Baaghi TV

اسلام آباد میں آپریشن پر تصادم، دہشتگردی کی دفعات میں مقدمہ درج

‎اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع علاقے نوری باغ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران تصادم کے بعد پولیس نے درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
‎تفصیلات کے مطابق مزار بری امام کے قریب نور پور شاہاں کے علاقے میں وفاقی ترقیاتی ادارے کی درخواست پر درج مقدمے میں مقامی افراد پر سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے، اہلکاروں کو زخمی کرنے، اقدام قتل اور سرکاری امور میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
‎پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا۔
‎دوسری جانب متاثرہ افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جن گھروں میں رہائش پذیر ہیں وہ انہوں نے باقاعدہ رقم ادا کر کے خریدے ہیں اور انہیں غیرقانونی قرار دینا ناانصافی ہے۔
‎سی ڈی اے حکام کے مطابق یہ علاقہ غیرقانونی ہاؤسنگ پر مشتمل ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہاں پراپرٹی ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوتا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کے باعث ان جگہوں کو خالی کرانے کی ضرورت تھی۔
‎حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران تقریباً 60 کنال زمین واگزار کروائی گئی جبکہ مجموعی طور پر مختلف علاقوں میں اب تک 600 ایکڑ زمین واپس حاصل کی جا چکی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے آپریشنز میں شفافیت اور عوامی اعتماد انتہائی اہم ہوتا ہے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے۔

More posts