Baaghi TV

Category: خواتین

  • گردوں کے فیل ہونے کے اسباب اور علاج

    گردوں کے فیل ہونے کے اسباب اور علاج

    اللہ تعالی نے انسان کو گو گُردوں سے نوازا ہے یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے پیٹ کی طرف کمر میں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں گردہ 11 سینٹی میٹر لمبا کم و بیش سات سینٹی میٹر چوڑا اور دو یا تین سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے ہر گردے میں دس لاکھ سے زائد ناکی دار غدود نیفران یا فلٹر ہوتے ہیں گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں میں پندرہ سو لیٹر خون گزرتا ہے گُردے انسانی جسم کے انتہائی اہم عضو ہیں جو جسم سےزہریلے مادے خارج کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور جسم میں باڈی فلوئڈ کا بیلنس رکھتے ہیں اور الیکٹرولائٹس کی مقدار کو پُورا رکھتے ہیں ہمارے جسم میں موجود خون دن میں کئی دفعہ گُردوں سے پاس ہوتا ہے اور گُردے اُسے ہر وقت صاف کرنے میں مصروف رہتے ہیں اورخون میں موجود نمک اور پانی اور منرلز کو ایڈجسٹ کرتے ہیں ہماری خوراک اگر ٹھیک نہ ہو تو خون میں موجود فاضل گندگی گُردوں میں جمع ہونی شروع ہوجاتی ہے اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو سُست کر دیتی ہے اور اگر یہ کسی بیماری کا شکار ہوجائیں تو یہ کام کرنا بند بھی کر دیتے ہیں اور ایسے میں ان کا علاج جہاں کافی مہنگا ہے وہاں مریض کو انتہائی تکلیف سے گُزرنا پڑتا ہےانٹرنیشنل کڈنی فاوندیشن کے مُطابق دُنیا میں کئی ملین افراد گُردوں کی بیماری کا شکار ہیں اور ہمارے مُلک پاکستان میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد اس بیماری میں مُبتلا ہےپانی زندگی ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے مگر حد سے نہیں بڑھنا چاہیے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایک مرد کو دن میں کم از کم 13گلاس پانی ضرور پینا چاہیے اور خواتین کو کم از کم 8 گلاس پانی روزانہ پینا چاہیےپانی گُردوں سے فاضل مادوں کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور Waste کو گُردوں سے نکال کر پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کردیتا ہے

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں


    پیاز:
    پیاز بہت سی بیماریوں کا دُشمن ہے اس کے اندر موجود فلیوونوئڈزاور کیروسٹین خون کی نالیوں میں چربی کو جمنے نہیں دیتے اور یہ گُردوں کی دوست سبزی ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور پیاز کا استعمال گُردوں کی اوورآل کارکردگی کو بہتر بناتا ہے
    بند گوبھی:
    بندگوبھی ایک انتہائی مُفید سبزی ہے جو وٹامنز سے بھر پُور ہونے کیساتھ ساتھ اپنے اندرفیٹو کیمیکلز کی ایک بڑی مقدار کیساتھ اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کی حامل ہے یہ اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں گُردوں کے ڈیڈ سیلز کو مرمت کرتی ہیں اور گُردوں کے افعال کو دُرست کرتی ہیں
    سُرخ شملہ مرچ:
    سُرخ شملہ مرچ جہاں کھانوں کو مزے دار بناتی ہے وہاں اس کے اندر موجود وٹامنز سی بی 6 اے گُردوں کے لیے انتہائی مُفید ہے اور وٹامن سی گُردوں کی صفائی کردیتا ہےسُرخ شملہ مرچ میں فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار ہوتی ہے جو نظام انہظام کے ساتھ گُردوں میں موجود Waste کو فلٹر ہونے میں مدد کرتی ہے سُرخ شملہ مرچ اینٹی آکسائیڈینٹ بھی ہوتی ہے جو گُردوں کے ساتھ ساتھ جگر کے لیے بھی انتہائی مُفید ہے

    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں


    لہسن:
    لہنس بیماریوں کے خلاف کسی میڈیکل سٹور سے کم نہیں جو خون کو صاف کرنے میں انتہائی معاون سبزی ہے اس کی اہنٹی آکسائیدینٹ خوبیاں گُردوں اور جگر کی مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں
    مچھلی:
    مچھلی پروٹین حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ گُردوں اور جگر میں جمی گندگی کو صاف کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے
    گوبھی:
    گوبھی وٹامن سی فولیٹ اور فائبر سے بھرپُور سبزی ہے جو گُردوں کی دوست ہے جو اسے خون کو صاف کرنے میں فعال بناتی ہے
    سیب:
    روزانہ ایک سیب کھانا آپ کو ڈاکٹر سے محفوظ رکھتا ہے یہ جسم سے کولیسٹرال کا خاتمہ کرتا ہے اور گُردوں اور جگر کو فعال رکھتا ہے
    لیمن جُوس:
    وٹامن سی سے بھرپُور لیموں گُردوں اور جگر کی صفائی کے علاوہ نظام انہظام کو بہتر بنانے میں انتہائی مدد گار ہے
    تربوز، سُرخ انگور، چیری، سٹابری، بلو بیری:
    یہ فروٹس وٹامنز منرلز سے بھرپور ہونے کیساتھ ساتھ پانی سے بھی بھر پُور ہوتے ہیں اور جسم میں پانی کی کمی کو پُورا کرتے ہیں اور گُردوں کی سستی کو دور کرتے ہیں

    سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر


    کیل:
    یہ ایک انتہائی کارآمد سبزی ہے جو جسم میں بلڈ شوگر کے لیے انتہائی مُفید ہے شوگر کی زیادتی گُردوں کو انتہائی نقصان پہنچاتی ہے اگر آپ گُردوں کی کسی بیماری میں مُبتلا ہیں تو اس سبزی کے استعمال سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں اور اُس جانیں کے آپ اس کی کتنی مقدار استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی زیادہ مقدار نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے
    گردے فیل ہونے کی وجوہات:
    گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں گردے کی جھلی کی سوزش جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹر کرنا ہے یہ جھلی اگر کام نہ کرے کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس سے گردہ کام کرناچھوڑ دیتے ہیں اس سے پیشاب کے اندر خون یا چربی آنا شروع ہو جاتی ہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماً دس تا پندرہ سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہئیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے گردے خراب ہو جاتے ہیں بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے

  • شہد سے جلد کو خوبصورت بنانے کے بہترین طریقے

    شہد سے جلد کو خوبصورت بنانے کے بہترین طریقے

    شہد کی افادیت:
    شہد کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اس کو کھانے سے جہاں ہر بیماری کے لیے شفا ہے وہاں اسے جلد پر لگانے سے بیشمار فائدے حاصل ہوتے ہیںں جلد کی خوبصورتی کو نرقرار رکھنے میں شہد اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ شید میں قدرت نے ایسی خصوصیات رکھی ہیں کہ وہ ہر قسم کے بیکٹیریا کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے شہد کھانسی بند ناک کو کھولنے اور خراب گلے کے لئے بھی بے حد مفید ہے اسے کھانے سے نہ صرف بیماریاں دور ہوتی ہیں بلکہ چہرے پر لگانے سے بے رونق اور خشک جلد بھی تازہ دم ہو جاتی ہے اس کے علاوہ چہرے پر خالص شہد کا لیپ دینے سے خراب جلد بھی نرم ہو جاتی ہے ایسی خواتین جن کی جلد خشک ہوتی ہے انہیں چاہیے کہ ایک چمچ شہد میں ایک چمچ دودھ ایک چمچ بادام روغن ملا کر ماسک بنا لیں اور اس کو دس منٹ چہرے پر لگائیں اس سے جلد تازہ دم اور نرم و ملائم ہو جائے گی اگر بہت تیز میک اپ سے آپ کا چیرہ خراب ہو گیا ہو تو شہد اس کے لئے بھی مفید ثابت ہوتا ہے روازنہ دس منٹ خالی شہد کا ماسک لگانے سے بھی جلد ٹھیک ہو جاتی ہے اگر آپ کے ہاتھ کھردرے ہیں تو روزانہ شہد کا مساج کرنے سے ہاتھ نرم ہو جائیں گے دو چائے کے چمچ کھیرے کا رس اور ایک ایک چمچ دودھ اور شہد کا لےکر مکس کر کے ماسک بنا لیں دس منٹ لگانے کے بعد ٹھنھڈے پانی سے منہ دھو لیں اس کے علاوہ شہد بادام روغن اور انڈا لے کر ماسک بنا لیں اور اسے چہرے پر لگائیں آئلی جلد کے لئے یہ ایک بہترین ماسک ہے شہد سے جلد کو خُوبصورت بنانے کے چند ایسے ٹوٹکے مندرجہ ذیل ہیں جنہیں جلد کو خُوبصورت بنانے کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے

    چہرے کے کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات کے لئے تراکیب


    چہرے کی جھریوں کے لیے:
    چہرے کی جھریاں ختم کرنے کے لیے ایک چمچ شہد میں ایک چمچ لیموں کا رس شامل کر کے مکسچر بنا لیں اور پھر اسے چہرے پر مل لیں اور پندراں منٹ تک لگا رہنے دیں 15 منٹ کے بعد چہرے کو پانی سے دھو دیں اور اس عمل کو جھریاں ختم ہونے تک روزانہ جاری رکھیں، یہ چہرے کی جھریاں ختم کرنے کا بہترین ٹوٹکا ہے جو بازار کی مہنگی کریموں سے بہت سستا ہے یہ مرہم صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سےانتہائی مُفید نتائج حاصل ہوتے ہیں پیاز کا پانی دو چمچ لے کر ایک چمچ شہد میں مکس کر لیں اور اسے چہرے پر لگائیں اور 15 منٹ بعد چہرہ نیم گرم پانی سے دھو کر آئینہ دیکھیں آپکا دل خُوش ہوجائے گا

    کلینزنگ کا بہترین طریقہ


    چکناہٹ سے پاک صاف چہرے کے لئے ماسک:
    چکنی جلد کے لئے ماسک ایک ایسی حفاظتی تہہ ہے جس کو لگانے سے چہرہ نہ صرف غیر ضروری چکناہٹ سے پاک رہتا ہے بلکہ چہرے کی قدرتی نمی کو بحال رکھتا ہے اس مقصد کے لئے ملتانی مٹی اور شہد سے تیار کردہ ماسک بہتر نتائج اخذ کرتا ہے
    اجزاء:
    ملتانی مٹی ایک کھانے کا چمچ
    شہد ایک کھانے کا چمچ
    ہلدی ایک چٹکی
    بنانےکا طریقہ:
    تقریباً دو چمچ پانی میں سب چیزوں کو ملا کر ماسک تیار کر لیں اور دس سے پندرہ منٹ تک چہرے پر لگا رہنے دیں یہ جلد میں موجود چکناہٹ کو جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ماسک اتارنے کے بعد چہرے پرچند قطرے عرق گلاب لگالیں اس سے چہرہ خشکی کا شکار نہیں ہوتا

    شہد اور کھجور کی طبی خصوصیات


    داغ دھبوں سے چہرے کی صفائی اور جھریوں کے لیے:
    ایک انڈے کو توڑ کر اچھی طرح پھینٹ لیں اور پھر اُس میں ایک چمچ شہد شامل کر کے مکس کر لیں اور اُسے چہرے پر لگائیں اور 15 منٹ کے بعد نیم گرم پانی سے دھو دیں اور پھر چہرے کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں یہ عمل چہرے پر بڑھتی عمر کے اثرات کو ختم کردے گا اور آپ کی جلد کو چمکدار اور توانا کردے گا
    ہاتھوں کی جلد کو ملائم کرنے کے لیے:
    سنگترے کا رس اور شہد ہم وزن مکس کر لیں اور اسے ہاتھوں پر آہستہ آہستہ ملیں اور کُچھ دیر کے بعد اسے سادہ پانی کیساتھ دھو دیں آپ مہنگی کریموں کو بھول جائیں گے
    شہد اور کیلے کا ماسک:
    شہد میں کیلے کا گودا اور تھوڑا سا لیموں کا عرق ڈال کر مکس کر لیں اس ماسک کو سورج طلوع ہونے سے پیلے چہرے پر لگا لیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی پانی سے دھو لیں چہرہ صاف اور چمکنے لگے گا اس کے علاوہ انڈے کی زردی اور لیموں کا رس اور شہد میں ملا کر چہرے پر لگائیں تو اس سے چہرے کی خشک جلد نرم و ملائم ہو جائے گی
    خُشک جلد کے لیے:
    جلد کی خُشکی ایک عام بیماری ہے جو خاص طور پر خُشک موسم میں جلد پر اثر انداز ہوتی ہے عام طور پر اس خُشکی کو دُور کرنے کے لیے جو کریمیں اور لوشن وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں وہ عارضی طور پر آپ کی جلد کو تندرست کر دیتے ہیں مگر جیسے ہی لوشن اُترتا ہے جلد پھر سے خُشک ہو جاتی ہےجلد کی خشکی سے مکمل نجات کے لیے شہد میں عرق گُلاب شامل کرکے اُسے چہرے اور ہاتھوں پر ملیں اور کُچھ دیر بعد دھو دیں یہ جلد سے خُشکی کو جڑ سے اُکھاڑ دے گا اور آپ کی جلد خُوبصورت اور توانا کر دے گا اس کے علاوہ روزانہ دو سے تین چمچ شہد کو نیم گرم پانی میں ڈال کر پینا بھی جلد کی خشکی کے لیے انتہائی مُفید ہے

    چہرے کے نکھارکے لیے نہایت آزمودہ ماسک


    بلیک ہیڈ ختم کرنے کے لیے:
    شہد کو تھوڑا گرم کرلیں اور اسے چہرے پر بلیک ہیڈ پر مل دیں اور کُچھ دیر بعد چہرے کو نیم گرم پانی کے ساتھ دھو ڈالیں، آپکو حیرت انگیز فوائد حاصل ہوں گے
    شہد کا ماسک:
    دُودھ اور شہد ہم وزن لیکر اس میں دس سے پندراں بادام ڈال کر اچھی طرح پیسٹ بنا لیں اور اس ماسک کو چہرے پر لگائیں اور کم از کم اسے ایک گھنٹہ تک چہرے پر لگا رہنے دیں اور پھر تازہ پانی کیساتھ چہرہ دھو لیں یہ چہرے کی جلد کو خُشکی سے نجات دلا کر چمکدار اور صحت مند بنا دے گا اگر چہرے کی جلد چکنی ہے تو اس ماسک کا استعمال مت کریں
    خالص شہد کی پہچان:
    شہد کے چند قطرے پانی کے گلاس میں ٹپکائیں اگر شہد اصلی ہو گا خالص ہو گا تو وہ قطرے اسی حالت میں گلاس کے پیندے میں پڑیں رہیں گے کیونکہ شہد آسانی کے ساتھ پانی میں حل نہیں ہوتا روٹی پر شہد لگا کر کتے کو ڈالیں اگر کتا شہد والی روٹی نہ کھائے تو شہد اصلی ہے کیونکہ کتا شہد نہیں کھاتا

  • بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے

    بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے

    انسان کی بڑی آنت تقریباً 5 فٹ لمبی ہوتی ہے اور ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں اس کا انتہائی اہم کردار ہے اور اگر اسےنظر انداز کردیا جائے تو ہم بہت ساری تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے جن پر عمل کر کے آپ صحت مند اور توانا رہ سکتے ہیں
    وٹامن سی:
    اپنی خوراک میں وٹامن سی کی مقدار کو بڑھائیں یہ وٹامن ہمیں بہت سارے فروٹس اور سبزیوں سے حاصل ہو سکتا ہے اور یہ وٹامن بڑی آنت میں سے گندگی کی صفائی کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے
    ورزش:
    انسانی جسم کو چاک و چوبند رکھنے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے اس لیے اسے اپنی روزنہ کی روٹین کا حصہ بنائیں تاکہ جسم کا ایمیون سسٹم ٹھیک ہو اور آپ کے جسم کے سارے اعضا ٹھیک سے کام کریں
    پانی:
    کم پانی پینے سے قبض جیسی بیماریوں کے علاوہ اور بہت سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، اس لیے روزانہ کم از کم ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی کو اپنی خوراک حصہ بنائیں اس کے علاوہ ایسی پھل اور سبزیاں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو اُسے اپنی خوراک میں شامل کریں جیسے کھیرا تربوز ٹماٹر اور اسٹرابریز وغیرہ
    ہائی فائبر کھانے:
    فائبر سے بھرپوُر کھانے خوراک کو ہضم کر کے خارج کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں اور فائبر سے بھرپُور کھانے بڑی آنت کو گندگی سے صاف کر دیتے ہیں سبز پتوں والی سبزیاں دالیں بروکلی وغیرہ میں فائبر کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے لہذا ان کھانوں کو روزانہ کی خوراک میں شامل کریں
    نمک:
    نمک بھی بڑی آنت کی صفائی کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے نہار مُنہ گرم پانی میں تھوڑا نمک شامل کر کے پی لینے سے بڑی آنت کی صفائی ہو جاتی ہے اور کوشیش کریں کے پنک سالٹ جسے ہمالیہ کا نمک بھی کہتے ہیں وہ استعمال کریں
    قہوے:
    ادرک کا قہوہ، سبز چائے کا قہوہ اور دیگر قہوے بڑی آنت کی صفائی کرنے میں مددگار ہیں اور یہ خوراک کو ہضم کرنے اور جُز بدن بنانے میں بھی انتہائی مُفید ہیں یہ خوراک میں شامل چکنائی کو جمنے نہیں دیتے اور نظام انہظام کو بہتر بناتے ہیں
    سٹارچ کو خوراک کا حصہ بنائیں:
    سٹارچ آپ کو بہت سی سبزیوں اور پھلوں سے حاصل ہو سکتی ہے خاص طور پر آلو، چاول ، سبز کیلے وغیرہ اس سے بھرپُور ہوتے ہیں اور یہ جسم میں گٹ مائیکرو فلورا کی تعداد کو بڑھاتی ہے جو بڑی آنت کے لیے انتہائی مفید ہے اور بڑی آنت کے کینسر سے بچاتا ہے
    پروبائیوٹیک کا استعمال:
    دہی پروبائیوٹیک حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے جس میں شامل دوست بیکٹریا بڑی آنت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے، جدید تحقیق کے مُطابق یہ بڑی آنت کے کینسر سے بچاتا ہے اور بائل موومنٹ کو بہتر بناتا ہے دہی کے علاوہ آپ پروبائیوٹیکس سیب کے سرکہ سے حاصل کر سکتے ہیں اور پنیر کی کُچھ قسمیں بھی پروبائیوٹیکس سے بھر پور ہوتی ہیں

  • کیڑوں مکوڑوں اور چھپکلیوں کو گھر سے بھگانے کے گھریلو طریقے

    کیڑوں مکوڑوں اور چھپکلیوں کو گھر سے بھگانے کے گھریلو طریقے

    کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاں جہاں کراہت پیدا کرتے ہیں وہاں گھر کی خوبصورتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کو مارنے والے زہریلے سپرے گھر میں موجود ہمارے چھوٹے بچوں سمیت ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ماحول دوست نہیں ہوتے مندرجہ ذیل چند طریقے اپنانے سے جو جہاں آپکی اور آپکے بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں وہاں حشرات کو آپ کے گھر سے دُور رہنے پر مجبور کر دیں گے
    پودینے کا تیل:
    پودینے کا تیل اور اس کی خوشبو حشرات کو انتہائی نا پسند ہے مگر یہ تیل کُچھ لوگوں میں جلد پر جلن پیدا کرتا ہے لہذا اس کو سپرے کرنے سے پہلے اس میں پانی شامل کر لیں اور اسے گھر کی اُن جگہوں پر سپرے کریں جہاں حشرات موجود ہوں خاص طور پر گھر کی کھڑکیوں روشن دانوں اور دروازوں کے اردگرد اس سپرے کو چھڑکیں تاکہ گھر کے اندر حشرات داخل نہ ہوں
    کینو مالٹے اور لیموں کے چھلکے:
    تازہ سٹرس فروٹس کے چھلکے کی خُشبو حشرات کو انتہائی ناگوار گُزرتی ہے لہذا اپنے گھر کے اردگرد اس کے چھلکے رکھ دیں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں میں روشن دانوں اور کھڑکیوں کے پیچھے تاکہ حشرات ایسے مقامات پر اپنا بسیرا ختم کریں اور دُور بھاگیں
    اینٹی حشرات پینٹ:
    مچھروں کو مارنے والا پینٹ ملیریا اور ڈینگی کے خلاف ایک انتہائی زبردست ایجاد ہے مگر یہ ابھی پاکستان میں عام دستیاب نہیں ہے اور مہنگا بھی ہے مگر اگر ایک بار گھر کو اس پینٹ سے پینٹ کر لیا جائے تو پھر سکون ہی سکون ہے
    شاہ بلوط :
    شاہ بلوط حیرت انگیز طور پر حشرات کو ناپسند ہیں اور ان کی خوشبو اُنہیں دُور سے ہی دُور رکھتی ہے اس لیے آپ ان کا استعمال حشرات کو بھگانے کے لیے کر سکتے ہیں اور ذہانت سے انہیں گھر کے ایسے حصوں میں رکھیں جہاں سے حشرات گھر میں داخل ہوتے ہیں یعنی دروازے کھڑکیاں اور روشن دان وغیرہ

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے


    حشرات کو بھگانے والا سپرے خود بنائیں:
    حشرات اور چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے سیب کا سرکہ کوئی بھی کوکنگ آئل سُرخ مرچ اور برتن دھونے والا لیکوڈ سوپ (لیموں کی خوشبو والا بہترین ہوگا) پانی میں اچھی طرح حل کر کے گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں اور دروازے کھڑکیوں پر یہ سپرے روزانہ کریں
    لیڈی بگ:
    گھر کے باہر اور گھر کے صحن میں پودے لگائیں اور لیڈی بگ کو اُن پودوں پر جگہ دیں، لیڈی بگ اگرچہ خود حشرات میں شُمار ہوتی ہے مگر جہاں یہ ہو وہاں دُوسرے حشرات نہیں آتے اسکے ساتھ ساتھ یہ اپنے ماحول کے اردگرد حشرات کا سارا کھانا کھا جاتی ہے چنانچہ حشرات جہاں یہ موجود ہو وہاں فاقے کی حالت میں زیادہ عرصہ گُزارا نہیں کر پاتے اور جہاں حشرات نہ ہوں وہاں چھکلی بھی نہیں رہتی
    دیودار کی لکڑی:
    دیودار کی لکڑی کی خُوشبو بھی حشرات کو انتہائی ناپسند ہے اور اگر اس لکڑی کا بُورہ گھر میں حشرات کی موجودگی والے مقامات پر رکھ دیا جائے اور گھر کے داخلی راستوں کے قریب اسے پھیلا دیا جائے تو یہ حشرات کو گھر سے دُور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے
    پالتو بلی:
    بلی پالتو جانوروں میں شمار ہوتی ہے جو گھر کے بچے کُچھے کھانے پر گُزارا کر لیتی ہے اور گھر کے بچوں کیساتھ کھیلتی بھی ہے بلی حشرات کی دُشمن ہے اور اُن کا پیچھا کر کے اُنہیں ٹھکانے لگا دیتی ہے اورحشرات کے ساتھ ساتھ چھکلیاں کھا جاتی ہے اور چوہوں کی آتما کی شانتی کے لیے بھی تن تنہا کام کرتی رہتی ہے

    سونے کے زیورات چمکائیں اب گھر میں


    پودینے کے پتے اور کالی مرچ:
    پودینے کے پتے اور کالی مرچ کے پاوڈر کو کسی ملک شیک کرنے والے جگ میں ڈال کر اچھی طرح شیک کر کے بوتل میں ڈال کر گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر پردوں کے پیچھے اور دروازے کھڑکیوں پر حشرات بھاگ جائیں گے اور اس سپرے کو وہاں بھی چھڑکیں جہاں چھکلیوں کا بسیرا ہو
    گھر کے اندر اور باہر صفائی کا خیال رکھیں:
    کیڑے مکوڑے مچھر وغیرہ عام طور پر وہیں ڈیرے ڈالتے ہیں جہاں گندگی ہو اور چھکلیاں بھی وہیں پروان چڑھتی ہیں جہاں اُسے کھانے کے لیے وافر مقدار میں کیڑے مکوڑے ملیں لہذا اپنے گھر کے اندر اور باہر صفائی رکھیں اور گھر کے فرش کو ہفتے میں کم از کم 3 سے 4 دفعہ فنائل سے صاف کریں

  • پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے

    پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے

    پپیتا گرم علاقوں میں پیدا ہونے والا پھل ہے اور اپنے ذائقے خوبصورت رنگ اور صحت کے لیے بے پناہ فائدوں کی وجہ سے ساری دُنیا میں مقبول ہے اس کے بیج نہایت سخت ہیں جو کہ تقریباً شہ گوشہ ہوتے ہیں اور پھل زرد آلو کے برابر ہوتا ہے رنگ باہر سے بھورا سیاہ اور اندر سے نیم شفاف ذائقہ تلخ مزاج گرم درجہ سوم و خشک درجہ سوم مقدار خوراک دو چاول سے چار چاول تک مقام پیدائش جزائر فلپائن اور چین پپیتا کھانے کے فائدے اور نقصانات درج یل ہیں نہیں پڑھ کر آپ جان پائیں گے کہ یہ مفید پھل آپ کی صحت پر کیا مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور کس وقت اس پھل کو نہیں کھانا چاہیے
    آنکھوں کی بینائی کے لئے:
    اس میں موجود بیٹا کروٹین اور وٹامن اے کی وجہ سے بینائی تیز رہتی ہے پپیتا اینٹی آکسائیڈینٹ سے بھرپُور پھل ہے خاص طور پر اس میں موجود زیازینتھن اینٹی آکسائیڈینٹ نقصان دہ نیلی شعاؤں کو آنکھوں کو متاثر نہیں کرنے دیتا اور آنکھوں کی صحت کے لیے انہتائی مفید ہے پپیتا اور دیگر پھلوں کا زیادہ استعمال عُمر کے بڑھنے کے ساتھ زوال پزیر زوال پزیر آنکھوںکو تقویت دیتے ہیں اور زوال کے اس عمل کو سُست کرتے ہیں جن لوگوں کو کمزور نظر کا مسئلہ درپیش ہو انہیں چاہیے کہ وہ اس کا باقاعدگی سے استعمال کریں

    گُڑ کے حیران کن طبی فوائد


    ہڈیوں کے لئے:
    ہمارے جسم میں وٹامن K کی کمی ہماری ہڈیوں کو کمزور بناتی ہے اور اس کمی کی صورت میں معمولی چوٹ سے بھی ہڈی ٹُوٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے وٹامن K ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور ہمارے جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور وہ افراد جو وٹامنKکی کمی کا شکار ہیں پپیتا اُن کے لیے انتہائی مُفید غذا ہے
    ذیابیطس کے لئے:
    میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے مُطابق ذیابطیس ٹائپ 1 میں مُبتلا افراد جب ڈائٹری فائبر کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اُن کے خون کی شوگر کا لیول بڑھتا نہیں ہے اور ذیابطیس ٹائپ 2 میں مبتلا افراد میں فائبر کا زیادہ استعمال اُن کے خُون میں شوگر کو نارمل رکھتا ہے ایک چھوٹے سائز کا پپیتا 3 گرام جلد ہل ہوجانے والی ڈائٹری فائبر پر مشتعمل ہوتا ہے جو اسے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید غذا بناتا ہے
    https://login.baaghitv.com/health-benefits-of-onions/
    نظام انہضام کے لئے:
    پپیتے میں موجود قدرتی کیمیائی خمیرہ “پاپین” ایک طاقتور اور مُفید کیمیا ہے جو جہاں گوشت کوبغیر پکائے گلا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے وہاں نظام انہظام کے لیے بھی انتہائی مُفید چیز ہے اس کیمیا کے ساتھ پپیتے میں موجود فائبر اور پانی کی بڑی مقدار نظام انہظام کو فعال کرتی ہے اور قبض جیسی بیماری کو پیدا نہیں ہونے دیتی جن لوگوں کو سینے میں جلن یا چبھن کی شکایت ہو تو انہیں چاہئے کہ وہ پپیتے کا استعمال کریں ان میں موجود انزائمز کی وجہ سے معدہ صحیح طرح سے کام کرتا ہے اور آپ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں
    دمہ کی بیماری میں مُفید :
    دمہ کی بیماری جہاں تکلیف دہ ہے وہاں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے اور وہ لوگ جو ایسے پھلوں او رسبزیوں کا استعمال کرتے ہیں جس میں بیٹا کیروٹین جیسے کیمیا موجود ہوں اُن لوگوں میں دمہ کی بیماری کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیں اور پپیتا بیٹا کیروٹین سے بھرپُور پھل ہے جو نظام تنفس کو تقویت دیتا ہے اور سانس کی نالیوں کی بندش کو ختم کرتا ہے

    امرود قدرت کی ایک خاص نعمت امرود کے کرشماتی فوائد


    پپیتا دل کے لیے مفید :
    پپیتے میں شامل فائبر وٹامنزاور پوٹاشیم دل کی بہت سی بیماریوں کو دُرست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خاص طور پر دل کی بیماری کی صورت میں پوٹاشیم کا زیادہ استعمال اور سوڈیم کا کم استعمال دل کو تقویت دینے کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتا ہے
    کینسرکے خلاف مدافعت:
    پپیتا آینٹی آکسائیڈینٹ سے بھرپور پھل ہے اور یہ اینٹی آکسائیڈینٹس ہمارے جسم کو بہت سے کینسر کے امراض سے بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں خاص طور پر بیٹا کیروٹین مردوں کے پروسٹیٹ کینسر میں انتہائی مُفید اور راحت کا سبب بنتا ہے جبکہ خواتین کو چھاتی کے کینسر سے بچاتا ہے اس کی وجہ سے خون کا کینسر ہونے کا خدشہ بھی کم ہوتا ہے ساتھ ہی کولون کینسر سے بچاتا ہے
    اعضا کی سوزش میں مُفید:
    پپیتا صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند کیمیا چولین سے بھر پُور ہے اور چولین سونے کے دوران ہمارے جسم کو تقویت دیتا ہے یہ ہمارے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے اور یاداشت اور پڑھنے کی صلاحیت کو بہتر کرتا ہے یہ ہمارے نروس سسٹم کے لیے بھی انتہائی مُفید چیز ہے اور فاضل چربی کو پگھلاتا ہے اور اعضا کی دائمی سوزش کو آرام دیتا ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-mint/
    زخموں کو جلد بھر دیتا ہے:
    قُدرت نے پپیتے میں ایسے کیمیا رکھے ہیں جو زخموں کو جلد بھرنے اور جلی ہُوئی جلد کو ٹھیک کرنے میں کسی اکسیر سے کم نہیں ہیں
    بالوں کے لئے مفید:
    پپیتے میں شامل وٹامن اے ہمارے بالوں کے لیے انتہائی مفید چیز ہے وٹامن اے بالوں کی جڑوں کو خُشک نہیں ہونے دیتا اور بالوں میں موسچرائزر قائم رکھتا ہے جسکی وجہ سے بال گرنے سے بچ جاتے ہیں، پپیتے میں شامل وٹامن اے اور سی جہاں بالوں کو گرنے سے بچاتےہے وہاں یہ بالوں کو لمبا کرتے ہیں اور جلد کے ٹشوز کی نگہداشت کرتے ہیں
    انزایمز کی بدولت خون کی صفائی:
    ہمارا خون مختلف کھانوں اور آب و ہوا کہ وجہ سے سوزش کا شکار ہوتا رہتا ہے لیکن اگر آپ پپیتا کھائیں گے تو خون کی صفائی ہونے کے ساتھ اس میں انفیکشن نہیں ہو گی
    خون پتلا کرتا ہے:
    عمر گزرنے کے ساتھ انسان کا خون گاڑھا ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے کئی صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن میں دل کی بیماری اور برین ہیمو ریج شامل ہیں آپ کو چاہیے کہ ہر صبح ناشتے میں پپیتے کا استعمال کریں تا کہ خون پتلا رہے اور آپ کی صحت بیماریوں سے محفوظ رہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-aolvera/
    وٹامن اور منرلز سے بھر پور:
    اس پھل میں وٹامن اے سی اور بی کمپلیکس پایا جاتا ہے یہ وٹامنز طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس ہیں اور انسان کے مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہیں اور کینسر جیسے موذی مرض سے بچاتی ہیں اس کے علاوہ اس میں موجود میگنیشئم کاپر اور پوٹاشیئم جسم کو ضروری منرلز فراہم کرتے ہیں
    کولیسٹرول کے لئے مفید:
    پپیتے میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ برے کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور دل کی شریانوں کو کولیسٹرول سے خراب نہیں ہونے دیتا
    مدافعتی نظام کی مضبوطی:
    وٹامن اے اور چی سے بھر پور ہونے کی وجہ سے انفیکشن کے ساتھ بہتر طریقے سے لڑتا ہے اور ہمارے مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے
    پپیتا کیسے کھانا چاہیئے:
    پیتا خریدتے وقت خیال رکھیں کے پکا ہُوا پپیتا خریدیں پکے ہُوئے پپیتے کے چھلکے پر سُرخ اور مالٹا رنگ نمایاں ہوتا ہے اور وہ تھوڑا نرم ہوتا ہے پپیتے کو خربوزے کی طرح کاٹ کر اسے کھائیں اور لُطف اندوز ہوں پپیتے کے بیج کڑوے ہوتے ہیں لیکن کھائے جا سکتے ہیں اسکے علاوہ پپیتے کو دوسرے پھلوں کے سلاد میں شامل کرکے کھانا بھی انہتائی مُفید اور مزیدار ہے
    پپیتا کھانے کے نقصانات:
    ایسے افراد جو نباتاتی الرجی میں مُبتلا ہوں پپیتا اُن کے لیے کھانا ٹھیک نہیں ہے کیوں کے اس میں موجود ایک کیمیا چیٹاناسس اُن میں الرجی پیدا کرسکتا ہے اسکے علاوہ پکے ہُوئے پپیتے کی بُو کُچھ لوگوں کو ناگوار ہوتی ہے مگر اس بُو کو پپیتا کاٹ کر اُس پر لیموں کا رس لگانے سے ختم کیا جا سکتا ہے پپیتے کے بیجوں کا ذائقہ بھی مزیدار نہیں ہوتا مگر پپیتے کے بیج کھائے جا سکتے ہیں کُچھ طبیب حضرات کا کہنا ہے کہ پپیتا نہار مُنہ اور خالی پیٹ نہیں کھانا چاہیے مگر میڈیکل سائنس اس بارے میں کُچھ نہیں کہتی

  • جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول

    جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول

    جگر انسانی جسم کا سب سے بڑا اور انتہائی اہم عضو ہے جس کاکام خُون کو صاف کرنا ہوتا ہے یہ خون سے کمیمکلز، الکوحل، منشیات وغیرہ کی صفائی کرتا ہے اور انسانی زندگی کو قائم رکھنے والے 2 انتہائی اہم اجزا گلوکوز اور بائل پیدا کرتا ہے جو زندہ رہنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں

    جگر جسم میں مسلسل کام کرتا رہتا ہے اور اگر ہم اپنی خوراک کو درست نہ رکھیں اور منشیات اور الکوحل کا زیادہ استعمال شروع کر دیں تو ہمارا جگر اسے صاف کرنے کے دوران خود آلودہ ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں اس کے کام کرنے کی رفتار سُست ہو جاتی ہے
    ایسے کھانے جوپروسیسڈ ہوں اور فاسٹ فوڈز جنہیں اگر زیادہ مقدار میں کھایا جانے لگے وہ بھی جگر کو آلودہ کر دیتے ہیں جس سے جگر کمزور ہوجاتا ہے اور اپنے افعال سرانجام دینے کے لیے اُسے زیادہ وقت کام کرنا پڑتا ہے جس سے صحت پر بُرے اثرات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری خوش قسمتی ہے کے اللہ نے ایسے بہت سے کھانے بنائے ہیں جو ہمارے جگر کی صفائی کرتے ہیں اور اُسے آلودگی سے پاک کرتے ہیں اور فعال طریقے سے کام کرنے میں مدد کرتے ہیں جو جگر کو قُدرتی طریقے سے صاف کر دیتے ہیں اور اُس کی خون سے ٹوکسن کی صفائی کرنے کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں

    پھیپھڑوں کے کینسر کی بنیادی وجوہات

    لیموں:
    جگر کو صاف رکھنے لے لئے لیموںپانی ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ لیموں اور پانی کے ساتھ ملنے سے جگر جو انزائم بناتا ہے اتنی وافر مقدار میں جگر کسی اور غذا کے پانی سے ملنے پر نہیں بنا سکتا

    ہرا دھنیا:
    ہرا دھنیا تقریباً ہر جگہ باآسانی دستیاب ہے یہ جسم سے بھاری دھاتیں خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے جگر کو بہتر طریقے سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے

    لہسن:
    لہسن کے اندر سیلینئیم اور ایللیسین کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ منرل جگر کی صفائی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور جگر کی حفاظت کے لئے بہت معاون ہیں لہسن میں سلفر کے مرکبات شامل ہوترے ہیں جو جگر کے اندر موجود اینزائمز کو بحال کرتا ہے اور یہ اینزائمز جسم کو فاضل مادہ سے پاک کرنے میں مددگار ہوتے ہیں

    پتے کی پتھری سے بچاؤ کی چند تدابیر


    سٹرس فروٹس:
    کینو، مالٹا، لیموں، میٹھے، مسمی وغیرہ ایسے پھل ہیں جو جگر کی خون صاف کرنے کی صلاحیت کو قُدرتی طور پر بڑھاتے ہیں، یہ پھل جگر میں ڈی توکسیفائنڈ اینزائمز کو پیدا کرتے ہیں جو خون سے فاضل مادوں کو صاف کر دیتے ہیں
    سبزیاں:
    سبزیاں خاص طور پر بروکلی، بند گوبھی، گوبھی وغیرہ کے اندرگلوکو سائنولیٹ موجود ہوتا ہے جو جگر کے اندر خُون کو صاف کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے، سبز پتوں والی سبزیاں ، سلاد کے پتے، پالک، ساگ وغیرہ کے اندر سلفر کی بڑی مقدار ہوتی ہے جو جگر کو طاقتور کرتی ہے، ان سبزیوں میں کلوروفل کی بھی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو خون سے کیمیکلز کو صاف کرتی ہے اورجگر کے اندر موجود دھاتوں کی بڑی مقدار کو نیوٹرلائز کرنے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے

    دماغی کمزوری کی وجوہات


    ایواکیڈو:
    ایواکیڈو ایک زبردست فروٹ ہے جو آنتوں کی صفائی کرتا ہے اور جسم میں قُدرتی طور پر glutathione پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور جگر کی صفائی کرنے کے ساتھ ساتھ جگر کو فعال کرتا ہے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انسان جگر کے کام کرنے کے بغیر 24 گھنٹے بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر جگر ٹھیک کام کر رہا ہو تو جسم کے باقی سارے اعضا بھی تندرست رکھتا ہے اور اُنہیں صاف خون مہیا کرتا ہے تاکہ وہ بھی ٹھیک کام کر سکیں ، اس لیے اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں اور فاسٹ فوڈز اور دوسرے ایسے کھانے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں خاص طور پر چکنائی والے کھانے استعمال نہ کریں اور ورزش کو اپنی روزانہ کی روٹین کا حصہ بنائیں تاکہ آپ اللہ کی دی ہُوئی نعمت زندگی کو صحت مند طریقے سے گُزار سکیں اور بیماریوں سے محفوظ رہیں
    ہلدی:
    ہلدی سارے جسم کے لیے انتہائی مُفید ہے اور خاص طور پر جگر کو تندرست کرنے میں انتہائی فعال ہے یہ جگر کو خراب ہونے سے بچاتی ہے جگر میں خون صاف کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور اس کی اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں جگر کے مردہ سیلز کو مرمت کر کے دوبارہ کام کرنے کے قابل بناتی ہیں اور جسم سے فاسد مواد کے اخراج میں مفید ہے ہلدی جگر کی Metals فلٹر کرنے کی صلاحیت کو تیز کرتی ہے اور جگر سے پیدا ہونے والی بائل کی مقدار کو بھی بڑھاتی ہے

    حمل کے دوران چند احتیاطی تدابیر


    اخروٹ:
    اخروٹ انتہائی مُفید ڈرائی فروٹ ہے جس کے اندر ایسے امائنو ایسڈ ہوتے ہیں جو جگر کو ایمونیا کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اخروٹ کے اندر glutathione اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے جو جگر کی قدرتی طور پر صفائی کر دیتے ہیں اور وہ فاضل مادے جو جگر فلٹر نہیں کر پاتا فلٹر ہو جاتے ہیں
    چقندر:
    چقندر ایک انتہائی فائدہ مند سبزی ہے جو خون میں آکسیجن کی مقدار کو بڑھا کر اُسے صاف ہونے میں مدد کرتی ہے چوقندر خون میں شامل فاضل مادوں کو توڑ کر چھوٹے ذرات میں منتقل کرتی ہے جس سے خون کو فلٹر ہونے میں آسانی ہوتی ہےچقندر جگر میں موجود اینزائمز کوسٹیمولائٹ کر دیتی ہے اور اس کے موجود وٹامن سی اور فائبر جگر کے اندر جمے ہُوئے فاضل مادوں کو فلٹر ہو کر خارج کرنے میں انتہائی مدد گار ہیں
    گاجر:
    گاجر میں پلانٹ فلیوونوئیڈز اور بیٹا کیروٹین جگر کی سُستی کو ختم کرتے ہیں اور جگر کے کام کرنے کی صلاحیت کو تیز کرتے ہیں گاجر میں قدرتی وٹامن اے جگر میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کرتا ہے اور جگر کو فعال رکھتا ہے
    سیب:
    سیب بہت سی بیماریوں میں شفا ہے، سیب کے اندر ایک ایسا کیمیکل جسے پیکٹن کہتے ہیں موجود ہوتا ہے جو خُون سے فاضل مادوں کو صاف کرنے میں انتہائی مددگار ہے یہ فاضل مادوں کو توڑ کر باریک سے باریک ذرات میں منتقل کرتا ہے جس سے جگر کو خون صاف کرنے میں مدد ملتی ہے
    سبز چائے:
    سبز چائے ایک اکسیر ہے جو سارے جسم کے لیے ہی انتہائی مُفید ہے مگر یہ جگر کے لیے انتہائی مُفید ہے کیونکہ اس کے اندر موجود قُدرتی اینٹی آکسائیڈینٹ جگر کو طاقتور بناتے ہیں اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں سبز چائے کو صرف قہوے کی صورت میں استعمال کریں اور سبز چائے کے ایکسٹریکٹس نہ استعمال کریں کیوں کے یہ جگر کو نقصان پہنچاتے ہیں

  • گھر کو ہیٹر کے بغیر گرم رکھنے کی آسان تراکیب

    گھر کو ہیٹر کے بغیر گرم رکھنے کی آسان تراکیب

    بغیر ہیٹر کے گرم رکھنے کے چند آسان طریقے درج ذیل ہیں جنھیں استعمال کر کے نہ صرف آپ اپنے گھر کو جہاں قدرتی طور پر گرم رکھ سکیں گے وہاں گیس اور بجلی کی بچت بھی کر پائیں گے
    کھڑکیوں پر پلاسٹک کے پردے لگائیں گھر کی ایسی کھڑکیاں جہاں سے سُورج کی روشنی گھر میں داخل ہوتی ہے وہاں پلاسٹک کے شاور کرٹن لگائیں تاکہ سوُرج کی روشنی ان پردوں پر پڑ سکے یہ جہاں سُورج کی روشنی کو گھر یا کمرے میں داخل ہونے دیں گے وہاں دھوپ کی حدت کو اپنے اندر جذب کر کے گرم ہوجائیں گے اور گھر اورکمروں کو گرم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے دن کے وقت کھڑکیوں پر سے پردے ہٹا دیں کپڑے کے بھاری پردے جو دھوپ کی روشنی کو کمرے میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اُنہیں دن کے وقت ہٹا دیا کریں تاکہ سُورج کی روشنی کمرے میں داخل ہو سکے گھر میں زیادہ سے زیادہ دھوپ آنے دیں دن کے وقت جب سُورج کی روشنی گھر پر پڑتی ہے تو کوشش کریں کے اُسکے راستے میں آنے والی چیزوں جیسے پودے پردے یا شیڈ وغیرہ ہٹا دیں تاکہ سُورج کی روشنی گھر کو زیادہ سے زیادہ گرم کر سکے گھر کی کھڑکیاں اور روشندان اچھی طرح بند کریں

    پائن ایپل بیف منفرد لذیذ اور آسان ریسیپی


    گھر میں سرد ہوا کے داخلے کو روکنے کے لیے کھڑکیاں اور روشن دان اچھی طرح ایسے بند کریں کے اُن میں سے ہوا کا داخلہ ناممکن ہوجائے، عام طور پر ہمارے گھروں کی کھڑکیاں اور روشن دان بند ہونے کے باوجود ہوا کو پوری طرح روکنے میں ناکام ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کے ایسے موقع پر پلاسٹک کور کے ساتھ ایسی درزوں کو بند کیا جائے جہاں سے ہوا گھر میں داخل ہو سکتی ہے درواوں کے فریمز کو اچھی طرح چیک کریں اور جہاں درزیں موجود ہوں وہاں کسی ٹیپ کے ساتھ اُنہیں بند کر دیں تاکہ سرد ہوا اندر داخل نہ ہو سکے اور خاص طور پر دروازے کے نیچے والی جگہ پر کوئی کپڑایا پُرانا تولیہ وغیرہ اس طرح رکھیں کے باہر کی ہوا دروازے کے نیچے سے اندر داخل نہ ہو پائے گھر میں زیادہ سے زیادہ دھوپ آنے دیں دن کے وقت جب سُورج کی روشنی گھر پر پڑتی ہے تو کوشش کریں کے اُسکے راستے میں آنے والی چیزوں جیسے پودے پردے یا شیڈ وغیرہ ہٹا دیں تاکہ سُورج کی روشنی گھر کو زیادہ سے زیادہ گرم کر سکے غیر استعمال شُدہ کمروں کے دروازے بند رکھیں گھر کے ایسے کمرے جو استعمال میں نہیں آتے اُن کے دروازے اور کھڑکیاں اچھی طرح بند کر دیں اور انہیں بلا وجہ نہ کھولیں اس سے گھر میں موجود ہیٹ ٖضائع نہیں ہوگی فرج کو لیونگ روم میں رکھیں کوشش کریں کہ گھر کی فرج کو ایسی جگہ پر رکھیں جہاں آپکی موجودگی زیادہ ہوتی ہے فرج سے خارج ہونے والی حدت آپکے کمرے کے ماحول کو گرم کر دے گی کمرے میں کارپٹ یا رگ کا استعمال کریں سردی کے موسم میں کمروں کے فرش ٹھنڈے ہوجاتے ہیں

    لائٹ سپائسڈ پلاؤ ریسیپی


    اور ہیٹر چلانے کے باوجود کمرہ ٹھنڈا ہی رہتا ہے اس لیے کوشش کریں کے کمرے کے فرش پر کوئی رگ یا موٹا کپڑا جیسے دری یا کارپٹ وغیرہ کا استعمال کریں یہ فرش کی ٹھنڈک کو کمرے میں داخل ہونے سے روکے گا اور کمرے کی ہیٹ کو ضائع نہیں ہونے دے گا کمرے میں موم بتی جلائیں موم بتی جہاں سستی روشنی ہے وہاں یہ کمرے کو کافی گرم کر دیتی ہے اس لیے کمرے میں رات کو موم بتی جلائیں اور یاد رکھیں کہ موم بتی جلانے کے بعد اُس کی مکمل نگرانی کریں گھر کی کُچھ لائٹس جلا کر رکھیں کمرے میں لگے بلب اور ٹیوب لائٹس بھی حدت پیدا کرتی ہیں اس لیے کُچھ لائٹس جلا کر رکھیں تاکہ ماحول کو گرم کر سکیں بند کمرے میں کوئلے والی انگیٹھی یا ہیٹر ہرگز چلتا چھوڑ کر مت سوئیں وگرنہ یہ کمرے کی آکسیجن ختم کردے گا اور دم گھٹنے کا باعث بنے گا گھر میں انگیٹھی بنائیں ہلے گھروں میں عام طور پر انگٹھیاں بنائی جاتی تھیں مگر اب میدانی علاقوں میں اس کا رواج ختم ہو گیا ہے اگر آپ کے گھرمیں انگھیٹی ہے تو اُس میں آگ جلائیں اور اگر نہیں ہے تو بنا لیں اور اُس میں سستا ایندھن جو آپ گھر کی کاٹھ کباڑ سے بھی حاصل کر سکتے ہیں جلائیں مگر یاد رکھیں جب انگھیٹی جل رہی ہو تو اُس کی نگرانی کرتے رہیں

    خوش ذائقہ اور لذیذ سپیشل سویاں ریسیسپی


    کھانا پکائیں گھر میں کھانا پکانے کے دوران چولہا جلتا ہے اور گھر کو گرم کرتا ہے لہذا گھر میں کھانا پکائیں اور اگر آپ کا کچن گھر کے کمروں سے دُور ہے تو کوئی چولہا پلاسٹک پائپ کیساتھ گھر کے کمروں کے قریب رکھ لیں اور چائے وغیرہ اُس پر پکائیں اس سے بھی گھر گرم ہو گا اور کوکر میں پانی کی ہیٹ بنا کر اُس کو کمرے میں لا کر کھولیں تاکہ سٹیم سے کمرے کی ہوا گرم ہو اور ہوا میں نمی کا تناسب بڑھے کمروں کی چھت کی انسولیشن کروائیں ہمارے گھر عام طور پر موسم کی سختی سے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یہ گرمیوں میں شدید گرم اور سردیوں میں شدید سرد ہوجاتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ گھر کی چھتوں کی انسولیشن نہ ہونا ہے، گھر کی چھتوں کی انسولیشن کروائیں یہ گرمی اور سردی دونوں موسموں میں آپکے کام آئے گی

  • دانتوں کی پیلاہٹ ختم کرنے کی آسان گھریلو ٹپس

    دانتوں کی پیلاہٹ ختم کرنے کی آسان گھریلو ٹپس

    دانت شخصیت کی نمائندگی کرتے ہیں اور اگر یہ پیلے ہوں تو جہاں خود اعتمادی میں کمی کا باعث بنتے ہیں وہاں دُوسروں پر آپ کی شخصیت کا بُرا تاثر پیدا کرتے ہیں اور ان کے پیلے ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم مُنہ میں اپنی افزائش کرتے ہیں اور مُنہ کے راستے پیٹ میں جاکر صحت خراب کرتے ہیں انتوں کو موتیے جیسا سفید رکھنے کے چند آسان گھریلو ٹوٹکےمندرجہ ذیل ہیں جنھیں ااستعمال کر کے آپ بھی پُر کشش مسکراہٹ حاصل کر سکتے ہیں اور صاف سُتھرے دانتوں کیساتھ اچھی صحت قائم رکھ سکتے ہیں گھریلو ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو سفید بنانے کے علاوہ مسوڑھوں سے خون آنے اور اور سوجن ختم کرنے کے لئے بھی بے حد مفید ہے اس گھریلو ٹوٹکے میں آپ کو مندرجہ ذیل اشیاء کی ضرورت ہو گی
    اجزاء:
    میٹھا سوڈا پانچ چائے کے چمچ
    پودینے کا تیل پانچ چائے کے چمچ
    ویجیٹیبل گلیسرین دو قطرے
    نمک ایک چائے کا چمچ

    ترکیب:
    پانچ چائے کے چمچ میٹھا سوڈا پانچ چائے کے چمچ پودینے کا تیل دو قطرے ویجیٹیب گلیسرین اور ایک چائے کا چمچ نمک ان سب کو مکس کر کے ایک بوتل میں مفوظ کر لیں روزانی اس پیسٹ سے دانت صاف کریں دانتوں سے تمام مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا

    دانتوں کی صفائی کرنے والا روبوٹ


    تیل کی کلی کریں:
    طب ایوردیک اور طب یونان میں دانتوں کی صفائی اور دانتوں سے پیلاہٹ ختم کرنے کے لیے یہ طریقہ صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے اور اس سےمُنہ کے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں، منہ کے جراثیم ہی دانتوں کو پیلا کرنے کا اور مُنہ میں بدبو کا باعث ہوتے ہیں لہذا کسی بھی آئل کو ایک کھانے کا چمچ لیکر(گری کا تیل زیادہ مُفید ہے) منہ میں اچھی طرح کلی کریں اور دانتوں پر ملیں اور 10 سے 15 منٹ اسے منہ اور مسوڑھوں پر لگا رہنے دیں اور بعد میں کلی کرکے ٹوٹھ پیسٹ کے ساتھ برش کر لیں چند ہی دنوں کے اس عمل سے آپ کے دانت موتیے کی طرح سفید ہوجائیں گے اور مُنہ کی باس ختم ہو جائے گی
    کچی سبزیاں سلاد اور پھل کھائیں:
    کچی سبزیاں جیسے سلاد وغیرہ میں استعمال ہونے والی سبزیاں اور پھل جیسے سیب کینو مالٹا سٹرابری وغیرہ چبا چبا کر کھانے سے جہاں مُنہ کے جراثیموں سے نجات ملتی ہے وہاں انہیں کھانا دانتوں کے داغوں کو ختم کرنے کا باعث بنتا ہے
    ریگولر دانتوں کا خلا کریں:
    روازنہ بُرش کرنا اور دانتوں کا خلا کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے روزانہ کھانا کھانا، دھاگے کیساتھ دانتوں کا خلا کریں تاکہ دانتوں کے درمیان پھنسے ہُوئے خوراک کے ذرات صاف ہوجائیں

    دانتوں کی چمک برقرار رکھنے کے لئے چند آسان ٹپس


    درخت کی چھال اور مسواک سے دانت صاف کریں:
    یہ طریقہ بھی صدیوں پُرانا ہے اور انتہائی آزمودہ ہے درخت کی نرم چھال دانتوں کے داغ اور پیلاہٹ ختم کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی اور روزانہ دو سے تین دفعہ اس چھال سے دانت صاٖف کرنے سے دانت سفید موتیے کی طرح چمکنے لگتے ہیں
    مسواک کرنے کے فائدے گنتی میں نہیں لائے جاسکتے اور مسواک کی افادیت انسان نے اپنی ابتدا میں ہی دریافت کر لی تھی اور روزانہ ہر نماز سے پہلے مسواک کرنا جہاں مُنہ کے تمام جراثیموں کا خاتمہ کرنے کا باعث بنتا ہے وہاں مُنہ میں مہک پیدا کرتا ہے اور دانتوں کی پیلاہٹ کو چند ہی دنوں میں ختم کر دیتا ہے
    بیکنگ سوڈے یا میٹھے سوڈے سے بُرش کریں:
    بیکنگ سوڈا جراثیم کا خاتمہ کر دیتا ہے اور بیکنگ سوڈے والے ٹوتھ پیسٹ یا صرف بیکنگ سوڈے کیساتھ بُرش کرنا دانتوں کی چمک اور سفیدی واپس لے آتا ہے لہذا دن میں کم از کم دو دفعہ بیکنگ سوڈے کیساتھ بُرش کریں
    سیب کا سرکہ:
    سیب کا سرکہ جراثیم کو ختم کرنے کے لیے انتہائی کارآمد چیز ہے سیب کے سرکے کے ساتھ کلی کرنا مُنہ کے جراثیم کو ختم کردیتا ہے اور دانتوں کی پیلاہٹ صاف کر دیتا ہے مگر یاد رکھیں کے اسے ہفتے میں دو تین بار سے زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ سرکے کا زیادہ استعمال دانتوں کی پالش خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے

    وزن کم کرنے کے آسان طریقے


    کیلشیم سے بھرپور کھانے کھائیں:
    صحت مند غذا جس میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو جہاں دانتوں کو پیلاہٹ سے محفوظ رکھتی ہے وہاں یہ ہماری صحت پر انتہائی مثبت اثرات پیدا کرتی ہے لہذا کیلشیم سے بھرپُور کھانوں کا استعمال زیادہ کریں
    ہائیڈروجن پر آکسائیڈ:
    ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کسی بھی میڈیکل سٹور سے آسانی سے مل جاتی ہے اور ہائیڈروجن پر آکسائیڈ صدیوں سے بلیچینگ کے لیے استعمال ہو رہی ہے آپ اسے بطور ماوتھ واش استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بیکٹریا کا خاتمہ کر دیتی ہے اور اسے بیکینگ سوڈے میں شامل کر کے اپنی ٹوٹھ پیسٹ بنا سکتے ہیں جس سے دانتوں کے داغ کُچھ ہی دنوں میں غائب ہوجائیں گے اور دانت سفید موتیے کی طرح چمکنے لگیں گے
    لیموں کے عرق سے کلی کریں:
    لیموں کا رس نکال کر پانی میں اچھی طرح حل کر لیں دن میں دو بار برش کر لیں آخر میں لیموں کے پانی کی کلی کر لیں لیموں کے چھلکے کا سفوف بنالیں پھر اسر پانی میں مکس کر کے اس پیسٹ دانتوں کی مالش کر کے کلی کریں چند ہی دنوں میں دانت موتیوں کی طرح سفید ہو جائیں گے

  • وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں

    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں

    وٹامن سی ہمارے جسم میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے یہ ہارمونز کو درست رکھتا ہے پروٹین بناتا ہے، جسم کے لیے ضروری امائنو ایسڈ بناتا ہے ہماری ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے خون لیجانے والی شریانوں کو تندرست رکھتا ہے، زخموں کو بھرتا ہے، جلی ہُوئی جلد کو ٹھیک کرتا ہے، وٹامن سی آینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے وغیرہ وغیرہ ہمارے مُلک پاکستان کا شُمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے اور مناسب خوراک نہ کھانے کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کی جسمانی نشوونما تکمیل نہیں پاتی اور خوراک اور وٹامنز کی کمی انہیں بہت سے بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہے

    اسلامی اصولوں کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے چند سنہرے اصول


    وٹامن سی کا استعمال کافی پرانا ہے اوراب تو بہت عام ہو گیا ہے مغربی ماہرین جلد کا کہنا ہے خون میں جو پانی والا حصہ ہے اس کے لیے وٹامن سی بہت مفید ہے چونکہ وٹامن سی کو انسانی جسم میں سٹور نہیں کیا جا سکتا ہے اس لیے اد کا استعمال براہ راست جلد پر ہی مفید ہے اس وقت میں اسے سب سے پہلے وائٹننگ کریم میں استعمال کیا گیا ہے تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ جلد کی عمر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھتا ہے آلودگی اور دھوئیں سے جلد پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے بھی بچاتا ہے اس کے باوجود کچھ اندیشے بھی ہیں ڈاکٹر انگ کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کے تمام تجربات جو چوہوں پر کیے گئے اس سے یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ جلد کی عمر کو بڑھنے سے روکتا ہے مگر اس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی کتنی مقدار لی۔جائے ڈاکٹر لم نے کہا اگر وٹامن سی کو انسانی جلد پر کارآمد بنانا ہے تو اس میں۔زیادہ سے زیادہ تیزابیت ہونا ضروری ہے اگر ایسا نہیں ہو گا تو یہ کام نہیں کرے گا اس کی وجہ سے رنگت سرخ۔اور خارش زدہ بھی ہو سکتی ہے اب کے باوجود بہت سے مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیاں اس بات پر بضد ہیں کہ ان سے بہر حال قابل ذکر فائدہ ہو رہا ہے میڈیکل یونیورسٹی نے ایک فیس لفٹ بنائی جس میں وٹامن سی سیرم استعمال کیا گیا ہے اس فیس لفٹ کے استعمال کا یہ نتیجہ نکلا کہ یہ خواتین کے چہرے کی جلد پر اچھے اثرات چھوڑتی ہے اور ستر فیصد خواتین کے معاملےمیں مثبت پیش رفت ہو ئی ہے

    مہمان اللہ کی رحمت ، جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں اللہ کی رحمت برستی ہے


    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں درج ذیل ہیں
    کھردری اور ناہموای جلد:
    وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہے وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے

    ایک سال اور اس سے چھوٹی عمر کے بچوں میں اچانک موت کی بڑی وجہ


    بالوں کی جڑوں میں سرخ نشان
    جلد پر بالوں کی جڑوں کے ساتھ خون کی باریک نالیاں ہوتی ہیں جو جلد کے اُس حصے کو خون اور نیوٹرنٹس مہیا کرتی ہیں اور جب جسم وٹامن سی کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو یہ باریک نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں اور بالوں کی جڑوں پر باریک سُرخ نشان نمایاں ہو جاتے ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے جسے متواتر 2 ہفتے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹس کھانے سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے

    چند اہم روز مرہ گھریلو چیزیں اور ان کا مدت استعمال


    دل کی بیماریاں:
    وٹامن سی جسم کا اہم پانی میں حل پزیر اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتا ہے اور تکسیدی تناؤ سے پیدا ہونے والے ریڈکلز کو اعضا خراب نہیں کرنے دیتا اور جسم کو سوزش سے بچاتا ہے وٹامن سی کی کمی دل کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو اس وٹامن کا کم استعمال کرتے ہیں اُن میں 40 فیصد ہارٹ فیل ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں
    تھکاوٹ اور موڈ کا خراب ہونا:
    یہ وٹامن سی کی کمی کی دو ایسی علامات ہیں جو اس وٹامن کی کمی کی صورت میں فوراً ظاہر ہوتی ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چڑاچڑا پن اور تھکاؤٹ وٹامن سی کی کمی کی ابتدائی علامات ہیں جنہیں فوراً پیچان کر اس کمی کو دُور کرلینا چاہیے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے وٹامن سی اور آئرن کی کمی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اس کمی سے چہرہ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اُس کی سُرخی غائب ہو جاتی ہے، ورزش کے دوران سانس پھولتا ہے اور جسم جلد تھکاؤٹ کا شکار ہو جاتا ہے، اور اکثر سردرد کی شکائت رہتی ہے
    وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو قوت مدافعت کو طاقتور بناتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے اور اس وٹامن کی کمی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے اور وٹامن سی کی کمی کے شکار لوگ انفیکشنز اور جراثیموں سے پیدا ہونے والی دُوسری بیماریوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں اور قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے خُود بخود ٹھیک نہیں ہوتے

    بچوں کی عزت کریں بلاوجہ سختی بچوں کی اخلاقی تربیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے


    وٹامن سی جسم میں چربی کو پگھلاتا ہے ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں سوزش پیدا نہیں ہونے دیتا ماہرین کی تحقیقات کے نتائج کے مطابق وٹامن سی کی کمی جسم میں چربی پیدا کرتی ہے خاص طور پر پیٹ کے اوپر
    جلد پر الرجی اور داغ اُس وقت پڑتے ہیں جب جلد کے نیچے خون فراہم کرنے والی نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی ایک بڑی نشانی ہے، جلد پر یہ الرجی سارے جسم پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے اور جسم کے کسی خاص حصے پر بھی ظاہر ہوتی ہے جلد کی اس خرابی کی صورت میں وٹامن سی سے بھرپور کھانے کھانا جیسے سٹرس فروٹس وغیرہ اور وٹامن سی کے سپلیمنٹس کا استعمال جسم کی اس کمی کو پُورا کر دیتا ہے وٹامن سی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور معمولی چوٹ سے ہڈی ٹُوٹ سکتی ہے وٹامن سی کی کمی کولاجن کی پیداوار کو کم کرتی ہے اور کولاجن جلد پر زخموں کو جلد ٹھیک کرنے میں انتہائی مدد گار ہوتا ہے اور اس کی کمی زخموں کے بھرنے کا عمل سُست کر دیتی ہے وٹامن سی کی شدید کمی پُرانے زخموں کو پھر سے ہرا کر دیتی ہے اورعام طور پر ایسا کئی مہینے وٹامن سی کی مناسب مقدار نہ کھانے سے ہوتا ہے کولاجن پروٹین جوڑوں کو تندرست رکھنے میں قلیدی کردار ادا کرتی ہے اور کولاجن اور وٹامن سی کی کمی جوڑوں میں درد کا باعث بنتے ہیں

    چہل قدمی خواتین کے لیے انتہائی ضروری چہل قدمی ڈپریشن ختم کرتی ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے


    اور اس کمی سے چلنےپھرنے سے بھی جوڑوں میں تکلیف پیدا ہوتی ہے اور بغض دفعہ جوڑوں میں بلیڈینگ کی وجہ سے تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا ہےا ور سوزش پیدا ہوتی ہےعام طور پر اس بیماری میں متواتر ایک ہفتے تک وٹامن سی کا زیادہ استعمال اس بیماری کو ختم کر دیتا ہے مسوڑھوں کی سوزش اور مسوڑھوں سے خون کا آنا وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے اور اس وٹامن کی زیادہ کمی مسوڑھوں کو جامنی اوربوسیدہ کر دیتی ہے جس سے دانت مسوڑھوں میں ٹک نہیں پاتے اور کمزور ہو کر گر جاتے ہیں صحت مند جلد میں وٹامن سی کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور وٹامن سی جلد کو سُورج کی روشنی اور دُوسری جلد کو متاثر کرنے والی چیزوں سے بچا کر رکھتا ہے اور جلد پر ایک فائر وال کی طرح کام کرتا ہے وٹامن سی کی کمی جلد کو خُشک اور ڈیمج کرتی ہے اور اس کمی سے جلد کی صحت کے لیے ضروری پروٹین کولاجن کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور جلد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کا زیادہ استعمال جلد کو تروتازہ اور جوان رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہےجلد کی خُشکی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے

    انگلیوں کی حرکات کے دماغ پر براہ راست اثرات


    مگر یہ کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے لہذا جلد کے ڈیمج اور خُشک ہونے کو صرف وٹامن سی کی کمی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا وٹامن سی کی کمی کولاجن کی پیداوار کو کم کرتی ہے اور کولاجن جلد پر زخموں کو جلد ٹھیک کرنے میں انتہائی مدد گار ہوتا ہے اور اس کی کمی زخموں کے بھرنے کا عمل سُست کر دیتی ہے وٹامن سی کی شدید کمی پُرانے زخموں کو پھر سے ہرا کر دیتی ہے اورعام طور پر ایسا کئی مہینے وٹامن سی کی مناسب مقدار نہ کھانے سے ہوتا ہے وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہےوٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے وٹامن سی جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی کمی آئرن کی کمی کا بھی باعث بنتی ہے اور ان دونوں کی کمی ناخنوں کو کمزور کر دیتی ہے، ناخن ٹُوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور ناخنوں پر سفید اور سُرخ رنگ کی لکیریں نمایاں ہونی شروع ہو جاتی ہیں ناخنوں کی ساخت میں تبدیلی وٹامن سی اور آئرن کی کمی کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہیں اور اس مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے وٹامن سی کی کمی سے جسم پر اُگنے والے بالوں سیدھے نہیں رہتے اور بالوں میں الجھنیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ بالوں کی صحت کو قائم رکھنے والی پروٹین کی ساخت وٹامن سی کی کمی سے تبدیل ہو جاتی ہے بالوں کی ساخت میں یہ تبدیلی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے اس سے بال رُوکھے اور کمزور ہوکر گرنا شروع کر دیتے ہیں بالوں کی یہ کمزوری مسلسل ایک مہینے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور ہو جاتی ہے

  • ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے

    ڈراونے خواب کیوں آتے ہیں ان سے بچنے کے چند طریقے
    سونے کے دوران خواب ہمارے دماغ میں پیدا ہونے والے ایسے خیالات ہیں جنہیں ہم نیند کے دوران دیکھ بھی سکتے ہیں یہ خیالات عام طور پر ہماری مرضی کے بغیر پیدا ہوتے ہیں اور ان پرعام طور پرانسان کا کنٹرول نہیں ہوتا اسی لیے ہمیں جہاں اچھے خواب نظر آتے ہیں وہاں اکثر اوقات بُرے خواب ہمیں خوفزدہ بھی کر دیتے ہیں آج کی ماڈرن سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نیند کے دوران بُرے خوابوں سے کیسے بچ سکتے ہیں

    شادی کس عمر میں کرنی چاہیے؟


    خواب کی اقسام:
    امام محمدبن سیرین رحمة اللہ علیہ نے فرمایا خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ایک حدیث نفس ( دلی خیالات کا انعقاس) دوسرے تخویف شیطان تیسرے مبشرات خداوندی اس تقسیم سے ظاہر ہے کہ خواب کی۔تمام اقسام صحیح قابل تعبیر اور درخور التفاف نہیں ہوتے لکہ تعبیر و اعتبارکے لائق خواب کی وہی قسم ہے جو حق تعالی کی۔طرف سے بشارت و علام ہو حدیث نفس کی مثال یہ ہے کہ کوئی۔شخص ہر کام یا حرفہ کرتا ہے وہ خواب میں محروم الوصال جو ہر وقت اپنے محبوب کی یاد میں اور خیال میں مستغرق رہتا ہے وہ خواب میں بھی عموماً وہی چیز دیکھے گا جس میں دن بھر منہمک رہتا ہے یا کوئہ عاشق محروم الوصال جو ہر وقت اپنے محبوب کی یاد میں اور خیال میں مسغرق رہتا ہے وہ خواب مکں بھی عموماً اسی کو دیکھتا ہے سچا لواب اس لیے دکھایا جاتا ہے کہ بندہ محفوظ اورطلب حق اور محبت الہی میں زیادہ سرگرم کار ہو ایسا خواب قابل تعبیر ہے اوراسی پر بڑے بڑے نتائج مرتب ہوتے ہیں

    قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق


    اچھے و برے خواب:
    گو خواب کی پیدائش و رویت دونوں امور منجانب اللہ سرزد ہوتے ہیں تاہم علماء نے لکھا ہے کہ اچھا خواب حضرت احدیث کی طرف سے بشارت ہوتی ہے تاکہ بندہ اپنے مولا کریم کے ساتھ حسن ظن میں راسخ الاعتقاد ہو جائے اور یہ بشارت مزید شکر و امتنان کا باعث ہو جھوٹا اور مکروہ خواب شیطانی القاء سے ہوتا ہے اس القاء سے شیطان کی غرض مومن کو ملول و محزون کرنا ہے چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی جانب سے پس جب کو شخص پسندیدہ خواب دیکھے تو اسے صرف اس شخص سے بیان کرے جس سےمحبت اور اعتقاد ہے اور جب مکروہ خواب دیکھے تو حق تعالی سے اس خواب کے شر اور شیطان کے فتنے سے پناہ مانگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بقصد دفع شیطان اپنےبائیں طرف تین بار تھتکارے اور ایسا خواب کسی سے بیان نہ کرے اس حالت میں برا خواب کوئی ضرر نہ دے گا ضرر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ حق تعالی نے افعال مذکورہ کو رنج و غم سے محفوظ رہنے کا سبب گردانا ہے جیسا کہ صدقہ کو تحفظ مالی اور دفع بلیات کا ذریعہ بنایا ہے

    ہُد ہُد کی خوبی


    خوشبو:
    ماہرین کی ایک تحقیق کے مُطابق نیند کے دوران اچھی خُوشبو سونگھنا اچھے اور پازیٹیو خواب دیکھنے میں مددگار ہوتا ہے اور اسی طرح نیند کے دوران سلفر کی بُو آپ کو بُرے خواب دیکھا سکتی ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی خُوشبو جو آپ سونے سے پہلے کمرے میں سپرے کر دیتے ہیں آپ کے خوابوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ وہ خوشبو جو سونے کے دوران اچانک پیدا ہو جیسے کچن میں کسی کھانے کی خُوشبو اچانک آپ کے کمرے میں داخل ہو یا سونے کے دوران کوئی آپ کے پاس ہلکی خُوشبو والے پھول رکھ دے تو ایسی خُوشبو جہاں آپ کی نیند کو متاثر نہیں کرے گی وہاں ایسی خُوشبو صلاحیت رکھتی ہے کہ آپ کے خواب میں داخل ہوجائے اور آپکے خواب کو خوبصورت بنا دے
    آوازیں :
    آپکا خواب اتنی دیر تک ہی قائم رہتا ہے جتنی دیرتک آپ نیند میں ہوتے ہیں اور نیند سے بیدار ہوتے ہی خواب ٹوٹ جاتا ہے جو لوگ گھڑی پر آلارم لگا کر سوتے ہیں اُنہیں تیز الارم کی آواز نیند میں سُنائی دیتی ہے اور اگر وہ اس دوران کوئی خواب دیکھ رہے ہوں تو آلارم کی آواز اُن کے خواب کو متاثر کرتی ہے اور اگر وہ اس آواز سے بیدار نہیں ہوپاتے تو یہ آواز بُرے خواب دیکھنے کی وجہ بن سکتی ہے اور اُنہیں نیند میں بے چین کر سکتی ہےدھیمی خُوشگوار اور مدھم آوازیں آپ کے خواب اور نیند کو بہتر بناتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص فریکونسی کی آوازیں آپکو مختلف طرح کے خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جن میں 528 Hz میوزک کی لہریں آپکو خواب میں خوبصورت جگہوں پر لیجاتی ہیں اور 8Hz آپکو لوسیڈ خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں

    پیار عزت اور کیئر ایک اچھے اور صحت مند معاشرے اور نسلوں کی اچھی تربیت کی بنیاد


    تمباکو نوشی اور کفین:
    زیادہ سیگرٹ پینے والے حضرات اور وہ لوگ جو رات کو چائے یا کافی پیتے ہیں یا کوئی اور ایسے ڈرنکس پیتے ہیں جن میں کیفین کی مقدار شامل ہوتی ہے اچھی نیند حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور سونے کے دوران اکثر خوفزدہ کرنے والے خواب دیکھتے ہیں اچھے خواب دیکھنے کے لیے آپکو فوراً تمباکو نوشی چھوڑ دینی چاہیے اور دوپہر 2 بجے کے بعد چائے کافی وغیرہ سے پرہیز کرنی چاہیے
    ڈراونی فلمیں دیکھ کر سونا:
    ڈروانی فلمیں کہانیاں اور ناؤل وغیرہ آپکے دماغ کو متاثر کرتی ہیں خاص طور پر ایسی فلمیں جن میں زور دار قسم کے ساونڈ ایفکٹس استعمال کیے جاتے ہیں آپ کی نیند اور خوابوں کو پریشان کر سکتی ہیں
    تیز مرچ اور مصالحے:
    تیز مرچ اور مصالحے آپ کے معدے میں ہلچل پیدا کرتے ہیں اور معدے کی یہ ہلچل نیند میں بُرے خواب آنے کا باعث بنتی ہے اور اگر بُرا خواب دیکھنے کے بعد پانچ منٹ کے اندر آپ کو جاگ آجائے جو عام طور پررات کو تیز مرچ مصالحے کھانے والوں کو آ ہی جاتی ہے تو ایسی صورت میں آپکو وہ بُرا خواب یاد ہوجاتا ہے اور کئی دنوں تک ذہن نشین رہتا ہے اور پریشان کرتا ہے رات کا کھانا سونے سے 2 گھنٹے پہلے کھا لینا چاہیے اور رات کے کھانے میں ہلکا پھلکا کھانا یعنی جلد ہضم ہونے والا کھانا آپ کو اچھا خواب دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

    ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھناچاہئے


    وٹامن بی 6 کے سپلیمنٹ استعمال کرنے والوں کو زیادہ اُجاگر خواب آتے ہیں اور اُن کے خواب شوخ بھی ہوتے ہیںاگرچہ اس چیز کو ثابت کرنے کے لیے میڈیکل سائنس کے پاس زیادہ ثبوت نہیں ہیں مگر وٹامن بی 6 ہمارے جسم کے اندر امائینو ایسڈ کو نیورو ٹرانس میٹرز میں تبدیل کرتا ہے جو ہمارے خوابوں کو رنگین بنانے کا باعث بنتے ہیں وٹامن بی 6 کی زیادہ مقدار اعصاب کو متاثر کر سکتی ہے
    بھوکے پیٹ سونا:
    بھوکے پیٹ سونا آپ کی نیند کو متاثر کرتا ہے پھوکے پیٹ آپ کی بلڈ شوگر کم ہوتی ہے جو آپ کو جگائے رکھتی ہے اور چند لمحے اگر آپ سوتے ہیں تو جو خواب آپ دیکھیں گے وہ جاگنے کے بعد آپکو یاد ہوجاتے ہیں اور اس دوران اگر بُرا سپنا دیکھ لیں تو وہ زیادہ دیر تک یاد رہتا ہے بھوکے پیٹ سونے سے کھانوں کے خواب بھی زیادہ آتے ہیں، طبیب حضرات خالی پیٹ سونے سے منع کرتے ہیں اور اکثر ہدایت کرتے ہیں کہ ہلکا پھلکا کھانا کھا کر سونا چاہیے
    نہا کر سونا:
    رات کو سونے سے پہلے غُسل کرنے سے آپ پاک صاف ہوجاتے ہیں اور سونے کے لیے آرام دہ لباس پہننے سے اچھی نیند آنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں اور پاک صاف ہونے کی وجہ سے شیطانی قوتیں آپ پر اثر انداز نہیں ہوتیں اور آپ کے خوابوں کو خراب نہیں کرتیں چنانچہ آپ کو اچھے خواب آنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں

    تحریک پاکستان میں مسلم خواتین کا کردار بہادری اور جذبہ آج کی عورتوں کے لیے مثالی نمونہ


    اینٹی ڈپریشن میڈیسن کے اثرات:
    ڈیپریشن آجکل ایک عام مرض ہے جو بہت سے لوگوں کو لاحق ہو رہا ہے ایسی صورت میں ڈاکٹرز ڈیپریشن دُور کرنے کے لیے جو ادویات تجویز کرتے ہیں تحقیق کے مُطابق یہ ادویات جہاں دُوسرے سائیڈ ایفیکٹس رکتھی ہیں وہاں ان کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ بھی ہے کہ اس سے بُرے خواب آتے ہیں رات کو سونے سے پہلے مناسب ورزش کرنے سے بھی ڈیپریشن پر قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ ورزش جہاں آپ کے جسم کے لیے مُفید ہے وہاں اس سے دوران خون نارمل ہوتا ہے جو اچھے خواب لانے کا باعث بنتا ہے
    اُلٹا سونا:
    اُلٹا سونے سے معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور اُلٹا سونے سے سانس لینے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے اور ایسی صورت میں آپ کے خواب پریشان کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔ دائیں یا بائیں طرف کروٹ لیکر سونے اور سیدھے سونے والوں کو اچھے خواب آنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں