گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کی اہم مشاورتی بیٹھک ہوئی جس دوران دونوں جماعتوں نے سیاسی اشتراک سے نئی حکومت بنانے پر اتفاق کر لیا-
پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مجوزہ فارمولے کے تحت گلگت بلتستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا گورنر گلگت بلتستان اور اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے اہم عہدے مسلم لیگ ن کو دیئے جائیں گے معاہدے کے تحت ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا منصب بھی مسلم لیگ ن کے حصے میں آئے گا ذرائع کے مطابق وزیرِاعلیٰ اور اسپیکر کے حتمی ناموں کا فیصلہ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پیر کے روز اسلام آباد میں کریں گے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی نےگلگت بلتستان میں امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا پیپلز پارٹی نے گلگت ریجن سے پہلی بار کسی کو وزیر اعلیٰ نامزدکیا ہے امجد حسین ایڈووکیٹ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر بھی ہیں امجد حسین ایڈووکیٹ حالیہ الیکشن میں جی بی اے 1 گلگت سے کامیاب ہوئے ہیں۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے 24 میں سے 21 حلقوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کیا گیا ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیپلزپارٹی 9، مسلم لیگ (ن) 6، آئی پی پی 4، ایم ڈبلیو ایم 1 اور آزاد امیدوار 1نشست پرکامیاب ہوئے جی بی اے 9 اسکردو 3، جی بی اے 17 دیامر 3 اور جی بی اے 15 دیامر 1 کے نتانج کا اعلان بعد میں ہوگا خواتین کی 6 مخصوص نشستوں میں سے 3 پیپلزپارٹی، 2 ن لیگ اور ایک آئی پی پی کےحصے میں آئی ٹیکنوکریٹ کی 3 نشستوں میں سے پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کو ایک ایک نشست ملی۔
رہنما پیپلزپارٹی نیئرحسین بخاری کا کہنا ہےکہ پی پی پی کے پاس مخصوص اور ٹیکنوکریٹ نشستیں ملا کر 17 سے 19 سیٹوں کی واضح اکثریت بنتی ہے، ان شاءاللہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلزپارٹی حکومت بنائےگی۔
