Baaghi TV

Category: قصور

  • شدید فائرنگ کرکے خوجہ سراء تلسی کو اغواء کر لیا گیا

    شدید فائرنگ کرکے خوجہ سراء تلسی کو اغواء کر لیا گیا

    قصور
    میلے میں فائرنگ، خواجہ سرا تلسی کو اسلحہ کے زور پر اغوا کر لیا گیا

    قصور کے تھانہ کھڈیاں خاص کی حدود میں واقع نواحی گاؤں نول میں سالانہ میلے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ اور ایک خواجہ سرا کے اغوا کے واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا

    ذرائع کے مطابق میلے کی تقریبات جاری تھیں کہ اچانک مسلح افراد موقع پر پہنچے اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی، جس سے میلے میں بھگدڑ مچ گئی اور شہری جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے

    عینی شاہدین کے مطابق ملزمان نے فائرنگ کے دوران تلسی نامی خواجہ سرا کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنایا، زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور نامعلوم سمت فرار ہو گئے

    واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ کھڈیاں خاص پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور مغوی کی بازیابی کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں

    دوسری جانب خواجہ سرا برادری نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے تلسی کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے

  • نئے منصوبوں پر کام جاری تاہم جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر،نوٹس کی اپیل

    نئے منصوبوں پر کام جاری تاہم جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر،نوٹس کی اپیل

    قصور

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت ضلع قصور میں بیوٹیفکیشن، "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق سرکاری دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ شہر کے مختلف علاقوں، بازاروں اور گلی محلوں میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ صفائی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شہر کی خوبصورتی کے لئے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، لیکن صفائی کے ناقص انتظامات نے ان اقدامات کی افادیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق بیشتر علاقوں میں گندگی کے ڈھیر معمول بن چکے ہیں، جس سے نہ صرف شہری اذیت کا شکار ہیں بلکہ صحت عامہ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں

    انہوں نے واسا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حالیہ پندرہ منٹ کی بارش نے نکاسی آب کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ متعدد بازاروں اور رہائشی علاقوں میں بارش کا پانی دکانوں اور گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے تاجروں اور شہریوں کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ شہریوں کے مطابق محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر خدشہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

    شہریوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بیوٹیفکیشن کے دعوؤں کے باوجود شہر کی اہم شاہراہوں، بازاروں اور سڑکوں پر کھلے عام بھینسوں اور دیگر مویشیوں کی موجودگی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کی وجہ سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹریفک کی روانی، صفائی اور شہری ماحول بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً تیس برس سے ہر بارش کے دوران بازاروں میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، بلکہ موجودہ حالات پہلے سے زیادہ تشویشناک دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام، بیوٹیفکیشن منصوبے اور شہر سے مویشیوں کی منتقلی جیسے اقدامات تاحال عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر قصور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی، نکاسی آب اور شہر میں کھلے عام گھومنے والے مویشیوں کے مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قصور کو واقعی ایک صاف، خوبصورت اور شہریوں کے لیے محفوظ شہر بنایا جا سکے

  • قصور: کیسر گڑھ میں واپڈا کے دو ملازمین ہی مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث نکلے

    قصور: کیسر گڑھ میں واپڈا کے دو ملازمین ہی مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث نکلے

    رپورٹ، سردار مظہر فاروق
    قصور کے نواحی گاؤں کیسر گڑھ میں لیسکو (واپڈا) کی جانب سے بجلی چوری کے خلاف گزشتہ روز کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران حیران کن انکشاف سامنے آیا، جہاں محکمہ کے اپنے ہی دو ملازمین مبینہ طور پر بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔

    ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف کنکشنز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں دو ملازمین کے خلاف بھی بجلی چوری کے شواہد سامنے آئے۔ واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عام صارفین کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں تو محکمہ کے اپنے ملازمین کو بھی قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز احتساب ضروری ہے اور کسی بھی سرکاری ملازم کو رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو متعلقہ ملازمین کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔عوامی حلقوں نے چیف لیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ کیسر گڑھ کے اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور واضح کیا جائے کہ بجلی چوری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن صرف عام صارفین تک محدود ہے یا محکمہ کے اپنے ملازمین پر بھی یکساں طور پر قانون کا اطلاق ہوگا۔

  • قصور میں مبینہ غیر قانونی باڈی میکنگ ورکشاپوں کی بھرمار

    قصور میں مبینہ غیر قانونی باڈی میکنگ ورکشاپوں کی بھرمار

    قصور (طارق نوید سندھو سے ) شہر میں مبینہ طور پر غیر قانونی اور غیر معیاری رکشہ ، منی رکشہ، ٹریکٹر، بس اور دیگر گاڑیوں کی باڈیاں تیار کرنے والی متعدد پرائیویٹ ورکشاپیں سرعام چلائی جا رہی ہیں،

    تفصیلات کے مطابق ان غیرقانونی ورکشاپس کے متعلق پنجاب گورنمنٹ کے سخت احکامات کے باوجود سیکرٹری آر ٹی اے کی غفلت و ملکی بھگت سے قصور نیوبس ٹرمینل، دیپالپور روڈ،نزد بیاس کالج،کمال چشتی چوک،گنڈا سنگھ روڈ،پیرووالا روڈ پر غیرقانونی ورکشاپس قائم ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر غیرقانونی و غیر معیاری رکشہ ،بسیں اور دیگر گاڑیوں کی باڈیاں بنا کر فروخت کر رہے ہیں،شہریوں نے قصور سیکرٹری آر ٹی اے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوۓ وزیر اعلیٰ پنجاب سے سیکرٹری آر ٹی اے عثمان کے ٹرانسفر و ان کی غفلت و ملی بھگت کرنے پر انکوائری کا مطالبہ کیا ایک ذرائع کے مطابق ان ورکشاپوں میں گاڑیوں کی باڈیاں مقررہ حفاظتی اور تکنیکی معیار کے بغیر تیار کی جا رہی ہیں اور ناقص میٹیریل کا استعمال بھی کیا جارہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ہیں تو ایسی گاڑیاں سڑکوں پر چلنے والے افراد کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں اور کسی بھی وقت بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔

    اس معاملے پر آر ٹی اے سیکرٹری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مختلف اوقات میں متعدد ورکشاپوں کو سیل کیا گیا اور جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق یہ ورکشاپس چند روز تک سیل کر دیجاتی ہیں جبکہ ساتھ معمولی نوعیت کے جرمانے کر کے سیکرٹری آر ٹی اے بری ذمہ ہو جات ہے جبکہ ان غیر قانونی ورکشاپس کے مالکان کو دوبارہ غیر قانونی دہندہ کرنے کے لیے شیلٹر دے دیا جاتا ہے ،ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ سے بھی اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی،شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں باڈی میکنگ ورکشاپوں کا جامع سروے کرایا جائے، قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والی ورکشاپوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، سیکرٹری آر ٹی اے مبینہ غفلت و ملی بھگت پر انکوائری کی جانی چاہے

  • قصور واسا کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت، 15 منٹ کی بارش نے حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیا

    قصور واسا کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت، 15 منٹ کی بارش نے حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیا

    قصور ( طارق نوید سندھو سے ) صرف 15 منٹ کی بارش نے واسا کی کارکردگی اور حکومتی دعوؤں کی حقیقت بے نقاب کر دی۔ شہر کے متعدد علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، جبکہ شہریوں کو شدید مشکلات اور آمدورفت میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں اور نکاسیٔ آب کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود معمولی بارش نے متعلقہ اداروں کی ناقص منصوبہ بندی اور غفلت کو آشکار کر دیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صرف چند منٹ کی بارش سے یہ صورتحال پیدا ہو سکتی ہے تو شدید مون سون کے دوران حالات کس قدر سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نمائشی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور نکاسیٔ آب کے نظام کو فوری طور پر مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کو ہر بارش کے بعد اذیت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • قصور کے مختلف پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت،شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا

    قصور کے مختلف پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت،شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا

    قصور
    مختلف پیٹرول پمپوں پر شہریوں کو پیٹرول دیے بغیر واپس بھیجنے کا انکشاف، عوام میں تشویش
    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور اور گرد و نواح کے مختلف پیٹرول پمپوں پر شہریوں کو پیٹرول فراہم کیے بغیر واپس بھیجے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف پمپوں پر جاتے ہیں، تاہم انہیں پیٹرول کی فراہمی سے انکار کرتے ہوئے واپس بھیج دیا جاتا ہے، جس سے روزمرہ کے معمولات اور سفری امور شدید متاثر ہو رہے ہیں

    متاثرہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، پیٹرول کی عدم فراہمی کی وجوہات معلوم کی جائیں اور عوام کو بلا تعطل پیٹرول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو انہیں مذید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

  • 21 سالہ لڑکی کے اغواء کا مقدمہ درج کروانے کیلئے درخواست

    21 سالہ لڑکی کے اغواء کا مقدمہ درج کروانے کیلئے درخواست

    قصور
    21 سالہ لڑکی کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    تفصیلات کے مطابق تھانہ بی ڈویژن کے علاقے میں ایک شہری نے اپنی 21 سالہ بیٹی کے مبینہ اغوا پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور بیٹی کی بازیابی کے لئے پولیس کو درخواست دے دی ہے

    درخواست گزار طارق محمود ولد رحمت علی، سکنہ بستی برات شاہ، قصور کے مطابق وہ گھر سے باہر تھے جبکہ ان کی ضعیف العمر اہلیہ اور 21 سالہ بیٹی شیریں مہک گھر میں موجود تھیں کہ شام تقریباً 5 سے 6 بجے کے درمیان مبینہ طور پر شان ولد محمد رمضان اپنے ساتھیوں بلال، دو نامعلوم افراد کے ہمراہ اسلحہ کے زور پر ان کی بیٹی کو اغوا کرکے لے گیا

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اہل خانہ فوری طور پر مبینہ ملزم شان کے گھر گئے جہاں اس کی والدہ نے فون پر رابطہ کروایا اور بتایا کہ شان شیریں مہک کے ساتھ گھر آ رہا ہے اور لڑکی کو واپس کر دیا جائے گا
    تاہم کچھ دیر بعد فون بند ہو گیا
    بعد ازاں مقامی افراد اور پنچایت کی موجودگی میں بھی مبینہ ملزمان نے پہلے یقین دہانی کرائی لیکن بعد میں انکار کر دیا

    درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ ملزمان کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرکے ان کی بیٹی کو فوری بازیاب کرایا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے

  • مولانا فضل الرحمن پر قصور میں مقدمہ،ایس ایس ایچ او کی وضاحت جاری

    مولانا فضل الرحمن پر قصور میں مقدمہ،ایس ایس ایچ او کی وضاحت جاری

    قصور
    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایف آئی آر کو پولیس نے جعلی قرار دے دیا

    ایس ایچ او تھانہ صدر قصور ذوالفقار بھٹی کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ ایف آئی آر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
    انہوں نے بتایا کہ وائرل ایف آئی آر میں درج نمبر 1807 تھانے کے ریکارڈ کے مطابق درست سیریل نمبر نہیں ہے

    ذوالفقار بھٹی نے مذید کہا کہ وائرل ایف آئی آر میں جس تفتیشی افسر اے ایس آئی قمر کا نام درج کیا گیا ہے، اس نام کا کوئی اہلکار تھانہ صدر قصور میں تعینات ہی نہیں ہے

    ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ ایف آئی آر مکمل طور پر جعلی اور گمراہ کن ہے شہری غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی خبر کی تصدیق متعلقہ حکام سے ضرور کریں

  • محکمہ اوقاف میں کروڑوں روپیہ کی مالی بے ضابطگیوں پر ریکوری آرڈر جاری

    محکمہ اوقاف میں کروڑوں روپیہ کی مالی بے ضابطگیوں پر ریکوری آرڈر جاری

    قصور
    محکمہ اوقاف میں مالی بے ضابطگیوں پر شکنجہ مذید سخت، متعدد سابق افسران کو کروڑوں روپیہ کے ریکوری نوٹس جاری

    تفصیلات کے مطابق محکمہ اوقاف پنجاب میں مبینہ کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور مزارات کے نذرانوں میں خرد برد کے معاملات پر کارروائیاں مذید تیز کر دی گئی ہیں
    وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے، جس کے تحت متعدد سابق افسران کو لاکھوں اور کروڑوں روپیہ کی ریکوری کے حتمی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں

    ذرائع کے مطابق داتا دربار کے سابق منیجر طاہر مقصود کو مختلف مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 31 لاکھ 96 ہزار روپیہ سے زائد کی ریکوری کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں
    جبکہ سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو بھی ایک کروڑ 20 لاکھ روپیہ سے زائد کی ریکوری کے احکامات بھجوا دیے گئے ہیں

    اسی طرح سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر حافظ جاوید شوکت کو مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں 64 لاکھ روپیہ سے زائد کی ادائیگی کرنے کا حکم دیا گیا ہے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اوکاڑہ کرپشن کیس میں سابق منیجر شفقت عباس، زوار حسین اور عامر ستار کو بھی ریکوری نوٹسز جاری کیے گئے ہیں
    جبکہ دربار بابا بلھے شاہؒ قصور اور بی بی پاک دامنؒ سے متعلق مقدمات میں بھی لاکھوں روپیہ کی ریکوری کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں

    محکمہ اوقاف کے ذرائع کے مطابق مذکورہ تمام افسران نے ریکوری احکامات کے خلاف چیف سیکرٹری پنجاب کے روبرو اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جن پر فیصلہ آنا باقی ہے

  • سڑک پر گندگی کے ڈھیر کے پہاڑ لگ گئے،سخت پریشانی

    سڑک پر گندگی کے ڈھیر کے پہاڑ لگ گئے،سخت پریشانی

    قصور
    اٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے ملحقہ سڑک پر گندگی کے ڈھیر، شہری اذیت میں مبتلا

    قصور شہر سے ملحقہ بنگلہ کمبواں سے مانانوالہ جانے والی سڑک، جو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قریب واقع ہے، گندگی کے ڈھیروں کا منظر پیش کرنے لگی
    سڑک کے کنارے جگہ جگہ جمع کچرے نے پہاڑوں کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے باعث علاقے میں شدید تعفن اور بدبو پھیل رہی ہے

    مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گندگی کے باعث بنگلہ کمبواں اور گردونواح کے مکینوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ بدبو اور آلودگی سے نہ صرف روزمرہ آمدورفت متاثر ہو رہی ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خدشہ بڑھ گیا ہے

    شہریوں نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گندگی کے ڈھیروں کو اٹھایا جائے، صفائی کا مستقل نظام بنایا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے