کراچی کی ملیر کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت نے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، جبکہ پولیس کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی گئی۔
سچل تھانے میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران مجسٹریٹ نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ دوسری جانب منشیات فروش انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمہ کے منشیات سپلائی کرنے کے طریقہ کار سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر پہلے سے منشیات رکھوائی جاتی تھی اور رقم وصول ہونے کے تقریباً 10 منٹ بعد خریدار کو لائیو لوکیشن اور منشیات کی تصاویر ارسال کی جاتی تھیں۔ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون کا فرانزک مکمل کر لیا گیا ہے، جس سے 800 سے زائد نمبرز برآمد ہوئے ہیں، جبکہ ان میں 200 سے زائد افراد کا تعلق کراچی سے بتایا جا رہا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس، مالی لین دین اور کراچی میں موجود جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 500 سے زائد صفحات پر مشتمل بینک اسٹیٹمنٹ بھی تفتیشی ٹیم کے ریکارڈ میں شامل کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں درج 15 مختلف مقدمات میں بھی انمول عرف پنکی سے تفتیش جاری ہے، جبکہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔
