Baaghi TV

Category: کراچی

  • انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انمول عرف پنکی 3 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    منشیات کے جرم میں گرفتار انمول عرف پنکی کو مختلف مقدمات میں عدالت نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو سخت سیکیورٹی حصار میں سماعت کے لیے سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا گیا، جہاں اسے درخشاں اور گزری تھانوں میں درج 8 مقدمات کے سلسلے میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مقدمات سے متعلق مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ ملزمہ کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، پنکی شہر کے پوش علاقوں میں بھی آن لائن منشیات فروخت کرتی تھی، منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتھا جس جس کی ویڈیو سامنے آگئی۔

    منشیات کا نیٹ ورک غیر قانونی طور پر معروف آن لائن شاپنگ برانڈ کا نام بھی منشیات کی ترسیل میں استعمال کرتا رہا،منشیات منگوانے والے ایک کسٹمر نے کچھ ماہ قبل ایک خفیہ ویڈیو بھی بنالی تھی رائیڈرز اس بات سے لاعلم ہوتے تھے کہ پارسل میں منشیات موجود ہے،ویڈیو میں رائیڈر سے کسٹمر کو پارسل وصول کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    رائیڈر نے پارسل دینے کے بعد صرف ڈلیوری چارجز وصول کیے پارسل کے اندر ایک پیکٹ سے آئس برآمد ہوتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

  • میڈیا سے درخواست ہے  پنکی کو گلیمرائز نہ کریں کہیں اس پر فلم بن جائے،آئی جی سندھ

    میڈیا سے درخواست ہے پنکی کو گلیمرائز نہ کریں کہیں اس پر فلم بن جائے،آئی جی سندھ

    آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہےکہ میری میڈیا سے درخواست ہے کہ پنکی کو گلیمرائز نہ کریں کہ کہیں اس پر فلم بن جائے۔

    کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ حکومت سندھ کے تعاون سے منشیات کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں، ایک ہزار سے زائد مجرموں کو پکڑا ہے منشیات استعمال کرنے والے اور بیچنے والے میں فرق ہے، جو منشیات کا کام کر رہے ہیں انہیں نہیں بخشیں گے، ٹاسک فورس بنا رہے ہیں، ہر شہری کا فرض ہے کہ معلومات فراہم کرے۔

    پنکی کیس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ پنکی زیادہ تر لاہور میں رہتی تھی اور اس کیس میں کئی معتبر نام ہیں، بہت سے لوگوں کے نام نکل سکتے ہیں تاہم میری میڈیا سے درخواست ہے کہ پنکی کو گلیمرائز نہ کریں کہ کہیں اس پر فلم بن جائے۔

    آئی جی سندھ نے کہا کہ کچےمیں آپریشن نجات مہران شروع کیا، 600 سے زائد ڈاکویا تو مارےگئے یا پکڑےگئے یا انہوں نے ہتھیار ڈالے، اب سندھ میں کوئی بھی نو گو ایریا نہیں ہے جبکہ کراچی میں بھی امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    امریکی صدر کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کرنے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان لوٹ آیا۔

    کاروبار کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاایک موقع پر انڈیکس 2,357.02 پوائنٹس یعنی 1.46 فیصد اضافے کے ساتھ 164,162.04 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

    مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی،اٹک ریفائنریز لمیٹڈ، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈز، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ سمیت انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ گرشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہی تھی،کے ایس ای 100 انڈیکس 3,791.05 پوائنٹس یعنی 2.29 فیصد کمی کے بعد 161,805.02 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • کراچی میں تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنے والا فیملی گینگ گرفتار

    کراچی میں تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنے والا فیملی گینگ گرفتار

    ‎کراچی کے علاقے شاہ لطیف میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنے والے ایک ہی خاندان پر مشتمل 5 رکنی گینگ کو گرفتار کر لیا۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں دو میاں بیوی سمیت ان کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں، جو شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً کالجز اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
    ‎ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ نے بتایا کہ کارروائی مرغی خانہ کے قریب کی گئی جہاں سے 25 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد ہوئی۔
    ‎گرفتار ملزمان میں شاکر، عبدالمنان، نوید خالق، ناہید اور فضیلہ شاکر شامل ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق یہ گروہ انتہائی منظم انداز میں کام کر رہا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کیلئے مختلف طریقے استعمال کرتا تھا۔
    ‎ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ ملزمان نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت میں دھکیلنے میں ملوث تھے اور خاص طور پر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار گروہ کے دیگر سہولت کاروں اور نیٹ ورک سے وابستہ افراد کی گرفتاری کیلئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ شہر میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کی بڑھتی رسائی نوجوان نسل کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے، جس کیلئے والدین، تعلیمی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • سی ویو ہٹ اینڈ رن کیس، مفرور ڈرائیور بلوچستان فرار

    سی ویو ہٹ اینڈ رن کیس، مفرور ڈرائیور بلوچستان فرار

    ‎کراچی کے علاقے سی ویو میں پیش آنے والے ہٹ اینڈ رن حادثے کے مرکزی ملزم کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سندھ سے فرار ہو کر بلوچستان پہنچ چکا ہے۔
    ‎اے آر وائی نیوز کے مطابق حادثے میں ملوث ملزم کی شناخت نعمان علی کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے بتایا جا رہا ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق حادثے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا تھا اور اس نے اپنے دوستوں سے بھی مدد طلب کی تھی۔
    ‎تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم گاڑی کو چھپانے کے بعد ڈیفنس فیز 7 میں اپنے ایک دوست کے گھر گیا تھا۔
    ‎تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم کے نام پر ایک کورولا اور ایک ریوو گاڑی رجسٹرڈ ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ سپر ہائی وے کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ملزم کی لوکیشن ٹریس ہونے پر وہاں چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ پولیس پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو گیا۔
    ‎حکام کے مطابق ملزم اب بلوچستان فرار ہو چکا ہے، تاہم اس کی گرفتاری کیلئے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور پولیس نے جلد گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ یہ افسوسناک حادثہ 14 مئی کی رات سی ویو روڈ پر خیابان بخاری کے موڑ کے قریب پیش آیا تھا، جہاں ایک تیز رفتار ڈبل کیبن گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر مار دی تھی۔
    ‎حادثے کے نتیجے میں سلمان نامی نوجوان موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ گاڑی میں موجود دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔
    ‎حادثے کے بعد ملزم اپنی گاڑی سمیت موقع سے فرار ہوگیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ہٹ اینڈ رن کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

  • ملکہ کونین پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    ملکہ کونین پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی، جیل کمپلیکس میں انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کردی۔

    تفتیشی افسر نے مدعی مقدمہ کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست عدالت میں دائر کی، عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 21 مئی کو مدعی مقدمہ کا 164 کا بیان ریکارڈ کروایا جائے۔عدالت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیشی سے استثنیٰ دے دیا، عدالت کے مطابق مدعی کا 164 کا بیان ملزمہ کے وکلاء کی موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے گا۔سیشن جج ساؤتھ نے قرار دیا کہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے، اگر مزید تفتیش درکار ہے تو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کیا جائے۔

    دوسری جانب سول سوسائٹی پاکستان کے صدر عبداللہ ملک نے انمول عرف پنکی کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے حوالے سے 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا، جو ابھی تک زیر سماعت ہے، انمول پنکی کے کیس میں اس حوالے سے اہم شواہد مل سکتے ہیں۔ خط میں استدعا کی ہے کہ انمول عرف پنکی کو با اثر مافیا راستے سے ہٹا سکتے ہیں اس لیے اسے فول پروف سیکیورٹی دی جائے اور تمام آئی جیز سے منشیات کے حوالے سے رپورٹس مانگی طلب کی جائیں۔

  • ملک میں پہلی مرتبہ سندھ حکومت نے ای وی بس سروس متعارف کرائی،شرجیل میمن

    ملک میں پہلی مرتبہ سندھ حکومت نے ای وی بس سروس متعارف کرائی،شرجیل میمن

    سینیئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نےسندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بورڈ میٹنگ میں سندھ حکومت نے 500 نئی ای وی بسوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔ ہم یہ بسیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے لے کر آرہے ہیں۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ہم پاکستان کی پہلی ای وی بسیں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لے کر آئے۔ ابھی اسی ماڈل کو آگے بڑھاتے ہوئے 500 نئی بسیں آرہی ہے جس میں تین روٹس ہے، روٹ نمبر جی 15 میں اتحاد ٹاؤن، ٹوڑی چوک، سیکٹر ٹو اورنگی ٹاؤنشپ، بنارس کالونی، پٹھان کالونی، پیٹرول پمپ، لیاقت آباد نمبر 10، لیاقت آباد پوسٹ آفس، تین ہٹی، جہانگیر روڈ، ایمپریس مارکیٹ اور کینٹ اسٹیشن۔ ایک اور روٹ اورنگی غازی آباد، ضیاء چوک، اقبال مارکیٹ، اورنگی نمبر2 اور 5، بنارس، حبیب بنک، ناظم آباد نمبر 2لیاقت آباد نمبر 4 اور 10، عائشہ منزل، واٹر پمپ سہراب گوٹھ۔ اورنگی ظہور چوک نمبر 11، بنارس حبیب بنک، ناظم آباد نمبر 2، پیٹرول پمپ، لیاقت آباد نمبر 10 غازی آباد، حسن اسکوائر، کارساز، ڈرگ روڈ اور ایئرپورٹ تک ہیں۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں پہلی مرتبہ سندھ حکومت نے ای وی بس سروس متعارف کرائی۔ ہم نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتر سہولیات فراہم کیں۔ کراچی میں اورنج لائن اور گرین لائن بی آر ٹی سروسز کی رائیڈرشپ میں اضافہ ہوا ہے۔ سندھ بھر میں ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو مسلسل وسعت دے رہے ہیں۔ مختلف روٹس پر بس سروسز میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

  • پنکی نے لگا دیا تشدد کا الزام،بولی سو دن کا ریمانڈ لے لیں

    پنکی نے لگا دیا تشدد کا الزام،بولی سو دن کا ریمانڈ لے لیں

    پنکی عرف انمول نے لیاقت گبول کو وکیل مقرر کردیا، ڈرگ اسمگلر کو قتل کے مقدمے میں کراچی سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچادیا گیا، ملزمہ نے آج پھر عدالت میں شور شرابہ کیا۔

    پولیس پر الزام لگایا کہ اس سے زبردستی بیان دینے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ملزمہ کا کہنا ہے کہ پولیس کہتی ہے مرضی کا بیان نہ دیا تو 3 دن کا مزید ریمانڈ لیں گے، پولیس اہلکار مجھے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی نے کراچی کی مقامی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس تشدد کا الزام عائد کر دیا۔

    بغدادی تھانے میں درج قتل کیس میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو کراچی جوڈیشل کمپلیکس میں قائم جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،ملزمہ انمول عرف پنکی کی پولیس تشدد کی شکایت پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ پر اگر تشدد ہوا ہے تو اس سے قبل عدالت میں شکایت کی؟ کیا وکیل نے ملزمہ کا میڈیکل کرانے کی درخواست کی ہے؟انمول عرف پنکی نے کہا کہ مجھے مارا گیا ہے، مجھ پر ایک نہیں کئی تفتیشی افسران نے تشدد کیا ہے، میرا 100 دن کا ریمانڈ لینا ہے تو لے لیں،کراچی کی مقامی عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    سماعت سے قبل تفتیشی افسر نے کمرہ عدالت میں پنکی کو بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ملزمہ پولیس ریمانڈ میں ہے، باہر نکل کر جس سے بات کرنا ہے کرے، ابھی آپ اپنے وکیل سے بات کریں،جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صرف اس کیس سے منسلک وکلاء ہی کمرہ عدالت میں رکیں باقی سب باہر جائیں،سماعت شروع ہوتے ہی سادہ لباس اہلکاروں نے صحافیوں سے تلخ کلامی کی، ان کو دھکے دیے، جس کی وجہ سے کمرہ عدالت میں شور شرابا مچ گیا

  • انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر رانا اکرم کی ٹریول ہسٹری سامنے آ گئی

    انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر رانا اکرم کی ٹریول ہسٹری سامنے آ گئی

    کراچی: منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر رانا اکرم کی ٹریول ہسٹری منظرِ عام پر آگئی، جس میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے متعدد دوروں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی صرف ایک مرتبہ پاکستان سے بیرونِ ملک گئی۔ ریکارڈ کے مطابق وہ 25 دسمبر 2018ء کو کراچی سے باکو روانہ ہوئی تھی اور تقریباً 3 ماہ بعد یکم اپریل 2019ء کو واپس پاکستان پہنچی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پنکی کا دوسرا شوہر رانا اکرم 2 مرتبہ باکو گیا۔ پہلی مرتبہ وہ 12 اکتوبر 2025ء کو باکو روانہ ہوا اور 19 اکتوبر 2025ء کو واپس آیا۔ایئرپورٹ ریکارڈ کے مطابق رانا اکرم دوسری مرتبہ 27 دسمبر 2025ء کو باکو گیا اور 6 جنوری 2026ء کو لاہور واپس پہنچا۔پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رانا اکرم نے ہی پہلی مرتبہ انمول عرف پنکی اور اس کی ساتھی کرن کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں خواتین کو چھوڑ دیا گیا۔

    تحقیقاتی ذرائع کے مطابق رانا اکرم نے مبینہ طور پر 2 گاڑیاں اور 5 کروڑ روپے لے کر دونوں خواتین کو رہا کیا تھا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • سیکورٹی خدشات،پنکی کی عدالت پیشی کیلئے اہم درخواست دائر

    سیکورٹی خدشات،پنکی کی عدالت پیشی کیلئے اہم درخواست دائر

    کراچی میں منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کی سٹی کورٹ میں پیشی کے معاملے پر پولیس نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عدالت سے اہم درخواست دائر کردی۔

    تفتیشی افسر نے عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کو سٹی کورٹ کے بجائے سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ سٹی کورٹ میں پیشی کے دوران سیکیورٹی مسائل اور خدشات موجود ہیں۔پولیس کے مطابق یہ درخواست ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کی ہدایت پر دائر کی گئی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ پنکی کے خلاف قتل کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ آج مکمل ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے گزشتہ ہفتے ملزمہ انمول عرف پنکی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مزید کارروائی کے لیے عدالت سے نئی اجازت طلب کرلی ہے۔