Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: موٹروے ایم فائیو پر تیز رفتاری کے خلاف کریک ڈاؤن، دو ڈرائیور گرفتار

    اوچ شریف: موٹروے ایم فائیو پر تیز رفتاری کے خلاف کریک ڈاؤن، دو ڈرائیور گرفتار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) موٹروے ایم فائیو پر تیز رفتاری کے خلاف نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ شجاع آباد کے قریب بیٹ 23 میں تیز رفتاری کے دو واقعات پیش آئے، جس پر موٹروے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو گاڑیوں کے ڈرائیورز کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق دونوں گاڑیاں مقررہ حد رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کرتے ہوئے 154 اور 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی تھیں۔ آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس رفعت مختار راجہ، زونل کمانڈر دار علی خٹک اور سیکٹر کمانڈر ایس پی رانا سرفراز ناصر کی ہدایات پر اوور سپیڈ گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    جدید انٹیلی جینس سسٹم (ITS) کے ذریعے ان گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد انسپکٹر عامر سردار اور ٹائیگر-3 کے افسران نے شجاع آباد انٹرچینج کے قریب ان گاڑیوں کو روک کر ڈرائیورز کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ڈرائیورز میں ایک کا تعلق لاہور جبکہ دوسرے کا گھوٹکی سے ہے۔

    موٹروے پولیس کے مطابق، تیز رفتاری کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کی حامل گاڑیوں کے خلاف بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ مقدمات کا اندراج بھی کیا جائے گا۔ سیکٹر کمانڈر ایس پی رانا سرفراز ناصر نے کہا کہ تیز رفتاری سے ہونے والے حادثات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: 700 سالہ تاریخی قبرستان حکومتی غفلت کا شکار، مقدس مقام کچرا کنڈی میں تبدیل

    اوچ شریف: 700 سالہ تاریخی قبرستان حکومتی غفلت کا شکار، مقدس مقام کچرا کنڈی میں تبدیل

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) پاکستان کے تاریخی اور روحانی ورثے کا حامل اوچ شریف کا 700 سالہ قدیم قبرستان حکومتی عدم توجہی اور بلدیاتی اداروں کی مجرمانہ غفلت کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمہ اللہ علیہ کے مقبرے کے قریب واقع اس قبرستان میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، آوارہ جانوروں کی بھرمار اور بدبو و تعفن نے مقدس مقام کی حرمت کو پامال کر رکھا ہے۔ مقامی افراد اور زائرین کی بارہا شکایات کے باوجود حکام نے کوئی اقدامات نہیں کیے، قبروں کی بے حرمتی، بدبو اور گندگی سے زائرین پریشان، قبروں کی بے حرمتی پر شہری سراپا احتجاج

    تفصیلات کے مطابق تاریخی قبرستان میں دفن اولیائے کرام، بزرگانِ دین اور کئی صدیوں سے یہاں مدفون افراد کی قبریں گندگی اور کوڑے کے ڈھیروں میں دب چکی ہیں۔ کچھ قبروں کے کتبے اور تعویذ کچرے کے اندر غائب ہو چکے ہیں، جبکہ ٹوٹی ہوئی دیواروں کی وجہ سے قبرستان میں آوارہ جانور دندناتے پھر رہے ہیں۔ شہریوں نے صورتحال کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک قبرستان نہیں، بلکہ ہمارے آبا و اجداد اور روحانی شخصیات کی آخری آرام گاہ ہے، جس کی بے حرمتی ناقابلِ برداشت ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے "صاف ستھرا پنجاب” مہم کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر اوچ شریف کا تاریخی قبرستان ان بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وعدے صرف کاغذی ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

    معروف سماجی و مذہبی شخصیت مخدوم سید شان بخاری نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے بارہا متعلقہ اداروں کو درخواست دی کہ قبرستان کی صفائی کو یقینی بنایا جائے، مگر ہمیں ہر بار نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ 700 سال پرانی جگہ ہماری تاریخ اور روحانی ورثہ ہے، اس کی بے حرمتی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ہم بھرپور عوامی احتجاج کریں گے۔”

    اہلیانِ اوچ شریف نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور میونسپل کمیٹی کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قبرستان کی صفائی اور بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا اور بھرپور عوامی احتجاج کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ قبرستان محض ایک عام قبرستان نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی اور قومی ورثہ ہے، جس کی حفاظت حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ صرف اوچ شریف ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔

  • اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے خاتون جاں بحق، شوہر شدید زخمی

    اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے خاتون جاں بحق، شوہر شدید زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے علاقے موضع طاہر والی میں ایک تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار 50 سالہ زہران مائی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کے شوہر 65 سالہ عبدالغفار شدید زخمی ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ جوڑا موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اچانک ایک بے قابو ٹرک نے انہیں ٹکر مار دی۔ زہران مائی کو شدید نوعیت کی چوٹیں آئیں، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ جبکہ عبدالغفار کو دائیں کندھے کی ہڈی میں فریکچر اور دیگر چوٹیں آئیں۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی پٹرولنگ پولیس موقع پر پہنچ گئی، جبکہ زخمی کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔ زہران مائی کی میت کو لواحقین ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے قبل ہی گھر لے گئے۔

    حادثے کے بعد ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس ٹرک کی تلاش اور حادثے کی تفتیش کر رہی ہے۔

  • اوچ شریف: عباسیہ کینال پر جنگل کی کٹائی، پولیس کی کارروائی، 3 گرفتار

    اوچ شریف: عباسیہ کینال پر جنگل کی کٹائی، پولیس کی کارروائی، 3 گرفتار

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف میں سرکاری جنگلات کی لوٹ مار کا انکشاف ہوا ہے۔ ہیڈ پنجند سے نکلنے والی عباسیہ کینال پر قیمتی درختوں کی غیر قانونی کٹائی جاری ہے، جس میں بلاک آفیسر کی مبینہ ملی بھگت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین لکڑی چوروں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ چھ ٹریکٹر ٹرالیوں پر لکڑی لوڈ کر کے چور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    تھانہ صدر علی پور کے ایس ایچ او حسنین اسلم نے پولیس نفری کے ہمراہ رات گئے نہر کنارے چھاپہ مارا، جہاں بڑی تعداد میں شیشم اور دیگر قیمتی درخت کٹے ہوئے تھے۔ پولیس کو دیکھ کر ملزمان فرار ہو گئے، تاہم تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان سے ڈھائی لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چوری شدہ لکڑی، ایک لوڈر رکشہ اور آرا مشین برآمد ہوئی۔

    ملزمان نے دوران تفتیش اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی اگل دیے۔ پولیس کے مطابق، بلاک آفیسر روزانہ کی بنیاد پر رات کے وقت لکڑی چوروں سے سرکاری درختوں کی غیر قانونی کٹائی کرواتا ہے۔ پولیس نے محکمہ نہر کو اطلاع دی، لیکن بلاک آفیسر سمیت دیگر افسران نے کارروائی سے انکار کر دیا۔

    پولیس تھانہ صدر علی پور نے چوری شدہ لکڑی، آرا مشینیں، کلہاڑے اور رکشہ قبضے میں لے کر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • اوچ شریف:دشمن کے خلاف متحد ہوں،قومی سلامتی کے لیے فوج کا ساتھ دیں۔قانونی وسماجی حلقے

    اوچ شریف:دشمن کے خلاف متحد ہوں،قومی سلامتی کے لیے فوج کا ساتھ دیں۔قانونی وسماجی حلقے

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے قانونی اور سماجی حلقوں نے ملک کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی فوج اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔

    معروف قانون دان ملک طاہر منظور ایڈووکیٹ اور صدر اوچ سول سوسائٹی عمر خورشید سہمن نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ قومیں مشکل وقت میں بنتی ہیں، بکھرتی نہیں! اگر دشمن ہم پر حملہ کرے تو بحیثیت قوم ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کرنی چاہیے، نہ کہ ان پر تنقید کر کے دشمن کے عزائم کو تقویت دی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو اپنی افواج کی حوصلہ شکنی کر کے مضبوط ہوا ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں جب کوئی بحران آتا ہے تو وہاں کی قومیں اور ادارے متحد ہو کر دشمن کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر ہماری سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف جنگ نہ لڑیں تو کیا ہم خود جا کر ان سے لڑیں گے؟ مزید انہیں کہنا تھا کہ یہ وقت سیاسی یا نظریاتی اختلافات کا نہیں بلکہ اتحاد کا ہے۔

    ملک دشمن عناصر ہر ممکن طریقے سے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اگر ہم اپنی ہی سکیورٹی فورسز کو کمزور کریں گے تو دشمن مزید طاقتور ہوگا۔ ہمیں ہر حال میں اپنے ان سپاہیوں اور افسران کو یقین دلانا ہوگا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ صرف فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ دشمن ہمیشہ کمزور اور منتشر قوموں پر حملہ آور ہوتا ہے لیکن اگر ہم متحد ہو جائیں تو کوئی بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔

    ملک طاہر منظور ایڈووکیٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی قسم کی مایوسی یا منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور اپنی افواج اور سکیورٹی فورسز کا مکمل ساتھ دی، کیونکہ پاکستان کی سلامتی اور بقا اسی میں ہے کہ ہم سب ایک قوم بن کر آگے بڑھیں۔

  • اوچ شریف: کھوجی کتوں کا غیر قانونی دھندا عروج پر، بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ

    اوچ شریف: کھوجی کتوں کا غیر قانونی دھندا عروج پر، بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے گردونواح میں کھوجی کتوں کے ڈاگ سینٹرز کا غیر قانونی کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ڈاگ سینٹرز کے ایجنٹ شہریوں سے بھاری رقوم بٹور رہے ہیں، جبکہ پولیس بھی اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لیے ان غیر مستند کھوجی کتوں پر انحصار کر رہی ہے۔ اس غیر قانونی طریقہ کار کے باعث کئی بے گناہ شہری جیلوں میں بند ہیں اور درجنوں خاندان جھوٹے الزامات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق اوچ شریف کے مختلف علاقوں موضع مانجھی والا، بن والا، بیٹ بختیاری، دھوڑکوٹ، حلیم پور، خیر پور ڈاہا اور دیگر مقامات پر موجود ڈاگ سینٹرز کے مالکان اور ایجنٹ انسانی تذلیل کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ کھوجی کتوں کے ذریعے لوگوں کو چوری، ڈکیتی اور دیگر مقدمات میں ملوث کر کے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔

    چوری کی واردات کے بعد متاثرہ شخص سے ڈاگ سینٹر کے ایجنٹ رابطہ کرتے ہیں اور انہیں اپنی چرب زبانی سے قائل کر لیتے ہیں کہ چوری کا سراغ لگانے کے لیے کھوجی کتے کا استعمال ضروری ہے۔ ایجنٹ بھاری فیس وصول کر کے کھوجی کتے کو مخصوص انداز میں کسی بھی گھر میں داخل کرواتے ہیں اور پھر اسی گھر کے افراد پر چوری کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کھوجی کتوں کی نشاندہی پر گاؤں کی پنچایتوں میں لوگوں کو قرآن پاک پر حلف اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے جو کہ ایک غیر شرعی اور غیر قانونی عمل ہے۔ مقامی کھوجی اور ڈاگ سینٹر کے مالکان پہلے سے مخصوص ٹارگٹ طے کر کے کھوجی کتوں کو متعلقہ گھر کی طرف بھیجتے ہیں، جہاں کتے کے بیٹھ جانے پر پولیس کارروائی عمل میں لے آتی ہے اور بے گناہ افراد کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ ڈاگ سینٹرز زیادہ تر اوکاڑہ، بہاولپور، ملتان اور دیگر شہروں میں ریٹائرڈ آرمی افسران یا کسی میجر کے نام پر چلائے جا رہے ہیں۔ ان مراکز کے مالکان اپنے ایجنٹوں کے ذریعے وزیٹنگ کارڈ تقسیم کرتے ہیں اور ایک چوری کا سراغ لگانے کے لیے 15,000 سے 20,000 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ اگر دوبارہ کھوجی کتے کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو فیس دُگنی کر دی جاتی ہے۔

    ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے والے کئی متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مافیا پہلے سے ہی ٹارگٹ طے کر کے لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے۔ مخصوص الفاظ جیسے "اپنا کام کرو”، "تلاش کرو”، "فائنل کرو” کا استعمال کر کے کتے کو مخصوص گھر میں داخل کرایا جاتا ہے اور الزام اس گھر کے افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں ہزاروں افراد صرف کھوجی کتوں کی غلط نشاندہی کی بنیاد پر قید ہیں۔ اگر کسی چوری یا ڈکیتی کے دوران کوئی ہلاکت ہو جائے تو پولیس تفتیش کرنے کے بجائے فوراً کھوجی کتوں کو طلب کر لیتی ہے اور ان کی غلط نشاندہی پر بے گناہ لوگوں کو قتل جیسے سنگین الزامات میں پھنسا دیا جاتا ہے۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ڈاگ سینٹرز کے خلاف فوری کارروائی کرے اور پولیس کو واضح ہدایات جاری کرے کہ کھوجی کتوں کی نشاندہی پر کسی بھی قسم کی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ بصورت دیگر، معصوم لوگ اسی طرح ناکردہ جرم کی سزا بھگتتے رہیں گے اور کئی بے گناہ خاندان دشمنیوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔

  • کراچی پولیس مقابلہ،اوچ شریف کا بدنام زمانہ ڈکیت عبدالواجد ہلاک

    کراچی پولیس مقابلہ،اوچ شریف کا بدنام زمانہ ڈکیت عبدالواجد ہلاک

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)کراچی پولیس مقابلہ، اوچ شریف کا بدنام زمانہ ڈکیت عبدالواجد ہلاک
    کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران اوچ شریف کا بدنام زمانہ ڈکیت عبدالواجد ولد یار محمد ہلاک ہوگیا۔ ہلاک ہونے والا ملزم اوچ شریف میں ڈکیتی کی 25 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا۔ ملزم کراچی میں بھی چوری اور ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔

    ہلاک ملزم بدنام زمانہ چنر گینگ کا سرگرم رکن تھا اور کراچی شہر سے گاڑیاں چھیننے اور چوری کرنے کی لاتعداد وارداتوں میں ملوث تھا۔ اس سے قبل بھی وہ قتل، چوری، ڈکیتی اور پولیس مقابلوں کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا تھا۔

    پولیس مقابلہ قبر والی گلی نزد حبیب چورنگی، تھانہ سائٹ اے کی حدود میں پیش آیا۔ ملزم سے تھانہ شارع نور جہاں کی حدود سے چوری شدہ سوزوکی ہائی روف (رجسٹریشن نمبر CV-2812) اور ایک 30 بور پستول برآمد ہوئی۔ چوری شدہ سوزوکی ہائی روف 8 فروری 2025 کو تھانہ شارع نور جہاں کی حدود سے چوری کی گئی تھی، جس کا مقدمہ نمبر 12/2025 درج ہے۔

    ہلاک ملزم کا سابقہ ریکارڈ
    ہلاک ملزم عبدالواجد کے خلاف اوچ شریف تھانے میں درج مقدمات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
    * مقدمہ نمبر 635/2022، دفعہ 379
    * مقدمہ نمبر 302/2022، دفعہ 392/411
    * مقدمہ نمبر 265/2022، دفعہ 457/380/411
    * مقدمہ نمبر 116/2023، دفعہ 457/380/411
    * مقدمہ نمبر 916/2023، دفعہ 23(l)A اسلحہ ایکٹ
    * مقدمہ نمبر 823/2023، دفعہ 380/411
    * مقدمہ نمبر 793/2023، دفعہ 392
    * مقدمہ نمبر 825/2023، دفعہ 392/411
    * مقدمہ نمبر 711/2023، دفعہ 381/A/201
    * مقدمہ نمبر 771/2023، دفعہ 379/201
    * مقدمہ نمبر 47/2023، دفعہ 457/380/201
    * مقدمہ نمبر 803/2023، دفعہ 392/411
    * مقدمہ نمبر 815/2023، دفعہ 392/411
    * مقدمہ نمبر 779/2023، دفعہ 392/411
    * مقدمہ نمبر 788/2023، دفعہ 302/324/353/224/225/186/427/147/149
    * مقدمہ نمبر 223/2024، دفعہ 23(i)A اسلحہ ایکٹ
    * مقدمہ نمبر 297/2023، دفعہ 457/380
    * مقدمہ نمبر 322/2023، دفعہ 380
    * مقدمہ نمبر 332/2023، دفعہ 457/380/411
    * مقدمہ نمبر 352/2023، دفعہ 457/380
    * مقدمہ نمبر 180/2024، دفعہ 379
    * مقدمہ نمبر 208/2024، دفعہ 380
    * مقدمہ نمبر 211/2024، دفعہ 380
    * مقدمہ نمبر 205/2024، دفعہ 392/411
    * مقدمہ نمبر 847/2023، دفعہ 379

  • اوچ شریف: عوامی ٹیکس کی لوٹ مار، موضع کندرالہ سیت پور پل کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا

    اوچ شریف: عوامی ٹیکس کی لوٹ مار، موضع کندرالہ سیت پور پل کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) عوامی ٹیکس کی لوٹ مار، موضع کندرالہ سیت پور پل کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا،عوامی ٹیکس کا ضیاع، مقامی افراد میں شدید غم و غصہ، تحقیقات کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق دریائے چناب کے لنک پر موضع بختیاری میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو جوڑنے کے لیے تعمیر کیا جانے والا پل کرپشن کی بدترین مثال بن گیا۔ مقامی افراد نے پل کی تعمیر میں ناقص اینٹوں اور کمزور میٹریل کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    یہ پل موضع کندرالہ سیت پور اور قریبی بستیوں کو اوچ شریف اور دیگر اہم علاقوں سے ملانے کے لیے بنایا جا رہا ہے، جس سے سیلاب کے دوران بھی ان علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے ناقص میٹریل نے اس اہم منصوبے کی پائیداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پل کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹیں انتہائی کمزور ہیں اور میٹریل بھی ناقص ہے۔ جس کی وجہ سے یہ پل کسی بھی وقت گر سکتا ہے اور اس سے نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عوامی ٹیکسوں سے اکٹھا ہونے والا سرمایہ بھی ضائع ہو جائے گا۔

    اس صورتحال پر مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، کمشنر بہاولپور اور چیف سیکرٹری پنجاب سے فوری ایکشن لینے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    عوامی شکایات پر منتخب عوامی نمائندے ایم پی اے سید عامر علی شاہ نے بھی پل کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔

    مقامی افراد نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ اہم منصوبہ ناکام ہو جائے گا اور ان کی سفری مشکلات جوں کی توں رہیں گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ پل کی تعمیر کو معیاری اور پائیدار بنایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: یونین کونسل دھوڑ کوٹ کی خستہ حال عمارت، کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خدشہ

    اوچ شریف: یونین کونسل دھوڑ کوٹ کی خستہ حال عمارت، کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خدشہ

    اوچ شریف،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان) یونین کونسل دھوڑ کوٹ کی عمارت شدید خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ ہے۔ عمارت کی دیواروں میں گہرے شگاف پڑ چکے ہیں، چھت کے مختلف حصے کمزور ہو گئے ہیں، جبکہ بوسیدہ کھڑکیاں اور دروازے کسی بھی لمحے گر سکتے ہیں۔

    یونین کونسل کا عملہ اور یہاں آنے والے شہری روزانہ خوف کے سائے میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔ دفاتر کے کئی حصے ناقابل استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ حصے بھی خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بارش کے دوران چھتوں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے، جس سے عمارت کی حالت مزید خراب ہو رہی ہے۔

    حالیہ دنوں میں مریم نواز شریف راشن تقسیم سروے کے لیے آئی ہوئی خواتین کو بھی اسی خستہ حال عمارت کے برآمدے میں بٹھایا گیا، جہاں جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں اور چھت سے مٹی اور پلستر جھڑنے لگا ہے۔ سروے کے لیے آنے والی خواتین نے بھی اس خطرناک صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ عوام کو ایسی مخدوش جگہ پر نہ بلایا جائے۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کئی بار متعلقہ حکام اور مقامی نمائندوں کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کیا گیا، مگر تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ یونین کونسل کی عمارت کی از سرِ نو تعمیر یا کم از کم ہنگامی بنیادوں پر اس کی مرمت یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔

    شہریوں محمد عمران، سید سجاد حسین، جلیل احمد اور دیگر نے منتخب عوامی نمائندوں اور انتظامیہ سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور عملے کو محفوظ بنایا جائے۔

  • اوچ شریف:شہرمیں جانوروں کے بھانے ،گندگی اور مچھروں کی افزائش ، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف:شہرمیں جانوروں کے بھانے ،گندگی اور مچھروں کی افزائش ، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف،باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف کے شہری علاقوں محلہ شمیم آباد، ٹینکی چوک، محلہ جگ پورہ، حسینی چوک، شمس کالونی، محلہ گیلانی، جمال درویش اور دیگر علاقوں میں جانوروں کے بھانے، گندگی اور مچھروں کی افزائش سے بیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔ انتظامیہ کی خاموشی سے عوام پریشان ہیں، گنجان آبادیوں میں بدبو، تعفن اور وبائی امراض کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، پنجاب حکومت کی جانب سے شہری علاقوں اور گنجان آباد محلوں میں جانوروں کے بھانے قائم کرنے پر پابندی عائد ہونے کے باوجود مقامی انتظامیہ کی غفلت کے باعث اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اوچ شریف کے مختلف رہائشی علاقوں میں شہریوں نے بھینسوں، بکریوں اور دیگر مویشیوں کے بھانے بنا رکھے ہیں، جس کی وجہ سے گندگی اور مچھروں کی افزائش میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کے فضلے کی وجہ سے گلیوں، محلوں اور کھلی جگہوں پر تعفن پھیل رہا ہے، جس سے سانس کی بیماریاں اور دیگر انفیکشنز عام ہو رہے ہیں۔ گندگی کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہو چکا ہے، جو ملیریا، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بزرگ اس آلودہ ماحول کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو بارہا شکایات درج کروائی گئی ہیں، مگر تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ متعدد علاقوں میں صفائی کا عملہ بھی گندگی اٹھانے سے قاصر نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے مسئلہ مزید گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ بااثر افراد کے دباؤ کی وجہ سے مقامی افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    مقامی شہریوں عبدالرحمن، حفیظ خان، سہیل عباس، نعمان خالد، انس خان اور دیگر نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، صوبائی وزیر بلدیات اور کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ گنجان آبادیوں میں قائم جانوروں کے بھانے فوری طور پر شہر سے باہر منتقل کیے جائیں، ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور علاقے میں فوری طور پر صفائی اور اسپرے مہم شروع کی جائے تاکہ مچھروں اور گندگی سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔