Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا علی مقدم نے ملاقات کی-

    ملاقات میں میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    ایرانی سفیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار پر حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    علی پرویز ملک نے سفیر کے خیالات کا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

  • اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر  کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کے درمیان رابطہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی نائب صدر اور اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، اس کے معاشی اثرات اور وسیع تر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،یورپی یونین کی نائب صدر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، روابط اور پرامن حل کے فروغ کے لیے پرعزم ہےانہوں نے اسلام آباد میں پاک یورپی یونین بزنس فورم کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دے دیا ہے۔

    293 صفحات پر مشتمل یہ تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سپر ٹیکس کو انکم ٹیکس سے الگ اور ایک علیحدہ ٹیکس رجیم کے طور پر تصور کیا جائے گا، فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکشن 4C کے خلاف دیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہو ئے کہا گیا کہ ٹیکس کے نفاذ کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔

    تفصیلی فیصلے کے مطابق سیکشن 4C کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا، عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر تھی، سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کا متبادل نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اضافی ٹیکس ہے، جو مخصوص آمدنیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس نظام کے تحت آتی ہیں، جبکہ سرمایہ میں اضافہ پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہو سکتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق مخصوص قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہوگا عدالت نے واضح کیا کہ فلاحی اور پنشن فنڈز کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے، تاہم انہیں متعلقہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرانا لازمی ہوگا قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس لگانا قانونی طور پر جائز ہے اور مخصوص شعبوں پر زیادہ شرح سے ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے۔

    عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی آمدن پر لاگو ہوگا جس پر بنیادی انکم ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ جو آمدن قانون کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہے وہ سپر ٹیکس سے بھی مستثنیٰ رہے گی جائیداد، شیئرز کی فروخت، وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل ہونے والی آمدن اور زرعی زمین سے حاصل آمدن پر سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا،یہ فیصلہ ملک کے ٹیکس نظام اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اپیل سننے پر اعتراض نہیں لیکن پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،وکیل عمران خان

    اپیل سننے پر اعتراض نہیں لیکن پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستو ں پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آپ اپیل پر دلائل کیوں نہیں دے رہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ اپیل سننے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اس سے پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نےا ستفسار کیا کہ کیا آپ کو اپیل پر دلائل کیلئے نہیں رکھاگیا، سلمان صفدر نے کہاکہ میرے کلائنٹ نے کہا ہے پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستو ں پر سماعت ہوئی،دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ عدالتی حکم پر 8اپریل کو میری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی،میری بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرائی گئی تھی،بانی نے بتایا کہ وہ ایک آنکھ سے نہیں دیکھ پا رہے،ڈاکٹرز نے کہاآنکھ ٹھیک نہیں ہوسکتی،بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے،16اپریل کو اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے مجھے کال کی، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے ایمرجنسی ہے،بشریٰ بی بی کی دائیں آنکھ کی سرجری کی گئی ، ان کی فیملی سے ملاقات ہوئی،بشریٰ بی بی کو دو، تین دن ہسپتال میں رکھا جانا چاہئے تھا لیکن نہیں رکھا گیا، بشریٰ بی بی کو پہلے بھی قید تنہائی میں رکھا گیا تھا، کئی ماہ ہو گئے بشریٰ بی بی کی ضمانت کی استدعا کررہے ہیں

    بیرسٹر سلمان صفدر نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کو بتایا کہ میری 9 اپریل کو عمران خان سے 65 منٹ کی ملاقات ہوئی لیکن سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میرے کہنے کے باوجود بشریٰ بی بی سے میری ملاقات نہیں کرائی، بشریٰ بی بی سے میری آخری ملاقات دسمبر 2025 میں ہوئی تھی اُس کے بعد ملنے نہیں دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ آپ اپیل پر دلائل کیوں نہیں دے رہے؟اپیل سننے کیلئے تیار ہیں، جلد از جلد اس پر فیصلہ کر دیں گے،روزانہ کی بنیاد پر اپیل سننا شروع کرتے اور اس کا فیصلہ کر دیتے ہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ اپیل سننے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اس سے پہلے سزا معطلی پر فیصلہ کردیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اپیل پر دلائل کیلئے نہیں رکھاگیا، سلمان صفدر نے کہاکہ میرے کلائنٹ نے کہا ہے پہلے سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دیں،عدالت نے کہاکہ طے شدہ اصول ہے اپیل مقرر ہو جائے تو سزا معطلی غیرموثرہو جاتی ہے۔

  • نارمل پاسپورٹ اب 21 دن کی بجائے 14 دن میں ملے گا، محسن نقوی

    نارمل پاسپورٹ اب 21 دن کی بجائے 14 دن میں ملے گا، محسن نقوی

    وفاقی حکومت نے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نارمل پاسپورٹ کے اجرا کی مدت میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے تحت اب پاسپورٹ 21 دن کے بجائے 14 دن میں تیار ہوگا۔

    یہ اہم فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پاسپورٹ کے اجرا کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے سے متعلق متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی،وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ نارمل پاسپورٹ کے حصول کا دورانیہ کم کر کے 14 دن کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو بروقت سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس نظام رائج کیا جائے، جس کے لیے متعلقہ حکام کو 15 روز کا ٹاسک دے دیا گیا ہے،اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاسپورٹ کی گھروں تک فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ نے بزنس پاسپورٹ کے اجرا کے نئے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی بھی ہدایت کی،محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کیش لیس ادائیگی کے نظام سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ ایجنٹ مافیا کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا، جو شہریوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

  • 
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری

    
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری

    ‎وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین جج صاحبان کے تبادلوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اہم عدالتی شخصیات کو دیگر ہائیکورٹس میں منتقل کیا گیا ہے۔
    ‎جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ جسٹس بابر ستار کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے پشاور ہائیکورٹ منتقل کیا گیا ہے۔ اسی طرح جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے سندھ ہائیکورٹ کیا گیا ہے۔
    ‎وزارت قانون و انصاف کے مطابق یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 200 کی ذیلی شق 1 کے تحت کیے گئے ہیں، جس کے لیے جوڈیشل کمیشن نے باقاعدہ منظوری دی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ ججز کے تبادلوں کا فیصلہ کثرت رائے سے کیا گیا تھا۔
    ‎مزید بتایا گیا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جبکہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر قائم مقام صدر نے پیرا 7 کے تحت ان تبادلوں کی توثیق کی۔
    ‎یاد رہے کہ ایک روز قبل جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کی منظوری دی تھی، جس کے بعد آج باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو عدالتی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے اثرات مختلف ہائیکورٹس کے امور پر پڑ سکتے ہیں۔

  • 
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پیشرفت، عمران خان مرکزی ملزم قرار

    
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پیشرفت، عمران خان مرکزی ملزم قرار

    ‎بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں ان سمیت دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کروا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کیس میں عمران خان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جس سے قانونی کارروائی مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
    ‎رجسٹرار آفس کی جانب سے چالان کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کیس باقاعدہ سماعت کے مراحل میں داخل ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کل مقرر کی گئی ہے، جہاں اس اہم مقدمے پر پیش رفت متوقع ہے۔
    ‎یہ کیس کافی عرصے سے زیر بحث ہے اور اس میں پارٹی فنڈنگ کے ذرائع اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چالان جمع ہونے کے بعد کیس مزید اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور آئندہ سماعتوں میں اہم فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں بھی پیشرفت ہوئی ہے، جہاں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت آئے گا، جہاں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف اس معاملے کی سماعت کریں گے۔

  • 
امریکا ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی: وزیراعظم

    
امریکا ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی: وزیراعظم

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ نے پاکستان کی گزشتہ دو سالہ مشترکہ معاشی اور سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے لیے بھی مثبت اقدامات کیے، تاہم جنگ کے اثرات سے ملکی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
    ‎وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کو ترجیح دی، اور اسی مقصد کے تحت سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت سیز فائر موجود ہے، لیکن جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اب بھی عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل تقریباً 30 کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اس بڑے اضافے نے ملک کی معاشی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے اور مالی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں  کو تباہ کردیا

    آپریشن غضب للحق: پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں کو تباہ کردیا

    پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت پر پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا پاک فوج کی کارروائیوں نے افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کو پسپائی پر مجبور کردیا سکیورٹی فورسز کا دفاع وطن کے لیےغیرمتزلزل عزم ملک کی سالمیت یقینی بنارہا ہے، پاک فوج کا آپریشن غضب للحق تمام مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔