کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں ولیکا اسپتال کراچی میں زیرِ علاج بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں شور شرابا ہوگیا، جس پر عدالت کے ججز کارروائی چھوڑ کر چیمبر میں چلے گئے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں تقریباً 1200 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوچکی ہے، جبکہ درخواست زیرِ التوا ہونے کے دوران 9 بچے انتقال کرچکے ہیں،وکیل نے عدالت کو متاثرہ بچوں کی حالت اور انہیں درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا،اس موقع پر متاثرہ بچے کے والد نے عدالت میں اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے علاج کے لیے وہ سود پر رقم لینے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے علاج کے لیے اپنی چارپائیاں تک فروخت کردی ہیں، تاہم انہیں حکومت یا کسی ادارے کی جانب سے ایک روپے تک کی امداد نہیں ملی،متاثرہ بچے کے والد نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ان کے بچوں کے علاج اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں ہونے والے شور شرابے کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی، جس پر سندھ ہائیکورٹ کے ججز کمرۂ عدالت سے اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے۔
