Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ایل این جی کا جہاز  پاکستان پہنچ گیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

    ایل این جی کا جہاز پاکستان پہنچ گیا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کے مطابق گزشتہ روز ایل این جی گیس موصول ہو چکی ہے ،گیس موصول ہوتے ہی اب بجلی کی لوڈ منیجمنٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔آج سے 13 سے 14 دن پہلے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ 13 اور 14 اپریل کو پانچ پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی ،17,18,19اپریل کو کوئی لوڈمنیجمنٹ نہیں ہوئی ،19 اپریل سے 29 اپریل تک لوڈ شیڈنگ کو دو سے ڈھائی گھنٹے تک محدود کر دیا گیا،آج سے 15 دن پہلے پریس کانفرنس کر کے وزارت کا موقف سامنے رکھا تھا ،بتایا تھا کہ لوڈ شیڈنگ ہماری کسی کوتاہی یا سسٹم کے نان فنکشنل یا پیداواری صلاحیت کے نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ،نواز شریف کے سابقہ دور میں ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا ،چھ سال بعد پھر سے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ،لوڈ شیڈنگ کی وجہ گیس کی کمی تھی جو امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے نہیں موصول ہو رہی تھی ،اگر ہم ڈیزل یا فرنس ائل سے یہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی تمام ضروریات کو ختم کرتے ہیں تو یہ بجلی بہت مہنگی پڑتی ،مہنگی بجلی کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑ سکتا تھا ،ڈیمز کے پانی کو ریلیز کرنا ارسا کی ضرورت ہے اور یہ صوبوں کی ضروریات پر منحصر ہے ،الحمدللہ اب پن بجلی سے بجلی کی پیداوار چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے ،پن بجلی کی پیداوار اس سے پہلے ایک ہزار میگا واٹ تک ہوا کرتی تھی ،دعا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز پر قسم افت اور خرابی سے محفوظ رہیں ،موقع پر ہمیں مہنگی گیس خریدنی پڑی کیونکہ قطری گیس نہیں آرہی تھی ،جس طرح پہلے لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی امید ہے اب بھی ایسا نہیں ہوگا ،بعض حلقوں کی جانب سے غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں کہ ہمارے پاس بجلی کی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگا واٹ ہے ،یہ تاثر بالکل غلط ہے بجلی کی پیداوار 46 ہزار میگا واٹ نہیں بلکہ 32 ہزار میگا واٹ ہے ،سال کے مختلف دورانیوں میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اتار چڑھاؤ اتا رہتا ہے ،الحمدللہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے میں اللہ تعالی نے ہمیں سرخرو کیا ہے ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں مجبورا فرنس اور ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی چلانا پڑا ،ہماری پوری کوشش ہوگی کہ صارفین کو مہنگی بجلی سے محفوظ رکھا جائے ،بروقت اقدامات کی وجہ سے عوام کو ائندہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا

  • پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی سفر بحال

    پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی سفر بحال

    اسلام آباد: پاکستان اور ایران کے درمیان دو ماہ کے تعطل کے بعد فضائی آپریشن بحال ہو گیا ہے، جس کے تحت 26 فروری کے بعد پہلی پرواز ایران سے مسافروں کو لے کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئی۔

    رپورٹس کے مطابق تہران سے آنے والی پرواز ڈبلیو 5185 کامیابی کے ساتھ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتری، جس کے ذریعے مسافروں کو پاکستان لایا گیا۔ فضائی رابطوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان سفری سہولتوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس روٹ پر ایران کی نجی ایئرلائن "ماہان ایئر” کی اگلی پرواز 7 مئی کو شیڈول کی گئی ہے، جبکہ اسی طیارے نے واپسی پر پرواز ڈبلیو 5184 کے ذریعے اسلام آباد سے تہران کے لیے روانگی اختیار کی۔

    واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد فضائی سروس کی معطلی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، تاہم پروازوں کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

  • فارن فنڈنگ کیس،عمران خان کے وکیل کا دوران سماعت چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ

    فارن فنڈنگ کیس،عمران خان کے وکیل کا دوران سماعت چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ

    فارن فنڈنگ کیس میں دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا چالان جمعرات کو بھی عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ رجسٹرار بینکنگ کورٹ کی جانب سے چالان کی اسکروٹنی جاری ہے،دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل نے چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ دیا اور کہا چیٹ جی پی ٹی کہتا ہے رجسٹرار کیس کے چالان کی اسکروٹنی نہیں کرسکتا، یہ کون سا کیس ہے جس میں اسکروٹنی رجسٹرار کررہا ہے، پراسیکیوٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا شاید انہیں معلوم نہیں خصوصی عدالتوں میں چالان کی اسکروٹنی رجسٹرار ہی کرتا ہے، یہ اگر چیٹ جی پی ٹی کا کہہ رہے ہیں تو وہ انہیں کیا جواب دیں،عدالت نے دو ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرکے سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔

  • تجاوزات کے خلاف کاروائی،اسلام آباد کلب اور گن اینڈ کنٹری کلب کی دستاویزات کی چھان بین

    تجاوزات کے خلاف کاروائی،اسلام آباد کلب اور گن اینڈ کنٹری کلب کی دستاویزات کی چھان بین

    وفاقی دارالحکومت میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم نے اب اشرافیہ کے مراکز کا رخ کر لیا، جہاں حکام نے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ قانون کی نظر میں کوئی بھی بالاتر نہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد کلب کے تقریباً 52 کنال رقبے کو جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا گیا ہے، جہاں زمین کے استعمال اور الاٹمنٹ سے متعلق دستاویزات کی چھان بین جاری ہے۔ اسی طرح گنز اینڈ کنٹری کلب کا 252 کنال وسیع رقبہ بھی حکام کی نظر میں آ گیا ہے، جس کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ زمین نہ تو باضابطہ لیز پر ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی الاٹمنٹ موجود ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انسدادِ تجاوزات آپریشن بلا امتیاز جاری رہے گا اور کسی بھی ادارے یا شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ حکام کے مطابق سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، چاہے اس کا تعلق عام افراد سے ہو یا بااثر حلقوں سے۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انسدادِ تجاوزات آپریشن کی نگرانی کی، جس کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے گرین بیلٹ پر قائم ایف سی کیمپ آفس کو مسمار کر دیا، بظاہر دیگر قابضین کو سخت پیغام دینے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا،وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز آپریشن جاری ہے۔ کارروائی کے دوران میریٹ ہوٹل اور ایوب چوک کے قریب گرین بیلٹ پر قائم ایف سی کیمپ آفس کو بھی گرا دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق یہ آپریشن وزیر داخلہ محسن نقوی کی نگرانی میں کیا گیا، جن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو بغیر کسی دباؤ اور امتیاز کے ختم کیا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف سی کیمپ آفس کے لیے متبادل قانونی جگہ فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجاوزات اور لینڈ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، اور کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو ریاستی زمین پر قبضہ یا تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا اور تجاوزات کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف بھی موجود تھے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کلب تقریباً 52 کنال اراضی پر غیر قانونی قبضے میں ہے، تاہم کلب انتظامیہ اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لیے سی ڈی اے سے رابطے میں ہے۔اسی طرح گن اینڈ کنٹری کلب، جو 252 کنال پر قائم ہے، کے پاس بھی سی ڈی اے کی جانب سے کوئی الاٹمنٹ یا لیز دستاویز موجود نہیں ہے۔

    حال ہی میں سی ڈی اے کے ایک افسر نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سرکاری زمین واگزار کرانے کے لیے ان دونوں کلبوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔مزید برآں، سی ڈی اے کے اپنے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 40 ہاؤسنگ سوسائٹیز کے زیر قبضہ 15 ہزار کنال امینٹی لینڈ موجود ہے۔ ان سوسائٹیز نے اپنے لے آؤٹ پلان جمع کراتے وقت یہ زمین سی ڈی اے کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔یہ امینٹی لینڈ سڑکوں، گرین بیلٹس، قبرستانوں، مساجد، اسکولوں اور پارکس کے لیے مختص تھی، تاہم کئی کیسز میں ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اس زمین پر رہائشی اور کمرشل پلاٹس بنا لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ قومی احتساب بیورو کی نظر میں بھی ہے۔اسی طرح متعدد نجی گھروں کے مالکان نے بھی مختلف سیکٹرز میں اپنے گیراج اور لان بڑھا کر گرین بیلٹس اور خالی اراضی پر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔

    سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تجاوزات کے خلاف ادارے کی کارکردگی مؤثر رہی ہے، اور بری امام، سید پور اور بعض کچی آبادیوں میں بڑی مقدار میں سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مارکیٹوں سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی آپریشن جاری ہے۔

  • شاہراہِ دستور پر قائم  کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

    شاہراہِ دستور پر قائم کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

    اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر واقع کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاور (ٹوئن ٹاورز) کو خالی کرانے کے لیے رات گئے اچانک کارروائی شروع کر دی گئی، جہاں رہائش پذیر افراد کو رات دو بجے نیند سے جگا کر عمارت صبح نو بجے تک خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی بھاری نفری عمارت میں پہنچی اور اہلکاروں نے ہر اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر مکینوں کو فوری انخلا کا حکم دیا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتہائی کم وقت دیا گیا، جس کے باعث شدید بے چینی اور اضطراب کی فضا پیدا ہو گئی۔

    یہ ٹاور طویل عرصے سے ایک متنازعہ منصوبہ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 2005 میں شاہراہِ دستور کی قیمتی 13 ایکڑ زمین ایک نجی کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی تھی، جس کا مقصد ایک لگژری ہوٹل کی تعمیر تھا۔ تاہم کمپنی نے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس تعمیر کر کے فروخت کر دیے۔ماضی میں اس منصوبے کو قانونی حیثیت بھی دی گئی تھی جب سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے اسے جائز قرار دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت کئی بااثر اور مالدار افراد کے فلیٹس بھی موجود ہیں۔
    تاہم حالیہ پیش رفت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ٹاور کی لیز منسوخ کر دی ہے، جس کے بعد اس منصوبے کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو خالی کرانے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ لیز منسوخی کے خلاف درخواست خارج کر دی جبکہ اپارٹمنٹ مالکان کی درخواستیں نمٹا دی گئیں۔ بی این پی کمپنی کی جانب سے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست کا مختصر فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے نے ساڑھے 13 ایکڑ کا پلاٹ ہوٹل کیلئے نیلام کیا، بی این پی نامی کمپنی نے کچھ رقم دے کر قبضہ لیا اور ہوٹل کی جگہ لگژری فلیٹ بنا کر لوگوں کو بیچ دئیے سی ڈی اے نے لیز کی پوری رقم نہ ملنے پر پلاٹ کی لیز منسوخ کر دی، معاملہ سپریم کورٹ تک گیا اور مشروط طور پر لیز بحال ہو گئی۔ بعد میں بی این پی کمپنی نے سی ڈی اے کو پیسوں کے عوض کمرشل پلاٹ کی پیشکش کی، سی ڈی اے نے یہ پیشکش ٹھکرا کر لیز دوبارہ کینسل کر دی جس پر کمپنی نے پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔ سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

  • یوم مزدور کے روز مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی،مزدور بدستورمسائل کا شکار

    یوم مزدور کے روز مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی،مزدور بدستورمسائل کا شکار

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یکم مئی کو یومِ مزدور بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے،ملک بھر میں مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی ہے، مزدور آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور کم اجرت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔

    ملک کے مختلف شہروں میں مزدور تنظیموں کی جانب سے ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مزدوروں کے حقوق، بہتر اجرت اور محفوظ کام کے ماحول کے مطالبات دہرائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مزدور آج بھی اپنے عالمی دن پر چھٹی کے بغیر روزگار کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
    موجودہ معاشی حالات میں مہنگائی نے مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے،بجلی،گیس کے بلوں میں اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے مزدوروں کو مزید پریشان کر دیا ہے.

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں محنت کشوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں اور ہنرمند افراد کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، بہتر اجرت اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر مزدور کو اس کا جائز حق مل سکے.

  • 
ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر دوبارہ پابندی عائد

    
ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز پر دوبارہ پابندی عائد

    ملک بھر میں گیس کے نئے کنکشنز کی فراہمی پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا اطلاق گھریلو اور کمرشل دونوں صارفین پر ہوگا۔ وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور مہنگی درآمدی گیس کے باعث کیا گیا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں نئے کنکشنز آر ایل این جی پر فراہم کیے جا رہے تھے، جو عام گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو گیس کے بل چار گنا تک زیادہ ادا کرنا پڑ رہے تھے، جس سے عوامی سطح پر بھی شکایات میں اضافہ ہوا۔
    ‎یاد رہے کہ حکومت نے چند ماہ قبل ہی نئے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کی تھی، تاہم اب دوبارہ پابندی عائد کیے جانے سے شہریوں اور کاروباری حلقوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق نئے کنکشن کے حصول کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ ڈیمانڈ نوٹس کی فیس 6500 روپے سے بڑھا کر 23500 روپے کر دی گئی تھی، جبکہ ترجیحی بنیادوں پر کنکشن لینے والے صارفین سے مزید 25000 روپے اضافی وصول کیے جا رہے تھے۔ اس طرح ایک نئے آر ایل این جی کنکشن کے لیے مجموعی لاگت تقریباً 50 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی۔

  • حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا

    ‎وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول اور ڈیزل دونوں مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر دستیاب تھا۔
    ‎اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پہلے ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر تھی۔
    ‎حکومت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، جس کے بعد صارفین کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں زیادہ اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 750 ملین ڈالر یوروبانڈز موصول

    
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 750 ملین ڈالر یوروبانڈز موصول

    ‎پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اسٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں 730 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 15.83 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو 750 ملین ڈالر کے یوروبانڈز بھی موصول ہوئے ہیں، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر اب 21.27 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس تقریباً 5.44 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے خالص ذخائر 15 ارب 83 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور کرنسی کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎مزید برآں، آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد ذخائر میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو متوقع ہے، جس میں حتمی منظوری دی جا سکتی ہے۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ نہ صرف مالی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں توازن ضروری ہے۔

  • 
وزیراعظم کے ایران، سعودی قیادت سے رابطے، امن کوششوں کی تعریف

    
وزیراعظم کے ایران، سعودی قیادت سے رابطے، امن کوششوں کی تعریف

    ‎ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایران اور سعودی عرب کی قیادت سے بات چیت کی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر سے بھی گفتگو کی، جس میں عالمی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہا ہے اور تمام فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎طاہر حسین اندرابی نے مزید بتایا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔
    ‎ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط نہایت اہم ہیں اور پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کی جائے۔