرچکے ہیں کہ تحریک آزادی کمشیر کو جو طاقت عمران خان کے دورمیں ہوئی وہ پچھلے حکمرانوں کے اجتماعی دورمٰیں بھی نہیں ہوئی ، سردارمسعود احمد خان نے امید ظاہر کی کہ مجھے بہت زیادہ امید ہے کہ کشمیر عمران خان کے دورمیں آزاد ہوجائے گا

  • آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے پر پی ٹی وی نے معذرت کر لی

    آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے پر پی ٹی وی نے معذرت کر لی

    اسلام آباد:آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے پر پی ٹی وی نے معذرت کر لی,باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی وی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی ہے اور کہا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں گے اور اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا

     

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق پی ٹی وی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا ہےکہ انتظامیہ اس واقعہ کی انکوائری کرے گی اور اس بات کا پتہ لگائے گی کہ اس واقعہ مین کون ملوث ہیں ، پی ٹی وی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ پاکستانی کشمیرکو بھارتی زیرقبضہ کشمیر کا حصہ دکھائیں

     

    یاد رہے کہ آج رات اور چند دن پہلے پی ٹی وی نے اپنی نشریات میں پاکستانی کشمیرکوبھارت کے زیرقبضہ کشمیر کا حصہ ظاہرکرکے پیش کیا تھا

  • پی ٹی وی نے ایک بار پھر آزاد  کشمیر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ دکھا دیا

    پی ٹی وی نے ایک بار پھر آزاد کشمیر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ دکھا دیا

    اسلام آباد :پی ٹی وی نے ایک بار پھر آزاد کشمیر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ دکھا دیا،باغی ‌ٹی وی کے مطابق پی ٹی وی نے آج پھرایک بہت بڑا براکردارادا کرتے ہوئے آزاد کشمیر کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کا حصہ دکھایا ہے جس پربہت زیادہ عوامی رد عمل بھی سامنےآرہا ہے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پرایک بہت زیادہ سخت ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ یہ دوسری بارجان بوجھ کرآزاد کشمیر کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کا حصہ دکھایا گیا ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش ضرور کارفرما ہے ،

    دوسری طرف صارفین کا کہنا ہے کہ شبلی فراز کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ یہ بار بار ایسے کرنے والے کون ہیں اورکیوں جان بوجھ کر وہ پاکستانی کشمیر کو بھارتی کشمیر کا حصہ بناکرپیش کررہے ہیں ،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرعدیل راجہ نامی صارف کہتے ہیں کہ اس سارے واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیں اوراس بہت بڑے مجرمانہ اقدام کے سرزد کرنے والوں‌کو قوم کے سامنے لانا چاہیے

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھی یہی غلطی دہرائی گئی تھی صارفین کہتے ہیں کہ اگراسی وقت اس جرم میں ملوث لوگوں کو سزائیں مل جاتیں‌ توآج یہ دوبارہ جرم سرزد نہ ہوتا

  • حکومت سے UGC کے  ہدایات کے مطابق طلبا کو فروغ دینے کی اپیل:جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن

    حکومت سے UGC کے ہدایات کے مطابق طلبا کو فروغ دینے کی اپیل:جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن

    مظفرآباد :جے اینڈ کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت سے UGC کے ہدایات کے مطابق طلبا کو فروغ دینے کی اپیل کی،اطلاعات کے مطابق طلبہ کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے آج حکومت سے اندرونی اسائنمنٹ امتحان منعقد کرکے طلباء کو یو جی سی کے اصولوں کے مطابق فروغ دینے کی تاکید کی۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھویہامی نے کہا کہ حکومت اپنے موجودہ سیمسٹر میں طلباء کو داخلی تشخیص کی بنیاد پر ان کی ترویج کرے تاکہ انھیں آگے کا واضح راستہ دیا جاسکے اور جب بھی صورتحال معمول پر آئے گی ، آئندہ سمسٹروں کے لئے آف لائن کلاسز کا انعقاد کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام سیمسٹرز کے UG اور PG طلبا کو داخلی تشخیص کی بنیاد پر ترقی دی جائے اور آن لائن امتحانات نہیں کروائے جائیں کیونکہ بہت سے لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی ہے

    انہوں نے کہا کہ اعلی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی (4 جی سروسز) پر لگاتار پابندی کی وجہ سے کشمیری طلباء اپنے آن لائن امتحانات میں شریک نہیں ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ، تیز رفتار انٹرنیٹ رابطے کی عدم دستیابی نے طلبہ کے آن لائن طبقات کے عمل کو رکاوٹ اور روک دیا ہے۔ تعلیم کا شعبہ وادی کشمیر میں بدترین شکار رہا ہے ، اور انٹرنیٹ خدمات ختم ہونے سے طلباء کو گھر میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنے تصورات کو صاف کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ خدمات پر مستقل پابندی کی وجہ سے طلباء موضوعات اور ابواب سیکھنے کے قابل نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور بالآخر وہ ہندوستان کے دوسرے خطوں کے طلباء سے مقابلہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔کھویہامی نے کہا کہ آن لائن کلاس اور امتحان پسماندہ پس منظر کے طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک رکھتے ہیں۔ انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی گرانٹ آف کمیشن کی جانب سے امتحانات منعقد کرنے اور طلباء کو اگلے سمسٹر میں ترقی دینے کے لئے جاری کردہ اصولوں پر عمل کریں۔

    5 اگست 2019 سے علمی نقصان کی مقدار ناقابل برداشت اور ناقابل تلافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹیاں طلبا کو داخلی اسائنمنٹ رپورٹس اور ان کے پچھلے سمسٹر گریڈ پر ترقی دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ رابطے کی عدم استحکام نے طلباء کے آن لائن طبقات کے عمل کو روکا ہے اور روک دیا ہے اور اس عالمی وبائی صورتحال نے طلباء کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری خادم خان نے کہا کہ طلباء کے قیمتی وقت کو بچانے کے لئے ، تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو یو جی سی کے اصولوں پر عمل کرنے چاہئے اور پروٹوکول کے مطابق کشمیری طلباء کو اگلے سمسٹر میں ترقی دیں۔ انہوں نے حکومت سے طلباء کی درخواست پر دھیان دینے کی اپیل کی۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ساتھ لڑائی میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعداد 5 ہوگئی

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ساتھ لڑائی میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعداد 5 ہوگئی

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کی جارحیت میں مزید 5 نوجوان شہید ہوگئے اس طرح صرف رواں ماہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 23 ہوگئی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع شوپیاں کے علاقے زین پورہ میں بھارتی فوج نے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے گھر گھر تلاشی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، اس دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے 5 نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    جارحیت پسند بھارتی فوج نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شہید ہونے والے نوجوانوں کی لاشوں کو بھی لواحقین کے حوالے نہیں کیا جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور اہل محلہ نے شاہراہ کو بلاک کرکے بھارتی فوج کے خلاف شدید احتجاج کیا، مظاہرین نے جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بلند کیے۔

    دوسری جانب بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پانچوں نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ آپریشن کے دوران مقابلے میں مارے گئے تاہم اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے اس بھونڈے دعوے کو بے نقاب کردیا۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ مقبوضہ وادی کے اضلاع شوپیاں، پلوامہ، پونچھ اور راجوڑی میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔

  • میں سانس نہیں لے سکتا کی طرح میں نہیں دیکھ سکتا، درجنوں کشمیری طلباء جنکی بینائی بھارتی فوج نے چھین لی

    میں سانس نہیں لے سکتا کی طرح میں نہیں دیکھ سکتا، درجنوں کشمیری طلباء جنکی بینائی بھارتی فوج نے چھین لی

    میں سانس نہیں لے سکتا کی طرح میں نہیں دیکھ سکتا، درجنوں کشمیری طلباء جنکی بینائی بھارتی فوج نے چھین لی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، بھارتی فوج کا مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و تشدد جاری ہے . وہ درجنوں کشمیری جوان جن کی بینائی بھارتی فوج نے پیلٹ گن سے چھین لی انہوں نے ٹویٹر پر دنیا کو پیغام دیاہے کہ "‌ میں دیکھ نہیں‌سکتا ، جیسےامریکی سیاہ فام کی موت پر اس نے کہا تھا کہ میں سانس نہیں‌لے سکتا. یاد رہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں آٹھ ہزار سے زائد کشمیری پیلٹ گن کا شکار ہوئے، 18 ماہ کی ننی حبا کی ایک آنکھ بھی پیلٹ گن سے ضائع ہوئی۔

    پیلٹ گن ایک مہلک ہتھیار ہے۔ جس کی گولیوں میں لوہے کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں۔ جس کو فائر کرنے کے بعد کارتوس سے نکلنے والے چھرے نما بال چاروں سمت پھیل جاتے ہیں۔

    پیلٹ گن عام طورپر شکار کے لئے استعمال ہوتی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے یہ ہتھیار انسانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔بھارتی فوج نے کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال پہلی بار سال 2010 میں کیا جس میں درجنوں کشمیری شہید ہوئے اور سینکڑوں اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔فروری 2018 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیلٹ گن کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جولائی 2016 سے اب تک آٹھ ہزار سے زائد کشمیری پیلٹ گن سے زخمی ہو چکے ہیں جب کہ 128 افراد مکمل طور پر اپنی آنکھوں سے ہی محروم ہو گئے ہیں۔سری نگر کی 18 ماہ کی معصوم حبہ بھی اس مہلک ہتھیار کا نشانہ بنی۔ جس سے اس کی دائیں آنکھ ضائع ہو گئی۔

  • بھارتی فوج کے مظالم جاری :مقبوضہ کشمیر،شوپیان میں آپریشن کے دوران2 کشمیری نوجوان شہید

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :مقبوضہ کشمیر،شوپیان میں آپریشن کے دوران2 کشمیری نوجوان شہید

    سرینگر :بھارتی فوج کے مظالم جاری :مقبوضہ کشمیر،شوپیان میں آپریشن کے دوران2 کشمیری نوجوان شہید،اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع کے ریبن امام صاحب علاقے میں ایک آپریشن کے دوران فورسز اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپ میں 2 کشمیری عسکریت پسندوں کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔ سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔

    فورسز اہلکاروں کی ٹیم میں فوج کی 1 آر آر، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس شامل ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ریبن علاقے میں عسکریت پسندوں کے چھپے ہونے کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقہ کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کردی۔

    فورسز اہلکار جب ایک رہائشی مکان کی طرف تلاشی کرنے کے غرض سے آگے بڑھنے لگے تو اس مکان میں چھپے عسکریت پسندوں نے فورسز اہلکاروں پر زبردست فائرنگ شروع کردی ۔ فورسز اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال کر جوابی کاروائی شروع کی جس میں2 نوجوان کشمیری عسکریت پسندوں کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آپریشن شروع ہوتے ہی ضلع میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا ہے۔ریبن امام صاحب علاقے میں جھڑپ کے مقام پر نوجوان جمع ہوئے جو سکیورٹی فورسز اہلکاروں پر زبردست پتھرا کر رہے تھے۔ پتھراو کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے فورسز اہلکار وں نے پیلٹ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔