Baaghi TV

Category: کراچی

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

    ‎پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان رہا اور کاروبار کے دوران 4,000 پوائنٹس کی کمی کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 78 ہزار 725 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
    ‎مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں ہوا اور دن بھر مسلسل کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بینکوں کے مالیاتی نتائج کا توقعات سے کم ہونا اور فرٹیلائزرز کی ایک بڑی کمپنی کی جانب سے کم منافع کی تقسیم ہے۔
    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بتایا کہ بینکوں اور فرٹیلائزرز کی مالی کارکردگی نے مارکیٹ میں منفی رجحان کو فروغ دیا۔ اس کے علاوہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی نے بھی لسٹڈ کمپنیوں پر منفی اثر ڈال کر اسٹاک ایکسچینج میں کمی کو مزید بڑھا دیا۔

  • معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کر گئیں

    معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کر گئیں

    ‎پاکستان کی معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کر گئیں۔ وہ کراچی کے قومی ادارہ امراضِ قلب میں زیرِ علاج تھیں۔
    ‎اسپتال حکام کے مطابق تابندہ لاری گزشتہ چند دنوں سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق بھی ادارے کی جانب سے کی گئی ہے۔
    ‎تابندہ لاری اپنی پرسوز آواز اور عقیدت بھری نعتوں کے باعث ملک بھر میں پہچانی جاتی تھیں، اور مذہبی محافل میں ان کی شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

  • کراچی: بلیک میل کرنے پر سیکیورٹی گارڈ نے خاتون کو قتل کر دیا

    کراچی: بلیک میل کرنے پر سیکیورٹی گارڈ نے خاتون کو قتل کر دیا

    پاپوش نگر صرافہ بازار میں واقع نجی بینک کے باہر سیکیورٹی گارڈ صادق ولد حاجی خان نے فائرنگ کرکے خاتون کو قتل کر دیا-

    پولیس کے مطابق پاپوش نگر تھانے کے علاقے پاپوش نگر صرافہ بازار میں واقع نجی بینک کے باہر فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا تاہم شدید زخمی خاتون دوران علاج دم توڑ گئی مقتولہ خاتون اور گرفتار سیکیورٹی گارڈ مبینہ طور پر آپس میں دوست تھے اور دوران تفتیش گرفتار گارڈز نے بتایا کہ مقتولہ خاتون اسے بیلک میل کر رہی تھی اور اسی وجہ سے اس نے فائرنگ کی۔

    مقتولہ خاتون کی شناخت 32 سالہ زاہدہ زوجہ آصف کے نام سے کی گئی، مقتولہ خاتون چاندنی چوک کی رہائشی تھی فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی موقع پر طلب کیا۔

    ایس ایچ او پاپوش نگر نے بتایا کہ مقتولہ خاتون نے گزشتہ ماہ گرفتار سیکیورٹی گارڈ سے 50ہزار روپے لیے تھے اور مزید رقم کا تقاضا کر رہی تھی، مقتولہ کے پاس گرفتار سیکیورٹی گارڈ کی ویڈیو موجود تھی اور مزید رقم نہ ملنے پر گارڈ کو ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کر رہی تھی جس کی وجہ سے گرفتار سیکیور ٹی گارڈ پریشان تھا جمعرات کو گرفتار سیکیورٹی گارڈ نے رقم دینے کے بہانے خاتون کو فون کال کرکے بلوایا اور اسے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا، پولیس نے گرفتار سیکیورٹی گارڈ کے قبضے سے اسلحہ اور جائے وقوع سے چلیدہ خول بھی برآمد کیے ہیں جبکہ مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے اس مشکل صورتحال میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ اپنے تمام دورے منسوخ کرکے متاثرین کے پاس گئے اور ان کے لیے گھر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے، لیکن بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کی بدولت یہ ممکن ہوا، ابتدائی طور پر منصوبے کے لیے بجٹ ناکافی لگ رہا تھا، لیکن عالمی بینک اور دیگر اداروں کی امداد کے بعد منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک 7 لاکھ سے زیادہ گھر بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور یہ سب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو اس وقت میونخ میں ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ متاثرین کی بحالی کے یہ اقدامات واقعی حیران کن اور متاثر کن ہیں-

  • کراچی ایئرپورٹ پر بدنظمی، رکاوٹوں اور عملے کی کمی سے مسافروں کی پروازیں چھوٹنے لگیں

    کراچی ایئرپورٹ پر بدنظمی، رکاوٹوں اور عملے کی کمی سے مسافروں کی پروازیں چھوٹنے لگیں

    ‎کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گیا ہے، جہاں سیکیورٹی رکاوٹوں، طویل قطاروں اور عملے کی کمی کے باعث پروازیں چھوٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔
    ‎اسٹار گیٹ اور جناح ٹرمینل پر پولیس چیک پوسٹس پر محدود اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث چیکنگ کا عمل سست ہے، جس سے شارع فیصل پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ جناح ٹرمینل کی پارکنگ اور لیول ٹو ریمپ پر بھی ٹریفک جام کی صورتحال رہتی ہے۔
    ‎ڈپارچر لاؤنج میں داخلے کے لیے تنگ راستے اور ناکافی عملہ مسافروں کو کم از کم ایک گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کروا رہے ہیں۔ سامان کی اسکیننگ، جسمانی تلاشی، کسٹمز اور اے این ایف کی پوچھ گچھ کے مراحل سے گزرنے کے بعد مسافر ایئرلائن کاؤنٹر تک پہنچتے ہیں، جہاں بورڈنگ کے لیے وقت انتہائی محدود رہ جاتا ہے۔
    ‎ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق امیگریشن کے صرف 9 کاؤنٹر فعال ہیں جبکہ نصف سے زائد بند پڑے ہیں، جس کی وجہ ایف آئی اے امیگریشن میں عملے کی کمی بتائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ہی شفٹ میں 22 مسافر تاخیر کے باعث سفر سے محروم رہے۔
    ‎پی اے اے ریکارڈ کے مطابق مسافروں کی تاخیر سے آمد اور امیگریشن میں غیر معمولی سست روی کے باعث بین الاقوامی پروازوں کی روانگی میں ایک گھنٹے سے زائد تاخیر معمول بن چکی ہے۔ غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
    ‎اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خود ایئرپورٹ کا دورہ کیا، تاہم عملی طور پر بہتری نظر نہیں آئی۔ حکام کے مطابق صرف مسافروں کو پانچ گھنٹے پہلے بلانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا جب تک داخلی راستوں پر رکاوٹیں اور عملے کی کمی دور نہیں کی جاتی۔

  • کراچی میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب، گورنر سندھ کی شرکت

    کراچی میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب، گورنر سندھ کی شرکت

    ‎کراچی میں ایرانی قونصل خانے میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے شرکت کی۔
    ‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا تھا، جبکہ ایران میں اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور پاکستان متحد ہو جائیں تو کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو یکجا ہو کر چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے۔
    ‎گورنر سندھ نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پوری قوم متحد تھی اور اسی اتحاد کی بدولت کامیابی حاصل ہوئی۔

  • آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے،شرجیل میمن

    آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے،شرجیل میمن

    کراچی میں صوبائی وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ اور سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات سندھ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اطلاعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمن میمن، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات معیز پیرزادہ، ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات سارانگ لطیف چانڈیو سمیت دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران میڈیا سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل، صحافیوں کے لیے سہولیات میں بہتری، بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی، اور محکمہ اطلاعات اور میڈیا کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر محکمہ اطلاعات کے جاری اور مجوزہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ، جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومتی معلومات کی مؤثر ترسیل، فلم اور ڈاکومنٹری منصوبوں کی سرپرستی، اور عوام کو حکومتی پالیسیوں تک شفاف اور آسان رسائی کی فراہمی کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری جمہوری نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ان کے تحفظ اور پیشہ ورانہ سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے، اور سندھ حکومت میڈیا کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام تک درست اور بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • کراچی: ایک لمبے انتظار کے بعد جہانگیر روڈ کے تعمیراتی کام کا آغاز

    کراچی: ایک لمبے انتظار کے بعد جہانگیر روڈ کے تعمیراتی کام کا آغاز

    ‎کراچی کے شہریوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ طویل انتظار اور روزمرہ مشکلات کے بعد جہانگیر روڈ پر باقاعدہ تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ہے۔
    ‎سڑک کی تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار کے مطابق تین ہٹی سے گرومندر تک جہانگیر روڈ کو روایتی طریقے سے مختلف انداز میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس بار صرف ڈامر بچھا کر سڑک تیار نہیں کی جائے گی بلکہ پہلے مضبوط کنکریٹ ڈالا جائے گا اور اس کے بعد پیورز نصب کیے جائیں گے۔
    ‎یاد رہے کہ جہانگیر روڈ کی خستہ حالی اور سیوریج کے مسائل پر مکینوں کی جانب سے کئی بار شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ گرومندر سے تین ہٹی تک سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی جبکہ سیوریج کے پانی نے صورتحال مزید خراب کر دی تھی۔
    ‎ٹھیکیدار کے مطابق پہلے مرحلے میں گرومندر تک پیورز بچھانے کا کام ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں گرومندر سے تین ہٹی تک سڑک کی تعمیر شروع کی جائے گی۔
    ‎شہریوں کو امید ہے کہ نئی تعمیر کے بعد اس اہم شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور روزانہ کی مشکلات میں کمی آئے گی۔

  • جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عوام سے شواہد طلب

    جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عوام سے شواہد طلب

    سانحہ گل پلازہ،جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس جسٹس آغا فیصل سربراہی میں ہوا

    اجلاس میں کمشنر کراچی ،سیکریٹری قانون و داخلہ نے شرکت کی،جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات سے متعلق پبلک نوٹس جاری کردیا،کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عام عوام سے شواہد طلب کرلیے ،کمیشن نے کہا کہ کسی بھی شہری کے پاس سانحہ سے متعلق اہم معلومات ہوں تو کمیشن سے رابط کرسکتا ہے ،کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی،پبلک نوٹس میں کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل ہیں،سانحہ گل پلازہ سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد ای میل کے ذریعے کمیشن سے رجوع کرسکتے ہیں،سانحہ گل پلازہ سے متعلق حقائق، واقعاتی معلومات جوڈیشل کمیشن کو فراہم کی جاسکتی ہیں،جوڈیشل کمیشن سے 20 فروری سے قبل ای میل سے ذریعے رجوع کیا جاسکتا ہے، جوڈیشل کمیشن سے ای میل ایڈریس gpi-coi@shc.gov.com پر رجوع کیا جاسکتا ہے،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کمیشن کے لیے سیکریٹریٹ فراہم کردیا ،جوڈیشل کمیشن کا سیکریٹریٹ سندھ ہائیکورٹ میں ہی قائم کیا گیا ہے ،جوڈیشل کمیشن کے جج جسٹس آغا فیصل نے کمشنر کراچی کو اسٹاف نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کردی،اسٹاف میں رجسٹرار کمیشن ،فوکل پرسن،ماہرین شامل ہوں گے ،

  • اینکر مرید عباس قتل کیس،سات برس بعد مقدمہ حتمی مراحل میں داخل

    اینکر مرید عباس قتل کیس،سات برس بعد مقدمہ حتمی مراحل میں داخل

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت،جیل کمپلکس،اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کا قتل ،سات برس بعد مقدمہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا

    مقدمے کے آخری گواہ تفتیشی افسر عتیق الرحمان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا،تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد کیس کی تفتیش سپرد کی گئی،ملزم کی شناخت پریڈ اور گواہان کے 164 کے بیانات ریکارډ کروائے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور آلہ قتل برآمد کرکے فرانزک کروایا اور ملزم کے خلاف چالان جمع کروایا، عدالت نے ملزم کے وکیل سے تفتیشی افسر کے بیان پر جرح کے لئے تاریخ مقرر کردی،عدالت نے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی

    اینکر مرید عباس اور خضر حیات کو 2019 میں قتل کیا گیا تھا،مقدمے میں ملزم عاطف زمان گرفتار اور جیل میں ہے،شریک ملزم عادل زمان 2020 میں سپریم کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر مفرور ہوگیا تھا،شریک ملزم عادل زمان تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا،سیشن عدالت شریک ملزم عادل زمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے،مدعی مقدمہ کی جانب سے جبران ناصر ایڈووکیٹ کیس کی پیروی کررہے ہیں