Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • نورپور شاہاں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، 300 ایکڑ سرکاری زمین واگزار

    نورپور شاہاں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، 300 ایکڑ سرکاری زمین واگزار

    سی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے

    نورپور شاہان میں قانونی اور شفاف آپریشن کے ذریعے اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرا لی گئی، جس سے دہائیوں پر محیط غیر قانونی قبضے اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہوا۔600 ایکڑ پر مشتمل قبضہ شدہ علاقے میں سے 300 ایکڑ زمین واپس حاصل کر لی گئی، جبکہ 3,500 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کر کے قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی۔یہ زمین 1961 تا 1964 کے دوران مکمل معاوضے، نقد رقم اور متبادل زمین کی فراہمی کے ساتھ قانونی طور پر حاصل کی گئی تھی، جس سے تمام دعوے دہائیوں پہلے ہی نمٹا دیے گئے تھے۔ازخود نوٹس کیس نمبر 1 برائے 2011 میں واضح کیا گیا کہ حاصل شدہ زمین مکمل طور پر ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور قابضین کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں۔

    تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے، دعوے طلب کیے گئے، سماعتیں ہوئیں، اور 19 جنوری 2026 کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔آپریشن نومبر 2025 سے اپریل 2026 تک پیشگی نوٹس کے ساتھ کیا گیا، رہائشیوں کو اپنے سامان، چھتیں، حتیٰ کہ لوہے کے ڈھانچے خود ہٹانے کے لیے وقت دیا گیا، اس کے بعد مشینری استعمال کی گئی۔زمینی شواہد سے ظاہر ہوا کہ قابضین نے کئی مواد رضاکارانہ طور پر خود ہٹایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کارروائی مرحلہ وار، انسانی ہمدردی پر مبنی اور پیشگی اطلاع کے ساتھ کی گئی۔تجاوزات میں غیر قانونی فروخت، کرایہ داری اور تجارتی استعمال شامل تھا، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کر دی گئی ہیں۔ماڈل ولیج (1985) کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا، کارروائی صرف اس کی مقررہ حدود سے باہر موجود غیر قانونی تجاوزات تک محدود رہی۔

    سی ڈی اے، اسلام آباد انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے باہمی تعاون سے ریاستی رٹ بحال کرنے اور عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔ غیر قانونی زمینوں پر قبضہ اور متوازی جائیداد بازار کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، قانون کی حکمرانی قائم رہے گی۔

  • بشریٰ بی بی کی اسپتال منتقلی کی اطلاعات، بیرسٹر گوہر کا ملاقات،علاج کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کی اسپتال منتقلی کی اطلاعات، بیرسٹر گوہر کا ملاقات،علاج کا مطالبہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کو رات کے وقت اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اہلِ خانہ کو فوری طور پر بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو بھی علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے، کیونکہ ان کی صحت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے بھی ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کرائی جائے، کیونکہ علاج اور اہلِ خانہ سے رابطہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر پنجاب حکومت کی خاموشی افسوس ناک ہے۔شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے میں مسلسل غفلت برت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو بنیادی طبی سہولتوں سے محروم رکھنا آئین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور سزا مکمل کر رہے ہیں،

  • وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس کے موقع پر موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات کی، جس میں معاشی صورتِ حال اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کرلی ہے، تمام قرض دہندگان کی ذمے داریاں بروقت پوری کی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی مالی معاونت اہم ہے جو بیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی۔محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان نے موجودہ بحران میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کھاد کے زیادہ ذخائر رکھے جس سے کاشت کے اہم سیزن میں مدد ملے گی۔وزیرِ خزانہ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی کے لیے درمیانی مدت کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی۔ملاقات میں انہوں نے علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں توانائی کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں سپلائی چین کو محفوظ بنانا، مکمل قیمتوں کی منتقلی اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز شامل ہیں،وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے موڈیز کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ

    جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں نافذ

    ‎اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق 16 اپریل رات 11 بجے سے 26 اپریل تک جڑواں شہروں میں بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے گی، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام بس اڈے اور ٹرانسپورٹ اسٹینڈز بند رہیں گے جبکہ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ اس دوران دونوں شہروں کے درمیان اور دیگر اضلاع کی طرف جانے والی ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    متاثرہ علاقوں میں فیض آباد، پیرودھائی، سبزی منڈی، 26 نمبر، جی نائن، پشاور موڑ اور چور چوک شامل ہیں جہاں تمام بڑے ٹرانسپورٹ مراکز بند رہیں گے۔ ان مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری رہے گا۔
    ٹریفک پولیس اسلام آباد کے مطابق 17 اور 18 اپریل کے درمیان رات 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک بھاری ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ شہر کے اندرونی راستوں پر بھی سیکیورٹی کے باعث مختلف مقامات پر ڈائیورشنز متوقع ہیں۔
    حکام نے واضح کیا ہے کہ شہر کے اندر چلنے والی مقامی ٹرانسپورٹ، میٹرو بس سروس، موٹرویز اور تعلیمی ادارے فی الحال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، تاہم صورتحال کے پیش نظر کسی بھی وقت مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

  • اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

    اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

    ‎اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع علاقے نوری باغ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران تصادم کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق مزار بری امام کے قریب نور پور شاہاں کے علاقے میں وفاقی ترقیاتی ادارے کی درخواست پر درج مقدمے میں مقامی افراد پر سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے، اہلکاروں کو زخمی کرنے، اقدام قتل اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا۔
    ‎دوسری جانب متاثرہ افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جن گھروں میں رہائش پذیر ہیں وہ انہوں نے باقاعدہ رقم ادا کر کے خریدے ہیں اور انہیں غیرقانونی قرار دینا ناانصافی ہے۔
    ‎سی ڈی اے حکام کے مطابق یہ علاقہ غیرقانونی ہاؤسنگ پر مشتمل ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہاں پراپرٹی ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوتا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے باعث ان جگہوں کو خالی کرانے کی ضرورت تھی۔
    ‎حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران تقریباً 60 کنال زمین واگزار کروائی گئی جبکہ مجموعی طور پر مختلف علاقوں میں اب تک 600 ایکڑ زمین واپس حاصل کی جا چکی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے آپریشنز میں شفافیت اور عوامی اعتماد انتہائی اہم ہوتا ہے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے۔

  • پاکستان کی فضائی حدود سے آمدن میں نمایاں اضافہ

    پاکستان کی فضائی حدود سے آمدن میں نمایاں اضافہ

    ‎پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں غیر ملکی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود سے گزرتی ہیں، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری ریونیو حاصل ہو رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق روزانہ تقریباً 700 سے زائد بین الاقوامی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔ ان پروازوں سے اوور فلائٹ چارجز کی مد میں پاکستان کو یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر تک آمدن حاصل ہو رہی ہے۔ یہ آمدن ڈالر میں ہونے کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا سبب بھی بن رہی ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے بین الاقوامی فضائی راستوں کے لیے نہایت اہم بناتا ہے۔ مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والی بیشتر پروازیں پاکستان کی فضائی حدود کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ یہ راستہ نسبتاً مختصر اور ایندھن کی بچت کا باعث بنتا ہے۔
    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کے لیے باقاعدہ فیس مقرر کی گئی ہے، جو ہر پرواز سے وصول کی جاتی ہے۔ ان فیسز کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن نہ صرف ایوی ایشن سیکٹر کی بہتری پر خرچ کی جاتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی سہارا فراہم کرتی ہے۔
    حکام کے مطابق اگر فضائی حدود کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور عالمی ایئرلائنز کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے تو اس آمدن میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سیکیورٹی کے بہتر انتظامات سے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط ایوی ایشن حب کے طور پر ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • پنجاب میں پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    پنجاب میں پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    ‎پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صحت اور ماحول کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت نے کہا ہے کہ حکومت پلاسٹک تھیلوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے کیونکہ یہ نہ صرف فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں اور مختلف بیماریوں، حتیٰ کہ کینسر جیسے مسائل سے بھی منسلک ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر سستے اور ماحول دوست کاغذی تھیلے دستیاب ہیں، جن کے استعمال کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ پنجاب کو مکمل طور پر پلاسٹک فری زون بنایا جائے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال ماحولیاتی آلودگی، نکاسی آب کے مسائل اور زمین کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جس کے باعث ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف ماحول بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔

  • لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں

    لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں

    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان جاری جنگ بندی مذاکرات کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، لہٰذا وہاں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور قیامِ امن ناگزیر ہے۔
    ‎اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا، تاہم نہ کوئی بڑا بریک تھرو سامنے آیا اور نہ ہی مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “نہ بریک تھرو نہ بریک ڈاؤن” قرار دیا۔
    ‎ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل اور سنجیدہ مذاکرات ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر یہ سفارتی عمل 24 گھنٹوں سے بھی زائد جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فریقین کے عزم اور سنجیدگی کو سراہا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس امن عمل میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تہران و واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور وفود کے تبادلے بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔
    ‎ترجمان نے واضح کیا کہ سفارتی رابطوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ اعتماد اور رازداری برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان معلومات کو شیئر کیا جائے تو یہ اعتماد کے منافی ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے دوست ممالک اور عالمی طاقتوں، بشمول روس، سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے امن عمل کی حمایت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم بھی کیا۔
    ‎ترجمان نے آئندہ مذاکرات کی تاریخ سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

  • آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان

    آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان

    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا ہے کہ آج رات سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے گی، جس سے عوام کو فوری ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور لوڈشیڈنگ کے باعث ہونے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور آج رات سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد اور کے الیکٹرک کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے ریکارڈ 2100 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق اس وقت ملک کو تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔
    ‎اویس لغاری نے بتایا کہ اس شارٹ فال کی بڑی وجوہات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث گیس کی فراہمی میں رکاوٹ اور پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1600 میگاواٹ کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے بھی 3000 میگاواٹ سے زائد کمی ہوئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی اور سولر کے فروغ پر کام کر رہی ہے، تاہم موجودہ بحران عارضی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق فرنس آئل سے 1400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ قلت کو کم کیا جا سکے۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اپریل میں بجلی کی طلب 9 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار میگاواٹ تک رہی، اور جب طلب ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرتی ہے تو لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہونے اور ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ فرنس آئل کے استعمال سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً 1 روپے 30 پیسے فی یونٹ تک جا سکتا ہے۔

  • وزیراعظم  کی امیرقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اہم ملاقات

    وزیراعظم کی امیرقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اہم ملاقات

    دوحہ،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی امیرقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اہم ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں خطے خصوصاً خلیج کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی،قریبی تعاون اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا گیا،وزیراعظم کی جانب سے قطر اور دیگر علاقائی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان قطر کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، پاکستان اور قطر کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا،دونوں رہنماؤں نےسکیورٹی، دفاع اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کاعزم کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قطر کا والہانہ استقبال پاکستان، قطر دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے ملاقات میں گرمجوشی اور تعمیری گفتگو پاکستان کےقطراورخلیجی ملکوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کامظہرہے

    قبل ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورہ قطر کے دوران شاندار استقبال کیا گیا،قطر کی حدود میں داخل ہوتے ہی وزیراعظم کے طیارے کو لڑاکا طیاروں کی سلامی دی گئی، قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے وزیرِ اعظم کے جہاز کوحصار میں لےلیا، لڑاکا طیاروں نےوزیر اعظم کے جہاز کو حفاظتی حصار میں ایئر پورٹ تک چھوڑا ،وزیراعظم نے شاندار استقبال پر قطری قیادت اور پائلٹس کا شکریہ ادا کیا