Baaghi TV

Category: کراچی

  • سپریم کورٹ کی ہدایات پر صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ سے 1 ارب کی عمارت واگزار

    سپریم کورٹ کی ہدایات پر صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ سے 1 ارب کی عمارت واگزار

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ نے اسلام آباد کے آرام باغ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ملکیت 1 ارب روپے مالیت کی عمارت صارم برنی ویلفئیر ٹرسٹ سے واپس حاصل کر لی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ای ٹی پی بی کے زیر انتظام مذکورہ عمارت کافی عرصے سے ٹرسٹ کے غیر قانونی تسلط میں تھی، جس کا استعمال مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا تھا۔عمارت میں صارم برنی کی طرف سے کم عمر بچوں کی مبینہ اسمگلنگ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث وہ اس وقت جیل میں موجود ہیں،عمارت کو قبضے میں لینے کے بعد سیل کر دیا گیا اور بعد ازاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے سپرد کر دیا گیا،حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد عمارت کا قانونی اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا، جبکہ غیر قانونی قبضے پر مزید سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

  • شراب کی خریدوفروخت پر پابندی کی قرارداد سندھ اسمبلی سے مسترد

    شراب کی خریدوفروخت پر پابندی کی قرارداد سندھ اسمبلی سے مسترد

    سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کردیا۔شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔

    ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار نے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کےتمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ وزیر قانون و داخلہ سندھ ضیا لنجار نے قرارداد کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائے گا، آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں جس کے بعد ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔

    ایوان نے ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین خان کی بھی 2 قراردادیں مسترد کردیں، ایک قرارداد جنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کو روکنے کے لیے لائیف بیسڈ اسکل لرننگ سے متعلق جبکہ دوسری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی کو دیکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق تھی۔

  • 
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں تاخیر کے خلاف والدہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئیں

    
مصطفیٰ عامر قتل کیس میں تاخیر کے خلاف والدہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئیں

    
مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں چالان جمع ہونے کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان پر فردِ جرم عائد نہ ہونے پر مقتولہ کی والدہ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ وکیل کے مطابق کیس انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 16 کے جج کے انتقال کے بعد زیر التوا رہا، اور بعد ازاں سندھ حکومت کی عدالتوں کی ری اسٹرکچرنگ کے باعث اے ٹی سی 6 کو انسداد منشیات کی عدالت میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے کارروائی میں مزید تاخیر ہوئی۔
    سندھ ہائی کورٹ نے کیس ٹرانسفر کرنے کی منظوری دے دی اور نیا کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کی۔ وکیل نے کہا کہ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اور اہم ملزمان ارمغان اور شیراز اس وقت جیل میں قید ہیں۔

  • 
ڈاکوؤں کی فائرنگ، تین پولیس اہلکار شہید، تین زخمی

    
انڈس ہائی وے پر ڈاکوؤں نے مسافروں سے لوٹ مار کی کوشش کے دوران پولیس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ایک اہلکار سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، تاہم ڈاکوؤں نے گولیاں چلائیں۔ شہید ہونے والے اہلکاروں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎دوسری جانب ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹنے والے مسافروں نے انڈس ہائی وے پر دھرنا دے کر احتجاج کیا، جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا اور شہید اہلکاروں کے لواحقین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے ساتھ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • ‎کراچی: انڈے کے تاجر سے 30 لاکھ روپے کی ڈکیتی

    ‎کراچی: انڈے کے تاجر سے 30 لاکھ روپے کی ڈکیتی

    ‎کراچی کے علاقے کورنگی زمان ٹاؤن میں ایک انڈے کے تاجر سے 30 لاکھ روپے کی ڈکیتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
    ‎تاجر اصغر نے بتایا کہ دو ملازمین، عامر اور عمران، 30 لاکھ روپے تھیلے میں بھر کر بینک جمع کروانے جا رہے تھے کہ کورنگی ڈھائی نمبر کے مقام پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے انہیں روک لیا۔ ملزمان نے اسلحہ دکھا کر رقم سے بھرا تھیلا اور موبائل فون چھین لیا۔
    ‎پولیس حکام نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے شناخت چھپانے کے لیے ماسک اور ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔

  • کراچی میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری

    کراچی میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری

    
کراچی میں ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے شہریوں کو دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھریٹ لیول ہائی ہے، تاہم پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
    کراچی پولیس آفس میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد خان نے بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرانزک لیب کی سہولت پر کام جاری ہے لیکن مختلف مشکلات کی وجہ سے مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔
    ‎ایڈیشنل آئی جی نے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کو کراچی کے اہم اہداف میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ دشمن اپنی پراکسیز کو زیادہ رقوم ادا کرتا ہے تاکہ شہر میں کارروائیاں کی جا سکیں، جبکہ ان گروہوں کی زیادہ توجہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر ہے۔
    ‎آزاد خان نے پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہل اور پیشہ ور افسران کی تعیناتی ضروری ہے، تاکہ سفارشات سے گورننس متاثر نہ ہو۔ انہوں نے تھانہ کلچر ختم کرنے اور عوام کو زیادہ سہولت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ انسداد منشیات، اسمگلنگ، تجاوزات اور گداگری روکنا پولیس کا بنیادی کام نہیں، بلکہ جرائم کی روک تھام، تفتیش اور عوام کے تحفظ پر توجہ دینا اصل ذمہ داری ہے۔ اگر پولیس اپنے بنیادی فرائض پر توجہ دے تو نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ رشوت کے خاتمے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

  • جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان

    جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کا نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان

    پاکستان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن کراچی نے فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، تصدیق کی جاتی ہے کہ نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم ولد حاجی گل شاہ سکنہ شمالی وزیرستان (تنظیم فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان) کا جامعہ دارالعلوم یاسین القرآن سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں،جامعہ ہذا نے اگر کسی بھی قسم کی سند جاری کی ہو وہ کینسل کی جاتی ہے-

    واضح رہے کہ نور ولی کا تعلق وزیرستان سے ہے، جو اس وقت فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ہیں،مفتی نور ولی کا شمار کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے قریبی کمانڈروں میں ہوتا تھا، جہاں وہ ڈپٹی کمانڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

  • کراچی  ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات،سحر کامران قومی اسمبلی میں پھٹ پڑیں

    کراچی ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات،سحر کامران قومی اسمبلی میں پھٹ پڑیں

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران سمیت دیگر ارکان نے کراچی جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ناقص انتظامات اور بدانتظامی پر شدید احتجاج کیاہے

    پیپلز پارٹی کی رہنما رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا تھا کہ کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت لوگوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، طویل اور لمبی قطاریں لوگوں کے وقت کے ضیاع اور مشکلات کی وجہ بن رہی ہیں، ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ خستہ حالی کا شکار ہو رہا ہے، امیگریشن سسٹم کو اپ گریڈ کیا جانا چاہیے، ایئر پورٹ پر عوام ذلیل ہو رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے اجلاس میں کہا کہ کراچی ایئر پورٹ پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور امیگریشن کلیئرنس اور آمد کے عمل کے دوران مسائل آ رہے ہیں،انہوں نے سول ایوی ایشن کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے جناح ایئر پورٹ کے نظام کو درست کرنے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا،اختیار بیگ نے کہا کہ ایئر پورٹ پر دستاویزات رکھنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    ن لیگی رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ معیشت کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور ارکان کی تجاویز کو ایڈریس کیا جائے گا، ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کی ضرورت ہے، اسلام آباد ایئر پورٹ سے متعلق فیصلہ کیا جا رہا ہے، کل متعلقہ وفاقی وزیر اس مسئلے پر جواب دیں گے

  • گل پلازہ آتشزدگی کیس: جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم

    گل پلازہ آتشزدگی کیس: جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر گل پلازہ آتشزدگی کیس کیلئے ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں باضابطہ انکوائری کمیشن قائم کر دیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ کے مطابق انکوائری کمیشن گل پلازہ کی تعمیراتی منظوری، لیز کی قانونی حیثیت اور بلڈنگ پلان کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گا، جبکہ ایمرجنسی انخلا کے راستوں میں رکاوٹوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ آگ بجھانے کے انتظامات، فائر سیفٹی آڈٹ میں ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کیا جائے، جبکہ کمیشن آتشزدگی کی وجوہات، پیش آنے والے حالات اور ریسکیو آپریشن کی رفتار کا بھی معائنہ کرے گا وزیر داخلہ سندھ نے غفلت کے مرتکب سرکاری افسران اور بلڈنگ مینجمنٹ کے خلاف ذمہ داری فکس کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    ان کے مطابق جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں انکوائری کمیشن 8 ہفتوں کے اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرے گا، جبکہ کمشنر کراچی کو کمیشن کے لیے مکمل سیکرٹریٹ سپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے،وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ حکومت سندھ متاثرین گل پلازہ کی داد رسی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرے گی اور سخت اقدامات و مؤثر تحقیقات کے ذریعے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا۔

  • غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، کروڑوں کی کرنسی برآمد

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، کروڑوں کی کرنسی برآمد

    کراچی میں ایف آئی اے نے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر کے کروڑوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارروائیاں ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اور کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے مشترکہ طور پر کیں،گرفتار ملزمان میں سہیل اور سہروش شامل ہیں، جنہیں ناظم آباد اور گارڈن ایسٹ کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا غیر قانونی کاروبار کر رہے تھے۔

    کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی، جس میں 20050 امریکی ڈالر، 2170 برطانوی پاؤنڈ، 1000 یورو، 8001 قطری ریال، 13600 چینی یوآن، 7800 سعودی ریال، 2000 ترک لیرا، 1300 یو اے ای درہم، 81 بحرینی دینار، 465 ملائیشین رنگٹ، 50 آسٹریلین ڈالر اور 59 لاکھ 33 ہزار سے زائد پاکستانی روپے شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج سے متعلق اہم شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔