قصور
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت ضلع قصور میں بیوٹیفکیشن، "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق سرکاری دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ شہر کے مختلف علاقوں، بازاروں اور گلی محلوں میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ صفائی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شہر کی خوبصورتی کے لئے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، لیکن صفائی کے ناقص انتظامات نے ان اقدامات کی افادیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق بیشتر علاقوں میں گندگی کے ڈھیر معمول بن چکے ہیں، جس سے نہ صرف شہری اذیت کا شکار ہیں بلکہ صحت عامہ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں
انہوں نے واسا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حالیہ پندرہ منٹ کی بارش نے نکاسی آب کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ متعدد بازاروں اور رہائشی علاقوں میں بارش کا پانی دکانوں اور گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے تاجروں اور شہریوں کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ شہریوں کے مطابق محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر خدشہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
شہریوں نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بیوٹیفکیشن کے دعوؤں کے باوجود شہر کی اہم شاہراہوں، بازاروں اور سڑکوں پر کھلے عام بھینسوں اور دیگر مویشیوں کی موجودگی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کی وجہ سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹریفک کی روانی، صفائی اور شہری ماحول بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً تیس برس سے ہر بارش کے دوران بازاروں میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، بلکہ موجودہ حالات پہلے سے زیادہ تشویشناک دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام، بیوٹیفکیشن منصوبے اور شہر سے مویشیوں کی منتقلی جیسے اقدامات تاحال عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر قصور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی، نکاسی آب اور شہر میں کھلے عام گھومنے والے مویشیوں کے مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قصور کو واقعی ایک صاف، خوبصورت اور شہریوں کے لیے محفوظ شہر بنایا جا سکے
