ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان جاری جنگ بندی مذاکرات کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، لہٰذا وہاں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور قیامِ امن ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا، تاہم نہ کوئی بڑا بریک تھرو سامنے آیا اور نہ ہی مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “نہ بریک تھرو نہ بریک ڈاؤن” قرار دیا۔
ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل اور سنجیدہ مذاکرات ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر یہ سفارتی عمل 24 گھنٹوں سے بھی زائد جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فریقین کے عزم اور سنجیدگی کو سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس امن عمل میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تہران و واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور وفود کے تبادلے بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ سفارتی رابطوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ اعتماد اور رازداری برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان معلومات کو شیئر کیا جائے تو یہ اعتماد کے منافی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے دوست ممالک اور عالمی طاقتوں، بشمول روس، سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے امن عمل کی حمایت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم بھی کیا۔
ترجمان نے آئندہ مذاکرات کی تاریخ سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں
