Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں خواتین بائیک ریلی کا انعقاد کیا گیا

    کراچی میں خواتین بائیک ریلی کا انعقاد کیا گیا

    عالمی یوم خواتین کے حوالے سے کراچی میں خواتین کی بائیک ریلی کا انعقاد کیا گیا، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت۔ عالمی یوم خواتین کے حوالے سے کراچی کے علاقے فائیو سٹار چورنگی سے بائیک ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی فائیو اسٹار چورنگی سے براستہ گولیمار چورنگی ،شاہراہ پاکستان سے ہوتے ہوئے ہاکی سٹیڈیم اختتام پزیر ہوئی۔ریلی میں 150خواتین بائیکرز نے شرکت کی، حیدرآباد اور میرپور خاص سے بھی بائیکرز نے شرکت کی، ریلی نے 12 کلو میٹر کا دورانیہ طے کیا۔تقریب میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل افتخار حسن چوہدری ،اہلیہ ڈی جی رینجرز ،ڈاکٹر فرحان عیسی بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔

  • سپیکر نے اپنے منصب کے تقدس کی مٹی پلید کردی، شازیہ مری

    سپیکر نے اپنے منصب کے تقدس کی مٹی پلید کردی، شازیہ مری

    سیکریٹری اطلاعات پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اپنے منصب کے تقدس کی مٹی پلید کردی ۔تفصیلات کے مطابق سیکریٹری اطلاعات پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری نے شبلی فراز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شبلی فراز عمران نیازی کے اخلاقی معیار وضع کریں۔ عمران خان نے پارلیمنٹ کو بھی بے توقیر کردیا ، جن کو ضمیر فروش کہا ان سے ہی ووٹ لیا۔انہوں نے کہا کہ کل بڑے جتن کرکے ڈی چوک پر دوسو شیرو بدمعاشی اکٹھے کئے گئے،عمران خان کے حواریوں نے پارلیمنٹ کے باہر اور اندر جو رویہ اختیار کیا جمہوریت کے نام پر دھبہ ہے۔

  • وزیراعظم کے خصوصی فنڈ سے گلشن اقبال بلاک ۱۹ میں سڑک کی تعمیر ,ارسلان تاج

    وزیراعظم کے خصوصی فنڈ سے گلشن اقبال بلاک ۱۹ میں سڑک کی تعمیر ,ارسلان تاج

    وزیراعظم کے خصوصی فنڈ سے گلشن اقبال بلاک ۱۹ میں سڑک کی تعمیر مکمل عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے, ارسلان تاج عمران خان کا وژن کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی کراچی مختلف حلقوں میں تین سال میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کو موئن جو ڈرو بنا دیا ترقیاتی کام مکمل ہونے پر علاقہ مکین کا وزیراعظم عمران خان کا شکریہ اراکین اسمبلی عالمگیر خان اور ارسلان تاج ترقیاتی کاموں کے حوالے سے حلقہ میں متحرک

  • کراچی این اے 249 پر ضمنی انتخابات پی ٹی آئی نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں

    کراچی این اے 249 پر ضمنی انتخابات پی ٹی آئی نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں

    پی ٹی آئی کراچی این اے 249 پر ضمنی انتخابات پی ٹی آئی نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں، خرم شیرزمان
    فیصل واوڈا کے استعفیٰ کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی ہے درخواستوں کے بعد پارلیمانی بورڈ حتمی امیدوار کا اعلان کرے گا تحریک انصاف ضمنی انتخابات کے حوالے سے بھرپور تیاری سے میدان میں اترے گی تحریک انصاف اپنی نشست پر دوبارہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی

  • گھوٹکی: ڈی ایس پی دفتر کے قریب دھماکا، 4 بچے زخمی

    گھوٹکی: ڈی ایس پی دفتر کے قریب دھماکا، 4 بچے زخمی

    گھوٹکی: صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈی ایس پی کے دفتر کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں چا بچے زخمی ہوگئے ہیں گھوٹگی پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دھماکا اوباڑو میں ڈی ایس پی کے دفتر کے قریب ہوا، دھماکے میں چار بچے زخمی ہوئے دھماکے سے متعلق پولیس کا موقف تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچے ڈبے سے کھیل رہے تھےکہ دھماکا ہوگیا، دھماکے کے فوری بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرتے ہوئے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کردی ہے صورت حال اس وقت مزید پچیدہ ہوئی جب زخمی بچوں کو تحصیل اسپتال اوباڑو منتقل کیا گیا، جہاں اسپتال میں ڈاکٹر موجود نہ ہونےپر شہری مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اسپتال میں توڑ پھوڑ شروع کردی اور اسپتال کو شدید نقصان پہنچایا، بعد ازاں شہری زخمی بچوں کو اسپتال لے گئے دوسری جانب آئی جی سندھ نے گھوٹکی میں ڈی ایس پی کےدفتر کےقریب مبینہ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ا ایس پی گھوٹکی سےپولیس اقدامات وکارروائی کی تفصیلات طلب کرلیں ہیں واضح رہے گذشتہ سال اگست میں شکار پور اور جیکب آباد میں رینجرز کے ہیڈکوارٹرز کو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

  • نیب نے سندھ پولیس کے افسران کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلی

    نیب نے سندھ پولیس کے افسران کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلی

    کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 150 پولیس افسران کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں جن میں زیادہ تر اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) شامل ہیں ذرائع نے بتایا کہ نیب نے اسٹیٹ بینک کو 25 فروری کو مراسلہ ارسال کیا تھا مرکزی بینک کو ارسال کردہ خط کا عنوان ‘سندھ پولیس افسران اور دیگر کے خلاف بینک اکاؤنٹس انکوائری کی عمومی تلاش کی درخواست’ تھا۔ انسداد بدعنوانی کے ادارے نے مرکزی بینک سے درخواست کی کہ ان پولیس افسران کے بارے میں غیر ملکی بینکس کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں سے تفصیلات اکٹھی کی جائیں مذکورہ پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ نیب نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی کہ ان پولیس افسران کی جانب سے حال ہی میں یا 1985 سے لے کر اب تک جمع کروائی گئی رقوم، ان کے اکاؤنٹس یا لاکرز کی تفصیلات حاصل کی جائیں اس کے علاوہ مرکزی بینک سے کسی بھی پولیس افسر یا اس کے متعلقہ کاروبار یا تیسرے فریق/کمپنی کو دی گئی بینک سہولت، خرید و فروخت یا غیر ملکی ترسیلات زر کی بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ سال 2016 میں سندھ پولیس کے سربراہ نے جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس خلجی عارف حسین سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پولیس میں ہونے والی 12 ہزار بھرتیوں میں سے 5 ہزار سے زائد بھرتیاں غیر قانونی یا جعلی ہیں آئی جی سندھ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کا اعتراف کیے جانے کے بعد عدالت نے نیب کو سندھ پولیس میں بوگس بھرتیوں اور تحقیقاتی فنڈز کی نامناسب تقسیم کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

  • مہنگی درآمدات اور ٹیکسز کے دوران جدوجہد کرتی شیرشاہ کباڑی مارکیٹ

    مہنگی درآمدات اور ٹیکسز کے دوران جدوجہد کرتی شیرشاہ کباڑی مارکیٹ

    کراچی ایسا لگتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں زائد ڈیوٹیز، ٹیکسز اور کمزور ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے پرزوں، انجنز اور ایساسریز کی قیمتیں بڑھنے سے شیرشاہ کی استعمال شدہ آٹو پارٹس مارکیٹ اپنی گہما گہمی کھو بیٹھی ہے۔ایشیا کی سب سے بڑی اسکریپ یارڈ کہلائی جانے والی شیرشاہ کباڑی مارکیٹ کو شہر میں گزشتہ چند برسوں میں بننے والی دیگر آٹو پارٹس مارکیٹوں کی وجہ سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ شیرشاہ کے تاجروں اور آٹو پارٹس کے درآمد کنندگان کا انٹرویو کیا جس میں وہ فخر سے یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ’شہر کی دیگر مارکیٹوں جہاں اسمگل شدہ سامان فروخت ہوتا ہے کے مقابلے میں دہائیوں پرانی اس مارکیٹ میں تمام پارٹس اور انجنز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا شدہ ہیں‘۔لیاری کے سنگم پر واقع کباڑی مارکیٹ تک پہنچنا ایک مشکل کام ہے اور شیرشاہ پل کو ملنے والی خستہ حال سڑک پر ہچکولے کھاتا سفر آپ کا منتظر ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ زائد ڈیوٹیز نے انجنز اور پارٹس کی درآمدات کے رجحان کو کم کیا ہے، مزید یہ کہ یہاں 22 ٹنز کے استعمال شدہ آٹو پارٹس پر 18 لاکھ 70 ہزار روپے ڈیوٹیز اور ٹیکسز ہیں۔
    علاوہ ازیں غنی مل پر ایک اور درآمد کنندہ جہانزیب کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ پارٹس اور انجنز کی درآمد کے لیے ایک کنٹینر پر ڈیوٹیز، ٹیکسز، ایکسچینج ریٹ اور دیگر چیزوں کے مجموعی اخراجات کا خرچ 50 سے 60 فیصد تک بڑھ گیا ہے، مزید یہ کہ ’ہماری درآمدات کے ساتھ ساتھ مقامی کاروبار 40 فیصد تک کم ہوگیا ہے‘۔
    ان کا کہنا تھا کہ ٹویوٹا وٹز 2005 کا انجن 40 ہزار کے مقابلے اب 75ہزار کا ہے جبکہ ٹویوٹا کورولا ایل ایل آئی 1300 سے 1500 سی سی کے انجن کی لاگت 80 ہزار کے مقابلے ایک لاکھ روپے ہے۔یہ خبر 7 مارچ 2021 کی خبر ہے۔ایک اور درآمد کنندہ اور تاجر محمد ابراہیم بھی کچھ اسی بات کو بیان کرتے نظر آئے اور ان کے بقول ’مارکیٹ کے تاجروں نے مشرف کے دور میں پیسا بنایا۔ پارٹس پر زیادہ ٹیکس اور ڈیوٹیز نے کاروبار کو کم کرکے صرف 25 فیصد تک کردیا ہے اور درآمد کنندگان کو کاروں کے فور سلینڈر انجن پر 40 سے 45 ہزار روپے کسٹمز ڈیوٹی ادا کر رہے ہیں جبکہ ڈھائی سال قبل تک یہ 15 ہزار روپے تھی اسی طرح سکس سلینڈر انجن پر 30 سے 35 ہزار روپے کے مقابلے ایک لاکھ 15 ہزار روپے وصول کیے جارہے ہیں۔ اب ایک 40 فٹ کنٹینر کی مجموعی لاگت 40 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ غیررسمی چینلز (انفارمل چینلز) سے آنے والے کنٹینر کی مالیت 10 لاکھ روپے ہے۔محمد ابراہیم نے دعویٰ کیا کہ ’شیرشاہ مارکیٹ اسمگل پارٹس اور انجنوں سے پاک ہے‘ مزید یہ کہ یوسف گوٹھ، مواچھ گوٹھ اور سہراب گوٹھ کی آٹو پارٹس مارکیٹ میں اسمگل سامان فروخت ہوتا ہے۔صدر انجمن ویلفیئر شیرشاہ کباڑی مارکیٹ ملک زاہد دہلوی کا کہنا تھا کہ درآمدات کو کم کرنے کے مقصد کے طور پر گزشتہ 2 برسوں میں ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں تقریباً برابر کے اضافے کے باعث پارٹس اور انجنز 50 فیصد تک مہنگے ہوگئے ہیں۔

  • کراچی کے طلبا انگریزی میں کمزور، 50 فیصد E.D.C گریڈ میں پاس

    کراچی کے طلبا انگریزی میں کمزور، 50 فیصد E.D.C گریڈ میں پاس

    کراچی کے اسکولوں سے میٹرک کی سطح پر انگریزی کاپرچہ دینے والے امیدواروں میں 40 سے 50 فیصد طلبا کمزور اسکولنگ اورغیرمعیاری تدریس کے سبب انگریزی کے مضمون میں ’’سی، ڈی اورای‘‘ گریڈز میں پاس ہو رہے ہیں جبکہ 23 سے 34 فیصد تک بچے 50 مارکس سے کم لے کرپرچے کامیاب کرتے ہوئے اور اس کے برعکس محض 9 سے15فیصدتک طلبا 80 فیصد سے زائد مارکس لے کرانگریزی کاپرچہ پاس کرتے ہیں اس بات کاانکشاف ثانوی تعلیمی بورڈ(میٹرک بورڈ) کراچی کے ریسرچ سیکشن کے تحت گذشتہ 3 برسوں کے میٹرک کے نتائج کی کرائی گئی ایک اسٹڈی میں ہواہے۔ یہ اسٹڈی سن 2017سے 2019 تک کے میٹرک کے انگریزی کے پرچوں کے نتائج کے تناسب کے حوالے سے سابق چیئرمین بورڈ پروفیسر سعید الدین کی جانب سے کرائی گئی تھی جس میں انگریزی کے پرچہ پاس کرنے والے امیدواروں کی مختلف کیٹگریز اور اس کے دلچسپ اعدادو شمار سامنے آئے ہیں۔ ’’ایکسپریس‘‘ کو اس حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق 2019کے امتحانات میں انگریزی کے پرچے میں مجموعی انرولمنٹ کا49فیصد یعنی 71751 طلبہ 60 فیصد سے کم مارکس لے کر’’سی،ڈی اورای‘‘گریڈ میں انگریزی کے پرچے میں پاس ہوئے۔ اسی طرح سال 2018 میں مجموعی انرولمنٹ کا 40 فیصد یعنی کل 58114طلبہ سی، ڈی اورای گریڈ میں انگریزی کے پرچے میں پاس ہوئے جبکہ سال 2017میں مجموعی انرولمنٹ کا44فیصد یعنی کل 61061طلبہ سی،ڈی اورای گریڈ میں انگریزی کے پرچے میں پاس ہوئے یاپھرفیل ہوگئے ان اعدادوشمارکے برعکس سال 2019میں کل 1لاکھ 43ہزار اور962 طلبہ نے میٹرک بورڈ کراچی سے دسویں جماعت میں انگریزی کاامتحان دیاتھاجس میں سے 11.91فیصد یعنی 17157طلبہ نے انگریزی کے پرچے میں 80فیصد سے زائد مارکس لیے۔ اسی طرح سال 2018میں کل 1لاکھ 41ہزار 444طلبہ نے انگریزی کاپرچہ دیاتھا اوراس میں سے 15.86 فیصد یعنی 22436طلبا نے انگریزی کے پرچے میں 80فیصد سے زائد مارکس لیے جبکہ سال 2017میں کل 1لاکھ 36ہزار اور34طلبہ انگریزی کے امتحان میں شریک ہوئے ان میں 9.60فیصد یعنی 13071طلبا نے 80فیصد سے زائد مارکس لیے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2019میں انگریزی کے پرچے میں مجموعی شرکت کا21.39 فیصد نے یہ پرچہ 70سے 80فیصد مارکس لے کرپاس کیاجبکہ 16.84فیصد نے 60سے 70فیصد مارکس لے کراور 15.31فیصد طلبہ نے 50سے 60فیصد مارکس لے کر یہ پرچہ پاس کیا۔ اسی طرح سال 2018میں انگریزی کے پرچے میں مجموعی شرکت کا23.36فیصد نے 70سے 80فیصد مارکس لے کر، 19.68فیصد نے 60سے 70فیصد مارکس لے کراور17.88فیصد نے 50سے 60فیصد تک مارکس لے کرانگریزی کایہ پرچہ پاس کیا۔
    علاوہ ازیں 2017میں 22.73 فیصد نے 70سے 80فیصد،22.7فیصد نے 60سے 70فیصد اور 19.51 فیصد طلبا نے 50سے 60فیصد تک مارکس لے کر انگریزی کاپرچہ پاس کیا۔ سال 2019میں انگریزی کے پرچے میں شریک ہونے والے طلبا کی مجموعی تعداد کا34.52فیصد اس پرچے میں ڈی اورای گریڈمیں 50فیصد سے کم مارکس لے کرپاس ہوئی یافیل ہوگئی۔ اس طرح سال 2018میں انگریزی کے پرچے میں شریک طلبا کی مجموعی تعداد کا 23.19فیصد 50فیصد سے کم مارکس لے کرڈی اورای گریڈ میں پاس ہوئی۔ 2017میں انگریزی کے پرچے میں شریک ہونے والے طلبا کی مجموعی تعداد کا25.37فیصد اس پرچے میں ڈی اورای گریڈ میں پاس ہوئی یا پھر فیل ہوگئی ادھر’’ایکسپریس‘‘نے جب اس سلسلے میں مذکورہ اسٹڈی کرانے والے ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے سابق اوراعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ(انٹرمیڈیٹ بورڈ) کراچی کے موجودہ چیئرمین پروفیسرسعیدالدین سے رابطہ کرکے اس اسٹڈی کے بارے میں ان کی رائے پوچھی توانھوں نے واضح کیاکہ میٹرک کی سطح پر کراچی میں دسویں کے امتحان میں شریک ہونے والے طلبا کی اکثریت کاتعلق نجی اسکولوں سے ہوتاہے جبکہ سرکاری اسکولوں کے طلبا کی تعداد چند ہزارمیں ہی رہتی ہے۔ انھوں نے واضح کیاکہ یہ نجی اسکول جن کی اکثریت انگریزی میڈیم ہے ان ہی کے طلبا کاانگریزی رجحان اس اسٹڈی رپورٹ سے سامنے آرہا ہے اوراس سے حکام کوسرکاری کے ساتھ ساتھ نجی اسکولوں میں تدریسی معیارات کوجانچنے اور سمجھنے کاموقع مل رہاہے جس کی بنیادپر معیار تعلیم اوربالخصوص تدریس نظام کوبہتر کرنے کے لیے بڑے فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔

  • کراچی: افغان گینگ کے کارندے گرفتار، سنگین وارداتوں کا انکشاف

    کراچی: افغان گینگ کے کارندے گرفتار، سنگین وارداتوں کا انکشاف

    کراچی: شہرقائد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے افغان گینگ کے دو ڈکیتوں کو گرفتار کرلیا، ملزمان نے سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے تفصیلات کے مطابق پولیس نے کراچی کے علاقے ماڈل تھانہ فیروزآباد کی محمدعلی سوسائٹی میں کارروائی کی، ملزمان بنگلوں میں ڈکیتی کرنے والے افغان گینگ کےکارندے ہیں، ملزمان وائٹ کرولاکار میں وارداتیں کرتے تھے ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی کا کہنا ہے کہ ملزمان سمیع اللہ اور سراج کو دوران ڈکیتی گرفتار کیا، ملزمان کے4ساتھی فرار ہیں جبکہ گرفتار افراد سے 2پستول، لوٹا ہوامال اور جیولری برآمد کی گئی انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے افغان نیشنل آئی ڈی کارڈ بھی برآمد ہوا، ملزمان نے دوران تفتیش بنگلوں میں وارداتوں کا انکشاف کیا، ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد ملزمان افغانستان فرار ہوجاتے تھے اس سے قبل بھی ملزمان کئی مرتبہ گرفتار ہوچکے ہیں۔

  • ہم سو رہے تھے کہ ٹرین کھائی میں جا گری،مسافر

    ہم سو رہے تھے کہ ٹرین کھائی میں جا گری،مسافر

    کراچی سے لاہور جانے والی متاثرہ ریلوے گاڑی کے مسافروں نے بتایا کہ جب حادثہ پیش آیا تو زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔ رات کا وقت تھا کہ اچانک ریل زور زور سے جھٹکے کھانے لگی۔ پھر ہمیں کچھ ہوش نہ تھا، سر پر کچھ لگا۔ بچے خواتین رونے لگے۔ ایسا لگ تھا کہ ہم خواب دیکھ رہے کہ ٹرین کھائی میں جا گری. حادثے میں خاتون جاں بحق، جب کہ 23 سے زائد افراد زخمی ہوئے مسافر اندر ہی پھنس گئے۔ حادثے میں جاں بحق خاتون کا تعلق کراچی کے علاقے لانڈھی سے تھا.