Baaghi TV

Category: کشمیر

  • گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی

    گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی

    گلگت :گلگت بلتستان خالی کرو ، مودی کی پاکستان کو دھمکی،اطلاعات کےمطابق بھارتی حکومت نے پاکستان کو خبردار کیا ہےکہ وہ گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت اوراس کے صدیوں پرانے ورثے کو تبدیل نہ کرے ، بھارتی حکومت کی طر ف سے یہ دھمکی دی گئی کہ بھارت اس کوشش کو نہ تو تسلیم کرتا ہے اورنہ ہی اس کی اجازت دیتا ہے ،

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے جاری بیان مٰیں کہا گیا ہےکہ چلاس اور شمالی علاقہ جات میں بدھ مت کے قدیم تاریخی ورثے موجود ہیں پاکستان ان پرکسی قسم کا حق نہیں رکھتا ، پاکستان کو چاہہے کہ وہ ایسی کسی بھی کوشش سے دوررہے جس سے بھارت کی جغرافیائی اثرات پڑتے ہوں

     

    ادھر دوسری طرف حکومت  پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے معاملات میں دخل اندازی کرے ، وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھارتی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان ان تاریخی ورثوں کی حفاظت کرنا چانتا ہے

     

    یاد رہےکہ گلگت بلتستان میں یہ تاریخی ورثہ بہت پرانا ہے جس کو متعارف کروانے کےلیے حکومت پاکستان نے سیاحت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہی وجہ ہے  کہ ابھی فیصلہ ہی ہوا تھا کہ کورین بدھ راہبوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بدھ مذہب کے قدیم آثار کا دورہ کیا اور بدھ کے مجسمے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کیں، جس سے سیاحت کی ترقی کے نئے در کھل گئے ہیں۔

    کرتا پور راہداری کھلنے اور قدیمی ہندو مندروں کی بحالی کے حکومتی اعلان کے بعد بدھ مت کے پیروکاروں نے پاکستان کا رخ کر لیا ہے۔

    گلگت بلتستان میں مذہبی سیاحت کے مواقع نے بدھ مت کے پیروکاروں کی توجہ حاصل کر لی۔ کورین بدھ راہبوں نے گوتم بدھ کے مجسمے کے سامنے مذہبی رسومات ادا کیں، جس سے سیاحت کی ترقی کے نئے در کھل گئے ہیں۔

    گلگت میں آٹھویں صدی عیسوی میں پہاڑی چٹان پر بنائے گئے بدھا کے نو فٹ طویل مجسمے پر کورین بدھ راہبوں نے حاضری دی اور مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیکسلا میں بھی موجود بدھ مت کے آثار کا بھی دورہ کیا۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں نے اجتماعی طور پر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا ہے۔ زائرین نے نگر اور ہنزہ میں واقع سیاحتی اور تاریخی مقامات کی سیر بھی کی اور قدیم شاہراہِ ریشم اور راکاپوشی کے نظارے کیے۔ان کے اعزاز میں صوبائی حکومت نے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا اور روایتی مہمان نوازی کی۔

    گلگت بلتستان میں بدھ مت دور کے آثار بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں پہاڑی چٹانوں پر بدھ کے مجسمے، تحریریں اور نقوش شامل ہیں۔

     گلگت بلتستان میں بدھ مت دور کے آثار صدیوں بعد  بھی محفوظ حالت میں ہیں جنھیں دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے۔ ضلع دیامر میں دریائے سندھ کے اطراف چار لاکھ سے زائد تحریریں اور نقوشِ ہیں جو دنیا میں چٹانی نقاشی (راک کارونگ) کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

    محقق اور کئی کتابوں کے مصنف شیرباز برچہ کے مطابق  کارگاہ بدھ دنیا میں بدھا کا دوسرا نایاب مجسمہ ہے جو آٹھویں صدی  میں بدھ مت کے پیروکاروں نے چٹان کو تراش کر بنایا تھا۔ ایسا ہی ایک مجسمہ لداخ میں بھی ہے۔

    کورین وفد کو بریفنگ دینے والے شیرباز برچہ کے مطابق کارگاہ بدھ کو بدھ مت میں خاص مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے زائرین خصوصی طور پر یہاں زیارت کے لیے حاضری دیتے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔

    محمد عالم سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’ بدھ مت راہبوں کی گلگت  آمد سے علاقے میں مذہبی سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا۔ گلگت بلتستان میں اس حوالے سے بےپناہ مواقع موجود ہیں۔ یہاں مختلف موسموں میں بدھ مت کے ماننے والے خصوصی طور پر یہاں آتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں امن و امان کی بہتر صورت حال سے سیاحت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے اس لیے یہاں مذہبی سیاحت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔‘

    محمد اشرف عشور ہوٹلنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے مذہبی سیاحت کے مواقع سے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

    ایسے ممالک جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی بڑی تعداد آباد ہے وہاں ان مواقع کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کرنے اور ویزا پالیسیوں میں آسانیاں پیدا کرنے سمیت مقامی سطح پر بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے سے مذہبی سیاحت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    کورین زائرین کی آمد کو مقامی صحافیوں سے خفیہ رکھا گیا جس پر مقامی سینیئر صحافی منظر شگری کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان پرامن علاقہ ہے یہاں آنے والے وفد کی آزاد میڈیا میں کوریج کے ذریعے یہاں کے امن و امان اور مذہبی رواداری کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا اچھا موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا۔

    ساتویں صدی کے آخر میں بدھ اِزم نے گلگت بلتستان میں قدم رکھا۔ اِسلام سے پہلے بلتستان کے لوگ بدھ مت اور بون مذہب کے ماننے والے تھے۔ آج بھی اس خطے میں کئی جگہوں پر بدھ آثار ملتے ہیں جن میں منتھل بدھا کی چٹان اور ہنزہ کی مقدس چٹان سرِ فہرست ہیں۔ اسکردو سے ست پارہ جھیل کی طرف جاتے ہوئے گرینائٹ کی ایک بڑی چٹان پر گوتم بدھا کی مختلف اشکال کندہ ہیں۔

    نویں صدی کی یہ چٹان آٹھویں اور دسویں صدی کے درمیان بالائی سندھ کی وادی میں قائم بدھ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ہے۔ اس پیلی چٹان پر کندہ شکلوں میں بدھا کو اپنے پیروکاروں کے بیچ میں مراقبے کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔1906میں ایک اسکاٹش سیاح ایلا نے اپنی کتاب میں اس چٹان کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروائی۔

    وادی ہنزہ میں کریم آباد کے ساتھ ایک چھوٹا سا قصبہ ہلدیکش کے نام سے آباد ہے جہاں ایک پہاڑی کے اوپر، دریائے ہنزہ کے کنارے بدھ مت کی یہ مقدس کندہ چٹان موجود ہے جو ہزاروں سال قدیم ہے۔ اِس چٹان کے دو حِصے ہیں اور دونوں پر مختلف تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ ایک زمانے میں بدھ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے اسکو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ کر رکھا ہے لیکن دریائے ہنزہ میں آنے والے سیلاب اس قدیم ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے رہتے ہیں۔

    پندرھویں صدی میں اسلام کی آمد کے بعد بہت سے بدھسٹ، مسلمان ہو گئے اور جو چند ایک بچے تھے وہ لداخ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں آج بھی بدھوں کی اکثریت ہے۔بامیان طرز کا کارگاہ بدھا کا مجسمہ انتہائی اونچائی پر ایک بڑے پہاڑی پتھر میں کریدا گیا ہے۔

    لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ رابطہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے سیاحوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کو یہاں پہنچنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کارگاہ بدھا جسے مقامی زبانی میں {یشانی کہتے ہیں بدھ مت کے منفرد آثار قدیمہ میں شمار ہوتاہے۔کارگاہ بدھا کا مجسمہ کارگاہ اور شوکوگاہ دریائی نالوں کے درمیان پہاڑی پرواقع ہے۔

    یہ برماس {برساتی نالہ اور نیپورا بیسن کے قریب واقع ہے۔گلگت کے معتبر ثقافتی ورثہ اور ارد گرد کے علاقوں میں بدھ مت کا پھیلائو شاہرائے ریشم کے ساتھ سے منسلک ہوتا ہے۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بدھا کے پیروکاربدھ مت کی عبادت گاہ میں یہاں سے گزر کر قائم پذیر ہوتے تھے۔کارگاہ بدھا کا مجسمہ اور دیگر آثارقدیمہ سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ تیسری صدی سے گیارویں صدی تک گلگت بدھ مت کا بڑا مرکزتصور کیا جاتاتھا۔

    گلگت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر1930میں کھدائی کے دوران بدھ مت کی عبادت گاہ اور تین عدد سٹوپہ اور سنسکرت کا مسودہ ملا ۔جس سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کارگاہ بدھ مت کی آمداور مذہبی امور ساتویں صدی میں یہاں مکمل ہوگئے تھے۔سنسکرت کی تحریر 1931 میں دریافت ہوئی جبکہ بدھ مت کا مجسمہ 1938 اور 1939 کے درمیان عبادت گاہ کے ساتھ دریافت ہوا جوکہ سطح سمندر سے 400 میٹر بلندی پر واقع ہے۔

    گلگت بلتستان محکمہ سیاحت کے مطابق 19’2018 میں تقریبا پانچ لاکھ سیاحوں نے بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لئے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔کارگاہ بدھ کے اردگرد جو سوراخ ہے اس کے بارے میں مقامی لوگوں کے پاس عجیب غریب کہانیاں ہیں یہاں رہائیشوں کا خیال ہے کہ اس علاقے میں ایک آدم خور رہتا تھا اور وہ انسانی جسم کے گوشت کھایا کرتا تھا۔

    اس آدم خور نما انسان سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے لوگ گائوں کے ایک بزرگ سے مدد لینے کیلئے ان کے پاس چلے گئے اور اسے کارگاہ بدھا کے مجسمے کے اردگرد۔ جوسوراخ نظر آرہے اس میں اس آدم خور کو قید کیا گیا۔پاکستان میں عالیشان اور صدیوں پرانے بدھ کے مجسمے، کنندہ چٹانیں اور اسٹوپا موجود ہیں۔کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کی خاک آٹھ اسٹوپوں میں محفوظ ہوئی تھی جسے بعد میں اشوک اعظم نے اس وقت کی سلطنت کے تمام بڑے شہروں میں اسٹوپے تعمیر کروا کر ان میں یہ خاک محفوظ کردی تھی۔

    یوں یہ خاک84ہزار اسٹوپوں میں رکھی گئی۔ ایسے کئی اسٹوپے سوات اور ملک کے دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔کہتے ہیں کہ سوات نے بدھ مت کا عروج دیکھا ہے۔ دورِ ماضی میں دریائے سوات کے کنارے پر سیکڑوں خانقاہیں قائم تھیں جن میں ہزاروں طلبا علم حاصل کرتے تھے۔بدھ مت سے متعلق گندھارا آرٹ نہ صرف ایک فن ہے جو گوتم بدھ کے پتھروں کو عالیشان مجسموں میں ڈھالتا نظر آتا ہے بلکہ یہ ایک عظیم تہذیب کا آئینہ دار بھی ہے۔

    یہ فن پہلی تا ساتویں صدی اپنے کمال پر رہا۔ ہمالیہ پہاڑوں میں منتھل کے مقام پر چٹان کے قریب ہی ایک غار موجود ہے جہاں بدھ مت کے پیروکار اب بھی نروان کے لیے مراقبہ کرتے ہیں۔ہنزہ میںکریم آباد کے قریب دریائے ہنزہ کے کنارے ایک بڑی چٹان موجود ہے جس کی قدامت ہزاروں سال بتائی جاتی ہے۔ چٹان کے دونوں حصوں میں تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ بھی اب ایک محفوظ ورثہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدھ مت سوات سے ہی چین گیا تھا۔

    زیادہ تر قدیم آثار بری کوٹ، سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں۔بری کوٹ سوات میں کھدائی کے دوران گھوڑے پر سوار گوتم بدھ کا بہت بڑا مجسمہ برآمد ہوا تھا جبکہ یہاں ایک چٹان پردوشیروں کے مجسمے بنے ہوئے ہیں جو بظاہر اسٹوپا کی شباہت کے حامل ہیں۔ مینگورہ سے کچھ فاصلے پر ایک اور چٹان بھی موجود ہے جس پر گوتم بدھ کا بہت بڑا مجسمہ بنا ہوا ہے۔

    سوات میوزیم کے قریب بدھ مت کا ایک بہت بڑا معبد بت کدہ موجود ہے۔ یہ معبد تقریبا دوہزار سال پرانا ہے اور اسے اشوک اعظم نے تعمیر کروایا تھا۔اس کے مرکز میں ایک بلند و بالا اسٹوپا تھا اور اس کے گرد 240چھوٹے اسٹوپے بنائے گئے تھے۔ اسٹوپا کے گنبد پر ہمیشہ سات چھتریاں بنائی جاتی ہیں جو سات آسمانوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ مردان کا ضلع تخت بائی گندھارا آرٹ یا بدھ مت کا مرکز ہے۔

    یہاں ایک پہاڑی پر گندھارا طرزِ تعمیر سے آراستہ پورا ایک شہر موجود ہے جو اب عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ تخت بائی میں موجود آثار کی دریافت کے لیے کھدائی کا آغاز 1836 میں کیا گیا تھا۔ہری بہلول کے آثار بھی 1980 سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ یہ آثار ایک قلعہ بند شہر کے ہیں۔مردان شہر سے کچھ دور شہباز گڑھی میں کندہ چٹان دیکھی جاسکتی ہے۔

    بدھ مت کی ہر قسم کی باقیات کے حوالے سے پشاور میوزیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دنیا بھر میں بدھ مت اور بدھ سلطنتوں سے تعلق رکھنے والے نوادارات کا امین ہے، جن میں سیکڑوں مجسمے، سکے، اسٹوپے، برتن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ناصرف سیاحوں بلکہ تاریخ دانوں اور محققین کے لیے بھی باعثِ کشش مقام ہے۔پنجاب میں بھی بدھ مت کے بے شمار آثار دریافت ہوئے ہیں مثلا ٹیکسلا، اس کے نواحی علاقے اور رحیم یار خان کا کچھ حصہ اس حوالے سے اہم ہے۔

    سندھ میں بھی بدھ مت کے آثار پائے گئے ہیں ۔ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل ستر ہزار نفوس پر مشتمل زرخیز علاقہ ہے تیرہوں صدی میں یہ علاقہ ریاست دردستان کا ہیڈ کوارٹر اور بدھ مت دور میں داریل مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے مرکز رہا ہے داریل میں وادی پھوگچ قراقرم ہائی وے سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں پانچ سوسے750عیسوی میں بدھ مت یونیورسٹی کے نام سے آثار بغیر پتھروں کے سرخ چکنی مٹی سے بنی دیواریں ابھی تک موجود ہیں ان حالات میں جو الزمات بھارت لگا رہے وہ بالکل بے بنیاد ہیں

  • ‘بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں’بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ

    ‘بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں’بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ

    نئی دہلی :‘بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں’بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا ہے کہ بھارت کی انگلیاں چین کے جوتے تلے آگئیں، چین سرحدی جھڑپوں اور محدودجنگ کیلئے تیارہے۔

    تفصیلات کے مطابق معروف بھارتی اخبارمیں بھارتی ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے مودی سرکارپرشدیدتنقید کرتے ہوئے کہا بھارت کی انگلیاں چین کےجوتےتلےآگئیں، مودی سرکار،بھارتی فوج زمین چھن جانےکی تردیدکررہی ہے۔

    ایچ ایس پناگ کا کہنا تھا کہ چین کوکل میجرجنرل سطح مذاکرات میں برتری حاصل ہوگی،سفارتکاری ناکام ہوئی توچین سرحدی جھڑپوں،محدودجنگ کیلئے تیارہے۔

    خیال رہے چین نےلداخ ریجن میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا،جس کے بعد مودی سرکار نے چین کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔

    یاد رہے کہ بھارت نے رواں سال کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد لداخ کے متنازع علاقے کے ساتھ بھی کھیلنے کی کوشش کی تھی جس پر چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور سکم بارڈر پر مزید فوجی تعینات کردیئے تھے۔

    چینی حکام کا کہنا تھا بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا تھا تو اس دوران چينی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار بھی کیا جسے مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا۔

    بھارتی آرمی چیف نے فوجی دستے کی گرفتاری کو بھارت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا تھا، جبکہ چین کا کہنا تھا کہ بھارت نے سکم اور لداخ میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، اگر اس طرح کی خلاف ورزی دوبارہ کی گئی تو بھارت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

    واضح ریے بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ڈویژن کمانڈر سطح پر ہونے والی مذاکرات کے کئی دور ناکام رہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

    مقبوضہ کشمیر، مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں مسرت زہرا کا نام سچائی کی جنگ لڑنے والے صحافیوں میں شامل کر دیا گیا،عالمی میڈیا واچ ڈاگ ون فری پریس کی تازہ فہرست جاری کر دی گئی

    حال ہی میں خبروں کی زینت بنی وادی کشمیر کی جوان سال فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کا نام اب دنیا بھر میں سچائی کی جنگ لڑرہے ان صحافیوں میں شمار کیا گیا ہے جنہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے وقت ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عالمی میڈیا واچ ڈاگ ‘ون فری پریس کولیشن’ نے رواں مہینے دنیا بھر میں سچ کی لڑائی لڑنیوالے صحافیوں کی ایک فہرست جاری کی جس میں مسرت کو آٹھواں مقام دیا گیا ہے۔

    عالمی میڈیا واچ ڈاگ’ون فری پریس کولیشن’ ہر مہینے اپنی فہرست جاری کرتی ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا بھر میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی طرف عالمی توجہ دلانے کی کوشش کرتی ہے۔ ٹائم میگزین، الجزیرہ، رائٹرز اور دی واشنگٹن پوسٹ جیسے ادارے اس کولیشن کے ممبران ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس فہرست میں مسرت کے علاوہ سعودی عرب کے جمال خاشقجی، عظیمجون اسکرو، عبدالخالق عمران، اکرم الولیدی، نوف عبدالعزیز، عرفین حالیسوا جیسے نام شامل ہیں۔

    کولیشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ہر مہینے جاری کی جارہی فرصت میں کچھ نئے نام ہوتے ہیں اور کچھ پرانے۔
    مسرت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وادی کی فری لانس فوٹو جرنلسٹ پر یو اے پی اے عاید کیا گیا ہے جس کے تحت ان کو سات سال تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ قانون عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے بنا تھا تاہم اس کا استعمال اب صحافیوں پر بھی کیا جارہا ہے۔

    مسرت زہرا نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ مجھے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر ایک فوٹو شیئر کرنے کی وجہ سے ہراساں کیا گیا۔ مجھ پر یو اے پی ایل کے تحت معاملات درج کیا گیا۔ کشمیر میں صحافی کافی مشکلات میں اپنے پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنا کام انجام دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ عالمی سطح پر کوئی ہمارے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    رواں سال 18 اپریل کو مسرت پر یو اے پی اے کے سیکشن 13 اور انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 505 کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ مسرت نے گزشتہ برس دسمبر میں کی گئی ایک اسٹوری کی تصویر فیس بک پر شائع کی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایک عورت کا شوہر 2000 میں مبینہ طور پر بھارتی فوج کی جانب سے ہلاک کیا گیا تھا۔ زہرا نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ دو دہائی بعد بھی یہ عورت اپنے شوہر کو یاد کر کے ذہنی دبا وکا شکار ہوجاتی ہے

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

  • بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی افواج کشمیری بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ،5 اگست سے ابتک 13 ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا

    جمعرات کو دنیا نے ‘جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا بین الاقوامی دن 2020’ منایا ،جس دوران مقبوضہ وادی کشمیر میں یہ بچے سلاک ڈاون کے بعد سب سے بڑے خطرے کی زد میں ہیں۔ جب سے ہندوستانی حکومت نے یہاں فوج کی تعداد میں زبردست اضافہ کیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جارحیت کا شکار معصوم بچوں کابین الاقوامی دن ہر سال 4 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کابنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے بچوں کی تکالیف کو تسلیم کیاجائے۔

    مقبوضہ وادی کشمیر میں بچوں کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ مقبوضہ وادی میں پانچ دن گزارنے والے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق ، آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد راتوں رات تقریبا 13000لڑکوں کو حراست میں لے کر، غیر قانونی طور پر ، یا تو آرمی کیمپوں میں یا تھانوں میں رکھا گیا۔

    ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن جس میں خواتین حقوق کی کارکن کویتا کرشنن ، اکانومسٹ جین ڈریز ، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کی میمونہ مولا ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (م)کی خواتین کی ونگ کی رکن، اور ایک سماجی کارکن ومل بھائی شامل تھیں،گذشتہ سال 9 اور 13 اگست کے درمیان سری نگر ، سوپور ، بانڈی پورہ ، اننت ناگ ، شوپیان اور پامپور گئے تھے۔

    مشن کی اس رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح5 اگست کے بعد اس طرح کے چھاپوں کے دوران بھارتی فوج کے افسران نے رات کے وقت کم عمر لڑکوں کو اغوا کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کی۔ ان چھاپوں کا واحد مقصد خوف پیدا کرنا تھا۔ خواتین اور لڑکیوں نے مشن کو ان چھاپوں کے دوران مسلح افواج کی جنسی ہراسگی کے بارے میں بتایا۔ والدین پبلک سیکیورٹی ایکٹ کے مقدمات درج ہونے سے خوفزدہ تھے۔ دوسرا خوف یہ تھا کہ ان لڑکوں کو ‘لاپتہ’ کیا جاسکتا ہے – یعنی حراست میں لے کر انہیں کہیں اجتماعی قبروں میں نہ پھینک دیا جائے ۔مشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکام نے لڑکوں کو گرفتار کرتے وقت ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ، اور کچھ کو قید کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن آف امریکن اقلیتی ایسوسی ایشن آف چائلڈ رائٹس سے متعلق کمیٹی کے سامنے پیش کردہ ‘ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کی صورتحال ‘ کے عنوان سے ایک اور رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میں غیر معمولی "ہندوستانی قابض افواج اور خفیہ ایجنسیوں نے صرف ان کی کمزوری کی وجہ سے بچے کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو نہیں بخشا۔ وہ متعدد جسمانی اور جذباتی بدسلوکیوں ،تشدد اور بے گھر ہونے جیسے خطرات کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے الگ ہوجانے کا زیادہ خطرہ ہے۔ لڑکیوں کو جنسی تشدد ، استحصال اور بدسلوکی کا خطرہ ہوتا ہے۔

    ہندوستانی عوام کی ٹربیونل (آئی پی ٹی)کی ایک اور رپورٹ میں کشمیری بچوں کی حالت زار بھی بیان کی گئی ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی میں مستقل ہنگاموں نے رہائشیوں خصوصا بچوں کے پورے طرز زندگی کو تبدیل کردیا ہے۔ بچپن کا سارا تصور وادی میں ایک بنیادی تبدیلی لے کر آیا ہے۔ بچے کنڈرگارٹن نہیں جاتے ،نرسری کی نظمیں نہیں سیکھتے ،کھلونوں سے نہیں کھیلتے ہیں ، جیسا کہ عام بچے کرتے ہیں۔ نہ ہی وہ آزاد ماحول میں اپنے والدین کی محبت ،شفقت اور نگہداشت میں پالے گئے ہیں۔

    جموں وکشمیر کے مقبوضہ علاقے میں بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے ساتھ بھارتی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور قابل مذمت ہے۔ در حقیقت ، کشمیر سے سامنے آنے والی اطلاعات سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریوں کے عزم کو متزلزل کرنے کے لئے بچوں کے خلاف دہشت گردی ایک دانستہ ہتھکنڈہ ہے ، اور اس طرح انہیں تحریک آزادی کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ، ہندوستانی فوج نے گذشتہ 31برس میں 811 کمسن لڑکوں اور لڑکیوں کو شہید کیا۔مقبوضہ کشمیر میں جو عام شہری شہید ہوئے ، ان کی وجہ سے 90ہزار سے زائد بچے یتیم ہوگئے۔گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے اسکول کے لڑکے اور لڑکیاں بھی زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں کچھ پیلٹ گنز کی گولیوں کے زخموں کی وجہ سے مکمل طور پر اپنی ایک یا دونوں آنکھوں میں بینائی کھو چکے تھے۔

    مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں درجنوں لڑکے اور 20 سال سے کم عمر کی کچھ لڑکیاں غیر قانونی نظربند ہیں۔

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

  • لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے

    لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے

    لداخ :لداخ میں ہندوستانی توسیع پسند انہ عزائم چین کی وجہ سے خاک میں مل گئے،اطلاعات کے مطابق لداخ میں بھارتی حکومت کچھ عرصہ سے اپنی توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔لیکن چینیوں کے ہاتھوں ہزیمت کے بعد بھارت پسپا ہو گیا ہے۔ پاک چین باہمی تعاون نے ہندوستان اور امریکہ کے ارادوں کو ناکام بنایاہے ۔جس کے پاکستان کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس دو ٹوک اقدام نے علاقے میں پاکستان اور چین کے لئے مستقبل کی پریشانیوں کو ختم کردیا ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے طویل عرصہ سے ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان دولت بیگ اولدائی ایک وسیع و عریض بے آب و گیاہ سرد ریگستان میں دولت بیگ کے نام سے ایک چھوٹا سا فوجی اڈہ قائم کر رکھاتھا جس کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ یہ قراقرم درے سے صرف 8 میل دور ہے جس سے گلگت تک آسانی سے رسائی فراہم ہوتی تھی۔یہ وسیع و عریض میدان ایک طرح کا قدرتی ہوائی مستقر ہے۔

    بھارت فوج اب اس کو ہوائی پٹی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔گذشتہ ایک سال میں ، ہندوستان نے اندرونی سڑک کے نیٹ ورک سے منسلک ہوکر اس اڈے کو اپ گریڈ کیا جس کے پاکستان اور سی پی ای سی کے لئے سنگین نتائج ہوسکتے تھے۔بھارت نے گذشتہ سال اکتوبر میں دربک۔ شیوک۔دولت بیگ تک سڑک تعمیر کی تھی۔ڈی بی او روڈ کو سب سیکٹر شمالی روڈ بھی کہا جاتا ہے ، یہ مشرقی لداخ میں ایک موسمی سڑک ہے جو چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب ہے

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق چین نے پچھلے دو ہفتوں میں ایک شاندار اقدام کیا ، اور گیلوان وادی کے اندر پانچ ہزار فوجیوں نے وادی کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا جس میں نو تعمیر شدہ دربوک – شیوک – دولت بیگ روڈبھی شامل ہے۔ اب ہوائی راستے کے علاوہ دولت بیگ اڈے کو سپلائی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔

    گیلوان ایک تنگ وادی ہے ، جس کا راستہ چینی فوج نے بند کر دیا ہے۔اس اقدام نے ہندوستانیوں کو ایک انتہائی سنگین الجھن میں ڈال دیا ہے کیونکہ بین الاقوامی کشیدگی میں اضافہ کے ساتھ چینی فوج کی مضبوط موجودگی کو دور کرنا فوجی طور پر بہت مشکل ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ گلوان وادی ہندوستان کی جانب سے لائن آف ایکچول کنٹرول کے بالکل اندر موجود ہے اور اس کے باوجود ہندوستانی اس پر کوئی واویلا نہیں مچارہا جو ان کا معمول ہے۔ موجودہ صورتحال میں وادی گلوان کی اسٹریٹجک اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔

    چینیوں کے ہاتھوں سپلائی روڈ پر قابو پانے کے بعد ،دولت بیگ اڈے کی اہمیت کو اب موثر طریقے سے صفر کردیا گیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی مثبت پیشرفت ہے۔ پاک چین باہمی تعاون جس نے ہندوستان اور امریکہ کے ارادوں کو ناکام بنایا۔ اور اس کے پاکستان کے حق میں دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں

  • بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے 18 نوجوانوں کی شہادت پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ ہے،قاری زوار بہادر

    بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے 18 نوجوانوں کی شہادت پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ ہے،قاری زوار بہادر

     لاہور:بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے 18 نوجوانوں کی شہادت پر پاکستانی عوام میں شدید غم و غصہ ہے،اطلاعات کے مطابق جمعیت علماءپاکستان کے رہنماءمفکر اسلام علامہ قاری محمد زوار بہادر نے کہا ہے کہ پوری پاکستانی عوام مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی سے ضلع پلوامہ میں مزید4 نوجوانوں کی شہادت ، تین روز میں 18 نوجوانوں کی شہادت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر شدید غم و غصہ ہے

    انہوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برداری اور اقوام متحدہ بھارتی جارحیت کا نوٹس لے ۔ بھارتی دہشت گردی سے اب تک ہزاروں کشمیری شہید ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت لداخ میں چینی افواج کے ہاتھوں بری شکست کے بعد سے بھکلاہٹ کا شکار ہوکراس سے توجہ ہٹانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں عوام پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑرہا ہے اور پاکستان پر جنگ مسلط کرناچاہتا ہے۔ عالمی ادارے تماشائی کا کردارختم کریں ورنہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ سے دنیا بھر کا امن تباہ و برباد ہو سکتا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ تقریبا 10 ماہ سے مقبوضہ کشمیر کو بدترین جیل بنا رکھا ہے نہتے عوام پر بھارتی افواج ظلم وبر بریت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیری بھائیوں کی آزادی کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماءپاکستان کے رہنماﺅں ملاقات میںکیا اس موقع پر مفتی تصدق حسین ،محمد ارشد مہر،رشید احمد رضوی ،مولانا نصیر احمد نورانی،مولاناحافظ سلیم اعوان اورقاری لیاقت علی رضوی اور دیگر رہنمابھی موجود تھے ۔ قاری زوار بہادر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم بھارت اور دیگر ملک دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہے ۔ ہم کسی کو وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیںگے قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے اور بھارت کی ہر کارروائی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
     جاری کردہ

  • اقوام متحدہ کشمیر میں مداخلت کرے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائے، صدر آزادکشمیر

    اقوام متحدہ کشمیر میں مداخلت کرے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائے، صدر آزادکشمیر

    اسلام آباد: آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ فوری طور پر مداخلت کرے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تنازعہ کشمیر کے پرامن سفارتی حل کی راہ ہموارکرنے کے لئے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کریں۔ برطانیہ سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے اور بین الاقوامی برادری کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    یہ بات انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کل جماعتی ورچوئیل کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا اہتمام تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے سربراہ راجہ نجابت حسین نے کیا تھا۔ راجہ نجابت حسین کی صدارت میں ہونے والی اس کانفرنس میں پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور، برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد نفیس ذکریا آل پارٹیز پارلیمانی گروپ آن کشمیر برطانیہ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراہم، ممبر پارلیمنٹ انجیلا رینر، ایم پی جیک بریٹن، ایم پی اینڈریو گوائن، ایم پی جیمز ڈیلی، ایم پی سارہ اوون، ایم پی ٹریسی باربن، ایم پی ریجل ہوپکن، ایم پی ٹونی لائیڈ، ایم پی یاسمین قریشی، ایم پی محمد یاسین،ایم پی بیل ریبیروایڈی، ایم پی سام ٹیری، سابق ممبر یورپین پارلیمنٹس اینتھی میکن ٹائر،سابق چیئرمین یورپین فرینڈز آف کشمیررچرڈ کاربیٹ، سابق ایم ای پی شفق محمود،سابق ایم ای پی جولی وارڈ، سینیٹر فیصل جاوید، ممبر قومی اسمبلی نورین فاروق ابراہیم،برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا، ممبر آزاد کشمیر اسمبلی سحرش قمر،کنونیئر حریت کانفرنس آزادکشمیر فیض نقشبندی، عبدالحمید لون، سید منظور احمد شاہ، علی رضا سیدچیئرمین کشمیر کونسل یورپ، عبید الرحمان قریشی صدر یوتھ پارلیمنٹ پاکستان، کونسلر یاسمین ڈار، مسز آسیہ حسین چیئرپرسن جے کے ایس ڈی ایم آئی، کونسلر سمیرا خورشید، عظمی رسول، شوکت ڈاراور ذیشان عارف نے بھی خطاب کیا۔

    کانفرنس میں شریک برطانوی پارلیمنٹرین کی اکثریت نے کہا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تنازعہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری مداخلت کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جا سکے۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے برطانوی پارلیمنٹ کی تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہا رکرنے اور تنازعہ کشمیر کے پرامن سیاسی تصفیہ کی ضرورت پر زور دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کسی تیسرے فریق کی ثالثی سمیت تمام ایسے ذرائع سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تیار ہے جس میں کشمیریوں کو ایک فریق کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ مسئلہ قرار دینے کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک حل طلب مسئلہ کے طور پر آج بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بھارت کے اس بے بنیاد اور من گھڑت الزام کو بھی مسترد کر دیاکہ پاکستان لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب کسی قسم کی مداخلت کر رہا ہے یا دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یہ بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر مقبوضہ کشمیر کے اندر اپنے گھناؤنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور دنیا کی توجہ کشمیر اور بھارت کی اندرونی صورتحال سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ایک ارب سے زیادہ عوام کے خلاف نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی اُس انتہاء پسندانہ اور فسطائی سوچ کے خلاف ہے جو بھارت میں ہندو بالا دستی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ امن اور ترقی کی باتیں کر رہے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ کشمیر کے اسی لاکھ انسان آگ کے آلاؤ میں جل رہے ہیں۔ امن اور ترقی سے پہلے دنیا کو اس آگ کو بجھانے پر توجہ دینی ہو گی۔

    صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بھارتی درندگی کا شکار ہیں گزشتہ ماہ 31کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود ہندوستان کے بقول جموں وکشمیر میں کل 450کے لگ بھگ جنگجو ہیں، سوال یہ ہے کہ ان مٹھی بھر جنگجوؤں کو ہندوستان کی نو لاکھ سے زائد تعینات فوج کیا قابو میں نہیں رکھ سکتی۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ وہ اس نکتے کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ عالمی راڈار سکرین پر ہندوستان کی جانب سے نافذ مقبوضہ کشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون غائب ہے۔ اور ہندوستان COVID-19کی آڑ میں اس کالے قانون کے تحت پورے ہندوستان سے ہندوؤں کو لاکر مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے۔

    اس ضمن میں وہ اُن تمام سول سرونٹس، سابقہ فوجیوں، اساتذہ، طالب علموں کو آباد کرنا چاہتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں دس سال کشمیر میں ملازمت کی ہو یا وہ پندرہ سال سے کشمیر میں رہ رہے ہوں یا انہوں نے دسویں اور بارہویں کا امتحان پاس کیا ہو۔ علاوہ ازیں وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری مہاجرین کو لاکر واپس کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان آبادکاریوں میں انتہائی برق رفتاری کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کوئی متعلقہ حکومتی اہلکار پندرہ ایام کے اندر ڈومیسائل کی درخواست کو پراسیس کر کے اُس کی اجرائیگی کو ممکن نہیں بناتا تو اُس پر پچاس ہزار کا جرمانہ کیا جائے گا۔

    صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں یورپین پارلیمنٹ کے اُن چھ سو ارکان کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو پرامن طور سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا اور بھارت کے نئے شہریت قانون کو مسترد کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے برطانوی پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا کشمیر کانفرنس میں شریک ہونے اور کشمیر کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے پر اُن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کرونا وائرس کی وباء سے برطانیہ بھر میں ہزاروں برطانوی شہریوں کی جانوں کے نقصان پر ارکان پارلیمنٹ، برطانیہ کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا کرتے ہوئے اُنے سے یکجتہی کا اظہار کیا۔

  • راجہ ریپسٹارکا تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سےپوسٹر ریلیز

    راجہ ریپسٹارکا تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سےپوسٹر ریلیز

    پاکستان کے معورف گلوکار راجہ ریپسٹار نے ترانہ یوم تکبیر کے بعد تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سے ایک پوسٹر ریلیز کر دیا ہے-

    لاہور : پاکستان کے معروف گلوکار راجہ ریپسٹار تحریک آزادی جموں و کشمیر پر اپنے ترانوں کی وجہ سے ساری دنیا میں مقبول ہیں، اور مقبوضہ وادی کا بچہ بچہ بھارتی قابض فوج کے سامنے سینہ تان کر انکے گائے ہوئے ترانوں کے ذریعے دشمن کو للکارتا ہے

    راجہ ریپسٹار نے اپنے آئندہ آنے والے تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ترانے کے حوالے سے ایک پوسٹر ریلیز کیا ہے جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کشمیری بچہ بینر اٹھائے کھڑا ہے جس پر لکھا ہے "ہم کیا چاہتے آزادی” اور دوسری جانب دیوار پر لکھا ہے "وی وانٹ فریڈم”

    راجہ ریپسٹار نے اپنے آنے والے ترانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ترانے کا عنوان "فری ڈم” رکھا گیا ہے، جس میں کشمیری نوجوانوں کے جزبات اور ان پر قابض بھارتی فوج کے مظالم دنیا کو دکھائے جائیں گے

    گلوکار نے کہا کہ ترانہ جلد ریلیز کیا جائے گا، تمام پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کے اس ترانے کو بھرپور شیئر کریں تاکے ہمارے مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آواز بہری دنیا کو سنائی دے،

    واضح رہے کہ اس سے پہلے گلوکار نے کورونا وائرس کے حوالے سے رمضان المبارک کے حوالے سے کلام رحمت کا مہینہ اور یوم تکبیر پر بھی ترانے جاری کئے تھے جنیہں مداحوں کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی تھی-

    یومِ تکبیر پر "راجہ ریپسٹار” کا ترانہ "یومِ تکبیر” ریلیز کر دیا گیا

    "راجہ ریپسٹار” کا پہلا رمضان کلام "رحمت کا مہینہ” ریلیز

  • مقبوضہ کشمیر بانڈی پورہ میں مسلمانوں نے ہندو پنڈت کے ساتھ حسن اخلاق کی  اعلیٰ مثال قائم کردی

    مقبوضہ کشمیر بانڈی پورہ میں مسلمانوں نے ہندو پنڈت کے ساتھ حسن اخلاق کی اعلیٰ مثال قائم کردی

    بانڈی پورہ میں مسلمانوں نے ہندو پنڈت کی بیوی کے ساتھ اعلیٰ مثال قائم کردی

    باغی ٹی وی :مقبوضہ کشمیر میں ایک طرف بھارتی فوج کے مظالم تو دوسری طرف مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسومات انجام دیں

    مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں کشمیری مسلمانوں نے بھائی چارے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے فوت ہوجانے والی ایک معمر کشمیری پنڈٹ خاتون کی آخری رسومات انجام دیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع کے علاقے کلوسہ میں جب مسلمانوں نے 75سالہ پنڈت خاتون رانی بٹ کی فوتگی کی خبر سنی تو وہ فوراً اسکے گھر پہنچنے اور آنجہانی کی آخری رسومات کی ادائیگی میں اسکے اہلخانہ کی مدد کی۔
    واضح‌ رہے کہ بھارتی حکومت کشمیر سے پنڈتوں کے بھاگ جانے کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈاٹی آئی ہے . لیکن اپنے اوپر ہندو فوج کی طرف سے ظلم کے باوجود مسلمانوں‌ ہندؤں کے ساتھ حسن اخلاق کی اعلیٰ مثال پیش کی ہے .جو کہ دنیا والوں کے لیے چشم کشا ہے کہ مسلمان کتنے امن پسند ہیں اور مشکل وقت میں بھی اپنے مخالفین سے اچھا برتاؤ‌کرتے ہیں.
    اس سے قبل محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ 1990 میں پنڈتوں کے کشمیر چھوڑنے کی ذمہ داری کشمیری مسلمانوںپر ڈالنا غیر منصفانہ فعل ہے۔ ان کا درد اب دائیں بازو کے شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار ہے۔ گاندھی نے جس سیکولر بھارت کا تصور کیا تھا وہ ایک آمرانہ حکومت میں تبدیل ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ محبوبہ مفتی 4 اگست کی شام کو اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔5اگست کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا متنازعہ اعلان کیاتھا۔

  • احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے

    احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے

    جرنلسٹ ناصر کہویہامی کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے-

    باغی ٹی وی : کشمیری جرنلسٹ اور سماجی کارکن ناصر کہویہامی کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ناصر کہویہامی نے بینر پکڑے ہوئے ایک اپنی ایک تصویر شئیر کی جس پر مطالبات ، قیدیوں کو رہا کرو؛ اختلاف رائے کا دفاع کرو، اینٹی سی اے اے مظاہرین کو رہا کرو،احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے ، طالبعلموں اور ایکٹیویسٹ کو فری کرو،اصل کرپٹ لوگوں کو گرفتار کرو درج تھے –


    ناصر کہویہامی نے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ تم زمین پر ظلم لکھو ،ہم آسمان میں انقلاب لائیں گے ،اختلاف رائے ہمارا جمہوری حق ہے ۔

    انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا-

    ناصر کہویہامی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں باغی ٹی وی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ جمہوری احتجاج جرم نہیں! اختلاف رائے جمہوریت کے لئے بنیادی ہے! تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کریں!

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    مقبوضہ کشمیر:پلوامہ کے متعدد علاقوں میں بھارتی فوج کی تلاشی مہم ، 3کشمیری شہید