Baaghi TV

Category: کراچی

  • 
سعود آباد سے اغوا ہونے والا 11 سالہ بچہ 9 گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب

    
سعود آباد سے اغوا ہونے والا 11 سالہ بچہ 9 گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب

    ‎کراچی کے علاقے سعود آباد میں ڈینٹسٹ کے 11 سالہ بیٹے کے اغوا کا واقعہ پیش آیا، تاہم سعود آباد پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بچے کو محض 9 گھنٹوں کے اندر بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    ‎ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے مطابق اغوا کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی کارروائی کے دوران اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ٹریس کیا گیا، جس کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں تک رسائی حاصل کی گئی۔
    ‎پولیس نے ایک مشتبہ مقام پر چھاپہ بھی مارا، تاہم معلوم ہوا کہ ملزمان وہاں سے پہلے ہی اپنا رہائشی مقام تبدیل کر چکے تھے۔ اس کے باوجود تفتیشی ٹیموں نے ہیومن انٹیلی جنس اور جدید تکنیکی ذرائع سے ملزمان کا تعاقب جاری رکھا۔ حکام کے مطابق جب ملزمان کو احساس ہوا کہ پولیس ان تک پہنچنے والی ہے تو انہوں نے گرفتاری کے خوف سے مغوی بچے کو ماڈل ٹاؤن میں ایک معروف اسٹور کے قریب چھوڑ دیا اور خود فرار ہو گئے۔
    ‎پولیس نے بچے کو بحفاظت اپنی تحویل میں لینے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔ ایس ایس پی کورنگی کا کہنا ہے کہ ملزمان کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں اور انہیں جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بچے سے بھی واقعے کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی تاکہ اغوا کی وجوہات اور تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
    ‎مغوی بچے خضر دانش کے والد ریاض نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ واقعے کی رات ان کے ایک بیٹے کے انتقال پر گھر میں قرآن خوانی جاری تھی۔ اسی دوران خضر دانش، اس کا بڑا بھائی اور ایک بھانجی گھر کے قریب دکان سے سامان خریدنے کے لیے باہر گئے تھے۔
    ‎ان کے مطابق کچھ ہی دیر بعد بڑا بیٹا اور بھانجی روتے ہوئے واپس آئے اور بتایا کہ سلور رنگ کی ایک گاڑی میں سوار نامعلوم افراد خضر دانش کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔ اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑی کا تعاقب بھی کیا، لیکن اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
    ‎پولیس کی بروقت کارروائی اور مسلسل تعاقب کے باعث بچہ چند گھنٹوں کے اندر بحفاظت بازیاب ہو گیا، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • منشیات فروشی کیس، انمول عرف پنکی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر

    منشیات فروشی کیس، انمول عرف پنکی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر

    کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے مقدمات کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    عدالتی کارروائی کے دوران جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزمہ کے خلاف درج چھ مقدمات میں چالان اور گواہان کے بیانات کی نقول جیل میں فراہم کر دی گئی ہیں۔ جیل ذرائع کے مطابق عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے عملے نے متعلقہ دستاویزات ذاتی طور پر ملزمہ تک پہنچائیں۔پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف 2020، 2021 اور 2022 کے دوران مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے، تاہم ملزمہ ان مقدمات میں مفرور تھی۔ گارڈن تھانے کے ایک کیس میں گرفتاری کے بعد اسے دیگر مقدمات میں بھی باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا۔

    تحقیقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمہ کے مالیاتی معاملات کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک بند کرائے گئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے موبائل فون سے 100 جی بی سے زائد غیر معمولی ڈیٹا برآمد ہوا ہے، جس کا فرانزک تجزیہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس ڈیٹا کی مدد سے منشیات فروشی کے مبینہ نیٹ ورک اور دیگر ممکنہ روابط کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد مقدمات کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوگا، جس میں استغاثہ اپنے شواہد اور گواہان پیش کرے گا جبکہ ملزمہ کو صفائی کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔

  • طیارے ’کے ٹو‘ کارگو اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ سامنے آگیا

    طیارے ’کے ٹو‘ کارگو اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ سامنے آگیا

    بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے ’کے ٹو‘ کارگو اور ائیر ٹریفک کنٹرولرز کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ سامنے آگیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کی فضائی حدود میں K-2 ائیرویز کی پرواز KTA-1732 سے رابطہ منقطع ہوا اور ایمرجنسی رسپانس پلان فعال ہوا، پرواز کے ساتھ کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول کا رابطہ اس وقت منقطع ہوگیا جب پائلٹ نے دورانِ پرواز نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے ریڈار ویکٹرنگ کے ذریعے رہنمائی کی درخواست کی۔دستیاب معلومات کے مطابق 16:17 UTC پر پرواز کے کپتان نے کراچی ائیر ٹریفک کنٹرول کو آگاہ کیا کہ انہیں نیویگیشن سے متعلق مسئلہ درپیش ہے اور محفوظ رہنمائی کے لیے ریڈار ویکٹرنگ فراہم کی جائے، اسی وقت کپتان نے یہ بھی اطلاع دی کہ طیارہ رول کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ7 جولائی 2026 کو پاکستانی کارگو طیارہ بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا تھا،کارگو طیارے میں 5 افراد سوار تھے جن میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں، جہاز کے تمام عملے کا تعلق کراچی سے ہے۔

  • بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ صدارت سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر اہم اجلاس

    بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ صدارت سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر اہم اجلاس

    کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں بلاول ہاؤس کراچی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ کی طویل المدتی معاشی ترقی اور اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے ان کے ممکنہ معاشی، صنعتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں کیٹی بندر انٹیگریٹڈ کوریڈور منصوبے پر خصوصی غور کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کیٹی بندر کو عالمی معیار کا بحری، تجارتی اور لاجسٹک مرکز بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سندھ کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔شرکاء کو سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق اس منصوبے کے قیام سے کراچی کو خطے کے ایک مضبوط مالیاتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کیا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم ہوگا۔اجلاس میں ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشی ایٹو پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق انفراسٹرکچر اور جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جس کا مقصد صوبے کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید آئی ٹی خدمات کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔

    اس موقع پر فارمرز ایگریکلچرل کلیکٹوز منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت چھوٹے کسانوں کو جدید زرعی سہولیات، زرعی مشینری اور نئی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی فراہم کی جائے گی، جبکہ اشتراکی کاشتکاری کو فروغ دے کر زرعی پیداوار میں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔بریفنگ میں کہا گیا کہ ان تمام منصوبوں سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سندھ میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔اجلاس کے شرکاء نے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے پی پی پی یونٹ کو کمپنی کی شکل دینے کی تجویز کی بھی توثیق کی، جبکہ منصوبوں کی شفاف اور مؤثر تکمیل کے لیے عالمی سطح کے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سندھ کی معاشی تبدیلی ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے میں پائیدار اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

  • 
مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے استعمال کو ناجائز قرار دے دیا

    
مفتی تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے استعمال کو ناجائز قرار دے دیا

    ‎صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے رئیس مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے بارے میں اپنا شرعی مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت میں کرپٹو کرنسی کو شرعی اعتبار سے "مال” قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے اس کے ذریعے خرید و فروخت جائز نہیں۔
    ‎جاری کردہ فتویٰ میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ماہرین کی اب تک کی تحقیق اور دستیاب معلومات کے مطابق کرپٹو کرنسی درحقیقت کوئی حقیقی مال یا قابلِ قبضہ اثاثہ نہیں، بلکہ صرف ڈیجیٹل کھاتوں میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ ان کے مطابق یہی بنیادی وجہ ہے کہ اس کی خرید و فروخت شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں سمجھی جا سکتی۔
    ‎انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ حکم صرف عام کرپٹو ٹوکنز تک محدود نہیں بلکہ یو ایس ڈی ٹی (USDT) سمیت دیگر اسٹیبل کوائنز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ان کے مطابق خواہ کرپٹو کرنسی کسی بھی شکل میں ہو، جب تک اس کی شرعی حیثیت موجودہ صورت میں برقرار ہے، اس کے ذریعے لین دین اور خریداری جائز نہیں۔
    ‎مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق کسی بھی چیز کو خرید و فروخت کا ذریعہ بننے کے لیے اس کا واضح اور معتبر مالی وجود ہونا ضروری ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کے بارے میں ماہرین کی آرا اس معیار کو پورا نہیں کرتیں۔
    ‎دوسری جانب مفتی تقی عثمانی کے صاحبزادے حسن عثمانی نے بھی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر گردش کرنے والا یہ فتویٰ مستند ہے اور واقعی مفتی محمد تقی عثمانی ہی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
    ‎یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کرپٹو کرنسی کی قانونی، مالیاتی اور شرعی حیثیت پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مختلف ممالک اور دینی اداروں کی آرا اس حوالے سے ایک جیسی نہیں، تاہم مفتی تقی عثمانی کا مؤقف اسلامی مالیات کے شعبے میں اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور اس پر دینی حلقوں میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

  • 
بی آئی ایس پی کی خواتین سے رقم کٹوتی، حیدرآباد میں 8 ملزمان گرفتار

    
بی آئی ایس پی کی خواتین سے رقم کٹوتی، حیدرآباد میں 8 ملزمان گرفتار

    ‎حیدرآباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مستحق خواتین سے غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 ڈیوائس ہولڈرز کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مستحق خواتین کی ہر قسط میں سے 1500 سے 2000 روپے تک غیر قانونی طور پر وصول کر رہے تھے۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق کارروائی لطیف آباد میں قائم بی آئی ایس پی سینٹر پر کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ڈیوائس ہولڈرز امدادی رقم وصول کرنے آنے والی خواتین سے زبردستی رقم کاٹ کر انہیں کم ادائیگی کر رہے تھے۔
    ‎حکام نے بتایا کہ چھاپے کے دوران 8 ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔ کارروائی میں بائیومیٹرک ڈیوائسز، 13 لاکھ 86 ہزار روپے سے زائد نقد رقم اور اہم دستاویزی ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا گیا، جسے مزید تحقیقات کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں اس غیر قانونی نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن کے خلاف جلد مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا گیا ہے، اس لیے امدادی رقم میں کسی بھی قسم کی خرد برد یا غیر قانونی کٹوتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ‎ایف آئی اے نے مستحق خواتین سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی مرکز پر ان سے امدادی رقم میں غیر قانونی کٹوتی کی جائے یا اضافی رقم طلب کی جائے تو فوری طور پر متعلقہ حکام یا ایف آئی اے کو اطلاع دیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
    ‎حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستحق افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور سرکاری فلاحی منصوبوں میں بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

  • 
کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبہ، سندھ حکومت کا عالمی بینک کو بریفنگ

    
کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبہ، سندھ حکومت کا عالمی بینک کو بریفنگ

    ‎سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے، سرمایہ کاری کے مواقع اور مستقبل کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران شرجیل میمن نے وفد کو یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اس منصوبے کو مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎عالمی بینک کے وفد نے سندھ حکومت کی جانب سے عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور جدید منصوبوں کو سراہا اور ان اقدامات کو شہری نقل و حمل کے نظام کی بہتری کے لیے اہم قرار دیا۔
    ‎شرجیل میمن نے کہا کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ، مؤثر ہم آہنگی اور بروقت فیصلے انتہائی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جدید ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کے ذریعے شہریوں کو محفوظ، تیز رفتار اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت خصوصی بس روٹس متعارف کرانے پر بھی کام کر رہی ہے، جس سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور عوام کو بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات میسر آئیں گی۔
    ‎صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی سے سکھر تک ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف دونوں بڑے شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
    ‎ملاقات میں دونوں فریقوں نے مستقبل میں باہمی تعاون، پائیدار ترقی اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

  • 
کسٹمز اصلاحات سے درآمدی کلیئرنس کا وقت 18 گھنٹے تک محدود، مزید کمی کا ہدف

    
کسٹمز اصلاحات سے درآمدی کلیئرنس کا وقت 18 گھنٹے تک محدود، مزید کمی کا ہدف

    ‎فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کی سفارشات اور ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت کسٹمز نظام کو جدید بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد بحری معیشت کو فروغ دینا، بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانا اور بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
    ‎وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں میری ٹائم سیکٹر کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے بندرگاہوں اور کسٹمز کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔
    ‎سید شکیل شاہ کے مطابق ان اصلاحات کے نتیجے میں درآمدی سامان کی کلیئرنس کا دورانیہ ایک سال کے اندر 52.9 گھنٹوں سے کم ہو کر 18.3 گھنٹے رہ گیا ہے۔ حکومت نے اب اس وقت کو مزید کم کر کے 12 گھنٹے تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کو مزید تیز بنایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں پر 50 ہزار کنٹینرز ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی حاصل کر لی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور سامان کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے گی۔
    ‎ممبر کسٹمز نے کہا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس نظام کے تحت فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو 16 فیصد اضافے کے بعد 6.8 ملین روپے سے بڑھ کر 7.7 ملین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ درآمدی ٹیکسوں کی وصولی میں مجموعی طور پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے بحری جہازوں کی پاکستانی بندرگاہوں پر آمد میں بنیادی ڈھانچے اور بنکرنگ قواعد کی عدم موجودگی بڑی رکاوٹ تھی۔ اب بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بنکرنگ کے قواعد نافذ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر بڑے جہازوں کو ایندھن کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے بحری تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • 
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی

    
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی

    ‎پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 5 لاکھ 83 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین اس پیش رفت کو ملکی معیشت اور کیپٹل مارکیٹ کے لیے حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔
    ‎سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کی مجموعی تعداد میں 48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
    ‎ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئے سرمایہ کاروں میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ 18 سے 30 سال عمر کے افراد مجموعی نئے سرمایہ کاروں کا 45 فیصد رہے، جبکہ 31 سے 45 سال عمر کے سرمایہ کاروں کا تناسب 41 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان نسل سرمایہ کاری اور مالی منصوبہ بندی میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔
    ‎شہری بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو کراچی 25 فیصد نئے سرمایہ کاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ لاہور دوسرے نمبر پر رہا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سے مجموعی طور پر 13 فیصد نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے۔
    ‎چیئرمین ایس ای سی پی نے اس موقع پر کہا کہ نوجوانوں کو کیپٹل مارکیٹ سے جوڑنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے جلد ایک جدید ڈیجیٹل آن بورڈنگ موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی، جس کے ذریعے نئے سرمایہ کار گھر بیٹھے آسانی سے اپنا اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو پہلے سے زیادہ سہل بنا دیا گیا ہے، جبکہ آئی بی اے این ویری فکیشن سسٹم کی بدولت سرمایہ کاروں کو اضافی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سہولت اکاؤنٹ کی سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد سرمایہ کاری کے عمل میں شریک ہو سکیں۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف مالیاتی شعبے کے استحکام کی علامت ہے بلکہ عوامی بچت کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے عمل کو بھی مزید مضبوط بنائے گی، جس سے ملکی معیشت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

  • 
کراچی ایئرپورٹ پر سگریٹ اسمگلنگ کی کوشش ناکام، دو عمرہ زائرین سے 2,600 پیکٹ برآمد

    
کراچی ایئرپورٹ پر سگریٹ اسمگلنگ کی کوشش ناکام، دو عمرہ زائرین سے 2,600 پیکٹ برآمد

    ‎کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان کسٹمز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سگریٹ اسمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بنا دی۔ حکام نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے جدہ جانے والے دو مسافروں کے سامان سے 2 ہزار 600 سگریٹ کے پیکٹ برآمد کر کے ضبط کر لیے۔
    ‎کسٹمز حکام کے مطابق دونوں مسافر ایک نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے جدہ روانہ ہو رہے تھے۔ روانگی سے قبل معمول کی اسکیننگ کے دوران ان کے سامان میں مشکوک اشیا کی نشاندہی ہوئی، جس پر سامان کی تفصیلی تلاشی لی گئی۔
    ‎تلاشی کے دوران سامان سے 260 سلیوز برآمد ہوئیں، جن میں مجموعی طور پر 2 ہزار 600 سگریٹ کے پیکٹ موجود تھے۔ حکام نے فوری طور پر برآمد شدہ سگریٹ قبضے میں لے لیے اور دونوں مسافروں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا۔
    ‎پاکستان کسٹمز کے مطابق برآمد ہونے والے سگریٹ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت ضبط کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اسمگلنگ کی اس کوشش کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔
    ‎کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا گیا ہے اور جدید اسکیننگ آلات کی مدد سے مسافروں کے سامان کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔
    ‎حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی اشیا کی بیرون ملک منتقلی یا اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے مسافروں سے بھی اپیل کی کہ وہ سفر کے دوران صرف قانونی اور مجاز اشیا ہی اپنے ساتھ رکھیں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔