Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • ایران میں شہید 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور پہنچ گئیں، نماز جنازہ آج ادا ہوگی

    ایران میں شہید 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور پہنچ گئیں، نماز جنازہ آج ادا ہوگی

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان )ایران میں شہید 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور پہنچ گئیں، نماز جنازہ آج ادا ہوگی،ایران میں شہید ہونے والے 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور پہنچا دی گئی ہیں، جنہیں مقامی انتظامیہ نے لواحقین کے حوالے کر دیا ہے۔

    ان میں سے 5 شہیدوں کی نماز جنازہ آج صبح 9 بجے خانقاہ شریف بوائز ہائی سکول میں ادا کی جائے گی، جبکہ بقیہ 3 شہیدوں کے جنازے احمد پور شرقیہ اور رنگپور میں ان کے آبائی دیہات میں ادا کیے جائیں گے۔

    ایران میں قتل کیے گئے 8 پاکستانی شہریوں کی میتیں پاکستان پہنچا دی گئیں۔ ان افراد کو 12 اپریل کو ایران کے سرحدی صوبے سیستان کے علاقے مہرستان میں مسلح افراد نے ایک ورک شاپ میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

    جاں بحق ہونے والوں میں سے 7 کا تعلق بہاولپور کے علاقے خانقاہ شریف سے تھا جبکہ ایک کا تعلق ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد سے تھا۔ ان میتوں کو رات گئے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایران سے اسلام آباد منتقل کیا گیا اور پھر وہاں سے بہاولپور پہنچایا گیا۔ بعد ازاں ایمبولینسوں کے ذریعے میتیں ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئیں۔

    یہ بدقسمت افراد موٹر مکینک تھے اور ایرانی صوبے سیستان میں ایک ورک شاپ پر کام کرتے تھے۔ پاکستانی سفیر نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد عامر، محمد دلشاد، محمد ناصر، ملک جمشید، محمد دانش، محمد نعیم، غلام جعفر اور محمد خالد کے ناموں سے کی تھی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمانہ فعل اور اسلامی تعلیمات، قانون اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس جرم کے مرتکب افراد کی شناخت اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

  • بہاولپور جرنلسٹ ایسوسی ایشن کا اجلاس، حقوق و تنظیم سازی پر اتفاق

    بہاولپور جرنلسٹ ایسوسی ایشن کا اجلاس، حقوق و تنظیم سازی پر اتفاق

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن بہاولپور ڈویژن کا ایک اہم اجلاس مقامی دفتر میں منعقد ہوا، جس میں صحافیوں کو درپیش مسائل، پیشہ ورانہ تربیت اور تنظیمی استحکام پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    اجلاس کی صدارت ایسوسی ایشن کے نائب صدر جنوبی پنجاب ڈاکٹر سید کاشف بخاری نے کی جبکہ انفارمیشن سیکریٹری ملک جمشید عطا، سینئر صحافیوں اور مختلف شہروں کے نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    اجلاس میں متفقہ طور پر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ وقار میں اضافے کے لیے جلد ہی کارڈز کی تقسیم اور نوٹیفیکیشن کی ایک پروقار تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، تنظیمی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور اندرونی معاملات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل پر بھی غور کیا گیا۔

    صدر بہاولپور ڈویژن چوہدری عثمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور اس کے وقار کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن اپنے ممبران کی فلاح و بہبود اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔

    اجلاس کے اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کے بعد اجلاس ختم ہوا۔

  • اوچ شریف: ٹریکٹر کی چنگاری سے چھ ایکڑ گندم راکھ، ریسکیو نے بڑے نقصان سے بچایا

    اوچ شریف: ٹریکٹر کی چنگاری سے چھ ایکڑ گندم راکھ، ریسکیو نے بڑے نقصان سے بچایا

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے چکی مراد میں گندم کی کٹائی کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں اکرم خان ولد شریف خان کی چھ ایکڑ پر کھڑی گندم کی فصل آگ کی لپیٹ میں آ کر مکمل طور پر جل گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آگ ٹریکٹر کے فرنٹ پر نصب ریپر سے نکلنے والی ایک چنگاری کے باعث بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور اپنی بروقت کارروائی سے تقریبا ً40 ایکڑ پر محیط مزید فصل کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔ اس مشکل گھڑی میں مقامی کسانوں اور دیگر افراد نے بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر آگ بجھانے میں بھرپور تعاون کیا۔

    ماہرین زراعت کے مطابق، گندم کی کٹائی کے دوران استعمال ہونے والی مشینری کی مناسب دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ متاثرہ کسان مالی امداد کے لیے حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔

  • اوچ شریف: فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے عظیم الشان احتجاجی ریلی

    اوچ شریف: فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے عظیم الشان احتجاجی ریلی

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے دھوڑکوٹ میں عظیم روحانی پیشوا پیر سید شیر شاہ حقانی کی قیادت میں فلسطینی بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جن میں معزز علماء کرام، مقامی دکاندار، نوجوان، بزرگ اور طلبہ شامل تھے۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف کے نواحی علاقے دھوڑکوٹ میں معروف روحانی شخصیت پیر سید شیر شاہ حقانی کی قیادت میں فلسطینی مظلوموں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک تاریخی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس نے علاقے کی فضاؤں کو لبیک یا اقصیٰ اور مردہ باد اسرائیل کے نعروں سے گونجا دیا۔ ریلی میں مقامی علماء کرام مولانا طاہر زمان، استاد ریاض، جام اشرف سمیت سیاسی، سماجی و مذہبی حلقوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ عوام کا جذبہ دیدنی تھا، نوجوانوں نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔

    ریلی کا ایک اہم اور تاریخی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب مقامی دکانداروں نے پیر سید شیر شاہ حقانی کی موجودگی میں احتجاجاً اسرائیلی ساختہ مشروبات کو سڑک پر لا کر توڑ دیا۔ بوتلوں کے ٹکڑے سڑک پر بکھر گئے اور عوام نے نعرے بلند کرتے ہوئے ان مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر شرکاء کی آنکھوں میں فلسطینی مظلوموں کے لیے درد اور غصہ نمایاں تھا۔

    علماء کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ اسرائیلی مظالم دنیا کی تاریخ کا سیاہ باب ہیں، اور مسلم امہ کی خاموشی مزید المیے کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو کر قبلۂ اول اور مظلوم فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے مضبوط حکمت عملی اختیار کریں۔

    پیر سید شیر شاہ حقانی نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "یہ وقت خوابِ غفلت سے جاگنے کا ہے۔ جو قومیں مظلوموں کا ساتھ نہیں دیتیں، تاریخ اُنہیں معاف نہیں کرتی۔ آج ہم نے نہ صرف آواز بلند کی ہے بلکہ عملی طور پر اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے دشمن کو پیغام دیا ہے کہ مسلمان جاگ چکا ہے۔”

    ریلی کے اختتام پر پیر سید شیر شاہ حقانی نے انتہائی رقت آمیز دعا کرائی، جس میں فلسطینی شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی شفا، اور امتِ مسلمہ کی بیداری کے لیے دعائیں کی گئیں۔ عوام کی آنکھیں اشکبار تھیں اور دلوں میں ایک نئی بیداری کی چنگاری سلگ رہی تھی۔

  • اوچ شریف: پرنس بہاول عبّاس عبّاسی کا دورہ، عوامی پذیرائی اور تعزیتی ملاقاتیں

    اوچ شریف: پرنس بہاول عبّاس عبّاسی کا دورہ، عوامی پذیرائی اور تعزیتی ملاقاتیں

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان)ولی عہد امیر بہاولپور پرنس بہاول عبّاس عبّاسی نے اوچ شریف اور گردونواح کا دورہ کیا، جہاں عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ پرنس بہاول عبّاس خان عبّاسی نے موضع کوٹ خلیفہ اور دیگر مقامات پر پہنچ کر مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور تعزیتی دورے بھی کیے۔ انہوں نے ملک عظیم بخش کھنڈ اور سردار اللہ ڈتہ بھٹہ مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

    دورے کے دوران شہریوں نے پھول نچھاور کر کے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ معروف سیاسی و سماجی رہنما ملک محمد وسیم کھنڈ کی قیادت میں علاقہ عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے پرنس بہاول عبّاس کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر سردار محمد یحییٰ خان کلاچی، سمیع اللہ عبّاسی، ملک خادم حسین، غلام فرید، امیر بخش، عبدالرشید، اجمل شاہ گیلانی، ساجد حسین، محمد عثمان، صابر حسین، ندیم کھنڈ، محمد یار بھٹہ، محمد اسلم بھٹہ و دیگر معززین بھی شریک تھے۔

    علاقائی سطح پر اس دورے کو عوامی پذیرائی اور سیاسی رابطوں کے حوالے سے خاص اہمیت دی جا رہی ہے، جو پرنس بہاول عبّاس عبّاسی کی عوامی مقبولیت اور اثرورسوخ کا مظہر ہے۔

  • اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

    اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف کی ایک ہونہار اور باصلاحیت بیٹی، امِ ایمن بنت مہر غلام ربانی کاٹھیہ نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) ملتان کیمپس کے زیرِ اہتمام منعقدہ انٹر کالجز آرٹ کمپیٹیشن میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندان اور آبائی شہر اوچ شریف بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے لیے باعث فخر لمحہ پیدا کر دیا ہے۔

    15 اپریل 2025 کو منعقد ہونے والے اس قومی سطح کے باوقار مقابلے میں ملک بھر کے نامور تعلیمی اداروں کے ذہین طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ سخت مقابلے اور ججز کے لیے مشکل ترین فیصلہ کن لمحات کے باوجود امِ ایمن کا تخلیقی فن پارہ، رنگوں کے ذریعے اپنی کہانی بیان کرنے کا بے مثال ہنر اور دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لینے والی فنکارانہ مہارت سب پر غالب آ گئی۔ ان کی اس شاندار اور منفرد کارکردگی پر NUML ملتان کیمپس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) اسد رضا نے انہیں خصوصی "سرٹیفیکیٹ آف اپریسی ایشن” پیش کیا اور ان کی بے پناہ قابلیت اور انتھک محنت کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

    امِ ایمن جو اس وقت KIPS کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، بچپن ہی سے فنونِ لطیفہ میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کی یہ شاندار کامیابی نہ صرف تعلیمی میدان میں اوچ شریف کے ٹیلنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ شہر کے نوجوانوں اور بالخصوص طالبات کے لیے ایک روشن مثال اور فخرکا باعث بنی ہے۔

    اوچ شریف کے شہریوں، اساتذہ کرام اور مختلف سماجی حلقوں نے امِ ایمن کی اس غیر معمولی کامیابی پر دلی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستقبل کا ایک درخشاں ستارہ قرار دیا ہے۔ ان کے والد مہر غلام ربانی کاٹھیہ نے اپنی پیاری بیٹی کی اس شاندار فتح کو اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور اساتذہ کی دعاؤں کا ثمر قرار دیا۔

    یہ شاندار کامیابی اس پختہ یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر دل میں سچا جذبہ، انتھک محنت اور بلند حوصلہ ہو تو چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑے سے بڑے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ امِ ایمن کی یہ کامیابی جنوبی پنجاب کے دیگر باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک مشعل راہ ثابت ہو گی۔

  • جنوبی پنجاب میں ہیٹ ویو الرٹ جاری، ہنگامی اقدامات کا حکم

    جنوبی پنجاب میں ہیٹ ویو الرٹ جاری، ہنگامی اقدامات کا حکم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) جنوبی پنجاب میں متوقع شدید گرمی کی لہر اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب نے ایک ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس الرٹ کا مقصد خطے کے عوام کو ممکنہ طور پر ہونے والے ہیٹ سٹروک اور گرمی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

    محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب کے سپیشل سیکریٹری محمد شہباز حسین کی جانب سے جنوبی پنجاب کے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کو ایک باضابطہ مراسلہ بھیجا گیا ہے۔ اس مراسلے میں موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔

    ہیٹ سٹروک کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ فوکل پرسن تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں گے اور گرمی سے بچاؤ کے لیے ضروری گائیڈ لائنز کی فراہمی کے عمل کو تیز کریں گے۔

    محکمہ صحت و آبادی کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی ہدایات میں جنوبی پنجاب کے تمام ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کو خصوصی طور پر متحرک کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولنگر، رحیم یار خان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، لیہ اور راجن پور شامل ہیں۔ ان تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہیں:

    سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ سٹروک یونٹس کا قیام: تمام سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ سٹروک سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ ان یونٹس میں ضروری طبی سہولیات اور عملہ موجود ہوگا۔عوامی مقامات پر ٹھنڈے اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ شہری خود کو ہائیڈریٹ رکھ سکیں۔
    عوامی آگاہی مہمات: گرمی کے اثرات، ہیٹ سٹروک کی علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں عوام میں وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ اس میں مختلف ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جائے گا۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طبی امداد کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایمبولینس سروسز اور طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ گرمی کی شدید لہر کے باعث ہونے والے ممکنہ جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔

    محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب نے عام شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کی شدت کو کم کرنے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ ان احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں

    شدید دھوپ میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔
    اگر باہر نکلنا ضروری ہو تو سر کو ڈھانپیں اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔
    باقاعدگی سے پانی اور دیگر مائعات کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
    گرمی کی علامات محسوس ہونے پر فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔

    محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

  • ایران میں شہید ہونے والے مزدوروں کے اہلِ خانہ سے محمد علی درانی کی ملاقات اور تعزیت

    ایران میں شہید ہونے والے مزدوروں کے اہلِ خانہ سے محمد علی درانی کی ملاقات اور تعزیت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر محمد علی درانی نے ایران میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مزدوروں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے غم میں شریک ہو کر متاثرہ خاندانوں کو دلی تسلی دی۔ شہداء کا تعلق احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقوں محراب والا، چکی موڑ، بستی حاجی ربنواز آرائیں اور خانقاہ شریف کی مختلف بستیوں سے تھا۔

    محمد علی درانی نے متاثرہ خاندانوں کے گھروں میں جا کر فرداً فرداً تعزیت کی، خواتین کے سروں پر چادریں رکھیں اور ان کے صبر و حوصلے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جانے والے یہ محنت کش صرف روزگار کی تلاش میں تھے اور اُن کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے ہر لواحق کی کفالت کے لیے فوری طور پر ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جائے۔

    سابق وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ وہ خود ایرانی سفارتخانے اور قونصل خانے سے رابطہ کر کے اس واقعے پر بات کریں گے تاکہ ایران کی حکومت بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردانہ اور عملی اقدام کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی ایک سنگین ناسور بن چکی ہے، جس کا خاتمہ صرف قومی یکجہتی، سنجیدہ سیاسی مکالمے اور ریاستی اداروں کی مکمل ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔

    محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور حکومت دہشت گردی کے خلاف دن رات برسرِپیکار ہیں، لیکن اس مسئلے کا پائیدار حل قومی اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ان شہداء کو نہ صرف یاد رکھے بلکہ ان کے پسماندگان کے ساتھ کھڑی ہو کر انسانیت کا عملی مظاہرہ کرے۔

  • اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے گرد و نواح میں آج دو افسوسناک واقعات پیش آئے، جس سے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی۔ ایک طرف تیز رفتار کاروں کی ریس نے ایک نوجوان کی قیمتی جان لے لی تو دوسری جانب غفلت کے باعث گندم کا ایک بڑا کھیت آتشزدگی کا شکار ہو گیا۔

    پہلا دلخراش واقعہ اوچ شریف میں پیش آیا جہاں ریش لگاتی دو تیز رفتار کاروں کی زد میں آ کر اوچ موغلہ کا رہائشی نوجوان محمد ذیشان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی جو مرکزی الشمس چوک میں واقع مغل موبائل شاپ پر ملازمت کرتا تھا، شام کے وقت ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پیدل اپنے گھر جا رہا تھا کہ اچانک دو بے قابو کاریں اس سے ٹکرا گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں کاریں آپس میں ریس لگا رہی تھیں اور ان کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ محمد ذیشان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں لیکن تب تک محمد ذیشان کی زندگی کی ڈور ٹوٹ چکی تھی۔ موقع پر موجود ہر شخص غمزدہ تھا اور پورے علاقے میں سوگ کی فضا تھی۔ مرحوم کی نماز جنازہ اوچ موغلہ کے استانہ کافی والا گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہل علاقہ، عزیز و اقارب اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہیں۔

    اسی دوران اوچ شریف کے نواحی علاقے اڈا سلطان واہ، اوچ شریف روڈ پر ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گندم کے کھیت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری کھڑی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی ایک فائر وہیکل اور ایمبولینس فوری طور پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقامی افراد نے گندم کی کٹائی کے بعد کھیت میں بچ جانے والی فصل کی باقیات کو آگ لگا دی تھی۔ تیز ہوا کے باعث شعلے بے قابو ہو کر قریبی کھڑی فصل تک پہنچ گئے، جس سے صورتحال خطرناک ہو گئی۔ تاہم ریسکیو ٹیم نے بروقت پہنچ کر پیشہ ورانہ مہارت سے آگ پر قابو پا لیا اور اسے مزید پھیلنے سے روک دیا۔ ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فصل کی باقیات کو آگ لگانے جیسی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے پرہیز کریں، جو نہ صرف خطرناک بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ ان دو المناک واقعات نے اوچ شریف کے علاقے میں گہرے غم اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایک ہولناک واقعے نے انسانیت کو شرما سار کر دیا، جہاں ضلع بہاولپور اور احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے آٹھ غریب محنت کشوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ دلخراش سانحہ ایرانی شہر مہرستان کے نواحی گاؤں "ہیزآباد پایین” میں پیش آیا، جو پاک ایران سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ تمام مزدور ایک چھوٹی سی آٹو ورکشاپ پر اپنی روزی روٹی کے لیے کام کر رہے تھے، جب سفاک حملہ آوروں نے ان پر اچانک دھاوا بول دیا۔ نہتے اور بے گناہ مزدوروں کو پہلے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انتہائی قریب سے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

    اس سفاکانہ حملے میں شہید ہونے والے بدقسمت افراد کی شناخت درج ذیل ہے:

    1. دلشاد ولد جندوڈا قوم سیال، گلی نمبر 8، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    2. دانش ولد دلشاد قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    3. جعفر ولد محمد رمضان قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    4. ناصر ولد محمد قوم کھیڑا، موضع رنگ پور
    5. نعیم ولد غلام فرید قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    6. عامر ولد محمد لیاقت قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    7. محمد خالد قوم بھٹی، سکنہ مہراب والا، احمد پور شرقیہ
    8. محمد جمشید ولد محمد صادق قوم آرائیں، چکی موڑ، احمد پور شرقیہ

    اس المناک خبر کے بہاولپور، سمہ سٹہ، خانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ پہنچتے ہی ہر طرف کہرام مچ گیا۔ شہداء کے گھروں میں قیامت کا منظر ہے، جہاں بوڑھے والدین، بے سہارا بیوائیں اور معصوم یتیم بچوں کی دلدوز سسکیاں فضا کو سوگوار بنا رہی ہیں۔ غم سے نڈھال رشتہ داروں نے اپنی فریاد میں کہا، "ہمارے جگر گوشے دو وقت کی روٹی کمانے پردیس گئے تھے، مگر اب ان کی بے جان لاشیں واپس آ رہی ہیں. آخر ان کا کیا قصور تھا؟”

    غم و اندوہ کی اس گھڑی میں مقامی تاجروں نے از خود اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں اور مساجد میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعاؤں اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے اس وحشیانہ واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایرانی حکام سے رابطہ کر کے ان سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    اہل علاقہ اور سوگوار خاندانوں نے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہداء کے جسد خاکی جلد از جلد وطن واپس لائے جا سکیں اور انہیں انصاف مل سکے۔ اس المناک سانحے نے پورے علاقے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سیستان بلوچستان کے ضلع مہرستان میں آٹھ پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری کا دعویٰ ایک غیر معروف تنظیم کالعدم بی این اے یعنی بلوچ نیشنلسٹ آرمی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    سرکاری سطح پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم ایران کے کسی علاقے سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے حوالے اس تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔

    تاہم بلوچستان میں ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے بعض واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنظیم کے نام سے آخری مرتبہ تشدد کے کسی بڑے واقعے کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے کا جو دعویٰ سامنے آیا تھا وہ پاکستان کے شہر لاہور کے گنجان آباد اور مصروف انارکلی بازار میں جنوری 2022 میں دھماکے کا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے تھے۔