Baaghi TV

Category: کراچی

  • 
لاپتا کارگو طیارے کا ملبہ سمندر سے مل گیا، عملے کی تلاش جاری

    
لاپتا کارگو طیارے کا ملبہ سمندر سے مل گیا، عملے کی تلاش جاری

    ‎نجی کمپنی کے لاپتا کارگو طیارے کی تلاش کے لیے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کی جانب سے جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے سمندر میں طویل سرچ آپریشن کے بعد طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے، جبکہ عملے کے ارکان اور دیگر شواہد کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے نے 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران لاپتا طیارے کا ملبہ اوڑمارہ کے ساحل سے تقریباً 53 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر سے برآمد کیا۔ ملبہ ملنے کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں لاپتا ہونے والے عملے کے پانچ ارکان کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے پاک بحریہ کے جنگی جہاز، گشتی کشتیاں، فضائی نگرانی کے طیارے اور ہیلی کاپٹر مسلسل متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ پی ایم ایس اے کے بحری اثاثے بھی کارروائی میں شریک ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق سمندر میں موسمی اور سمندری حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرچ آپریشن کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ طیارے کے مزید حصے، فلائٹ ریکارڈنگ سے متعلق ممکنہ شواہد اور لاپتا عملے کا سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎یاد رہے کہ نجی کمپنی کا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آ رہا تھا، تاہم دورانِ پرواز نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دینے کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ بعد ازاں طیارہ کراچی سے مغرب کی جانب تقریباً 155 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ریڈار سے غائب ہو گیا، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ملنے کے بعد حادثے کی تحقیقات مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائی جائیں گی، جبکہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عملے کے تمام ارکان اور ضروری شواہد کا سراغ نہیں مل جاتا۔

  • 
کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ، 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچ گئی

    
کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ، 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچ گئی

    ‎کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے لیے بیورو آف ایئر کرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن کی 11 رکنی خصوصی ٹیم کراچی پہنچ گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور شواہد کی بنیاد پر طیارہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کرے گی۔
    ‎ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد سے نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچی، جہاں سے ارکان فوری طور پر حادثے کے مقام کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹیم جائے وقوعہ سے دستیاب شواہد، طیارے کے ملبے اور دیگر اہم مواد کا تفصیلی معائنہ کرے گی تاکہ حادثے سے متعلق تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے تحقیقات کے پیش نظر کے ٹو ایئرویز کا مرکزی دفتر سیل کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم ایئرلائن کے ہیڈ آفس کا بھی دورہ کرے گی، جہاں آپریشنل اور تکنیکی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎تحقیقات کے دوران طیارے کی مینٹیننس لاگ بکس، انجینئرنگ ریکارڈ، پرواز سے متعلق دستاویزات، عملے کی پیشہ ورانہ معلومات، تربیتی ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پرواز سے قبل اور دوران پرواز قومی اور بین الاقوامی فضائی حفاظتی ضوابط پر مکمل عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔
    ‎تحقیقاتی حکام فلائٹ پلان، ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ ہونے والی گفتگو، ریڈار ڈیٹا، نیویگیشن سسٹم کی کارکردگی اور دیگر تکنیکی معلومات کا بھی تجزیہ کریں گے تاکہ حادثے کے اسباب کا درست تعین کیا جا سکے۔ اگر ضرورت پڑی تو متعلقہ عملے اور عینی شواہد رکھنے والے افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے۔
    ‎ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو جدید تکنیکی سہولیات اور مکمل اختیارات فراہم کیے گئے ہیں تاکہ تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کی جا سکیں۔ ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کرنے کے بعد وزارتِ دفاع کے متعلقہ حکام کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں آئندہ قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

  • شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں گر کر تباہ

    شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں گر کر تباہ

    ‎پاکستان کی فضائی حدود کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ دوران پرواز خلیج میں ریڈار سے اچانک غائب ہوگیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے

    کارگو طیارہ دورانِ پرواز ریڈار اور مواصلاتی نظام سے مکمل طور پر منقطع ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حادثے کے وقت طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔‎ترجمان کے مطابق نجی کمپنی کا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا کہ دورانِ پرواز پائلٹ نے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔ کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کو رہنمائی فراہم کی اور صورت حال کو معمول پر لانے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد طیارے کی پرواز میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔

    ‎ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا اور اس نے اپنی سمت بھی تبدیل کر لی۔ اس دوران ایئر ٹریفک کنٹرول نے بار بار طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن نہ صرف ریڈیو رابطہ منقطع ہوگیا بلکہ طیارہ ریڈار اسکرین سے بھی غائب ہوگیا۔ابتدائی معلومات کے مطابق کیپٹن رضوان اور کیپٹن جتوئی طیارے کے پائلٹس میں شامل تھے۔

    پی اے اے کے مطابق طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں ریڈار سے غائب ہوا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور سمندر میں وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ لاپتا طیارے کی تلاش میں متعدد قومی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ بحری اور فضائی وسائل کو بھی سرچ آپریشن میں شامل کیا گیا ہے تاکہ طیارے اور اس میں سوار عملے کا جلد از جلد سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی۔ ابتدائی طور پر نیویگیشن سسٹم میں خرابی اور بعد ازاں طیارے کے اچانک بلندی کھونے کے واقعے کو تحقیق کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ پی اے اے نے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید مصدقہ معلومات سامنے آئیں گی، انہیں عوام اور میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

    ‎اس افسوسناک واقعے کے بعد فضائی شعبے سے وابستہ اداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ عملے کے اہل خانہ بھی مزید معلومات کے منتظر ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کو امید ہے کہ جلد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

  • ‎پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    ‎پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    ‎لاہور: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور نئے لیوی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف جماعت اسلامی نے 10 جولائی کو ملک بھر میں احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا تاکہ حکومت پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں پرامن مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے عوامی آواز بلند کرے گی۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی حالیہ معاشی پالیسیوں نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوت خرید کو شدید متاثر کر چکی ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ کسان، مزدور، طلبہ اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں نئے ٹیکس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو لیوی ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مزید معاشی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
    ‎انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 10 جولائی کو ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت تک عوام کی آواز مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے۔ جماعت اسلامی کے مطابق احتجاج کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور مہنگائی کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنا ہے۔

  • ‎موہن جو دڑو کے نوادرات اسمگل کرنے کا منصوبہ ناکام، بین الصوبائی اسمگلر گرفتار

    ‎موہن جو دڑو کے نوادرات اسمگل کرنے کا منصوبہ ناکام، بین الصوبائی اسمگلر گرفتار

    ‎جیکب آباد: سندھ کے ہزاروں سال قدیم عالمی ثقافتی ورثے موہن جو دڑو سے تاریخی نوادرات چوری کرکے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ جیکب آباد میں پولیس اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران ایک بین الصوبائی اسمگلر کو گرفتار کر لیا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ کارروائی کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے)، شاہین فورس، آئی ٹی برانچ اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آئی۔ گرفتار ملزم کی شناخت سید لال شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جس پر قیمتی تاریخی نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اہم انکشافات کیے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ موہن جو دڑو سے نایاب اور قیمتی نوادرات چوری کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جا رہے تھے۔
    ‎تفتیش کے مطابق چوری کیے جانے والے نوادرات کو سندھ سے بلوچستان کے راستے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا مکمل نیٹ ورک تیار کیا جا رہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث ملک کے قیمتی تاریخی ورثے کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا گیا۔
    ‎پولیس نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، اہم دستاویزات اور ایسے شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں جو اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ برآمد ہونے والے شواہد کی مدد سے دیگر ملوث افراد، سہولت کاروں اور ممکنہ خریداروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے سندھ، بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے یا بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
    ‎ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس سے وابستہ نوادرات نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ثقافتی سرمایہ ہیں۔ ایسے تاریخی اثاثوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور ان کی غیر قانونی خرید و فروخت یا اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

  • 
کراچی ایئرپورٹ پر لاہور سے آنے والا سابق پی آئی اے ملازم اچانک انتقال کر گیا

    
کراچی ایئرپورٹ پر لاہور سے آنے والا سابق پی آئی اے ملازم اچانک انتقال کر گیا

    ‎کراچی: کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لاہور سے آنے والا ایک مسافر اچانک گر کر بے ہوش ہوگیا، جسے فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
    ‎ایئرپورٹ حکام کے مطابق واقعہ مسافروں کی پارکنگ ایریا میں پیش آیا، جہاں موجود شہریوں نے ایک شخص کو اچانک زمین پر گرتے دیکھا اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ انتظامیہ، طبی عملہ اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی۔
    ‎سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ڈاکٹر نے موقع پر معائنہ کرنے کے بعد مسافر کے انتقال کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق متوفی کی شناخت محمد ارشد کے نام سے ہوئی ہے۔
    ‎ابتدائی معلومات کے مطابق محمد ارشد لاہور سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 304 کے ذریعے کراچی پہنچے تھے۔ حکام نے بتایا کہ وہ ماضی میں پی آئی اے کے ملازم بھی رہ چکے تھے۔
    ‎متوفی کے قبضے سے قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور فضائی سفر کا ٹکٹ بھی برآمد ہوا، جس کے بعد ان کی شناخت کی تصدیق کی گئی اور اہل خانہ کو اطلاع دینے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
    ‎ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے میت کو پی آئی اے میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ضروری کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ واقعے کی نوعیت اور موت کی حتمی وجہ کا تعین طبی اور قانونی کارروائی کے بعد کیا جائے گا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور معمول کے مطابق واقعے کی انتظامی اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو مزید طبی معائنہ بھی کیا جائے گا تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
    ‎ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ سفر کے دوران طبیعت خراب ہونے یا کسی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر ایئرپورٹ عملے کو آگاہ کریں تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔

  • آٹے کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانےکیلئے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائی کی جائے،وزیراعلیٰ سندھ

    آٹے کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانےکیلئے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائی کی جائے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آٹے کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے محکمہ خوراک میں اصلاحات اور گندم کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں گندم کی دستیابی، ذخیرہ اندوزی، محکمہ خوراک میں اصلاحات اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کو رواں مالی سال کے دوران تقریباً 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی۔اجلاس میں محکمہ خوراک کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ وزیراعلیٰ نے گندم کی خریداری، ذخیرہ اور ترسیل کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کی ہدایت دی، جبکہ سندھ حکومت نے شفافیت اور مؤثر نگرانی کے لیے انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کابینہ اجلاس میں وفاق کی مجوزہ قومی گندم پالیسی 2026ء تا 2030ء کے مسودے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس پالیسی کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو مقررہ مدت کے اندر اپنی سفارشات تیار کرکے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔

  • ٕ 36 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات اسمگل   کی کوشش ناکام

    ٕ 36 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات اسمگل کی کوشش ناکام

    پاکستان کسٹمز نے کراچی انٹرنیشنل میل آفس کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی چرس برآمد کر لی۔

    پاکستان کسٹمز کے مطابق تھائی لینڈ سے آنے والے مشکوک پارسلز کی معمول کی اسکیننگ کے دوران پلاسٹک کھلونوں کے ڈبوں میں چھپائی گئی 12 کلوگ رام چرس برآمد کی گئی، جس کی مالیت 36 کروڑ 62 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے،بین الاقوامی ڈاک کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی یہ ایک بڑی کوشش تھی جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا گیا، تھائی لینڈ سے آنے والے دو مختلف پارسلز سے منشیات برآمد کی گئی ہیں جبکہ اس اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

  • لیاری میں تین کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی، والد حراست میں

    لیاری میں تین کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی، والد حراست میں

    کراچی کے علاقے لیاری کے کالاکوٹ میں تین کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچیوں کے والد کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق گزشتہ شب تین بچیوں کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ متاثرہ بچیوں کی عمریں 7 سال، 5 سال اور ڈھائی سال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل معائنے کی حتمی رپورٹ آنے میں دو سے تین روز لگ سکتے ہیں، جس کے بعد واقعے کی نوعیت کے بارے میں واضح رائے دی جا سکے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں کی والدہ نے اپنے شوہر پر مبینہ زیادتی کا شبہ ظاہر کیا تھا، جس کی بنیاد پر پولیس نے گزشتہ روز ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ میڈیکل رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،کالعدم بی ایل اے کے 2 دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،کالعدم بی ایل اے کے 2 دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دو تربیت یافتہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں مجاہد بلوچ اور فرید بلوچ عرف ذاکر شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 4 کلو گرام بارود ی مواد، ڈیٹونیٹرز، پرائما کارڈ اور بال بیرنگ برآمد کیے گئےابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ دونوں ملزمان نے بی ایل اے کے تربیتی کیمپ میں ریکی، کمیونیکیشن اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی تھی، ملزمان تنظیم کے کمانڈر ساجد بلوچ اور بشیر زیب کی ہدایات پر کراچی میں مقیم تھے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد شہر کی حساس تنصیبات کی معلومات جمع کرکے اپنی تنظیم کو فراہم کرتے تھے، جبکہ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کے خلاف دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے کی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے، گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف مقا مات پر کارروائیاں جاری ہیں۔