گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے درمیان سیاسی اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ تینوں جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے، جس سے حکومت سازی کا عمل مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق اسپیکر نذیر احمد نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم بلامقابلہ نئے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ایڈووکیٹ بلامقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔
اسپیکر کے انتخاب کے بعد سابق اسپیکر نذیر احمد نے نومنتخب اسپیکر عمران ندیم سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد انہوں نے اسمبلی کی کارروائی نئے اسپیکر کے حوالے کر دی، جس کے ساتھ ہی نئی پارلیمانی قیادت نے اپنے فرائض سنبھال لیے۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا، جس کے باعث دونوں عہدوں پر بلا مقابلہ انتخاب ممکن ہوا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے انتخاب میں بھی کسی مقابلے کا امکان کم ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی اتحاد کے امیدوار کو بلا مقابلہ کامیابی حاصل ہو جائے گی۔
حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو پہلے مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی نے بھی اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت بنانے کی دعوت دی تھی، جسے عبدالعلیم خان نے قبول کر لیا۔
عبدالعلیم خان نے گفتگو کو خوشگوار اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر آئینی عہدوں کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کرے گی تاکہ گلگت بلتستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کی جا سکے۔
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بلامقابلہ منتخب
