Baaghi TV

Category: کراچی

  • میر رضا کیس،جوڈیشل کمیشن کا وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کو نوٹس جاری کرنے کا حکم

    میر رضا کیس،جوڈیشل کمیشن کا وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کو نوٹس جاری کرنے کا حکم

    کراچی: میر رضا کیس کی سماعت کے دوران جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

    آج ہونے والی سماعت میں میر رضا کے والد اور بہن کے علاوہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے کمیشن کی جانب سے کیے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے تاخیر سے لیبارٹری پہنچائے گئے۔ اس پر کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ان سیمپلز کی بھی کوئی شیلف لائف ہوتی ہے؟ڈاکٹر سمعیہ نے جواب دیا کہ عمومی طور پر تاخیر سے فرق نہیں پڑتا، تاہم اگر تاخیر کے باعث کسی کیمیکل کا ٹریس نہ مل سکے تو اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی پروفائل کیسز میں عموماً سیمپلز لیبارٹری پہنچانے میں تاخیر نہیں کی جاتی،سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اعتراض اٹھایا کہ سوالات کمیشن کی جانب سے کیے جانے چاہئیں، جبران ناصر کی طرف سے نہیں،اس پر کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر مقتول کے خاندان کو کوئی سوال پوچھنا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ کیا آپ کچھ چھپا رہے ہیں؟کمیشن نے کہا کہ وزیر داخلہ سندھ کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے جائیں۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے رویے کے باعث وزیر داخلہ کو طلب کرنا چاہیے۔بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر کمیشن نے کارروائی عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

  • پی آئی اے کی فضائی میزبان پر اسمگلنگ کے الزام کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

    پی آئی اے کی فضائی میزبان پر اسمگلنگ کے الزام کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

    پی آئی اے کی فضائی میزبان سمیرا آفتاب کی جانب سے ٹورنٹو سے کراچی آنے والی پرواز میں مبینہ طور پر موبائل فون اسمگلنگ کے معاملے میں تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    چند روز قبل فضائی میزبان سمیرا آفتاب کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے پرواز PK-784 کے ذریعے کراچی پہنچی تھی، جہاں ایئرپورٹ پر تلاشی کے دوران اس کے سامان سے غیر قانونی طور پر لائے جانے والے لاکھوں روپے مالیت کےاسمارٹ فونز اور جدید سمارٹ واچز برآمد ہوئی تھیں، جو مبینہ طور پر پی آئی اے کی جانب سے فراہم کی گئی کیپ کے اندر چھپائی گئی تھیں،واقعے کے فوراً بعد قومی ایئرلائن کے شعبہ ویجیلنس نے تمام شواہد اور تفصیلات پر مبنی جامع رپور ٹ پی آئی اے کے شعبہ ہیومن ریسورس کو فراہم کی تھی۔

    انتظامیہ نے ویجیلنس رپورٹ کی روشنی میں خاتون فضائی میزبان سمیرا آفتاب کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے معاملے کی تحقیقات شروع کردیں،پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق اس واقعے سے قومی ایئرلائن کی ساکھ متاثر ہوئی جس کے باعث فضائی میزبان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگر شوکاز نوٹس کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا گیا تو فضائی میزبان سمیرا آفتاب کو ملازمت سے برخاست کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

  • کراچی، فیکٹری میں لگنے والی آگ پر 8 گھنٹے بعد بھی قابو نہ  پایا جاسکا

    کراچی، فیکٹری میں لگنے والی آگ پر 8 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

    کراچی کے لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں واقع فیکٹری میں لگنے والی آگ پر 8 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا، تاہم فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ 70 فیصد تک کنٹرول کرلی گئی ہے اور فائر فائٹنگ آپریشن جاری ہے۔

    چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فیکٹری میں لگی آگ پر 70 فیصد قابو پالیا گیا ہے اور اس وقت آگ صرف ایک حصے میں موجود ہے، جہاں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں مسلسل کارروائی کررہی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ فیکٹری کی عمارت کے اطراف کھڑکیوں سے شعلے باہر آنا بھی بند ہوگئے ہیں، جبکہ آگ بجھانے کے لیے 11 فائر ٹینڈرز، 2 باؤزرز اور 2 اسنارکلز موقع پر کام کررہے ہیں۔ ان کے مطابق آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد عمارت میں کولنگ کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے امکانات کو ختم کیا جاسکے۔

    ریسکیو 1122 کی آپریشن انچارج یسریٰ علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو حکام کو فیکٹری میں آگ لگنے کی اطلاع تقریباً ایک بجے ملی تھی، جس کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور فائر فائٹنگ آپریشن شروع کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ آگ پر مکمل قابو پانے میں مزید 4 سے 5 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ آتشزدگی کے باعث پیدا ہونے والے شدید دھویں سے 3 افراد کی حالت خراب ہوئی تھی، جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین فائر آپریشن مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

    ریسکیو ترجمان کے مطابق شدید آتشزدگی کے باعث فیکٹری کا ایک حصہ منہدم بھی ہوگیا، جبکہ آگ پھیل کر ساتھ والی فیکٹری تک بھی پہنچ گئی تھی۔ فائر فائٹرز کی جانب سے آگ کو مزید عمارتوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔

    فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ جس وقت فیکٹری میں آگ بھڑکی، اس وقت عمارت میں کوئی عملہ موجود نہیں تھا، تاہم فیکٹری کے اندر استعمال شدہ کپڑے کی بڑی مقدار موجود تھی، جس کے باعث آگ نے شدت اختیار کی اور اسے بجھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    حکام کے مطابق فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد کولنگ کا مرحلہ شروع کیا جائے گا، جبکہ آگ لگنے کی وجوہات اور فیکٹری کو پہنچنے والے نقصان کا بھی بعد میں تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

  • کراچی؛ میر رضا علی کے قتل کا معمہ برقرار، عبوری چالان پیش، کوئی ملزم نامزد نہ ہوسکا

    کراچی؛ میر رضا علی کے قتل کا معمہ برقرار، عبوری چالان پیش، کوئی ملزم نامزد نہ ہوسکا

    کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی خان کے اغوا اور بعد ازاں قتل کے ہائی پروفائل مقدمے میں تفتیشی ٹیم نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت عبوری چالان سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔

    چالان کے مطابق جدید تکنیکی وسائل کے استعمال، جیو فینسنگ اور 53 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے باوجود تفتیشی ٹیم تاحال اصل ملزمان اور قتل کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کرسکی۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کو فی الحال التوا میں رکھتے ہوئے متعدد اہم ڈیجیٹل اور فارنزک رپورٹس کا انتظار شروع کردیا ہے، جن کے موصول ہونے کے بعد کیس کی تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    پولیس کے مطابق میر رضا علی خان رات تقریباً 3 بجے بہادر آباد میں واقع اپنی دکان ’وافلکس‘ سے گھر پہنچا۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ صرف 10 منٹ کے لیے نیچے جارہا ہے اور جلد واپس آجائے گا، تاہم اس کے بعد وہ پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔

    چالان میں درج تفصیلات کے مطابق مقتول کی منگیتر سلوائے نے رات تقریباً 3 بجے یہ بات نوٹ کی کہ میر رضا علی خان کے انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک اور لنکڈ اِن سمیت تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ یا ڈی ایکٹیویٹ ہوچکے تھے۔

    پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں میر رضا علی خان کو رات 3 بج کر 43 منٹ پر اپنی دکان کے دراز سے سیکیورٹی گارڈ مظہر علی کا پستول نکال کر اپنی گاڑی میں رکھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد وہ رات 3 بج کر 57 منٹ پر آن لائن بائیکیا ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کے ذریعے گھر پہنچا۔

    چالان کے مطابق رات تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر میر رضا علی خان کو منظور اسٹریٹ اور گلستانِ جوہر سروس روڈ کی سمت اکیلے پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد اس کا کوئی واضح سراغ نہیں مل سکا۔

    چالان کے مطابق اسی روز دوپہر تقریباً 11 بج کر 45 منٹ پر طفیل نرسری، عقب مسجد خضر، بلاک 1 گلستانِ جوہر کے ملازم یاسر علی کو پودوں کو پانی دیتے ہوئے میر رضا علی خان کی لاش ملی۔

    لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس اور ایدھی کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ لاش کی برآمدگی کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کردی گئیں اور واقعے کی تفتیش کو مزید وسیع کردیا گیا۔

    چالان کے مطابق کیس کی حساسیت کے پیش نظر آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔

    مدعی مقدمہ کی درخواست اور عدالت کے حکم پر 8 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ کی موجودگی میں میر رضا علی خان کی قبر کشائی بھی کی گئی۔ چالان کے مطابق جدید پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مندرجات میں تضاد سامنے آیا، جس کے بعد مزید طبی اور فارنزک شواہد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    چالان میں 13 اہم اشیا کو مالِ مقدمہ کے طور پر تحویل میں لینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اشیا مزید تجزیے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور ارسال کی گئی ہیں۔

    چالان کے مطابق ’وافلکس‘ دکان کے سیکیورٹی گارڈ مظہر علی نے اپنا پسٹل کور شناخت کرتے ہوئے اسے اپنا ہونے کی تصدیق کی۔ جائے وقوعہ سے گولی کا ایک خول بھی برآمد ہوا، جسے ڈی این اے اور کیمیکل تجزیے کے لیے قبضے میں لیا گیا۔

    اس کے علاوہ جائے وقوعہ اور نرسری کے قریب سے سگریٹ کا پیکٹ، لائٹر اور بلیچ کی دو بوتلیں بھی برآمد ہوئیں۔ پولیس نے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی ہیں، جن کا تفتیش کے دوران جائزہ لیا جارہا ہے۔

    چالان کے مطابق مقدمے کی تفتیش کے دوران مجموعی طور پر 53 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں مقتول کی والدہ مریم، ہمشیرہ علیشبہ، منگیتر سلوائے اور خالہ مہرین شامل ہیں۔

    مقتول کے شریکِ کار محمد احمد اور عبداللہ کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا ہے، جبکہ دونوں نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

    اہم گواہوں میں بائیکیا ڈرائیور احسان اللہ، نرسری کے ملازمین اور نائٹ ڈیوٹی پر تعینات چوکیدار محمد یوسف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید، ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نسیم احمد، جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل افسر اور سی پی ایل سی کے فارنزک ماہرین کو بھی گواہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    چالان کے مطابق تفتیشی ٹیم نے مقتول کی آئی کلاؤڈ آئی ڈی، گزشتہ 90 روز کا ڈیٹا اور ایپل اکاؤنٹس کی بحالی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے عدالت کے ذریعے ایپل کمپنی کو باضابطہ ای میلز ارسال کی ہیں۔

    مقتول کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی خط جاری کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ ’وافلکس‘ اور مقتول کی گزشتہ تین ماہ کی بینک ٹرانزیکشنز کا فارنزک جائزہ بھی لیا جارہا ہے، تاکہ مالی معاملات، ممکنہ روابط اور کیس سے متعلق کسی بھی اہم پہلو کا سراغ لگایا جاسکے۔

    تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری نے چالان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام تر کوششوں اور جدید تکنیکی ذرائع کے استعمال کے باوجود مقدمے کا حتمی ڈراپ سین تاحال نہیں ہوسکا۔

    چالان کے مطابق پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور، ایپل کمپنی اور بائنانس سے موصول ہونے والی متعدد اہم تکنیکی اور فارنزک رپورٹس ابھی التوا میں ہیں۔ ان رپورٹس کے نتائج تفتیش میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔

    تفتیشی افسر کے مطابق انہی وجوہات کی بنا پر مقدمے کی تفتیش کو فی الحال التوا میں رکھتے ہوئے عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ زیرِ التوا رپورٹس موصول ہونے کے بعد ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور دستیاب شواہد کی روشنی میں اصل ملزمان کا تعین کرکے ان کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائی کی جائے گی۔

  • کراچی کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی

    کراچی کی فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی

    لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں پیر کے روز ایک فیکٹری میں تیسرے درجے کی شدید آگ بھڑک اٹھی-

    ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان کے مطابق سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو فیکٹری میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی ہنگامی رسپانس ٹیم نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں،فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی کئی گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

    ترجمان کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ فیکٹری میں موجود تمام کارکنوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا،فیکٹری کی عمارت میں 3 افراد عارضی طور پر پھنس گئے تھے، جو شدید دھویں کے باعث دم گھٹنے سے متاثر ہوئے،ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں افراد کو بحفاظت عمارت سے باہر نکال لیا۔

    دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے لیے فوری طور پر پانی کی فراہمی میں معاونت کی درخواست کی تھی،کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی کی ہدایت پر لانڈھی اور شیرا پاؤ ہائیڈرنٹس پر ہنگامی اقدامات فعال کردیے گئے، جبکہ فائر فائٹنگ آپریشن کے لیے پانی سے بھرے ٹینکرز فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیے گئے۔

    ترجمان کے مطابق ہائیڈرنٹس سیل کے انچارج مسلسل فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے رابطے میں رہے، جبکہ ہائیڈرنٹس سیل آپریشنز کے لیے سی ای او کے فوکل پرسن نے امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی، آگ بجھانے کے دوران فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے،آگ مکمل طور پر بجھنے تک فائر بریگیڈ کو پانی کے ٹینکرز فراہم کیے جاتے رہیں گے، جبکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔

  • ایسے لوگ بھی 18ویں ترمیم پر لیکچر دے رہےجو فارم 47 کی پیداوار ہیں،شرجیل میمن

    ایسے لوگ بھی 18ویں ترمیم پر لیکچر دے رہےجو فارم 47 کی پیداوار ہیں،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 18ویں آئینی ترمیم پر تنقید کرنے والے وفاقی وزرا کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کے فیصلے وہی لوگ کریں گے جنہیں عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے، خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے لوگ قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے۔

    سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ آج بعض وفاقی وزرا 18ویں ترمیم کے خلاف بات کررہے ہیں، انہیں دیکھنا چاہیے کہ ترمیم سے پہلے جناح اسپتال کی صورتحال کیا تھی اور آج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ایسے لوگ بھی 18ویں ترمیم پر لیکچر دے رہے ہیں جو فارم 47 کی پیداوار ہیں۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تھر سے ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہورہی ہے، سندھ کے وسائل سے پیدا ہونے والی توانائی سے پورا ملک فائدہ اٹھا رہا ہے۔

    سینئر وزیر سندھ نے مصطفیٰ کمال، احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر وفاقی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں 18ویں ترمیم یا سندھ کے مؤقف پر اعتراض ہے تو پارلیمنٹ میں آکر بات کریں۔ سندھ اسمبلی ہر بات کا آئینی اور قانونی جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس دلیل اور واضح مؤقف ہے تو اسمبلی میں آکر پیش کرے۔ وفاقی وزرا سے گزارش ہے کہ پہلے عوام کے درمیان جائیں، عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہوکر آئیں، پھر قوم کے فیصلوں پر بات کریں۔شرجیل میمن نے مزید کہا کہ خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے لوگ قوم کے فیصلے نہیں کرسکتے، قوم کے فیصلے وہی لوگ کریں گے جنہیں قوم نے ووٹ سے منتخب کیا ہے۔

  • کراچی؛ فائر سیفٹی اقدامات نہ ہونے پر متعدد پیٹرول پمپ سیل

    کراچی؛ فائر سیفٹی اقدامات نہ ہونے پر متعدد پیٹرول پمپ سیل

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے انفورسمنٹ اینڈ امپلیمنٹیشن ڈیپارٹمنٹ نے فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے پر متعدد پیٹرول پمپس سیل کردیئے، تاہم پیٹرول پمپ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیرقانونی قرار دے دیا۔

    پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش کے مطابق کے ایم سی کی جانب سے پیٹرول پمپ ڈیلرز کو فائر سیفٹی سے متعلق خامیاں دور کرنے کے لیے 7 روز کا نوٹس دیا گیا تھا، تاہم مبینہ طور پر نوٹس جاری ہونے کے صرف ایک روز بعد ہی بعض پیٹرول پمپس کو سیل کردیا گیا۔

    ملک خدا بخش نے بتایا کہ اس معاملے پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو شکایتی خط بھی ارسال کردیا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سات روزہ تعمیلی مدت مکمل ہونے سے قبل پیٹرول پمپس سیل کیے جانے کے واقعے کی فوری انکوائری کرائی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپ ڈیلرز کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیا جائے اور فائر فائٹنگ ایکسٹنگوشرز سمیت فائر سیفٹی کے دیگر انتظامات سے متعلق خامیاں دور کرنے کے لیے پمپ مالکان کو مناسب وقت فراہم کیا جائے۔

    پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمینز طارق حسن اور انور کمال نے بھی سیل کیے گئے پیٹرول پمپس فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلرز کو مقررہ مدت میں خامیاں دور کرنے کا مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔

    ملک خدا بخش کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن میئر کراچی کے مثبت اقدامات کو سراہتی ہے، تاہم ڈیلرز کے خلاف کسی بھی غیرقانونی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کارروائی قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے اور ڈیلرز کو اپنی خامیاں دور کرنے کے لیے منصفانہ موقع فراہم کیا جائے۔

  • یومِ دفاع و شہدائے پاکستان؛ مراد علی شاہ کی یادگارِ شہداء پر حاضری

    یومِ دفاع و شہدائے پاکستان؛ مراد علی شاہ کی یادگارِ شہداء پر حاضری

    یومِ دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر ملیر گیریژن میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد اویس دستگیر، سندھ رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام سمیت پاک فوج کے جوانوں نے شرکت کی۔

    تقریب کے موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد اویس دستگیر نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

    یومِ دفاع و شہدائے پاکستان کی تقریب کے دوران پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے یادگارِ شہداء پر سلامی پیش کی۔ تقریب میں ملک کے دفاع اور امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

  • کراچی: ڈاکووں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل دم توڑ گیا

    کراچی: ڈاکووں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل دم توڑ گیا

    کورنگی کراسنگ پل پرپولیس اور ڈاکووں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نجی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ہفتے کوکورنگی صنعتی ایریا تھانے کے علاقے کورنگی کراسنگ پل پرپولیس اور ڈاکووں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی ہونے والا پولیس کانسٹیبل28سالہ اویس تنولی ولد محمد یوسف دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے نجی اسپتال میں جامِ شہادت نوش کرگئے۔

    پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر ایڈیشنل آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا،پولیس چیف نے متعلقہ افسران کو پولیس مقابلے میں ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ شہید اویس نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے بہادری اور فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔پولیس چیف نے متعلقہ افسران کو پولیس مقابلے میں ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

    انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے بھی کورنگی میں فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہونے کے بعد شہادت پانے والے پولیس اہلکار کانسٹیبل اویس کو زبردست خراج عقیدت،اہل خانہ سے تعزیت کی۔

    آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل اویس نے جرائم پیشہ عناصر کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے فرض کی راہ میں اپنی جان قربان کی، جو سندھ پولیس کے بہادر جوانوں کی غیر معمولی جرأت اور عزم کی عکاسی ہےآئی جی سندھ کا شہید کے اہل خانہ سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا، شہید کے خاندان کی ہر ممکن سرپرستی اور معاونت سندھ پولیس کی ذمہ داری ہےاللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، ان کی قربانی کو قبول فرمائے اور لواحقین کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔

  • یوم دفاع پر مزار قائد کے گارڈز کی ذمہ داری فضائیہ کے کیڈٹس کے سپرد

    یوم دفاع پر مزار قائد کے گارڈز کی ذمہ داری فضائیہ کے کیڈٹس کے سپرد

    ملک بھر میں آج یومِ دفاعِ وشہدا بھرپور قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    آج سے 61 سال قبل پاک فوج اور پاکستانی قوم نے رات کی تاریکی میں حملہ آور ہونے والے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی یہ روایت پچھلے سال مئی میں بھی دُہرائی گئی۔

    جنگ ستمبر 1965 کی یاد میں یومِ دفاعِ وشہدا آج منایا جا رہا ہے، جس کیلئے کراچی میں مزارِ قائد پر خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا پاکستان ائیر فورس کے کیڈٹس نے مزارقائد پرگارڈز کے فرائض سنبھال لیے جبکہ ائیرکمانڈنگ پی اے ایف اکیڈمی اصغرخان ائیر وائس مارشل حسن فیصل تقریب کے مہمان خصوصی رہے۔

    تقریب کے مہمان خصوصی یئر کمانڈنگ پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان اور ایئر وائس مارشل حسن فیصل تھے، جنہوں نے مزار قائد پر حاضری دی۔ تقریب میں ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا کہ پاک فضائیہ نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی اور ملکی فضائی حدود کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے گزشتہ سال بھارتی جارحیت کے موقع پر بھی پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیا۔ سربراہ پاک فضائیہ کی قیادت میں جدید دفاعی نظام اور صلاحیتوں کے ذریعے ملک کے دفاع کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

    ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    یوم دفاع ہر سال 6 ستمبر کو 1965 کی جنگ میں پاک فوج اور پاکستانی قوم کی جانب سے دشمن کے خلاف بھرپور مزاحمت اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے، 61 برس قبل دشمن نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا، تاہم پاکستانی افواج اور قوم نے اس جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

    پاکستانی قوم نے دفاع وطن کی یہ روایت گزشتہ سال مئی میں بھی دہرائی، جب بھارتی جارحیت کے مقابل پاک افواج نے بھرپور جواب دیا یوم دفاع و شہداء کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔