Baaghi TV

Category: خواتین

  • ماں کے پیٹ میں بےبی گرل ہے یا بے بی بوائے چند اہم نشانیاں

    ماں کے پیٹ میں بےبی گرل ہے یا بے بی بوائے چند اہم نشانیاں

    ماں کے پیٹ میں پلنے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی اس بات کا تعین حمل ٹھرنے کے 20 ہفتے بعد ڈاکٹر الڑاساونڈ کی رپورٹ دیکھ کر کرتے ہیں اور الٹرا ساونڈ کی یہ رپورٹ عام طور پر صحیح ہوتی ہے مگر 100 فیصد درست نہیں ہوتی کیونکہ کبھی کبھار الٹرا ساونڈ کا ایمج ماں کے پیٹ میں بچے کی پوزیشن کی وجہ سے جنس کا تعین کرنے کے لیے پُوری معلومات فراہم نہیں کرتا ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی اس بات کی پیشگوئی صدیوں سے کی جارہی ہے جب ماڈرن میڈیکل سائنس کا وجود تک نہیں تھا صدیوں پرانی پیشن گوئیاں درج ذیل ہیں جن کو پڑھ کر ہم جانیں گے کہ آج کی ماڈرن سائنس صدیوں پرانی ان روایات کو مانتی ہے کہ نہیں

    بچے کی اچھی نیند کے لیے تدابیر


    ماں کے پیٹ میں لڑکی یا لڑکا ہے چند نشانیاں:
    ماں کے پیٹ میں بچے کی جنس کا صحیح اندازہ ڈاکٹرز ہی لگا سکتے ہیں جسکے لیے وہ الٹرا ساونڈ رپورٹ کے علاوہ بھی اومنیوسٹیسس کرونیک ویلس سیمپلینگ نونیوسیلو ٹیسٹ وغیرہ کرتے ہیں مگر نیچے دی جانے والی نشانیاں روایات پر مبنی ہیں
    نہار مُنہ ماں کی طبیعت کا زیادہ خراب ہونا:
    بہت سے طبیب حضرات کا کہنا ہے کہ نہار مُنہ ماں کی طبیعت کا زیادہ خراب ہونا اس بات کا نشان ہے کہ ماں کے پیٹ میں لڑکی ہے جدید تحقیق کے مُطابق نہار مُنہ ماں کی طبیعت کا خراب ہونا بچے کی جنس کے تعین سے جُڑا ہوسکتا ہے ایک تحقیق کے مُطابق اگر ماں کے پیٹ میں لڑکی ہو تو ماں کا امیون سسٹم کمزور ہوتا ہے نسبتًا اُن ماؤں کے جن کے پیٹ میں لڑکا ہو اور ایسی صورت میں ماں پر بیکٹریا کا حملہ ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں اور ماں کی طبیعت صبح کے وقت زیادہ خراب ہونا نشانی ہوسکتی ہے کہ وہ بیٹی کی ماں بننے والی ہے
    وزن بڑھ جانا:
    کُچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حمل کے دوران ماں کا وزن پیٹ کے درمیان میں بہت زیادہ بڑھ رہا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ بے بی گرل ہوگی اور ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ماں کا وزن پیٹ کے آگے بڑھ رہا ہے تو یہ نشانی ہے بےبی بوائے کی سائنس ان دونوں باتوں کو نہیں مانتی میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ ماں کا وزن پیٹ کے آگے یا درمیان میں بڑھنے کی وجہ اُس کی جسمانی ساخت پر منحصر ہوتی ہے

    بچوں کی تربیت کیسے کی جائے?


    ماں کا بہت زیادہ مُوڈی ہوجانا:
    حمل کے دوران ہارمونل تبدیلیاں ماں کے مُوڈ کو متاثر کرتی ہیں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ماں کے پیٹ میں لڑکی ہے تو اُس کے جسم میں ایسٹروجن (ایک ہارمون) کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور اُس کا مُوڈ زیادہ بگڑتا ہے مگر سائنس اس بات کو نہیں مانتی سائنس کا کہنا ہے کہ ماں کے ہارمون حمل کے دوران بڑھتے ہیں اورزچگی کے بعد کم ہوجاتے ہیں چاہے اُس کے پیٹ میں لڑکا ہو یا لڑکی

    میٹھے کو دل للچانا:
    حمل کے دوران ماں کا بہت سی نئی چیزیں کھانے کو دل کرتا ہے اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ماں کا دل میٹھا کھانے کو چاہ رہا ہے تو یہ نشانی ہے بیٹی اور اگر نمکین کھانے کو چاہ رہا ہے تو یہ نشانی ہے بیٹے کی ان دونوں کا باتوں کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے اور سائنس کا ماننا ہے کہ ماں کے دل للچانے کا بچے کی جنس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا
    آئلی جلد اور بالوں کی رنگت کا اُڑنا:
    کُچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ماں کی جلد کا آئلی ہونا اور بالوں کی رنگت کا اُڑ جانا بیٹی کی نشانی ہے مگر سائنس اس بات کو بلکل نہیں مانتی سائنس کا کہنا ہے کہ جلد پر آئل آنا یا بالوں کی ساخت میں تبدیلی آنا ماں کے مارمون لیولز میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کا بچے کی جنس کیساتھ کوئی تعلق نہیں

    بچے کی افزائش پرورش اور بہتر نشوونما کے لیے ماں کی صحت کا بہتر ہونا انتہائی مفید


    پیٹ میں بچے کی پوزیشن کا اوپر ہونا:
    بچے کی پیٹ میں پوزیشن اگر اوپر کی طرف ہو تو یہ اس بات کی نشانی مانا جاتا ہے کہ بیٹی ہوگی مگر اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے اور سائنس کا کہنا ہے کہ بچے کی پوزیشن کا دارومدار ماں کی جسمانی ساخت ماں کے وزن ماں کے فٹنس لیول اور پٹھوں کی مضبوطی پر ہوتا ہے
    بچے کی دل کی دھڑکن کا تیز ہونا:
    روایات میں مانا جاتا ہے کہ اگر بچے کی دل کی دھڑکن تیز ہے تو یہ نشانی ہے کہ بے بی گرل ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ بچہ چاہے بوائے ہو یا گرل دونوں کے دل کی دھڑکن ایک جیسی ہی ہوتی ہے اوپر دی گئی تمام نشانیوں میں سے نہار مُنہ طبیعت کا خراب ہونا اور سٹریس لیول کا بڑھنا نکال کر باقی تمام نشانیوں کو سائنس یکسر مُسترد کرتی ہے
    سٹریس لیول بڑھنا:
    ماں کے سٹریس لیول کا بڑھنا بچے کی جنس سے منسلک ہوسکتا ہے ایک تحقیق کے مُطابق ماں کے جسم میں کورٹیسل (ذہنی تناؤ پیدا کرنے والا ایک ہارمون) ہارمون کا بڑھنا بے بی گرل کی نشانی ہو سکتا ہےگریک آئی لینڈ پر2013 کا زلزلہ آنے کے بعد ایک تحقیق کے مُطابق دو سال تک وہاں بےبی بوائے کی پیدائش میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور ماہرین کا کہنا ہے اس کی وجہ وہاں کی ماؤں میں سٹریس لیول کا بڑھنا تھا

  • نہار منہ پانی پینے کے حیرت انگیز فوائد

    نہار منہ پانی پینے کے حیرت انگیز فوائد

    پاکستانی کی خواتین اور مرد شادی کے بعد بہت جلد موٹے ہوجاتے ہیں اور صرف ایک سے دو بچوں کی پیدائش کے بعد خوبصورت نظر آنے والا جوڑا اپنی عُمر سے زیادہ بُوڑھا نظر آنا شروع ہوجاتا ہے اور اُن کے جسم موٹے اور لاغر ہونے شروع ہوجاتے ہیں اگر آپ پاکستان کے مرد اور خواتین کا موازنہ جاپان کے افراد کے ساتھ کریں تو تھوڑی سی تحقیق کے بعد ہی آپ کو احساس ہوگا کہ دونوں قوموں کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں اور جاپانی بُوڑھے بھی ہوجائیں تو جوان لگتے ہیں نہار مُنہ پانی پینے کی عادت اور اُس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں تاکہ آپ بھی اس صحت مند عادت کو اپنائیں اور صحت مند اور چاک و چوبند نظر آئیں
    ہار مُنہ نیم گرم پانی پینے کے کُچھ ہی دن کے اندر آپ کو احساس ہونا شروع ہوجائے گا کہ آپ کی طبیعت ہلکی پھلکی اور جسم زیادہ چاک و چوبند ہو گیا ہے آپکا پتہ چلنا شروع ہوجائے گا کہ آپ کے جسم کے فاضل مادے خارج ہونا شروع ہو چُکے ہیں اور آپ کی صبح پہلے سے زیادہ فریش ہو گئی ہے نہار مُنہ نیم گرم پانی آپکے میٹابولیزم کو طاقتور بنائے گا اور آپ کی بلا وجہ بھوک لگنے کی عادت ختم ہوجائے گی اور کھانوں کے درمیان آپ کو سنیک کی ضرورت نہیں پڑے گی اور آپ کو آپ کے کھانے سے پہلے سے زیادہ انرجی ملنا شروع ہو جائے گی نہار مُنہ نیم گرم پانی جہاں بلا وجہ بھوک نہیں لگنے دیتاوہاں یہ جسم کی فاضل چربی کو پگھلنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے روزانہ نہار مُنہ پانی پینا پیشاب کی جلن اور انفیکشن ختم کرنے کے لیے کسی بھی اینٹی بائیوٹک سے زیادہ طاقتور ہے اور سستا اور آسان ہے آپکا مثانہ صاف سُتھرا ہوگا اور پیشاب کی نالی کی بیماریوں سے بچے رہیں گے یہ آپ کا فضول بڑھا ہُوا وزن کم کرتا ہے اور آپ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں کھانے کے بعد سینے کی جلن اور معدے کی تیزابیت جیسی پریشان کُن بیماری آپ کے قریب بھی نہیں آئیں گی اور آپ کھانے کے بعد اپنے معدے پر وزن محسوس کرنا بند کر دیں گےچند ہی دنوں کی یہ عادت آپ کی جلد کو چمکدار توانا اور خوبصورت بنانا شروع کر دے گی اور چہرے پر سے جھریا ں ختم ہونا شروع ہو جائیں گی نہار مُنہ نیم گرم پانی پینے کی عادت کے ایک ماہ کے اندر ہی آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کے بال زیادہ لمبے ہو رہے ہیں اور چمکدار اور مضبوط ہوگئے ہیں روزانہ نہار مُنہ پانی پینا پیشاب کی جلن اور انفیکشن ختم کرنے کے لیے کسی بھی اینٹی بائیوٹک سے زیادہ طاقتور ہے اور سستا اور آسان ہے آپکا مثانہ صاف سُتھرا ہوگا اور پیشاب کی نالی کی بیماریوں سے بچے رہیں گے صحت مند ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ موسمی بیماریاں آپ پر حملہ آور نہیں ہوتیں کیوں کہ آپ کی قوت مدافعت انہیں آپ پر حاوی نہیں ہونے دیتی نہار مُنہ نیم گرم پانی آپ کی قوت مدافعت کو بڑھائے گا اور موسمی بیماریوں سے آپکی حفاظت کرے گا
    نہار مُنہ پانی کیسے پینا ہے:
    روزانہ صبح اُٹھتے ہی کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے 4 گلاس پانی کے پی لیں اور اگر چار گلاس پانی پینا مشکل ہوتو شروع میں یہ عادت 1 گلاس سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ پانی کی مقدار کو بڑھا کر اسےچار گلاسوں پر لیجائیں پانی پینے کے بعد پونے گھنٹہ تک کُچھ مت کھائیں اور 45 منٹ کے بعد اپنے معمول کا ناشتہ کریں اور سارا دن معمول کے مُطابق پانی پیتے رہیں صبح کے ناشتے کے بعد دوپہر کے لنچ کے بعد اور رات کے ڈنر کے بعد 2 گھنٹے تک کُچھ مت کھائیں اور کُچھ مت پیئں

  • گلے کی سوزش دور کرنے کے آسان گھریلو ٹوٹکے

    گلے کی سوزش دور کرنے کے آسان گھریلو ٹوٹکے

    موسم میں تبدیلی اور سردی کے آنے سے گلا خراب ہونے کی بیماری ایک عام بیماری ہے جو گلے میں سوزش پیدا کرتی ہے اور گلے میں تکلیف کا باعث بنتی ہے اس بیماری میں فوراً ڈاکٹر کے پاس جانا اور اینٹی بائیوٹیک ادویات لیکر کھانا ہماری قوت مدافعت کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے لہذا گلا خراب ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر کے پاس مت جائیں بلکہ نیچے دیے گئے چند آسان گھریلو ٹوٹکے استعمال کرنے سے ایک سے تین دن میں آپ خودبخود ٹھیک ہوجائیں گے
    غرارے کرنا:
    گلے میں سوزش کا سب سے بہترین علاج گرم پانی سے غرارے کرنا ہے گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ڈالیں اور دن میں کئی دفعہ غرارے کریں تکلیف زیادہ ہو تو پانی میں لہسن کا رس شامل کر کے غرارے کریں اس کے علاوہ پانی میں لیموں کا رس ڈال کر غرارے کریں اورآدھا گرام ہینگ کا پاوڈر پانی میں ڈال کر غرارہ کرنا بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص


    کالی مرچ اور چینی:
    گلے میں سوزش ہو جائے تو 3 سے 4 کالی مرچیں لیکر اسے چینی یا گُڑ کے ساتھ چبا چبا کر کھالینے سے تکلیف میں کمی واقع ہوتی ہے اور گلے کی سوزش ختم ہوتی ہے
    ہلدی دودھ کا مکسچر:
    رات کو سونے سے پہلے ہلدی پاوڈر کو گرم دودھ میں مکس کر کے پی لیں ہلدی ایک قُدرتی اینٹی بائیوٹیک ہے یہ آپ کے گلے کی سوزش کو دُور کر دے گی اس کے علاوہ یہ مکسچر اندرونی بیرونی زخموں کو بھرنے میں بھی مدد دیتا ہے
    پانی:
    سردیوں میں ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور قوت مدافعت کمزور ہونے کا ایک بڑا سبب پانی کی کمی ہے لہذا گلے میں سوزش کی صورت میں نیم گرم پانی وقفے وقفے سے پیتے رہیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے جراثیموں کو غالب آنے کا موقع نہ ملے
    ہلدی اور گُڑ:
    گلے میں سوزش اور تکلیف کی صورت میں ہلدی اور گُڑ کو مکس کر لیں اور یہ مکسچر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کھا کر اوپر سے گرم پانی پی لیں اس سے بہت جلد افاقہ ہو گا
    مُرغ یخنی:
    مُرغ یخنی گلے میں سوزش کا بہترین علاج ہے اور یہ فوری طور پر تکلیف میں راحت کا سبب بنتی ہے اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے لہذا گلا خراب ہونے کی صورت میں دن میں کم از کم تین دفعہ ایک گرم پیالہ مُرغ یخنی کا پینے سے آپ ڈاکٹر کی فیس اور دوائیوں کے خرچے سے بچ جائیں گے

    سر پر سینگ رکھنے والا انوکھا شخص


    پارسلے اور گُڑ:
    پارسلے یعنی اجوائن خراسانی کو گُڑ کے ساتھ پانی میں اُبال کر قہوہ بنا لیں اور وقفے وقفے سے اس قہوے کو چُسکیاں لیکر پی لیں یہ بند گلے کو کھول دے گا
    دیسی گھی اور کالی مرچ:
    کالی مرچ جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے اور گلے کی سوزش میں انتہائی مفید ہے ہر کھانے کے بعد 4 سے 5 دانے کالی مرچ کو پیس کر چائے کی چمچ دیسی گھی گرم کرکے اس میں مکس کریں اور اسے پی لیں یہ گلے کی درد میں فوری راحت کا باعث بنے گا اور بیٹھی ہُوئی آواز کو درست کردے گا
    ہربل چائے:
    گلے میں سوزش ہونے کی صورت میں ہر دو گھنٹے کے بعد گرم پانی پینا انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے مگر اگر آپ گرم پانی پینے سے تنگ آ گئے ہیں تو ہربل چائے کے ٹی بیگ جو بازار میں عام ملتے ہیں لے آئیں اور ہر دو گھنٹے بعد ہربل چائے پی لیں، ہربل چائے گلے کی سوزش کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے
    دُعا ہر بیماری کا علاج ہے لہذا گلا خراب ہو یا کوئی بھی اور مشکل ہو اللہ سے دُعا کریں اور اُسی سے شفا مانگیں کیونکہ شفا کے خزانے اللہ ہی کے پاس ہیں اگر علامات تین دن سے زیادہ برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں

  • گوند کتیرا میں چُپھے صحت کے راز

    گوند کتیرا میں چُپھے صحت کے راز

    گوند کتیرا ایک کانٹے دار پودے tragacanth کی اندرونی رطوبت سے حاصل کیا جاتا ہے یہ پودا عام طور پر پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور دُنیا میں سب سے زیادہ گُوند کتیرا ایران میں پیدا ہوتا ہےاس پودے کی گُوند کی کوئی خوشبو اور ذائقہ نہیں ہوتا یہ پودے کی اندرونی رطوبت کو خُشک کرکے بنایا جاتا ہے اور اس کو کئی طرح استعمال کیا جاتا ہے کھانے کیساتھ ساتھ اس کو انڈسٹری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے
    گوند کتیرے میں چُھپے صحت کے راز
    گوند کتیرا صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور اس میں بیشمار فائدے ہیں خاص طور پر یہ گرمی میں جسم کو ٹھنڈا کرتا ہے اور سردی میں جسم کو گرم رکھتا ہے لُو لگ جانے کی صورت میں گوند کتیرا جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے اکسیر کا کام کرتا ہے اور اسے عام طور پر گرمی لگنے کی صورت میں پانی میں بگھو کر نرم کیا جاتا ہے اور ٹھنڈے شربت میں ڈال کر پیا جاتا ہےگوند کتیرا دستوں کی بیماری میں بھی انتہائی مُفید ہے یہ نظام انہطام کو بہتر بناتا ہے اور جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچاتا ہےاوراس کا استعمال مردوں کی صحت پر انتہائی حیرت انگییز نتائج پیدا کرتا ہےگوند کتیرا جلد کو بُوڑھا نہیں ہونے دیتا اور اُسے تروتازہ اور جوان رکھتا ہےیہ خواتین کی چھاتی کو بڑھانے والی ہربل ادویات میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے طبیب حضرات صدیوں سے اسے زچہ خواتین کی کمزوری دُور کرنے کے لیے خواتین کو کھلاتے ہیں کیونکہ کہ یہ زچہ اور بچہ دونوں کے لیے انتہائی مُفید ہے
    گوند کتیرے کا استعمال:
    اس جڑی بوٹی کو بہت سے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر سلاد کی ڈریسنگ میں مایونیز میں، ائس کریم کو گاڑھا کرنے میں، پوڈینگ میں اور لڈو بنانے میں اور کیک وغیرہ کی ڈریسنگ کیساتھ ساتھ بہت سے ڈرنکز میں اسے استعمال کیا جاتا ہے
    دیگر استعمال:
    گوند کتیرا لیدر کو پالش کرنے میں استعمال ہوتا ہے یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں سلک کو رنگ دینے کے علاوہ مختلف کاسمیٹکس میں بھی استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ ٹوتھ پیسٹ میں اور سیگار کے پتے کو بند کرنے کے لیے بطور گم استعمال کیا جاتا ہے
    گوند کتیرے کے نقصانات:
    گوند کتیرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ یہ سانس کی نالی کو بند نہ کرے وگرنہ سانس کی بیماریوں کے لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

  • چند بیماریاں جو پہلے ہاتھوں پر اثر انداز ہوتی ہیں

    چند بیماریاں جو پہلے ہاتھوں پر اثر انداز ہوتی ہیں

    ہاتھ ہمارے جسم کے انتہائی اہم اور بُنیادی عضو ہیں جن کا رابطہ سارے جسم سے ہوتا ہے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جسم میں مختلف جگہ پیدا ہونے والی کئی بیماریاں ایسی ہیں جو پیدا ہونے کی صورت میں ہاتھوں کی ظاہری حالت کو دیکھ کر پتہ لگائی جا سکتی ہیں
    سُرخ ہاتھ:
    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سُرخ ہاتھ لیور میں خرابی کی نشانی ہوسکتی ہے خاص طور پر اُس وقت اگر آپکی عمر 50 سال سے زیادہ ہے ہاتھ پر عام طور پر یہ سُرخی ہاتھ کے بیرونی کناروں پر موجود ہوتی ہے اور عام طور پر اسکی وجہ خون میں ہارمون بیلنس کی خرابی ہے جسکی وجوہات بلڈ ویسلز ڈایلیشن ہو سکتی ہیں اگر آپکے ہاتھ کے بیرونی کناروں پر سُرخی ہے تو ڈاکٹر سے ملکر صحیح وجہ کا جاننا ضروری ہے اسکے ساتھ کھانے میں صحت مند خوراک کو شامل کرنا بہت ضروری ہے
    ناخن اور پوٹوں کا پھولنا:
    اگر آپکی انگلیاں ڈرم سٹک کی طرح ناخنوں کے قریب سے پھولی ہوئی ہیں تو عام طور پر اسکی وجہ جسم میں آکسیجن لیول کی خرابی ہے اس کے علاوہ یہ دل اور لیور کی خرابی کی بھی وجہ ہوسکتی ہے ایسی صورت میں ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے
    ہاتھوں میں پسینہ آنا:
    ہاتھوں میں پسینہ آنا بہت سی بیماریوں کا سبب ہو سکتا ہے عام طور پر ہاتھوں میں زیادہ پسینہ آنا اوور ایکٹیو تھائیرائیڈ کی وجہ سے ہوتا ہے جو آپ کے پسینہ پیدا کرنے والے گلائینڈز کو زیادہ متحرک کر دیتا ہے اور وہ ضرورت سے زیادہ پسینہ پیدا کرتے ہیں سٹریس کی صورت میں بھی یہ پسینہ پیدا کرنے والے گلائینڈ زیادہ پسینہ پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں ہاتھوں میں زیادہ پسینہ آنے کی علامات کئی خطرناک بیماریوں جیسے دل کا دورہ ملیریا تیز بخار وغیرہ سے جُڑی ہیں اس لیے ان علامات کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں

    ایگزیما کا آسان اور مفید گھریلو علاج


    کمزور ناخن:
    کمزور ناخن یا ناخنوں میں کریک پڑنا عام طور پر جسم میں زنک کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے ایسی صورت میں زیادہ زنک والی خوراک جیسے گوشت ڈرائی فروٹ اجناس وغیرہ کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کر لینا چاہیے
    ہاتھوں میں سوئیاں چھبنا :
    عام طور پر سو کر اُٹھنے کے بعد یہ علامات محسوس ہوتی ہیں جس میں ہاتھ یا جسم کا کوئی اور حصہ جسم کے ساتھ محسوس نہیں ہوتا اور جب ہم ہلتے ہیں تو اُس حصے میں سوئیاں چبھنا شروع ہو جاتی ہیں ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سونے کے دوران ہم جسم کے اُس حصے کے سینسر نروکو زیادہ دیر تک دبائے رکھتے ہیں اور جب اس نرو سے دباؤ ختم ہوتا ہے تو دوبارہ متحرک ہونے کے عمل میں متعلقہ حصے پر سوئیاں چھبتی محسوس ہوتی ہیں اس کے علاوہ اگر یہ علامات مسلسل محسوس ہو رہی ہوں تو یہ کئی خطرناک بیماریوں کا سبب ہو سکتی ہیں جن میں شوگر سر فہرست ہے
    ہاتھوں کا کپکپانا:
    ہاتھوں کا کپکپانا خطرناک بیماریوں کی وجہ ہو سکتا ہے خاص طور پر پارکنسن بیماری بہتر رہنمائی کے لیے فوراً کسی اچھے ڈاکٹر سے ملنا بہت ضروری ہے
    ہاتھوں پر خشکی:
    عام طور پر اس کی وجہ ڈی ہائڈریشن ہے اس کے علاوہ یہ ہارمونز میں خرابی کی صورت میں بھی ہاتھوں پر ظاہر ہوتی ہےڈی ہائڈریشن کےکنٹرول کے لیے زیادہ پانی پینا اور ہاتھوں پر مویسچرائزر کا استعمال اور اچھی خوراک خشکی کو ختم کردیتی ہے ۔
    اس کے لیے آپ اپنے ڈاکٹر سے ملکر ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی بھی کروا سکتے ہیں

  • ذیا بیطس کی علامات اور اقدامات

    ذیا بیطس کی علامات اور اقدامات

    محنت سے انسان کامیابیوں کی منزلیں طے کرتا ہے اور آگے سے آگے بڑھنے کا جذبہ انسان میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے کامیابی پانے کے لئے تندرستی بہت ضروری ہے اور اگر انسان تندرست و توانا ہے تو وہ مشکل سے مشکل کام کو آسانی سے سرانجام دے سکتا ہے بیمار آدمی تو محنت سے تنگدستی بھی نہیں دور کر سکتا انسانی جسم ایک مشین کی مانند کام کرتا ہے مشین کا ایک پرزہ بھی خراب ہو جائے تو ساری کی ساری مشین خراب ہو جاتی ہے اگر ساری خراب نہ بھی ہو تو تو اس کی کارکردگی میں بہت فرق آ جاتا ہے جب انسان کا کوئی وضو ٹھیک طرح کام نہیں کرتا تو وہ بیمار آدمی کہلاتا ہے اور صحت کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا نہ اپنے کام سنوار کر سکتا ہے اور نہ دنیای کام سر انجام دے سکتا ہے نہ وہ اپنے کام سرانجام دے سکتا ہے نہ وہ اپنے کام آ سکتا ہے اور نہ وہ دوسروں کی مدد کر سکتا ہے نہ خدمت خلق کر سکتا ہے شوگر ایک جان لیوا مرض ہے اگر پرہیز اور نروقت علاج نہ کرایا جائے شوگر ایک جان لیوا مرض ہے

    بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے


    اگر اس کا بروقت علاج اور پرہیز نہ کیا جائے تو یہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھاتا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنا کام دکھاتی ہے پاکستان میں 2015 کی سروے رپورٹ کے مطابق شوگر کے سات ملین سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ ایک انتہائی تشویش کا باعث ہے ذیابیطس کا تعلق میٹابولک بیماریوں سے ہے ذیابیطس کی وجہ سے خون میں شوگر کا لیول بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ جسم میں انسولین ہارمون کی انسولین پراسسینگ یا انسولین پروڈیوسینگ میں خرابی ہےذیابیطس عُمر کے کسی بھی حصے میں حملہ آور ہو سکتی ہے جس میں چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں یہ بچوں مردوں اور عورتوں کیساتھ ساتھ ہر طرح کے لائف سٹائل رکھنے والوں کو اپنا شکار بنا سکتی ہے ایک تحقیق کے مُطابق 1971 سے لیکر 2000 تک مردوں میں ذیابیطس سے جاں بحق ہونے کا تناسب کم ہُوا جس کی ایک وجہ ذیابیطس سے لڑنے والی ادویات میں انسان کی ترقی ہےمگر خواتین میں ذیابیطس سے جاں بحق ہونے کے تناسب میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ یہ پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا ذیابیطس کی نشانیاں عام طور پر نظر انداز کر دی جاتی ہیں اور اُن پر توجہ نہیں دی جاتی خاص طور ٹائپ 2 کی ذیابیطس کی نشانیاں اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ لوگ اُن کا بلکل نوٹس نہیں لیتے اور اُنہیں ایک لمبے عرصے کے بعد اُس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ بیماری اُنہیں کوئی شدید نقصان پہنچاتی ہےذیابیطس کی ٹائپ 1 میں علامات بہت جلد دنوں یا کُچھ ہی ہفتوں میں ظاہر ہو جاتی ہیں اور یہ علامات بہت زیادہ خطرناک بھی ہوتی ہیں
    https://login.baaghitv.com/stomach-k-masayel-sy-nijaat-kesy-payen-%d8%9f/
    ذیابطیس کی نشانیاں
    ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 دونوں اقسام کی ذیابیطس میں کُچھ نشانیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں

    بھوک اور تھکاوٹ:
    انسان کا خون خوراک کو گلوکوز میں بدلتا ہے اور یہ گلوکوز جسم کے سیلز بطور انرجی استعمال کرتے ہیں اور یہ سیلز گلوکوز کو استعمال کرنے کے لیے جسم سے انسولین کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور اگر انسولین ہارمون ٹھیک کام نہ کر رہا ہو تو جسم کے سیلز کو گلوکوز یعنی انرجی ملنی بند ہوجاتی ہے ایسی صورت میں انسان کو بار بار بھوک لگتی ہے اور جسم کو شدید تھکاؤٹ محسوس ہوتی ہے
    پیاز محسوس ہونا :
    آپ کا منہ زیادہ تر خشک رہنے لگتا ہے اور دل کرتا ہے کہ ہر وقت پانی پیتے رہیں مگر پیاس کا یہ احساس منہ میں نہیں دماغ میں ہوتا ہے چاہے منہ خشک ہی کیوں نہ ہو رہا ہو درحقیقت دماغی خلیات کو گلوکوز کی مستحکم سپلائی چاہیئے ہوتی ہے مگر جب بلڈ شوگر بڑھتا ہے تو دماغ میں اس کی کمی ہوتی ہے اور وہ کسی بھی ذریعے سے سیال چیز کو اپنے پاس منگواتا ہے دیگر خلیات سے حاصل کئے جانے والا یہ سیال پیاس کا باعث بنتا ہے

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    پیشاب زیادہ آنا:
    ایک عام انسان دن میں 4 سے 7 دفعہ پیشاب کی حاجت محسوس کرتا ہے مگر اگر جسم ذیابیطس کا شکار ہوجائے تو یہ حاجت کئی دفعہ محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جسم گلوکوز کو جب وہ گُردوں سے گُزرتی ہے جذب کر لیتا ہے، لیکن جب خون میں گلوکوز کا لیول ہائی ہو اور انسولین ہارمون ٹھیک کام نہ کر رہا ہوتو گُردے خون سے سارے گلوکوز کو جذب نہیں کرپاتے اورگلوکوز کو پیشاب کے راستے خارج کرنا چاہتے ہیں ایسی صورت میں زیادہ پیشاب آتا ہے اور زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ پانی پینے سے بھی پیشاب کی مقدار بڑھتی ہے
    ڈرائی سکن اور زبان:
    آپ کا جسم شوگر کو خارج کرنے کے لیے زیادہ پانی استعمال کرتا ہے تاکہ گلوکوز پیشاب کے راستے خارج ہو ایسی صورت میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ زبان ہر وقت خُشک ہےاور جسم میں پانی کی کمی جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتی ہے جس سے جلد پر خُشکی اور خارش پیدا ہوتی ہے
    نظر میں دُھندلا پن:
    جسم میں پانی کی کمی آپ کی آنکھوں کے لینز میں سوزش پیدا کرتا ہے اور لینز کا سائز بدلنے سے آپ کو دُھندلا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے

    ٹایپ 2 ذیابیطس کی نشانیاں:
    یہ نشانیاں اُس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ایک لمبا عرصہ خون میں گلوکوز کا لیول بڑھا رہتا ہے اور آپ توجہ نہیں دیتے اور یہ نشانیاں درجہ ذیل ہیں

    خمیر کی انفیکشن:
    یہ نشانی مرد اور خواتین دونوں پر ظاہر ہوتی ہے خمیر گلوکوز پر پلتا ہے اور خون میں گلوکوز کے بڑھنے سے یہ جلد کے اُن مقامات پر پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے جہاں پسینے سے نمی رہتی ہے خاص طور پر بغلوں میں انگلیوں میں اور ٹانگوں کے درمیان کے حصے میں یہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کو خارش محسوس ہوتی ہے

    جوڑوں کے درد سے نجات کیسے پائیں?

    زخم کا جلدی نہ بھرنا:
    جسم پر کٹ لگ جانے سے یا کسی اور طریقے سے زخم پیدا ہونے کے بعد اُس کا بھرنے کا عمل انتہائی سُست ہوجاتا ہے کیونکہ خون میں شوگر کا لیول جب بڑھتا ہے تو جسم میں خون کی ترسیل متاثر ہوتی ہے جس سے زخم کو بھرنے میں دقت پیش آتی ہے

    پاؤں اور ٹانگوں میں درد اور بے حسی:

    خون کی ترسیل کے نظام متاثر ہونے سے نروز ڈیمج ہوتی ہیں اور ٹانگوں اور پاؤں میں خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے جس سے ٹانگوں اور پاؤں میں خاص طور پر رات کے وقت درد اور کسی چیز کو محسوس کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو جاتی ہے

    ٹائپ ون ذیابیطس کی نشانیاں:
    ٹائپ ون ذیابیطس میں درجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں

    کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟


    وزن میں بلا وجہ کمی:
    جب جسم خوراک سے توانائی حاصل نہیں کر پاتا تو وہ جسم میں موجود چربی کو جلا کر توانائی میں بدلنا شروع کر دیتا ہے اور آپ چاہے اپنی پُوری خوراک کھا رہے ہوں مگر آپ کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے

    متلی یا اُلٹی محسوس کرنا:
    جسم جب چربی کو پگھلاتا ہے تو اس سے خون میں کیٹونز پیدا ہوتے ہیں اور ٹائپ ون ذیابطیس میں یہ کیٹونز خون میں خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے اور جب یہ بڑھتے ہیں تو یہ معدے کو متاثر کرتے ہیں جس سے متلی اور اُلٹی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے

    دوران حمل ذیابیطس کی نشانیاں:
    دوران حمل ظاہر ہونے والی ذیابیطس کی عام طور پر کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں ماسوائے کہ آپ کو زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ پیشاب آتا ہے

    کچی لہسن اور پیاز کا استعمال بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لئے انتہائی مفید


    ذیابیطس کی علامات:
    ٹائپ 2 ذیابیطس درجہ ذیل علامات کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے
    زخم جلدی نہ بھرنا جلد پر خارش اور خشکی اکثر خمیر کی انفیکشن وزن کا بڑھ جانا جلد کا گردن بغلوں اور ٹانگوں کے درمیان رنگ گہرا ہوجانا جسم کے اعضا میں سوئیاں چُھبنا اور بے حسی محسوس کرنا نظر کا متاثر ہونا
    خون میں شوگر لیول کم ہونے کی علامات
    ذیابیطس سے جُڑی اس بیماری کو ہائپوگلائکیما کہتے ہیں اور اس کی علامات اُس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب خون میں گلوکوز کو لیول انتہائی کم ہوجاتا ہے اور اسکی علامات درجہ ذیل ہیں
    جسم پر کپکپاہٹ بے چینی اور پریشانی شدید پسینہ آنا سردی لگنا چپچپاہٹ محسوس کرنا کنفیوز ہونا سر کا ہلکا ہونا اور چکر آنا شدید بھوک لگنا زیادہ نیند آنا کمزوری محسوس کرنا ہونٹوں پر زبان پر اور گردن پر گُدگُدی محسوس کرنا اور بے حسی محسوس کرنا
    ان علامات کے ساتھ آپ یہ علامات بھی محسوس کر سکتے ہیں
    دل کی دھڑکن کا تیز ہونا جلد کا پیلا ہونا نظر میں دھندلاہٹ سر درد ڈراؤنے خواب آنا یا سوتے میں چلانا توجہ میں کمی جسم کو جھٹکے لگنا یا دورہ پڑنے کی کیفیت ہونا
    ایسی کسی بھی علامات کی صورت میں فوراً اپنے خون میں شوگر لیول کاٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں آپ اپنے جسم میں اس بیماری کو جتنی جلد دریافت کر یں گے اُس سے اس بیماری سے پیدا ہونے والی بڑی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں

  • وٹامن اے کی کمی کی چند نشانیاں

    وٹامن اے کی کمی کی چند نشانیاں

    وٹامن اے کا شُمار اُن وٹامنز میں ہوتا ہے جو پانی میں حل نہیں ہوتے اور چکنائی کے ساتھ جسم میں جذب ہوتے ہیں اور ہمارے جسم کے فنکشنز کو فعال رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں خاص طور پر بینائی قوت مدافعت اور جلد کی صحت میں وٹامن اے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہےترقی یافتہ ممالک میں عام طور پر لوگ وٹامن اے کی کمی کا شکار نہیں ہوتے اور اس وٹامن کی کمی کا شکار ترقی پزیر ممالک بشمول پاکستان کے لوگ بڑی تعداد میں ہیں خاص طور پر حاملہ خواتین اور وہ خواتین جو بچوں کو دُودھ پلاتی ہیں چھوٹے اور بڑے بچے اس وٹامن کی شدید کمی کا شکار ہیں کُچھ دائمی بیماریاں خاص طور پر دائمی ڈائریا بھی جسم کو اس وٹامن کی کمی کا شکار بنا دیتا ہے
    وٹامن اے کی کمی کی نشانیاں درج ذیل ہیں

    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں

    آنکھوں کی خُشکی:
    آنکھوں کی صحت کا خراب ہونا وٹامن اے کی کمی کی سب سے بڑی نشانی ہے اور وٹامن اے کی شدید کمی بینائی سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے اور وٹامن اے کی کمی آنکھوں کی نمی ختم کر کے آنکھوں کو خشک کر دینے کا باعث بنتی ہے خشک آنکھوں میں آنسو نہیں پیدا ہوتے اور یہ وٹامن اے کی کمی کی سب سے پہلی علامت ہے اور پاکستان میں بچے بڑی تعداد میں اس کمی کا شکار ہیں وٹامن اے کا زیادہ استعمال آنکھوں کی خُشکی کو ختم کر سکتا ہے اور اس کے لیے وٹامن اے کے سپلیمنٹس کا استعمال کرنا بہت ضروری ہے ایک تحقیق کے مُطابق چھوٹے اور بڑے بچوں کو اگر مسلسل سوا سال تک وٹامن اے کا سپلیمنٹ استعمال کروایا جائے تو اُن میں ڈرائی آئیز کی بیماری ٹھیک ہوجاتی ہے
    رات کا اندھا پن:
    وٹامن اے کی شدید کمی نائٹ بلائینڈ کر دیتی ہے یعنی رات کے وقت بینائی کو ختم یا بہت کمزور کر دیتی ہے اور یہ بیماری ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان میں بہت سے افراد کو متاثر کر رہی ہے ایک تحقیق کے مُطابق خواتین اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور وہ خواتین جن کی بینائی رات کو کم یا ختم ہوجائے کو وٹامن اے کا سپلیمنٹ دینے سے 6 ہفتے کے اندر اس بیماری پر 50 فیصد تک قابو پایا جاسکتا ہے
    خشک جلد:
    وٹامن اے ہماری جلد کو صحت مند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے یہ سکن کے ڈیڈ سیلز کو مرمت کرتا ہے اور جلد پر انفلامیشن کو روکتا ہےوٹامن اے کی کمی جلد کی بہت کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے جس میں ایگزیما کی بیماری خاص طور اسی وٹامن کی کمی سے پیدا ہوتی ہے ایگزیما میں جلد خُشک ہوجاتی ہے اور جلد پر خارش ہوتی رہتی ہے اور سُوجن ظاہر ہوجاتی ہے اور بہت سی میڈیکل تحقیقات کے مُطابق اس بیماری کو وٹامن اے سے پھرپُور کھانے اور وٹامن اے کے سپلیمنٹ استعمال کرنے سے ختم کیا جاسکتا ہےایک اور تحقیق کے مُطابق ایگزیما کے شکار افراد میں اگر وٹامن اے 10 سے 40 ملی گرام روزانہ مقدار بدل بدل کر استعمال کروایا جائے تو تین مہینے میں اس بیماری پر 50 فیصد سے زیادہ قابو پایا جاسکتا ہے ڈرائی سکن یعنی جلد کی خُشکی کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ وٹامن سی کی کمی بھی جلد کو خُشک کر دینے کا باعث بنتی ہے

    سہانجنا کے معجزاتی طبی فوائد


    بانجھ پن اور حمل کا نہ ٹھہرنا:
    مردوں اور خواتین میں عمل تولید اور بچوں کی ماں کے پیٹ کے اندر پرورش میں یہ وٹامن انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور اگر آپ کے اندر حمل نہیں ٹھہر رہا یا کسی مرد میں بانجھ پن ہے تو عین ممکن ہے کہ آپ وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں
    کمزور نشوونما:
    ایسے بچے جو وٹامن اے کی کمی شکار ہوتے ہیں اُن کی جسمانی نشوونما وقت پر نہیں ہوتی کیونکہ یہ وٹامن جسمانی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے اور پاکستان میں بچے بڑی تعداد میں نشوونما کی کمی کا شکار ہیں ایک تحقیق کے مُطابق صرف وٹامن اے کے سپلیمنٹ بچوں کی نشوونما میں کمی کو ٹھیک کرسکتے ہیں انڈونیشیا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مُطابق جن بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹ دیئے گئے اُن کے قد میں وٹامن اے استعمال نہ کرنے والے بچوں کی نسبت 0.15 انچ زیادہ اضافہ دیکھا گیا
    گلے اور سینے کا انفیکشن:
    گلے اور سینے میں بار بار انفیکشن کا ہونا وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور پاکستان میں سکول جانے والے بچے عام طور پر ایک دو مہینے کے بعد اس انفیکشن میں مُبتلا ہو کر بیمار ہوجاتے ہیں اور اگر اُنہیں وٹامن اے سے بھرپور کھانے کھلائے جائیں تو اُن کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور وہ کم بیماری کا شکار ہوں گے

    پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے


    زخموں کا جلد نہ بھرنا:
    چوٹ سے لگنے والے زخم یا آپریشن کے بعد زخم کا دیر سے بھرنا وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے ہوسکتا ہے کیونکہ وٹامن اے جلد کے اندر استعمال ہونے والی ایک اہم پروٹین کلوجن کو پیدا کرتا ہے جو جلد کو صحت مند رکھتی ہے اور اگرزخم لگنے کے بعد وٹامن اے کا استعمال زیادہ کیا جائے تو یہ زخم کو جلد بھر دینے میں انتہائی ا ہم کردار ادا کرتا ہے
    چہرے پر کیل مہاسے اور ایڑھیوں کا پھٹنا:
    وٹامن اے جلد کو تروتازہ اور چمکدار بناتا ہے اور کیل مہاسوں کا پیدا ہونا اور خاص طور پر سردیوں میں ایڑھیوں کا پھٹنا اس وٹامن کی کمی کا باعث ہو سکتا ہے اور میڈیکل سائنس کی بہت سی تحقیقات کے نتائج کے مطابق وٹامن اے کا زیادہ استعمال کیل مہاسوں کو جلد پر پیدا نہیں ہونے دیتا کیل مہاسوں کی صورت میں وٹامن اے سے بھر پور لوشنز کا استعمال بھی انتہائی مفیدثابت ہوتا ہے

    بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے


    جسم کی قوت مدافعت
    ہمارے جسم کا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت جسم کو جراثیموں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت دیتا ہے اوران جراثیموں کا خُودبخود خاتمہ کر دیتا ہے لیکن اگر قوت مدافعت کمزور ہو تو یہ جراثیم ہمیں بہت جلد بیمار کر دیتے ہیں اور ہماری صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں وٹامن اے ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہذا وٹامن اے سے بھرپُور کھانے ہمیں ایسے جراثیموں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں
    وٹامن اے سے بھر پُور کھانے
    وٹامن اے کی 2 اقسام ہیں پرفارمڈ وٹامن اے اور پرو وٹامن اے اور یہ دونوں اقسام بہت کھانوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں پرفارمڈ وٹامن اے مچھلی گوشت انڈوں اور دودھ سے بنی مصنوعات سے حاصل کیا جاسکتا ہے اور پرو وٹامن اے سُرخ سبز اور پیلی سبزیوں اور فروٹس میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے

  • آنکھوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے والی غذائیں

    آنکھوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے والی غذائیں

    آنکھیں قدرت کا انمول تحفہ ہیں ہم عام طور پر آنکھوں کی حفاظت کے لیے دھوپ کا چشمہ خریدتے ہیں جو دن کے وقت سورج کی تیز روشنی میں آنکھوں کو سورج کی تیز شعاؤں سے بچاتا ہے وہاں آپ کو ایک فیشن سٹائل بھی دیتا ہے اور دن کے اختتام پر آپ کی آنکھوں کو تھکنے سے بچاتا ہے مگر دھوپ کے چشمے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو طاقتور کرنے والے کھانے اور ڈرنکس بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کو ہمیں اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہیے جوہماری نظر کو تندرست رکھتے ہیں

    جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول


    بیٹا کیروٹین سے بھر پور سبزیاں:
    بیٹا کیروٹین سُرخ اور مالٹا رنگ کا پیگمینٹ ہے جو مختلف سبزیوں اور پھلوں میں پایا جاتا ہے یہ پیگمینٹ ان سبزیوں اور پھلوں کو گہرے رنگ عطا کرتا ہے اور بیٹا کیروٹین کی حامل سبزیاں آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہیں اور ان سبزیوں میں سر فہرست گاجر ہے جو وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے وٹامن اے آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے جو آنکھ کو تیز روشنی جذب کر لینے کی قُوت عطا کرتا ہے یٹا کیروٹین کی حامل دیگر سبزیوں میں حلوہ کدو شکر قندی وغیرہ بھی آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم سبزیاں ہیں
    پانی:
    سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی ہے اور پانی آنکھوں کی صحت کے ساتھ ساتھ ہمارے سارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے در حقیقت ہمارے جسم کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ پانی پر مشتعمل ہے اس لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ سارے جسم کو توانا کرنے کے لیے دن میں کم از کم بارہ گلاس پانی پینا چاہیئے اور اللہ کا شُکر ادا کریں کہ اُس نے ہمیں یہ عظیم نعمت عطا کی
    گہرے رنگوں والی سبزیاں:
    گرمیوں میں جب سُورج اپنی آب و تاب سے چمکتا ہے اور ہر جیز کو جلا کے رکھ دیتا ہے تو ایسی تیز دھُوپ میں درختوں کےپتےکیوں نہیں خُشک ہو کر گر جاتے اور کیوں سبز رہتے ہیں؟ اس کی وجہ ان میں موجود دو حیاتی کیمیا لوٹین اور زیازینتھن ہے اور یہ دونوں کیمیا ہماری آنکھوں میں بھی موجود ہوتے ہیں جو جہاں آنکھوں کو بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہیں وہاں دھُوپ میں شامل آنکھوں کے لیے نقصان دہ شعاعوں (بلو لائٹ وغیرہ) کو آنکھوں کے رٹینا تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور قُدرتی سن بلاک کا کام کرتے ہیں گہرے رنگ والی سبزیاں لوٹین اور زیازینتھن سے بھرپور ہوتی ہیں جن میں سر فہرست پالک ہے ساگ ہے کیل ہے بند گوبھی بروکلی وغیرہ شامل ہیں

    نظر بد کیاہے اور یہ انسان کے جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے ؟


    انڈے:
    انڈے لوٹین اور زیازینتھن حاصل کرنے کا ایک انتہائی بہترین ذریعہ ہیں جو آنکھوں پر بڑھاپے سے پیدا ہونے والے اثرات کو اثر نہیں کرنے دیتے
    اومیگا تھری:
    اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اناج ڈرائی فروٹس اور مچھلی کے گوشت وغیرہ میں پایا جاتا ہےاور آنکھوں کے لیے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ آنکھوں کو خُشکی سے بچاتا ہے ایک تحقیق کے مُطابق بہت زیادہ کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنے والے افراد جو اومیگا تھری استعمال کرتے ہیں اُن میں کمپیوٹر ویژن سینڈرم اور ڈرائی آئیز کی بیماریاں پیدا ہونے کے چانسز بہت کم ہوجاتے ہیں اور اُن کی آنکھیں کام کے دوران تھکتی نہیں ہیں اور توانا رہتی ہیں اومیگا تھری کے حامل اناجوں میں السی تخم بالنگا ہیمپ سیڈز پوپی سیڈز حلوہ کدو کے بیج اور سُورج مُکھی کے بیج وغیرہ اور ڈرائی فروٹس میں اخروٹ بادام کاجو اور ہیزلنٹس وغیرہ شامل ہیں اومیگا تھری کا سب سے اچھا ذریعہ چربی والی مچھلی اور سمندری کھانے جیسے جھینگے وغیرہ ہیں گائے کا گوشت زنک سے بھرپور ہوتاہے زنک آنکھوں پر عمر کے بڑھنے سے پیدا ہونے والے اثرات کو ظاہر ہونے سے روکتا ہے اورآنکھوں کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہےآنکھوں میں بذات خود بھی زنک کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو خاص طور پر آنکھوں کے رٹینا اور رٹینا کے اردگرد پھیلے ہُوئے ٹشوز میں شامل ہوتا ہے
    سٹرٹس فروٹس:
    سٹرس فروٹس وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور سٹرس فروٹس میں شامل وٹامن سی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کا حامل ہوتا ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور آج کل تو ان پھلوں کا موسم بھی ہے لہذا جی بھر کر کینو مالٹا مسمی چکوترہ وغیرہ کھائیں

  • بادام  روغن کے بے شمار  فائدے

    بادام روغن کے بے شمار فائدے

    طبی ماہرین کے مطابق بادام کا تیل صحت کے لئے انتہائی بہترین ہے چہرے پر بادام کے تیل کی مالش سے چہرہ تروتازہ اور شاداب رہتا ہے یہ طریقہ ماضی میں بہت مقبول تھا شاہی گھرانے کی خواتین اسے معمول میں شامل رکھتی تھیں اب اسے مشرق کے جادو کے نام سے مغربی ممالک میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے بادام کا تعلق خُشک میوہ جات سے نہیں ہے کیونکہ بادام ایک بیج ہے جو بادام کے درخت پر اُگتا ہے مگر عام طور پر اس کا شمار خشک میوہ جات میں ہی کیا جاتا ہے اور اس مزیدارے میوے سے نکلنے والا تیل جلد اور بالوں کو صحت مند کرنے والی بیشمار کاسمیٹکس پروڈکٹس میں کیا جاتا ہے اورماہرین کا کہنا ہے کہ بادام کا تیل ہماری صحت کے لیے بھی انتہائی مُفید ہے بادام عام طور پر ثابت کھا لیے جاتے ہیں اور بادام کو پیس کر بادام کا آٹا بھی بنایا جاتا ہے اور بادام سے نان ڈیری دُودھ بھی تیار کیا جاتا ہے اور چونکہ باداموں کے اندر بیشمار چکنائی ہوتی ہے اس لیے ان سے تیل بھی نکالا جاتا ہے

    دانتوں کی پیلاہٹ ختم کرنے کی آسان گھریلو ٹپس


    ریفائینڈ بادام روغن حاصل کرنے لیے باداموں کو تیز آگ پرپکا کر کیمیکل پروسیس کے بعد اس میں سے تیل نکالا جاتا ہے اور اس پروسیس میں بادام کی بہت سی نیوٹریشنزختم ہوجاتی ہیں اور اس پروسیس سے نکلا تیل عام طور پر سستے داموں مل جاتا ہے مگر یہ تیل بادام کی بہت سے غذائی صلاحیتوں سے خالی ہوتا ہے اور عام طور پر اسے کھانا پکانے اور کھانا فرائی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ تیز آنچ پر 215 تک کی حدت برداشت کر لیتا ہے اور جلتا نہیں ہےبغیر ریفائینڈکے نکلے ہُوئے بادام کے تیل میں تیز آگ اور کیمیکل پروسیس استعمال نہیں کیا جاتا اور یہ تیل ریفائینڈ تیل کی نسبت توانائی اورنیوٹریشنز سے بھر پور ہوتا ہےایک کھانے کا چمچ یا 14 گرام بادام روغن میں 119 کیلوریز 13.5 گرام کُل چکنائی وٹامن ای اور وٹامن کے شامل ہوتے ہیں اور اسے صحت کے لیے اس لیے مفید مانا جاتا ہے کیونکہ بادام کے اندر موجود چکنائی صحت مند چکنائی ہوتی ہے بادام کا تیل انسیچوریٹڈ فیٹ کا خزانہ ہے اور یہ چکنائی دل کی بیماریوں اور موٹاپے سے لاحق ہونے والی بیماریوں کو ختم کرنے کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے بادام میں شامل مونو سیچوریٹیڈ چکنائی ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کو پیدا کرتا ہے مونوسیچوریٹیڈ فیٹ ہمارے جسم کو کینسر سے بھی بچاتی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق اس چکنائی کو استعمال کرنے والے موٹاپا ختم کرنے میں دوسرے افراد سے جلدی کامیاب ہوجاتے ہیں بادام روغن وٹامن ای سے بھرپور ہوتا ہے اور وٹامن ای اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو ہمارے جسم کے اندرونی اعضا ءکو خراب ہونے سے بچاتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ای سے بھرپور کھانے دل کی بیماریوں کو قابو میں رکھتے ہیں

    چہرے کے کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات کے لئے تراکیب


    اور جلد پر بُڑھاپے کے اثرات کو ظاہر ہونے سے روکتے ہیں بادام کا تیل خون کی شوگر کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور بڑھنے نہیں دیتا، بادام میں شامل صحت کے لیے مفید چکنائیاں شوگر کو تیزی سے خون میں شامل ہونے سے روکتی ہے اور ہائی شوگر کے مریضوں کے لیے یہ تیل انتہائی مفید ہےایک تحقیق کے مُطابق صبح ناشتے میں بادام کا تیل استعمال کرنے والوں کی شوگر بادام کا تیل نہ استعمال کرنے والوں کی نسبت زیادہ کنٹرول میں رہتی ہے اور اُن کا معدہ بھرا رہتا ہے اور اُنہیں شوگر کی وجہ سے بار بار بھوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بادام کا تیل بیشار بیوٹی پروڈکٹس میں استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ جلد اور بالوں کو صحت مند اور توانا کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بادام کا تیل جلد کو خُشک نہیں ہونے دیتا اورخُشک بالوں کو بھی ہائیڈریٹ کرتا ہے اسی لیے ساری دُنیا میں وہ لوگ جو کاسمیٹکس پروڈکٹس کا استعمال نہیں کرنا چاہتے وہ کاسمیٹکس کے متبادل کے طو پر بادام کا تیل استعمال کرتے ہیں بادام روغن میں شامل قُدرتی موئیسچرائزر خوبیاں خُشک اور حساس جلد کو ہائیڈریٹ رکھتی ہے خاص طور پر سردیوں کی خُشک ہوا میں وہ جلد کو خراب نہیں ہونے دیتی اور تروتازہ اور توانا رکھتی ہے میڈیل سائنس کے مُطابق بادام روغن میں شامل وٹامن ای جلد کو سُورج کی تیز روشنی میں جلنے سے بچاتا ہے اور قُدرتی سن بلاک کا کام کرتا ہے یہ جلد پر پرنے والی جھریوں کو ختم کرتا ہے اور جلد پر عُمر کے اثرات کو چھپانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ایک تحقیق کے مُطابق بادام روغن جلد پر سٹریچ سے پڑنے والے داغوں کو ختم کرنے میں انتہائی مُفید ہے اور اکسیر کا درجہ رکھتا ہے خاص طورپر حاملہ خواتین کے پیٹ پر پڑنے والے داغ بادام روغن متواتر ملنے سے ختم ہوجاتے ہیں بادام کا تیل بازار میں ملنے والی بہت سی بیوٹی پروڈکٹس سے جہاں انتہائی سستا ہے وہاںیہ قدرتی ہے اور ہماری سکن کو قُدرت سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا

    کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب گھریلو نسخہ


    بادام روغن استعمال کرنے کے طریقے
    آپ بادام روغن کو کسی بھی موائسچرائزر لوشن کے نعم البدل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں خاص طورپر جسم کے وہ حصے جہاں زیادہ خُشکی ہوتی ہے (کہنیاں، پاؤں، گھٹنے وغیرہ) پر بادام روغن ملنا خُشکی سے نجات کا باعث بنتا ہےبادام روغن کو ایواکیڈو میں شامل کر کے پیسٹ بنا لیں یہ بالوں کا بہترین ماسک ہے جو بالوں پر لگانے سے بال چمکدار اور خُشکی سکری سے پاک ہوجاتے ہیں

    ایسی غذائیں جو عمر سے پہلے بوڑھا کرتی ہیں


    بادام روغن کو اگرکسی آئل کے ساتھ ملا کر جلد پر لگایا جائے تو یہ سونے پر سہاگے کا کام کرتا ہے اور جلد کو خاص طور پر چہرے کی جلد کو نرم ملائم اور توانا کر دیتا ہے چہرے کو دودھ میں کاٹم بھگو بھگو کر صاف کر لیں خیال رکھیں رگڑ نہ زیادہ ہلکی ہو اور نہ بہت زیادہ تیز بس درمیانی دباؤ رکھیں اب دو چائے کے چمچ نیم گرم بادام روغن میں چند قطرے عرق گلاب کے شامل کر کے ہلکا ہلکا مساج کے شکل میں پانچ منٹ تک ملیں اس طرح چہرے کی ورزش بھی ہو جائے گی اور چہرے کی جھریاں بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گی خاص طور پر آنکھوں کے نیچے پڑ جانے والے حلقے اور جھریاں ختم ہو جائیں گی

  • دُنیا کے مہنگے ترین کھانے

    دُنیا کے مہنگے ترین کھانے

    خوراک انسان کی بُنیادی ضرورت ہے اور پاکستان جیسے مُلک میں عام طور پر ایک آدمی کا پیٹ بھرنے کے لیے 2 روٹیاں کافی ہوتی ہیں جو 10 روپے میں خریدی جا سکتی ہیں اور کئی بیچارے غُربت کی وجہ سے وہ بھی نہیں خرید پاتے لیکن جن لوگوں کو اللہ چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے اُن کے ایک وقت کے کھانے کی قیمت بعض اوقات اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اُتنے پیسے میں ہزاروں آدمی کھانا کھا سکتے ہیں دنیا کےمہنگے ترین کھانےدرج ذیل ہیں جن کی قیمت جہاں آپ کو حیران و پریشان کر دے گی وہاں آپ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ آج کے دور میں وہ کون لوگ ہیں جو اتنا مہنگا کھانا کھاتے ہیں

    سفید اور کالی ٹرفل:
    سفید ٹرفل دُنیا کی مہنگی ترین ٹرفل ہے جسکی وجہ اس کو پیدا کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے خاص ماحول کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ عام طور پر فرانس میں پیدا ہوتی ہے جس کی یورپ میں قیمت تقریبا 2100 ڈالر فی کلو ہے اور کالی ٹرفل تقریباً 1700 ڈالر فی کلو میں فروخت ہوتی ہے
    وگ یُو بیف:
    بیف سٹیک کھانے کے شوقین حضرات وگ یُو بیف کھانے کے لیے دُنیا بھر سے جاپان کا رُخ کرتے ہیں اور اس جاپانی گائے کا گوشت دُنیا بھر میں گائے کے گوشت میں سب سے زیادہ لذیز مانا جاتا ہے وگ یُو گائے کو خاص خواراک کھلائی جاتی ہے اور روزانہ گائے کی مالش کی جاتی ہے اور اسے ایک خاص قسم کا میوزک سُنایا جاتا ہے اس گائے کا گوشت کی قیمت 450 ڈالر فی کلو ہے، یعنی اتنا مہنگا کے آپ اتنے پیسوں میں پاکستان میں پُوری گائے خرید لیں
    بلوفن ٹیونا مچھلی:
    انتہائی نایاب ٹیونا مچھلی کی اس نسل کا گوشت سُرخ رنگ کا ہے جس کی نسل اب تقریباً ختم ہونے والی ہے اس بلوفن ٹیونا مچھلی کا گوشت تقریباً 4000 ڈالر فی پاونڈ ہے

    پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے


    لابنوتی آلو:
    پاکستان میں عام آلو آجکل 50 سے 100 روپئے کلو ملتا ہے لیکن لابونوتی آلو کوئی عام آلو نہیں ہے اور یہ دُنیا میں صرف فرانس میں اُگایا جاتا ہے اس آلو کی نہ صرف شکل عام آلو سے مختلف ہے بلکے اس کا ذائقہ بھی عام آلو سے بلکل مختلف ہے اور اسے یورپ کے مہنگے ریسٹورینٹس اپنے امیر کسٹمرز کے لیے خریدتے ہیں اس آلو کی فی کلو قیمت تقریباً 1600 ڈالر ہے
    زعفران:
    زعفران کا شُمار دُنیا کے مہنگے ترین کھانوں میں ہوتا ہے اور اسے بادشاہوں کی خوراک سمجھا جاتا ہے دُنیا میں سب سے بہترین کوالٹی کا زعفران ایران میں اُگایا جاتا ہے جسے بیجنے کے بعد تقریباً 3 سال تک اس پودے کی خدمت کرنی پڑتی ہے تب ایک پودے سے باریک دھاگے کی شکل کا تھوڑا سا زعفران حاصل ہوتا ہے جسے نہ صرف مہنگی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ بہت سے کھانوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، انٹرنیشنل مارکیٹ میں زعفران کی قیمت 400 ڈالر سے لیکر 1000 ڈالر فی کلو ہے مگر کُچھ اعلٰی کوالٹی کے زعفران ہزاروں ڈالر فی کلو قیمت رکھتے ہیں
    سوالو نیسٹ سُوپ:
    چین میں بنایا جانا والا یہ سُوپ ایک خاص پرندے کے تُھوک سے بنایا جاتا ہے اور اس میں عام طور پر اور کوئی چیز استعمال نہیں ہوتی اس سُوپ کے مہنگے ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کا تُھوک حاصل کرنا ہے اور یہ ایک خطرناک کام ہے کیونکہ یہ پرندہ اپنا گھونسلا اونچی چٹانوں پر بناتا ہے اس سُوپ کی فی کلو قیمت 3000 ڈالر ہے

    گھر کو ہیٹر کے بغیر گرم رکھنے کی آسان تراکیب


    ڈن سُوکی تربوز:
    انتہائی نایاب نسل اور کالے رنگ کا یہ تربوز جاپان میں پیدا ہوتا ہے اوراسے عام طور پر بولی پر بیچا جاتا ہے جس میں اس کی بولی 6100 ڈالر فی تربوز تک چلی جاتی ہے
    موز ملک چیز:
    دُنیا کی سب سے مہنگی چیز جو دُنیا میں سوائے سویڈن کے مُوز فارم ہاوس کے علاوہ اور کہیں نہیں بنتی اسے دُنیا کی سب سے مزیدار چیز بھی مانا جاتا ہے جو کھانے کا ذائقہ ڈرامائی طریقے سے انتہائی شاندار کر دیتی ہے اس چیز کی فی کلو قیمت 1074 ڈالر ہے
    یُبراکی کنگ تربوز:
    ن سُوکی تربوز کے بعد یہ دُنیا کا دُوسرا مہنگا ترین تربوز ہے جو اندر سے مالٹے جیسا ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ عام تربوز سےکہیں مختلف ہوتا ہے، اپنی بڑی ڈیمانڈ کی وجہ سے یہ تربوز بھی بولی پر فروخت کیا جاتا ہے اور عام طور پر اس کی فی تربوز قیمت 5000 ڈالر ہے
    کلوگا کیوئر:
    انتہائی نایاب قسم کی مچھلی کے یہ انڈے دُنیا کے مہنگے ترین کھانوں میں شُمار ہوتے ہیں جن کی فی کلو قیمت 7 ہزار ڈالر سے لیکر 12 ہزار ڈالر تک ہے