جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی، جیل کمپلیکس میں انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کردی۔
تفتیشی افسر نے مدعی مقدمہ کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست عدالت میں دائر کی، عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 21 مئی کو مدعی مقدمہ کا 164 کا بیان ریکارڈ کروایا جائے۔عدالت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیشی سے استثنیٰ دے دیا، عدالت کے مطابق مدعی کا 164 کا بیان ملزمہ کے وکلاء کی موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے گا۔سیشن جج ساؤتھ نے قرار دیا کہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے، اگر مزید تفتیش درکار ہے تو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کیا جائے۔
دوسری جانب سول سوسائٹی پاکستان کے صدر عبداللہ ملک نے انمول عرف پنکی کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے حوالے سے 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا، جو ابھی تک زیر سماعت ہے، انمول پنکی کے کیس میں اس حوالے سے اہم شواہد مل سکتے ہیں۔ خط میں استدعا کی ہے کہ انمول عرف پنکی کو با اثر مافیا راستے سے ہٹا سکتے ہیں اس لیے اسے فول پروف سیکیورٹی دی جائے اور تمام آئی جیز سے منشیات کے حوالے سے رپورٹس مانگی طلب کی جائیں۔
