Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی: ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ  کے خلاف مقدمہ درج،پولیس اہلکار بھی نامزد

    کراچی: ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج،پولیس اہلکار بھی نامزد

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پڑوسی خاتون پر تشدد کرنے والی ملزمہ مریم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    ڈیفنس فیز 6 کے خیابانِ بخاری میں ایک بااثر خاتون اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے بہن بھائی پر مبینہ تشدد کی وڈیو سامنے آئی تھی، جس کے بعد پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے وڈیو میں ایک خاتون کو دو با وردی پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں دوسری خاتون پر ڈمبل سے حملہ کر تے، جب کہ بعد ازاں ایک سادہ لباس شخص کو سرکاری کلاشنکوف سے سی سی ٹی وی کیمرہ توڑتے دیکھا گیا تھا۔

    بعد میں سامنے آنے والی فوٹیج میں متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو پولیس اہلکار گھسیٹ کر تھانے لے جاتے دکھائی دیے تھے، جس کے بعد متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمے کے اندراج میں مبینہ جانبداری کے الزامات سامنے آئے تھے، ملزمہ مریم نے تشدد کے بعد متاثرہ خاتون کے خلاف ہی مقدمہ درج کرا دیا تھا، سوشل میڈیا پر وڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام کی تنقید اور سخت ردعمل کے بعدڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن ساؤتھ کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی-

    تاہم تحقیقات کے بعد ملزمہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے تحقیقاتی رپورٹ میں واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی مکمل رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ارسال کی تھی،رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری سمیت چار پولیس افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے انتظامی غفلت برتی گئی، جس پر کارکردگی اور نظم و ضبط کے قواعد 2020 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی،ضلع کورنگی کے جن پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی، ان میں ایس ایچ او درخشاں راشد علی، تفتیشی افسر عمران درخشاں اور پولیس موبائل افسر آفتاب منگی بھی شامل ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمے کو بی کلاس قرار دے کر خارج کرنے اور متاثرہ خاندان کی مدعیت میں تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی تھی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وڈیو میں متاثرہ خاندان کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کے قر یبی رشتے دار ہیں، تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات کے بعد اب ملزمہ مریم اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

  • خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت  طلب

    خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت طلب

    کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیا ن پروفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی-

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟ وفاقی وزرا کی بیان بازی صوبے کے خلاف سیاسی جارحیت کے مترادف ہے۔

    انہوں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیان بازی سے پہلے تاریخ، آئین اور پارلیمانی ریکارڈ کا مطالعہ کریں پیپلز پارٹی کا موقف دو رخی نہیں بلکہ دوٹوک، اصولی اور آئینی ہے، پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کے خلاف 8 مرتبہ قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔

    انہوں نے (ن) لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرے مگر سندھ کو قربانی کا بکرا نہ بنائے جبکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق اور آئین کو بالادست رکھنے کی سیاست کی ہے،پیپلز پارٹی وفاق اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

    واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی تھی،کہا تھا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پر کروں گا۔

  • شاہد آفریدی سندھ پولیس کے سفیرِ کھیل مقرر

    شاہد آفریدی سندھ پولیس کے سفیرِ کھیل مقرر

    کراچی میں سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے زیرِ اہتمام سینٹرل پولیس آفس میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی کو سندھ پولیس کا سفیرِ کھیل مقرر کردیا گیا۔

    تقریب کے دوران شاہد آفریدی کو سفیرِ کھیل مقرر کیے جانے کی سند بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کا سفیر بن کر شاہد آفریدی نے پولیس فورس کو اعزاز بخشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس میں کھیلوں کا فروغ ہمیشہ ترجیحات میں شامل رہا ہے اور پولیس میں کھیلوں کے انعقاد کا خواب طویل عرصے سے دیکھا جارہا تھا۔

    آئی جی سندھ کے مطابق رواں سال نومبر میں سندھ پولیس کے زیرِ اہتمام کھیلوں کا ایک بڑا میلہ منعقد کیا جائے گا، جس کا مقصد پولیس اہلکاروں اور نوجوانوں میں کھیلوں کے رجحان کو مزید فروغ دینا ہے۔

    اس موقع پر شاہد خان آفریدی نے سندھ پولیس کا سفیرِ کھیل مقرر ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں ان کا خواب تھا کہ وہ سندھ پولیس کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوکر کھیلیں۔

    شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کا سفیر مقرر ہونا ان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ وہ سندھ پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے اور کھیلوں کے فروغ کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے، صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  • 5 ستمبر کو میرپورخاص میں پنک اسکوٹیز تقسیم کی جائیں گی۔شرجیل میمن

    5 ستمبر کو میرپورخاص میں پنک اسکوٹیز تقسیم کی جائیں گی۔شرجیل میمن

    صوبہ سندھ میں عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پیپلز بس سروس کی توسیع، ڈبل ڈیکر بسوں، ای وی ٹیکسی سروس، پنک اسکوٹیز اور بی آر ٹی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ قمبر شہدادکوٹ سے لاڑکانہ روٹ پر پیپلز بس سروس جلد شروع کی جا رہی ہے، جبکہ ڈبل ڈیکر بسوں کی آمد اور ان کے آپریشن سے متعلق انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔بریفنگ کے مطابق ای وی ٹیکسی سروس کے آپریشنل ماڈل اور اسے شروع کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر بھی تفصیلی مشاورت جاری ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے ہدایت کی کہ نئے روٹس پر بس سروس کے آغاز کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز بس سروس کا دائرہ کار بڑھانے کا مقصد شہریوں کو بہتر، آرام دہ اور مؤثر سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔سینئر وزیر نے اعلان کیا کہ 5 ستمبر کو میرپورخاص میں پنک اسکوٹیز تقسیم کی جائیں گی۔ انہوں نے بی آر ٹی منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں تاخیر سے بچنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کریں۔

  • کارساز حادثہ کیس، ملزمہ نتاشا منشیات کیس میں بھی بری

    کارساز حادثہ کیس، ملزمہ نتاشا منشیات کیس میں بھی بری

    کراچی: سٹی کورٹ کراچی میں کارساز حادثے سے متعلق امتناعِ منشیات کیس کی سماعت ہوئی، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے پراسیکیوشن کی جانب سے الزام ثابت نہ ہونے پر ملزمہ نتاشا کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کردیا۔

    ملزمہ کے وکیل فواد علی کچھی کے مطابق کیمیکل ایگزمینر اور بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹس میں نتاشا کے خون میں آئس کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے سیمپلز میں ٹیمپرنگ کی گئی، جبکہ تفتیشی افسر نے بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ بھی چھپائی،

    واضح رہے کہ ملزمہ نتاشا مرکزی کارساز حادثہ کیس میں بھی بری ہوچکی ہیں۔کارساز حادثہ اگست 2024 میں کراچی میں پیش آیا تھا، جہاں تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک باپ اور اس کی بیٹی جاں بحق ہوگئے تھے۔

  • سندھ کی تقسیم پر قومی اسمبلی کو بھی بات کا اختیار نہیں، مراد علی شاہ

    سندھ کی تقسیم پر قومی اسمبلی کو بھی بات کا اختیار نہیں، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا، قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کرسکتی۔ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرنا کسی صورت درست نہیں۔

    سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیپلزپارٹی کی تحریکِ التوا پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی، جس کے بعد سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ قرارداد پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے پیش کی۔

    سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں، اس معاملے پر فیصلہ اسی ایوان اور سندھ کے عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحث سے واضح ہوجائے گا کہ کون سندھ کے ساتھ کھڑا ہے اور کون دوغلا پن کر رہا ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں ون یونٹ کے قیام کے معاملے پر بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرانداز کیا گیا تھا، تاہم اب سندھ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے لاہور میں ہونے والے ایک پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ’’دی سسٹم ہیز کولیپسڈ‘‘ کہا گیا اور اس پر تالیاں بجائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز پر ہونے والی گفتگو تشویش کا باعث ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے سوال اٹھایا کہ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کے فیصلے کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے جذبات اور احساسات کو نظرانداز کرکے صوبے کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

    مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ وہ انتظامی یونٹس چاہتے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی میں کہتے ہیں کہ سندھ تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسے دوغلا پن قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایم کیو ایم والے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ان اراکین میں سے ایک بھی انتخاب جیت کر ایوان میں نہیں آیا۔ اگر یہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر آتے تو شاید صورتحال مختلف ہوتی۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان اراکین کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلات مناسب وقت پر ایوان کے سامنے رکھی جاسکتی ہیں، جبکہ بعض اراکین براہ راست انتخاب کے بجائے مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان تک پہنچے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں صرف آبادی کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا، اصل معاملہ گورننس کا ہے۔ اگر مسئلہ حکمرانی اور انتظامی کارکردگی کا ہے تو اسے بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے معاملے پر تفصیلی بحث ضرور ہوسکتی ہے، تاہم انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ مکس نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے قانون میں مزید ترامیم لانے پر کام جاری ہے۔

  • میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی، بزنس پارٹنر سے پے درپے سوالات

    میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی، بزنس پارٹنر سے پے درپے سوالات

    کراچی: میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی، جس میں مقتول کے اہلِ خانہ، وکیل جبران ناصر، پولیس افسران، کاروباری شراکت دار، دوست اور رائیڈز فراہم کرنے والا ڈرائیور پیش ہوئے۔

    میر رضا کے اہلِ خانہ اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ کمیشن میں شریک ہوئے، جبکہ سندھ حکومت کے فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال بھی کارروائی میں موجود تھے۔کارروائی کے دوران میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے، عبداللہ، دوست رازق اور حیثم جبکہ میر رضا کو رائیڈز فراہم کرنے والے ڈرائیور احسان علی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے سے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی سوالات کیے۔ کمیشن نے پوچھا کہ وہ میر رضا کو کب سے جانتے ہیں، جس پر احمد بھردے نے بتایا کہ وہ میر رضا کو بچپن سے جانتے تھے اور دونوں پہلی جماعت سے ساتھ تھے۔

    احمد بھردے کے مطابق کالج کے زمانے میں بھی دونوں ساتھ رہے، مختلف ایونٹس کیے اور بعد ازاں کاروبار بھی شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں دونوں نے مشترکہ کاروبار کا آغاز کیا، جس کی ڈیزرٹ شاپ کی دو برانچز اور دو کلاؤڈ کچن تھے۔کاروباری شراکت سے متعلق سوال پر احمد بھردے نے بتایا کہ کاروبار شروع کرتے وقت پارٹنر ڈیڈ تیار کی گئی تھی اور دونوں مل کر تمام برانچز چلاتے تھے۔ میر رضا کا گھر بہادر آباد کے قریب ہونے کے باعث وہ کاروباری معاملات کا زیادہ حصہ وہیں سے دیکھتا تھا۔کاروبار کی مالی صورت حال کے بارے میں احمد بھردے نے کہا کہ کاروبار اچھا چل رہا تھا اور کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا۔ دونوں شراکت داروں نے طے کیا تھا کہ ذاتی اخراجات کے لیے روزانہ 5 ہزار روپے نکالے جائیں گے، جبکہ اضافی رقم درکار ہونے کی صورت میں دوسرے پارٹنر کو بتا کر رقم نکالی جاتی تھی۔احمد بھردے نے بتایا کہ جولائی میں اکاؤنٹنٹ رکھا گیا، اس سے قبل کاروبار کے مالی معاملات دونوں شراکت دار خود دیکھتے تھے۔ کمیشن کی جانب سے کاروبار فروخت کرنے کے ارادے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کاروبار فروخت کرنے کا کبھی نہیں سوچا تھا۔

    کمیشن نے میر رضا کی گمشدگی کے دوران صبح 8 بجے ان کے گھر جانے سے متعلق بھی سوال کیا۔ احمد بھردے نے بتایا کہ وہ اپنی کار میں میر رضا کے گھر گئے تھے اور ان کے پاس ایک گاڑی تھی جو ان کے والد کے نام پر تھی۔کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ان کے بیان میں دو گاڑیوں کا ذکر نہیں تھا؟ احمد بھردے نے جواب دیا کہ دوسری گاڑی کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسے پہلے ہی فروخت کیا جا چکا تھا اور عبداللہ بھی ان کے ساتھ تھا۔احمد بھردے کے مطابق گھر پہنچنے پر منیجر شیری، کاظم، رازق اور حیثم بھی وہاں موجود تھے۔کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کی فیملی سے کیا بات ہوئی؟ اس پر احمد بھردے نے بتایا کہ انہیں خیال آیا کہ شاید میر رضا کوئی نوٹ وغیرہ چھوڑ کر گئے ہوں، اس لیے انہوں نے اہلِ خانہ سے بات کی اور کہا کہ گھر میں چیک کرتے ہیں۔

    کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا احمد بھردے کا میر رضا کے گھر آنا معمول تھا اور میر رضا کے کمرے میں کون کون گیا تھا۔احمد بھردے نے بتایا کہ میر رضا کی والدہ، عبداللہ، رازق اور شیری کمرے میں گئے تھے۔ ان کے مطابق کمرے میں میر رضا کا والٹ، چارجر اور چابیاں موجود تھیں، جبکہ میر رضا عموماً چارجر اور چابیاں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔احمد بھردے نے مزید بتایا کہ میر رضا شیلف میں سگریٹ کے پیکٹ رکھتے تھے اور بعض پیکٹس میں چرس بھی ہوتی تھی۔چرس کا ذکر کیے جانے پر کمیشن نے احمد بھردے سے متعدد سوالات کیے کہ انہیں اس بارے میں کیسے معلوم تھا اور کیا انہوں نے کبھی چرس دیکھی تھی۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا میر رضا کے اہلِ خانہ کو کمرہ چیک کرنے کا موقع نہیں دیا جا سکتا تھا۔احمد بھردے نے کمیشن کو بتایا کہ وہ خود کو کلیئر کرنے کے لیے وہاں آئے ہیں۔

    کمیشن نے ان سے مزید سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ کسی شخص کی ذاتی جگہ میں اس طرح جانا کیوں ضروری سمجھا گیا اور یہ بھی کہا کہ آپ نے خود بہت اچھی طرح تلاشی لی۔میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مختلف افراد کے بیانات اور واقعات کے حوالے سے کیے جانے والے سوالات کے باعث کیس کی تحقیقات میں مزید اہم پہلو سامنے آنے کا امکان ہے۔

  • کراچی میں جماعت اسلامی کی ہڑتال، مختلف مقامات پرجلاؤ گھیراؤ،شرجیل میمن کی مذمت

    کراچی میں جماعت اسلامی کی ہڑتال، مختلف مقامات پرجلاؤ گھیراؤ،شرجیل میمن کی مذمت

    کراچی: جماعت اسلامی کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کے اعلان کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    کورنگی اور سرجانی روڈ سمیت مختلف مقامات پر مظاہرین نے ٹائر نذرِ آتش کرکے سڑکیں بلاک کردیں، سڑکوں کی بندش کے باعث دفاتر جانے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ شہر کی مختلف اہم شاہراہوں پر ٹریفک معمول سے کم رہی۔پولیس کی نفری احتجاجی مقامات پر پہنچنے کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے آج کے لیے پیٹرولیم لیوی کے خلاف پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم شہر قائد میں معمولات زندگی روز مرہ کی طرح جاری ہیں۔پیٹرول پمپس اور ہوٹلز کھلے ہوئے ہیں اور صبح کے اوقات میں آفس جانے والوں کا رش بھی معمول کے مطابق جاری ہے۔

    ادھر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے شہر میں بے امنی پھیلانا افسوسناک ہے، احتجاج کے نام پر کراچی کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں خوف و ہراس پھیلانا قانون کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم شرپسند عناصر کو عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ آگ لگانے، سڑکیں بند کرنے اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور امن و امان میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • کراچی بار کا جماعت اسلامی اور تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان

    کراچی بار کا جماعت اسلامی اور تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان

    کراچی بار ایسوسی ایشن نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر معاشی مسائل کے خلاف جماعت اسلامی اور تاجروں کی جانب سے آج کی ملک گیر ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا۔

    کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وکلا مہنگائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے کراچی پریس کلب تک پرامن ریلی نکالیں گے، ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے نتیجے میں وکلا اور سائلین کو عدالتوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے،کراچی بار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ہڑتال کے باعث وکلا یا سائلین کی عدم حاضری پر کوئی سخت حکم جاری نہ کیا جائے۔

    دوسری جانب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے لاہور میں دھر نے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا،کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک طرف مذاکرات کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے، آج کی ہڑتال کے بعد احتجاج کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

  • کراچی میں ٹریفک پولیس اہلکار دوران ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

    کراچی میں ٹریفک پولیس اہلکار دوران ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

    کراچی کے علاقے قائدآباد میں دوران ڈیوٹی ٹریفک پولیس کا سب انسپکٹر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا، پولیس اہلکار کی اچانک موت پر ساتھی اہلکاروں میں بھی افسوس کی لہر دوڑ گئی۔

    پولیس کے مطابق ٹریفک پولیس کا سب انسپکٹر قائدآباد پولیس چوکی میں تعینات تھا اور معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا کہ اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ اہلکار کو دل کا دورہ پڑا، جس کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکا۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کے بعد متوفی اہلکار کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں ضروری طبی و قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی سب انسپکٹر کی اچانک موت کے حوالے سے مزید تفصیلات قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔ دوران ڈیوٹی پولیس اہلکار کے انتقال پر ساتھی اہلکاروں اور متعلقہ حکام نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔