Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • راولپنڈی سے بھارتی شہری گرفتار

    راولپنڈی سے بھارتی شہری گرفتار

    راولپنڈی میں پولیس نے مشکوک سرگرمیوں پر بھارتی شہری کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

    پولیس کا مقدمے میں کہنا ہے کہ مشکوک شخص دھمیال جارہا تھا، پولیس کو دیکھ کر واپس مڑا، مشکوک شخص کے پاس کوئی شناختی دستاویز موجود نہیں۔پولیس نے مزید کہا ہے کہ ملزم نے اپنا نام دلیر مشتاق اور بھارت کا رہائشی ہونے کا بتایا، مشکوک شخص سے 2 بال پین اور 1750 روپے پاکستانی کرنسی ملے۔

    راولپنڈی کے تھانہ ویسٹریج پولیس نے ایک اہم کارروائی کے دوران غیر قانونی طور پر مقیم بھارت شہری کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے خلاف فارنر ایکٹ 1946 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی 2 مئی 2026 کو چوہر چوک کے علاقے میں معمول کی گشت اور پڑتال کے دوران کی گئی۔ پولیس پارٹی میں سب انسپکٹر رجب علی اور دیگر اہلکار شامل تھے جو مشکوک افراد کی چیکنگ میں مصروف تھے۔گشت کے دوران ایک شخص مصریال روڈ کی جانب سے پیدل آتا ہوا دیکھا گیا جو پولیس کو دیکھ کر واپس مڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ مشکوک رویے پر پولیس نے اسے قابو میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اپنا نام دلیر مشتاق ولد مشتاق احمد صوفی اور خود کو بھارت (انڈیا) کا رہائشی ظاہر کیا۔ تاہم وہ پاکستان میں داخلے اور رہائش کے حوالے سے کوئی سفری یا قانونی دستاویزات پیش نہ کر سکا۔پولیس کے مطابق ملزم کی جامہ تلاشی کے دوران اس کی قمیض کی جیب سے دو عدد بال پوائنٹ پین، چار سفید کاغذات اور 1750 روپے پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی، جنہیں قبضے میں لے لیا گیا۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو کر یہاں مقیم تھا، جس پر فارنر ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ملزم کو مزید تفتیش کے لیے تھانہ ویسٹریج منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • اسحاق ڈار کی ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس موٹزفیلٹ کراوچ کے درمیان ملاقات ہوئی-

    دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان اور ناروے کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط میں پیش رفت ہوئی ہے، جہاں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ناروے کے نائب وزیر خارجہ آندریاس موٹزفیلٹ کراوچ سے ملاقات کی،وزارت خارجہ میں ہونیوالی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے مکالمے اور تعمیری روابط کے فروغ کی کوششوں کو اجاگر کیا، ناروے کے نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک خطے میں دیرپا اور پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا،اس موقع پر آندریاس موٹزفیلٹ نے ناروے کے وزیر خارجہ کی جانب سے اسحاق ڈار کو آئندہ ماہ منعقد ہونے والے اوسلو فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی، جسے پاکستانی وزیر خارجہ نے سراہتے ہوئے قبول کیا،دونوں ممالک کے رہنماؤں نے نے باہمی امور، علاقائی امن، استحکام اور ترقی سے متعلق معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

  • چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج

    چھوٹو گینگ کے سرغنہ سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج

    سپریم کورٹ نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت 3 مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں خارج کر دی ہیں –

    جسٹس ہاشم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ذاتی دشمنی اور چھوٹو گینگ کے سنگین مقدمات کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا،جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ یہ گینگ اپنے علاقے کا کنگ بنا ہوا تھا اور اس کی دہشت کی وجہ سے پولیس اسٹیشن تک بند کر دیے گئے تھے۔

    کیس کی کارروائی کے دوران ملزمان کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے اصل ناموں کے ساتھ ان کے عرف بھی لکھے گئے اور سوال کیا کہ پولیس کو کیسے علم ہوا کہ ملزمان کے عرف کیا ہیں،اس پر پنجاب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ پہلے ہی پولیس کے پاس موجود تھا۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے اس موقع پر یاد دہانی کرائی کہ اس گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو اغوا بھی کیا تھا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ جب مقا بلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی گولیاں ختم ہو گئیں تو انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

    ملزمان کے وکیل نے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار خود کشتی میں بیٹھ کر واپس آئے تھے اور کسی اہلکار کو ایک خراش تک نہیں آئی تھی، اس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اغوا ہونے والے پولیس اہلکار وہاں کسی فیسٹیول میں گھومنے کے لیے گئے تھے؟

    تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی 6،6بار سزائے موت کو برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔

  • جس نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس کے پیچھے جانا چاہیے، محسن نقوی

    جس نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس کے پیچھے جانا چاہیے، محسن نقوی

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے حوالے سے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،

    لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا خیال ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو غیرقانونی تھا،جس طریقے سے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بیچا گیا، تمام معاملے پر کمیٹی بن گئی ہے، کمیٹی کے سامنے بھی یہی موقف رکھیں گے، جیت قانون کی ہوگی،ہر ایک کے لیے قانون ہونا چاہیے، چاہے وہ امیر ہے یا غریب، یہ نہیں ہو سکتا کہ امیر کے لیے کچھ اور غریب کے لیے کچھ اور قانون ہو،میرا نہیں خیال پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا فراڈ ہو گا، جس میں ججز، بیوروکریٹس، سیاستدان، بینکرز سب شامل ہیں۔ 21 سال وہ پیسے کھلاتا رہا اور یہ پیسے کھاتے رہے،میں تجویز دوں گا کہ جس نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے اس کے پیچھے جانا چاہیے، سی ڈی اے کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہوں اور ان کو سپورٹ کروں گا۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے عوام کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو آپریشن اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف حکومتی کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔متعلقہ نوٹیفکیشن میں واضح تھا کہ اس زمین پر صرف ہوٹل تعمیر ہونا تھا، تاہم مبینہ طور پر بعض عناصر نے اسے رہائشی سوسائٹی اور اپارٹمنٹس میں تبدیل کر دیا۔عوام کاکہنا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے بھی اس منصوبے میں اپارٹمنٹس کی تعمیرکرنے والوں کو سخت سزا دی جاۓ اور ہوٹل کے مقصد کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔خیبر پختونخوا کے شہریوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ قبضہ مافیا کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کریں۔خیبر پختونخوا کے عوام کے مطابق سرکاری زمین کو صرف عوامی مفاد اور ہوٹل منصوبے کیلئے استعمال ہونا چاہیے تھا، نہ کہ غیر قانونی رہائشی یونٹس کیلئے۔اس معاملے میں مکمل شفافیت اور قانونی عمل کی سختی سے پیروی ضروری ہے تاکہ ریاستی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔خیبر پختونخوا کے عوام کے مطابق اصل ضرورت یہ ہے کہ تمام فیصلے قانون، شفافیت اور عوامی مفاد کے مطابق کیے جائیں۔

  • صدرِ مملکت نے پی آئی اے کارپوریشن آرڈی نینس 2026 کی منظوری دیدی

    صدرِ مملکت نے پی آئی اے کارپوریشن آرڈی نینس 2026 کی منظوری دیدی

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیرِاعظم کی سفارش پر پی آئی اے کارپوریشن (کنورژن) (ریپیل)، آرڈیننس، 2026کی منظوری دے دی۔

    آرڈیننس پی آئی اے کے چند اثاثوں کی منتقلی کے عمل کی تکمیل کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے سے متعلق ہے ان میں کراچی میں پی آئی اے پلینیٹیریم، گلشنِ اقبال کی اراضی، لاہور میں پی آئی اے پلینیٹیریم، اولڈ یونیورسٹی گراؤنڈ کی اراضی شامل ہے۔

    پشاور میں حیات آباد فیز ٹو میں واقع پی آئی اے پلینیٹیریم کی اراضی ، کے ڈی اے اسکیم ون کا فٹبال گراؤنڈ،ایمپرس روڈ لاہور میں دیال سنگھ منشن کا دفتر، کشمیر روڈ کراچی پر واقع جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس کی اراضی بھی شامل ہے۔

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا رات گئے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال، امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے اور دنیا میں دیرپا امن کیلئے سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کیلئے بات چیت اور سفارتکاری واحد قابل عمل راستہ ہے۔

    قبل ازیں امریکا نے ضبط شدہ ایرانی کنٹینر جہاز ایم وی توسکا کے 22 ارکان پاکستان منتقل کردیے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی جہاز کے 22 افراد گزشتہ رات پاکستان پہنچے، آج انہیں ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا، ایرانی جہاز کو مرمت کے بعد پاکستانی سمندری حدود سے واپس بھیجا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے اس پیشرفت کو اعتماد سازی کی مثبت مثال قرار دیا اور کہا کہ عملے اور جہاز کی واپسی ایران اور امریکا کے تعاون سے ممکن ہوئی، خطے میں امن کیلئے مکالمے اور سفارتکاری کو فروغ دیتے رہیں گے۔

  • تاجکستان میں زلزلہ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی جھٹکے

    تاجکستان میں زلزلہ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی جھٹکے

    تاجکستان کے سرحدی علاقے میں زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی محسوس کئے گئے-

    زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق 4 مئی 2026 کو صبح 10:56 بجے ریکٹر اسکیل پر 5.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا زلزلے کی گہرائی 128 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز تاجکستان اور سنکیانگ سرحدی علاقہ تھا،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت قریبی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    قبل ازیں آج بلوچستان کے ضلع خضدار اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ پسنی اور گرد و نواح میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.9 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی زیر زمین گہرائی 10 کلومیٹر تھی،اس کا مرکز خضدار سے 62 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب تھا۔ کسی جانی و مالی نقصان کی اب تک اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  • بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی سے متعلق درخواست ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی سے متعلق درخواست ،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی تک ذاتی معالج کی رسائی اور فیملی ملاقات سے متعلق درخواست پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا –

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ کی درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ آیا جیل حکام کو باقاعدہ درخواست دی گئی ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست نہ صرف کورئیر کے ذریعے بھیجی گئی بلکہ خود جا کر بھی جیل حکام کو جمع کروائی گئی۔

    درخواست کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے مزید بتایا کہ 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب بشریٰ بی بی کی سرجری ہوئی تھی، جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس صورتحال سے آگاہ ہے اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 2 روز کے اندر درخواست گزار کی استدعا پر فیصلہ کریں عدالت نے حکم دیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ وجوہا ت کیساتھ تحریری آرڈر جاری کریں، مزید برآں عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کر لیا ہے،عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل درخواست پر فیصلہ یقینی بنایا جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

  • بلال بن ثاقب کی ڈیجیٹل معیشت میں پیش قدمی،بھارتی میڈیا پروپیگنڈے سے باز نہ آیا

    بلال بن ثاقب کی ڈیجیٹل معیشت میں پیش قدمی،بھارتی میڈیا پروپیگنڈے سے باز نہ آیا

    جیسے جیسے دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار (ریگولیشن) کی دوڑ تیز ہو رہی ہے، پاکستان غیر متوقع طور پر کرپٹو اپنانے، فن ٹیک جدت اور نوجوان ڈیجیٹل ٹیلنٹ کے حوالے سے دنیا کے متحرک ترین ممالک میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس تبدیلی کے مرکز میں بلال بن ثاقب ہیں، جو پاکستان کے وزیر برائے کرپٹو و بلاک چین، وزیر اعظم کے خصوصی مشیر، اور پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ہیں۔ صرف 30 سال کی عمر میں وہ قیادت کی ایک نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو پالیسی، ٹیکنالوجی اور عالمی وژن کا امتزاج ہے۔

    فوربز کی “30 انڈر 30” فہرست میں شامل اور شاہ چارلس سوم کی جانب سے سماجی خدمات پر MBE اعزاز حاصل کرنے والے بلال کو پاکستان کا کم عمر ترین ٹیکنوکریٹ اور ادارہ جاتی تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تقرری اس خطے میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے جہاں پہلی بار ڈیجیٹل اثاثوں جیسے پیچیدہ شعبے کی ذمہ داری ملینئیل نسل کے رہنما کو سونپی گئی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، یہ تبدیلی حکمرانی کے انداز میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

    بلال کی کامیابی ان کی تکنیکی مہارت، عالمی تجربے اور عوامی خدمات کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے گریجویٹ بلال نے کاروبار، تحقیق اور پالیسی سازی میں متنوع تجربہ حاصل کیا۔ حکومت میں آنے سے قبل وہ مختلف کاروباری منصوبوں کے بانی رہے، عالمی این جی اوز کے ساتھ کام کیا، اور یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اسٹارٹ اپس کو مشورے دیتے رہے۔ 2016 میں بٹ کوائن میں ابتدائی سرمایہ کاری اور بطور اینجل انویسٹر تجربہ انہیں ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجیز کی گہرائی سمجھنے میں مدد دیتا رہا۔

    پاکستان اس وقت ایک منفرد پوزیشن میں کھڑا ہے۔ 4 کروڑ سے زائد فعال کرپٹو صارفین، سالانہ 36 ارب ڈالر ترسیلات زر، اور دنیا کی چوتھی بڑی فری لانس آبادی کے ساتھ، ملک میں ایک بڑی غیر رسمی ڈیجیٹل معیشت پہلے ہی وجود میں آ چکی ہے۔ لاکھوں پاکستانی آن لائن کماتے، لین دین کرتے اور سیکھتے ہیں، جو ضابطہ کار نظام سے آگے نکل چکی ہے۔ موبائل براڈبینڈ کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل مڈل کلاس کے ابھار نے پاکستان کو Chainalysis 2025 کے مطابق کرپٹو اپنانے والے سرفہرست ممالک میں شامل کر دیا ہے۔

    تاہم، کچھ عرصہ قبل تک یہ سرگرمیاں بغیر کسی واضح قانون کے جاری تھیں۔ بلال کی قیادت میں حکومت نے اس غیر رسمی معیشت کو باضابطہ بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ PVARA کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ایکسچینجز، بروکرز اور دیگر ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط متعارف کروا رہی ہے۔ یہ ادارہ دبئی، سنگاپور اور یورپی یونین کے جدید ریگولیٹری ماڈلز سے متاثر ہے۔

    ریگولیشن کے علاوہ، بلال مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور روبوٹکس جیسے جدید شعبوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دینے کے بڑے حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو روایتی نظام سے مقابلہ کرنے کے بجائے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں براہ راست چھلانگ لگانی چاہیے۔بلال کا اثر صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ، ورلڈ اکنامک فورم اور عالمی ٹیک کانفرنسز میں ان کی نمائندگی نے پاکستان کے عالمی تاثر کو خطرات سے مواقع کی طرف منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ عالمی سرمایہ کاروں اور مقامی ٹیلنٹ کے درمیان ایک مضبوط پل بن چکے ہیں۔ایک ایسی دنیا میں جہاں ممالک سرمایہ کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ اور ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے بھی مقابلہ کر رہے ہیں، بلال بن ثاقب 21ویں صدی کے جدید عوامی رہنما کی مثال ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف رفتار پکڑ رہا ہے بلکہ اپنی شرائط پر عالمی ڈیجیٹل معیشت میں جگہ بنا رہا ہے۔

    اسلام آباد سے اسرائیل تک،پاکستان کی کرپٹو پالیسی نے عالمی بیانیہ کیسے بدل دیا
    مئی 2025 میں پاکستان نے خاموشی سے اپنی کرپٹو پالیسی تبدیل کرتے ہوئے PVARA کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ایک جرات مندانہ قدم تھا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دو سال قبل کرپٹو کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد ایکسچینجز کو لائسنس دینا، ٹوکنائزیشن اور مائننگ کے اصول وضع کرنا، اور عالمی معیار کے مطابق نظام قائم کرنا ہے۔

    اس اقدام کے فوری عالمی اثرات سامنے آئے۔ اگلے ہی دن اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بٹ کوائن پر پہلی غیر رسمی بحث ہوئی، جس میں وہی سوالات زیر غور آئے جو پاکستان پہلے ہی حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ڈی سینٹرلائزڈ ٹیکنالوجی تجارت اور معیشت کو کیسے مضبوط بنا سکتی ہے؟ اور سرحدوں سے آزاد مالی نظام میں قومی سلامتی کا کیا تصور ہوگا؟یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 115,000 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ امریکہ، ترکی، نائجیریا اور ارجنٹینا جیسے ممالک بھی اپنی مالی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں۔پاکستان کی خاص بات اس کی رفتار اور حکمت عملی ہے۔ صرف چند ماہ میں ملک نے مکمل پابندی سے ریگولیشن، بٹ کوائن ذخائر کے اعلان، قانون سازی، اور عالمی ایکسچینجز کو دعوت دینے تک کا سفر طے کیا۔
    یہ تبدیلی نوجوان آبادی، بڑھتے انٹرنیٹ صارفین، اور ڈیجیٹل فری لانسرز کی بڑی تعداد کی وجہ سے بھی ناگزیر تھی۔ پاکستانیوں کے لیے کرپٹو محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ روزمرہ مالی ضرورت بن چکی ہے۔حکومت کے لیے یہ قدم ایک اسٹریٹجک پیغام بھی ہے کہ ترقی پذیر ممالک بھی ڈیجیٹل معیشت میں قیادت کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر تعاون، علم کے تبادلے اور نئی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کرپٹو دنیا میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    جیسے جیسے دنیا معاشی اور تکنیکی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے، ڈیجیٹل اثاثے سرحدوں سے آزاد تعاون کا ایک نیا راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ یہ صرف معیشت نہیں بلکہ پالیسی، خودمختاری اور مستقبل کی تیاری کا معاملہ بن چکا ہے۔2025 میں ممکن ہے کہ قیادت روایتی طاقتوں کے بجائے اسلام آباد کے ہاتھ میں ہو،اور پہلی بار عالمی کرپٹو بیانیہ مرکز کے بجائے حاشیے سے تشکیل پا رہا ہو، مگر پوری قوت، رفتار اور یقین کے ساتھ

    بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں پاکستان نے بھارت اور اسرائیل کو پیچھے چھوڑ دیا،نجی ٹی وی سے گفتگو میں بلال کا کہنا تھا کہ دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان کرپٹو میں ان ممالک سے بہت آگے ہے، کرپٹو مارکیٹ میں پاکستان نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے، اب ہمیں روبوٹکس اور آرٹیفشل انٹیلی جنس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اے آئی اور بلاک چین ٹیکنالوجی اگلی نسل کی جنگ اور جدید ترین ٹولز ہیں، اے آئی ایجنٹس لاکھوں ڈالرز کی ادائیگیاں کر رہے ہیں ڈیجیٹل اکانومی ٹریلین تک پہنچ گئی، ہمیں اپنے بچوں اور یوتھ کو جدید ٹیکنالوجی کیلیے تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فرسٹ اپروچ کے تحت ڈیجیٹل انقلاب کیلیے کام کر رہے ہیں، اے آئی اور بلاک چین کو ایٹمی پروگرام جیسی اہمیت دینے کی ضرورت ہے، جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہم اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرح پاکستان میں بھی سنگل پرسن کمپنیاں اربوں ڈالر کما سکتی ہیں، نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ہی عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین بلال بن ثاقب کی کامیابیوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، تاہم اس پیش رفت کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ مہم تیز کر دی ہے۔زرائع کے مطابق واشنگٹن میں بلال بن ثاقب کی ملاقات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کونسل آف ایڈوائزرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بو ہائنس سے ہوئی، جس میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین ٹیکنالوجی اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔تاہم اس پیش رفت کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت پاکستان مخالف بیانیہ اپناتے ہوئے مختلف چینلز اور پلیٹ فارمز پر منفی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ بھارت کا شاید ہی کوئی بڑا چینل ایسا ہو جس نے بلال بن ثاقب کے خلاف تنقیدی یا گمراہ کن مواد نشر نہ کیا ہو۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں 7 مئی کو سماعت کیلئے مقرر کر لیں-

    عدالت نے مرکزی اپیلوں کو 7 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہےعدالت نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست بھی نمٹا دی ہے، عدالت کے مطابق مرکزی اپیلوں کی سماعت شروع ہونے کے باعث سزا معطلی کی درخواستیں غیر مؤثر ہو گئی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے محفوظ کیا گیا فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بننچ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کرنے کرنے کی درخواستیں غیر موثر ہونے پر نمٹا ئیں۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مرکزی اپیل پر سماعت سے قبل سزا معطلی کی درخواستیں سننے کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے مارچ 2025 میں سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی کو سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا رکھی ہے۔