Baaghi TV

Category: کراچی

  • انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے، ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

  • انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    منشیات کے الزام میں قید خاتون انمول عرف پنکی کے کیس کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیس سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈی آئی جیز اسد رضا، اظفر مہیسر، عامر فاروقی، شیراز نذیر اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے شرکت کی اجلاس میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کیس کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی اے اور اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے تاکہ تحقیقات میں تعاون حاصل کیا جا سکے،علاوہ ازیں انمول کے مبینہ منشیات نیٹ ورک سے وابستہ افراد اور استعمال کرنے والوں کو مقدمے میں گواہ بنایا جائے گا، جبکہ رضاکارانہ طور پر بیان دینے والے افراد کو بھی بطور گواہ شامل کیا جائے گا جبکہ مبینہ کارٹیل کے بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، رقوم کی منتقلی اور ڈیلرز نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے ٹیکنیکل وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

    ہفتے کے روز ملزمہ کی عدالت پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے بھی الزامات لگائے۔ جس پر تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

    گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں ملزمہ کے نیٹ ورک کا حصہ 9 بائیک رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

    پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج متعدد مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔

    تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً اس کے بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈر ز کا استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق تفتیشی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی تھی اور اس نے مبینہ طور پر منشیات کا اپنا الگ “برانڈ” متعارف کرا رکھا تھا۔

  • پاکستان کی فشریز نے  پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا سنگِ میل عبور کر لیا

    پاکستان کی فشریز نے پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا سنگِ میل عبور کر لیا

    پاکستان کی فشریز مصنوعات نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کی برآمدات کا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری کے مطابق اس تاریخی ہدف کو رواں مالی سال کے مقررہ وقت سے 46 دن قبل ہی حاصل کر لیا گیا، ڈاکٹر منصور وسان کی سربراہی میں میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی قابلِ تعریف رہی ہے، حال ہی میں پاکستان کی 16 کمپنیوں کو روس کو مچھلی برآمد کرنے کی باقاعدہ اجازت مل گئی ہے، جس سے ابتدائی طور پر 30 کروڑ ڈالر کی اضافی آمدن متوقع ہے، روسی مارکیٹ کے بعد پاکستانی سی فوڈ کی یوریشین مارکیٹس میں بھی رسائی بڑھائی جا رہی ہے۔

    جنید انوار چوہدری نے مزید بتایا کہ پاکستان کی مجموعی سی فوڈ برآمدات 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ چین بدستور پاکستان کی سب سے بڑی سی فوڈ مارکیٹ برقرار ہے،جولائی سے دسمبر کے دوران فشریز برآمدات میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے منجمد مچھلی ملک کی سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری کے طور پر سامنے آئی ہے تھائی لینڈ، جاپان اور یورپی یونین کو برآمدات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک میں پاکستانی سی فوڈ کی طلب میں نمایاں بہتری آئی ہے-

    حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی معاونت اور پالیسی فریم ورک کی بدولت سی فوڈ مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کی گئی ہے، جس سے زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

  • ملکہ کونین پنکی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    ملکہ کونین پنکی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    کراچی کی ملیر کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت نے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، جبکہ پولیس کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی گئی۔

    سچل تھانے میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران مجسٹریٹ نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ دوسری جانب منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمہ کے منشیات سپلائی کرنے کے طریقہ کار سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر پہلے سے منشیات رکھوائی جاتی تھی اور رقم وصول ہونے کے تقریباً 10 منٹ بعد خریدار کو لائیو لوکیشن اور منشیات کی تصاویر ارسال کی جاتی تھیں۔ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک مکمل کر لیا گیا ہے، جس سے 800 سے زائد نمبرز برآمد ہوئے ہیں، جبکہ ان میں 200 سے زائد افراد کا تعلق کراچی سے بتایا جا رہا ہے۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین اور کراچی میں موجود جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 500 سے زائد صفحات پر مشتمل بینک اسٹیٹمنٹ بھی تفتیشی ٹیم کے ریکارڈ میں شامل کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں درج 15 مختلف مقدمات میں بھی انمول عرف پنکی سے تفتیش جاری ہے، جبکہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔

  • وزیراعلیٰ سندھ  کے ہیلی کاپٹر کے لئے پائلٹس بھرتی،درخواستیں طلب

    وزیراعلیٰ سندھ کے ہیلی کاپٹر کے لئے پائلٹس بھرتی،درخواستیں طلب

    حکومتِ سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہیلی کاپٹر کے لیے اسپیشل گریڈ میں تین افسران کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں دو پائلٹس اور ایک اسسٹنٹ ڈپٹی چیف انجینئر کی تقرری کے لیے تجربہ کار امیدواروں سے 15 روز کے اندر درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔

    حکام کے مطابق امیدواروں کے لیے پی سی سی اے لائسنس ہولڈر اور متعلقہ امتحان پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار کی زیادہ سے زیادہ عمر 57 سال مقرر کی گئی ہے جبکہ اسسٹنٹ ڈپٹی چیف انجینئر کے لیے بیچلر آف انجینئرنگ کی ڈگری لازمی ہوگی۔بھرتی کے معیار کے مطابق پائلٹس کے لیے کم از کم 4500 گھنٹے فلائنگ کا تجربہ ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ اسسٹنٹ ڈپٹی چیف انجینئر کے لیے 3500 گھنٹے کا تجربہ لازمی ہوگا۔حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے امیدوار نااہل تصور کیے جائیں گے جو ذاتی خامیوں کی بنیاد پر قبل از وقت ریٹائرڈ یا ملازمت سے برطرف کیے گئے ہوں۔ اسی طرح اگر کسی امیدوار کے خلاف پائلٹ کی غلطی یا فلائٹ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کے باعث حادثے کا ریکارڈ موجود ہوا تو اسے بھی بھرتی کے عمل سے خارج کر دیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق خواہشمند امیدواروں کو اپنی سی وی، تجرباتی سرٹیفکیٹس اور شناختی کارڈ کی نقول ڈائریکٹر چیف منسٹر ہیلی کاپٹر فلائٹ، حکومت سندھ کے دفتر میں جمع کرانا ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا۔

  • ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے،ملکہ کونین پنکی

    ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے،ملکہ کونین پنکی

    کراچی میں عدالت سے پیشی کے بعد باہر آتے ہی ملزمہ انمول عرف پنکی نے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئےدھماکا خیز بیان دے دیا۔

    عدالت سے روانگی کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ وہ میڈیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں، جس پر انمول پنکی نے کہا، “ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔”اس سے قبل عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ نے شور شرابا کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انمول پنکی کو چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم وہ بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بات کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔

    عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزمہ نے کہا کہ انہیں 22 روز قبل لاہور سے گرفتار کیا گیا، جہاں 6 پولیس اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 15 دن تک انہیں نامعلوم مقام پر رکھا گیا اور بعد ازاں کراچی منتقل کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ انہوں نے پہلے شور شرابا کیوں نہیں کیا، جس پر انمول پنکی نے جواب دیا کہ انہیں مسلسل تشدد کا سامنا تھا۔ ملزمہ نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا سابق شوہر ان کے خلاف کارروائیاں کرا رہا ہے۔

    جج نے سوال کیا کہ سابق شوہر ایسا کیوں کر رہا ہے، تو ملزمہ نے جواب دیا کہ “کیونکہ میں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ تین ماہ قبل علیحدگی ہوئی تھی اور نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔عدالت سے واپسی کے دوران لیڈی پولیس اہلکار مسلسل ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں جبکہ کسٹڈی میں لے جاتے وقت انمول پنکی پولیس اہلکاروں پر چیختی بھی رہیں۔

  • کاروباری مراکز اب معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے،شرجیل میمن

    کاروباری مراکز اب معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے،شرجیل میمن

    حکومتِ سندھ کا کاروباری برادری اور عوام کو بڑا ریلیف ، تمام دکانوں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس کو مقرر کردہ بندش کے اوقات سے استثنیٰ دے دیا گیا،

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ فوڈ آؤٹ لیٹس، شادی ہالز اور مارکیز کو بھی مقررہ بندش کے اوقات سے مستثنیٰ کیا گیا ہے،کاروباری مراکز اب سابقہ پابندیوں کے بغیر معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے، مارکیٹس، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کے لیے مخصوص اوقات توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت مقرر کیے گئے تھے، سندھ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، شہری سہولت اور معیشت کے استحکام پر یقین رکھتی ہے، تاجروں و صنعتکاروں کی تجاویز اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، سندھ حکومت ہمیشہ مشاورت، عوامی مفاد اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہے، تاجر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، حکومت سندھ نے مشکل معاشی حالات میں بھی عوام اور کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا ہے،آئندہ بھی ایسے فیصلے کیے جائیں گے جو معیشت، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوں،

  • پنکی کی عدالت پیشی،چہرے پر کپڑا ڈال دیا گیا،مجھے پھنسایا جا رہا،پنکی کا واویلا

    پنکی کی عدالت پیشی،چہرے پر کپڑا ڈال دیا گیا،مجھے پھنسایا جا رہا،پنکی کا واویلا

    بین الصوبائی منشیات فروش کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں ملزمہ نے پولیس پر تشدد کے الزامات عائد کیے،آج ملزمہ کا چہرہ ڈھانپ کر عدالت پیش کیا گیا،

    ملزمہ کو سخت سیکیورٹی میں کمرہ عدالت پہنچایا گیا، جہاں سماعت کے دوران اچانک صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ ملزمہ نے چیخ و پکار شروع کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور خود کو بے گناہ قرار دیا،عدالت اور میڈیا کے سامنے روتے ہوئے ملزمہ کا کہنا تھا کہ “میرا کوئی قصور نہیں، مجھے بے گناہ پھنسایا گیا ہے، پولیس مجھے مارتی ہے اور مجھ پر تشدد کرتی ہے۔ میرے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جا رہی ہے اور پورے خاندان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ملزمہ کے وکیل میر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ بھی عالت میں موجود ہیں۔ دوسری جانب انمول عرف پنکی کے ریمانڈ کے حصول کے لیے مختلف تھانوں کی تفتیشی پولیس متحرک ہوگئی ہے۔ تھانہ گزری اور تھانہ درخشاں کے تفتیشی افسران ریمانڈ حاصل کرنے عدالت پہنچ گئے۔ملزمہ کیخلاف مزید 11 مقدمات میں ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    ملزمہ انمول عرف پنکی کو 3 روز کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت لایا گیا، ملزمہ کو چہرہ ڈھانپ کر عدالت لایا گیا، ملزمہ انمول عرف پنکی کا سٹی کورٹ میں شورشرابا، ملزمہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹادیا۔پولیس نے صحافیوں کو کورٹ روم سے باہر نکال دیا، خاتون اہلکار ملزمہ کو باربار چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی۔ملزمہ کا کہنا ہے کہ پولیس زبردستی مجھ سے بیان لینا چاہتی ہے۔ ملزمہ کی پہلی پیشی پر پولیس اہلکاروں نے پروٹوکول دیا تھا، ملزمہ کو پہلی پیشی پر پروٹوکول دینے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب پولیس کے مطابق منشیات فروشی کے کیس میں ملزمہ کی نشاندہی پر ابوالحسن اصفہانی روڈ کے اے ون کمپلیکس میں واقع ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے بھاری مقدار میں کوکین برآمد کی گئی۔ برآمد شدہ منشیات کی مالیت 45 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے،ملزمہ کے خلاف سچل تھانے میں بھی ایک اور مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل بھی کراچی میں گارڈن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا، جہاں سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد ہوئی تھیں،

  • انمول عرف پنکی کے منشیات نیٹ ورک کا مکمل ڈیٹا تیار

    انمول عرف پنکی کے منشیات نیٹ ورک کا مکمل ڈیٹا تیار

    ‎کراچی میں مبینہ طور پر منشیات فروشی کا بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے ہینڈلرز، کیریئرز اور رائیڈرز کا مکمل ڈیٹا مرتب کر لیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق تیار کی گئی خصوصی ڈیٹا رپورٹ میں ملزمان کی تصاویر، کردار اور نیٹ ورک کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں منشیات کی سپلائی کے لیے 3 مرکزی ہینڈلرز اور 22 کیریئرز سرگرم تھے۔
    ‎تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ہینڈلرز سے منشیات کیریئرز تک پہنچتی تھیں اور پھر رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں موجود صارفین تک سپلائی کی جاتی تھی۔
    ‎ذرائع کے مطابق حمزہ، عباس اور عاقب کراچی میں پنکی کے مرکزی ہینڈلرز تھے، جبکہ ان افراد سے رابطہ پنکی کے بھائی شوکت کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پنکی کے ڈرگ کارٹیل میں 3 خواتین بھی شامل تھیں، جنہیں مبینہ طور پر 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔
    ‎تحقیقات کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی منشیات میں مختلف کیمیکلز ملا کر انہیں مزید تیار کیا جاتا تھا، اور یہ کام پنکی کا بھائی ناصر انجام دیتا تھا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے 8 رائیڈرز لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے کراچی آ کر منشیات کی ڈیلیوری کرتے تھے۔
    ‎حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی جڑیں صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ دیگر شہروں اور بیرون ملک روابط کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنکی کے نیٹ ورک میں افریقی باشندوں کے رابطوں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
    ‎تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ منشیات سپلائی کے اس منظم نیٹ ورک کے مالی معاملات، سہولت کاروں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

  • ‎سندھ میں عیدالاضحیٰ پر بغیر اجازت کھالیں جمع کرنے پر پابندی

    ‎سندھ میں عیدالاضحیٰ پر بغیر اجازت کھالیں جمع کرنے پر پابندی

    ‎حکومتِ سندھ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے حوالے سے سخت ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے بغیر کھالیں جمع کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق صرف رجسٹرڈ فلاحی ادارے، مدارس اور منظور شدہ تنظیمیں ہی قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی مجاز ہوں گی، جبکہ کسی بھی کالعدم تنظیم یا جعلی نام استعمال کرنے والے گروپ کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎حکومت سندھ نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ نیکٹا کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور عید کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھیں۔
    ‎اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کھالیں جمع کرنے کے لیے عوامی مقامات پر کیمپ لگانے، بینرز آویزاں کرنے، گاڑیوں یا عمارتوں پر جھنڈے لگانے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
    ‎حکومت نے اجتماعی قربانی کے لیے بھی باقاعدہ اجازت نامہ لازمی قرار دیا ہے۔ انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ قربانی کے منتظمین اجازت نامہ اپنے پاس رکھیں تاکہ کسی بھی وقت چیکنگ کی جا سکے۔
    ‎محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوران سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے 10 سے 12 ذوالحج تک تمام اسلحہ لائسنس بھی معطل رہیں گے۔
    ‎اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ زبردستی، دباؤ یا بھتہ خوری کے ذریعے کھالیں جمع کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر دفعہ 188 پی پی سی کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔
    ‎حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی یا خلافِ ضابطہ جمع کی گئی کھالیں فوری ضبط کر کے رجسٹرڈ فلاحی اداروں کے حوالے کر دی جائیں گی۔
    ‎ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھالیں جمع کرنے کے تمام مقامات کی مسلسل نگرانی اور انسپکشن کے اختیارات دے دیے گئے ہیں تاکہ عید کے تینوں دن مکمل نظم و ضبط اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔