Baaghi TV

Category: کراچی

  • پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ہوگی نہ بجٹ منظور ہوگا، بلاول بھٹو

    ‎چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ممکن ہے اور نہ ہی بجٹ کی منظوری دی جا سکتی ہے۔
    ‎پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک اس وقت شدید مالی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو عوام کی مشکلات اور تکالیف کا احساس ہے اور سب کو مل کر ریلیف فراہم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں وزیراعظم کی جانب سے عوامی ریلیف کے اقدامات کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے صوبوں سے بھی مہنگائی کم کرنے کے لیے وفاق کے ساتھ تعاون کی درخواست کی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے موٹرسائیکل سواروں کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق اور صوبے مل کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ طبقے کو کچھ سہارا مل سکے۔
    ‎قومی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکا ایران کشیدگی جیسے معاملات قومی اہمیت رکھتے ہیں، اور ایسے مواقع پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حب الوطنی کے جذبے کے تحت ہمیشہ یکجہتی کا پیغام دیا گیا۔
    ‎بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا پر بھارت کے بیانیے کو شکست دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاک بھارت جنگ کے بعد وزیراعظم نے انہیں امن کمیٹی کی سربراہی سونپی تھی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق انہیں کوئی باضابطہ پیش کش نہیں کی گئی، تاہم ان کا ماننا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ سفارتی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
    ‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی معاملات میں تمام سیاسی قوتیں پاکستان کے مفاد میں ایک ہوجاتی ہیں۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ دفاعی معاہدوں سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے بعد سب سے زیادہ میزائل متحدہ عرب امارات پر گرے۔

  • شاہراہ بھٹو کو رواں ماہ مکمل طورپرکھولنے جارہے ہیں،شرجیل میمن

    شاہراہ بھٹو کو رواں ماہ مکمل طورپرکھولنے جارہے ہیں،شرجیل میمن

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت رواں ماہ ہی شاہراہ بھٹو کو مکمل طور پر کھولنے جارہی ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتےہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کے لیے شاہراہِ بھٹو اور ڈی سیلینیشن پلانٹ جیسے منصوبے شہری سہولیات میں انقلاب برپا کریں گے انہوں نے دورۂ چین اور کراچی میں ڈی سیلینیشن پلانٹ کے منصوبے کو شہر کے لیے بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات کراچی کے دیرینہ مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    شرجیل میمن نے کہاکہ شاہراہ بھٹو موٹر وے ایم نائن کو ڈائریکٹ کنکٹ کرےگی، شاہراہ بھٹو کو رواں ماہ مکمل طورپرکھولنے جارہے ہیں جس کے بعد ٹر یفک مسائل حل ہوں گے، عوام کو سہولت ہوگی کراچی پورٹ سے ایک روڈ بنایا جارہا ہے جو قیوم آباد تک آئے گا، کراچی میں اس وقت برجز، انڈر پاسز اور روڈ انفراسٹرکچر پر بھی کام جاری ہےجبکہ کے ایم سی اور دیگر ادارےبھی اس عمل میں شریک ہیں حکومت کی اولین ترجیح شہری سہولتوں کی فراہمی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں مختلف تکنیکی اور انتظامی چیلنجز درپیش رہے، جن میں یوٹیلٹی ٹرانسفر اور دیگر مسائل شامل ہیں حکومت نے کوشش کی کہ عوامی پیسے کو بچاتے ہوئے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے، تاہم بعض مشکلات کے باعث معاہدہ ختم کرنا پڑا اور اب اس پر دوبارہ کام جاری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کی وجہ سے ہمیں بد نامی سہنا پڑی ہے، کنٹریکٹر کام مکمل نہیں کر پارہے تھے اس لیے ریڈ لائِن منصوبہ کسی اور کو دیا، اس منصوبے کی تاخیر پر عوام کو زحمت ہوئی اس کے لیے معذرت خواہ ہیں چینی کمپنیاں کراچی میں ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے جارہی ہیں، ڈی سیلینیشن پلا نٹ سے کراچی میں پانی کی کمی کا مسئلہ حل ہوجائے گا، ڈی سیلینیشن پلانٹ مہنگا ہوگا مگر اسے لارہے ہیں۔

    وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ایک منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے، اس پر اداروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، ہم نے بھی اس خاتون کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر ہمیں کامیابی نہ مل سکی سندھ کی تمام سڑکیں اور ہائی ویز اس وقت محفوظ ہیں، ہمیں پولیس کی حوصلہ افزائَی کرنی چاہئے۔

    انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کے دورہ چین میں پینے کے صاف پانی، زراعت اور لائیو اسٹاک سے متعلق منصوبوں پر ایم او یو سائن کیے، سی پیک کے بانی کوئی اور نہیں بلکہ آصف زرداری ہیں، میرے علم میں آج تک 28 ویں ترمیم کی کوئی بات نہیں، میری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کی جا نب سے کسی ترمیم کی بات نہیں کی گئی۔

  • متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی،منشیات فروش پنکی کا انکشاف

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہےتفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں، متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حرا ست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔

    ملزمہ انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار نے اتنا تنگ کیا کہ اسے قتل کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی، پولیس اہلکار کے قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے کا بھی سوچا لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے بتایا کہ منشیات کی رقم موبائل ایپ سے بھیجی اور وصول کی جاتی ہے، رقم کی منتقلی کے لیے بینک اکاؤنٹ ذیشان کے نام سے بھی کھلوایا گیا، سابق شوہر کے 2 بھائی بطور ایڈووکیٹ کام کرتے ہیں، پولیس سے بچنے کے لیے سابق شوہر منشیات وکلا بھائیوں کے چیمبرز میں رکھتا ہے۔

  • انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔

    ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔

    لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،100 انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،100 انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری دیکھی گئی، جہاں انڈیکس میں ابتدائی لمحات کے دوران تقریباً 1000 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی لوٹ آئی جس کے نتیجے میں جمعرات کو کاروبار کے ابتدائی سیشبن کے دوران ہی 100 انڈیکس میں تقریباً 1,000 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا صبح بینچ مارک انڈیکس 998.01 پوائنٹس یا 0.60 فیصد اضافے سے 168,449.14 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

    مارکیٹ کے اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ ، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیا ں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری شامل ہیں، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حب پاور کمپنی، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک،مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونیوالے بڑی کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج مندی کی زد میں رہی کیونکہ جاری سفارتی مذاکرات میں کسی ٹھوس پیش رفت کی عدم موجودگی اور امریکہ و ایران کے درمیان بدلتی صورتحال پر برقرار غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا گزشتہ روز100 انڈیکس 1,465.09 پوائنٹس یا 0.87 فیصد کی کمی سے 167,451.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی جمعرات کو مثبت رجحان دیکھا گیا۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث جنوبی کوریا کی کمپنی ایس کے ہائینکس کے شیئرز میں نمایاں اضافہ ہوا،عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات پر مرکوز رہی،عالمی سطح پر جاپان کے نکی انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح حاصل کی، جبکہ ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس بھی ریکارڈ سطح کے قریب رہا۔

    تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتیں مستقبل میں دوبارہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا سکتی ہیں۔

  • سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کی کمی سے 4ہزار 690ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 100روپے کی کمی سے 4لاکھ 91ہزار 362روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 943روپے کم ہو کر 4لاکھ 21ہزار 263روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 231 روپے کے اضافے سے 9ہزار 139 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 198روپے کے اضافے سے 7ہزار 835روپے کی سطح پر آگئی۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی ایک اور آڈیو وائرل

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی ایک اور آڈیو وائرل

    کراچی:منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی ایک اور آڈیو منظر عام پر آ گئی-

    منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گرفتاری کا خدشہ پہلے سے تھا، ایک اور آڈیو سامنے آگئی ہے آڈیو میں مبینہ طور پر انمول عرف پنکی اپنے کلائنٹس کو آگاہ کر رہی ہے کہ اگر وہ یہ پیغام سن رہے ہیں تو یا اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے یا وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔

    آڈیو کے مطابق وہ کہتی ہے کہ اگر اسے کچھ ہوتا ہے تو اسی نمبر سے کوئی رابطے میں آئے گا، اور رابطہ کرنے والا اس کا ایک مرد دوست ہوگا جو اس کام کو ہینڈل کرے گا، آڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو ہر کسی سے ایک نئے نمبر کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ پر بغدادی گارڈن اور درخشاں تھانے کی حدود میں مقدمات ہیں،کراچی پولیس میں معاملے کی تحقیقات سے متعلق بھی تبدیلی کی گئی ہے ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    ایڈیشنل آئی جی کے مطابق عرفان بلوچ عدالت میں پیشی کے دوران سامنے آنے والے معاملات کی تحقیقات کریں گے، جبکہ پروٹوکول پر عمل نہ کرنے کے معاملے کی بھی انکوائری کی جائے گی ،ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو 3 دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، اور غفلت و لاپروائی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی،انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدما ت کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

    جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔