Baaghi TV

Category: خواتین

  • چکوترے یعنی گریپ فروٹ کے حیران کن فائدے

    چکوترے یعنی گریپ فروٹ کے حیران کن فائدے

    سرد موسم میں چکوترے کی بہار دیکھنے میں آتی ہے چکوترہ کینو کی دو اقسام کی قلم سے بننے والا پھل ہے یہ بے شمار خوبیوں کا مالک ہے اسے عام طور پر جوس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس میں کیلشئم فاسفورس وٹامن اے بی کمپلیکس فولاد وٹامن سی فولک ایسڈ اور پو ٹاشئیم بھی موجود ہوتا ہے زمین پر چکوترے کا وجود اللہ کی ایک ایسی نعمت ہے کہ ہم جس پر اُسکا لاکھ شُکر ادا کریں تب بھی کم ہے، چکوترہ ایک انتہائی اہم اور بیحد مفید اور مزیدار پھل ہے جسے میڈیکل سائنس اپنی تحقیقات کے بعد بہت سی بیماریوں کے لیے شفا قرار دے چُکی ہے جن میں دل، شوگر اور موٹاپے کی بیماریاں سر فہرست ہیں یہ پھل بھوک میں اضافہ کرتا ہے اور معدے کی قوت بڑھاتا ہے اس کا باقاعدہ استعمال دل جگر اور گردوں کے لئے مفید ہے تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اس کا ایک گلاس پئیں اور تازہ دم ہو جائیں ذیا بیطس میں مبتلا افراد بھی اس پھل کو کھا سکتے ہیں

    انار کا رس پیٹ کی چربی کم کرنے میں مددگار


    چکوترے کا شُمار اُن چند پھلوں میں ہوتا ہے جو ہائی نیوٹریشن ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی کم کیلوریز کے حامل ہوتے ہیں، ایک درمیانے سائز کے آدھے چکوترے میں 52 کیلوریز 13 گرام کاربز 1 گرام پروٹین 2 گرام فائبر وٹامن اے اور سی کی بڑی مقدار کے علاوہ پوٹاشیم 5 فیصد تھیامین 4 فیصد فولیٹ 4 فیصد اور مگنیشیم 3 فیصد ہوتا ہے جو اسے غذائیت سے بھر پور بنا دیتے ہیں اس کے علاوہ چکوترے میں پودے سے حاصل ہونے والے اینٹی آکسائیڈینٹ بھی موجود ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتے ہیں چکوترے کا ریگولر استعمال بیماریوں کے خلاف ہماری جسم کی قوت مدافعت کو چٹان جیسا کر دیتا ہے اور اُس کی وجہ چکوترے میں وٹامن سی کی ایک بڑی مقدار ہے جو اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں کی حامل ہے اور ہمارے جسم کے سیلز کو وائرس اور بیکٹریا سے بچا کر رکھتی ہے میڈیکل سائنس کی بہت سی تحقیقات کے مطابق وٹامن سی ہمارے جسم کو وائرل کولڈ جیسی بیماری سے بچاتا ہے اور چکوترے میں شامل دیگر وٹامن خاص طور وٹامن اے ہمارے ایمیون سسٹم کو بہتر بناتا ہے چکوترے میں وٹامن بی زنک کاپر اور آئرن کی بھی تھوڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو ہماری جلد کو جہاں خوبصورت بنانے میں مدد کرتی ہے وہاں جلد پر ایک فائل وال کا کام کرتی ہے اور اسے انفیکشن سے بچاتی ہے

    پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں میں چھپے صحت کے راز


    چکوترے میں ڈائٹری فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار شامل ہے اوردرمیانے سائز کے آدھے چکوترے میں 2 گرام فائبر ہماری بھوک کو ختم کرتی ہے اور معدے کو جلد خالی نہیں ہونے دیتی چنانچہ ہمارا جسم مزید کیلوریز کی ڈیمانڈ نہیں کرتا چکوترے میں وزن کم کرنے والی بہت سی خوبیاں شامل ہیں خاص طورپر فائبر جو ہمارا پیٹ بھرا رکھتی ہے جس سے بھوک کم لگتی ہے اور جسم کی چربی کو پگھلنے کا موقع ملتا ہے ایک تحقیق کے مُطابق کھانے سے پہلے آدھا چکوترہ کھانے والے افراد کا وزن چکوترہ نہ کھانے والے افراد کے وزن کی نسبت تیزی سے کم ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر پیٹ کی چربی کو رگڑ کر رکھ دیتا ہے چکوترے کا ریگولر استعمال ہمارے جسم کے سیلز کو انسولین کے خلاف بڑھنے سے روکتا ہے اور سیلز کی یہی Resistance ہمارے جسم میں ذیابطیس کا باعث بنتی ہےانسولین ایک ہارمون میں جو ہمارے جسم میں بہت سے فعال سرانجام دیتا ہے یہ جہاں ہمارے میٹابولیزم کو کنٹرول کرتا ہے وہاں خون میں شامل شوگر کو بھی کنٹرول کرنے کے فرائض سرانجام دیتا ہے اور انسولین ہارمون کی خرابی خون میں شوگر کی مقدار کو بڑھنے دیتی ہے جس سے ٹائپ 2 کی شوگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے ایک تحقیق کے مُطابق کھانے سے پہلے آدھا چکوترہ کھانے والے افراد میں انسولین رزیسٹنس اور اسنولین لیول قابو میں رہنے کے شواہد ملتے ہیں اور ان کے خون میں شوگر تیزی سے شامل نہ ہونے کے بھی شواہد ملتے ہیں

    زیرہ کے انسانی جسم پر اثرات


    یعنی یہ ٹائپ 2 ذیابطیس کو قابو کرنے میں انتہائی مفید پھل ہے چکوترے کا روزانہ استعمال دل کی بہت سی بیماریوں کو قابو میں رکھتا ہے اور انہیں پیدا نہیں ہونے دیتا چکوترہ کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کو درست رکھتا ہے جو دل کی بیماری پیدا کرنے کے سب سے بڑے سبب ہیں ایک تحقیق کے مُطابق 6 ہفتے روزانہ 3 ٹائم چکوترہ کھانے والے افراد کے ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور بلڈ پریشر کیساتھ اُن کے بُرے کولیسٹرول کا لیول بھی درست ہوتا پایا گیا چکوترے میں شامل پوٹاشیم ایک ایسا منرل ہے جو دل کو فعال کام کرنے میں انتہائی مدد گار ہے اور چکوترے میں شامل فائبر کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہے اور یہ ذیابطیس کو بھی قابو میں رکھتی ہے جو دل کی بہت سے بیماریوں کا سبب ہے اینٹی آکسیڈینٹ ہمارے جسم کےخراب سیلز کی مرمت کرتے ہیں اور چکوترے میں بہت سے طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتے ہیں جو وائرس اور بیکٹریا کو اُن کی حدوں سے باہر نہیں نکلنے دیتے چکوترہ گُردے میں پتھری بننے کی بیماری میں انتہائی مُفید ہے کیونکہ یہ گُردوں کی صفائی کر دیتا ہے اور گُردوں میں پتھری بننے کے عمل کو روکتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-watermelon/
    چکوترہ پانی سے بھر پُور ہوتا ہےاور ہمارے جسم کو پانی کی کمی سے بچاتا ہے پانی کی کمی جہاں ہماری جلد بُوڑھا کر دیتی ہے وہاں اور بہت سی بیماریوں کا باعث بنتی ہے چکوترے کو پکانا نہیں پڑتا اور اسے آسانی سے چھیل کر کھایا جاسکتا ہے لہذا اسے روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا انتہائی آسان ہے آپ اسے چلتے پھرتے بھی کھا سکتے ہیں اور اسے ساتھ رکھنے کے لیے بھی کوئی زیادہ لوازمات نہیں چاہیے آپ اسے اپنے عام سے بیگ میں رکھ سکتے ہیں اور کسی بھی وقت آسانی سےچھیل کر کھا سکتے ہیں
    اگر چکوترے کا بہت زیادہ استعمال کیا جائے تو چکوترے میں کُچھ ایسے عناصر شامل ہوتے ہیں جو دانتوں کی انیمل کو خراب کرتے ہیں خاص طور پر سٹرک ایسڈ دانتوں کی پالش خراب کرتا ہے ایسے افراد جن کے دانت حساس ہوں انہیں چاہیے کے چکوترہ کھانے کے بعد فوراً اچھی طرح کلی کریں اور اگر بُرش کرنا ہوتو چکوترہ کھانے کے آدھے گھنٹے کے بعد بُرش کریں اور چکوترے کے ساتھ پنیر کا استعمال کریں تاکہ منہ میں تیزابیت پیدا نہ ہو

  • کان کی صفائی کے صحیح اور آسان طریقے

    کان کی صفائی کے صحیح اور آسان طریقے

    کان انسانی جسم کا انتہائی نازک اور اہم اعضو ہے جس کی حفاظت کا نظام قدرت نے کمال مہارت سے بنایا ہے اور عام طور پر ہمیں کان کی حفاظت اور صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ لوگ جو بغیرکسی وجہ کہ بازار میں انتہائی سستے داموں بکنے والے کاٹن بڈز خرید کر کان کی ویکس یعنی میل صاف کرتے رہتے ہیں وہ قُدرت کے اس انمول تحفے کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں کان کب اور کیوں اور کیسے صاف کرنے چاہیے اور کیا کاٹن بڈز ہمارے کان کے لیے نقصان دہ تو نہیں تاکہ ہم اپنی حس سماعت کو متاثر نہ کر بیٹھیں
    کان کی ویکس جسے ہم کان کی میل بھی کہتے ہیں کان کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے جو کان کے پردے کی حفاظت کرتی ہے

    آئی بروز کی اسٹائلنگ کرنے کے آسان طریقے


    اور مٹی بیکٹریا حشرات اور دوسرے ذرات وغیرہ کو کان کے پردے تک پہنچنے سے روکتی ہے اور یہ ویکس قدرتی نظام سے جب ہم کھانا کھاتے ہُوئے جبڑے چلاتے ہیں یا بولتے ہُوئے جبڑوں کا استعمال کرتے ہیں صاف ہوتی رہتی ہے اور بہت سے لوگوں کو کان صاف کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن کبھی کبھار کان میں بننے والی یہ ویکس زیادہ مقدار میں جمع ہوجائے اور سماعت متاثر ہونے لگے تو اس زیادہ مقدار کی ویکس کو ایمپیکشن کہتے ہیں جس کی صفائی ضروری ہوتی ہے کاٹن بڈ، تیلی کے اوپر روئی لگا کر یا کسی اور باریک چیز کو جب ہم کان میں داخل کرتے ہیں تو یہ کاٹن بڈ وغیرہ میل کو کان کے اندر دھکیل دیتا ہے اور کان بند ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے
    کان میں جب ایمپیکشن ہوتی ہے یعنی میل زیادہ مقدار میں اکھٹی ہو جاتی ہے تو ہمیں اُس کی درجہ ذیل نشانیاں وصول ہوتی ہیں
    متاثرہ کان میں خارش ہو سکتی ہے

    نیند بھی لیں اور پیسے بھی کمائیں


    کان بھرا بھرا محسوس ہوتا ہے اور کان میں گھنٹیاں بجتی سُنائی دیتی ہیں
    آوازیں ٹھیک طرح سُنائی نہیں دیتی متاثرہ کان سے بُو آ سکتی ہے
    چکر آنا شروع ہو سکتے ہیں کھانسی لاحق ہو سکتی ہے
    کان کی صفائی:
    کان سے ویکس صاف کرنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جایا جائے اور ڈاکٹر سے کان کی صفائی کروائی جائے کیونکہ کانوں کے ڈاکٹر کے پاس ایسے آلات ہوتے ہیں جن سے حفاظت کیساتھ کان کی صفائی ممکن ہوتی ہے لیکن اگر آپ کان کی صفائی گھر میں خُود سے کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے چند حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ آپ کہیں کان کے پردے کو نقصان نہ پہنچا دیںکاٹن بڈ سے کان کی صفائی کے دوران یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ میل کو کان کے اندر دھکیل سکتی ہے یا پردہ سماعت کو متاثر کر سکتی ہے اس لیے کاٹن بڈ سے صفائی کرتے ہُوئے اُسے کان کے اندر تک داخل مت کریں اور کان کے باہر باہر کناروں کو اس کیساتھ صاف کریں اور دھیان رکھیں کہ کاٹن بڈ میل کو اندر نہ دھکیلے اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی نرم کپڑے کو گرم پانی میں بھگو کر پانی نچوڑ دیں اور کان کے سوراخ کے اردگرد اُس کپڑے سے صفائی کریں
    کان کی بڑھی ہوئی ویکس نکالنے کے لیے عام طورپر آپ کو میڈیکل سٹوراور فارمیسی وغیرہ سے ائیر ویکس سوفٹنر بھی مل جائیں گے جن کے قطرے کان میں ڈالنے سے میل پتلی ہو کر خود بخود خارج ہوجاتی ہے ان ویکس سوفٹنرز میں منرل آئل، بے بی آئل گلیسرین پر آکسائیڈ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور سالین وغیرہ استعمال کی جاتی ہے جو میل کو پتلا کر دیتی ہے اور کان کی صفائی کر دیتی ہےائیر ویکس سوفٹنر کے اُتنے ہی قطرے کان میں ڈالیں جتنے اُس کے استعمال کے لیے ہدایت نامے پر تحریر ہوں اور مطلوبہ وقت تک اُسے کان کے اندر رہنے دیں اور بعد میں کان سے وہ قطرے نکال دیں اور اگر کان کی کیفیت برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں کان کی صفائی کے لیے کان کی موم بتیاں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں یہ کینڈلز کان سے ویکس کو کھینچ کر نکال دیتی ہیں مگر ان کے استعمال سے خطرہ رہتا ہے کہ آپ جل سکتے ہیں یا موم بتی کی موم غلطی سے کان میں داخل ہو سکتی ہے
    اگر آپ ذیابطیس کے مریض ہیں یا آپ کا ایمیون سسٹم ٹھیک کام نہیں کر رہا یا آپ کے کان کے پردے میں سوراخ ہے یا آپ کے کان میں ٹیوب ہے تو اوپر دئیے گئے طریقے ہرگز استعمال نہ کریں اور کان کی صفائی کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں

  • روزانہ کی خوراک میں لونگ کھانے کے بےشمارحیران کن فوائد

    روزانہ کی خوراک میں لونگ کھانے کے بےشمارحیران کن فوائد

    لونگ کا تعلق سدا بہار پودوں سے ہے لونگ کے درخت پر خزاں کا موسم اثر انداز نہیں ہوتا اور یہ سارا سال سرسبز رہتا ہے اس کا پھول بے شمار خوبیاں کا حامل ہے یہ جہاں ہمارے کھانوں کو خوشبودار اور ذائقے دار بناتا ہے وہاں یہ ہماری صحت پر بے شمار مفید اثرات مرتب کرتا ہے دو لونگ روزانہ کھانے کے بے شمار فوائد درج ذیل ہیں
    لونگ میں طاقت ور جراثیم خواص شامل ہوتے ہیں اور اپنے اندر تازگی کی خصوصیات رکھتا ہے اس کے استعمال سے خارش اور سرخ بادہ وغیرہ سے افاقہ ہوتا ہے آج کل اس کا استعمال طبی کریموں اور پیکس میں ہوتا ہے دانتوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے اور سانس میں تروتازگی پیدا کرتا ہے خواتین کھانے کے دوران خوشبو اور ذائقے کے لیے لونگ کا استعمال کرتی ہیں حکماء کے مطابق دانت میں درد کی صورت میں لونگ کا استعمال بہترین ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے اسے زمانہ قدیم سے استعمال کیا جا رہا ہے

    انسانی جسم کے چند دلچسپ حقائق


    کھانوں میں اس کا مسلسل استعمال بالوں کو سیاہ اور خوبصورت بناتا ہے ماہرین اسے جلد کی حفاظت کرنے والی تمام اقسام کی کریموں میں استعمال کرتے ہیں اس کا آئل جلد کے مساج کے لیے بہترین ہےلونگ نظام انہضام کی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے یہ ہمارے جسم میں خوراک کو ہضم کرنے والے انزائمز کا اضافہ کرتا ہے اور لونگ فائبر سے بھر پُور ہوتا ہے جو خوراک کو نا صرف ہضم کرنے میں مدد گار ہے بلکے یہ ہمارے معدے اور بڑی آنت کی صفائی کرکے فضلے کو خارج کردیتا ہے لونگ کے اندر قُدرتی طور پر خوبیاں شامل ہیں اور خاص طور پر دانت کی درد میں اگر ایک لونگ کو دانت میں رکھ لیا جائے تو یہ دانت کی درد میں راحت کا باعث بنتا ہے لونگ صرف دانت کے درد میں آرام نہیں دیتا یہ جسم کی باقی دردوں کو ختم کرنے میں بھی انتہائی مفید ہے خاص طور پر سر درد وغیرہ میں آپ اسے چاہے نمک اور دودھ میں شامل کر کے پی لیں یا گری کے تیل میں ملا کر سر کی مالش کر لیں یہ سر درد کا خاتمہ کر دے گا اور جسمانی اعضاء جو سوزش کا شکار ہوتے ہیں اُن کی سوزش کو ٹھیک کرنے کے لیے طیبیب حضرات اس مصالحے کا استعمال صدیوں سے کر رہے ہیں ہمارے جسم کا ایمیون سسٹم ہمارے جسم کو بیماریوں کے خلاف بغیر دوائی کھائے لڑنے کی طاقت فراہم کرتا ہے خاص طور پر موسمی بیماریاں نزلہ زکام کھانسی وغیرہ وغیرہ جب ہمارے جسم پر حملہ کرتی ہیں تو ہمارا امیون سسٹم خود کار طریقے سے اس کے بیکٹریا کے خلاف جنگ کر کے اسےختم کرتا ہے اور ہمارے جسم کو ان بیماریوں سے بچاتا ہ لونگ امیون سسٹم کو طاقتور بنانے کے لیے بہترین غذا ہے جو ہمارے خون میں سفید سیلز کی مقدار کو بڑھاتا ہے اور یہ سفید سیل انفیکشن اور بیماریوں سے لڑنے کے خلاف انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں عام طور پرنزلہ زکام اور بخار وغیرہ ہونے کے بعد خون میں سفید سلیز کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور اگر روزانہ لونگ کا استعمال کیا جائے تو ہم ان موسمی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں لونگ خون میں کلوٹ بننے کے عمل کو روکتا ہے اور خون کو پتلا رکھنے میں انتہائی مدد گار ہے خون اگر گاڑھا ہوگا تو دل کو جہاں اسے پمپ کرنے کے لیے زیادہ طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا وہاں خون کی نالیوں میں خون کا بہاؤ سست ہو جائے گا جو کہ سارے جسم کے لیے ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے

    بادام روغن کے بے شمار فائدے


    ماہرین کا کہنا ہے کہ لونگ شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتا ہے اور جسم میں انسولین کی طرح کام کرتا ہے اس لیے ایسے افراد جو ذیابطیس جیسی بیماریوں کا شکار ہیں اُنہیں اپنی روزانہ کی خوراک میں خاص طور پر ہر کھانے کے درمیان لونگ کا استعمال کرنا چاہیے تا کہ یہ خون میں شوگر کے لیول کر برقرار رکھے لونگ کے اندر قدرتی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں اسے ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید بناتی ہیں خاص طور پر یہ بُرے کولیسٹرول کا خاتمہ کرتا ہے اور کولیسٹرول ہمارے جسم کو خطرناک بیماریوں میں لاحق کر سکتا ہے میڈیکل سائنس کی تحقیق کے مطابق لونگ میں اینٹی بیکٹیریا خوبیاں شامل ہیں جو بہت سے بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کا خاتمہ کرتی ہیں خاص طور پرای کولی اورسٹیفولوکوکس کے بیکٹیریا کو ختم کرنے میں لونگ کا تیل انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے

    ماں کے پیٹ میں بےبی گرل ہے یا بے بی بوائے چند اہم نشانیاں


    لونگ کے اندرشامل فلیوونوئڈ میگانیز وغیرہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں انتہائی مفید ہیں یہ ہڈیوں کے درمیان کم ہونے والے خلاء کو بحال کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم جوڑوں کے درد میں مبتلا ہوتے ہیں اس کیساتھ ساتھ یہ ہڈیوں کے ٹشوز کو مرمت کرتا ہے اور لونگ میں شامل منرلز ہڈیوں کی نشونما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں لونگ میں وٹامن سی شامل ہوتا ہے جو جگر کی صفائی کرتا ہے اور لونگ کے تیل میں شامل کو جگر کے لیے انتہائی مفید مانا جاتا ہے جو جگر کو فعال کرتا ہے

  • خطرناک بیماریاں جن کی تشخیص آنکھوں سے ہوتی ہے

    خطرناک بیماریاں جن کی تشخیص آنکھوں سے ہوتی ہے

    انسانی آنکھ قدرت کا انمول تحفہ ہے یہ کانوں کے بعد انسانی روح تک رسائی کا دوسرا راستہ ہے جس سے دیکھنے کے بعد انسانی دماغ کسی چیز کو پسند کر کے اپنے اندر رکھ لیتا ہے اور اسی آنکھ سے دیکھنے کے بعد کسی کو نا پسند کر کے باہر نکال دیتا ہے، اہل علم آنکھ دیکھ کر جان جاتے ہیں کہ کہی جانے والی بات سچی ہے یا جھوٹی ہے اور اہل علم طبیب آنکھ دیکھ کر بیماری کی تشخیص بھی کر دیتے ہیں بیشک آنکھ ہمیں انسانوں کے بارے میں بہت کُچھ بتاتی ہےاہل علم طبیب حضرات آنکھ کا مشاہدہ کر کے بیماریوں کی تشخیص کیسے کرتے ہیں درج ذیل ہے
    اگر آپ کی آنکھ کے پپوٹے پر دانہ یا پھنسی کبھی بنا ہو تو آپ جانتے ہوں گے کہ یہ پھنسی انتہائی تکلیف دہ اور بد سکونی کا باعث ہوتی ہے آنکھ کے پپوٹے کا یہ دانہ جسے سٹےبھی کہتے ہیں عام طور پر سیباسیس گلینڈ میں بلاکیج کی وجہ سے پیدا ہوتاہے اور چند دن بعد خود ہی ختم ہو جاتا ہے اگر یہ ختم نہیں ہو رہا اور زیادہ تکلیف دے رہا ہے یا یہ اکثر نمودار ہونے لگ گیا ہے اور بہت زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے اور ایک ہی جگہ پر بار بار نمودار ہو رہا ہے تو یہ نشانی ہے سیباسیس گلینڈ کے سرطان کی، اگر آپ کی آنکھ پر یہ دانا بار بار نکل رہا ہے تو یہ وقت ہے کہ آپ فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں

    ہینگ میں چھپے صحت کے راز


    آنکھ کی بھنووں کے بال گرنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں عام طور پر عُمر کا بڑھنا اچھی خوراک نہ لینا اور پریشانی وغیرہ شامل ہیں بال جھڑ کی بیماری بھی جس میں کسی ایک سپاٹ پر بال اُڑ جاتے ہیں بھنووں کے بال گرنے کی وجہ ہو سکتی ہےابرو کے بال گرنے کی ایک خطرناک وجہ ہائیپو تھائرڈزم بھی ہے جو کے ایک ہارمون تھائیرائیڈ کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اس ہارمون کی خرابی کی صورت میں آہستہ آہستہ سارے بال گر جاتے ہیں، اگر آپ کی ابرو اور سر کے بال گر رہے ہیں اور باریک ہو گئے ہیں تو یہ وجہ ہو سکتی ہےتھائیرائیڈ گلینڈ میں خرابی کی ایسی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کر کےتھائیرائیڈ گلینڈ کا معائنہ کروائیں
    آںخحؤن کا دھندلا پن آجکل کی عام بیماری ہے جو زیادہ دیر کمپیوٹر استعمال کرنے یا موبائل فون کی سکرین کو زیادہ دیر دیکھنے اور موبائل فون پر کتاب پڑھنے کی صورت میں عام طور پر پیدا ہو جاتی ہے اس بیماری کی ڈیجیٹل آئی سٹرین اور ڈرائی آئی سینڈرم کہتے ہیں اگر آپ ایسی کوئی کیفیت محسوس کر رہے ہیں تو جلد سے جلد ڈاکٹر سے رابطہ کریں کیوں کے زیادہ دیر اس بیماری کا رہنا آنکھ کی دیگر بڑی بیماریوں کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے
    بلائنڈ سپاٹ نظر کے کسی ایک حصے میں بلائینڈ سپاٹ پیدا ہونا یعنی پُورے ویژن میں کوئی ایک جگہ دیکھائی نہ دینا یا ایک جگہ کا زیادہ چمکدار ہوکر نظر سے اوجھل ہوجانا یا نظر میں لائنیں دیکھائی دینا اور ڈاٹس دیکھائی دینا اور اسکے ساتھ درد شقیقہ کا پیدا ہونا آلارم ہے کہ فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کیا جائے اور اُس مسئلے کا فوری علاج کیا جائے

    تلسی کے حیران کن فوائد


    اگر آپ کو دیکھنے کے لیے آنکھ کو بار بار ملنا پڑتا ہے اور ملنے سےیا پوری آنکھیں کھولنے سے آنکھ کا ویژن ٹھیک ہوجاتا ہے یا آپ آنکھ سوجی سوجی محسوس کرتے ہیں تو یہ نشانی ہے تھائیرائیڈ کی خرابی کی جسکا مطلب ہے کہتھائیرائیڈ اوور ایکٹیو ہے ایسی صورت میں عام طور پر آنکھ بند کرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے چنانچہ اگر آپ ایسا محسوس کر رہے ہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ بیماری کی جلد تشخیص ہو سکے
    اگر آنکھوں کا رنگ پیلا ہوجائے تو ہم فوراً اس سے آگاہ ہو جاتے ہیں آنکھوں کا یہ پیلا رنگ چھوٹے بچوں اور بڑوں دونوں میں رونما ہو سکتا ہے اور یہ نشانی ہے یرقان کی اس کے علاوہ پتے اور پتے کی نالیوں میں خرابی کی صورت میں بھی آنکھوں کا رنگ پیلا ہو جاتا ہےایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں

    کشمش کا پانی نہار منہ پینے کے فوائد


    شوگر جب زیادہ عرصہ کنٹرول سے باہر رہتی ہے تو یہ آنکھوں کو بہت متاثر کرتی ہے اور اس سے آنکھوں کو خون سپلائی کرنے والی نالیاں پھٹ سکتی ہے اور اگر شوگر آنکھوں کو خون سپلائی کرنے والی نالیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے تو آپ آنکھ کے سامنے سفید بادل بننا شروع ہوجاتے ہیں اور دیکھائی دینا بند ہوجاتا ہے ایسی صورت میں فوراً شوگر پر توجہ دیں اور اسے کسی صورت کنٹرول سے باہر مت جانے دیں اور ڈاکٹر سے نظر کا معائنہ کروائیں کیوں کہ یہ بیماری آنکھوں میں موتیے کی بیماری کو بھی دعوت دیتی ہے اور خطرناک ہے
    نظر میں کسی بھی قسم کی اس طرح کی خرابی آلارم ہے کے کوئی خطرناک بیماری پیدا ہو رہی ہے اور ایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اپنا چیک اپ کروائیں کیونکہ صحت ہزار نعمت ہے اور آنکھوں کی بیماری انسان کو اپاہج کر دیتی ہے

  • منہ سے بدبو ختم کرنے کے جادووئی طریقے

    منہ سے بدبو ختم کرنے کے جادووئی طریقے

    منہ سے بدبو آنا باعث شرمندگی ہے جس سے انسان کا وقار مجروح ہوتا ہے آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ دُنیا میں 80 ملین سے زیادہ لوگ اس بیماری کا شکار ہیں اور بُرش کرنے کے باوجود وہ مُنہ کی بدبو سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے ں مُنہ کی بدبو دُور کرنے کے چند آسان اور مزیدار طریقے درج ذیل ہیں
    سیب اور گاجر نظام انہضام کو تندرست رکھنے میں انتہائی مددگار ہیں، نظام انہظام خراب ہو تو پیٹ میں گیس پیدا ہوتی ہے اور پیٹ کی گیس جب مُنہ کے راستے خارج ہوتی ہے تو سانس بدبودار کر دیتی ہے، سیب اور گاجرکوچبا چبا کر کھانے سے پیٹ میں گیس پیدا نہیں ہوتی اور یہ سانس کو تازہ رکھتے ہیں
    منہ سے بدبو آنے کی ایک بڑی وجہ معدے میں تیزابیت کا ہونا ہے جو عام طور پر زیادہ گوشت کھانے یا بازاری کھانے کھانے سے پیدا ہوتی ہے تازہ سبزیاں اور پھل کھانے سے جہاں اور بہت سے فائدے ہوتے ہیں وہاں یہ منہ میں سلائیوا کی پروڈکشن بڑھاتے ہیں جس سے خوراک جلد ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے اور منہ سے بدبو پیدا کرنے والے بیکٹریا صاف ہو جاتے ہیں
    کھانے کے بعد تھوڑا سا پودینہ چبانے سے بھی مُنہ کی بدبو ختم ہو جاتی ہے اور منہ کا ذائقہ تروتازہ ہو جاتا ہے، پودینہ نظام انہضام کو بھی بہتر بناتا ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرنے میں مددگار ہے
    دہی میں شامل انسان دوست بیکٹریا خوراک کو جلد ہضم کرنے میں انتہائی مفید ہے جس سے مُنہ کی بدبو بھی ختم ہوتی ہے مگر دہی کو چینی ڈال کر استعمال نہیں کرنا چاہیے ورنہ یہ تیزابیت کا باعث بن سکتا ہے

    ذہنی تناؤ سے نجات کے جادوؤئی طریقے


    کُچھ کھانے جیسے مُولی گوبھی وغیرہ کھانے سے بھی پیٹ میں بدبو پیدا ہوتی ہے اور ایسے موقع پر اگر تھوڑی چیری کھا لی جائے تو یہ جادوئی طور پر پیٹ میں پیدا ہونے والی بدبو کو ختم کر دیتی ہے اور نظام انہضام کو درست رکھتی ہے
    سبز چائے کا قہوہ بیشمار خُوبیوں کا حامل ہے یہ جہاں ہمارے دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے وہاں جسم کی فاضل چربی کوپگھلانے میں بھی انتہائی مددگار ہے سبز چائے کا قہوہ جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے اور سانس میں بدبو پیدا کرنے والے عناصر کا خاتمہ کردیتا ہے
    لیموں، کینو، مالٹے اور دُوسرے سٹرس فروٹس جہاں وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں وہاں یہ جسم کے فاضل مادوں کو خارج کرکے نظام انہضام کو فعال کر دیتے ہیں جسے سے سانس کی بدبو ختم ہوجاتی ہے اور مُنہ کا ذائقہ بھی مزیدار رہتا ہے
    بیشمار خوبیوں کا حامل یہ قہوہ جہاں پیٹ کی بہت سی بیماریوں میں شفا ہے وہاں یہ مُنہ میں بدبو پیدا کرنے والے بیکڑیا کی صفائی کردیتا ہے اور سانس کو تروتازہ رکھنے میں انتہائی مُفید ہے
    پانی پینے سے منہ اور دانتوں میں پڑے خوراک کے چھوٹے ذرات صاف ہوجاتے ہیں اور یہ ذرات اگر دیر تک مُنہ یا دانتوں میں پھنسے رہیں تو بدبو پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں لہذا پانی کی ایک بوتل ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پیئے اس سے نہ صرف آپکا جسم ہائیڈریٹ رہے گا بلکے یہ خوراک کو جلد ہضم کرنے میں بھی آپ کی مدد کرے گا

  • ہینگ میں چھپے صحت کے راز

    ہینگ میں چھپے صحت کے راز

    مزاج کے اعتبار سے ہینگ گرم اعر خشک ہے ہینگ کا استعمال انڈین کھانوں میں زیادہ کیا جاتا ہے بادی کھانے جن میں ماش کی دال آلو اروی اور کچالو وغیرہ شامل ہیں ان کھانوں میں اس کا استعمال کرنا چاہیے ہینگ اینٹی آکسیڈینٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات رکھتی ہے ہینگ فوڈ پوائزننگ میں بڑی تیزی سے کام۔کرتی ہے اور مریض کے پیٹ کو فوری آرام ملتا ہے ہینگ کا استعمال برصغیر پاک و ہند کے رہنے والے صدیوں سے اپنے کھانوں اور ادویات میں کر رہے ہیں اور کوئی شک نہیں کے ہینگ اپنی بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے ہینگ ہزاروں سال پرانی نباتاتی دوا ہے جو درخت انجدان کی گوند ہے یہ درخت افغانستان اور ایران میں بکثرت پایا جاتا ہے ہینگ کی بہترین قسم ہیرا ہینگ ہے تاہم یہ بہت مہنگی ہے جبکہ افادیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بالکل بھی مہنگی نہیں ہینگ ہمارے دل اور نظام انہظام خاص طور پر گیس اور پیٹ کی بلغم پیٹ درد اور دوسری بہت سی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیےاکسیر کا درجہ رکھتے ہیں

    پرُسکون اور صحت مند رہنا ہے تو یہ غلطیاں ہر گز نہ کریں


    ایک گرام ہینگ کو لہسن کے دو تُریوں کے ساتھ ایک چٹکی لاہوری نمک ڈال کر مسٹرڈ آئل میں فرائی کر لیں اور بعد میں تیل کو چھان کر علیحدہ کر لیں اور درد کرنے والے کان میں 2 قطرے اس تیل کے ڈالیں کان کے درد سے فوراً نجات ملے گی بڑوں کو بھی نزلہ جم جانے کی وجہ سے کان کے درد کہ شکایت رہتی ہے ایسے میں ایک ایک تولہ ہینگ سونٹھ اور ثابت دھنیا پیس کر ایک کلو پانی اور آدھا پاو سرسوں کے تیل میں ہلکی آنچ پر اس وقت تک پکائیں کہ سارا پانی خشک ہو جائے اور تیل باقی رہ جائے اب تیل کو ٹھنڈا کرکے بوتل میں بھر کر رکھ لیں کسی قسم کا بھی کان کا درد ہو تیل کو ہلکا گرم کر کے چند بوندیں ڈالیں فوری آرام آ جائے گا

    اجوائن کے جادووئی کمالات


    پیٹ میں گیس اور درد اور سوجن کی صورت میں یا معدے میں خرابی کی صورت میں تھوڑی سی ہینگ ناف پر مل لیں اور اسی طرح ہینگ کو معدے کے اوپر مل لیں یہ آپ کو گیس اور پیٹ کی درد سے چھٹکارا دینے میں مدد دے گی
    ہینگ کو دیسی گھی میں بھون لیں اور پھر اس میں کالی مرچ ساندھا نمک کاٹج چیز شامل کر کے اچھی طرح باریک پیس لیں اور چورن بنا لیں پھر ایک گرام چورن میں شہد شامل کر کے دن میں تین بار چاٹیں اس سے ہر طرح کی کھانسی کو آرام آئے گا
    ہینگ کو پانی میں اُبال لیں اور پھر اس پانی سی کلی کرنے سے دانت درد اور مسوڑھوں کی سوجن دُور ہو جاتی ہے اسی طرح اگر دانت میں خلا ہے اور کیٹرا لگا ہے تو ہینگ کو دانت کے خلا میں بھر دینے سے دانت کے کیٹرے مر جاتے ہیں اور دانت درد میں شفا ملتی ہے لیموں کے رس میں ہینگ ملا کر گھول لیں اور روئی سے دانت پر لگائیں تو دانت سے خون نکلنا اور پیپ آنا بند ہو جاتی ہے
    اگر بچھو یا کوئی اور زہریلا کیڑا کاٹ لے تو اُس جگہ پر ہینگ ملنے سے درد میں آرام ملتا ہے اور ہینگ زہر کو چوس لیتا ہے
    گلٹی بننے اور اُس میں درد کی صورت میں کشمش لیکر اُس میں 2 گرام گھی میں بھنی ہوئی ہینگ ڈال کر اچھی طرح چبا کر کھالیں اور اوپر سے گرم پانی کے دو گھونٹ پی لیں اور 2 سے 3 دن روزانہ اس دوائی کی ایک خراک کھائیں، گلٹی درد سمیت غائب ہو جائے گی
    گھی میں بھنی ہوئی ہینگ کھانے سے سر درد اور چکر آنے کی بیماریاں ختم ہوتی ہیں اور بھنی ہوئی ہینگ کھانے سے درد زچگی کی تکلیف کم ہوتی ہے

    ملٹھی کے حیران کن فوائد


    ایک بڑا چمچ ہینگ پاوڈر لیکر اُسے ایک کپ گرم پانی میں ڈال کر صبح نہار منہ پی لینے سے پیٹ کی صفائی ہو جاتی ہے اور نظام ہضم فعال طریقے سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ نسخہ دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے کسی اکسیر سے کم نہیں
    ہینگ کا لیپ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بناتا ہے دو چمچ ہینگ میں آدھا چائے کا چمچ کالی مرچ اوردوکھانے کے چمچ سرکہ ملا کربالوں کی جڑوں میں مساج کریں چند دنوں میں بال جھڑنا بند ہو جائیں گے
    وہ خواتین جو ہر ماہ ماہواری کا شدید درد برداشت کرتی ہوں یا ماہواری کھل کر نہ آتی ہو اور ماہواری کا ماہانہ نظام مستقل نہ ہو ان کو ہینگ کا استعمال ضرور کرنا چاہیے اس کے لیے ایک کپ بٹر ملک میں ایک چٹکی ہینگ ڈیڑھ کھانے کا چمچ میتھی دانے کا سفوف اور آدھا چائے کا چمچ نمک ملا کر ایک مہینے تک مستقل دن میں دو دفعہ پینا چاہیے ایک مہینہ کے اندر اندر ہی ماہواری کی تکلیف ختم ہو جائے گی

    تخم ملنگا صحت کا ضامن


    ہینگ اینٹی بائیو ٹک خصوصیات رکھتی ہے اس لیے دمہ کھانسی بلغم کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی موثر ہے بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاوڈر اور شہد میں ایک چٹکی ہینگ ملا کر استعمال کرنے سےبلغمی کھانسی میں آرام آتا ہے بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں۔درد بھی ہوتا ہے ایسے میں ہینگ اور پانی کو ملا کر سینے پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہےپسلی کی درد میں عمدہ ہینگ بافیک پیس لیں اور انڈے کی زردی میں ملا کر لیپ کریں پسلی درد میں آرام آئے گا
    دو ماشہ ہیرا ہینگ کو عرق گلاب میں حل کر کے روزانہ پلائیں نیز ہینگ کو پانی میں پتلا کر کے پاگل کتے کے کٹے پر لگائیں
    ہینگ کو پیس کر چیونٹیوں کے سوراخ میں ڈالنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں کچن کیبنٹ کے کونوں میں بھی ہینگ لگانے سے چیونٹیاں اور لال بیگ نہیں آتے
    پیٹ کے درر قے جگر کا ورم بد ہضمی گردہ کا درد بھوک کی کمی ہو یا پیٹ میں گیس ہو تو ہینگ گرم پانی کے ساتھ کھانے سے پیٹ کا ہر طرح کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے پیٹ میں ریح رک جانے سے درد پیدا ہو جائے تو دو ماشہ ہینگ لے کر تین چھٹانک پانی میں اتنا پکائیں کہ ایک چھٹانک رہ جائے اب اس کو نیم گرم حالت میں مریض کو پلا دیں فوری طور پر آرام آئے گا
    جن لوگوں کا معدہ خراب رہتا ہو بادی یا بھاری چیزیں کھانے سے معدے میں درد ہو تو منقہ کے بیج نکال کر اس میں ذرا سی ہینگ بھر دیں اور مریض کو کھلا دیں معدے کے درد میں فوری آرام آ جائے گا یہ ٹوٹکہ ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جنھیں معدے کے درف سے غنودگی طاری ہونے لگتی ہے یا ان کو چکر آتے ہیں

  • کشمش کا پانی نہار منہ پینے کے فوائد

    کشمش کا پانی نہار منہ پینے کے فوائد

    انگور مشہور میوہ ہے اسکی بہت سی اقسام ہیں جنگلی پہاڑی سفید کالا سرخ ہیں اصل میں دو رنگ اور دو اقسام کے زیادہ ہوتے ہیں سفید اور سیاہ بہتر وہ ہے جو گرمی کے موسم کا ہو اسکا مزاج پہلے درجے میں گرم تر ہے پکا ہوا انگور جلدی ہضم ہو جاتا ہے غذائیت میں تمام میووں سے زیادہ عمدہ اور خون پیدا کرنے میں بہترین ہے انگور کے باغات انسان کب سے اُگا رہا ہے اس کا تاریخ میں کوئی نشان تو نہیں ملتا مگر انگور سے بنائی جانے والی وائن کی تاریخ 7000 سال قبل مسیح چین سے ملتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مفید پھل کو انسان نے شروع میں ہی سمجھ لیا تھا اور اس سے فائدہ حاصل کرنا شروع کر دیا تھا کشمش انسان کی حادثاتی دریافت ہے، کہا جاتا ہے کہ 2000 سال قبل مسیح جو انگور خُشک ہوجاتے تھے اُنہیں پھینک دیا جاتا تھا اور پھر ایک دن کسی نے اس خُشک ہُوئے انگور کو کھایا اور اُسے پتہ چلا کے یہ پھل خُشک ہونے کے بعد اور بھی لذیز ہو جاتا ہے طبیب حضرات کشمش کے دریافت ہونے کے بعد اس خُشک انگور کی افادیت کو اُسی وقت سمجھ گئے تھے اور اسے بہت سی ادویات میں استعمال کرنا شروع کردیا تھا طب ایوردیک میں خشک انگور یعنی کشمش کو پانی میں رات بھر بھگو کر پینے کی تاریخ بھی کئی ہزار سال پُرانی ہے کشمش کو رات بھر پانی میں بھگونے سے اس کے اندر شامل منرلز نیوٹریشنز اور کشمش کی سکن پانی میں حل ہوجاتی ہے اوریہ پانی اس پھل کی افادیت میں بے پناہ اضافہ کر دیتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-grapes/
    جدید میڈیکل سائنس کی بہت سی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ یہ پھل آینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں سے لدا ہُوا ہے اور اس میں ڈائیٹری فائبر کی ایک بڑی مقدار شامل ہے
    جس انگور کا ذائقہ کھٹا میٹھا ہو وہ گرمی نہیں کرتا ایسا انگور معدے کے لیے مفید ہے اور دوسرے پھلوں کی طرح معدے میں فاسد نھی نہیں ہوتا بو علی سینا نے لکھا ہے انگور سے جو خون بنتا ہے اس میں انجیر کے خون کی طرح خرابی کم ہوتی ہے اور اسی کی طرح کثرت سے بنتا ہے پھر بھی اتنا نیں بنتا جتنا انجیر سے بنتا ہے انگور کا رس آنکھ پر لگانےسے آنکھ کی کھجلی ختم ہو جاتی ہے
    طبیب کشمش کے پانی کو جگر کے مریضوں کو صدیوں سے پلا رہے ہیں، اور آج جدید میڈیکل سائنس مانتی ہے کہ کشمش ڈی ٹوکسیفائیڈ خوبیوں سے بھری ہوتی ہے اور رات بھر جب اسے پانی میں بھگویا جاتا ہے اور صبح نہار منہ پیا جاتا ہے تو کشمش کی تمام خوبیاں پانی میں حل ہوجاتی ہیں اور نہار منہ پینے سے یہ فوری طور پر پانی کیساتھ ہضم ہوکر اپنا کام شروع کر دیتی ہیں خاص طور پر اس کی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں جگر کی آلودگی کو صاف کر دیتی ہیں اور آنتوں میں جمی چکنائی اور دیگر آلودگی صاف کرکے خون کی روانی کو تیز کرتی ہیں کشمش کا پانی ڈائٹری فائبر کو فوری طور پر پینے کے بعد متحرک کرتا ہے اور اسے نہار مُنہ پینے والوں کو صبح سویرے نظام انہضام کی مکمل صفائی حاصل ہوتی ہے اور یہ خون سے فاسد مادوں کو خارج کرکے جسم کے تمام اعضاء کو تقویت دیتا ہے

    ہلدی کے نایاب فائدے


    جدید میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ کشمش کا پانی بہترین انرجی بوسٹر کا کام کرتا ہے جسے اگر ورزش سے پہلے استعمال کیا جائے تو انسان کو ورزش کرنے کے لیے عام معمول سے زیادہ توانائی حاصل ہوتی ہے کشمش کا پانی خون سے بُرے کولیسٹرول کا خاتمہ کرتا ہے اور بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں انتہائی مدد گار ہے اور اسے روزانہ استعمال کرنے والے بہترین صحت کی صورت میں اس کے فائدے حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے اُن بیماریوں کا خاتمہ کرتا ہے جس سے جگر دل معدہ اور گُردوں کی خرابی جیسی بڑی بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور انسانی جسم کو فاسد مادوں سے پاک کرکے تمام اعضاء کو فعال کرنے میں مدد کرتا ہے

  • تلسی کے حیران کن فوائد

    تلسی کے حیران کن فوائد

    تلسی یا ریحان کے پودے کا شُمار اُن پودوں میں ہوتا ہے جسکی افادیت سے انسان کو اپنی ابتدا کے ساتھ ہی آگاہ کر دیا گیا تھا ایک روایت میں ہے کہ مُوسی علیہ السلام بیمار ہُوئے تو اللہ نے اُن سے کہا کہ آپ ریحان کے پتے کھا لیں جو مُوسٰی علیہ السلام نے کھائے اور اُن کو شفا ہو گئی طب ایوردیک اور طب یونان میں تلسی کا پودا بطور دوا استعمال ہونے کی تاریخ بھی کئی صدیاں قبل مسیح سے پُرانی ہے اور اس پودے کو ہندو مت کے لوگ ہولی باسل کہتے ہیں اور کئی جگہ تو اس کی پُوجا بھی کرتے ہیں اور اس کی وجہ شائد یہی ہے کہ یہ پودا انسان کے لیے بیشمار طبی فوائد اپنے اندر رکھتا ہے جو اسے زمین پر اُگنے والے دوسرے پودوں سے ممتاز کرتا ہے بنھارتی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق تلسی کو جڑی بوٹیوں کی ملکہ کہا جاتا ہے تلسی ایک جراثیم کش پودا ہے چہرے پر اس کا استعمال کیل مہاسوں ار دانوں سے محفوظ رکھتا ہے دوران خون بہتر کرتا ہے اور چہرے پر نکھار لاتا ہے
    تلسی کے پودے کے فوائد درج ذیل ہیں جنہیں سائنس تسلیم کرتی ہے اور اپنی تحقیقات میں اس سے مختلف فائدہ مند نتائج حاصل کر چُکی ہے

    شیشہ بتائے گا اب حسین چمکدار اور نرم و ملائم جلد کے راز


    سائنس کی بہت سی تحقیقات کے مُطابق تلسی کا سارا پودا ہی یعنی پتے ٹہنیاں بیج پھول سب دافع امراض ہیں اور یہ پھیپھڑوں ملیریا ڈائریا متلی الٹی جلد کی بیماریوں معدے کے سرطان آنکھوں کی بیماریوں اور جسم سے زہر ختم کرنے کی خُوبیوں کے ساتھ ساتھ جہاں اور کئی بیماریوں میں مُفید ہے وہاں بیشمار نیوٹریشن خوبیوں کا حامل ہے جس میں وٹامن اے وٹامن سی کیلشیم زنک آئرن کلوروفیل جیسے اہم نیوٹریشنز شامل ہیں
    ذہنی تناؤ اور اضطراب موجودہ دور میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں جن کا شکار بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی ہو رہے ہیں اور سائنس کے مُطابق تلسی کے پتے شاخیں بیج یعنی پُورا پودا ہی اڈاپٹوجن کیمیا سے بھر پوُر ہے اور یہ کیمیا ذہنی تناؤ اور دماغ کے افعال کو درست رکھنے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے طب ایوردیک کے مُطابق تلسی کے پودے میں اینٹی ڈپریشن اور اینٹی انگزائٹی خوبیاں شامل ہیں جو دماغ کو مُشکلات سے لڑتے ہُوئے پریشان نہیں ہونے دیتی اور پریشانی میں دُرست فیصلہ کرنے کی قوت دیتی ہیں
    تلسی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں سے بھر پور ہے اور جسم کو جہاں توانا رکھنے میں انتہائی مدد گار ہے وہاں یہ جسم کے اندر موجود فاضل اور نقصان دہ مادوں کو خارج کر کے خون کو صاف کرتا ہے اور جسم کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچا کر رکھتا ہے

    سونف میں چھپے صحت کے راز جانئے


    تلسی کے پتوں کو دھوپ میں سکھائیں پھر انہیں پیس کر سفوف بنا لیں اور اس میں خالص سرسوں کا تیل شامل کر کے پیسٹ جیسا بنا لیں اور اسے دانتوں اور مسوڑھوں پر ملیں اس سے جہاں منہ کی بدبو ختم ہو گی وہیں مسوڑھوں سے خون رسنے کی بیماری پائیوریا کا بھی خاتمہ ہوگا
    امراض چشم میں کالی تلسی کا عرق اہم کردار ادا کرتا ہے سوتے وقت آنکھوں میں اس عرق کے دو قطرے ڈالنے سے آنکھوں کی دکھن ختم ہو جائے گی
    روزانہ تلسی کے پتے چبانے سے خون صاف ہوتا ہے جس سے جسم پر دانے اور کیل مہاسے نکلنے کی شکایت باقی نہیں رہتی تلسی کے پتے صندل کی لکڑی اور عرق گلاب ملا کر پیسٹ پھنسیوں پھوڑوں پر لگانے سے آرام ملتا ہے اور اس سے برص کے دھبے بھی ختم ہو سکتے ہیں اور زخموں کے نشان بھی مٹ سکتے ہیں
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-fenugreek-seed-for-women/
    تلسی کے پتوں کے ماحصل زخم جلدی بھرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں اور اس کے پتوں کے ماحصل اینٹی بیکٹریا، اینٹئی وائرل، اینٹی فنگل، اینٹی اینفلامیٹری، اور پین کلیر جیسی خوبیوں کے حامل ہیں
    تلسی کا پُورا پودا ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں کے لیے شفا ہے جو ذیابطیس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریوں جیسے موٹاپا، بُلند کولیسٹرال لیول، خُون میں انسولین کی زیادتی اور ہائپر ٹینشن جیسی بیماریوں کو قابو میں رکھتا ہےجانورں پر ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کے مُطابق تلسی کے پتوں کے ایکسٹریٹ 30 دن استعمال کرنے سے خون میں شوگر کا لیول 24 فیصد تک کم دیکھا گیا اگر آپ ذیابطیس کے مریض ہیں اور تلسی کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور شوگر کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اور دوائی بھی استعمال کر رہے ہیں تو پہلے اپنبے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں کیوں کہ تلسی آپ کے خون میں شوگر لیول زیادہ کم کر سکتی ہے

    آلو بخارے کے حیرت انگیز فوائد


    کولیسٹرال کا بڑھا ہُوا لیول جسم میں خطرناک دائمی بیماریوں جیسے دل کی بیماریاں شوگر اور جگر کی خرابی جیسی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے سائنس کی ایک تحقیق جو خرگوش پر کی گئی اور اُسے تلسی کے تازہ پتے کھلائے گئے اور نتائج میں دیکھا گیا کے اُن کے اندر بُرے کولیسٹرال کا خاتمہ ہُوا اور اچھے کولیسٹرال میں نمایاں اضافہ ہُوا تلسی کا تیل بھی جگر پھیپڑوں اور دل کے اندر موجود بُرے کولیسٹرول کو ختم کرنے میں انتہائی مُفید مانا جاتا ہے
    جوڑوں کا درد انسان کو اپاہج بنا دیتا ہے اور جسم اور اعضا کی سوزش جسم کو ناکارہ کر دیتی ہے ایسے موقع پر تلسی کے پتوں کا قہوہ ان امراض کو ختم کرنے کے لیے اکسیر مانا جاتا ہے اور سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ سائنس کے مطابق تلسی میں اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کے ساتھ اینٹی اینفلامیٹری خُوبیاں بھی شامل ہیں
    نظام انہظام اور معدے کے لیے تلسی جادوئی خُوبیوں کی حامل ہے یہ معدے سے تیزابیت کا خاتمہ کرتی ہے بلغم کو خارج کرتی ہے اور وہ ایلوپیتھی ادویات جو یہ کام کرتی ہیں کے بہت سے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں ایسے میں اگر تلسی کا استعمال کیا جائے تو یہ اُن ادویات کے متبادل کے طور پر قُدرتی طور پر شفا کا باعث بنتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-grapes/
    تلسی کا تیل بہترین سکن کلینزر مانا جاتا ہے جو جلد کے پوروں کی گہرائی تک صفائی کرتا ہے اور چہرے کے کیل مہاسوں کے لیے اگر تلسی کا تیل صندل کی لکڑی کی پیسٹ اور عرق گُلاب میں ڈال کر چہرے پر لگایا جائے تو کیل مہاسوں کا بہت جلد خاتمہ ہو جاتا ہے کیونکہ سائنس کہتی ہے کہ تلسی اینٹی اینفلامیٹری اور اینٹی مائیکروبل خوبیوں کی حامل ہے جو جلد کو تروتازہ اوربیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں
    تلسی ایک جراثیم کش پودا ہے چہرے پر اس کا استعمال کیل مہاسوں ار دانوں سے محفوظ رکھتا ہے دوران خون بہتر کرتا ہے اور چہرے پر نکھار لاتا ہے
    بخار میں تلسی کے پتے کا عرق استعمال کرنے سے جسم کا درجہ حرارت نیچے آ جاتا ہے اگر نزلہ زکام ہے تو خالی پیٹ تلسی کی چند پتیاں چبا لیں اس سے آرام ملے گا
    گلے میں خراش کی صورت میں تلسی کی چند پتیوں کو پانی میں جوش دیں پھر اس پانی سے غرارے کریں دمہ اور برونکائٹس کے مریضوں کو بھی اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے
    موسم اگر شدید گرم ہو تو ایسے موقع پر باہر نکلنے سے اکثر لوگوں کو سر میں درد کی شکایت ہو جاتی ہے ایسی صورت میں تلسی کے پتوں اور صندل کی لکڑی کو پیس کر اس کی لیپ تیار کریں اور اسے پیشانی پر لگائیں اس کے ٹھنڈے اثرات سے آپ کو بہت جلد آرام محسوس ہوگا
    حشرات الارض اگر کاٹ لیں یا ڈنگ مار دیں تو جلن اور سوزش کو کم کرنے کے لئے چند گھنٹوں کے وقفے سے چائے کے چمچے کی مقدار تلسی کے پتوں کا عرق پینا چاہئے اس عرق کو متاثرہ مقام لگانا بھی مفید ہے اس مقصد کے لئے تلسی کے پودے کی جڑ بھی استعمال کی جا سکتی ہے
    https://login.baaghitv.com/amazing-benefits-of-papaya/
    روزانہ ایک گلاس پانی میں تلسی کے پتوں کا عرق شہد میں ملا کر پینے سے گردے کی پتھری خارج ہو سکتی ہے
    تلسی کے پتوں کا قہوہ اور پتوں کے ایکسٹریٹ جگر میں جمی چربی کا خاتمہ کرنے میں انتہائی مُفید ہے جو خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتے ہیں اور جگر کو طاقت دیتے ہیں طب ایوردیک کے مُطابق تلسی اوپر دی گئی بیماریوں کے علاوہ بھی بیشمار دیگر خطرناک بیماریوں میں اکسیر ہے یہ جسم کا میٹابولزم بڑھاتی ہے اور سانس بھی گہرا کرتی ہے اور ایسے افراد جو تیراکی کرتے ہیں اُن کا تیراکی کے دوران پانی کے نیچے رہنے کا وقفہ لمبا کرنے میں انتہائی مدد گار ہے یہ جسم کے ٹشوز کو خراب ہونے سے بچاتی ہے اور ڈپریشن خاص طور پر بُلند آواز سے پیدا ہونے والی ڈپریشن کو قابو میں کرتی ہے یہ نیند کو بہتر کرتی ہے اور جسم کی تھکن کو اُتارنے کے ساتھ ساتھ بھولنے کی بیماری ختم کرتی ہے اور یادداشت کو بہتر بناتی ہے اور وہ بچے جو پڑھائی کرتے ہیں اُن کو سبق یاد رکھنے میں انتہائی مُفید ہے

  • انسانی جسم کے چند دلچسپ حقائق

    انسانی جسم کے چند دلچسپ حقائق

    انسانی جسم کے چند دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں جسے بڑھ پر کر آپکو جہاں حیرت ہوگی وہیں آپ کی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا
    آپ کو حیرت ہوگی یہ جان کر کہ دماغ دن کی نسبت رات کو زیادہ متحرک ہوتا ہے سونے کے دوران ہمارا جسم سو رہا ہوتا ہے مگر دماغ متحرک ہوتا ہے اور ہمیں اچھے یا بُرئے خواب دیکھانے کے علاوہ وہ ہماری یاداشت کو اور قابلیتوں کو بھی مضبوط کر رہا ہوتا ہے دماغ کا 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور جیساہمیں تصویر میں دیکھایا جاتا ہے ویسا بلکل نہیں ہوتا درحقیقت ہمارا دماغ زیادہ تر پانی پر ہی مشتمل ہوتا ہے دماغ کے خُلیوں کو جسم کے باقی خُلیوں سے ڈبل انرجی چاہیے ہوتی ہے اور یہ انرجی پانی مہیا کرتا ہے جب ہمارا جسم پانی کی کمی کا شکار نہیں ہوتا اُس وقت دماغ کے خُلیے بہترین کام کرتے ہیں اورہم پانی پینے کے بعد چاک و چوبند اور توانا محسوس کرتے ہیں

    ہمارا دل خون کو 30 فُٹ تک پمپ کر کے پھینکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ پریشر خون کو ہمارے سارے جسم میں دوڑاتا ہے

    ہمیں پیشاب کی حاجت اُس وقت ہوتی ہے جب مثانہ تقریباً 300سی سی ایس یا 1.25 کپ کے برابر لیکوئیڈ جتنا بھر جاتا ہے اور ایک صحت مند مثانہ تقریباً 800سی سی ایس یا 800 ملی لیٹر جتنا لیکوئیڈ سٹور کر سکتا ہے

    ایک عام انسان روزانہ 14 دفعہ گیس خارج کرتا ہے اور یہ کام وہ سوتے ہُوئے بھی کرتا ہے سائنس کے مُطابق کھانا ہضم ہونے کے دوران گیس پیدا ہوتی ہے اور آخر اُسے خارج ہونا ہوتا ہے

    چالیس سال کے بعد آہستہ چلنا وقت سے پہلے بڑھاپے کی نشانی


    ماں کے پیٹ میں سب بچوں کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہوتا ہے اور وقت کیساتھ ساتھ پیدائش کے پہلے چند ہفتوں میں اپنے ڈی این کی آنکھوں کے رنگ سے ملنا شروع کر دیتا ہے

    صبح کے وقت ہمارا قد ایک سینٹی میٹر بڑھا ہوتا ہے جب کہ رات کو سونے سے پہلے یہ ایک سینٹی میٹر کم ہوجاتا ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد آپ کی سپائن کمپریس ہوجاتی ہے لہذا دن میں جب بیٹھیں تو سیدھے بیٹھنے کی کوشش کیا کریں

    ہماری جلد کے ایک سکوئر انچ میں 32 ملین بیکٹریا دینگا مُشتی کرتے ہیں جنہیں آپ خوردبین سے دیکھ بھی سکتے ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر بیکٹریا ہماری جلد کے لیے مُفید ہوتے ہیں

    انگلیوں اور انگوٹھوں کی طرح ہر زُبان کا بھی اپنا علیحدہ پرنٹ ہوتا ہے اور مُجرم اگر جُرم کرتے وقت زُبان کا استعمال کرے یعنی کسی چیز کو چاٹ لے تو اُس کی زبان کے پرنٹ سے بھی مُجرم کی شناخت ہو سکتی ہے

    ہمارا کمرہ جتنا زیادہ ٹھنڈا ہوگا بُرا خواب آنے کے چانسس اُتنے ہی زیادہ بڑھ جائیں گے

    دائیں ہاتھ سے کام کرنے والے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی نسبت 9 سال زیادہ زندہ رہتے ہیں اور ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے دائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی نسبت روڈ ایکسیڈینٹ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ سیدھے ہاتھ کے سسٹم میں مشکل محسوس کر رہے ہوتے ہیں

  • کامیابی کے چند رہنما اصول

    کامیابی کے چند رہنما اصول

    جعلی شخصیت چند لمحوں میں پکڑی جاتی ہے اور وہ لوگ جو اپنی قابلیت پرفارمنس سے منواتے ہیں اُنہیں جعلی بننے کی ضرورت نہیں رہتی کامیابی حاصل کرنے والوں کے چند رہنما اصول درج ذیل ہیں جن پر عمل کرنے والے نہ صرف ترقی کرتے ہیں بلکہ اپنے کردار کی تعمیر بھی کرتے ہیں
    کم بولنا اور زیادہ سُننا:
    یہ رہنما اصول نہ صرف دوستی کو بہتر بنانے میں کام آتا ہے بلکہ دُنیا کے بڑے بڑے بزنس اسی اصول پر کاربند ہیں ایپل کمپنی کے بانی سٹیو جاب نے ایک دفعہ کہا تھا ” سمارٹ لوگوں کو کام پر رکھ کر اُنہیں یہ بتانا کہ کیا کرنا ہے ایک نقصان دہ کام ہے ہم سمارٹ لوگوں کو کام پر رکھ کر اُن سے پُوچھتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے” گُفتگو نتائج کا حل نکالتی ہے اور توجہ سے سُننا گفتگو کا پہلا اصول ہے

    دُنیا کے مہنگے ترین کھانے


    کام ایک مقررہ وقت تک کرنا:
    اپنی طاقت سے زیادہ کام کرنا اور رات کو دیر تک کام کرتے رہنا اور اپنے کام کو دفتر سے گھر پر لے آنا یہ عادتیں امیر اور کامیاب لوگوں کی نہیں ہیں اور کام اور گھر دونوں چیزوں کو علیحدہ رکھنا ہی کامیابی کی طرف لیکر جاتا ہے
    دفتری ماحول کی بجائے پُرفضا مقام کو ترجیح دینا:
    کام کے دوران سارے کام دفتر میں مکمل کرنا اب ایک دقیانوسی طریقہ کار ہے کیونکہ بڑے بزنس مین اپنے بزنس کے معاملات اپنے دفتر سے باہر نکل کر کسی پُر فضا مقام پر طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں گوگل کے ڈائریکٹرز نے جب یوٹیوب کو خریدنے کے لیے یوٹیوب کے مالک سےمُلاقات کی تو اُنہیں دفتر بُلانے کی بجائے ایک ریسٹورینٹ میں مدعو کیا اور تمام ڈیل وہیں فائنل کی
    دوستوں کےانتخاب میں سمجھ داری سے کا لینا:
    یہ ایک مشکل کام ہے مگر اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے دوستوں کا انتخاب اُن لوگوں میں سے کرنا چاہیے جو آپ کے کام کے حوالے سے سمجھدار ہوں تاکہ دوستوں کے درمیان ڈسکس کی ہوئی باتیں اور ان کے خیالات آپکو اپنے کام کے حوالے سے کُچھ نہ کُچھ سیکھا جائے

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے


    ہمیشہ سیکھنا چاہیئے تاکہ نت نئے تجربات حاصل ہوں:
    آج کے دور میں زمانہ روز اپنے رنگ بدلتا ہے روزانہ نئی ایجادات ہوتی ہیں اور ٹیکنالوجی دنوں میں بدل جاتی ہے ایسے موقع پر زمانے کے ساتھ چلنے کے لیے مسلسل تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے
    آمدنی کے زرائع بڑھانا:
    امیر لوگ اپنے پیسے مہنگی برانڈ کی چیزیں مہنگے کپڑے اور مہنگے گیجٹ مہنگی گاڑی وغیرہ خریدنے میں ضائع نہیں کرتے اور اُنہیں بچا کر رکھتے ہیں اور کسی سائیڈ بزنس جیسے پراپرٹی وغیرہ میں انویسٹ کرتے ہیں اور پیسے سے پیسہ بناتے ہیں اور یہی اُن کی کامیابی کا راز ہے
    وقت کاضیاع نہ کرنا:
    آپ نے کبھی غور کیا کے آپ اپنا روزانہ کا کتنا وقت سوشل میڈیا انٹرنیٹ موویز اور ٹی وی وغیرہ کو دیتے ہیں کامیاب لوگوں کے پاس ان چیزوں کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنا زیادہ وقت پراگرس کرنے میں گُزارتے ہیں
    روزانہ پڑھنا:
    پڑھنے سے آپکے علم میں اضافہ ہوتا ہے روزانہ اخبار پڑھنا یا اپنے کام سے متعلق مواد کا پڑھنا آپ کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور آپ کو بہتر فیصلہ کرنے کی سمجھ عطا کرتا ہے
    اپنی ذات کو ترجیع دینا:
    اپنی بہتر صحت خواراک اور ورزش کو دیگر کاموں پر ترجیع دینا امیر اور کامیاب لوگوں کا ایک رہنما اصول ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے
    روزمرہ کاموں کی منصوبہ بندی کرنا:
    آپ یہ کام اپنے سمارٹ فون اور کمپیوٹر وغیرہ پر بھی کر سکتے ہیں اپنے روزانہ کے کاموں کا شیڈول تیار کرنا اُسے لکھنا اور کاموں کو اُن کے وقت پر انجام دینا کامیابی کے رہنما اصولوں میں سے ایک اصول ہے